Saturday, January 28, 2012

چینل کا چورن

چلئیے جناب، اطلاع ملی کہ مایا خان کا مسئلہ اس طرح حل کیا گیا کہ ان سے غیر مشروط معافی نامہ کا کہا گیا جس سے انہوں نے انکار کر دیا۔ سماء چینل کی انتظامیہ نے انہیں الگ کر دیا اور انکا مارننگ شو ختم کر دیا۔ انکی ذمہ داری ختم ہوئ اور اس طرح چینل نے اپنی ساکھ پہ آنچ نہ آنے دی۔
لیکن کیا یہ ایک سنجیدہ حل ہے؟ اور آیا یہ کوئ حل ہے یا مزید ڈرامہ؟
مایا خان کو جس شو کی وجہ سے الگ کیا گیا۔ اسے دیکھتے ہوئے سوالات اس طرح کے بنتے ہیں کہ کیا پاکستان میں میڈیا، پرائویسی قوانین سے واقف ہے؟ کیا لوگوں کے اخلاقی معیار کو متعین کرنا میڈیا کے صحافیوں کی ذمہ داری ہے؟  کیا میڈیائ صحافیوں کا کام خبر بنانا ہے یا خبر کو پہنچانا  ہے؟
دوسرا خیال جو آتا ہے کہ خودچینلز کی اپنی کوئ میڈیا پالیسی ہوتی ہے یا نہں یا یہ کہ چینلز کی کوئ میڈیا پالیسی ہونی چاہئیے یا نہیں؟ یہ سوال میرے ذہن میں اس وقت آیا جب  میں مایا خان ہی کے ایک پروگرام کی کلپس دیکھ رہی تھی جس میں وہ ایک ایسے صاحب کے ساتھ ہیں جن کا دعوی ہے کہ انہیں رسول اللہ کی زیارت ہوئ بلکہ انکے بدن پہ ، حتی کہ بیگم کے پکائ ہوئ روٹیوں پہ بھی کلمہ طیبہ ابھر آتا ہے یہی نہیں بلکہ انہیں غیب سے کچھ تبرکات بھی ملے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں لوگ مذہبی غلو کا شدت سے شکار ہیں ایسے پروگرام پیش کرنا ایک ٹی وی چینل کی کس پالیسی میں آتا ہے۔ سو قارئین، اب یہ جاننے کو دل کرتا ہے کہ کیا میڈیائ صحافی یا اینکر پرسنز ، چینل انتظامیہ کی پالیسی سے الگ کام کرتے ہیں۔ کیا چینل کی انتظامیہ اس وقت تک کاٹھ کا الو بنی رہتی ہے جب تک عوامی شدید رد عمل سامنے نہ آئے؟


  ایک طرف چینل کا دعوی ہے کہ وہ عوامی ایشوز کو سامنے لائیں گے، لوگوں کو شعوری طور پہ بیدار کریں گے دوسری طرف انہی کے چینل سے اس طرح کے شوز آتے ہیں جو لبرل اور روشن خیال ہی نہیں بعض دینی حلقوں کے لئے بھی مسخرے پن سے کم نہیں۔
تو جناب یہ ٹی وی چینلز کیا بیچ رہے ہیں٫ عوام میں بیداری کے لئے جدید دنیا سے واقفیت یا وہی کاروباری نکتہ ء نظر سے عوام میں مشہور عطائ حکیموں کے چورن۔

 

Friday, January 27, 2012

سنیاس یا مینو پاز

اب اسے تغیر کہیں یا یہ کہ جس طرح کائینات میں ہر چیز اپنے انجام کی طرف کی بڑھتی ہوئ محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان کا جسم بھی توڑ پھوڑ اور تبدیلی کا شکار ہوتا ہے ٹھیک اس دن سے جب وہ جنم لیتا ہے۔
خواتین میں یہ عمل خاصہ واضح ہوتا ہے۔ اور بلوغت کے بعد  انکی طبعی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک وہ جب وہ تولیدی لحاظ سے سرگرم ہوتی ہیں یعنی بچے پیدا کر سکتی ہیں اور دوسرا حصہ وہ ہوتا ہے جب وہ اس دور سے گذر جاتی ہیں اورایسا کرنے کے قابل نہیں ہوتیں۔
بلوغت میں داخل ہونے کے بعد جسم میں ہارمون اس طرح پیدا ہوتے ہیں کہ ماہانہ نظام باقاعدہ رہے ۔ ہر مہینے کچھ تعداد میں انڈے پیدا ہوں۔ اگر وہ بار آور ہو جائیں تو عورت ماں بننے کے مرحلے میں داخل ہو جائے ۔ جسکے دوران ہارمون اس ترتیب میں آجاتے ہیں کہ بچے کی نمو سے لے کر اسکے دودھ پلانے تک کا مرحلہ بحسن و خوبی طے ہو جائے۔
خواتین میں انڈوں کی یہ تعداد انکی پیدائیش کے وقت تمام عمر کے لئے مخصوص ہوتی ہے۔ جب رحم میں انڈے ختم ہو جاتے ہیں تو جسم کو اشارہ ملتا ہے کہ اب ہارمون کا مخصوص کھیل بھی ختم ہوا۔ یہ مرحلہ سن یاس یا مینو پاز کہلاتا ہے۔
خواتین کی اکثریت مینو پاز تک پہنچنے سے پہلے اسکی علامتوں سے گذرتی ہے۔ لیکن بعض خواتین اس سے اچانک دوچار ہو جاتی ہیں۔ اور انہیں یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ حاملہ ہو گئیں ہیں اس لئے ماہانہ نظام منقطع ہو گیا ہے لیکن چند مہینوں میں پتہ چل جاتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔
خواتین میں ماہانہ نظام ختم ہونے کی ایک اوسط عمر پینتالیس سے ساٹھ سال ہے۔ اسکی علامتیں پہلے سے ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ مثلاً ماہانہ نظام کا بے قاعدہ ہونا، خون ضائع ہونے کی زیادتی, بعض اوقات لوتھڑوں کا خارج ہونا، خون بہت دنوں تک خارج ہوتے رہنا، بہت زیادہ گرمی لگنا، جلد کا خراب ہونا۔
عمر کے علاوہ وہ خواتین جنکی بچہ دانی آپریشن کے نتیجے میں الگ کر دی گئ ہو وہ بھی تیزی سے سنیاس کا شکار ہوتی ہیں چاہے یہ عمل کتنی ہی نوجوانی کے عالم میں کیا گیا ہو۔ کم عمر خواتین میں سنیاس کی وجوہات مزید ہو سکتی ہیں مثلاً اینڈو میٹریوسس، بچہ دانی میں رسولیاں ہونا یا تولیدی اعضاء کا کینسر، زیادہ وزن رکھنے والی خواتین، سگریٹ نوش خواتین، کیمو تھراپی سے گذرنے والی خواتین، بیمار خواتین ، وہ جنکے خاندان میں یہ سلسلہ موجود ہو ، تھائرائید غدود میں خرابی، ذیابیطس میلائٹس، یا خود دفاعی رد عمل۔ خواتین کی اکثریت میں وجہ  نامعلوم  ہوتی ہے۔
جڑواں خواتین بھی سنیاس کا کم عمری میں شکار ہو جاتی ہیں لیکن انہیں اپنی ساتھی خاتون کی اووریز کا کچھ حصہ ٹرانسپلانٹ کر کے اووریز کی کارکردگی کو دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے۔
سن یاس کے بعد یا اس سے گذرتے وقت بعض خواتین شدید علامات سے گذرتی ہیں۔ مثلاً ہاٹ فلیشز ہونا یعنی جسم میں کہیں کہیں آگ سی محسوس ہونا، پیروں میں رینگن محسوس ہونا، بہت زیادہ پسینہ آنا بالخصوص رات کے وقت، بعض کو ٹھنڈے پسینے آتے ہیں، کمزوری یا تھکن کا شکار ہونا۔ نیند نہ آنا، یاد داشت کا متائثر ہونا، شوہر سے جسمانی تعلق سے اجتناب برتنا۔
 ان سب علامتوں سے زیادہ نقصان پہنچانے والی چیز ایسٹروجن کے ختم ہوجانے کی وجہ سے آسٹیو پوریسس کے بڑھنے کا امکان ہے۔
سنیاس کے فوراً بعد ہڈیوں کے کمزور ہونے کی شرح تیزی سے بڑھ جاتی ہے جبکہ میٹا بولزم کی رفتار آہستہ ہوجانے کی وجہ سے وزن میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے اور خاص طور پہ پیٹ بڑھ جاتا ہے۔
ادھر آہستہ آہستہ مثانہ بھی کمزور ہونے لگتا ہے اور یوں ذرا سے دباءو پہ پیشاب کے قطرے خارج ہوجاتے ہیں یا پھر مثانے پہ قابو نہ ہونے کی وجہ سے بار بار حاجت محسوس ہوتی ہے۔
ایک اہم تبدیلی کسی خاتون کے مزاج میں آتی ہے اور سنیاس کے ابتدائ زمانے میں شدید ڈپریشن ہو سکتا ہے۔ خواتین کو لگتا ہے کہ اب چونکہ وہ بچے پیدا کرنے کے قابل نہیں رہیں اس لئے انکی نسوانیت ختم ہو گئ ہے۔ وہ ایک ناکارہ وجود بن گئ ہیں۔ اب وہ کسی کام کی نہیں رہیں اور محض ایک  کچرا بن گئ ہیں۔ ان معاشروں میں جہاں عمر رسیدگی کو حقارت سے دیکھا جاتا ہے اور  جوان افراد ، درمیانی عمر کے افراد کو اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں وہاں خواتین میں یہ ڈپریشن زیادہ ہوتا ہے۔
سنیاس کیوں لاحق ہوتا ہے اسکی طبعی وجوہات ہم نے بتا دیں۔ یہ کیوں ضروری ہے اسکی وجہ ارتقائ سائینسدانوں کے نزدیک انسانی معاشرے کی مضبوطی کی بنیاد ہے۔ تاکہ ایک نسل دوسری نسل کے آگے بڑھنے میں مددگار ہو اور اس طرح انسانی آبادی بھی قابو میں رہے اور یہ کہ مضبوط انسانی نسل مضبوط انسانی جسم کے ساتھ آئے۔
یعنی قدرت  کے نزدیک عورت صرف بچے پیدا کرنے کی مشین نہیں ہے اور عمر کے ایک حصے میں وہ اسے فرصت دیتی ہے تاکہ وہ دیگر سرگرمیوں میں بھی کھل کر حصہ لے سکے۔ اسی طرح عورت اور مرد کا ساتھ رہنا صرف جسمانی تعلق کے لئے نہیں ہوتا بلکہ قدرت اسکے علاوہ بھی انسان سے کچھ چاہتی ہے۔
 ایسا نہیں ہوتا کہ عورت سن یاس میں داخل ہونے کے بعد فوراً بعد ختم ہو جائے  اگر وہ اپنی صحت کا خیال رکھے تو اسکے بعد بھی نصف صدی کی زندگی گذار سکتی ہے۔
اس لئے وہ خواتین جو سمجھتی ہیں کہ وہ سنیاس میں داخل ہو چکی ہیں انہیں فوراً اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئیے۔ تاکہ وہ اس بات کی تصدیق کر سکے کہ ایسا ہوا ہے۔
وہ خواتین جو اپنی چالیسویں سالگرہ منا رہی ہیں انہیں احتیاطاً آسٹیو پوریسس سے بچاءو کے لئے طبی امداد لینا شروع کر دینا چاہئیے۔ ویسے بھی خواتین کو ابتدائ عمر سے ہی کیلشیئم والی غذاءووں کو زیادہ استعمال کرنا چاہئیے۔ اپنی بچیوں پہ توجہ دیں اور انکی غذا میں کیلشیئم اور فولاد کی مقدار کا دھیان کریں۔ تاکہ وہ مستقبل میں نہ صرف صحت مند ماں بنیں بلکہ اپنا بڑھاپا بیماریوں اور معذوری سے محفوظ گذاریں۔
مینوپاز کے دوران جب ہاٹ فلیشز زیادہ ہوتے ہیں اپنی غذا پہ دھیان دینا چاہئیے۔ ایسی اشیاء زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے گریز کریں جن میں اینٹی ایسٹروجن مرکبات پائے جاتے ہیں۔ مثلاً چائے، سبز چائے، اخروٹ، بروکلی، اور ایسی اشیاء زیادہ استعمال کریں جن میں ایسٹروجن ہوتے ہیں۔ زیادہ ایسٹروجن کے لئے گوشت، انڈے، دودھ، دہی، ، السی کے بیج یا اسکا پاءوڈر، ،گاجریں اور ٹماٹر وغیرہ استعمال کریں۔ السی کے بیج مسلسل کئ مہینوں تک استعمال نہ کریں بلکہ وقفہ دیں۔  اسکا پاءڈر ایک چائے کے چمچ سے زیادہ روزانہ نہ لیں۔  گرم جگہوں پہ نہ رہیں۔ ہلکے ڈھیلے سوتی کپڑے پہنیں۔
ایسا نہ کریں کہ کوئ چیز بالکل ترک کر دیں۔ مثلاً اخروٹ کھانا بالکل ہی چھوڑ دیں۔ اخروٹ کھائیں تو تھوڑی گاجریں  بھی کھالیں یا دودھ بھی پی لیں اس طرح غذا متوازن رہے گی۔
اس طرح اس عمر میں متوازن غذا کا ذرا مختلف تصور اپنے لئے سیٹ کریں۔
وہ خواتین جو پیشاب خارج ہونے کے عارضے میں مبتلا ہیں وہ ایک آسان سی ورزش کر سکتی ہیں جو کیگل ورزش کہلاتی ہے اور  ہر عمر کی خواتین حتی کہ حاملہ خواتین کے لئے بھی کار آمد ہے۔ اور بہت آسان ہے۔ اسے کرنے کے لئے ایک خاتون کو اپنے پیٹ کے نچلے حصے کے عضلات کو سمجھنا ہوگا۔
پیشاب کرتے ہوئے اگر بیچ میں ایکدم روکنا ہو تو جو عضلات کھینچے جاتے ہیں۔ انہیں فالتو وقت میں کھینچنے کی مشق کریں۔ یہ ایسی مشق ہے جووہ کسی بھی کام کو کرتے ہوئے کر سکتی ہیں چاہے پڑھ رہی ہوں یا ٹی وی دیکھ رہی ہوں۔ شروع میں کم تعداد میں کریں مثلاً ایک وقت میں پانچ دفعہ ان عضلات کو کھینچیں اور چھوڑ دیں۔ پھر آہستہ آہستہ تعداد بڑھاتی جائیں۔  
سنیاس کے بعد بھی ایک خوشحال زندگی گذاری جاتی ہے فرق یہ ہے کہ اسکے بعد حاملہ ہونے کا اندیشہ نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے دنیا کے بیشتر حصوں میں خواتین سنیاس کو اپنے لئے آزادی کی علامت سمجھتی ہیں۔
وہ خواتین جو کم عمری میں سن یاس کا شکار ہو جاتی ہیں ان میں آسٹیو پوریسس کا خطرہ زیادہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ ایسٹروجن کی کمی کی وجہ سے زیادہ کم عمری میں ہڈیاں کمزور ہونے لگ جائیں گی۔ اس صورت میں ممکن ہے کہ آپکا ڈاکٹر آپکو ہارمون تھراپی کا مشورہ دے۔ یہ طریقہ ء علاج ایک زمانے میں کافی رائج ہوا۔ پھر مختلف نتائج کی بناء پہ روک دیا گیا آجکل پھر سے تجویز کیا جانے لگا ہے۔ اس وقت یہ ہارمونز مختلف طرح کی شکلوں اور منبع کے موجود ہیں۔ ان میں سے کون سا ایک خاتون کے لئے مناسب ہے اسکا فیصلہ ایک ڈاکٹر ہی کر سکتا ہے۔
جو خواتین اس طریقہ ء علاج کو لے رہی ہیں انہیں اپنی غذا کا دھیان رکھنا چاہئیے۔  ہارمون سپلیمنٹ کے ساتھ وٹامن بی کمپلیکس والی غذاءووں کا باقاعدہ استعمال کریں اور آسٹیو پوریسس کی دواءووں اور کیلشیئم والی غذاءووں کا بھی خیال رکھیں۔ آسٹیو پوریسس کے بارے میں جاننے کے لئے یہاں دیکھئیے۔
ہر تھوڑے عرصے بعد اپنے کچھ ٹیسٹ ضرور کرواتی رہیں۔ مثلاً چھاتی کے کینسر کے لئے میمو گرافی کیونکہ سنیاس کے بعد چھاتی کے کینسر کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، اسی طرح پیڑو یا بچہ دانی کے کینسر کو معلوم کرنے کے لئے پیپ اسمیئر ٹیسٹ اور پیلوک الٹرا ساءونڈ چاہئیے ہوتے ہیں۔ اگر ہارمون تھراپی لے رہی ہوں تو یہ ٹیسٹ کروانا اور بھی ضروری ہوتا ہے۔ تاکہ ہارمونز کا کوئ بھی ضمنی اثر فوراً علم میں آجائے۔
سنیاس کے بعد خواتین میں دل کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ مختلف ہارمونز کی وجہ سے جو تحفظ حاصل تھا وہ ختم ہوجاتا ہے۔ اس لئے دل کے امراض کے بنیادی ٹیسٹس بھی ایک خاتون کے لئے ضروری ہو جاتے ہیں۔
ہڈیوں کو بہتر بنانے کے لئے ورزش اور چہل قدمی ضروری ہے۔ روزانہ تیس منٹ کی چہل قدمی ہڈیوں اور عضلات کے لئے آب حیات ہے۔ ورزش کے لئے وزن اٹھانے والی ورزشوں کو ترجیح دیں جس سے اعضاء میں کھنچاءو پیدا ہو۔ اگر کوئ خاتون دل کے کسی عارضے میں ، یا کسی اور بیماری میں مبتلا ہیں تو اپنے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کوئ ورزش شروع نہ کریں۔
خِواتین کے لئے ورزش کے حوالے سے ایک علیحدہ تحریر لکھنے کا ارادہ ہے۔ اس وقت تک انتظار کریں۔

Tuesday, January 24, 2012

میڈیا کے عقاب

سنتے ہیں کہ ضیاء الحق صاحب کے زمانے میں ساحل سمندر پہ جانے والے جوڑوں سے نکاح نامہ طلب کرنے کے لئے وہاں پولیس والے عقاب کی طرح منڈلاتے رہتے تھے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے تو کیا ہوتا ہے۔ عقاب ناپید ہو جاتا ہے اور روح فنا رہتی ہے۔ مولوی صاحب کے مزے رہتے ہیں کہ دے دھڑا دھڑ نکاح پڑھا رہے ہیں کہ عورت اور مرد کا ایک ساتھ تفریح کے لئے نکاح نامہ ہونا ضروری ہے۔ معاشرے میں میاں بیوی کے علاوہ کوئ رشتہ اور تعلق باقی نہیں رہتا اور جنسیات کے علاوہ کوئ انسانی مسئلہ وجود نہیں رکھتا۔
جب ہم نے جامعہ کراچی میں قدم رکھا تو سنا کہ یہ کام وہاں اسلامی جمعیت طلبہ کے ذمے تھا۔ کہنے والے کہتے کہ وہ تو بھلا ہو آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن  کا جمعیت کے بھائ بندوں کے منہ سے نہ صرف یہ نوالہ چھین لیا بلکہ وہ جو ہر مرد کو مخاطب کرنے سے پہلے بھائ کا لاحقہ یا سابقہ اور خاتون کے نام سے پہلے بہن کہنا فرض عین  ہوا کرتا تھا وہ بھی لغت سے نکل گیا۔  ورنہ عالم یہ تھا کہ ہماری رشتے دار خاتون  اپنے ماموں کے ساتھ یونیورسٹی آنرز میں داخلے کے لئے پہنچیں تو انہیں جمعیت کے اسکواڈ کے سامنے حلفیہ بیان دینا پڑا کہ وہ جس مرد کے ساتھ ہیں وہ انکے ماموں ہیں۔
جماعتی روح جب بیدار ہوتی ہے سینوں میں تو عقابی روح والی کیفیات کیوں طاری ہو جاتی ہیں یہ مجھے نہیں معلوم؟
شاعر کہتا ہے کہ جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں ادھر ڈوبے اُدھر نکلے ، اُدھر ڈوبے ادھر نکلے۔ شاعر کی اس بات کو میں دماغ کا خلل نہیں سمجھتی۔ پوری طرح سے یقین رکھتی ہوں۔
ضیائ پولیس سے جمعیت میں یہ روح پہنچی، پنجاب یونیورسٹی میں اب تک قائم ہے۔ لیکن جامعہ کراچی سے  جمعیت کا کنٹرول  ختم ہوا۔   اہل ایمان انکے جھنڈے تلے سے نکل کر میڈیا میں آگئے۔ اور شکل کچھ یوں بنی کہ ہرچینل سے عقاب نکلے گا تم کتنے عقاب مارو گے یا خدا جانے تم جتنے عقاب ماروگے۔
مایا خان ان عقابوں میں ایک ہیں۔ ڈیڑھ دو مہینے پہلے میں جیسمین منظور کا ایک شو دیکھ رہی تھیں وہ پولیس لاک اپ میں موجود ایک شخص پہ سخت ناراض ہو رہی تھیں اور غصے میں کہہ رہی تھیں کہ عدالت تمہیں بعد میں سزا دے گی میں تمہیں مار مار کر درست کر دونگی۔ اور میرے جیسا ناظر حیران بیٹھا کہ ایک اینکر پرسن کس طرح ایک پولیس کسٹڈی میں موجود ایک ملزم تک بآسانی رسائ حاصل کر کے اسے درست کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔
ہمارا ملک کسی حیرت کدے سے کم نہیں۔ اس لئے ہر تھوڑے دنوں بعد حیرانی کے نئے تجربے سے گذرنا پڑتا ہے۔ اس دفعہ اس ریس میں مایا خان جیت گئیں۔ مجھے انکا شو دیکھنےسے بالکل دلچسپی نہیں۔ فیس بک کی وجہ سے دیکھنا پڑا کہ کیا ہو گیا ہے بھئ۔ 
کیا دیکھتی ہوں کہ دو خواتین ہنستی مسکراتی ایک بینچ پہ بیٹھی ہوئ ہیں۔ ویڈیو کے لنک کو کلک کیا تومیڈیا سے تعلق رکھنے والی خواتین کا ٹولہ جن میں سے کچھ مغربی لباس میں  اپنے مرد ساتھیوں کے ساتھ پارک میں تفریح کے لئے آئے ہوئے جوڑوں کے تعاقب میں یوں سرگرداں  جیسے ہم سانگھڑ کی جھیلوں کے پاس ایک دفعہ مگر مچھ تلاش کرتے پھر رہے تھے۔ کراچی کے پارکس میں اب تک مگرمچھ نہیں چھوڑے گئے یہ شاید پہلا تجربہ کیا تھا میڈیا کے مگرمچھ چھوڑنے کا۔ وقت انتہائ مناسب، مگرمچھ سرد دنوں میں صبح صبح سرد پانی سے نکل کر ساحل پہ  دھوپ  سے اپنے آپکو سینکتے ہیں۔ ہمارا یہ ٹولہ ملک بے حیائ کی دھوپ میں سنِکنے واے جوڑوں کی تلاش میں تھا۔
پارک میں موجود لوگ ایسے سراسمیہ  کہ جیسے وہ سوئس بینکوں سے اپنا روپیہ نکال کر پارک میں بیٹھے گن رہے تھے۔ یا ایکدوسرے کو خود کش جیکٹس پہنا رہے تھے۔ اسی پہ بس نہیں ہماری اینکر نے ایک نقاب پوش خاتون کو ایسے پکڑ لیا جیسے وہ ان کا پرس چھین کر بھاگی ہو۔
   
پارکس میں اکثر ایسے جوڑے نظر آتے ہیں۔ انکی اکثریت لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہے۔ اشرافیہ کے بچوں کو حجاب پہن کر اپنے آپکو چھپانے سے دلچسپی نہیں ہوتی۔ انکے لئے زیادہ پر تعیش جگہیں موجود ہیں۔ وہ ان عوامی پارکس میں کیا کریں گے۔ مڈل کلاس بچے زیادہ تر مخلوط اداروں میں پڑھتے ہیں انہیں میل ملاقات کے لئے پارکس میں وقت ضائع کرنے کی فرصت نہیں۔ لے دے کر لوئر مڈل کلاس بچ جاتی ہے۔ بظاہر تو یوں لگتا ہے کہ میڈیا کے ان شکاریوں کو اسی وجہ سےاتنی ہمت ہوئ۔ ورنہ یہ سب خواتین و مرد اپنے سے بڑے لوگوں کے جائز اور ناجائز لو افیئرز سے خوب اچھی طرح واقف ہوتے ہیں مگر انکے سامنے انکی وہی حالت ہوتی ہے جس کے لئے مناسب لفظ استعمال کرنے کے لئے منا بھائ ایم بی بی ایس والے کی ٹپوری لغت کی مدد لینی پڑے گی۔
خیر، اس ٹولے میں اگر کسی شخص کی کمی مجھے محسوس ہوئ تو ایک مولوی صاحب کی تھی۔ اگر وہ ساتھ ہوتے اور گپ شپ لگاتے جوڑوں کو وہیں پکڑ کر  نکاح پڑھا دیتے تو یہ منظر نہ صرف ڈرامے کے کلائمیکس پہ پہنچ جاتا بلکہ  والدین خود ہی آئیندہ کے لئے حفاظتی اقدامات اٹھا لیتے۔  یوں کہ پسند کی شادی ہمارے والدین کے لئے ایک تازیانے سے کم نہیں ہوتی۔ چاہے اپنے بچوں کی شادی اپنی  پسند سے کروانے کے لئے وہ ایک مرد کو چالیس سال کا کر دیں۔ یا لڑکی کی شادی اسکی عمر سے دگنے، جاہل مرد سے کر دیں۔
شادی ہمارے یہاں ایک رومانی تعلق نہیں بلکہ ایک  جسمانی  اور کاروباری تعلق کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس کے اصل فریق شادی کرنے والے مرد عورت نہیں والدین ہوتے ہیں۔
ادھر خدائ نظام میں بڑی خرابیاں ہیں، مثلاً خدا ایک بے حس اور عاقبت نا اندیش کاریگر کی طرح اپنے کوزے پہ انسان تخلیق کئے جا رہا ہے وہ یہ تک خیال نہیں کرتا کہ اماں کو کترینہ کیف اور مادھوری جیسی بہو چاہئیے۔ آنے والے انسان کے بچے خوبصورت ہونے چاہئیے۔ وہ خود جمیل ہے لیکن جمال کو محفوظ کرنے کے منصوبے نہیں بناتا۔  سو جو لڑکیاں حسن کے اس معیار پہ پوری نہیں اترتیں لیکن انسانی تقاضوں کی وجہ سے چاہتی ہیں کہ انہیں بھی صنف مخالف کا ساتھ نصیب ہو وہ کیا کریں۔ وہ لڑکیاں کیا کریں؟ جنکے والدین کے پاس دینے کے لئے لمبا چوڑا جہیز نہیں ہے، وہ لڑکیاں کیا کریں؟ وہ لڑکے کیا کریں جو اپنے جبلی تقاضوں سے مجبور صنف مخالف کے پیچھے بھاگتے پھر رہے ہیں مگر والدین کو ابھی انکا صحیح بھاءو نہیں مل پا رہا۔  معاشرتی سطح پہ اتنے بڑے انسانی مسئلے کو اس وقت کوئ سمجھنا نہیں چاہتا۔
سو اگر اس غیر فطری ماحول میں نوجوان یہ نہ کریں تو کیا کریں؟
 میری یادداشت میں ایک ذاتی واقعہ ہے جس میں ایک باپ کو جب اسکے لڑکے کی شکایت کی گئ کہ وہ کس طرح ہماری بیٹی کو آتے جاتے چھیڑتا ہے اور اس سے اس لڑکی کی ریپوٹیشن خراب ہو رہی ہے اور اسکی شادی میں مسئلہ ہو جائے گا تو اسی شام کو لڑکے کے ابا اپنے لڑکے اور قاضی کو لے کر انکے گھر پہنچے۔ اور اپنے بیٹے سے آٹھ سال بڑی لڑکی کو گھر کے کپڑوں میں شادی کر کے اپنے گھر لے آئے۔ انکا بیٹا اس وقت بی کام کر رہا تھا۔ آج اس خوشحال  جوڑے کے تین بچے ہیں۔
والدین جو خود اپنے آپکو کسی بھی اخلاقی سدھار سے ماوراء سمجھتے ہیں وہ کس بل بوتے پہ اپنی اولاد کو سدھار سکتے ہیں۔  وہ کیسے یہ نعرہ بلند کر سکتے ہیں کہ والدین کو دھوکا نہ دو۔ آپ اپنی اولادوں کو، اپنی نسلوں کو دھوکا دے رہے ہیں جناب آپ کو بھی دھوکا ہی ملے گا۔
ادھر، میڈیا جو خود کسی اخلاقی پابندی کا اپنے آپکو ذمہ دار نہیں سمجھتا اور پروگرام کی ریٹنگ کے لئے ہر گری ہوئ حرکت کرنے کو تیار ہے۔ اگر اسکے نمائیندوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ لوگوں کو درست کرنے کا ٹھیکا لے کر خدائ فوجدار بن جائیں تو عوام تو ان سے کہیں زیادہ مضبوط اور تعداد میں زیادہ ہیں وہ کیوں نہ انہیں درست کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ 
اگر کیمرہ کریو کے ساتھ موجود اس ٹولے کے آگے چند نوجوان آ کر کھڑے ہوجاتے کہ یہ کیا بے حیائ ہے کہ خواتین ٹی شرٹ اور ٹراءوژرز جیسے مغربی لباس میں پارک میں مردوں کے ساتھ  سر عام بھاگتی پھر رہی ہیں تو کیا ہوتا؟ مجھے تو مزہ آتا، اگرچہ کہ مجھے انکے اس لباس سے کوئ تکلیف نہیں ہوتی۔ لیکن ایسے دو رُخے لوگوں کے ساتھ یہی ہونا چاہئیے۔ آپکے لئے ہر چیز جائز اور صحیح لیکن اپنے آپ سے کمزور شخص کو دبانے کا کوئ موقع آپ ضائع نہ جانے دیں اور بنیں بڑے کردار والے مبلغ اور مصلح۔
وقتی فائدہ اور دور اندیشی میں یہی فرق ہے۔ دور اندیشی کہتی ہے کہ کوئ بھی ایسا قدم کیوں اٹھاءو جو خود پہ پڑے تو سہا نہ جائے۔ وقتی فائدہ کہتا ہے بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لو کل کی کل دیکھی جائے گی۔
لیکن ٹیکنالوجی کی ترقی نے کل کو آنے سے روک دیا ہے، یہاں ہر گذرا ہوا دن، ہر آنے والا دن ہر چیز آج بن گئ ہے۔آج سے نکل پائیں گے تو کل دیکھیں گے۔ پچیس سال پہلے کی ضیائ پولیس، اب میڈیا پہ آ گئ ہے۔ نگاہ منتظر ہے کہ جمیل اور جمیلہ اب کیا راستہ چنیں گے؟

Wednesday, January 18, 2012

جا چھوڑ دیا

میں انکے پاس خالصتاً کاروباری سلسلے میں موجود تھی۔ لیکن جیسا کہ ہماری روایات ہیں ملنے والے سےپہلے ادھر ادھر کی ایک آدھ بات کر لی جاتی ہے۔ ہمارے درمیان بچوں کی بات آ گئ۔ انکے چار بچے تھے سب سے بڑی پندرہ سال ی بچی اور سب سے چھوٹی سات آٹھ سال کی۔  اپنے اکلوتے بارہ سالہ بچے کے متعلق انہوں نے بتایا کہ وہ قرآن حفظ کر رہا ہے۔ تیسری جماعت تک اسکول میں پڑھا لیکن چونکہ ہم نے اسکی پیدائیش پہ یہ ارادہ کیا تھا کہ اسے قرآن حفظ کرائیں گے اس لئے وہاں سے نکال کر اسے مدرسے میں ڈال دیا۔
حلئیے سے ایک فیشن ایبل خاتون، جنکی بھنوئیں بنی ہوئیں، بال کندھے تک ترشے ہوئے اور رنگے ہوئے، ہونٹوں پہ ہلکی سی لپ اسٹک کی تہہ جمی ہوئ، جدید تراش خراش کے کپڑے پہنے ہوئے، کیا اس خاتون سے کوئ توقع کر سکتا ہے کہ اپنے اکلوتے بیٹے کو ایک جدید اسکول سے نکال کر ایک مدرسے میں ڈال دے گی؟
وہ اکیلی نہیں، میں انگلش ڈپارٹمنٹ میں انگریزی  پڑھانے والی ایک خاتون سے ملی جنہوں نے انگریزی لسانیات میں ماسٹرز کیا ہوا تھا۔ انکی بچی ایک انگلش میڈیئم اسکول میں پڑھ رہی تھی ایک ذہین بچی، انکی اکلوتی اولاد۔ اس عرصے میں وہ جماعت اسلامی سے متائثر ہو گئیں۔ خود حجاب لینا شروع کیا اپنی بچی کا اسکول چھڑایا۔ یونیورسٹی سے کئ سال کی چھٹی لی، گھر پہ ایک مولوی صاحب کی خدمات لی گئیں اور بچی کو حفظ کرانے سے لگا دیا۔ اب تیرہ سال کی عمر میں انکی بچی فافظہ قرآن ہے۔ جہاں سے کہیں فر فر سنا دے گی لیکن اسکے معانی کیا ہیں اس سے آگاہ نہیں۔
حفظ کرانے کا فیشن اسّی کی دہائ میں متعارف ہوا۔ اس سے پہلے بہت کم بچے حفظ کرتے تھے۔ حفظ کرانے والے مدرسے اسّی کی دہائ میں مشرومز کی طرح سے ایک دم اگ آئے۔کسی بھی روڈ سے گذر جائیں ایک نہ ایک ایسا مدرسہ ضرور نظر آجائے گا۔ مجھے یقین ہے ساری دنیا میں پاکستان اس معاملے میں اول نمبر پہ ہوگا جہاں بچوں کی ایک کثیر تعداد اس وقت قرآن حفظ کر رہی ہے اور سب سے زیادہ مدرسے اس ضمن میں موجود ہیں۔
لوگ کیوں اتنا زیادہ حفظ قرآن کی طرف راغب ہوئے؟ اسکا جواب بڑھتی ہوئ انتہا پسندی میں ہے۔
اس سے پہلے  مدرسے بہت کم ہوتے تھے اور اکثر بچے خاندان کے کسی بزرگ سے ہی قرآن ناظرہ پڑھا کرتے تھے یا پھر محلے کی کوئ فارغ ضعیف خاتون یہ کام انجام دیتی تھیں یوں عمر کے اس حصے میں انہیں یہ سرگرمی حاصل رہتی۔
یہ ہمارے مرد حق، جنرل ضیاءالحق کا دور تھا۔  ان مدرسوں کے قیام کے لئے فنڈ کہاں سے آئے ہونگے۔ اسکا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ یہ یقیناً ہمارے سعودی کرم فرماءوں کی ہم جیسی گنہاگار قوم پہ نظر عنایت ہوگی کہ حافظ بچوں کی وجہ سے ہی ہم بخشے جائیں۔ کیونکہ زیادہ تر ان مدرسوں کا فقہ سعودی فقہ سے متائثر تھا۔ مثلاً اقراء حفظ مراکز میں بچوں کی ماءوں سے بات کرنے سے گریز کیا جاتا ہے اور اصرار ہوتا ہے کہ کسی مرد کو بھیجیں۔
میں نے خود بھی سعودی فنڈ سے چلنے والے ایک مدرسےسے ناظرہ قرآن کی تعلیم لی۔ اور اب مجھے حیرت ہوتی ہے کہ کیسے ہمارے مدرسے کے منتظمین نے اچانک یہ فیصلہ صادر کیا کہ یا تو اسکول کی تعلیم حاصل کرو یا پھر اس مدرسے میں ناظرہ قرآن پڑھو۔
میں نے ان خاتون سے پوچھا کہ قرآن حفظ کرنے کے بعد آپ نےاپنےبچے کی باقی زندگی کے لئے کیا سوچا ہے۔ جواب ملا ہم نے تو ہمیشہ خدا پہ توکل کیا ہے۔ وہی کوئ راستہ نکالے گا۔
ہمم، میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ جو کاروباری معاہدہ ہم کرنے جا رہے ہیں اس کے لئے بھی تو آپ نے کوئ منصوبہ بندی کی ہے ناں ۔ بغیر منصوبہ بندی کے تو کوئ اتنا بڑا قدم نہیں اٹھاتا۔ اسے تو آپ نے خدا توکل پہ نہیں چھوڑا۔ پھر اپنے بچے کو کیسے آپ نے اس طرح چھوڑ دیا؟
ایک کمزور آواز میں جواب آیا ، ہو سکتا ہے کل وہ کوئ بڑا عالم دین بن جائے۔
میں نے آواز کی اس کمزوری کو جان کر  ان سے پوچھا نہیں کہ مودودی صاحب کے بارے میں کیا خیال ہے وہ حافظ  قرآن نہیں تھے لیکن عالم دین کی صف میں کھڑے ہیں۔ ایک بڑی تعداد میں عالم دین ہیں جو حافظ قرآن نہیں۔ عالم دین بننے کے لئے دین کی سمجھ ہونا ضروری ہے جس کتاب کی طرف رجوع کرتے ہیں اس زبان کا سمجھ میں آنا ضروری ہے اس لئے جو بات ہماری سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ بجائے اسے حفظ کرنے میں وقت لگانے کے عربی زبان سیکھنے میں وقت لگایا جائے تو بات ہے سمجھ کی۔ 
کیا بچوں کو قرآن حفظ کرانے سے دین کی کوئ خدمت ہوتی ہے؟
  ہم ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہیں کہ قرآن  با ترجمہ کمپیوٹر پہ اس طرح موجود ہے آپ جب چاہیں کسی حوالے سے کوئ آیت نکال لیں۔ قرآن پہلے سے زیادہ محفوظ ہے۔
کیا واقعی قرآن حفظ کرنے والے بچے کے چالیس یا ستر رشتے دار بخشے جائیں گے یا اسکے والدین کو روز قیامت عام معافی مل جائے گی؟
اگر یہ سچ ہوتا تو قرآن یہ کیوں کہتا کہ ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔
یا اس لئے کہ حافظ قرآن کو معاشرے میں خاص احترام حاصل ہوتا ہے۔ اس لئے کہ شاعر بھی یہ کہتا نظر آتا ہے کہ
اے خال رخ یار تجھے ٹھیک بناتا
جا چھوڑ دیا حافظ قرآں سمجھ کے
لیکن شاعر تو جناب شاعر ہوتا ہے اسکی بات کا کیا بھروسہ۔
اب ایک نیا سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسے ادارے کیوں نہیں اتنی بڑی تعداد میں بن جاتے جہاں عربی زبان سکھائ جائے تاکہ اپنی مذہبی کتاب تک ہر مسلمان کی پہنچ آسان ہو جائے اور خدا کی کتاب کو وہ بغیر کسی ذریعے کے سمجھ پائے۔ ایسے ہی جیسے دنیا کی کسی اور عوامی کتاب کو ہم سجھتے ہیں۔ قرآن حفظ کرنے میں کم از کم پانچ سال لگتے ہیں ، عام طور پہ تین چار سال کے بچے کو مدرسے کے حوالے کیا جاتا ہے۔  اگر اس جذبے سے دن رات عربی زبان سیکھائ جائے تو اس میں بے پایاں مہارت پیدا ہو جائے۔
اسکے جواب کے لئے کسی ذہنی تگ و دو کی ضروت نہیں۔ ہمیں ایک بہتر مسلمان دیکھنے کے خواہشمند خدا اور اور ہمارے درمیان ڈائریکٹ ڈائلنگ پسند نہیں کرتے ورنہ انکا وجود بے مصرف ہو جائے انکی بڑائ جھوٹی قرار پائے  اور انکے روزگار کو بھاری زک پہنچے۔

Monday, January 16, 2012

تہہ جام

سگنل کی لائٹ سرخ ہوئ تو میں نے گاڑی کی رفتار آہستہ کرتے ہوئے روک دیا۔ یہ کرتے ہوئے میری نظر فٹ پاتھ پہ بیٹھی تین لڑکیوں پہ پڑی۔ سات آٹھ سال کی یہ لڑکیاں اپنے درمیان کوئ چیز رکھے کھارہی تھیں اور ساتھ ساتھ باتیں بھی کر رہی تھیں۔ ان میں سے ایک لڑکی کا چہرہ اور تاثرات مجھے صاف نظر آرہے تھے۔ 
کھانے کے دوران باتیں کرتے ہوئے تھوک نے اسکے گلابی ہونٹوں کو مزید گلابی کر دیا تھا۔ اسکے گال موسم میں خنکی کی وجہ سے لالی لئے ہوئے تھے۔ کسی نے اسکے بالوں کو بلیچ کر دیا تھا اور یہ سنہری کالے بال اسکی نیلاہٹ لئے ہوئ آنکھوں کے ساتھ ایک دل کش منظر تخلیق کر رہے تھے۔ میں بس اسے دیکھتی ہی رہی۔  بہت زور سے ہنستے ہوئے دفعتاً اسکی آنکھیں میری آنکھیں سے چار ہوئیں۔ اب ان میں حیرانی اور شرم بھی گھل گئ تھی۔ اجنبی لوگوں کے دیکھنے پہ بچے اکثر شرما جاتے ہیں۔ میرے ہونٹوں پہ ہنسی ابھر آئ۔ وہ ہنس کر ہاتھ ہلانے لگی۔ میرا ہاتھ بھی اظہار مسرت میں اٹھا اور ہلنے لگا۔
سگنل کھل چکا تھا۔ اسکا ہاتھ اب بھی ہل رہا تھا۔ حالانکہ ہم دونوں میں مسکراہٹ کے تبادے کے علاوہ کوئ دنیاوی کاروبار نہ ہوا تھا۔ سودو زیاں سے لاپرواہ صرف قدرت ہوتی ہے۔ ڈوبتا ہوا  سورج بغیر کسی خراج کے آسمان پہ دھنک بکھیرتا ہے، آبشار کے گرتے پانی میں روشنی بغیر کسی ستائیش کے قوس و قزح بناتی ہے، چاند ، ستارے آسمان کو سجانے کا کوئ کرایہ نہیں لیتے۔ قدرت فیاض ہے۔ کبھی کبھی انسان بھی ایسا ہی فیاض ہوتا ہے۔ میں بھی ایک فیاض  مسکراہٹ کو لئے آگے بڑھ گئ۔ 
میرے برابر بیٹھی تیرہ سالہ بچی نے جو آسٹریلیا میں پیدا ہوئ اور پلی بڑھی ہے مجھ سے پو چھا یہ لڑکیاں یہاں کیا کر رہی تھیں۔ میں چونک کر اس دنیا میں واپس آئ، جہاں ہر پل کیوں  اور کیسے کے سانپ منہ پھاڑے بیٹھے ہوتے ہیں۔ 
وہ یا تو بھیک مانگ رہی ہونگیں یا پھر سگنل پہ کھڑی گاڑیوں کے شیشے صاف کرتی ہونگیں۔ میں نے ڈرائیونگ کے تمام افعال منعکسہ کو بغیر سوچے سمجھے انجام دیتے ہوئے جواب دیا۔
مجھے یہ جان کر بے حد افسوس ہوا کہ اتنی پیاری بچی یہ کام کرتی ہوگی۔ ایسا کیوں ہے؟ اس نے مجھ سے پوچھا۔
میں اسے تیسری دنیا کے ایک غریب ملک پاکستان کی معیشت اور اسکے باشندوں پہ اسکے اثرات سمجھانے لگی۔
اس ساری معاشی فلاسفی کے درمیان ایک سوچ ذہن میں رینگ گئ جب خوب صورتی پہ برا وقت پڑتا ہے تو دیکھنے والوں کے دل  نرم کیوں ہو جاتے ہیں؟