Friday, November 6, 2009

پل دو پل کے شاعر-۲

یہ ہماری ایک نو عمر شاعرہ ہیں انکی ایک شعری کاوش آپ پہلے بھی پڑھ چکے ہیں۔ آج دوسری پر نظر ڈالیں۔

سوچوں میں، گھبراءوں میں، کیسے بات بناءووں
اس نے بھیجا ہے سندیسہ میں ملنے کو آءووں
سیپی کے ہیں رنگ نیارے، موتی کے ہیں مول
کھڑی کنارے سوچ رہی ہوں، کیا کھوءوں کیا پاءووں
تتلی کے ہیں اجلے رنگ، جگنو میں ہے آگ
تتلی کے میں رنگ چراءووں یا برہن کہلاءووں
دریا دریا بہتی ہوں، قطرہ قطرہ رستی ہوں
رستہ رستہ بکھر رہی ہوں کاش اسے مل جاءووں
ہاتھوں میں نہ کنگن میرے، نہ پیروں میں پائل
گجرا نہیں ہے بالوں میں کیسے اسے جگاءووں
من کی آگ کون بجھائے، نیر نہ کوئ آنکھوں میں
اندر اندر سلگے جاءووں اور جوگن کہلاءووں

Tuesday, November 3, 2009

ایک جن سے ملاقات

 خالہ کی شادی کی ہلچل مچی ہوئ تھی۔ شادی میں صرف ایکدن رہ گیا تھا۔ گھر میں عجیب افراتفری تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد کوئ نہ کوئ بات اٹھ کھڑی ہوتی ۔ لیکن میرے ساتھ بالکل عجیب ہی واقعہ پیش آیا۔ میں تیزی سے صحن سے گزر رہی تھی کہ وہاں پہ موجود رات کی رانی میں میرا دوپٹہ جا کر اٹک گیا۔میں نے اسے تھوڑآ سا جھٹکا دیکر نکالنا چاہا مگر وہ کچھ اور پھنس گیا۔ ایک اور کوشش کی مگر دوپٹہ اور زیادہ الجھ گیا۔ اب میں نے جھنجھلاہٹ میں جو اپنا دوپٹہ کھینچا تو اچانک ایک عجیب دو سینگوں والی مخلوق میرے سامنے آکر کھڑی ہوگئ جسکے پیر ندارد۔ اس نے میرا دوپٹہ پکڑا ہوا تھا۔   پہلا خیال میرے ذہن میں آیا کہ میری ملاقات ایک جن سے ہو رہی ہے۔ وہ بھی اپنی خالہ کی شادی سے ایکدن پہلے۔
اب کچھ لوگوں کو اعتراض ہو گا کہ جن تو ہوتے ہی نہیں۔ تو ایسا نہیں ہے جناب۔ ورنہ اس قسم کے شعر کیوں کہے جاتے کہ جن پہ تکیہ تھا اور پتے ہوا دینے لگے۔ پھر اس قسم کی نشانیاں کیوں بتائی جاتیں کہ جن کے ہونٹوں پہ ہنسی پاءووں میں چھالے ہونگے۔ اور وہ خود یہ نہ کہتے کہ ہم وہ جنوں جولاں گداے بے سروپا ہیں۔ یہ سب ثبوت ہے اس بات کا کہ جن ہوتے ہیں۔
اچھا قصہ آگے بڑھاتے ہیں۔ میں نے آنجناب جن سے  کانپتی ہوئ آواز میں کہا کہ میرا دوپٹہ چھوڑ دیں ۔ اس نے ایک قہقہہ لگایا ۔ ہاہا، خاخا خوں۔ اب میں اور دہل گئ۔ میرا دووووپ پ پ پ ٹ ٹ ٹ ٹ آآآ۔ میں تمہیں لینےآیا ہوں۔ میں تمہیں لے جاءوونگا۔ میں تمہیں لینے آیا ہوں۔ کیا، میری خالہ کی شادی ہے کل۔ تم ایسا نہیں کر سکتے۔ میں تمہیں لے جاءونگا۔ میں جو کہتا ہوں وہ کرتا ہوں۔ ہاہا، خاخا، خو ں ں ں خ خ۔
اب مجھے دل ہی دل میں صدمہ ہو گیا۔ ایک ایسے وقت میں جب سب شادی کی تیاریوں میں ایکدم غرق ہیں میری اس کمبخت جن سے کیوں ملاقات ہو گئ۔  ساتھ ہی اس بات پہ حیرت تھی کہ کسی اور کو کیوں نہیں پتہ چل رہا کہ ایک جن میرے لئے مصیبت بنا ہوا ہے۔ تم بد تمیز جن، تم یہاں سے چلے جاءو۔ میں نے زور سے چیخنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ لیکن میری آوز جیسے ایک کنوئیں سے آ رہی تھی۔ ۔  میں جا رہا ہوں لیکن چوبیس گھنٹے میں واپس آءوونگا۔ اور پھر وہ کرونگا جو میں نے کہاہے۔۔ میں تمہیں لے جاءوونگا۔ہاہاہا، خاخا خاخا، خوں خاااااار۔یہ کہہ کر وہ دھوئیں میں تحلیل ہو گیا۔
میں جنوں پہ یقین نہیں رکھتی تھی اور جب اپنے پسندیدہ شاعر کے اس قسم کے شعر پڑھتی کہ
میں نے جنوں پہ لڑکپن میں اسد
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
تو مجھے اس نکتے پہ نہ صرف ان سے خاصہ اختلاف ہوتا بلکہ افسوس بھی۔
 اچھا اب آگے کی سنئیے۔ میں خوف اور سکتے کے عالم میں جیسے برف ہو گئ تھی۔ اور پھر برف جیسے پگھلنا شروع ہوئ۔ تو سب سے پہلے آنکھوں کی پگھلی۔ میں نے آنکھیں کھولیں۔ چھت پہ پنکھا گھوم رہا تھا۔  اسکی سررر کی آواز گونج رہی تھی لیکن اس جن کے قہقہے اسکی آواز پہ بھاری تھے اور ابھی تک میری سماعت پہ ہتھوڑے کی طرح برس رہے تھے۔ میں نے ہاتھ پھیرا میں فرش پہ بچھی چاندنی پر موجود تھی۔ یہ جناتی قہقہے کیوں ختم نہیں ہو رہے۔ میں نےگردن گھمائ۔ امی کی پھوپی جان میرے کندھے سے سر جوڑے میری طرف سر کئیےسو رہی تھیں۔ اور انکے خراٹوں کی آواز سے ہر چیز لرز رہی تھی۔ خاخاخوںخررر۔




Sunday, November 1, 2009

کچھ اور سیکولر لوگ اسلام پسندوں کے لئیے

آج جنگ اخبار پڑھ رہی تھی تو جناب ہارون رشید کے کالم پہ بھی گذر ہوا ابھی کچھ عرصے پہلے بھی ایک اردو بلاگ پہ کسی تبصرہ نگار کے طفیل انکا ایک اور کالم دیکھا تھا اور انکے چند ایک نکات سے اختلاف کرتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ایسی تحریروں کو اس وقت کتنی زیادہ ضرورت ہے۔ انکی شخصیت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ طعنہ بھی کسی کو دینے کی جراءت نہیں ہو سکتی کہ ہونہہ یہ سیکولر اور روشن خیال لوگ ایسا کہتے ہیں۔ آئیے، انکی یہ تحریرآپ سب کی نذر۔ امید ہے آپ میں سے جو لوگ اخبار پڑھنے کی لت میں مبتلا ہونگے وہ اس پہ سے گذر چکے ہونگے۔ لیکن ایک دفعہ پھر سہی۔ انکے ساتھ پڑھئیےجنہیں دوسروں کے ساتھ پڑھنے کی عادت ہے۔



 نوٹ؛
اس مضمون کے چھوٹا نظر آنے کی صورت میں اس پہ کلک کجئیے۔


اس تمام مضمون میں انہوں نے امریکہ  کی واپسی کا تذکرہ کیا ہے۔ یقیناً امریکہ کو واپس جانا ہے۔ لیکن اس صورت میں پاکستان کو طالبان کے جن کو قابو میں کرنے کی منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ چاہے وہ تحریک طالبان ہو ں یا افغانی طالبان۔ ہم سب کو یقیناً اس بات پہ سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ اس ریاست کو جسکے مکین ہم سب ہیں کسطرح یہاں کے رہنے والوں کے لئیے ایک فلاحی مملکت میں بدلنا ہوگا ۔ جہاں حریت فکر موجود ہو۔

Tuesday, October 27, 2009

ایک بغیر سوچی سمجھی سازش

اگرچہ سازش کو میں  ہمیشہ کچھ ایسے اقوال و افعال کا مجموعہ سمجھتی رہی ہوں جسے انتہائ تفکر اور سوچ بچار کے بعد ترتیب دیا جاتا ہے۔ لیکن بہر حال کچھ لوگ اسکے ساتھ سوچی سمجھی کا لاحقہ استعمال کر نا چاہتے ہیں۔ ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے جم جم کریں، ویسے بھی ہمارے ماحول کی تربیت نے ایک چیز ہم میں پیدا کرنے کی کوشش کی اور وہ یہ کہ چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی۔ اس میں آسانی یہ ہوتی ہے کہ خود کچھ نہیں کرنا پڑتا۔ جو کچھ کرتی ہے ہوا کرتی ہے۔ اب اگر کچھ غلط بھی ہو جائے تو قصور ہوا کا ہی ہو سکتا ہے ہمارا نہیں۔ اور اگر موسم حبس کا ہو اور ہوا کا دور دور تک نشان نہ ہو تو ہمارے اس طرح بے دست وپا ہونے میں یقینا کسی کی سازش اور وہ بھی سوچی سمجھی سازش ہی شامل ہوسکتی ہے۔
اگرچہ کہ یہ نہیں معلوم کہ سوچی سمجھی سازش کی علامات کیا ہوتی ہیں اور اسے کیسے پکڑا جاتا ہے لیکن ہم اپنی فطری ذہانت سے اسکا پتہ چلا لیتے ہیں۔ قدرت نے ہمیں ایسے جواہر سے بغیر کسی جانبداری کےمالا مال کیا ہے اورایسے دیدہ وروں کے لئیے ہماری زمیں بہت زرخیز ہے۔   خدا جانے علامہ نے یہ شعر کس ترنگ میں کہا کہ
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
ہمارے یہاں بہت کم لوگ ہی ایسے ہیں جنہیں قدرت نے دیدہ ور پیدا نہیں کیا۔ اور خیال ہے کہ ایسا صرف نرگس کے ساتھ ہی ہوا ہوگا۔ ہزاروں سال سے لگتا ہے کہ نرگس کوئ انسان نہیں جناتی مخلوق ہے۔ معلوم نہیں کہ حضرت علامہ کو جنات پہ کوئ دسترس حاصل تھی یا نہیں۔ یا کسی سوچی سمجھی سازش کے نتیجے میں انکی زندگی کا یہ باب اوجھل کر دیا گیا ہے۔
آخیر میں مجھے ایک خیال آتا ہے کہ جہاں ہم حالات حاضرہ کی الجھی لٹوں میں سے اتنے تواتر سے سازشی جوءوں کو نکالتے رہتے ہیں وہاں تاریخ کی سر کی کھجلی کو بھی کم کرنے کا بندو بست کیوں نہیں کرتے۔ مثلا میں سوچ رہی تھی کہ اس میں تو کوئ سوچی سمجھی سازش شامل نہیں کہ پاکستان کا قیام قائد اعظم جیسے بے عمل سیکولر مسلمان کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ آخر یہ کس کی سازش تھی۔





قائد اعظم کی یہ یادگار تصویر کسی سوچی سمجھی سازش کا حصہ تو نہیں۔


حلفنامہ
میں یہ حلف دیتی ہوں کہ میری یہ تحریر بغیر سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔ اور کسی دیدہ ور کی دیدہ وری کے بغیر شائع کی جا رہی ہے۔


Monday, October 26, 2009

ملازمتی انٹرویو کی تیاری ضروری ہے

ہاں تو جناب ہم بات کر رہے تھے جاب انٹرویوکی تیاری کی اور بیچ میں سلسلہ رک گیا تو لوٹتے ہیں اپنے اس موضوع کی طرف۔ شیکسپیئر نے کہا تھا کہ دنیا ایک اسٹیج ہے اور ہر شخص اپنا کردار ادا کر کے چلا جاتا ہے۔ انٹرویو بھی ایک ایسا ہی اسٹیج ہےدیکھتے ہیں کہ یہاں آپ اپنا کردار کیسے نبھاتے ہیں۔
 بہتر تو یہ ہے کہ انٹرویو میں پوچھے جانیوالے ممکنہ سوالات کے جوابات سوچ کر کسی دوست یا بہن بھائ کے ساتھ بیٹھ کر پریکٹس کر لیں یعنی ریہرسل کر لیجئیے۔ اگر کوئ نہ ملے تو آئینے کی خدمات حاصل کر لیں یا پھر ٹیپ ریکارڈر میں ریکارڈ کر کے سنیں۔
سب سے پہلے تو یہ کہ انٹرویو کال ملنے کے بعد متعلقہ کمپنی یا جگہ جہاں آپ نے درخواست دی تھی اسکے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کر لیں۔ آج کی نیٹ کی دنیا میں ایسا کرنے میں آپکو کوئ پریشانی نہ ہوگی۔ وہ لوگ جنہیں یہ سہولت میسر نہیں وہ اپنے جاننے والوں اور دیگر ذرائع کو استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ انٹرویو لینے والے اشخاص کے بارے میں جان سکیں تو اور بھی اچھا ہے۔ اس جگہ کی تاریخ، انکی پروڈکٹس، انکے کام کرنے کا طریقہ ءکار، مستقبل کے لئے انکے پرجیکٹس، انکے حریف، سالانہ ترقی اور انکے ہدف، اسکے علاوہ اس عہدے کی ذمہ داریان اور ضروریات جسے آپ حاصل کرنا چاہ رہے ہیں۔ ان سب کے بارے میں آپکو جتنا زیادہ علم ہو اچھا ہے۔
اگرچہ آپ اپنا ریسیومہ انہیں بھیج چکے ہیں۔ لیکن اس دوران جو بھی اہلیت آپ نے حاصل کی ہے وہ بھی اس میں شامل کر کے اسے اپ ٹو ڈیٹ کر لیں۔ اسے اچھی طرھ دیکھ لیں جو چیزیں آپ نے اس میں شامل کی ہیں انکا دفاع اچھی طرح کر سکتے ہیں یا نہیں۔
انٹرویو کے مقام کے بارے میں اچھی طرح معلوم کر لیں اور وہاں تک پہنچے کا راستہ بھی۔ انکےرابطہ نمبر اپنے پاس رکھیں۔ اس سلسلے میں ٹرانسپورٹ کا بندوبست بھی ذہن میں رکھیں۔
انٹرویو کی بھی مختلف قسمیں ہوتی ہیں اگر یہ ذہن میں رہیں تو اسے ہینڈل کرنے میں آسانی رہے گی۔
ہیومن ریسورس کے ذریعے ہونے والے انٹویوز؛
ان انٹرویوز میں آپکا ایمپلائر عام طور پر موجود نہیں ہوتا بلکہ یہ کسی اور کمپنی کے توسط سے کرائے جاتے ہیں۔ ان انٹرویوز میں آپکی تعلیمی قابلیت،  آئ کیو اور ایموشنل کوشنٹ وغیرہ چیک کرنے کے لئیے تحریری یٹیسٹ بھی ہو سکتے ہیں۔
پینل انٹرویو؛
اس میں کافی سارے ماہرین موجود ہوتے ہیں جو اس کمپنی کے تجربے کار افراد بھی ہو سکتے ہیں اور مختلف میدانوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین بھی۔
اسٹریس انٹرویو؛
ان انٹرویوز میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ آپ اسٹریس میں کسطرح کام کرتے ہیں۔ اسکے لئیے آپ سے ماہرین کا ایک پینل تابڑ توڑ سوالات کرنا شروع کر دیتا ہے جنکے جوابات سے زیادہ اس بات کو دیکھا جاتا ہے کہ آپ کس طرح اپنے آپکو ٹحنڈی سطح پہ رکھتے ہیں۔ بعض اوقات آپ کے جواب پہ ایسا ظاہر کیا جاتا ہے جیسے یہ اتنا صحیح نہیں اور بعض اوقات بہت اوٹ پٹانگ سوالات کئیے جاتے ہیں۔ جیسے اس وقت آپ کتنی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آئے ہیں۔ آپ کہیں گے لعنت ہو میں انٹرویو دینے آیا تھا یا سیڑھیاں گننے۔ یا بوکھلا کر یہ سوچیں گے کہ میں کتنا نالائق ہوں آتے ہوئے سیڑھیاں نہیں گنیں۔ گھبرائیے نہیں انہیں خود بھی نہیں پتہ ہوگا۔

آپکی تعلیمی قابلیت اور آپکے سابقہ تجربے سے متعلق جو چیز ضروری ہے وہ یہ کہ آپ ان دونوں چیزوں کو اس جاب سے متعلق بنانے میں کامیاب ہوں۔ یعنی آپکی تعلیم اور تجربہ کس طرح اس
جاب میں کام آئے گا۔

اب آتے ہیں انٹرویو میں پوچھے جانیوالے ممکنہ سوالات کی طرف۔ وہ یہ ہو سکتے ہیں۔

اپنے بارے میں بتائیے
 اپنے کیریئر میں آپ کس چیز کو اہمیت دیتے ہیں۔
اس ملازمت کو کیوں اختیار کرنا چاہتے ہیں
ہم آپکو کیوں یہ ملازمت دیں۔
اگر آپکے ٹیم ممبر معاونت کرنے پر تیار نہ ہوں تو آپ کیا کریں گے۔
اپنی  بہترین خوبیوں کے بارے میں بتائیے۔
آپکی کمزوریاں کیا ہیں جن سے آپ پریشان رہتے ہیں
آئندہ پانچ  یا دس سالوں میں آپ اپنے آپکو کہاں دیکھتے ہیں۔
پچھلی جاب کو چھوڑنے کی وجہ کیا تھی۔
انٹرویو کے دوران جب تک وہ خود نہ پوچھیں۔ تنخواہ کا تذکرہ نہ چھیڑیں اور نہ ہی جاب سے حاصل  ہونے والی سہولیات کا۔
جب وہ آپ سے اس بارے میں پوچھیں تو اپنا مطالبہ اتنا زیادہ بھی نہ رکھیں کہ وہ بدک جائیں اور نہ یہ ظاہر کریں کہ آپ ہر قیمت پہ یہ کام کرنا چاہتے ہیں۔
اپنی مارکیٹ ویلیو کے بارے میں اندازہ ضرور لگاتے رہیں اور انٹرویو سے پہلے اسے ذہن میں رکھیں۔ اگر وہ آپکو موجودہ تنخواہ سے زیادہ یا برابر نہیں دے رہے تو بھی اس چیز کا جائزہ ضرور لیں کہ کیا اس ملازمت کو حاصل کرنے کے بعد آپ کے سیکھنے کے مواقع بڑھ جائیں گے یا نہیں۔  اگر وہ آپکو کم تنخواہ آفر کر رہے ہوں تو پھر ضرور معلوم کریں کہ دیگر فوائد کیا ہونگے اور آپکو اپنی صلاحیتیں بڑھانے کے لئیے کیا مواقع حاصل ہونگے اور پھر اس پہ رضامندی دیتے ہوئے اس چیز کو واضح کردیں کہ آپ اپنی پیشہ ورانہ گرومنگ کو بیحد اہمیت دیتے ہیں۔
انٹرویو کے دوران ضروری نہیں کہ آپ صرف سوالوں کے جواب دیتے رہیں آپ بھی ان سے سوالات کر سکتےہیں اور اس سے آپکی ملازمت حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر ہوگی۔ وہ سوالات یہ ہو سکتے ہیں۔
آپکے خیال میں مجھے اس جاب کے بارے میں اور کیا معلومات ہونی چاہئیں۔
آپکی کمپنی میں مجھے کیا نئ چیزیں سیکھنے کو ملیں گی۔
مزید میرے بارے میں آپ کیا جاننا چاہتے ہیں۔
کیا میری ٹریننگ آپ کریں گے یا کوئ اور یہ کام کریگا۔
انٹرویو کہ وقت اپنی ظاہری شخصیت پہ توجہ دیں۔ اچھا فارمل لباس پہنئیے تاکہ آپ ذمہ دار نظر آئیں۔ بالوں میں جیل لگا کر اسپائکس نہ بنائیں اور نہ ہی برمودا پہن کر نکل کھڑے ہوں۔ خواتین سادے سوتی یا غیر چمکدار کپڑے پہنیں جس میں وہ اپنے آپکو با اعتماد محسوس کرتی ہوں۔ بالوں کی غیر ضروری لٹیں چہرے پہ نہ ڈالیں، بہت زیادہ آرائشی زیور، بجنے والے زیور یا کانچ کی بھری ہوئ چوڑیاں پہننے سے اجتناب کریں، گہرے میک اپ سے گریز کریں۔
کپڑے ایکدن پہلے استری کر کے رکھ لیں تمام ضروری کاغذات کو ایک لفافے میں ایک دن پہلے  ڈال کر رکھ لیں۔ دئیے ہوئے وقت سے پہلے پہنچنے کی کوشش کریں۔ انٹرویو کے وقت انتظار کرتے ہوئے کسی چیز کا رٹا لگانے نہ بیٹھ جائیں یہ اب اسکا وقت نہیں۔
 اگر آپکی جاب کی ضرورت میں ڈرائیونگ کا جاننا ضروری ہے تو اپنا ڈرائیوبگ لائسنس ضرور رکھ لیں۔ اگر تدریسی عہدے کے لئیے جا رہے ہوں تو ایک چھوٹا سا لیکچر ضرور تیار کر لیں اوراسے یاد بھی کر لیں، کسی اچھے ادارے کی صورت میں ٹرانسپیرینسیز یا سلائیدز بھی بنا لیجئیے۔ ریفرنس کے دو یا تین خطوط یا اگر آپ سےمخصوص تعداد انٹرویو کے وقت لانے کو کہا گیا ہے تو وہ ساتھ میں رکھیں۔ متعلقہ لوگوں سے یہ خطوط حاصل کرنے کے بعد انہیں مطلع رکھیں کہ آپ نے انہیں استعمال کیا ہے۔
کسی بھی پیشہ ورانہ جگہ پر رشتے داریاں بنانے سے گریز کریں۔ کسی کو انکل، آنٹی، باجی اور بھائ نہ بنائیں۔ انٹرویو لینے والوں سے بات کرتے وقت ان سے آنکھ ملا کر بات کریں۔ اپنے چہرے اور انداز میں بشاشت رکھیں۔
اپنی قابلیت، تجربے کے بارے میں جتنا بولیں اور مختلف واقعات سے اسےجتنا سپورٹ کریں کہ کیسے آپ نے مختلف مسائل کے حل تلاش کئیے، لیکن اپنی ذاتی زندگی کو بیچ میں ڈالنے سے گریز کریں۔
اور ہاں انٹرویو کے کمرے میں داخل ہونے کے بعد سلام کرنا اور ہاتھ ملانا نہ بھولیں۔ انتظار کیجئیے جب آپ سے بیٹھنے کو کہا جائے تو بیٹھ جائیے۔

نکلتے وقت سب کا شکریہ ادا کریں۔ ان سے معلوم کر لیں کے نتیجے کے بارے میں آپکو کیسے پتہ چلیگا یا اب آگے کیا ہوگا۔ چاہیں تو بعد میں خط یا ای میل کے ذریعے نتیجہ معلوم کر لیں۔

جاب نہ ملنے کی صورت میں دل چھوٹا نہ کریں۔ ہو سکتا ہے کہ آپکو زیادہ انٹرویو دینا پڑیں۔ ہر دفعہ اپنے ہر انٹرویو کا تجزیہ ضرور کریں۔ اس سے اپنے آپکو بہتر کرنے میں آسانی ہوگی۔ خدا آپکی قسمت میں ایسی آسانی دے جس سے آپ میں آگے بڑھنے کی لگن پیدا ہو اور دوسروں کا بھی بھلا ہو۔


ریفرنس؛