Monday, May 31, 2010

تابکاری، ایک مختصر تعارف-۳

یہ تابکار اشعاع، انسانی جسم کے لئے بے حد خطر ناک ہوتی ہیں کیونکہ ان میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ جسم  میں نفوذ کر کے انسانی جینز میں تبدیلی لے آئیں۔ اس طرح یہ انسانی جسم کے طبعی افعال کو متائثر کر کے مختلف اقسام کے کینسر اور دیگر بیماریوں کا باعث بن جاتی ہیں۔
ان تابکار شعاعوں کی نفوذ پذیری اس طرح ہوتی ہے۔


اس تصویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایلفا شعاعوں سے بچت تو موٹے کپڑے پہن کر بھی حاصل ہو سکتی ہے لیکن گیما شعاعیں زیادہ تباہ کن ہوتی ہیں۔ یہ لیڈ سے بنی ہوئ موٹی دیوار سے بھی تھوڑا بہت گذر جاتی ہیں۔ اور ان سے بچاءو کے لئے کنکریٹ کی موٹی دیوار استعمال کرنی پڑتی ہے۔
یہ شعاعیں انسانی جسم کو کسطرح متائثر کر سکتی ہیں۔ یہ مندرجہ ذیل تصویر سے پتہ چلتا ہے۔



تابکار عناصر اگر ہمارے ماحول میں موجود ہوں تو ان سے چھٹکارا پانا آسان نہیں۔ اور ہمیں اسکے ایک مستحکم عنصر میں تبدیل ہونے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ایک تابکار عنصر جب ایک مستحکم عنصر کے مرکز میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ تو  وہ اس میں اپنا مخصوص وقت لیتا ہے۔ صرف ایک ایٹم کو سامنے رکھ کر اسکا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔  اس لئے اسکے بجائے ایک اور طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔ جس میں کسی عنصر کی  معلوم مقدار سے یہ پتہ چلاتے ہیں کہ اتنی مقدار میں سے نصف ایٹم کو مستحکم حالت حاصل کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔ اسے اس عنصر کی نصف زندگی کہتے ہیں۔ یہ نصف زندگی ہر تابکار عنصر کے لئے مخصوص ہوتی ہے۔ جن عناصر کی نصف زندگی کم ہو وہ بہت جلد اپنی تابکاری خارج کر کے استحکام حاصل کر لیتے ہیں جبکہ جنکی زیادہ ہو انہیں خاصہ عرصہ چاہئیے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس جگہ تابکاری کی آلودگی پھیل جائے۔ اسے بند کر کے انسانوں کے لئے ممنوع قرار دے دیا جاتا ہے۔ تابکار عناصر کی ایک لسٹ اور انکی نصف زندگی دیکھنے کے لئے یہاں جائیے۔
نیچے دئیے ہوئے ٹیبل میں یورینیئم 238 آئیسوٹوپ کی فرسودگی سے حاصل ہونے والے عناصر کی زنجیر دی ہوئ ہے۔جو آخر میں لیڈ206 کے مستحکم آئیسوٹوپ پہ ختم ہوتا ہے۔ ساتھ ہی انکی نصف زندگی دی ہوئ ہے۔ جس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ یورینیئم کی ایک مخصوص مقدار کو کسی مستحکم عنصر تک پہنچنے میں کتنا عرصہ لگے گا اور اس دوران اس سے کون کون سے عناصر وجود میں آئیں گے۔
 

اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ راجندر محض اپنی جان سے نہیں گیا بلکہ ہر وہ جگہ جہاں وہ اسے لے کر گیا اور ہر وہ شخص جس نے اسے چھوا۔ اس نے دراصل تابکاری کا سامنا کیا۔ اور امکان غالب ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو ایک تکلیف دہ انجام سے دو چار ہونا پڑے۔

تابکاری ایک تعارف-۲

کائنات میں ہر چیز مستحکم حالت یعنی کم توانائ کی حالت میں جانا پسند کرتی ہے اور جا رہی ہے۔ یوں ان  تابکارعناصر کے مرکزے میں یہ خواہش پیدا ہوتی کہ وہ اس زائد توانائ سے چھٹکارا پا کر ایک مستحکم حالت میں چلے جائیں۔

یہ زائد توانائ باردار ذرات یا  شعاعوں کی شکل میں خارج ہوتی ہے یہ شعاعیں ایک خاص کمیت نمبر، ایٹمی نمبر اور چارج کی حامل ہوتی ہیں۔ اور اس طرح تین اقسام کی شعاعیں جنم لیتی ہیں۔
ایلفا شاعیں ؛ جو ہیلیئم کے مرکزے پہ مشتمل ہوتی ہیں۔ اور دو پروٹونز کی وجہ سے دوہرا مثبت چارج رکھتی ہیں، سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہیں اور زیادہ دور تک سفر نہیں کر سکتیں۔۔
بیٹا شعاعیں ؛ الیکٹرون اور اسکے ضد ذرے پوزیٹرون  کے ذرات پہ مشتمل ہوتی ہیں۔ ان دونوں کا وزن ایک ہی ہوتا ہے البتہ چارج اور اسپن کا فرق ہوتا ہے۔ اس طرح یہ دونوں پروٹون سے ہلکے ہوتے ہیں۔ الیکٹرون پہ منفی اور پوزیٹرون پہ مثبت چارج ہونے کی وجہ سے یہ دونوں چارج کی حامل ہو سکتی ہیں۔ یہ ایلفا شعاعوں سے ہلکی ہوتی ہیں اور اس لئے انکے مقابلے میں زیادہ دور تک سفر کر سکتی ہیں اور زیادہ اندر نفوذ کر سکتی ہیں۔
گیما شاعیں؛ خالص توانائ کی شعاعیں ہوتی ہیں۔۔ روشنی رفتار سے سفر کرتی ہیں۔ اور زیادہ توانائ رکھنے کی وجہ سے زیادہ تباہ کن ہوتی ہیں۔ یہ کوئ چارج نہیں رکھتیں۔
ان تینوں کو جن علامتوں سے ظاہر کیا جاتا ہے وہ شعاعوں کی نفوذ پذیری کی تصویر میں موجود ہیں۔ ہم یہاں ٹیکنیکلی اس قابل نہیں کہ انکی علامتیں لکھ سکیں۔
شعاعوں کا یا ذرات کا یہ اخراج تابکاری کہلاتا ہے۔ اور یہ عناصر جو اسکا اخراج کرتے ہیں انہیں تابکار عناصر کہتے ہیں۔ یہ اس وقت تک توانائ کا اخراج کرتے ہیں جب تک کسی مستحکم مرکز میں تبدیل نہ ہو جائیں۔ یہ مندرجہ بالا شاعوں میں سے کسی ایک یا مختلف طرح کی شعاعیں ایک وقت میں خارج کر سکتے ہیں اس طرح انکے ایٹمی نمبر اور ایٹمی کمیت نمبرتبدیل ہو جاتا ہے اور وہ ایک اورعنصر میں تبدیل ہو جاتے ہیں جو اپنے مدری عنصر سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ شعاعیں، تابکار شعاعیں بھی کہلاتی ہیں۔

تابکاری ایک مختصر تعارف-۱

تقریباً ڈیڑھ مہینے پہلے، انڈیا میں ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس سال یعنی دو ہزار دس،  اپریل کے شروع میں نیلام میں ایک مشین بیچی جو انیس اسّی میں خریدی گئ تھی۔ لیکن کبھی استعمال نہیں ہوئ۔ خریدنے والے کباڑئیے کو مشین کے اندر سے دھاتی پینسلیں ملیں۔ ان پہ موجود حفاظتی تہہ کو جب رگڑ کر ہٹایا گیا تو اندر سے چمکدار دھات نکل آئ۔ اس دھات کی پر اسرار چمک سے راجندر کو اندازہ ہوا کہ یہ کوئ قیمتی دھات ہے اور شاید اسکے پیسے بھی زیادہ ملیں۔ وہ اسے اپنی پتلون کی جیب میں ڈالے مختلف ممکنہ گاہکوں کے پاس لے کر گیا تاکہ اسکی صحیح قیمت حاصل کر سکے۔
چھبیس اپریل کو پینتیس سالہ  راجندر یادیو نے ایک ہسپتال میں پر اسرار علامتوں کے ساتھ زندگی کی جنگ ہار دی۔  وہ مر گیا۔ اسکے ساتھیوں میں سے کچھ اور لوگ بھی بیمار ہوئے، دوکان کے مالک دیپک جین کو انتہائ جلی ہوئ جلد کے ساتھ ہسپتال پہنچایا گیا۔ باقی لوگ بھی شدید زخمی تھے۔ معاملے کی تحقیقات شروع ہوئیں۔
یہ مشین آسیب زدہ نہ تھی، اور نہ ہی وہ دھات کسی مافوق الفطرت مخلوق کی ملکیت تھی۔ وہ دھات ایک تابکار عنصر کوبالٹ 60 کی تھی۔ یہ کوبالٹ کا ایک آئسو ٹوپ ہوتا ہے۔ اس میں سے نکلنے والی تابکاری  نے راجندر کو موت سے ہمکنار کیا۔ لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اپنے ساتھ موت کا آسیب لئے گھوم رہا ہے۔
یہاں سے ان ذہنوں میں ایک سوال پیدا ہوگا کہ تابکاری کیا ہے، جو اس سے واقف نہیں ہیں۔

یہ تحریر، تابکاری کے متعلق ایک مختصر سا تعارف ہے۔
یہ تو آپکو معلوم ہی ہوگا کہ ہماری دنیا مختلف عناصر سے مل کر بنی ہے۔ عناصر وہ مرکب ہیں جو ایک ہی قسم کے ایٹموں سے مل کر بنے ہوتے ہیں۔ جیسے کاربن صرف ان ایٹموں سے ملکر بنا ہے جن میں الیکٹرون اور پروٹون دونوں چھ ہوتے ہیں، آکسیجن میں الیکٹرون اور پروٹون دونوں آٹھ ہوتے ہیں اور نائٹروجن ان ایٹموں سے جن میں الیکٹرون اور پروٹون دونوں سات ہوتے ہیں۔
ایٹم کسی عنصر کا بنیادی حصہ ہوتا ہے۔ جو مختلف قسم کے ذرات سے مل کر بنا ہے۔ یہ ذرات بنیادی طور پہ تین طرح کے ہوتے ہیں الیکٹرون، پروٹّون اور نیوٹرون۔
ایٹم کےمرکز میں نیوٹرونز اور پروٹونز موجود ہوتے ہیں جبکہ مرکز کے اطراف میں الیکٹرونز ہوتے ہیں۔ الکیٹرونز کی تعداد اتنی ہی ہوتی ہے جتنی کہ پروٹونز کی تعداد ہوتی ہے۔  نیوٹرونز کی تعداد پروٹّونز کے برابر بھی ہو سکتی ہے اور زیادہ بھی۔ ان سے کم بہر حال نہیں ہوتی۔ 
بعض اوقات الیکٹرون اور پروٹون تو تعداد میں ایک ہوتے ہیں لیکن نیوٹرونز کی تعداد اسی عنصر میں مختلف ایٹموں میں مختلف ہوتی ہے۔ انہیں اس عنصر کے آئسوٹوپ کہا جاتا ہے۔ جیسے کاربن میں ایک کاربن میں چھ نیوٹرونز ہوتے ہیں اور چھ پروٹونز اس طرح اسکا کمیتی وزن بارہ ہو جاتا ہے اور یہ کاربن 12 کہلاتا ہے۔ دوسرے میں نیوٹرونز آٹھ ہوتے ہیں اور پروٹونز وہی چھ ہوتے ہیں اس طرح اس ایٹم کا کمیتی وزن چودہ ہوجاتا ہے اور اسے کاربن14  کہتے ہیں یوں یہ دونوں کاربن کے آئسوٹوپس ہیں یہ بات تو سمجھ میں آگئ ہوگی کہ آئسوٹوپس کا ایٹمی نمبر ایک جیسا مگر ایٹمی کمیتی نمبر علیحدہ ہوتا ہے۔ الیکٹرونز پہ منفی، پروٹونز پہ مثبت چارج ہوتا ہے۔ اور نیوٹرونز پہ کوئ چارج نہیں ہوتا۔


 چھوٹے سے مرکزے میں جیسے جیسے پروٹونز کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔  پروٹونز کے اوپر مثبت چارج ہونے کی وجہ سے ایک جیسے چارج رکھنے والے ذرات ایکدوسرے سے بے حد قریب ہوجاتے ہیں اور  ایک دوسرے کو دفع  کرتے ہیں۔ اس حالت میں نیوٹرونز کی موجودگی کی وجہ سے ایک اور قوت جنم لیتی ہے جو دفع کرنے والی قوت کے اثر کو زائل کرتی ہے اوران سب کو جوڑے رکھتی ہے۔ زیادہ ایٹمی نمبر کے عناصر میں نیوٹرونز کی تعداد پروٹونز سے زیادہ ہوتی جاتی ہے۔ اس طرح وہ مرکز کو مستحکم رکھنے میں سرگرمی سے حصہ لینے کے قابل ہوتے ہیں۔ لیکن یہ کوششیں بھی ایک خاص تعداد سے آگے کامیاب نہیں ہو پاتیں۔  مرکزے میں دفع کی قوتیں زیادہ ہوتی ہیں، اس سے مرکزے کی توانائ زیادہ ہو جاتی ہے اور وہ غیر مستحکم ہوجاتا ہے۔






Saturday, May 29, 2010

ایک اور سانحہ

کل جب میں اپنی نئ پوسٹ کا مواد اکٹھا کر رہی تھی تو ٹی وی کی آواز کان سے ٹکرائ۔ کچھ ہلاکتوں کا تذکرہ ہو رہا تھا۔ دل میں سوچا یا اللہ خیر، اب کون جان سے گیا۔ معلوم ہوا کہ ستر سے زائد قادیانی افراد اپنی عبادت سر انجام دیتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔  اقلیت کے ساتھ اس قدر بہیمانہ سلوک، اسکے بعد ہم شکایت کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ 
دوسری طرف ایک اور سوال اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ جب ہم انہیں  جان اور مال کا تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہیں تو ہم یہ مطالبہ کیوں کرتے ہیں کہ وہ اپنی شناخت کوظاہر کریں۔ کوئ بھی شخص جسے یہ احساس ہو کہ اسکی  مذہبی شناخت، اسکی اور اسکے اہل و عیال کے لئے زندگی کا خطرہ پیدا کر سکتی ہے وہ اسے بتانے میں تامّل کرےگا۔ ریاست اگر اقلیت کو تحفظ نہیں دے گی تو وہ ان قوتوں کے ایجنٹ بنیں گے جو مملکت کو غیر مستحکم بنانا چاہتے ہیں۔
اسی طرح ہم دوسرے ممالک میں جہاں مسلمان اقلیت میں موجود ہیں ان سے مسلمانوں کی جان و مال کا تحفظ مانگنے کا حق کیسے رکھ سکتے ہیں۔ جو کام ہم کرنے سے قاصر ہیں اسکے لئے دوسروں کے پاس بھی بالکل وہی بہانے ہونگے جو ہمارے پاس ہوتے ہیں۔
 ڈان  اخبار کے ایڈیٹوریئل کے مطابق، جائے وقوعہ پہ ٹی وی سے تعلق رکھنے والے افراد، پولیس کے پہنچنے سے پہلے موجود تھے۔
دہشت گردوں کا تعلق جنوبی پنجاب سے بتایا جاتا ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں عرصہ ء دراز سے مذہبی شدت پسندوں کی سرگرمیاں جاری ہیں اور حکومت پنجاب ان پہ کسی بھی قسم کی قدغن لگانے سے معذور نظر آتی ہے۔ پنجاب میں شریف برادران کے ان انتہا پسند گروہوں سے تعلقات اتنے بڑھے ہوئے ہیں  کہ انہوں نے، ان علاقوں سے حالیہ ضمنی الیکشنز جیتنے کے لئے ان گروہوں کہ حمایت لینے سے بھی دریغ نہیں کیا۔
انکے اس انتہائ اقدام کی وجہ سے پنجاب میں جو صورت حال جنم لے رہی ہے اور جس طرح گذشتہ چند مہینوں میں لاہور میں دہشت گردی کے پے درپے واقعات ہوئے ہیں۔ اس میں تنقید نگار اب پنجاب کو طالبنائیزیشن کا پوٹینشل بم کہہ رہے ہیں۔
مرنے والوں کے ساتھ ہماری ہمدردیاں ہیں، یہ ایک نہایت سفاک واقعہ ہے۔ اگرچہ کہ حکومت ایسے کسی مسئلے میں دلچسپی لیتی نظر نہیں آتی، جس کا تعلق عوام سے یا مفاد عامہ سے ہو۔ لیکن پھر بھی ہم وہی روائیتی جملے تو دوہرا سکتے ہیں کہ ان ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ جو جان سے گذر گئے۔ انہیں واپس نہیں لایا جا سکتا۔ لیکن ہم اپنے لوگوں کو تو کہہ سکتے ہیں کہ خدا کے لئے رواداری کے سبق کو اپنا لیں۔ اور کسی سے نہیں خدا سے ہی یہ سبق سیکھ لیں۔ وہ اپنے سب سے نافرماں برادر شخص کو بھی دنیا کی ہر نعمت سے مالا مال رکھتا ہے۔ اسکی زندگی کی بھی حفاظت کرتا ہے اور اسکے جینے کا سامان بھی پیدا کرتا ہے۔  

Wednesday, May 26, 2010

انکار یا فرار

گوگل سرچ انجن نے انیس سو چھیانوے میں کام کرنا شروع کیا۔ اس تحریر کو پڑھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس بات سے واقف ہوگی کہ اس سے پہلے معمولی سی بات کو جاننے کے لئے لائبریریوں کے چکر لگانے پڑتے تھے۔ اور اگر وہاں متعلقہ مواد موجود نہ ہو تو کسی بھی سنی سنائ بات سے آگے بات بڑھ نہ پاتی تھی۔ اس نئ ٹیکنیک نے دنیا میں معلومات کی ترسیل کا انداز ہی بدل دیا۔ اور آج دنیا کے کسی حصے میں کیا ہو رہا ہے اسکا علم صرف چند سیکنڈز میں ہمارے پاس ہوتا ہے۔ لیکن جس طرح سے یہ علم عام انسان کی فلاح کے لئےکام آرہا ہے وہاں شر پسند بھی اسکے مناسب استعمال کے طریقے ڈھونڈھتے رہتے ہیں یوں طبل جنگ اب  میدان جنگ میں نہیں بلکہ ایک ایسے مجازی میدان جنگ میں بھی ہو سکتا ہے جہاں ہمارا حریف دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو سکتا ہے۔ اگر ہم اسکی سواری کے ماہر نہیں تو یہ ممکن ہے کہ ہم آگے بڑھنے سے پیشتر خود ہی ناکام ہو جائیں۔ اور نتیجے میں میدان بلا مقابلہ ہمارے حریف کے ہاتھ رہے۔
لیکن نہیں ایک صورت یہ بھی ہے کہ ہم اس ٹیکنیک کو استعمال کرنے سے انکار کر دیں اور نتیجے میں رضاکارانہ طور پہ یہ میدان اپنے حریف کے حوالے کر کے خود بغلیں بجائیں۔
ٹیکنالوجی کی  اس ترقی سے ملکوں کے سیاسی معاملات میں دوسری طاقتوں کے نفوذ و اثر کا امکان زیادہ بڑھ گیا۔ اور ایسا بھی ہوا کہ مختلف ممالک میں انکی دسترس پہ پابندی لگائ گئ۔ جیسے فیس بک پہ پابندی۔ اب تک پانچ ممالک اس پہ پابندی لگا چکے ہیں۔ ان میں چین، ایران، شام، ویتنام اور پاکستان شامل ہیں۔ پاکستان کے علاوہ باقی تمام ممالک نے مختلف اوقات میں اپنے اندرونی معاملات میں بیرونی عناصر کے اثر کو کم کرنے کے لئے یہ انتہائ قدم اٹھایا۔
  چین وہ واحد ملک ہے جہاں  سن دو ہزارنو میں لگائ جانیوالی فیس بک پہ پابندی آج بھی موجود ہے۔ چین کی آبادی اس وقت سوا ارب کے قریب ہے۔ اس پابندی سے چین میں ایک عام انٹر نیٹ صارف کے متائثر نہ ہونے کی وجوہات میں جو چیزیں اہم ہیں وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کی خود انحصاری ہے۔ وہ انٹر نیٹ کے سلسلے میں اپنا انفرا اسٹرکچر رکھتے ہیں۔ دوسری اہم وجہ چین میں چینی زبان کی ترویج ہے یوں بیرونی ذرائع جو کہ زیادہ تر انگریزی میں ہوتے ہیں وہاں زیادہ پذیرائ حاصل نہیں کر پائے۔ اس سب کے باوجود آزاد ذرائع کہتے ہیں کہ پروکسی سرور کے ذریعے فیس بک تک رسائ حاصل کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد چین میں اب بھی فیس بک سے مستفید ہو رہی ہے۔ اور یوں فیس بک کو اس سلسلے میں کوئ بہت زیادہ نقصان نہیں ہے۔

دنیا بھر میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس وقت انٹر نیٹ استعمال کر ہی ہے۔ اگر ہم اپنے ملک میں ہی دیکھیں تو اس وقت اسے استعمال کرنے والوں میں نوجوان ہی زیادہ شامل ہیں۔ یہ بھی ایک دلچسپ اتفاق ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے مختلف حصوں کو نوجوانوں نے ہی ترتیب دیا۔ یوں ثابت ہو گیا کہ ہر عہد اپنے نوجوانوں کا ہوتا ہے۔

مارک ایلیئٹ زکربرگ، نیویارک میں انیس سو چھیاسی میں پیدا ہوا۔ نسلاً یہودی اور مذہباً دہریہ ہے۔ فیس بک کے بانیوں میں سے ایک ہے۔ شاید اسی وجہ سے مسلمان فیس بک کو یہودیوں کی سازش قرار دیتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ہمارے مایہ ناز کرکٹر عمران خان نے ایک یہودی النسل خاتون کو  مسلمان کر کے شادی کی۔ اس طرح یہودیوں سے بننے والے تعلقات کے نتیجے میں انکے کینسر کے لئے قائم ہسپتال کو کافی ڈونیشنز ان ذرائع سے ملیں۔ لیکن اسے یہودیوں کی سازش نہیں سمجھا جاتا۔ اس وقت مارک کی ذاتی جائداد کی مالیت چار ارب امریکی ڈالر ہے۔ اسکے دیگر ساتھیوں میں شامل ہیں، ایڈوآرڈو سیورن ، ڈسٹن ماسکووٹس، کرس ہیوز، یہ سب لوگ اسّی کی دھائ میں پیدا ہونے نوجوان ہیں۔

انیس سو اٹھتر میں پیدا ہونے والا اسٹیون شی چن، آٹھ سال کی عمر میں تائیوان سے ہجرت کر کے امریکہ پہنچا۔ پےپل میں دوران ملازمت  اسکی ملاقات چیڈ ہرلے اور جاوید کریم سے ہوئ اور یوں سن  ۲۰۰۵ میں یو ٹیوب وجود میں آئ۔
چیڈ ہرلے، امریکہ میں انیس سو چھتّر میں پیدا ہوا۔ جاوید کریم، انیس انّاسی میں جرمنی میں پیدا ہوا۔ اسکے والد کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا جو جرمنی میں ایک تحقیقداں کے طور پہ کام کر رہا تھے۔ جبکہ اسکی ماں ایک جرمن سائینسداں تھی۔
جب یوٹیوب کو گوگل کے حوالے کیا گیا تو اسٹیون کو تین سو پچاس ملین امریکی ڈالر مالیت کے شیئرز ملے۔ چیڈ ہرلے کو تین سو چھبیس ملین امریکی ڈالر اور جاوید کریم کے حصے میں چونسٹھ ملین امریکی ڈالر کی مالیت کے شیئرز آئے۔

گوگل ویب بیسڈ سرچ انجن کی بنیاد دو پی ایچ ڈی کرنے والے اسٹوڈنٹس نے انیس سو چھیانوے میں رکھی۔ یہ انکا پی ایچ ڈی کا پروجیکٹ تھا۔ جسکا مقصد ایک یونیورسل ڈیجیٹل لائبریری کا قیام تھا۔ یہ دو طالب علم تھے لارنس اور سرجے۔ لارنس لیری پیج انیس سو تہتر میں امریکہ میں پیدا ہوا۔ اسکا ساتھی سرجے برن بھی انیس سو تہتر میں،  روس میں پیدا ہوا اور چھ سال کی عمر میں امریکہ ہجرت کر گیا۔ فوربس کے مطابق وہ دونوں اس وقت دنیا کے چوبیسویں امیرترین اشخاص ہیں۔ اور انکی ذاتی دولت کا شمار ساڑھے سترہ ارب امریکی ڈالر لگایا جاتا ہے۔ یہ دولت انکے پاس اپنے پروجیکٹ میں کامیاب ہونے کی صورت میں آئ جسکا نتیجہ آج ہم گوگل کی صورت دیکھتے ہیں۔
ان نوجوانوں نے نہ صرف  اپنی صلاحیتوں کو بہترین طور پہ استعمال کیا، دولت کمائ بلکہ آج کی دنیا میں انسانی ترقی اور تاریخ کا رخ اور رفتار موڑ دی۔ یہ وہ نوجوان ہیں جنہیں یہ قوت حاصل ہے کہ وہ آجکی دنیا پہ اثر انداز ہو سکیں۔
اب ہم اپنے یہاں ستر اور اسّی کی دھائ میں پیدا ہونے والے لوگوں کو دیکھتے ہیں ۔ کیا واقعی انہیں ان نوجوانوں سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار کیا گیا۔ جنکا تذکرہ میں نے اس طویل تحریر میں کیا ہے۔ یہ جو موجودہ رویہ ہمیں اپنے نوجوانوں کا نظر آتا ہے۔ یہ کسی احساس محرومی کی وجہ سے ہے، احساس ذمہ داری سے بھاگنے کی وجہ سے ہے یا مقابلے کی فضا میں فرار حاصل کرنے کی وجہ سے ہے۔

Tuesday, May 25, 2010

ردّ شر

یوروپ ایک مدت تک اسلام کے متعلق کچھ نہیں جانتا تھا۔ جب اس نے جاننا چاہا تو مدت دراز تک عجب حیرت انگیز مفتریانہ خیالات اور توہمات میں مبتلا رہا۔ ایک یوروپین مصنف لکھتا ہے
عیسائیت اسلام کی چند ابتدائ صدیوں تک اسلام پر نہ تو نکتہ چینی کر سکی اور نہ سمجھ سکی۔ وہ صرف تھراتی اور حکم بجا لاتی تھی۔ لیکن جب قلب فرانس میں عرب پہلے پہل روکے گئے تو انکی قوموں نے جو انکے سامنے سے بھاگ رہی تھیں۔ منہ پھیر کر دیکھا جس طرح کہ مویشیوں کا گلّہ جبکہ اسکا بھگا دینے والا کتا دور نکل جاتا ہے۔
یوروپ نے مسلمانوں کو جس طرح جانا اسکو فرانس کا مشہور مصنف ہنری دی کاستری جسکی تصنیف کا عربی زبان میں ترجمہ ہو گیا ہے یوں بیان کرتا ہے
وہ تمام قصص اور گیت جو اسلام کے متعلق یوروپ میں قرون وسطی سے رائج تھے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ مسلمان انکو سن کر کیا کہیں گے؟ یہ تمام داستانیں اور نظمیں ، مسلمانوں کے مذہب کی ناواقفیت کی وجہ سے بغض و عداوت سے بھری ہوئ ہیں۔ جو غلطیاں اور بد گمانیاں اسلام کے متعلق آج تک قائم ہیں انکا باعث وہی قدیم معلومات ہیں۔ ہر مسیحی مسلمانوں کو مشرک اور بت پرست سمجھتا تھا اور حسب ترتیب درجات انکے تین خدا تسلیم کئے جاتے تھے۔ ماہوم یا ماہون یا نافومیڈ یعنی محامڈ اور اپلین اور تیسرا ٹرگامان۔ انکا خیال تھا کہ محمد نے اپنے مذہب کی بنیاد دعوائے الوہیت پر قائم کی  اور سب سے عجیب تر یہ ہے کہ محمد یعنی وہ محمد جو  بت شکن اور دشمنان اصنام تھا لوگوں کو اپنے طلائ بت کی دعوت دیتا تھا۔
اسپین میں جب عیسائ مسلمانوں پہ غالب ہوئے اور انکو سرقوسطہ کی دیواروں تک سے ہٹا دیا تو مسلمان لوٹ  کر آئے اور اپنے بتوں کو انہوں نے توڑ ڈالا۔ اس عہد کا ایک شاعر کہتا ہے کہ
اپلین مسلمانون کا دیوتا وہاں ایک غار میں تھا۔ اس پر وہ پل پڑے اور اسکو نہایت سخت سست کہا۔ اور اسکو گالیاں دیں اور اسکے دونوں ہاتھ باندھ کر ایک ستون پر اسکو سولی دی اور اسکو پاءوں سے روندا اور لاٹھیوں سے مار مار کر اسکے ٹکڑے کر ڈالے اور ماہوم کو یعنی جو انکا دوسرا دیوتا تھا۔ ایک گڑھے میں ڈالدیا اسکو سور اور کتوں نے نوچ ڈالا۔ اس سے زیادہ اس سے پہلے کسی دیوتا کی تحقیر نہیں ہوئ ۔ اسکے بعد مسلمانوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور اپنے دیوتاءووں سے معافی مانگی اور ازسرنو تلف شدہ بتوں کو بنایا۔ اسی بناء پہ جب شہنشاہ چارلس سر قوسطہ میں داخل ہوا تو اس نے اپنے ہمراہیوں کو حکم دیا کہ تمام شہر کا چکر لگائیں ، وہ مسجدوں میں گھس گئے اور لوہے کے ہتھوڑوں سے ماہومیڈ اور تمام بتوں کو توڑ ڈالا۔
ایک دوسرا شاعر ریچہ خدا سے دعا کرتا ہے کہ
وہ ماہوم کے بت کے پجاریوں کو شکست دے
اسکے بعد وہ امراء کو جنگ صلیبی کے لئے ان الفاظ میں آمادہ کرتا ہے
اٹھو اور ماہومیڈ اور ٹرماگان کے بتوں کو اوندھا کر دو اور انکو آگ میں ڈالدو اور انکو اپنے خداوند کی نذر کردو
اس قسم کے خیالات ایک مدت تک قائم رہے۔

اٹھارہویں صدی میں نادر الوجود عربی کتابوں کے بعد یوروپ اس قابل ہوا کہ اسلام کے متعلق خود اسلام کی زبان سے کچھ سن سکا۔
اس دور کی خصوصیت اول یہ ہے کہ عامیانہ خیالات کے بجائے کسی قدر تاریخ اسلام و سیرت پیغمبر اسلام کی بنیاد عربی زبان کی تصانیف پر قائم کی گئ۔ یوروپی مصنفین یا انکی تصنیفات میں جو نکتہ چینیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق پہ کی جاتی ہیں یا جو خودبخود ناظرین کے دل میں پیدا ہوتی ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔
رسول اللہ کی زندگی مکہ معظمہ تک پیغمبرانہ ہے لیکن مدینہ جا کر جب زور وقوت حاصل ہوتی ہے تو دفعتہً پیغمبری شاہی میں بدل جاتی ہے۔ اور اسکے جو لوازم ہیں یعنی لشکر کشی، قتل، انتقام، خونریزی خود بخود پیدا ہوجاتے ہیں۔
 کثرت ازدواج اور میل الی النّساء
مذہب کی اشاعت جبر اور زور سے
لونڈی غلام بنانے کی اجازت اور اس پر عمل
دنیا داروں کی سی حکمت عملی اور بہانہ جوئ


یہ تھا اقتباس، مولانا شبلی نعمانی کی کتاب 'سیرت النبی؛ کی جلد اول سے۔ جس میں مولانا صاحب نے تفصیلات دیتے ہوئے یہ وضاحت کی کہ کیوں انہیں سیرت النبی پہ اتنی تفصیلی کتاب لکھنے کی ضرورت محسوس ہوئ۔
   معزز قارئین، اس تمام چیز سے نتائج اخذ کرنے کی ذمہ داری میں آپ پر چھوڑتی ہوں۔ مگر یہ ضرور چاہونگی کہ جو بھی نتیجہ آپ نکالیں اسے اپنے تبصرے میں ضرور تحریر کریں۔

Monday, May 24, 2010

عام لوگ، خاص باتیں

عدالت کے مشورے پہ مستعفی ہونے والے جمشید دستی دوبارہ الیکشن میں  اٹھ کھڑے ہوئے اور تقریباً پچپن ہزار عوامی ووٹوں سے جیت کر دوبارہ اسمبلی میں موجود ہیں۔ معلوم نہیں کہ یہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے کہ نہیں۔ لیکن میرا دل اس پہ بہت کڑھا۔ بہت سارے دیگر لوگوں کو بھی صدمہ ہوا اور انہوں نےبرملا اپنی تحریروں میں اسکا اظہار کیا۔  لیکن عوامی عدالت نے یہ فیصلہ مسترد کر دیا۔ اپنے ایک وکیل ساتھی سے مشورہ لوں کہ اپنے دل کڑھنے کا کیا کروں تو وہ یہی کہیں گے کہ عدالت سے دوبارہ رجوع کریں۔
لیکن میں  ایسا نہیں کر رہی ، اسکی بہت ساری ٹیکنیکل وجوہات ہں جنکا آپکو اندازہ ہوگا۔ اور اس طرح میں بھی  تماش بینوں میں شامل ہوں۔ میں ان تماش بینوں میں بھی شامل ہوں جو ایک بلاگر  کی کراچی پریس کلب میں شامت آتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ انہوں نے توہین عدالت کی اور یہ بھی درست ہے کہ انہیں عدالتی فیصلے کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہئیے تھا۔
ہمارے ایک اور ساتھی نے اس امرپہ افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں لبرل مسلمان زیادہ ہو گئے ہیں۔ ابھی کل ہی میری سوفٹ ویئر ہائوس میں کام کرنے والے ایک شخص سے بات ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ چار سال پہلے جو شخص ہمارے یہاں کلین شیو اور پینٹ شرٹ میں ملبوس آیا تھآ۔ آج وہ ایک بالشت کی داڑھی، سر پہ ٹوپی گھٹنوں سے نیچی جبہ نما قمیض اور ٹخنوں سے اوپر شلوار کے ساتھ موجود ہے۔ انکے بقول یہ صرف ایک شخص نہیں بلکہ میرے آفس میں اب ستر فی صد لوگ اس سے ملتے جلتے حلئیے میں ہیں جو نہیں ہیں وہ اندر سے ایسے ہی  ہیں جیسا کہ یہ اصحاب ظاہری طور پہ ہیں۔
انکے اس بیان سے تو لگتا ہے کہ یہ تائثر صحیح نہیں ہے کہ لبرل مسلمان بڑھ رہے ہیں۔ 
مزید انہوں نے کہا کہ لیکن اس ظاہری حلئے کی تبدیلی اور بعض موضوعات میں اپنے شدت پسند نطریات کے علاوہ ان میں وہ ہر برائ موجود ہے جو ایک نالائق، کم محنتی قوم کے افراد میں ہوتی ہے۔  ان میں جو صاحب نوے ہزار روپے ماہانہ لے رہے ہیں انہوں نے امریکہ میں مقیم ہمارے ایک پاکستانی مسلمان کلائینٹ کو جو پروجیکٹ تیار کر کے دیا ۔ اس میں کلائینٹ نے دو چار غلطیاں نکالیں ان صاحب نے دن بھر بیٹھ کر انہیں صحیح کیا اور شام کو اس کلائینٹ کو ای میل کیا کہ ہم نے اس پروجیکٹ کو اچھی طرح دیکھ لیا ہے اس میں ایسی کوئ غلطی نہیں ہے وہ اسے دوبار دیکھے۔ یہ ایک جھوٹ تھا انہوں نے اس غلطی کو درست کیا تھا لیکن سچ کا اعتماد دینے والے اس ظاہری حلئے سے قطع نظر انہوں نے بلا جواز جھوٹ بولا۔ انکے افسر مجاز ان تمام لوگوں کی ایسی غلطیوں اور نااہلیوں کے لئے ڈھال بنے رہتے ہیں کیونکہ انکے رحجانات ملتے جلے ہیں۔ اور نتیجے میں ہماری کمپنی  چھ سال  پہلے جو معیار رکھتی تھی اب اسکا پچاس فی صد بھی نہیں رہا ہے۔
میں ایک عام پاکستانی مسلمان انٹر نیٹ یوزر سے پوچھتی ہوں کسی مسلم ملک میں یہ پابندی نہیںلگائ گئ۔ آپکا کیا خیال ہے یہاں کیوں ہے۔ جواب ملتا ہے کسی اور مسلم ملک میں صدر زرداری نہیں ہے۔ میں ان سے کہتی ہوں کہ لیکن آپکا یہ بیان جمہوریت کے خلاف سازش ہے۔ وہ فرماتے ہیں۔ بھاڑ میں جائے ایسی جمہوریت۔ لیکن میں اسکے بھاڑ میں جانے سے پہلے ہی اسکی راہ میں دیوار بن جاتی ہوں۔ اگر جمہوریت سے آپکو مطلوبہ نتائج نہیں مل رہے ہیں تو اسکا علاج ہے مور ڈیموکریسی، سمجھے آپ۔ مور ڈیموکریسی۔ دو جوتوں کی کمی تھی ورنہ اسکے بیچ میں مجھے سیج دیتے۔ مور ڈیمو کریسی۔
 ان لوگوں سے ہٹ کر اتوار کا اخبار اٹھاتی ہوں۔ ڈان، جنگ، ایکسپریس، کسی بھی اخبار میں کوئ ایسا ایسا نامی گرامی کالم نگار یاد نہیں آرہا جسکا اتوار کے اخبار میں اسکے متعلق کوئ مضمون ہو۔ حالانکہ اتوار کے اخبار میں کوئ مضمون آنا بڑا اہم ہوتا ہے۔ یہ سب شاید روشن خیال ہو چکے ہیں، یا یہ سب لبرل مسلمان ہو گئے ہیں۔ اور اصلی تے وڈے اور سُچے مسلمان صرف بلاگنگ اور خاص طور پہ اردو بلاگنگ کی دنیا میں نظر آتے ہیں جنہوں نے اپنے روائیتی طریقہ ء کار کو استعمال کرتے ہوئے جلدی سے روشن خیال ، لبرل اور قدامت پسند مسلمانوں کی صف بندی کر کے گنتی کر لی۔ سب پورے ہیں۔ خیر ہے۔ 
یہ اپنی جگہ ایک سوال ہے کہ کیوں ایسا ہوا کہ اس تمام چیز کے لئے جو ریلیاں منعقد کی گئیں ان میں سولہ ، سترہ کروڑ عوام میں سے، سولہ سو لوگ بھی موجود نہ تھے۔
ہمارے ایک ساتھی نے اپنی تحریر میں مصری علماء کا فتوی لگایا کہ فیس بک حرام ہے۔ کیونکہ اسکی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان طلاقوں کی شرح میں ا ضافہ ہوا ہے۔
ایک اور فتوی انڈین دیو بندی مسلم علماء کی طرف سے جاری ہوا کہ وہ عورتیں جو ان آفسز میں کام کرتی ہیں جہاں مرد بھی ساتھ کام کرتے ہیں ان عورتوں کی کمائ حرام کی کمائ ہے۔ انہیں فی الفور اپنی ملازمتیں چھوڑ دینی چاہئیں۔ انڈیا وہ ملک ہے جہاں تیس فیصد سے بھی زیادہ عوام غربت کی سطح سے نیچے زندگی گذار رہے ہیں۔ اور جہاں مسلمان اس وقت ایک اقلیت میں ہیں۔ اس اقلیت میں مسلمان عوام کی اکثریت جنکے بارے میں مجھے نہیں معلوم کہ وہ  نحوست مارے روشن خیال ہیں، لبرل ہیں یا قابل فخر قدامت پسند انہوں نے اس فتوی کے خلاف نکتہ چینی کی اور ان علماء کو یہ کہنا پڑا کہ یہ انہوں نے فتوی نہیں دیا بلکہ کسی کے پوچھنے پہ مشورہ دیا تھا۔
میرا خیال ہے کہ کسی مسئلے کا سامنا کرنے کے لئے محض ایسے فتاوی کو پیش کرنا صحیح نہیں ہے۔ اس سے آپ اپنے فتووں کی حیثیت خود ہی کم کر دیتے ہیں۔
میرے سوفٹ ویئر ہاءوس والے ساتھی کا کہنا ہے کہ انکے کولیگ نے جو آئ ٹی کے شعبے سے متعلق ہونے کی وجہ سے نوے ہزار ماہانہ کماتے ہیں کہا کہ فیس بک اور دیگر سائیٹس پہ پابندی اس کرپٹ حکومت کا وہ واحد فیصلہ ہے جو مسلم حکومت کا فیصلہ لگتا ہے اور یہ کہ ایک مسلمان کو ہر وقت اپنا دنیاوی فائدہ نہیں اس سے بڑھ کر بھی دیکھنا چاہئیے۔
وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ اگر اس بندش کے نتیجے میں کمپنی کو پہنچنے والے معاشی نقصان کو انکی تنخواہ میں سے کاٹ لیا جائے تو کیا وہ یہ قربانی دیں گے۔
 میں جواب دیتی ہوں ان سے پوچھیں۔ وہ حیران ہو کر کہتے ہیں ان سے پوچھوں۔ یہ توایسا ہی ہوگا کہ کسی چرچ میں دہریت کی تعلیم دینے لگوں، ہائیڈل پارک میں طالبان کو برا بھلا کہوں، نائن زیرو میں الطاف حسین کو برا کہوں۔ کیا آپ کو یاد نہیں کراچی پریس کلب میں عواب علوی کے ساتھ کیا ہوا؟
وہی جو ایک شہرت کی خواہش رکھنے  والا دوسرے شہرت کی خواہش رکھنے والے کے ساتھ کرتا ہے۔ جبکہ میدان شہرت ایک ہی ہو۔ کسی اور نے لقمہ دیا۔ یقین رکھیں وہ 'کوئ اور'  میں نہیں تھی۔
ہمارے ایک ساتھی کے خیال میں کتنے لوگ انٹر نیٹ استعنمال کرتے ہیں کہ اسکے بند ہونے سے جہالت پھیل جائے گی۔ میرا حسن ظن ہے کہ انہوں نے مذاقاً کہا ہے۔ جنکے مقدر میں جہالت لکھ دی گئ ہے انکے علاوہ پاکستان کی سولہ کروڑ کی آبادی میں پونے دو کروڑ لوگ انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں۔ اگر آپ اس چیز کے حق میں ہیں کہ انٹر نیٹ کی تمام سائیٹس پہ پابندی لگا دی جائے تو آپ کتنے لوگوں کو جاہل بنانے پہ تلے ہوئے ہیں۔ اسکا اب آپکو علم ہو گیا ہوگا۔  
اب ان ساری باتوں کا یہاں لکھنے کا مقصد ان سب چیزوں کا آموختہ نہ تھا بلکہ اپنے اصل موضوع کی طرف آنے سے پہلے یہ سب بیان کرنا ضروری تھا۔ آگے کی باتیں، آگے کی پوسٹ میں۔

Sunday, May 23, 2010

خوشامد -۲

دل خوشامد سے ہر ایک کا راضی ہے
آدمی جن و پری بھوت بلا راضی ہے
بھائ فرزند بھی خوش باپ چچا راضی ہے
شاہ مسرور غنی شاد گدا راضی ہے
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
اپنا مطلب ہو تو مطلب کی خوشامد کیجئیے
اور نہ ہو کام تو اس ڈھب کی خوشامد کجیئیے
انبیاء اولیا اور رب کی خوشامد کیجئیے 
اپنے مقدور غرض سبکی خوشامد کیجئیے
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
چار دن جسکو خوشامد سے کیا جھک کے سلام
وہ بھی خوش ہو گیا اپنا بھی ہوا کام میں کام
 بڑے عاقل بڑے دانا نے نکالا ہے یہ دام
خوب دیکھا تو خوشامد ہی کی آمد ہے تمام
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
مفلس ادنی و غنی کی بھی خوشامد کیجئِے
یا بخیل اور سخی کی بھی کوشامد کیجیئے
اور جو شیطاں ہو تو اسکی بھی خوشامد کیجیئے
گر ولی ہو تو ولی کی بھی خوشامد کیجیئے
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
پینے اور پہننے کھانے کی خوشامد کیجیئے
ہیجڑے بھانڈ زنانے کی خوشامد کیجیئے
مست و ہشیار و دوانے کی خوشامد کیجیئے
بھولے نادان سیانے کی خوشامد کیجیئے
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
خوب دیکھا تو خوشامد کی بڑی کھِتی ہے
غیر کیا اپنے ہی گھر بیچ یہ سکھ دیتی ہے
ماں خوشامد کے سبب چھاتی لگا سیتی ہے
نانی دادی بھ خوشامد سے بلا لیتی ہے
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
بی بی کہتی ہے میاں آ ترےصدقے جاءوں
ساس بولے کہیں مت جا ترے صدقے جاءوں
خالہ کہتی ہے کہ کچھ کھا ترے صدقے جاءوں
سالی کہتی ہے بھیّا ترے صدقے جاءوں
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
آپڑا ہے جو خوشامد سے سروکار اسے
ڈھونڈھتے پھرتے ہیں الفت کے خریدار اسے
آشنا ملتے ہیں اور چاہتے ہیں سب یار اسے
اپنے بیگانے غرض کرتے ہیں سب پیار اسے
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
جو کہ کرتے ہیں خوشامد وہ بڑے انساں 
جو نہیں کرتے وہ رہتے ہیں ہمیشہ حیراں
ہاتھ آتے ہیں خوشامد سے ہزاروں ساماں
جس نے یہ بات نکالی ہے میں اسکے قرباں
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
ہم نے ہر دل میں خوشامد کی محبت دیکھی
پیار اخلاص و کرم مہر ومحبت دیکھی
دل بروں میں بھی خوشامد ہی کی الفت دیکھی
عاشقوں میں بھی خوشامد ہی کی چاہت دیکھی
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے

اس نظم کے خالق نظیر اکبر آبادی ہیں۔

حوالہ جات؛

کلیات نظیر، مولانا عبدالباری صاحب آسی نے مرتب و مدون کیا، پبلشر، مکتبہ ء شعر و ادب لاہور۔

Friday, May 21, 2010

خوشامد-۱

خوشامد کسے اچھی نہیں لگتی۔ لیکن اگر کسی کو خوشامدی کہہ دیا جائے تو یہ بڑی غیر اخلاقی بات ہوتی ہے۔ اس طرح سے لگتا ہے کہ خوشامد ایک برا پہلو ہے انسانی ذات کا۔
وارث میر اپنی کتاب 'حریت فکر کے مجاہد' میں پاکستانی معاشرے کی تنزلی کے دو اسباب گنواتے ہیں ایک جھوٹ اور دوسرا خوشامد۔ انکے اس مضمون میں سے لئیے گئے کچھ اہم نکات پہ آگے کی تحریر ہے۔
علامہ اقبال اپنی نوٹ میں خوشامد کو ایک مبالغہ آمیز خوش خلقی کا نام دیتے ہیں سر سید نے بھی اپنے مضامین میں اسکی مذمت کی ہے۔لیکن جدید تشریحات اسے ایک قابل قبول عنصر بناتی ہیں۔
ہمارے ایک ادیب اظہر ادیب نے اس پہ انشائیہ لکھا۔ اسکا نام ہے در مدح خوشامد۔ بقول وارث میراس سے نہ اتفاق کرنے کو جی مانتا ہے اور نہ اختلاف کرنے کی ہمت ہوتی ہے۔

خوشامد وہ لوری ہے جو انسان کے وحشی پن کو سلا دیتی ہے اور صبح کی پہلی کرن بن کر معصومیت کے گلابی گالوں کو چھوتی ہے اور اسے بیدار کرتی ہے۔ خوشاد کرنے والا شاید ہی کسی جابر آدمی سے زک اٹھاتا ہووہ ہر آن انسان کومہذب ہونے کا درس دیتا ہے۔ خوشامد کرنے والے کو اپنی جھوٹی انا سے زیادہ اپنے بچوں کا مستقبل عزیز ہوتا ہے۔ وہ ایک منجھے ہوئے کھلاڑی کی طرح خود کو کیموفلاج کئے رہتا ہے اور اپنی حکمت عملی سے نہ صرف خلق خدا کو فساد سے بچائے رکھتا ہے بلکہ خود بھی تلوار اٹھائے بغیر اپنی جگہ محفوظ رہتا ہے۔اور کبھی شکست کا منہ نہیں دیکھتا۔
لیکن یہ صلاحیت ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کے حصے میں نہیں آتی اسکے لئے بھی فہم و دانش درکار ہوتی ہے۔ خوشامد کرنے والے کا قیافہ شناس اور ماہر نفسیات ہونا ضروری ہے۔ انسانی چہرے کی تحریر پڑھنے والا ہی اس اعلی مقام تک پہنچنے کے قابل ہو سکتا ہے۔ اس لئے اس مقام کو حاصل کرنے والے سے لوگ حسد کرنے لگتے ہیں۔ اور اس قابل تعظیم شخص کو خوشامدی کا نام دے دیتے ہیں۔
مجھے ہمیشہ ان لوگوں سے چڑ رہی ہے جو کہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی خوشامد نہیں کی۔ حالانکہ زندگی کے خاکے میں سے خوشامد کا رنگ اڑ جائے تو بے رنگ لکیروں کے سوا کچھ نہیں بچتا۔
خوشامد وہ علم ہے جو سلیقہ سکھتا ہے۔ خوشامد کرنے والا منہ پھاڑ کر اپنا مدعا نہیں بیان کرتا۔ بلکہ پہلے زمین کے ایک قطعے کی صفائ کر کے اسے ہموار کرتا ہے، اس پہ چھڑکاءو کرتا ہے، ایک مرصع اور منقش تخت بچھاتا ہے، اگر بتیاں سلگاتا ہے، آپکے گلے میں موتیا اور چنبیلی کے ہار پہنا کر آپکے سر پر زریں تاج رکھنے کے بعد آپکو اس تخت پر بٹھاتا ہے اور خود سائل بن کر آپکے سامنے دست بستہ کھڑآ ہو جاتا ہے۔ اس وقت آپکے اندر کا حاتم طائ زقند لگا کر باہر آجاتا ہے اور آپ بے حیل و حجت سائل پہ سخاوت کے موتی نچھاور کرنے لگتے ہیں۔ خوشامد صلح کا سفید جھنڈا ہے جو فوراً متحارب شخصیتوں کو فائر بندی پہ مجبور کر دیتا ہے۔ البتہ اسے لہرانا حوصلے، جراءت، فراخدلی اور امن دوستی کے بغیر ممکن نہیں۔ ہمیں اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے خوشامد کی باقاعدہ تعلیم اور تربیت کا بندو بست کرنا چاہئیے اور کامیاب خوشامدی کو امن کا نوبل پرائز دینا چاہئیے۔
اس طرح اظہر ادیب کے مضمون کا میرے ہاتھوں تیار گجر بھتہ یہاں ختم ہوتا ہے۔البتہ وارث میر یہ لکھتے ہیں کہ
پاکستان کے بیمار معاشرے میں لکھنے والوں کی مجبوری اور بے بسی کا یہ عالم ہے کہ وہ آج جھوٹ بولنے والے کو جھوٹا، فریب دینے والوں کو فریبی اور خوشامد کر کے اپنا الو سیدھا کرنے والے کو خوشامدی نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ضمیر داری کا مظاہرہ کرنے والےکو ذلیل و خوار اور اخلاقی لحاظ سے ہکلاتے کرداروں کو ترقی کے زینے طے کرتے دیکھا ہے

اس تحریر پہ تاریخ نہیں ہے۔ چونکہ انکا انتقال انیس سو ستاسی میں ہوا تھا تو یہ کم سے تئیس سال پرانی تحریر ہے۔  کیا واقعی یہ تئیس برس پرانی تحریر ہے۔

میرے پیارے قاری، اب جبکہ آپ نے مجھ ناچیز کی اس جسارت کو پورا پڑھ ہی ڈالا ہے تو اے محترم انسان میں آپ سے تہہ دل سے یہ درخواست کرونگی کہ خوشامد پہ ایک نظم پڑھنے کے لئے دوبارہ یہاں آنا مت بھول جائیے گا۔ 
ہمیں اور لکھنے کی چاہت نہ ہوتی، اگر تم نہ ہوتے، اگر تم نہ ہوتے

Thursday, May 20, 2010

رکا ہوا گھنٹال

لکھنا تو ہولوکاسٹ پہ تھا کہ موقع بھی ہے دستور بھی ہے۔  لیکن میں پہلے ایک پیش آنیوالے واقعے پہ لکھتی ہوں۔ میں جب صبح صبح اپنی بیٹی کوموٹیسوری چھوڑنے کے لئے اسے گاڑی میں جلدی جلدی اندر بیٹھنے کا کہہ رہی تھی تو مجھے ایک آواز آئ۔ میرے پیچھے ایک دس گیارہ سال کا بچہ کھڑا تھا۔ کہنے لگا ، باجی صفائ کروانی ہے۔ میں نے کہا نہیں صفائ  نہیں کروانی ہے۔ باجی صفائ کروالو۔ پھر اس نے باہرگرے ہوئے درخت کے پتوں کی طرف اشارہ کیا۔ سب صاف کر دونگا۔ میں نے کہا نہیں تم اس کام کے لئے بہت چھوٹے ہو اب جاءو مجھے دیر ہو رہی ہے۔ اسکے فوراً بعد میں روانہ ہو گئ۔ لیکن میرے دل میں ایک کھٹک تھی۔ اتنے چھوٹے بچے سے کیا کام کرایا جا سکتا ہے۔ اتنے چھوٹے بچوں کی کیا مدد کی جا سکتی ہے۔ کیا مجھ جیسے تنخواہ دار شخص کو جو اپنے گھر سے گاڑی بھی فاصلہ گن گن کر نکالتا ہو کہ ذرا سا بھی زیادہ ہونے پہ میرا بجٹ متائثر ہوتا ہے۔ گھر کے بلب گن کر روشن کرتا ہو گھر کا اے سی پورے سال میں تین مہینے سے زیادہ نہیں استعمال کرتا ہو اور وہ بھی ایک دن میں پانچ گھنٹے سے زیادہ نہیں اوروہ بھی اپنی بچی کی پیدائش کے بعد کہ سب ہی والدین اپنے بچے کو زندگی میں کچھ آسانیاں دینا چاہتے ہیں۔ جو سبزی  اور پھل لینے کے لئے بچت بازار کا رخ کرتا ہو اور جو عام گھریلو خواتین کی طرح ہر مہینے نہیں، ہر سال نہیں کبھی ہی پارلر کا رخ کرتا ہو، جو دوکاندار سے اس سال کے نئے پرنٹس پہ اصرار کرنے کے بجائے پچھلے سال کے پرانے پرنٹس بھی لے لیتا ہو کہ وہ سستے ملیں گے۔ میں ایسے بچوں کی  معاشی حالت میں کیا بہتری لا سکتی ہوں۔
واپسی میں جب میں سگنل پہ رکی تو وہاں گیارہ بچے موجود تھے۔ کسی کے ہاتھ میں وائپر اور پانی کی چھوٹی سی بالٹی موجود تھی کہ گاڑیوں کے شیشے صاف کرنے ہیں اور کوئ یونہی پھر رہا تھآ کہ کوئ بھیک دے دے۔ لوگ انکے ہاتھوں پہ چند سکے رکھ کر آگے بڑھ گئے۔ میں اس گیارہ سالہ لڑکی کو گاڑی کا شیشہ صاف کرنے سے منع کر دیتی ہوں۔ باجی شیشہ نہ صاف کرواءو، کچھ پیسے ہی دے دو۔ مگر گداگری ایک لعنت ہے۔ یہ انسان میں سے عزت نفس ختم کر کے انہیں تن آسان بنا دیتی ہے۔ پھر یہ لوگ معاشرے کی ترقی میں کام آنے کے بجائے بوجھ بن جاتے ہیں۔ میں اپنے ہاتھ اور کان سختی سے بند کر دیتی ہوں۔
ملک بھر میں ان بچوں کی ، ان لاوارث اور بے گھر بچوں کی تعداد لاکھوں میں پہنچتی ہے۔ صرف شہر کراچی میں ایسے بچوں کی تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق پندرہ ہزار سے زائد ہے۔ یہ گھروں سے بھاگے ہوئے بچے، غریب والدین کی عدم توجہ کا شکار ہوتے ہیں۔ اور اسکی بنیادی وجہ والدین کے معاشی حالات کا درست نہ ہونا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کرتے ہیں جنکی لاتعداد کہانیاں ہمارے اطراف میں پھیلی ہوئ ہیں۔
یہ بچے ان گینگز کے ہتھے لگ جاتے ہیں جو ان سے بہت کم پیسوں کے عیوض ہر کام کراتے ہیں۔ اس میں لوگوں کی جنسی ہوس پورا کرنے کا کام بھی ہے۔ ایک سروےکے مطابق ان میں سے اسی فی صد بچے تیرہ سے اٹھارہ سال کے، پندرہ فی صد نو سے بارہ سال کے اور تقریباً چھ فی صد آٹھ سال تک کے بچے شامل ہیں۔ ان بچوں میں سے نوے فی صد مختلف اقسام کی نشہ آور اشیاء استعمال کرتے ہیں اور اسی سے نوے فی صد بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔
صرف بے گھر بچے ہی نہیں، بلکہ اکثر اوقات یہ بچے اپنے خاندانوں کے ساتھ بھیک مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ماں باپ، اپنے نو زائیدہ بچوں کو بھی اس مقصد کے لئے استعمال کر لیتے ہیں۔
میں محسوس کرتی ہوں کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے کچھ کرے۔ یوں میں وہاں سے اندرونی طور پہ مطمئن، کسی طرح جان چھڑا کر بھاگنے میں کامیاب ہو جاتی ہوں۔
  گھر واپس آتی ہوں وہ بچہ وہیں بیٹھا ہے۔ اسے اندازہ تھا۔ میں کتنی دیر میں واپس آءونگی۔۔ وہ پھر وہی بات کہتا ہے مجھ سے کام کروالو۔ میں اس سے کہتی ہوں کہ نہیں پاکستان میں چائلڈ لیبر کا قانون موجود ہے اسکی رو سے اگر میں نے تم سے گھر کے باہر کے پتے اٹھوائے تو یہ جرم ہوگا۔ تمہاری عمر اٹھارہ سال سے کم ہے اور تم اس قانون میں آتے ہو۔ میں نے صبح سے ناشتہ نہیں کیا۔ تو میں تمہیں اپنے گھر کا بچا کھچا ناشتہ آج کے دن کے لئے دے سکتی ہوں۔ کل کا وعدہ نہیں کرتی جو پہلے آئے گا وہ لے لے گا۔ باجی میں بہت اچھی صفائ کرونگا اور سب کوڑا اٹھا کر کچرا کنڈی تک پھینک آءونگا۔ کچرا ، یہاں روزانہ جمعدار آتا ہے۔ یہاں تو کوئ کچرا نہیں ہے۔ یہ جو درخت کے گرے ہوئے پتے ہیں یہ جمعدار کل لے جائے گا ۔ میں تم سے کوئ کام نہیں کروا سکتی۔
اچھا سنو نادر، یہی نام بتایا تھآ ناں تم نے تمہارے بہن بھائ کتنے ہیں۔ چھ ہیں ایک مجھ سے بڑا ہے باقی سب چھوٹے ہیں۔ ابا کیا کرتا ہے۔ کام کرتا ہے وہ اپنے پیسوں کا کیا کرتا ہے۔ وہ دادی کی آنکھیں بنانے کے لئے پیسہ جمع کر رہا ہے دادی پنجاب میں رہتی ہے۔ مجھے شبہ ہوا ابا جھوٹ بولتا ہے وہ اس سے نشہ پانی کرتا ہوگا۔  اماں کیا کرتی ہے۔ وہ بنگلوں میں جھاڑو پونچھے کا کام کرتی ہے۔ اب اصولی طورپہ تو جیسا کہ فیشن میں ہے مجھے اس سے یہ پوچھنا چاہئیے تھا کہ تم اسکول کیوں نہیں جاتے، کیا تمہارا اسکول جانے کو دل نہیں چاہتا، جب تمہیں روٹی نہیں ملتی تو کیک کیوں نہیں کھاتے۔

رات کے کھانے کا وقت ہو رہا تھا۔ میں اپنی بچی کو سلا کر فارغ ہوتی ہوں اور اب باقی لوگوں کے لئے کھانا لگا رہی ہوں کہ پھر بیل بجی۔ رابعہ گھر جا چکی تھی ورنہ ڈور بیل وہ چیک کر لیتی ہے۔
ایک پندرہ سولہ سال کی بچی اتنا کام کر سکتی ہے۔ میں پلیٹس ٹیبل پہ رکھ کر جلدی سے اسے چیک کرتی ہوں۔ باجی صفائ کر والو۔ صبح سے کچھ نہیں کھایا۔ آخر یہ بچہ میرے ہی ایمان کی آزمائش لینے کے پیچھے کیوں پڑ گیا ہے۔ یہ ان لوگوں کو کیوں نہیں ملتا۔ جو ذہنی نا بالغوں کو بالغ بنا رہے ہیں۔ میں جھلا جاتی ہوں۔ اور سوچتی ہوں کہ اسے کچھ روپے بھیک میں دے دوں ان پیسوں میں سے جو میری پرانی ماسی نذیراں کا حصہ ہیں۔  تاکہ وہ آج رات کا کھانا کھالے۔ کل کا اللہ مالک ہے کسی اور کے پیچھے پڑ کر لے لے گا۔ ورنہ وہی کرے گا جو روڈز پہ پھرنے والے بے گھر بچے کرتے ہیں۔
نذیراں ڈیڑھ سال سے چھاتی اور رحم کے کینسر میں مبتلا ہے۔  اور اسی طرح اپنے پرانے لوگوں سے پیسے جمع کر کے ایک خیراتی ہسپتال سے علاج کروا رہی ہے۔ ہسپتال والے  مفت علاج تو کرتے ہیں مگر دوا کے پیسے نہیں دیتے۔ وہ عمران خآن کے ہسپتال سے بھی علاج نہیں کروا سکتی۔ بالکل مفت تو وہاں بھی نہیں ہوتا اور پھر لاہور شہر میں رہنے کا خرچہ کہاں سے لائے گی۔ مگر ٹہریں میں پہلے اس بچے سے نبٹ آءووں یہ مسلسل بیل بجا رہا ہے۔ حکومت کچھ نہیں کرتی،ہمارے لئے اور جو کچھ کر سکتے ہیں انکا  ضروری کام تو عصمت چغتائ اور بانو قدسیہ کے نقش قدم پہ چل کے 'اصل حقائق' پیش کرنا ہے۔ 
آپ میں سے کچھ کو یہ اتنا اچھا نہیں لگے گا۔ اس میں ، میں نے ان بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کی تفصیلات جو نہیں دی ہیں۔
لیکن میں سوچتی ہوں یہ میرے ناول کے لئے یا کہانی کے لئے ایک اچھا انداز ہو سکتا ہے۔ بجائے میری عوامی پوسٹ کے۔ آپ کیا خیال کرتے ہیں۔

Wednesday, May 19, 2010

تربوز اور محبوب

نظیر اکبر آبادی، اردو شاعری میں عوامی شاعر کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ اتنے عوامی ہیں کہ انکی کلیات مرتب کرنے والے مولانا صاحب کو اس میں کئ اشعار میں خالی جگہ یا ڈیش ڈیش لکھنا پڑا۔ خیر یہ زمانہء قدیم کے مولانا صاحب تھے کیونکہ اسکا پہلا ایڈیشن انیس سو اکیاون کا ہے۔ اس بیان کے بعد امید ہے کہ انکی کلیات کو 'کچھ نوجوانوں'  میں  خاصی پذیرائ ملے گی۔
لیکن نظیر اکبر آبادی کی شاعری کی اہمیت جو مجھے نظر آتی ہے وہ الفاظ کا بے پناہ استعمال ہے۔ایسی ایسی ردیفیں اور قافئیے استعمال کئے گئے ہیں کہ ان کی زبان دانی پہ رشک آتا ہے۔ اس طرح بیت بازی سے دلچسپی رکھنے والوں کو اس میں اپنے حریف کو چت کرنے کے لئے کافی اشعار مل جائیں گے۔ آزمائش شرط ہے۔ ساتھ ہی ساتھ موضوعات کا تنوع بھی بھرپور ہے۔ عام زندگی کے بے پناہ موضوعات کا احاطہ انہوں نے کیا ہے۔
انکی اس کلیات سے منتخب اشعار پھر کبھی سہی۔ آج موسم کی مناسبت سے انکی ایک  نظم ملی۔ اسکا نام ہے تربوز۔ تربوز کا یہ احسان ہی کم نہیں ہے کہ جب تک گرمیوں کی سوغات آم نہیں آجاتے یہ اپنے گلابی رس سے ہمارا دل ٹھنڈا کرتے  ہیں۔
آئیے پڑھتے ہیں، نظم 'تربوز' کے چند بند۔

 کیوں نہ ہو سبز زمرد کے برابر تربوز
کرتا ہے خشک کلیجے کے تئیںتر تربوز
دل کی گرمی کو نکالے ہے یہ اکثر تربوز
جس طرف دیکھئیے بہتر سے ہے بہتر تربوز
اب تو بازار میں بکتے ہیں سراسر تربوز

مجھ سے کل یار نے منگوایا جو دے کر پیسہ
اس میں ٹاکی جو لگائ تو کچّا نکلا
دیکھ تیوری کو چڑھا ہو کے غضب طیش میں آ
کچھ نہ بن آیا تو پھر گھور کے یہ کہنا لگا
کیوں بے لایا ہے اٹھا کر یہ مرا سر تربوز

جب کہا میں نے میاں یہ تو نہیں ہے کچا
اور کچّا ہے تو میں پیٹ میں بیٹھا تو نہ تھا
اسکے سنتے ہی غضب ہو کے وہ لال انگارا
لاٹھی پاٹی جو نہ پائ تو پھر آخر جھنجھلا
کھینچ مارا مرے سینے  پہ اٹھا کر تربوز

پیار سے جب ہے وہ تربوز کبھی منگواتا
چھلکا اسکا مجھے ٹوپی کی طرح دے ہے پہنا
اور یہ کہتا ہے کہ پھینکا تو چکھاءوں گا مزہ
کیا کہوں یارو میں اس شوخ کے ڈر کا مارا
دو دو دن رکھے ہوئے پھرتا ہوں سر پہ تربوز

حوالہ جات؛
کلیات نظیر، مولانا عبدالباری صاحب آسی نے مرتب و مدون کیا، پبلشر، مکتبہ ء شعر و ادب لاہور۔

Tuesday, May 18, 2010

نوید شب

نوید سحر تو نئے دن ، نئ امنگوں، نئے توقعات اور نئی زندگی کا پیغام  ہوتی ہیں۔ مگر جو نویدیں آدھی رات کو ملیں۔ ان سے کیا ملتا ہے؟
آدھی رات کو اطلاع ملی کہ رحمان ملک صاحب کو کورٹ کے ذریعے جو سزا ملی تھی وہ صدر صاحب کے ایک دستخط سے معاف ہو گئ۔ 
صبح ناشتے کی میز پہ بس سوالات اور آدھی باتوں کا سلسلہ جاری رہا۔  کسی نے پوچھا، یہ امریکہ کو پاکستان کا صدر بنانے کے لئے زرداری کے علاوہ کوئ نہیں ملتا؟
پھر سوال اٹھا، یوسف رضا گیلانی چالاک ہے کہ بے وقوف؟
 ایک اور فرد نے انتہائ فلسفیانہ انداز میں کہا۔ یوسف رضا گیلانی بے نظیر کے دور میں اسمبلی کے اسپیکر تھے۔ جب وہاں سے فارغ ہوئے تو چھ سال کے لئے جیل چلے گئے۔ آجکل وزیر اعظم ہیں جب یہاں سے فارغ ہونگے تو کیا ہوگا؟
پوچھا یہ وزیر داخلہ کے بجائے گیلانی صاحب کو کیوں یاد کیا جارہا ہے۔ اس لئے کہ انہوں ے صدر کو تجویز دی کہ رحمان ملک کو معاف کر دیا جائے۔ زرداری صاحب بالکل بے قصور ہیں۔ اس طرح سے ہم خطا اپنی سمجھتے تھے، قصور انکا نکل آیا۔
کسی نے کہا کہ رحمان ملک رات کو بہت اترا رہے تھے۔ مجھے خیال آیا کہ غالب نے غالباً کسی ایسے موقع کے لئے کہا تھا کہ
بنا ہے شہ کا مصاحب، پھرے ہے اتراتا
ابھی صرف یہ مصرعہ ہی اپنے رقیب کی شان میں عرض کیا تھا کہ بادشاہ کو خبر ہو گئ۔ دربار بلا کر پوچھا کہ ناہنجار میرے بارے میں کہا یا میرے ممدوح کے بارے میں۔ عقلمند آدمی تھے۔ کہنے لگے حضور یہ تو ایک مصرعہ آپ تک پہنچایا گیا ہے ۔ پورا شعر اس طرح ہے کہ
بنا ہے شہ کا مصاحب ، پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے۔
یہ تو آپ سمجھ گئے ہونگے کہ یہاں 'غالب' سے غالب کی کیا مراد تھی۔
ویسے آپ یہ مت سوچنے لگیں کہ یہاں غالب سے مراد رحمان ملک ہیں۔ یہ فی البدیہہ شعر انہوں نے اپنے شعری رقیب محمد ابراہیم ذوق کی رقابت کے اثر سے بچنے کے لئے کہا تھا۔

Monday, May 17, 2010

اسلام کے کارٹونز

اگر ایک خاتون ساڑھی پہنے گذر رہی ہو اور اسکا پیٹ نظر آئے تو یہ ایک بہت قابل اعتراض بات ہے۔ ایسی عورت عورت کہلانے کے لائق نہیں چہ جائیکہ مسلمان عورت۔ لیکن یہی عورت جب ایک حیاتیاتی عمل سے گذرتی ہے اور ماں بننے کے عمل میں داخل ہوتی ہے تو یہ بڑی چٹخارےدار بات ہے اور اس پہ ہر طرح کا مذاق کرنا ایک اعلی مذاق ہے۔ اب اسکے پیٹ پہ نظر رکھنا اور محفل میں اسکا مزے لے لے کر تذکرہ کرنا کہ اس میں کیا ہو رہا ہے اس پہ بات کرنا ہر ایک کا بنیادی حق ہے اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں ساڑھی پہنی ہوئ یا بغیر آستین کی یا نیکر پہنی ہوئ عورت مجسم بے حیائ لگتی ہے اور یہ بھی انکا ایک قدرتی اور بنیادی حق بن جاتا ہے کہ وہ اس پہ جملے کسیں اور اسکا مذاق اڑائیں۔ اور مزے لے لے کر اسکی ان چیزوں کا تذکرہ کریں۔  مانع حمل ادویات اور کنڈومز  اور حمل گرانے کی تراکیب ان سے زیادہ مزے کی کوئ بات ہو سکتی ہے۔ آخر ٹی وی پہ بھی تو ان چیزوں کی تشہیر کی جاتی ہے بس ذرا مزہ نہیں ڈالتے، تو مزہ بھی نہیں آتا۔ اگر یہی اشتہارات ذرا 'مزیدار طریقے ' سے بنائیں جائیں تو دیکھتے ہیں کہ کون کافر ان میں دلچسپی نہیں لیتا۔ پھر وہ اسکا ایک نمونہ خود بنا کر دکھائیں گے۔
  یہ کوئ جاہل اجڈ نہیں ہیں۔ اور نہ ہی بڑے آزاد خیال لوگ ہیں کہ سگار کے ساتھ شراب پی رہے ہوں اور پرائ عورتوں کی کمر میں ہاتھ ڈالکر رقص کر رہے ہوں۔  یہ وہ لوگ ہیں  جو اسلام کی سر بلندی میں اتنے بڑھے ہوئے ہوتے ہیں کہ اپنے علاوہ کوئ مسلمان بھی مشکل سے ملتا ہے۔ آپ انکے سامنے صرف طالبان کا کسی بھی انداز سے منفی تذکرہ کر دیں اور پھر دیکھیں کیسے کف بہتا ہے اور کیسے کشتوں کے پشتے لگتے ہیں اور زبان اور بیان کی کتنی ارزاں صورتیں سامنے آتی ہیں۔ 
لیکن انہیں ارزاں مت کہیں یہ تو اعلی مذاق اور طنز ہے جو کسی کسی کی سمجھ میں آتا ہے۔ یہ سارے 'کسی' ایک جیسے ہیں۔ ایک ہی جسم میں کئ مختلف اور متضاد شخصیات رکھنے والے لوگ۔ لیکن انہیں منافق مت کہیں، یہ تو اس طرح معاشرے کی سدھار کرتے ہیں۔ کیا ہوا ، جو تھوڑا سا نفسانی لطف خود اٹھایا اور دوسروں کو بھی اٹھوانے دیا۔ اعمال کا دارومدار تو نیت پہ ہوتا ہے ناں۔
باقی لوگ چاہے کتنی اچھی نیت کے ساتھ اچھآ کام کریں، انکے دین و مذہب کی چھان بین سے پہلے کچھ کہنا کفر ہے۔ البتہ یہ دنیا کا گھٹیا ترین کام بھی کریں تو واہ، واہ۔ ہاں یہ الگ بات کہ ابھی کوئ روشن خیال اسی  گھٹیا کام کو کر ڈالے جس پہ شیخ صاحب ثواب دارین کما چکے ہوں تو اس پہ کتنی لعنتیں پڑیں اور معاشرہ کس قدر اخلاقی زبوں حالی کا شکار ہو جائے۔ یوں شیخ کے ہاتھ میں شراب بھی آب زم زم ہو جاتی ہے۔ 
ابھی کچھ دنوں پہلے مجھے فیس بک پہ ایک صاحب کی طرف سے دوستی کی درخواست موصول ہوئ۔ اکثر لوگوں کو ہوتی ہے اور خواتین پہ یہ مہربانی زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن اس دوستی کے پیغام کے ساتھ ایک اور پیغام بھی تھا جس کا متن اس طرح تھا کہ پانچوں وقت نماز پڑھتی ہو۔ میرے کچھ مبصروں نے کہا آپ ان سے فقہ کے بارے میں بھی دریافت کر لیتیں کہ کس فقہ کے تحت دوست کے قوانین رکحنا چاہیں گے۔ کچھ کا خیال تھا کہ شاید نمازی کم پڑ گئے ہونگے اس لئے پوچھا۔ کچھ کو یہ فکر لاحق ہو گئ کہ آیا میں واقعی پانچ وقت نماز پڑھتی ہوں یا نہیں۔ 
ایک مسلمان مرد کی ایک خاتون کو دوستی کی یہ درخواست اتنے نیک طریقے سے۔ یہ ایک عجیب سی صورت حال ہے ایسے لوگوں کے لئے ایک طرف اسکا گھر اک طرف میکدہ۔
لطف بھی لینا چاہتے ہیں لگے ہاتھوں ثواب بھی حاصل ہونا چاہئِے۔ سوچتی ہوں ایسے چٹخارے دار اسلام سے کیوں دور رہتے ہیں لوگ۔ ایسے مسلمان بننے کے لئے تو ہم ہر وقت تیار ہیں ۔ لعنت ہو روشن خیالوں پہ، خدا کی مار ان پہ، دوزخی خود دوزخ میں جائیں گے ہم کیوں انکے ساتھ گھسیٹے جاویں۔ طالبان آوے ہی اوے۔ اب آج سے میں اس نئے مسلمان کی حیثیت سے حلف لینا چاہونگی جو رند کا رند رہے اور ہاتھ سے جنت بھی نہ جائے۔ تو اب میں بھی اسی طرح کی اعلی مذاق کی حامل تحریروں کی تیاری کرتی ہوں۔ الحمد اللہ، خدا نے مجھے بروقت ایک اعلی مسلمان بننے کا موقع عطا فرما دیا۔ بلکہ سمجھا دیا کہ ایک بہترین اعلی حس مذاق کے ساتھ ایک اسلام کا نام سر بلند کرنے والا مسلمان کیسے بنا جا سکتا ہے۔ اور کیسے میرے اس تبدیل شدہ چولے سے مجھے وفادار ساتھیوں کی ایک قطار ملے گی۔ 
اور ہاں ابھی بیس مئ کو پیغمبر اسلام سے محبت ظاہر کرنے کے لئے ہولوکاسٹ ڈے بھی تو منانا ہے۔ اس میں رسول اللہ کے کارٹون بنانے والی اقوام سے اپنی نفرت ظاہر کرنے کے لئے جواباً پاکستانی مسلمان ہولوکاسٹ ڈے منائیں گے۔ تاکہ انہیں بھی کچھ پتہ چلے کہ ہم ان سے کتنی نفرت کرتے ہیں۔ انشاءللہ، اس نئے منافقت کے خول کے ساتھ ان میں شامل ہونگی۔ خدا ہمیں اسکا اجر دے۔ نیکی کے اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہئیے۔ شیطانیت اور ملعونیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دینا چاہئیے۔ وہ دن دور نہیں جب خدا کی مدد ہمارے شامل حال ہوگی۔ اللہ اکبر۔
مگر یہ دل اندر سے ہلکے سے پوچھ رہا ہےکہ مذہب اسلام کے کارٹونز کے خلاف کون سا دن منایا جائے گا اور کب؟ 

Saturday, May 15, 2010

صیاد کا دام

خود اپنے دام میں صیاد آرہا ہے۔ بس یہ تھا فوری خیال جو میرے ذہن میں آیا۔ جب میں نے یہ ٹیپ کہ ہوئ فون کال سنی جو حامد میر اور طالبان کے کسی اعلی عہدیدار کے درمیان ہوئ۔ اس فون کال کا وقت خالد خواجہ کے قتل سے کچھ دن پہلے کا واقعہ بتایا جاتا ہے۔ آپ بھی مندرجہ ذیل لنک پہ جا کر اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔


  میں نے وارث میر کی کتاب 'حریت فکر' کے مجاہد پڑھی تو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ان جیسا لبرل سوچ رکھنے والا شخص حامد میر جیسے کسی شخص کا باپ ہو سکتا ہے۔ یہ تو بھلا ہو انٹر نیٹ کا کہ یہ انکشاف وہیں سے ہوا۔

 وارث میر کی کتاب ' حریت فکر کے مجاہد' کا پیش لفظ پروفیسرکرّار حسین  نے لکھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ

پروفیسر وارث میر نہ صرف حریّت فکر کے راہی تھے بلکہ حریّت فکر کے مبلغ بھی تھے۔ حریت فکر کے سلسلے میں انکے جو مضامین ہیں وہ اس ضرورت کے احساس کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آج سب سے زیادہ ہماری قوم کو اپنی صحت شعور کے لئیے جس بات کی ضرورت ہے وہ اسلام اور اپنے ماضی کے متعلق رومانیت اور جذباتیت سے نکل کر خود تنقیدی کی نظر پیدا کرنا ہے تاکہ دھندلکوں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کی بجائے مستقبل کے لئے کوئ راستہ روشن ہو سکے۔ رومانیت اور جذباتیت ، جہل کی وہ خطرناک قسم ہے جس سے کہ ہر قسم کا ظلم پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ درحقیقت خود کشی کا راستہ ہے۔

وہ خود ایک جگہ لکھتے ہیں کہ
فکری اور سیاسی لحاظ سے پاکستان کے بیمار معاشرے کو ترقی پسندی کی کسی باقاعدہ پارٹی لائن کے مطابق چلنے والی نہ سہی، جدیدیت کی تو یقیناً ضرورت ہے۔
 

اس کتاب کی اشاعت انیس سو نواسی میں ممکن ہوئ۔ لیکن اسکی اشاعت سے دو سال پہلے وارث میر محض اڑتالیس کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں زہر دیا گیا تھا۔  اسکے فوراً بعد انکے بیٹے حامد میر کا صحافیانہ کیریئر شروع ہوتا ہے۔  لیکن انہیں بہت زیادہ شہرت غالباً اسامہ بن لادن سے ملاقات کے بعد حاصل ہوئ۔

ایک ترقی پسند باپ، جس نے اپنی تمام زندگی ہر قسم کی ملائیت کے خلاف جہاد میں گذاری، اس کے بیٹے نے جب اپنے لئے فکری نظر منتخب کی تو اسکا انتخاب طالبان جیسی رجعت پسند اور انتہا پسند قوتیں تھیں۔ اس فون کال سے وابستہ حقائق  سے قطع نظر میں حامد میر کو ان لوگوں میں سے سمجھتی ہوں جنہوں نے طالبان کو ہیرو بنانے کی مہم ، میڈیا کے ذریعے زور و شور سے لڑی۔ لال مسجد کو ایک سانحہ بنانے میں انکی کوششوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ محض آئ ایس آئ ہی نہیں جیسے جیسے وہ ترقی کے زینے پہ بڑھتے گئے انکا نام سی آئ اے کے ایجنٹ کے طور پہ بھی ابھرا۔ سو یہ بھی ایک سوال ہے کہ ہمارا یہ صیاد، دام کا صیاد ہے یا صیاد کے دام ہے۔
اس ٹیپ کی ہوئ فون کال کوسن کریوں لگتا ہے کہ وہ خالد خواجہ کے قتل کو ایک اخلاقی جواز دے رہے ہیں۔  خالد خواجہ بذات خود  طالبانی جہاد سے متعلق ایک متنازعہ شخصیت،  تو اپنے منطقی انجام تک پہنچ گئ۔ باقی یہ کہ پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ۔




Thursday, May 13, 2010

کاربن کی تیسری بہروپی شکل

 آج میں خالص سائنیس پہ ایک تجرباتی تحریر اردو میں لکھ رہی ہوں۔
کاربن پیریاڈک ٹیبل پہ چھٹے نمبر کا عنصر ہے۔ زیادہ تر لوگ اسکی دو بہروپی اشکال سے واقف ہیں۔ اور وہ ہیں گریفائیٹ اور ڈائمنڈ۔  بہروپی اشکال کسی عنصر کی ایسی اشکال ہوتی ہیں جو ایک ہی عنصر کے ایٹموں پر مشتمل ہوتی ہیں لیکن ان ایٹموں کا ایکدوسرے سے جڑنے کا انداز یا  ترتیب مختلف  ہوتی ہے۔ یوں مختلف مالیکیول وجود میں آتے ہیں۔




 





یہ گریفائٹ میں کاربن کے ایٹموں کی ترتیب ہے۔ ہر کونا ایک کاربن ایٹم کو ظاہر کرتا ہے۔ اس طرح سے ہمیں ان دونوں تصویروں میں تین تہیں نظر آرہی ہیں جو وضاحت کے لئے بنائ گئ ہیں۔ یہ تہیں اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں اور اسی وجہ سے گریفائٹ گریس جیسے خواص رکھتا ہے۔یہ اوپر والی ساختیں گریفائٹ مالیکیول کی ہیں۔





یہ دونوں اشکال ہیرے کے اندر کاربن کے ایٹموں کی ترتیب ظاہر کر رہی ہیں۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کاربن ایٹم ہر تہہ کے بعد بڑھتے جا رہے ہیں اور یہ ایکدوسرے سے مضبوط سنگل کو ویلنٹ بانڈ سے جڑے ہیں اس لئے ہیرا بہت مضبوط ہوتا ہے۔ اور امیر شہر اس سے خود کشی کر سکتا ہے۔



 بہت کم لوگوں کو پتہ ہوگا کہ کاربن کی ایک تیسری بہروپی شکل بھی ہے جسے فلیرین کہتے ہیں۔ اس گروپ کا پہلا ممبر انیس سو چھیاسی میں دریافت ہوا۔ یہ دریافت محض ایک اتفاق تھا۔ سائنسدان  ستاروں کے بننے کے عمل کا راز جاننا چاہ رہے تھے۔ اسکے لئے انہوں نے گریفائٹ کو ایک ایسی مشین کے اندر اونچے درجہ ء حرارت سے گذارا، جسے ہیلیئم گیس سے  ایک خاص دباءو تک بھر دیا تھا۔ یعنی ہوا کھینچ کر باہر کر دی گئ تھی۔



اسکے نتیجے میں جو آمیزہ حاصل ہوا۔ اسکا تجزیہ کرنے پہ ایک ایسا مالیکیول سامنے آیا جس میں کاربن کے ساٹھ یعنی 60 ایٹم موجود تھے۔ مزید تجزیاتی رپورٹس کو سامنے رکھ کر اسکی ساخت بنانے کا مرحلہ جب آیا تو بڑی سوچ وبچار کے بعد یہ طے کیا گیا کہ یہ ایک گول فٹبال کے گیند کی شکل کا مالیکیول ہونا چاہئیے۔ 


بعد میں مالیکیول کی اس ساخت کا نام امریکن انجینئیر بک منسٹر فلّر کے نام پہ رکھ دیا گیا کیونکہ موصوف نے مونٹریال، کینیڈا میں موجود ایک عمارت کا گنبد جس ڈیزائن پہ بنایا تھآ وہ اس مالیکیول کی ساخت جیسا تھا۔ یوں یہ مالیکیول فلیرین کہلایا۔ اب اگر آپ مونٹریال میں ہیں یا وہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس عمارت کو ضرور دیکھئیے گا۔ باقی لوگ اگر صرف اس وجہ سے کینیڈا جانا چاہتے ہیں تو ویزا فارم پہ ظاہر کریں اور خوبی ء تقدیر کا انتظار کریں۔ نیچے آپکو اس عمارت کی تصویر نظر آرہی ہے۔

 بعد ازاں ان سائنسدانوں کے مزید تجسس اور بے قراری  کی وجہ سےاسی آمیزے سے مزید اسی طرح کے مالیکیولز نکالے گئے۔ اس لئے بات یہ بنی کہ باغ بہشت سے مجھے اذن سفر دیا تھا کیوں، کار جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر۔ یہ مزید مالیکیولز  کاربن کی تعداد مختلف  رکھتے تھے۔  جیسے ایک مالیکیول میں کاربن ستر اور دوسرے میں چوراسی تھے۔ حتی کہ یہ تعداد سینکڑوں تک جا پہنچی۔ یوں ان مالیکیولز نے ملکر فلیرین خاندان ترتیب دیا۔
یہ خاندان کیمیاء میں نئ دریافتوں کا خاندان بن گیا کیونکہ انکی وجہ سے نئے کیمیائ تعاملات نے جنم لیا۔  کچھ تعاملات انکی کروی سطح کے اوپر ہوئے، کچھ میں انکے اندر والی خلاء کو استعمال کیا گیا، کچھ میں انکی گولائ کو کہیں سے توڑ دیا گیا۔ محض چھ سال میں اس خاندان سے ایک ہزار سے زائد کیمیائ مرکبات تیار کئے گئے۔ اور اس طرح انیس سو چھیانوے کا کیمیاء کا نوبل پرائز فلیرین دریافت کرنے والوں کے حصے میں آیا۔ 



اسی خاندان نے آگے چل کر نینو ٹیوبز فراہم کئے اور یوں نینو ٹیکنالوجی وجود میں آگئ۔  نینو ٹیوبز بھی خالص کاربن سے بنے ہوتے ہیں۔ اور انہیں بعض اوقات بکی ٹیوبز بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تو اب آپ جان گئے ہوگے کہ ایسا کیوں کہا جاتا ہے۔ یہ رہی ان نینو ٹیوبز کی مالیکیولر تصویر۔

 






Tuesday, May 11, 2010

علامت کا زوال یا زوال کی علامت

آگے پڑھنے سے پہلے نیچے دئیے ہوئے لنک پہ کلک کر لیجئیے۔ اس پوسٹ کے ساتھ یہ موسیقی کا ٹھنڈآ پانی ضروری ہے۔
سانگھڑ شہر کے اطراف میں لیکن اس سے کافی دور ریتیلے پہاڑی ٹیلوں کے درمیان واقع ایک پر سکون گاءووں میں، میں اس وقت ایک چھوٹی سی جھیل کے کنارے پندرہ بیس مقامی لوگوں کے ساتھ موجود تھی۔ سنہری ریت پہ آلتی پالتی مار کے بیٹھے جھیل کی طرف خراماں خراماں گم ہوتی لہروں کی دیکھتی اور پھر اس سولہ سترہ سالہ لڑکے کی ایلومینیئم کا تھآلی پہ تھاپ دیتے ہوئے ہاتھ۔ سارا مجمع ایک ٹرانس میں دوسرے اسی عمر کے لڑکے کو گاتا سن رہا تھا۔ اور وہ اتنے جذبے سے گا رہا تھا کہ اسکے آنسو نکل پڑے۔  جب وہ اس  مصرعے پہ پہنچا  کہ ارے ملا جنازہ پڑھ میں جا نوں میرا خدا جانے۔ تو شاید میں مسکرا دی تھی۔
محفل ختم ہونے پہ وہ میرے پاس آئے تو میں نے ان گمنام فنکاروں کی تعریف کی۔ انہوں نے جواباً اپنے ہاتھ مصافحے کے لئے میری طرف بڑھا دئیے۔ میں نے کچھ سوچا اور انکے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دے دیا۔ سندھ کے دیہاتوں میں رواجاً عورت مرد ہاتھ ملاتے ہیں۔ اور نہ ملانا تحقیر کی  مد میں آتا ہے۔
اس دن میں نے سوچا کہ شہر سے اتنی دور اتنے چھوٹے سے گاءووں میں جہاں کی کل آبادی تیس پینتیس لوگوں پہ مشتمل ہے یہاں بھی مولوی صاحب کے خلاف خیالات کو پذیرائ حاصل ہے۔ کیوں؟
مولوی یا ملا کو مذاق کا نشانہ بنانا یا انکی بات پہ طنز کرنا کوئ تیس چالیس سال پرانی بات نہیں بلکہ یہ ایک رد عمل ہے جسکے نتیجے میں تصوف کی تحریک نے جنم لیا۔ آج سے ہزار سال قبل جب عمر خیام کہتا ہے کہ
کہتے ہیں کہ بہشت اور حور عین ہوگا
وہاں شراب کا پیالہ اور دودھ اور شہد ہوگا
اگر میں نے شراب اور معشوقہ کا لطف اُٹھایا ہے تو کیا خوف ہے
جب آخر کار اسی طرح ہی ہونا ہے۔

تو وہ دراصل اس عمل کا مذاق اڑاتا ہے جو مذہب کو انسان کی روحانی ترقی کے بجائے ، ظاہری عبادت و رسوم ، قاعدے اور قانون میں بند کر کے اپنا اقتدار قائم رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اور جو اسے ایک اعلی انسان بنانے کے بجائے لالچ اور ہوس کے سراب کے پیچھے لئے جا رہا ہے۔  مولوی ازم یا ملا ازم خاص مسلمانوں کو پیش آنیوالا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہر مذہب کے ماننے والوں کا اسکا سامنا کرنا پڑا۔
بھگت کبیر، چودہ سو چالیس میں پیدا ہوئے۔ انکی سادہ مگر پراثر شاعری نے لوگوں میں وہ تحرک پیدا کیا کہ ایک الگ مذہبی فرقہ وجود میں آگیا۔ وہ ایک جگہ کہتے ہیں کہ

نہ جانے میرا صاحب کیسا ہے
مسجد بھیتر ملا پکارے کیا تیرا صاحب بہرا ہے
چینوٹی کے پگ نیر باجے تو بھی سنتا ہے
پنڈت ہو کے آسن مارے لمبی مالا جپتا ہے
انتر تیرے کپٹ کترنی سو بھی صاحب لکھتا ہے

 ان جملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مسجد کا ملا ہو یا لمبی مالا جپنے والا پنڈت، یہ ایک ہی چیز کا استعارہ ہیں۔
 نظیر اکبر آبادی ایک جگہ مولوی صاحب کی اس ساری محنت کو کس چیز سے تعبیر کرتے ہیں ذرا دیکھیں تو

جنت کے لئے شیخ جو کرتا ہے عبادت
کی غور جو ظاہر میں تو مزدور کی سوجھی
میر تقی میر کا کہنا ہے کہ
شیخ جو ہے مسجد میں ننگا، رات کو تھا مے خانے میں
جبہ، خرقہ، کرتا، ٹوپی، مستی میں انعام کیا
یہ تو شیخ صاحب کا ایک پہلو ہے اسی کو غالب یوں بیان کرتے ہیں۔

کہاں مے خانے کا دروازہ ، غالب اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں ، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
اور پھر واعظ کے انہیں برا بھلا کہنے پہ ذرا برا نہیں مانتے بلکہ یوں فرما دیتے ہیں کہ

غالب، برا نہ مان جو واعظ برا کہے
ایسا بھی کوئ ہے کہ، سب اچھا کہیں جسے؟

اور اس شعر میں اکبر الہ آبادی کس سے مخاطب ہیں

کعبے سے جو بت نکلے بھی تو کیا، کعبہ ہی گیا جب دل سے نکل
افسوس کہ بت ہم سے چھٹے، قبضے سے خدا کا گھر بھی گیا

حکیم الامّت علامہ اقبال، اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ کرتا کوئ اس بندہ ء گستاخ کا منہ بند۔ ملا کے دین کی تعریف یوں کی۔ دین ملا فساد فی سبیل اللہ۔ انہوں نے ملاءووں اور مولویوں کو کہیں کا نہ چھوڑا۔ نیچے میں صرف بال جبریل کے شروع کے تیس صفحوں کا انتخاب دے رہی ہوں۔

مجھ کو تو سکھا دی ہے افرنگ نے زندیقی
اس دور کے ملا ہیں کیوں ننگ مسلمانی؟

حاضر ہیں کلیسا میں کباب و مئے گل گوں
مسجد میں دھرا کیا ہے بجز موعظہ و پند
احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پاژند
کہتا ہوںّ وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نے ابلہ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزند

یہی شیخ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھاتا ہے
کلیم بو ذر و دلق اویس و چادر زہرا

اے مسلماں، اپنے دل سے پوچھ، ملا سے نہ پوچھ
ہو گیا اللہ کے بندوں سے کیوں خالی حرم

 حکیم الامّت سے نکلیں تو نجانے اور کتنے لوگ ہونگے جو اس علامت کی تعمیریں گرانے کی کوشش کرتے رہے۔ اور اسی لئے شاید حمایت علی شاعر سوال کرتے ہیں

  تمام گنبد و مینار و منبر و محراب
فقیہہ شہر کی املاک کے سوا کیا ہے
صادقین پاکستان کے ایک نامور خطاط، ایک شاعر بھی تھے۔ انہوں نے ایک نقشہ کھینچا ہے کہ
مسند پہ کتاب دین رکھی تھی، اک پیر
اخلاق پہ کر رہا تھا کب سے تقریر
پھر میں نے بھی مسند کو وہیں سے کاٹا
مسند کے نیچے تھی جہاں ننگی تصویر

 اب ان تمام مختلف  شخصیات پہ سے گذرنے کے بعد،  جو اس وقت میرے ذہن میں آئیں، احساس ہوتا ہے کہ ملا، مولوی، واعظ یا شیخ یہ سب الفاظ علامت ہیں، مذہبی منافقت، جبر، اور ظاہر پرستی کی۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اب سے نہیں، مسلمانوں میں تو کم از کم  پچھلے ہزار سال سے مذاق کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہوگا کیا، تو اقبال کہتے ہیں کہ

مرید سادہ تو رو رو کے ہو گیا تائب
خدا کرے کہ ملے شیخ کو بھی یہ توفیق


Saturday, May 8, 2010

نئے افکار انکا حصول اور ترویج-۱۲

شاہ ولی اللہ نے اجتہاد اور تقلید کے موضوع پہ ایک بڑی مفید کتاب عقد الجید فی احکام الاجتہاد التقلید کے نام سے لکھی۔ شاہ صاحب باب اجتہاد بند ہونے کے قائل نہ تھے لیکن وہ عوام کو حق اجتہاد نہیں دیتے۔ مجتہد کے انہوں نے مدارج مقرر کئے اور اجتہاد کے لئے مناسب شرائط لگائیں۔ انہوں نے جا بجا اس خیال کی نفی کی کہ اب اجتہاد کی گنجائش نہیں رہی۔ وہ اس کتاب کے آغاز میں کہتے ہیں کہ
پھر اب جو گمان کیا جاوے ایسے شخص عالم کے حق میں، جو اکثر مسائل میں اپنے امام کے موافق ہو، لیکن اسکے ساتھ ہی ہر حکم کی دلیل چاہتا ہو کہ وہ مجتہد نہیں تو یہ گمان اس شخص کے حق میں فاسد ہے۔ اور اس طرح جو یہ گمان کرے کہ مجتہد اس زمانے میں نہیں پایا جاتا۔ بلحاظ اعتماد کرنے کے گمان پہ تو یہ گمان بنار فاسد بر فاسد ہے۔
شاہ صاحب رسول اکرم کے طریقے کو دھیان میں رکھ کر اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جزئیات کے معاملے میں تشدد نہیں کرنا چاہئیے۔ اور معمولی اختلافات سے شارع کا مقصد فوت نہیں ہوتا۔
کچھ لوگوں کو زمانہ روز بروز خراب نظر آتا ہے اور اس طرح وہ قوم میں بے ہمتی پیدا کرتے ہیں۔ اپنی کتاب حجۃ البالغہ میں وہ اپنے عہد کی اہمیت اورخوبیوں کا ذکر کرتے ہیں اور اس نظرئے کی تردید کرتے ہیں اس سلسلے میں وہ رسول اللہ کی دو حدیثوں کا حوالہ دیتے ہیں
ترجمہ؛ میری امت کی صفت بارش کی سی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ پہلا مینہ اچھا ہے یا اخیر کا۔
ترجمہ؛تم میرے صحابہ ہو اور میرے بھائ وہ ہیں جو میرے بعد آئیں گے۔
شاہ صاحب کو احساس تھا کہ مسلمانوں کے زوال کا ایک باعث فرسودہ اقتصادی نظام بھِی ہے۔ چنانچہ انہوں نے اقتصادی عدم توازن کو معاشرتی برائیوں کی ایک جڑ قرار دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ
اگر کسی قوم میں تمدن کی مسلسل ترقی جاری رہے تو اسکی صنعت و حرفت اعلی کمال پر پہنچ جاتی ہے، اسکے بعد اگر حکمران جماعت آرام و آسائش اور زینت  وتفاخر کی زندگی کو اپنا شعار بنا لے تو اسکا بوجھ قوم کے کاری گر طبقے پہ اتنا بڑھ جائے گا کہ سوسائٹی کا اکثر حصہ حیوانوں جیسی زندگی بسر کرنے پہ مجبور ہوگا۔
ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ
اقتصادی نظام کے درست اور متوازن ہونے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس زندگی میں انسانی اجتماع کے اخلاق تکمیل پذیر ہو سکیں گے۔
انکے خیال میں چونکہ تمام قوم دولت کی پیداوار میں شامل ہوتی ہے اس لئےدولت کو تمام افرد قوم میں تقسیم ہونا چاہئیے۔ اسکے علاوہ وہ دولت کے استعمال کی اقدار بھی مقرر کرنا چاہتے تھے اسکے لئے انہوں نے کچھ اصول رکھنا چاہے۔
پہلا اصول یہ کہ ایک جغرافیائ سرحد کے اندر رہنے والے لوگ اس علاقے کے وسائل کے مالک ہونگے۔ تمام لوگ اقتصادی نظام میں برابر ہونگے اور دولت کا ارتکاز کسی ایک یا چند مخصوص لوگوں تک نہ ہو۔ اور اس سلسلے میں وہ حضرت ابو بکر صدیق کی اس بات کو دوہراتے کہ مساوات بہتر ہے اقصادیات میں بجائے اسکے کہ ایک گروہ کو دوسرے پہ ترجیح دی جائے۔
دوسرا اصول، ہر شخص کو کچھ نہ کچھ حق ملکیت دینا چاہئیے۔ کیونکہ ہر شخص مختلف صلاحیتیں رکھتا ہے۔ لیکن اس سے مراد یہ نہیں کہ ہر ایک کو ایک جیسی غذا، گھر یا کپڑے ملیں۔
تیسرا اصول یہ کہ دولت کے ارتکاز کو کسی صورت نہ برداشت کیا جائے۔
ایسی متوازن صورت حال اختیار کی جائے کہ معاشرہ میں ہر شخص ترقی کرے۔
اسکے لئے وہ اس بات کے حق میں تھے کہ کوئ ایسی جماعت وجود میں لائ جائے جو ایک نئے نظام کو ترتیب دے سکے۔
یہ تھے کچھ سرسری سے اصول جو انہوں نے دینے کی کوشش کی۔ لیکن عملی طور پہ وہ اسکے لئے کچھ نہ کر سکے۔
مجدد الف ثانی کے بر عکس وہ شیعوں کو کافر نہیں سمجھتے تھے۔ بلکہ انہوں نے اپنی تحریروں سے سنی شیعہ اختلافات مٹانے کی کوشش کی اور اس موضوع پہ کئ سیر حاصل کتابیں لکھیں۔
چونکہ ہمارا موضوع اس وقت احیائے دین کی کوششیں نہیں ہے اس لئے ہم اس سلسلے میں اس سے صرف نظر کرتے ہیں۔
اپنی اس تمام تر روشن خیال کے باوجود شاہ ولی اللہ ہندوستان  کی دوسری غیر مسلم قوتوں کے لئے نرمی نہ پیدا کر سکے اور وہ کہتے ہیں کہ
تمام مسلمان شہریوں کو حکم دینا چاہئیے  کہ کافر اپنے تہوار کھلے عام نہ منا سکیں جیسے ہولی یا گنگا میں نہانا۔
اسی طرح انہوں نے یہ نظریہ اختیار کیا کہ ہندو ذمی نہیں کافر ہیں لہذا انہیں ذمیوں کے حقوق حاصل نہں ہونے چاہئیں اور انہیں ہر ممکن طریقے سے ذلیل کر کے رکھنا چاہئیے۔
اسی طرح وہ ثقافتی اثرات کو بھی قبول نہ کر سکے۔ ایک اور جگہ وہ لکھتے ہیں کہ
مسلمانوں کو خواہ وہ کسی ملک میں اپنی ابتدائ زندگی گذاریں۔ اپنی وضع قطع اور طرز بو د و باش میں اس ملک کے مقامی باشندوں سے قطعی جدا رہنا چاہئیے اور جہاں کہیں وہ رہیں اپنی عربی شان اور عربی رجحانات میں ڈوبے رہیں۔
شاہ ولی اللہ ، شاعر بھی تھے۔ انکی یہ شاعری فارسی میں ہے اس لئے میں اس میں سے کوئ انتخاب دینے سے قاصر ہوں۔
بہر حال اس تمام گفتگو سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس زمانے میں میسر علم اور اپنی دانش سے انہوں نے مسلمانوں کے اندر موجود خامیوں کو جانچنے اور انہیں دور کرنے میں خاصے تدبر سے کام لیا۔ اسی لئے کچھ لوگ انہیں حکیم الامت کہنے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔

حوالہ جات؛

حریت فکر کے مجاہد، مصنف وارث میر، جنگ پبلشرز
اردو ادب کی تحریکیں، مصنف ڈاکٹر انور سدید، انجمن ترقی اردو پاکستان
رود کوثر، مصنف شیخ محمد اکرام، ادارہ ء ثقافت اسلامیہ۔
المیہ تاریخ، مصنف ڈاکٹر مبارک علی

.

Friday, May 7, 2010

نئے افکار انکا حصول اور ترویج-۱۱

برصغیر کے مسلمانوں میں روشن فکری کی تحریک شاہ ولی اللہ سے شروع ہوئ۔ یہ خیال ہے وارث میر کا وہ اپنی کتاب حریت فکر کے مجاہد میں لکھتے ہیں کہ شاہ ولی اللہ نے کسی سائینٹیفک اقتصادی فکر اور سوچ کی نہج تو تلاش نہ کی تھی لیکن اپنی کتاب حجۃ البالغہ میں مسلمانوں کے زوال پذیر معاشرے کی برائیوں اور قیصریت و کسرویت کے نتائج کے تجزئیے میِ وہ اپنے وقت سے بہت آگے تھے۔ اس سارے تجزئیے  پہ ہم بعد میں بات کریں گے۔ پہلے انکا ایک اہم کارنامہ دیکھتے ہیں۔
شاہ ولی اللہ کی تحریک کا مخاطب خواص کے بجائے عوام تھے. چونکہ آپکا روئے سخن عوام کی طرف تھا اس لئے یہ ضروری تھآ کہ وہ قرآن کو اسکے صحیح معنوں میں جانیں۔ اسکے علاوہ اکبر کے دربار میں جب مسلمان علماء اور پرتیگیزیوں کے درمیان مباحثے ہوئے تو مشنریوں نے جو قرآن کا لاطینی ترجمہ پڑھے ہوئے تھے کلام مجید کے بعض حصوں پہ اعتراض کیا اس وقت پتہ چلا کہ مسلمانوں کو صحیح سے اسکے مضآمین سے واقفیت نہ تھی حتی کہ ایسا بھی ہوا کہ پادریوں کے کسی اعتراض پہ یہ کہہ دیا جاتا کہ یہ تو قرآن میں ہے ہی نہیں اور جب قرآن کھولا جاتا تو اس میں اسکے حوالے نکلتے۔
شاہ ولی اللہ نے ان تمام چیزوں کے پیش نظر اسکا فارسی میں ترجمہ کیا جو کہ اس وقت رائج الوقت زبان تھی۔
علماء نے اسکا علم ہونے پہ تلواریں سونت لیں کہ یہ کلام پاک کی بے حرمتی ہے۔ بعض موءرخین نے یہاں تک لکھا کہ اسکی وجہ سے شاہ صاحب کی جان خطرے میں پڑ گئ۔ اور انہیں کچھ عرصَے کے لئے دہلی سے باہر جانا پڑآ۔ لیکن آہستہ آہستہ وہ یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئے کہ قرآن میں موجود حقائق کو زندگی کا دستور العمل بنانے کے لئے اسکا رائج الوقت زبانوں میں ترجمہ ضروری ہے۔
انہوں نے علم تفسیر پہ بھی کتابیں لکھیں اپنی ایک کتاب الفوز الکبیر فی اصول التفسیر میں وہ لکھتے ہیں کہ
عام مفسرین نے ہر ایک آیت کو خواہ مباحثہ کی ہو یا احکام کی ایک قصے کے ساتھ جوڑ دیا ہے اور اس قصے کو اس آیت کے لئے نزول کا سبب مانا ہے لیکن حق یہ ہے کہ نزول قرآنی سے مقصود اصلی نفوس بشریہ کی تہذیب اور انکے باطل عقاءید اور فاسد اعمال کی تردید ہے۔
فوز الکبیر کی دوسری خصوصیت شاہ صاحب کی انصاف پسندی اور اخلاقی جرءات ہے۔ مثلاً عام مسلمان زمانہ ء جاہلیت کے عربوں سے فقط برائیاں اور عیب ہی منسوب کرتے ہیں۔ لیکن انہوں نے انصاف کے اصول مدنظر تصویر کے دونوں پہلو پیش کئے ہیں۔
بعض مفسرین نے اہل کتاب سے قصے لیکر انہیں قرآنی تفاسیر اور علوم اسلامی کا جزو بنادیا ہے۔ اسکے خلاف انہوں نے آواز بلند کی۔ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ 
یہاں پہ یہ جان لینا مناسب ہے کہ حضرات انبیاء سابقین کے قصے احادیث میں کم مذکور ہیں اور انکے لمبے چوڑے تذکرے جن کے بیان کرنے کی تکلیف عام مفسرین کرتے ہیں وہ سب ال ماشاءاللہ علمائے اہل کتاب سے منقول ہیں
آگے کہتے ہیں کہ
اسرائیلی روایات کا نقل کرنا ایک ایسی بلا ہے جو ہمارے دین میں داخل ہو گئ ہے۔ حالانکہ صحیح اصول یہ ہے کہ انکی نہ تصدیق کرو نہ تکذیب۔
انہی وجوہات کی بناء پہ شاہ صاحب کی وصیت تھی کہ قرآن اور اسکا ترجمہ تفسیر کے بغیر ختم کرنا چاہئیے۔ اور پھر اسکے بعد تفسیر وہ بھی تفسیر جلالین بقدر درس پڑھائ جاوے۔
ایک اور اہم مسئلہ تقلید کا کا تھآ۔ تقلید جامد کے ماحول میں اجتہاد کے ماحول کو پیدا کرنا اور لوگوں کو مختلف ائمہ کے فہم کے علاوہ کسی بات کو قبول نہ کرنے کی فضا میں قرآن وسنت کی بالادستی کا علم بلند کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ ایک اہم سوال یہ تھا کہ جو مسلمان تقلید کا قائل ہے، فقہ کے چار مذاہب میں سے اسکے لئے کسی ایک کی تقلید لازمی ہے جسے لزوم مذہب معینہ کہتے ہیں یا وہ مختلف معاملات میں  مختلف مذاہب کی پیروی کر سکتا ہے۔ اس مسئلے پرعلماء میں بڑا اختلاف ہے۔ انکی تصانیف سے یوں لگتا ہے کہ وہ ایک عام آدمی کے لئے تو اسی لزوم مذہب معینہ کے ہی قائل ہیں لیکن مجتہدین اور آئمہ کے لئے اسے ضروری نہیں سمجھتے۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ شاہ صاحب کے نزدیک اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہوا تھا۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں 
اور علماء کو درست ہے کہ ہمارے آئمہ میں سے ایک کا قول کسی مصلحت وقت پر عمل کرنے کی وجہ سے اختیار کریں۔
اسی طرح انہوں نے اسی کتاب کے آخیر میں لکھا ہے  کہ
یعنی اگر انسان کسی مجتہد کے، جس کا اجتہاد جائز ہو۔ ایسے قول کی جستجو کرے جو اسکے نفس پہ سہل ہو تو ہم کو نہیں معلوم کہ شرع  نے اس عمل پر اسکی برائ کی ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور تھا کہ جو باتیں آپکی امت پر سہولت ہوں انہی کو دوست رکھتے تھے۔

وہ تقلید کو حد سے زیادہ بڑھانے کے بھی مخالف تھے۔ اور تقلید کی ایک قسم کو تو انہوں نے حرام لکھا جس میں دانستہ یا غیر دانستہ مقلد صریح احادیث پر بھی مفتیوں اور فقیہوں کے اقوال کو ترجیح دیتے ہیں
لکھتے ہیں،
اور تقلید حرام کی صورت یہ ہے کہ کسی فقیہ کو گمان کرے کہ وہ علم میں نہایت کو پہنچ گیا ہے۔ ہو نہیں سکتا کہ وہ خطا کرے تو ایسے مقلد کو جب کوئ حدیث صحیح  اور صریح پہنچتی ہے کہ مخالف اس فقیہ کے قول کے ہو تو اسکے قول کو نہیں چھوڑتا۔

نوٹ؛ شاہ ولی اللہ پہ یہ تحریر جاری ہے۔

حوالہ جات؛
حریت فکر کے مجاہد، مصنف وارث میر، جنگ پبلشرز
اردو ادب کی تحریکیں، مصنف ڈاکٹر انور سدید، انجمن ترقی اردو پاکستان
رود کوثر، مصنف شیخ محمد اکرام، ادارہ ء ثقافت اسلامیہ۔
شاہ ولی اللہ، ایک تعارف

Tuesday, May 4, 2010

کون سے بانی ء پاکستان

اردشیر کاوسجی جی شاید اس وقت پاکستان کے معمرترین کالم نگار ہونگے۔ انیس سو چوبیس میں پیدا ہونے والے اس بزرگ کالم نگار کو قائد اعظم کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا کہ انکے خاندان کے ان سے دوستانہ مراسم تھے۔ انکا ایک حالیہ مضمون پڑھنے کے لئے حاضر ہے۔  صاف پڑھنے کے لئے اس مضمون پہ کلک کیجئیے۔ یا اس لنک پہ جائیے۔



ar

Monday, May 3, 2010

وہ، میں اور مئ

یہی وہ دن تھے جب اک دوسرے کو پایا تھا
ہماری سالگرہ ٹھیک اب کے ماہ میں ہے
فی الحال میں اپنے بلاگ کی سالگرہ کی بات نہیں کر رہی۔ یہ مہینہ میری زندگی میں ایک اہم تبدیلی کا باعث بنا۔ وہی تبدیلی جس کے لئے اکثر لوگ اپنی ہتھیلی پھیلا کر دست شناس کے آگے کر دیتے ہیں کہ نام کا پہلا حرف بتادیں اور یہ کہ خاندان میں ہوگی یا خاندان سے باہر۔ یا یہ گاتے پھرتے ہیں کہ زندگی اپنی گذر جائے گی آرام کے ساتھ اب میرا نام بھی آئے گا تیرے نام کے ساتھ۔ یہ تو بعد میں عقدہ کھلتا ہے کہ صرف ناموں کا ساتھ رکھنا ہی بات نہیں بلکہ مقامات جد وجہد اسکے علاوہ ہیں۔
 میرے شوہر اور میری پہلی ملاقات، جیسا کہ کراچی میں طریقہ رائج الوقت ہے ایک ڈرائنگ روم میں ہوئ۔ لیکن حالات ایسے نہ تھے کہ چپ چپ کھڑے ہو ضرور کوئ بات ہے، پہلی ملاقات ہے یہ پہلی ملاقات ہے۔ اسکی ایک بنیادی وجہ یہ بھی تھی کہ میں سمجھی تھی کہ لڑکا ساتھ میں نہیں آیا اور یہ باقی خاندان والے ہیں۔ اس ملاقات کے آخر میں جب انکا مجھ سے تفصیلی تعارف کرایا گیا تب مجھے اندازہ ہوا کہ ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔
خیر، شادی سے پہلے ہماری خاصی ساری ملاقاتیں گھر کے اندر ہوئیں۔ اسکا مقصد میری طرف سے قطعاً یہ نہیں تھا کہ میں انہیں مزید جان لوں، کیونکہ اس سال فروری میں، میں نے خدا کو گواہ بنا کر عالم طیش میں کہا کہ اب جو بھی پہلا پروپوزل آئیگا میں اسے بغیر چھانے پھٹکے اور سوچے سمجھے ہاں کر دونگی چاہے وہ کوئ بھی ہو۔ اب خدا سے کئے اس وعدے کی لاج بھی تو رکھنی تھی۔ میرے اس جملے کی آزمائش صرف پچیس دن بعد ہی  فہوالمطلوب ہو گئ۔ اور میں نے اس پہ ثابت قدمی دکھائ اور آج تک دکھا رہی ہوں۔
:)
اسکی وجہ نجومی یہ بتاتے ہیں کہ قائد اعظم، سوہنی اور میرا برج ایک ہے اور اسکی بنیادی خاصیت ہے مستقل مزاجی۔ اماں کا خیال ہے کہ انکی اعلی تربیت ہے، احباب کا خیال ہے کہ شکر خورے کو خدا شکر دیتا ہے، کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ میری قسمت اچھی ہے  اور میں سمجھتی ہوں کہ میں خود کافی اچھی ہوں لیکن----------- اچھوں کے ساتھ۔
تو بات یہ بنی کہ
چاہئیے اچھوں کا جتنا چاہئیے
وہ اگر چاہِیں تو پھر کیا چاہئیے
قسمت کی خوبی دیکھئیے کہ در محبوب پہ مجھ سے پہلے رقیب نے دستک دی۔ اور میری رقیب صاحبہ میری قانونی آمد سے پہلے ہماری زندگی میں گھس آئیں۔ بقول ہماری بزرگ پڑوسن کے انہوں نے تو اپنی گاڑی سے نکاح کیا ہوا ہے۔  تو میری یہ رقیب ایک رینج روور ہے۔ انہیں اگر خوش کرنا ہو تو گاڑی کی شان میں ایک تعریفی جملہ کہہ دیں۔ اگر وقت اور معاشیات کا اندازہ لگائیں تو رقیب کو مجھ پہ ایک واضح برتری حاصل ہے۔ لیکن ایسے موقعوں پہ میں ایکدم اسی طرح رہتی ہوں جیسے صوفی راہ سلوک کی منازل پہ۔ حتی کہ کسی کو یہ اندازہ لگانے میں مشکل نہیں ہونی چاہئیے کہ میرا تعلق ملامتی فرقے سے ہے۔
یہ بات تو شادی سے پہلے میرے علم میں لائ جاچکی تھی کہ محترم  لینکس اور غالب کی شان میں ہتک برداشت نہیں کرتے۔ آج بھی کمپیوٹر کی فیلڈ میں ہونے والے میرے تمام مصائب کا سہرا ونڈوز کے سر بندھتا ہے اور اسے برا بھلا کہے بغیر میرے کسی بھِی ٹیکنیکل مسئلے کو شرف باریابی عطا نہیں ہوتا۔ 
 اس مہینے کی اہمیت میں میرے شریک حیات کی شخصی خوبیوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ جو شخص اپنے گھر کے گیٹ پہ گاڑی کے لئے ہارن بجانے کے بجائے خود گیٹ کھولنے کو ترجیح دے تاکہ محلے والے ڈسٹرب نہ ہوں۔ان سے میری شکائیتیں ایسی ہی ہوتی ہیں کہ کپڑے بستر پہ کیوں چھوڑ دئیے۔
خاصے عقلمند ہیں اور شادی کے فوراً بعد میری تربیت میں ڈرائیونگ کو مرکز نگاہ رکھا۔ اپنی جان چھڑائ اور واہ واہ بھی ہو گئ کہ بیگم کو خود انحصاری کی منزل پہ پہنچا دیا ہے۔ حالانکہ اس میں میری دور اندیشی بھی شامل تھی۔ میں نے  ان حالات سے خاصہ سبق سیکھا جب میں شاپنگ کے لئے دوکان کے اندر بیٹھی ہوتی تھی اور میاں صاحب موبائل فون پہ دوکان کے باہر ٹہل ٹہل کر گفتگو فرما رہے ہوتے تھے۔ تو شوہر صاحب کی ان اداءووں کا خوف نکالنے کے لئے دل سے کراچی کی سڑکوں کا خوف نکالا۔ اور نتیجے میں  اب میں دن ہو یا رات اپنے کسی بھی کام کے سلسلے میں انکی محتاج نہیں۔ ڈرائیونگ آنا، خواتین کے لئے ایک نعمت ہے۔ لیکن یہ یاد رکھیں کہ کبھی اپنے شوہر صاحب سے ڈرائیونگ سیکھنے کی حماقت نہ کریں۔
روشن خیال ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میری مستقل مزاجی کا دعوی دھرا کا دھرا رہ جاتا۔ میں نے اپنی پی ایچ ڈی اپنی شادی کے بعد مکمل کی اور اس سلسلے میں مجھے انکا تعاون ہمیشہ حاصل رہا۔ ورنہ یہ تو آپکو اندازہ ہوگا کہ جبری تعاون حاصل کرنا بھی کوئ مشکل کام نہیں، بس یہ کہ دلوں میں بال پڑ جاتے ہیں۔  
اسی وجہ سے مجھے شادی سے پہلے کے دوستوں کی شادی کے بعد چھانٹی نہیں کرنی پڑی اور نہ ہی کسی کی چھٹی۔ نہ ہی پچھلے کسی واقعے کے منہ سے نکل جانے پہ سنسر لگانا پڑا۔
البتہ ایسا ہے کہ پہلے میں راستے کے چھوٹے ہونے کا مطلب یہ لیتی تھی کہ وہ فاصلے میں چھوٹا ہو۔ لیکن جب اپنے میاں موصوف کو کسی جگہ جانے کے آڑے ترچھے راست اختیار کرتے دیکھتی تو ایک دن ان سے پوچھ لیا کہ اس میں کیا اسرار ہے جواب ملا کہ اس راستے میں سگنل کم آتے ہیں اور ٹریفک اتنا نہیں ہوتا۔ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ ایک سگنل بھی کم آتا ہو یا دو گاڑیاں بھی کم ملیں تو وہ اسی راستے کو اختیار کرتے ہیں۔
اگر ہم دونوں کو کہیں ساتھ جانا ہو تو وقت کی خاصی اہمیت ہوتی ہے۔ اور گفتگو کچھ اس طرح ہوگی۔ سوال، کتنے بجے نکلیں گے، جواب سوا نو بجے۔ سوال، یہ ساڑھے نو بجے نہیں ہو سکتا۔ اس وقت فلاں سگنل پہ رش ہوگا اس میں اتنے منٹ خرچ ہو جائیں گے۔ یا یہ کہ مجھے یہ ایک کام کرنا ہے اس میں اتنے منٹ اتنے سیکنڈز لگ جائیں گے۔ جواب، اچھا تو پھر نو بج کر سترہ منٹ کر لیں۔ سوال، مگر ساڑھے نو بجے میں کیا برائ ہے۔ جواب، نو بج کر سترہ منٹ بیس سیکنڈ، بس اسکے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ نکلتے ہم پونے دس بجے ہیں ، کیونکہ عین وقت پہ بیٹی صاحبہ کو یاد آتا ہے کہ واش روم جانا ہے۔
ہمارے درمیان جھڑپوں کا باعث منٹوں اور سیکنڈز کے پیچیدہ حساب کتاب کے علاوہ جارج بش کی فارن پالیسی پہ ہم دونوں کا اختلاف، انکی شرٹس جو کہ باریک سوراخ ہونے کے بعد زیادہ قیمتی ہوجاتی ہیں ان میں میرا انگلی ڈال کر مزید بڑا کرنے کی ناکام کوشش کرنا، اور اسی طرح کے مزید نکات ہیں۔
تجربے سے میں نے یہ سیکھا ہے کہ شوہر صاحب کے جن کپڑوں سے آپ عاجز ہیں، انکے ڈسٹر بنا لیں یا خاموشی سے انکی چھٹی کر دیں۔ بہشتی زیور کی خواتین کی طرح اجازت لینے کے چکر میں مت پڑ جائیے گا ورنہ جواب ملے گا صرف شرٹس کے پیچھے کیوں پڑی رہتی ہیں اور بھی چیزیں ہیں جن سے زندگی میں تبدیلی آ سکتی ہے خاصی نمایاں۔ اور ہاں یہاں میں اپنی پیاری بہنوں سے گذارش کرونگی کہ خدا کے لئے شادی سے پہلے بہشتی زیور مت پڑھئیے گا۔
اگرمیں موڈ میں ہوں تو کوئ بھی قصہ سناءووں ، بڑی توجہ سے سنتے ہیں اور اسکے ختم ہونے کے بعد اپنے کمپیوٹر پہ سے ایک منٹ کے بعد نظر اٹھا کر انتہائ ذمہ داری سےفرمائیں گے ہاں توکیا کہہ رہی تھیں آپ؟  ہماری اماءووں کے زمانے میں اخبار اور ٹی وی شہروں کو مصروف رکتے تھے اور آج کے شوہر حضرات کمپیوٹرمیں گم رہتے ہیں۔   چونکہ میں ایک تابعدار بیوی نہیں ہوں۔ اگر جواباً میں اسی روئیے کا مظاہرہ کروں تو کہہ دیا جاتا ہے کہ کس دنیا میں رہتیں ہیں آپ۔ اب میں اپنی بات بالکل نہیں دہرا رہا۔ اپنے اوپر میرے حملوں کے جوابات انتہائ حاضر دماغی سے دیتے ہیں اور اگر ذرا بھی شکست کاشبہ ہو تو زیر لب مسکراہٹ سے کام چلائیں گے مگرکچھ بول کر نہیں دیں گے۔
جیسا کہ کچھ دانشواران نے لکھا ہے کہ ایک اچھے شوہر کو شادی کی سالگرہ اور بیوی کی سالگرہ کا دن نہیں بھولنا چاہئیے تو اس طرح وہ ایک بے حد اچھے شوہر ثابت ہوتے ہیں۔
باقی یہ کہ پہننے والے کو پتہ ہوتا  ہے کہ جوتا کہاں سے کاٹ رہا ہے ۔
اب یہاں سے ان خواتین کی دل پشوری کا حصہ شروع ہوتا ہے جو یہ پرچار کرتی ہیں کہ اچھی عورتیں وہی ہوتی ہیں جو اپنے مرد سے چار قدم پیچھے چلتی ہوں۔ یہاں میرا قصور نہیں ہے۔ میں بھی انہی اچھی عورتوں میں شامل ہونا چاہتی ہوں مگر یہ ہیں کہ شامل نہیں ہونے دیتے، ہمیشہ اپنے ساتھ لے لیتے ہیں اور آگے ہو جاءووں تو بڑا خوش ہوتے ہیں۔ کچھ خواتین اس بات پہ آہ بھرتی ہیں کہ ہماری اماں تو اپنے شوہر کا نام نہیں لیتیں۔ لیکن تف ہے ان آجکل کی عورتوں پہ، معاشرے سے اخلاقیات اور ادب احترام کا دیوالیہ ہی نکال دیا۔ میری بیٹی کی آمد تک مجھے انکو کسی طرح تو بلانا ہی تھا کہ ہم زنان خانے مردان خانے میں نہیں بلکہ ایک ہی گھر میں، ایک ہی کمرے میں رہتے تھے اس لئے آسانی اختیار کرتے ہوئے میں نے انہیں انکے نام سے بلانا شروع کر دیا۔ بیٹی صاحبہ کی آمد تک نام لینے کی ایسی بری عادت پڑ گئ تھی کہ جیسی منہ لگی کافر کی لت لگ جائے۔ یوں ارے سنئے مشعل کے ابا کی جگہ انکا نام آگیا۔ سو  میں بھی ان خواتین میں شامل ہوں جو معاشرتی اقدار اور روایات اور ادب و احترام کے خاتمے کو شہہ دینے والے ہیں۔
اب میں اس پوسٹ کے ساتھ اپنے تمام شادی شدہ بلاگر ساتھیوں کو ٹیگ کرتی ہوں کہ وہ ایک پوسٹ اپنی یا اپنے شریک حیات کے نام کریں۔

بشکریہ محمد ریاض شاہد، انکی ایک پوسٹ میں اس طرف توجہ دلائ گئ۔