دعوی محبت ایک اچھا شغل ہے۔ ورنہ یہ سننے میں نہ آتا کہ
ہزار کام مزے کے ہیں داغ الفت میں
جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں
اگر اس میدان میں بھی روکھی پھیکی گذر رہی ہے تو امکان غالب ہے کہ ابھی وہ مرحلہ نہیں آیا جہاں رقیب رو سیاہ کی اینٹری ہوتی ہے۔ کچھ نا معلوم وجوہات کی بناء پر رقیب کس قدر بھی گورا ہو اسے کہا رو سیاہ ہی جاتا ہے۔ اگر اب نہیں ہے تو یقیناًآپ کا سامنا ہونے پہ اسکا چہرہ ایسا ہی ہو جائے گا۔
رقیب کی یہ اینٹری عام طور پر اس قدر غیر متوقع ہوتی ہے کہ آپ دہل جاتے ہیں اور ہر شخص پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہےاور پھر ایسی پیاری اور معصوم باتیں سننے میں آتی ہیں کہ
ناصح بھی ہے رقیب، یہ معلوم ہی نہ تھا
کس کو صلاح کار کیا، ہم نے کیا کیا
بعض اوقات آپ کو بعد میں پتہ چلتا ہے کہ دوسروں سےاپنے محبوب کی زیادہ تعریفیں بھی کوئ اچھی بات نہیں، لیکن اب کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ اب آپ لاکھ اپنی سادگی کی داستان کسی کو سناتے پھریں کہ
ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
سب لوگ آپکو اول درجے کا بے وقوف ہی سمجھیں گے
یہاں یہ مت بھولیں کہ چونکہ آپ دونوں کے درمیان رشتہ ءرقابت ہے اس لئے آئنسٹائن کےنظریہ ء اضافیت کے تحت آپ بھی اسکے رقیب قرار پائیں گے۔ رقابت کی اس جنگ میں سب جائز ہے۔ اس لئے کافی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ رقیب اگر آپ کو ایک اچھا کمپیوٹر ایک اچھے انٹرنیٹ کنکشن کے ساتھ لیکر تحفتاً دینے پر بضد ہے تو آپ کو اسکی نیت کا فتور فوراً سمجھ لینا چاہئیے۔
رقیب کے داخل ہوتے ہی زندگی کے شب وروز تبدیل ہو جاتے ہیں۔ رقیب اور محبوب کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کے احوال جاننے کے لئے مختلف لوگوں سے دوستی گانٹھنی پڑتی ہے۔ اس سے سوشل ریلیشنز خوب پھلتے پھولتے ہیں۔ یہاں گر کی بات یہ بھی ہے کہ ان مخبروں کی وجہ سے آپکی محبت کی شہرت جتنی دور تک جائے اتنا ہی رقیب کے پیچھے ہٹنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
وہ بھی سن لیں گے یہ کبھی نہ کبھی
حال دل سب سے برملا کہئیے
یہاں وضاحت کے لئے یہ بتا دوں کہ یہ شعر ہمارے کسی بلاگ کے عنوان کے بارے میں نہیں کہا جارہا۔ کیونکہ داغ کے زمانے میں بلاگنگ کا وجود نہ تھا اور بس کچھ ایسے ویسے طریقے ہی آزمانے پڑجاتے تھے۔
کچھ مخبروں کو تو لین دین کے بعد راضی کرنا پڑتا ہے کہ بالکل مصدقہ خبر ملے۔ اس بہانے آمدنی کے دیگر ذرائع بھی تلاش کرنے پڑجاتے ہیں۔ کچھ مخبروں کو پیار اور محبت سے راضی رکھنا پڑتا ہے اور صورت حال ایسی ہو جاتی ہے کہ تجھ سے کی ہے کہ زمانے سے محبت میں نے۔
اگر محبوب کوئ مشہور شخصیت ہے تو آپ رقیب اور انکے تعلقات کی تفصیلات جاننے کے لئے روزانہ باقاعدگی سے اخبار پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ کوئ اچھی علامت نہیں اس سے کسی بھی دن اگر نظریں پھسلتے ہوئے ملکی حالات کی خبروں پر چلی گئیں تو آپ اچانک تلوار سونت کر رقیب کے دئیے ہوئے کمپیوٹر پر بلاگ لکھنے بیٹھ جائیں گے، اور حاصل ہونے والے تبصروں کی تابڑ توڑ لہر آپکو اس کنارے پر لے جائے گی جہاں آپ ہونگے اور آپکا کی بورڈ اور آپکی حب الوطنی کی شان میں کہے گئے الفاظ کا سرور۔ اسی کے لئے تو رقیب نے اتنی منصوبہ بندی کی تھی۔ رقیب اس مرحلے پر بلاگنگ سے سخت بیزاری کے باوجود اسکی تعریف میں دو حرف لکھوا کر دوبارہ پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ڈالکر بیٹھ جائے گا وقتاً فوقتاً وہ آپکے تبصرہ نگاروں کو ہوا دینے کے لئے اپنا تبصرہ بھی فرضی نام سے ڈالتا رہے گا۔۔ اور آپ کاٹھ کے الو بنے ساری ساری رات کھٹ کھٹ کرکے کی بورڈ بجاتے رہیں گے۔
اسکے علاوہ رقیب اگر گورا ہے تو آپکو گورا کرنے والی کریموں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنی پڑجائیں گی۔ بعد از بسیار خرابی جب محبوب امریکہ والی مصیبت کے ساتھ روانہ ہوجائے گا تو آپ جمع کی ہوئ معلومات کو کام میں لاتے ہوئے اسکا کاروباکر سکتے ہیں۔ محبت ایک شغل ہو سکتی ہے لیکن علم کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔
رقیب اگر ہر وقت آئنسٹائن اور غالب کے حوالے دیتا ہو۔ تو ان دو افراد پر ہزار لعنتیں بھیجنے کے بعد بھی آپ کو انکے متعلق پڑھنا پڑ جاتا ہے لیکن خیال رہے کہ رقیب کے سامنے اپنی علمیت بگھارنے کی کبھی کوشش نہ کریں۔ مرفی کا قانون اس موقعے کے لئیے اچھی پیشن گوئ نہیں کرتا۔ اور ہو سکتا ہے کہ رقیب اس موقع پر کارل ساگاں اور فرائڈ کے محفوظات سے آپکا بھرتہ بنادے۔ ثانی الذکر دو افراد بھی اول الذکر سے کچھ کم پیچیدہ نہیں۔
رقیب کو کھلا خط بھیجنے سے گریز کریں وہ اسے محبوب کے آگے ڈالدے گا اور کہے گا
تمہیں رقیب نے بھیجا کھلا ہوا پرچہ
نہ تھا نصیب لفافہ بھی آدھ آنے کا
اس سے آپ کی بیستی بڑی خراب ہوگی۔
رقیب میں ہر وہ عادت ہونے کے امکانات ہوتے ہیں جن سے آپکی جان جاتی ہے اور آپ حیران ہوتے رہتے ہیں کہ اس چمپو میں کیا ہے جس پر محبوب اسے اپنے حلقہ احباب میں رکھتے ہیں۔ وہ اللہ کی شان تنکے میں جان اور ہم تیغوں کے سائے میں پلے جوان۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئیے کہ اس میں رقیب کا کوئ قصور نہیں یہ سب کچھ محبوب کے دل اور آپکی قسمت اور محبوب اور آپکے دماغ کی خرابی سے جڑا ہوا ہے۔
رقیب کا مکمل سماجی بائیکاٹ آپکے عشق کے لئے اچھا نہیں۔اس سے وہ آپکے عشق کی جڑیں کاٹنے میں تندہی سے مصروف رہے گا۔ اسکی توجہ بانٹے رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اسکے ساتھ لگے رہیں اور اسکا حربہ اسی پہ لگا دیں۔ اگر اسے بلاگنگ سے دلچسپی نہیں تو فیس بک یا دیگر کمیونٹی سائیٹس کی افادیت کے بارے میں پوشیدہ و غیر پوشیدہ معلومات بہم پہنچا ئیں۔ اور کوئ آپ سے اتنی قربت کی وجہ دریافت کرے تو کہہ دیں آپ درست کہہ رہے ہیں
گو محفل رقیب میں جانا نہ چاہئیے
دیکھیں گے ہم بلا سے تماشہ تو کچھ نہ کچھ
جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد رقیبوں سے بھنائ ہوئ رہتی ہے۔ وہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو رقیب سے مل کر ایک پریشر گروپ بنا لیتے ہیں۔اور محبوب کوبد دعائیں دینے لگتے ہیں کہ
اللہ کرے تو بھی ہو بیمار محبت
صدقے میں چھٹیں گے تیرے گرفتار محبت
کچھ کاہل اتنا بھی بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہوتے اور پٹھان کے ہوٹل پر رقیب کے ساتھ پڑے دودھ پتی کی چائے کی سڑکیاں لگاتے ایکدوسرے سے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ
ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غم الفت کے
اتنے احسان کہ گنواءوں تو گنوا نہ سکوں
ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے
جز ترے اور کو سمجھاءوں تو سمجھا نہ سکوں
اور اگر دنیا انہیں اٹھتے بیٹھتےکچھ ایسے طعنے دینے لگے جس میں لفظ غیرت بھی آتا ہو تو وہ ہونٹوں پہ بعد از نروان حاصل ہونے والی مسکراہٹ سجائے بے نیازی سے کہتے ہیں
دنیا میں دو ہی تو با ذوق آدمی ہیں عدم
ایک میں اور ایک میرا رقیب
رقیب کی تاریخ اتنی پرانی ہے جتنی کہ ہابیل اور قابیل کا قصہ۔ یعنی کہ بہت پرانی ہے۔ اور تب سے اب تک کسی بھی عشق کو اسکے بغیر مکمل نہیں سمجھا گیا ۔اگرآپ کی اب تک اس راستے پر رقیب سے ملاقات نہیں ہوئ تو یا تو راستہ بدل ڈالیں یا قاصد۔ تاکہ آپ بھی محبوب کی محفل میں بآوز بلند یہ کہہ سکیں کہ
تیری محبت نے مار ڈالاہزار ایذا سے مجھ کو ظالم
رلا رلا کر، گھلا گھلا کر،جلا جلا کر، مٹامٹا کر
محبوب کو مار ڈالا والے اشعار کافی پسند آتے ہیں۔ امید ہے آپکا رقیب فیس بک پر مصروف ہوگا۔ لیکن یہ کیا،
آپ ایک عدد نیا بلاگ لکھنے بیٹھ گئے۔ دھت ترے کی۔
ریفرنس؛

![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)
