اگرچہ مشتاق احمد یوسفی کے دوست عبد القدوس کی طرح میں بھی جھیل سیف الملوک کی چڑھائیاں کسی ٹٹو کی پیٹھ پہ چڑھ کر طے کرنے کے بجائے پا پیادہ ہی طے کرنا پسند کروں کہ کسی دوسرے کی غلطی کے بجائے اپنی غلطی سے مرنا بدرجہا بہتر ہے ۔ مگر کبھی کبھی اقبال کے فرمودات پہ بھی عمل کرنے کو دل چاہتا ہے۔ یعنی اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل۔ لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے۔
تو ایکدن جبکہ ایک اپائنٹمنٹ پر پہنچنے میں خاصہ کم ٹائم رہ گیا تھا میں نے باقی لوگوں سےفارغ بیٹھے ڈرائیور کو مصروف کرنے کے لئیے گاڑی چلانے کی ذمہ داری اسے دیدی۔ وہ حسب معمول تیز لین میں گاڑی اڑا رہے تھے کہ طارق روڈ کے پل پہ پہنچ کر میں نے انہیں یاد دلایا کہ میں انہیں پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ ہمیں پل پہ ہمیں الٹے ہاتھ پہ مڑنا ہے تو سگنل پہ دو لائنوں کو کاٹ کر نکلنے سے بہتر ہے کہ درمیانی لائن میں چلا جائے یا پھر پہلی لین میں آجایا جائے۔ جیسے ہی جملے کا فل اسٹاپ آیا۔ اس نے زندگی میں پہلی بار تابعداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عین اسی لمحے آگے پیچھے دیکھے بغیر لین تبدیل کی اورساتھ ہی ایک ہلکی سی ٹکر کی آواز آئ۔ گاڑی رکی اور اب وہ آگے والی گاڑی سے ٹکرا کر کچھ ترچھی حالت میں اس طرح کھڑی تھی کہ دو لینز بلاک ہو گئیں۔ ٹکر اتنی ہلکی تھی کہ بظاہر سب ٹھیک لگ رہا تھا۔ اور میں نے سوچا کہ دونوں ڈرائیورکچھ منہ ماری کے بعد چل پڑیں گے۔ لیکن سب ٹھیک نہ تھا۔
آگے والی گاڑی کا دروازہ کھلا اس میں سے ڈرائیور نکلا اور آکر ہمارے ڈرائیور کے پاس کھڑا ہو گیا۔ یہ صاحب پہلے ہی اپنا دروازہ کھول کر خوش آمدید کہنے کے منتظر تھے۔ لیکن یہ کیا ہوا اس ڈرائیور نے گاڑی میں ہاتھ ڈالا اور اگنیشن میں سے چابی نکال کر قبضے میں کرلی۔ میں نے پیچھے بیٹھے یہ سارا تماشہ دیکھا اور سر پکڑ لیا کہ لاٹھی تو گئ اب بھینس کا کیا ہوگا۔ دونوں ڈرائیورز کے درمیان الزام تراشی جاری تھی۔ لیکن ظاہر سی بات تھی کہ غلطی ہمارے ڈرائیور کی ہی تھی۔ وہ اکثر ایسا ہی کرتا تھا۔ میں نے سوچا اب اسے بھگتنے دو۔
بات اس نکتے پہ پہنچی کہ پانچ ہزار دینا ہونگے۔ اب یہ صاحب منہ پھاڑے کھڑے تھے کہ کچھ بھی تو نہیں ہوا ہے کس بات کے پانچ ہزار۔ کچھ دنوں پہلے اسے وارننگ دی گئ تھی کہ روڈ پہ بے احتیاطی دکھانے کی صورت میں خرچہ اسکے ذمے ہوگا۔اس موقع پہ آگے والی کار کا دروازہ ایکبار پھر کھلا اور ایک تقریباً ساٹھ پینسٹھ سال کے صاحب تھری پیس سوٹ میں بر آمد ہوئے اور آتے ہی ڈرائیور سے کہنے لگے کہ گاڑی کے کاغذات میرے حوالے کرو ورنہ پانچ ہزار دو۔ اس موقع پہ فلم میں ان خاتون نے اپنی مداخلت ضروری سمجھتے ہوئے مس بنکاک کی طرح اینٹری دینے کی کوشش کی۔ اور وہ گاڑی سے اتر کر آگے والے ڈرائیور کے پاس پہنچیں اور اسکے ہاتھ میں لٹکی چابی پہ زور لگاتے ہوئے کہا۔' فوراً چابی واپس دو ورنہ'۔ اسکے بعد انہوں نے بغیر سوچے سمجھے کہا 'ورنہ میں قریبی پولیس اسٹیشن پہ جا کر اطلاع کرتی ہوں کہ میری گاڑی چوری کر رہے تھے تم'۔ ڈرائیور اور ان صاحب نے غضبناک ہو کر ان بالشت بھر کی خاتون کو دیکھا۔ 'ہاں چلیں کہاں جانا ہے۔ اب تو بات دس ہزار تک جائیے گی'۔ اپنے تئیں انہوں نے انکو مزید خوفزدہ کربے کی کوشش کی۔ یا اللہ، کیا مصیبت ہے۔ کیسے اس سے جان چھٹے گی۔ پل پر اور اسکے پیچھے تک ٹریفک جام ہوچکا تھا۔ اور مسئلہ حل ہونے کی کوئ صورت نظر نہ آرہی تھی کہ خاتون کے پاس ایک بائک آکر رکی۔ اس پر سے ایک چوبیس پچیس سالہ مضبوط جثّے اور درمیانے قد کے شخص نے چھلانگ لگائ۔ اور قریب پہنچتے ہی ڈرائیور کو چیخ کرحکم دیا کہ چابی ان خاتون کو دو۔ اتنی دیر سے تم سے کہہ رہی ہیں۔ سنتے نہیں ہو تم کیا۔ اتنی دیر سے سارا ٹریفک روک رکھا ہے۔ اسکا تحکمانہ انداز دیکھ کر وہ ابھی شش وپنج ہی میں تھا کہ اس نے ایک تھپڑ اسکو رسید کیا۔ اگلے ہی لمحے چابی میرے ہاتھ میں تھی۔ دوسرا تھپڑ پڑا تو ڈرائیور گاڑی کے اندر۔ سوٹ میں ملبوس صاحب ہکلائے 'یہ کیا ہو رہا اس گاڑی نے میری گاڑی کو ٹکر ماری تھی'۔ 'کچھ نہیں ہوا انکل، اب جا کر اپنی گاڑی میں بیٹھیں۔ آپکی گاڑی بالکل صحیح ہے۔ روڈ پہ ایسا ہوتا ہی رہتا ہے '۔ وہ گھگھیائے ہوئے اپنی گاڑی میں جا بیٹھے۔ میرا ڈرائیور اپنی جگہ سنبھال چکا تھا۔ اس غیبی مددگار نے مجھے دیکھا، مسکراتی آنکھوں سے آگے چلنے کا اشارہ کیا اور یہ جا وہ جا۔
کیا دہشت گردی کو دانشوری نہیں، دہشت گردی ہی شکست دے سکتی ہے؟

