Wednesday, February 10, 2010

دہشت گردی بمقابلہ دانشوری

اگرچہ مشتاق احمد یوسفی کے دوست عبد القدوس کی طرح میں بھی جھیل سیف الملوک کی چڑھائیاں کسی ٹٹو کی پیٹھ پہ چڑھ کر طے کرنے کے بجائے پا پیادہ ہی طے کرنا پسند کروں کہ کسی دوسرے کی غلطی کے بجائے اپنی غلطی سے مرنا بدرجہا بہتر ہے ۔  مگر کبھی کبھی اقبال کے فرمودات پہ بھی عمل کرنے کو دل چاہتا ہے۔ یعنی اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل۔ لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے۔
تو ایکدن جبکہ ایک اپائنٹمنٹ پر پہنچنے میں خاصہ کم ٹائم رہ گیا تھا  میں نے  باقی لوگوں سےفارغ بیٹھے ڈرائیور کو مصروف کرنے کے لئیے گاڑی چلانے کی ذمہ داری اسے دیدی۔ وہ حسب معمول تیز لین میں گاڑی اڑا رہے تھے کہ طارق روڈ کے پل پہ پہنچ کر میں نے انہیں یاد دلایا کہ  میں انہیں پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ ہمیں پل پہ ہمیں الٹے ہاتھ پہ مڑنا ہے تو سگنل پہ دو لائنوں کو کاٹ کر نکلنے سے بہتر ہے کہ درمیانی لائن میں چلا جائے یا پھر پہلی لین میں آجایا جائے۔ جیسے ہی جملے کا فل اسٹاپ آیا۔ اس نے زندگی میں پہلی بار تابعداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عین اسی لمحے آگے پیچھے دیکھے بغیر لین تبدیل کی اورساتھ ہی ایک ہلکی سی ٹکر کی آواز آئ۔ گاڑی رکی اور اب وہ آگے والی گاڑی سے ٹکرا کر کچھ ترچھی حالت میں اس طرح کھڑی تھی کہ دو لینز بلاک ہو گئیں۔ ٹکر اتنی ہلکی تھی کہ بظاہر سب ٹھیک لگ رہا تھا۔ اور میں نے سوچا کہ دونوں ڈرائیورکچھ منہ ماری کے بعد چل پڑیں گے۔ لیکن سب ٹھیک نہ تھا۔
آگے والی گاڑی کا دروازہ کھلا اس میں سے ڈرائیور نکلا اور آکر ہمارے ڈرائیور کے پاس کھڑا ہو گیا۔ یہ صاحب پہلے ہی اپنا دروازہ کھول کر خوش آمدید کہنے کے منتظر تھے۔ لیکن یہ کیا ہوا اس ڈرائیور نے گاڑی میں ہاتھ ڈالا اور اگنیشن میں سے چابی نکال  کر قبضے میں کرلی۔ میں نے پیچھے بیٹھے یہ سارا تماشہ دیکھا اور سر پکڑ لیا کہ لاٹھی تو گئ اب بھینس کا کیا ہوگا۔ دونوں ڈرائیورز کے درمیان الزام تراشی جاری تھی۔ لیکن ظاہر سی بات تھی کہ غلطی ہمارے ڈرائیور کی ہی تھی۔ وہ اکثر ایسا ہی کرتا تھا۔ میں نے سوچا اب اسے بھگتنے دو۔
 بات اس نکتے پہ پہنچی کہ پانچ ہزار دینا ہونگے۔ اب یہ صاحب منہ پھاڑے کھڑے تھے کہ کچھ بھی تو نہیں ہوا ہے کس بات کے پانچ ہزار۔  کچھ دنوں پہلے اسے وارننگ دی گئ تھی کہ روڈ پہ بے احتیاطی دکھانے کی صورت میں خرچہ اسکے ذمے ہوگا۔اس موقع پہ آگے والی کار کا دروازہ ایکبار پھر کھلا اور ایک تقریباً ساٹھ پینسٹھ سال کے صاحب تھری پیس سوٹ میں بر آمد ہوئے اور آتے ہی ڈرائیور سے کہنے لگے کہ گاڑی کے کاغذات میرے حوالے کرو ورنہ پانچ ہزار دو۔ اس موقع پہ فلم میں ان خاتون نے  اپنی مداخلت ضروری سمجھتے ہوئے مس بنکاک کی طرح اینٹری دینے کی کوشش کی۔ اور وہ گاڑی سے اتر کر آگے والے ڈرائیور کے پاس پہنچیں اور اسکے ہاتھ میں لٹکی چابی پہ زور لگاتے ہوئے کہا۔' فوراً چابی واپس دو ورنہ'۔ اسکے بعد انہوں نے بغیر سوچے سمجھے کہا 'ورنہ میں قریبی پولیس اسٹیشن پہ جا کر اطلاع کرتی ہوں کہ میری گاڑی چوری کر رہے تھے تم'۔ ڈرائیور اور ان صاحب نے غضبناک ہو کر ان بالشت بھر کی خاتون کو دیکھا۔ 'ہاں چلیں کہاں جانا ہے۔ اب تو بات دس ہزار تک جائیے گی'۔ اپنے تئیں انہوں نے انکو مزید خوفزدہ کربے کی کوشش کی۔ یا اللہ، کیا مصیبت ہے۔ کیسے اس سے جان چھٹے گی۔ پل پر اور اسکے پیچھے تک ٹریفک جام ہوچکا تھا۔ اور مسئلہ حل ہونے کی کوئ صورت نظر نہ آرہی تھی کہ خاتون کے پاس ایک بائک آکر رکی۔ اس پر سے ایک چوبیس پچیس سالہ  مضبوط جثّے  اور درمیانے قد کے شخص نے چھلانگ لگائ۔ اور قریب پہنچتے ہی ڈرائیور کو چیخ کرحکم دیا کہ چابی ان خاتون کو دو۔ اتنی دیر سے تم سے کہہ رہی ہیں۔ سنتے نہیں ہو تم کیا۔ اتنی دیر سے سارا ٹریفک روک رکھا ہے۔ اسکا تحکمانہ انداز دیکھ کر وہ ابھی شش وپنج ہی میں تھا کہ اس نے ایک تھپڑ اسکو رسید کیا۔ اگلے ہی لمحے چابی میرے ہاتھ میں تھی۔ دوسرا تھپڑ پڑا تو ڈرائیور گاڑی کے اندر۔ سوٹ میں ملبوس صاحب ہکلائے 'یہ کیا ہو رہا اس گاڑی نے میری گاڑی کو ٹکر ماری تھی'۔ 'کچھ نہیں ہوا انکل، اب جا کر اپنی گاڑی میں بیٹھیں۔ آپکی گاڑی بالکل صحیح ہے۔ روڈ پہ ایسا ہوتا ہی رہتا ہے '۔ وہ گھگھیائے ہوئے اپنی گاڑی میں جا بیٹھے۔ میرا ڈرائیور اپنی جگہ سنبھال چکا تھا۔ اس غیبی مددگار نے مجھے دیکھا، مسکراتی آنکھوں سے آگے چلنے کا اشارہ کیا اور یہ جا وہ جا۔
کیا  دہشت گردی کو دانشوری نہیں، دہشت گردی ہی شکست دے سکتی ہے؟

Tuesday, February 9, 2010

نئے افکار کا حصول اور انکی ترویج-۳

اخوان الصفاء نے اپنے فرقے میں شامل لوگوں کو اس بات کا پابند کیا کہ انکی خاص مجالس ہوں۔ اوقات معینہ پہ ہونے والی ان مجالس میں کوئ اجنبی شرکت نہ کرے۔ اس میں وہ اپنے علوم پہ بحث کریں اور انکے اسرار پہ گفتگو ہو۔انکی بحث کے موضوعات علم نفس، حس محسوس، عقل معقول کے علاوہ کتب الہٰیہ، تنزیلات نبویہ کے اسرار اور مسائل شریعت کے معنی نیز ریاضی، عدد ہندسہ، نجوم، تالیف ہوا کرتے تھے۔
اپنے پیروکاروں کے لئیے انکا کہنا تھا کہ کسی علم سے نفرت نہ کریں، کسی کتاب کا مطالعہ ترک نہ کریں اور نہ کسی مذہب سے تعصب برتیں۔ کیونکہ اخوان الصفاء کا مذہب تمام مذاہب پہ حاوی ہے۔
انکا کہنا تھا کہ اس فریبی دنیا میں بعض لوگ ایسے ہیں جو علماء کا جامہ پہن کر اہل دین کا دھوکا دیتے ہیں وہ نہ فلسفے سے واقف ہوتے ہیں اور نہ شریعت کی انکو تحقیق ہوتی ہے۔ آگے ان لوگوں کی مزید خصوصیات بیان کرتے ہوئے جو کہ اس مضمون کو طویل کر دیں گی وہ کہتے ہیں ان لوگوں سے احتراز کیا جائے۔ انکا کہنا تھا کہ فرسودہ بوڑھوں کی اصلاح میں کوشاں نہ ہوں۔ یہ لوگ بچوں جیسے فاسد  اور ردی خیالات رکھتے ہیں اور تمہیں پریشان کریں گے۔ اور اپنی حالت کی اصلاح بھی نہ کریں گے۔  نصیحت سلیم الطبع نوجونوں کے لئے ہے۔ اللہ نے ہر نبی کو نوجوانی میں نبوت عطا فرمائ اور اپنے ہر بندے کو اس وقت حکمت دی جب وہ عالم شباب میں تھا۔
اخوان الصفاء نے اپنے پیروکاروں کے عمر کے حساب سےچار درجے متعین کئیے۔
اہل صنعت؛ انکی عمر پندرہ سال کے قریب، یہ پہلے مرتبے کے لوگ ہیں  جنکی خصوصیات، نفس کی صفائ، حسن قبول، اور سرعت تصور ہے۔ انہیں 'ابرار'کہا جاتا تھا۔
اہل سیاست؛ انکی خصوصیات بھائیوں کی مراعات، سخاوت نفس، شفقت، رحم ہیں۔ یہ خصوصیات تیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہیں۔ اس مرتبے کے لوگوں کو 'اخیار اور فضلاء' کہا جاتا تھا۔
بادشاہ؛ یہ تیسرا مرتبہ تھا جو چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتا تھا اسکا تعلق امر و نہی امداد، دفع عناد اور دشمن سے مقابلے کے وقت اسکی مخالفت کو نرمی، لطف اور مدارت کے ذریعہ دفن کرنے پہ ہے۔ انہیں 'فضلائے اکرام' بھی کہا جاتا تھا۔
نبی اور فلسفی؛ یہ تسلیم اور تائید الہی کو قبول کرنا اور حق تعالی کا اعلانیہ مشاہدہ کرنا ہے۔ چونکہ معراج کا واقعہ لگ بھگ اسی عمر میں ہوا تھا تو یہ پچاس برس کی عمر والوں کو تفویض کیا گیا۔ اسکے ذریعے انسان عالم ملکوت کی جانب پرواز کرتا ہے اور قیامت کے حالات جیسے نشر، حشر، حساب، میزان، صراط، دوزخ اور خدائے تعالی کے قرب کا مشاہدہ کرتا ہے۔ انکو ملائکہ بھی کہا جاتا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ فیثا غورث نے اپنے رسالہ ذہبیہ کے آخر میں اسی طرف اشارہ کیا کہ۔'اگر تو میری ہداہت پہ عمل کرے تو جسد سے علیحدہ ہونے کے بعد ہوا میں باقی رہیگا۔ نہ تو پھر اس دنیا میں لوٹے گا نہ تجھ پہ موت کا حملہ ہو گا'۔
تو جناب میں اخوان الصفاء کے فلسفے کی تفصیل میں جائے بغیر ان کی یہ دلچسپ کہانی یہاں ختم کرتی ہوں۔ لیکن ہم دیکھ سکتے ہیں کہ انسان کی عقلی قوتوں کو کھنگالنے کا کام آ ج سے ہزاروں برس پہلے بھی کیا گیا اور خود مسلمانوں  میں سے بھی کئ گروہ اس طرف تمام تر سختیوں اور پابندیوں کے باوجود متوجہ ہوئے۔ اب ہمیں سرسید کی خدمات کا جائزہ لینے سے پہلے یوروپ کے دور تاریک اور وہاں پیدا ہونے والے رد عمل پہ ضرور نظر ڈالنی چاہئیے کہ یہ ہمارے ایک مبصر کی صائب رائے ہے۔ لیکن اس سے پہلے میں سوچتی ہوں کہ اپنے کچھ قارئین کی دل پشوری کا سامان کروں کہ وہ تھک گئے ہونگے۔ ہم اکیسویں صدی میں رہتے ہیں۔ دنیا آواتار دیکھ رہی ہے اور آپ اخیار کا تذکرہ کر رہی ہیں۔
حوالہ جات؛
کتاب 'تاریخ فلاسفۃ الاسلام'، مصنف محمد لطفی جمعہ۔

Sunday, February 7, 2010

نئے افکار انکا حصول اور انکی ترویج-۲

فلسفہ ، اگر انسانی مشاہدات کو عقل کی کسوٹی پہ پرکھنے کا نام ہے تو سائینس ایک قدم آگے بڑھتی ہے اور اس میں تجربے کو بھی شامل کر دیتی ہے ۔ 
دور عباسی میں فلسفے کو بڑی اہمیت حاصل ہوئ خلیفہ مامون ا لرشید نے فلسفے کی کتابوں کا ترجمہ عربی میں کرایا۔ اطباء نے اس میں بالخصوص دلچسپی لی۔ اس زمانے میں فلسفیوں کو الحاد کا الزام دیا جاتا تھا اور  فلسفہ اس قدر    کفر کے مماثل تھا کہ ابن تیمیہ نے اسکے متعلق لکھا کہ' میں نہیں سمجھتا کہ خدائے تعالی مامون سے غافل رہیگا۔ بلکہ اس نے امت پہ جو مصیبت نازل کی ہے اسکا ضرور اس سے بدلہ لیگا'۔
ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اہل فلسفہ اپنے خیالات کوچھپانے لگے اور یوں کئ خفیہ تنظیمیں وجود میں آئیں۔ ان میں سے ایک اخوان الصفاء ہے۔ جن لوگوں کو جاسوسی کہانیوں سے دلچسپی ہے انہیں یہ ساری حقیقت بھی خاصی دلچسپ لگے گی کہ انکے اجلاس پوشیدہ ہوا کرتے تھےجن میں فلسفے کی مختلف اقسام پہ گفگتگو ہوتی تھی۔ اس میں یونان، فارس اور ہند کے فلسفوں سے واقفیت حاصل کرنے کے بعد انہیں اسلام کی روح میں ڈھالا گیا تھا۔
انکا خیال تھا کہ شریعت اسلامیہ جہالت اور گمراہی سے آلودہ ہو گئ ہے۔ اور اسکی صفائ صرف فلسفے سے ہی ممکن ہے۔ اور جس وقت فلسفہ ء یونان اور شریعت محمدیہ میں امتزاج پیدا ہو جائیگا تو اس وقت کمال حاصل ہوجائے گا۔
  ان تمام خیالات کا مجموعہ باون رسائل کی صورت میں ظاہر ہوا۔ جنکا نام ' رسائل اخوان الصفاء' رکھا گیا۔ البتہ ان فلسفیوں کے نام پوشیدہ رکھے گئے۔
 یہ رسائل اپنے مولفین کی کامل غوروفکر اور انہماک کو ظاہر کرتے ہیں۔ اور ان میں اتنے جدید خیالات بھی پائے جاتے ہیں جنکی اس زمانے میں بڑی شہرت ہے جیسے نشو ونما اور ارتقاء کے نظرئیے۔
 یہ رسائل معتزلہ اور انکی تقلید کرنیوالوں نے بھی استعمال کئیے، بعد ازاں یہ  قرطبہ لیجائے گئے۔
یہ رسائل بمقام لینبرگ ۱۸۸۳ میں طبع ہوئے اور بمبئ میں ۱۸۸۶ اور مصر میں ۱۸۴۹ اور لندن میں ۱۸۶۱ میں طبع ہوئے۔ انکا ہندوستانی زبان میں ترجمہ بھی کیا گیا۔
ان رسائل کی چار بنیادی قسمیں ہیں۔
اول: چودہ رسالے ریاضی کے متعلق
دوئم: سترہ رسالے طبعی جسمانییت سے متعلق
سوم: دس رسالے عقلی نفسیات سے متعلق
چہارم:  گیارہ رسالے احکام الہی سے متعلق
  میں انکی تفصیلات میں جانے سے گریز کرتی ہوں لیکن یہ بتاتی چلوں کہ ان باون رسالوں میں انتہائ تفصیل سے دنیا کے تقریباً ہر موضوع پہ گفتگو کی گئ ہے۔
انہوں نے اپنے علوم کے ماخذ چار قسم کی کتابوں کو قرار دیا۔ ایک تو وہ کتب جو ریاضی اور طبیعیات میں حکماء اور فلاسفہ کی تصنیف کردہ ہیں۔ دوسری وہ جو انبیاء علیہ السلام پہ نازل ہوئیں۔تیسری طبیعیات کی وہ کتابیں جن میں کائنات میں موجود چیزوں کی اشکال اور انکی مختلف قسموں پہ بحث کی جاتی ہے اس مین فلک سے لیکر نباتات، حیوانات اور انسان بھی شامل ہے۔ اور چوتھی وہ کتب الہی جنکو صرف پاکیزہ سرشت ملائکہ ہی چھو سکتے ہیں اور جو بزرگ نیکوکار فرشتوں کے ہاتھ میں ہوتی ہیں۔ اور ان میں انسان کی تقدیر و تدبیر و تحریک  سے لیکر اسکے اعمال تک بحث میں آتے ہیں۔
یہاں تک آتے آتے میں حیران ہوتی ہوں کہ آج سے تقریباً گیارہ سو سال پہلے کسی گروہ نے اتنے نظم وضبط کے ساتھ اتنے نا مصائب حالات میں کیسے کیسےعقلی کارنامے انجام دئیے۔
اخوان الصفاء پہ گفتگو جاری ہے۔

حوالہ؛
کتاب، 'تاریخ فلاسفۃ السلام ' مصنف  محمد لطفی جمعہ۔


Friday, February 5, 2010

نئے افکار کا حصول اور انکی ترویج-۱

مسلمان اکابر فلسفہ کا سلسلہ کندی سے شروع ہوتا ہے اور ابن رشد پہ ختم ہوتا ہے۔ اسلامی تحریک کا دور عروج ابن رشد سے بہت عرصہ پہلے اور عثمانی فتوحات کے فوراً بعد ختم ہو چکا تھا۔ دور زوال یعنی تیرھویں صدی میں ابن خلدون کے بعد یہ پھر نہ اٹھ سکا۔  اگر ان حکماء کا وجود نہ ہوتا تو یوروپ کا کوئ جدید فلسفی عالم وجود میں نہ آسکتا تھا۔  ان علماء  کی کتابوں کے پوروپینز زبان میں ترجمے کئیے گئے اس طرح یوروپینز نے ان افکار کی نشر واشاعت کی اوراپنے اشتیاق سے اس میں مزید اضافہ کیا۔  انکی اس تجارت میں انہیں بے حد نفع ہوا۔
اسلام کے ابتدا ئ دور میں اسلام ایک مدنیت کا نام تھا۔ اور اسی قیاس کی بناء پہ اسرائیلی اور مسیحی فلسفیوں اور دوسرے آزاد خیال مفکرین کو اسلامی تمدن میں پھلنے پھولنے کے مواقع ملے اور عباسی، اموی اور فاطمی خلفاء نے غیر مسلم مصنفین، مفکرین، اور ادیبوں کو اپنا قرب بخشا ۔ انہیں حکومت کے اعلی عہدوں پہ فائز کیا۔اس سلسلے میں کچھ نام لئیے جا سکتے ہیں جیسے سعید بن یعقوب، ہموئیل بن حنفی جو یہودی تھےاور ایک اسرائیلی عالم موسی بن میمون جو میمونید کے نام سے مشہور ہے۔
اسلام کے ابتدائ سوا سو سال عروج کا زمانہ ہے جس میں جمودی فکر ختم ہوا اور لوگوں میں مطالعہ علم اور بحث نظر پیدا ہوا۔ عباسیوں نے اپنے عہد میں علم و ادب کی ترقی کے لئیے بے حد کام کیا۔ اور اس وجہ سے رعایا میں بھی علم سے محبت پیدا ہوئ۔ دور عباسی اس حدیث سے متائثر تھا کہ ایک عالم کے قلم کی سیاہی، مجاہد کے خون سے بہتر ہے۔ انکے عہد میں جو دراصل تین ادوار پہ مشتمل ہے۔  دوسری زبانوں سے مختلف علوم عربی زبان میں منتقل کئیے گئے۔ان خلفاء کے زمرے میں جنہوں نے اجنبی یا داخلی علوم کو یونانی، فارسی، سریانی اور ہندی زبانوں میں سے عربی میں ترجمہ کروایا۔ ایک تو منصور ہے جس نے فلکیات اور طب کی جانب توجہ کی۔ دوسرے ہارون رشید جسکے زمانے میں ریاضیات میں کتاب 'محیطی' کا ترجمہ ہوا۔ پھر مامون نے مختلف علوم بالخصوص فلسفے اور منطق کے ترجمے کا اہتمام کیا۔ اس طرح مختلف ادور میں جن کتابوں کا ترجمہ کیا گیا انکی تعداد سینکڑوں تک پہنچ گئ جن میں سے اکثر یونانی زبان سے منتقل کی گئیں۔ خود ان لوگوں کی تعداد درجنوں تک پہنچتی ہے جنہوں نے ترجمہ کرنے میں حصہ لیا۔
یہ امر واضح ہے کہ مسلمانوں نے اپنے عہد زریں میں تمام مروجہ علوم، فلسفہ، طب، فلکیات، ریاضیات اور اخلاقیات کو عربی میں منتقل کیا اور ہر قوم کا بہترین سرمایہ اپنے قبضے میں کیا۔ان تمام تالیفات، جنکا عربی میں ترجمہ کیا گیا، کی حیثت بیج جیسی تھی۔ ان سے بارآور درخت کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔عباسیوں کے پہلے دور میں ترجمہ کرنیوالوں کی اکثریت غیر مسلم تھی۔ جب ترجمے کا کام مکمل ہو چکا تو مسلمانوں نے اصل کام کی طرف توجہ کی۔  اور اس مرحلے پہ اسلام کے پہلے فلسفی یعقوب کندی کی آمد ہوتی ہے۔ پھر اسکے بعد بہت سے فلاسفہ، حکماء، اطباء،علمائے ریاضیات، فلکیات اور کیمیا نے جنم لیا جنکی شہرت سے تمام عالم گونج اٹھا۔حکمت کا یہ سلسلہ گو کہ گیارہویں صدی تک چلا اور ابن خلدون کو شامل کریں تو تیرہویں صدی تک،  لیکن اسکے اثرات آج بھی موجود ہیں۔

 نوٹ؛ یہ سلسلہ جاری ہے اور اس کے ، اگلے حصے میں، میں سرسید احمد خاں کی اس تحریک کا تذکرہ کرنا چاہونگی جو ہند کے مسلمانوں میں  اجنبی علوم کی ترویج  کا باعث بنی۔

حوالہ؛
اس تحریر میں موجود مواد کتاب تاریخ 'فلاسفۃ الاسلام' سے لیا گیا ہے جسکے مصنف  عرب عالم 'محمد لطیفی جمعہ' ہیں۔اسکا اردو ترجمہ ڈاکٹر میر ولی الدین پروفیسر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن نے کیا ہے۔تحریر میں کچھ حصہ ڈاکٹر انور سدید کی کتاب 'اردو ادب کی تحریکیں' سے بھی لیا گیا ہے۔

  عباسی خلفاء

عباسی اور اموی عہد حکومت

Thursday, February 4, 2010

کراچی میں رینجرز

تازہ ترین احکامات کے مطابق کراچی میں رینجرز کو پولیس کے اختیارات دے دئیے گئے ہیں۔  اس سے قبل انیس سو چھیاسی سے لیکر نوے کی دہائ تک کراچی میں رینجرز کا راج رہا۔ اور انہوں نے اس سونے کی چڑیا سے خوب کمایا۔ اس وقت کراچی کا ہر نوجوان ایم کیو ایم کا غنڈہ تھا۔ جسکے ساتھ رینجرز جو دل چاہے سلوک کرتی تھی۔ حقیقت یہ تھی کہ اس وقت کراچی کے نوجوانوں کو یہ کرنے کی تربیت دی جا رہی تھی۔ اس عرصے میں رینجرز کے اختیارات اتنے زیادہ تھے کہ وہ جسکو چاہتے پکڑ کر لیجاتے۔ اور عام لوگوں کا کہنا یہ تھا کہ پولیس تو ایک دو ہزار میں مک مکا کرتی ہے۔ رینجرز کے پاس جانے کا مطلب بیس پچیس ہزار سے کم نہیں ہوتا۔ 
انہی وقتوں میں مجھے یاد ہے ایک دفعہ ڈبل سواری پہ پابندی ہٹائ گئ تو ٹی وی پہ یہ اعلان سننے کے بعد  میرا ایک انیس بیس سالہ رشتےدارلڑکا موٹر سائیکل پہ اپنے دوست کے ساتھ نکل گیا۔ رینجرز والوں نے اسکا پیچھا کیا، اور پکڑ کر بیچ روڈ پہ اتنا مارا کہ اسکی کلائ کی ہڈی ٹوٹ گئ۔ اور بیہوشی کی حالت میں وہیں پھینک کر آگے روانہ ہوگئے۔ اسکا دوسرا ساتھی موقع سے فرار ہوا اور تب گھر والوں کو اسکی زبانی اطلاع ملی۔
ایسا اگر مقبوضہ کشمیر میں ہوتا تو تمام پاکستانی لیڈران مذمتی بیانات جاری کرتے۔ کیونکہ وہ انکے مسلمان بھائ ہیں۔ قصور ان مسلمان بھائیوں کا یہ تھا کہ رینجرز والوں کو اس حکم کی کاپی نہیں ملی تھی۔ یہ تو ایک معمولی سا قصہ ہے۔ جانے کتنے نوجوانوں کو روندا گیا کہ اب ان جوانوں کو ہتھیار اٹھاتے کوئ افسوس نہیں ہوتا۔ اور اب اس حکم کے بعد مزید کتنوں کی باری آتی ہے۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نے جیو پہ حامد میر کا پروگرام دیکھا۔ جس میں ایم کیو ایم کے حیدر رضوی، پی پی کے نبیل گبول اور اے این پی کے شاہی سید صاحب سے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے بات ہو رہی تھی۔ نبیل گبول صاحب نے اپنے جیالے انداز میں ایک نہایت'کارآمد' تجویز پیش کی کہ کراچی کے سب منتخب ممبرز کو اپنے علاقوں کا ذمہ لینا چاہئیے۔ اور میں لیاری اور ملیر کا ذمہ لیتا ہوں کہ وہاں ایسا نہیں ہوگا۔
میرے ایک جاننے والے کو نبیل گبول صاحب کے علاقے میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بناتے ہوئے بیس دن پہلے مار دیا گیا۔ وہ صاحب اس علاقے سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ دوران سفر انکے علاقے کی مسجد میں نماز پڑھنے چلے گئے مسجد سے نکلے تو چار افراد انہیں پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے اور شام کو ایدھی والوں کا فون آیا کہ آکر لاش پہچان لیں۔ 
پیپلز پارٹی نے اپنے ووٹرز کے حلقوں کو کچھ نہیں دیا سوائے مجرمانہ سرگرمیوں کی پشت پناہی کے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دوسرے لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ ہتھیار ہاتھ میں اٹھائیں۔ اور آج بھی وہ اپنی داداگیری میں مصروف ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے راول پنڈی میں مرنیوالی بے نظیر کا بدلہ کراچی کو جلا کر لیا۔ اس سارے واقعے میں کراچی والوں کا کیا قصور تھا۔ اور کیوں اس وقت پکڑے جانیوالے ملزمان چھوڑ دئیے گئے۔ اس وقت نبیل گبول یا انکی پارٹی نے اپنے علاقے کا ذمہ نہیں لیا تھا۔ یا شاید زرداری صاحب پاکستان کھپے کا نعرہ تخلیق کرنے کے مراحل میں تھے۔
 وہ لوگ جو ایم کیو ایم کے وجود پہ ناک منہ چڑاتے ہوئے اہل کراچی پہ پھٹکاریں بھیجتے ہیں کہ وہ انہیں کیوں سپورٹ کرتے ہیں کیا انہیں اب بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ اپنے ہاتھوں میں ہتھیار کیوں اٹھاتے ہیں۔ 
کل رات کو ساڑھے نو بجے جب میں شہر کی سڑک سے گذر رہی تھی تو اس مصروف ترین سڑک پہ پھیلے ہوئے سناٹے اور اندھیرے کو دیکھتے ہوئے سوچا کہ کیا یہ صحیح ہے کہ جیسے آپکے دوست ہوں آپ بھی ویسے ہی ہوجاتے ہیں یا جیسے آپکے دشمن ہوں ویسا ہی بننا پڑتا ہے۔ کیا اس شہر کے رہنے والوں کو مجبور کر کے اپنا جیسا بنانے کی سازشیں کامیاب ہو رہی ہیں۔ کیا ہمیں بھی اب ہتھیار کی بالادستی کو مان لینا چاہئیے۔
میرے آگے ایک ٹھیلے پہ کینو سنبھالتا ہوا ایک مایوس پٹھان جا رہا تھا ۔ عام دنوں میں وہ شاید رات بارہ بجے تک کھڑا رہتا لیکن اس وقت ایسا ممکن نہیں تھا۔ کچھ پٹھان بھی تو مارے گئے ہیں۔ اسلحے کی سیاست میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ کوئ نہیں بچتا۔  
کراچی میں ہونیوالی ٹارگٹ کلنگ کی عدالتی تفتیش ہونی چاہئیے۔  نہ صرف یہ بلکہ عدالت کو ازخود اس بات کا نوٹس لینا چاہئیے کہ یوم عاشور پہ آگ لگانے والے لوگ کون تھے۔ جبکہ ایک بڑی تعداد عینی شایدین کی یہ کہتی ہے کہ لوٹ مار کرنیوالے لیاری سے تعلق رکھتے تھے۔ رینجرز کو یہ اختیار دینے کا مطلب ایک اور مکروہ تاریخ لکھنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

حوالہ؛