Showing posts with label برطانیہ. Show all posts
Showing posts with label برطانیہ. Show all posts

Tuesday, March 27, 2012

دلدار کا وفادار

بس میں نے دال بگھار کر اپنا کچن کا کام ختم ہی کیا تھا کہ فون بجا۔ اٹھایا تو ایک ادیبہ دوست تھیں۔ سلام دعا کے فوراً بعد ہی کہنے لگیں ، 'آفس سے فون کر رہی ہوں یہ پوچھنا تھا کہ شرمین عبید کو ایوارڈ ملا اس بارے میں آپکا کیا خیال ہے؟'۔  مستقل قارئین کو تو معلوم ہی ہے کہ میرا اس بارے میں کیا خیال ہے۔
میں نے ان سے دریافت کیا کراچی میں لٹریچر فیسٹول ہوا کیا آپ اس میں گئ تھیں۔ کہنے لگیں ، مجھے دعوت نامہ تو نہیں ملا تھا لیکن کسی اور ذریعے سے خبر ملی ، میں نے کوشش کی لیکن وہ اس قدر کونے میں ہے کہ جا نہیں سکی۔ البتہ کانفرنس میں آئے چند غیر ملکی ادیبوں سے میری کہیں اور ملاقات ہوئ۔  ان میں سے ایک نے مجھ سے کہا کہ آخر اردو لکھنے والے اس روئیے کے خلاف احتجاج کیوں نہیں کرتے۔ آخر یہ کیسے ہوتا ہے کہ اتنا بڑا مجمع اکٹھا ہو اور اس میں اردو کو اور اسکے لکھنے والوں کو نظر انداز کیا جائے۔
لیکن میں آپ سے شرمین عبید کے متعلق پوچھ رہی ہوں۔ وہ اپنے موضوع کی طرف واپس پلٹیں۔ 
میں ایک ایسی فلم کے بارے میں کیا رائے دوں۔ جسکی تخلیقی زبان وہ ہے جو ملک کے دو فیصد سے بھی کم لوگ بولتے اور سمجھتے ہیں۔ جو بولتے اور سمجھتے ہیں انکی اکثریت مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ  یہ سب دیکھ کر' کیا جاہلیت ہے' کہہ کر اپنی دنیا میں گم  ہو جاتے ہیں۔  یہ وہ فلم ہے جو کسی نے اب تک پاکستان میں نہیں دیکھی۔ البتہ یہ کہ اسکا موضوع پاکستان کے ماحول سے لیا گیا ہے اور بنانے والی خاتون کی جائے پیدائش پاکستان ہے۔
کیا آپ نے فلم دیکھی ہے؟ میں نے ان سے پلٹ کر سوال کیا۔ جواب نفی میں ملا۔ میں سمجھ رہی تھی کہ آپکو کسی ذریعے سے مل گئ ہوگی۔ انہوں نے فرمایا۔ جی نہیں اسکے حقوق کسی غیر ملکی چینل کے پاس محفوظ ہونگے ایسے نہیں ملے گی۔ اخبار سے اطلاع ملی کہ موصوفہ اب اسے اردو میں ڈھالنے کا کام کریں گی۔ حالانکہ فلم کی پہلی ریلیز کے وقت اس میں اردو سب ٹائٹل دالے جا سکتے تھے۔
کیا یہ ہمارا المیہ نہیں کہ ہمارے جو لوگ علم کے وسائل تک زیادہ پہنچ رکھتے ہیں دنیا سے انکی واقفیت زیادہ ہوتی ہے وہ محض اپنے نام و نمود کے لئے عوامی زبان کے بجائے اس زبان کو ترجیح دیتے ہیں جو اس ملک کے لوگ نہیں سمجھ سکتے۔ اس لئے کہ انکی ترجیح بین الاقوامی منڈی ہوتی ہے اور اس ملک کی زمین نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ محض ایک نظر ڈالنے سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اردو صحافت اور اردو ادب، انگریزی صحافت اور انگریزی ادب ایک دوسرے سے کس قدر چاند اور سورج کی دوری پہ موجود ہیں۔
آج ایک عام بیس سالہ نوجوان جب نسیم حجازی کے ناول پڑھ کر مذہبی جذبے سے سرشار ہو رہا ہوتا ہے تو عین اسی وقت ایک انگریزی جاننے والا اسی عمر کا نوجوان محمد حنیف کے اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز پڑھ کر ہماری سیاسی اور ثقافتی زبوں حالی کی وجوہات کو جان رہا ہوتا ہے۔ کم از کم اس میںمخالف بات کو سننے کا حوصلہ تو پیدا ہوتا ہے۔
 اردو اخبار جنگ کا اتوار کا میگزین پڑھ کر جب ایک عام پاکستانی عورت، روائیتی فرماں بردار بیوی، بیٹی، بہن  اور بہو بننے کے طریقے سیکھ رہی ہوتی ہے تو انگریزی اخبار کے اتوار کے میگزین کو پڑھنے والی عورت یہ جان رہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی مونٹیسوری کی تعلیم میں کیسے مدد کر سکتی ہے، کوئ خاتون اپنے معذور بچوں کی کیا مدد کر سکتی ہے،  اپنے آپ کو چھاتی کے کینسر سے کیسے بچا سکتی ہے، اپنی روزانہ کی زندگی میں کارآمد مشغلے کیسے اختیار کر سکتی ہے اگر وہ پیشہ ور خاتون ہے تو کیسے ملازمت کے دوران جنسی ہراسمنٹ سے بچ سکتی ہے، یہ جان سکتی ہے کہ اسکے ملک میں دیگر پڑھی لکھی خواتین کیا کر رہی ہیں وغیرہ وغیرہ۔
یہی نہیں اگر کسی بھی کتاب فروخت کرنے والی جگہہ کا جائزہ لیں تو وہاں اردو میں سب سے زیادہ مذہبی کتابیں ملیں گی۔ جب کہ انگریزی کتابوں میں دنیا کے ہر موضوع پہ ہر طرح کی کتابیں نظر آئیں گی۔
کیا یہ طبقہ یہ سوچتا ہے کہ کیوں عمیرہ احمد ایک اکثریت کو پسند ہے اور کیوں محمد حنیف کو پاکستان میں ایک محدود  طبقے کے علاوہ کوئ نہیں جانتا۔ جب محمد حنیف لکھتے وقت یہ سوچتے ہونگے کہ کس طرح انکے لکھے کو بین الاقوامی سطح پہ دیکھا جائے گا اس وقت عمیرہ احمد کیا یہ سوچتی ہوگی۔ عمیرہ احمد اس وقت اردو کی معروف لکھاری ہیں اور وطن میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد ان سے واقف ہے۔ عمیرہ احمد نے اپنا سفر خواتین اردو ڈائجسٹ سے شروع کیا اور محمد حنیف نے امریکہ کے پبلشنگ ادارے سے۔ عمیرہ احمد کو پاکستان میں توجہ ملی اور محمد حنیف عالمی سطح پہ مداح حاصل کرنا چاہتے ہونگے۔ ایک نے عوامی رجحان کو دیکھتے ہوئے لکھا دوسرے نے  تیسری دنیا سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے دلچسپ حقائق کو اس دنیا کے سامنے پیش کیا جہاں لوگ اس ملک کے بارے میں متجسس رہتے ہیں کہ یہاں پہ دہشت گردی کیسے پھل پھول رہی ہے۔ صرف تجسس، ایک جاہل معاشرے کو اسکی جاہلیت کا طعنہ دینے کا تجسس۔
ادھر پاکستانی بلاگنگ کی دنیا دیکھیں۔ اردو سے کہیں زیادہ بلاگز انگریزی میں ہیں۔ انگریزی بلاگنگ میں پیسے ملنے کے امکانات زیادہ ہیں، شہرت کے امکانات زیادہ ہیں۔ آپ ایک بین الاقوامی دنیا میں موجود ہوتے ہیں۔ زیادہ تبصرے، زیادہ ویوز۔ مگر اس سے پاکستان میں عوامی تبدیلی کیا پیدا ہو سکتی ہے؟ 
جیسی نیت ویسا پھل۔
 نتیجے میں ایک طبقے سے سلمان تاثیر پیدا ہوتے ہیں اور دوسرے سے جو اکثریت میں ہے ممتاز قادری اور اس پہ پھول برسانے والے پیدا ہوتے ہیں۔ جب سلمان تاثیر مارے جاتے ہیں تو انکا طبقہ حیران رہ جاتا ہے کہ یہ کیسے ہو گیا۔ وہ اس بات پہ دہشت زدہ ہوتا ہے کہ اس ملک میں عدم برداشت کس قدر بڑھ گئ ہے۔ لیکن وہ اس حقیقت کو جاننے سے دور رہتا ہے کہ اس معاشرتی روئیے میں انکا اپنا رویہ شامل ہے۔
میں اگر اس تلخ حقیقت کو اس طرح بیان کروں تو شاید کچھ لوگوں کو شدید لگے گا۔ لیکن یہ کہ ہمارے اس طبقے کی کیفیت اس شخص سے مختلف نہیں جو اپنے زخم کو کرید کرید کر ہرا رکھتا ہے کیونکہ اسے اس زخم کو سہلانے اور اسکی وجہ سے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں، مزہ آتا ہے۔ یہاں تو شہرت بھی ملتی ہے۔ لیکن دھیان رہنا چاہئے کہ ایک زخم کو کرید کر ہمیشہ ہرا رکھا جائے تو وہ ناسور بن جاتا ہے۔
اس ملک میں تبدیلی کا عمل اس وقت تک شروع نہیں ہو سکتا جب تک کہ تبدیلی کی خواہش کا اظہار کرنے والے اپنی زبان وہ نہیں کر لیتے جو عوام کی زبان ہے۔ یہ حقیقت تو اب برطانیہ جیسے ملک نے بھی سمجھ لی ہے اور اپنی پہلی اردو ویب سائیٹ بھی بنا لی۔ 
 یہ بات اتنی مضحکہ خیز لگتی ہے کہ آپ جنہیں تبدیلی سے روشناس کرانا چاہتے ہیں۔ انکے متعلق آپ ہر ایرے غیرے نتھو خیرے سے اسکی زبان میں بات کرتے ہیں لیکن ان سے انکی زبان میں بات نہیں کرتے۔ انکے مسائل کے حل کے لئے ہر ٹام اینڈ جیری سے مشورہ لیتے ہیں لیکن مسائل کے یہ حل کبھی انکے سامنے نہیں رکھتے اور نہ ہی اسکے لئے خود کوشش کرتے ہیں۔
خیر، میں آجکل ایک کتا پال رہی ہوں  وہ بھی بیلجیئن شیفرڈ جیسا۔ یہ کتا بے حد ذہین اور وفادار جانور ہوتا ہے۔ لیکن اگر اسے انسانوں کے ساتھ گھلنے ملنے کا موقع نہ ملے اور کوئ اس سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے روزانہ کچھ وقت اسکے ساتھ نہ گذارے تو یہ حد سے زیادہ خونخوار بن جاتا ہے۔ اور معمولی باتوں پہ حملہ کرنے کو تیار رہتا ہے۔  یہی نہیں اسے اندازہ ہو جائے کہ مالک مجھے قابو نہیں کر سکتا تو وہ مالک پہ قابو پا لیتا ہے۔ مجھے اسے اپنا مطیع بنانےاور اسکی صلاحیتوں کواپنے حق میں رکھنے کے لئے، اسے نہ صرف احساس تحفظ دینا ہو گا بلکہ اسے یقین دلانا ہوگا کہ میں اس سے محبت کرتی ہوں اور اسکی زبان سمجھتی ہوں۔ کہتے ہیں بیلجیئن شیفرڈ احسان فراموشی نہیں کرتا۔
اس لئے میں تو چلی اسکی زبان سمجھنے اور اسے اپنی سمجھانے۔

Thursday, November 4, 2010

ٹونی بلیئر کی سالی کا مسلماں ہونا

ایک دہرئیے اور ایک خدائے واحد کا یقین رکھنے والے شخص کے درمیان بحث چھڑ گئ۔ گھمسان کا رن چھڑنے کے بعد وہ دونوں اٹھے تو دہریہ خدا کا قائل ہو چکا تھا اور قائیل خدا، دہریہ ہو چکا تھا۔
 اس صورت حال سے ملتا جلتا ایک مصرعہ ہمارے ہاتھ لگا اور ہم آج تک اس کا دوسرا مصرعہ تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ مصرعہ کچھ یوں ہے،  ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا۔ کچھ مصرعے جوڑے۔ مثلاً

اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

کوئ میرے دل سے پوچھے تیرے تیر نیم کش کو
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

نقش فریادی ہے کس کی شوخیء تحریر کا
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

 جاتی ہے کوئ کش مکش اندوہ عشق کی
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

عجب واعظ کی دینداری ہے یارب
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

پیران کلیسا ہوں کہ شیخان حرم ہوں
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

دیکھنا تقریر کی  لذت کہ جو اس نے کہا
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

کچھ جو سمجھا میرے شکوے کو تو رضواں سمجھا
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

کچھ اور بھی اٹکل پچو ہیں لیکن ایک تو یہ پوسٹ طویل ہو جائے گی دوسرے یہ کہ وارث صاحب ہمیں شاعری کے طول و عروض سکھانے کے بجائے دعا کرنے بیٹھ جائیں گے کہ اس حالت میں دعا ہی کام آ سکتی ہے۔ لیکن انکے دل کی تشفی کے لئے یہ واضح کرنا از حد ضروری ہے کہ اس چیز کا ہمیں احساس ہو چلا تھا کہ اس سے معنی و مطالب جتنے پھلیں پھولیں۔ کسی  بھی مجوزہ شعر میں وزن نہیں ہے۔ شاعری کیا ہے بات میں وزن کا ہونا۔ اس لئیے ایک دفعہ پھر اس مصرعے کو ہاتھ میں پکڑے بیٹھے تھے کہ اپنے ایک ساتھی پہ توجہ گئ۔
کیا دیکھتے ہیں کہ کمپیوٹر کے سامنے آنکھیں پھاڑے بیٹھے ہیں۔  اضطراری حالت میں  کبھی ہاتھ تھوڑی کے نیچے رکھتے ہیں، کبھی ایک فرضی داڑھی کو سہلاتے اور درست کرتے ہیں، کبھی کانوں کا مسح کرتے ہیں اور کبھی شہادت کی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کرتے  ہیں۔ ہر دو افعال کے درمیان مسکراتے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ سب نیکی علامت ہے مگر میرے شیطانی دل میں آئ کہ خاموشی سے انکے پیچھے  پہنچ جاءوں کہ کس سائیٹ سے مستفید ہو رہے ہیں۔  سوچا کہ انکی عمر کا تقاضہ ہے کبھی کبھی کے تصور میں برائ کیا ہے۔ لیکن عین اسی لمحے انہوں نے ہمیں دیکھ لیا۔ اب چونکہ ہم بھی انہیں ہی دیکھ رہے تھے اس لئے مجبوراً پوچھنا پڑا کہ کیا بات ہے بڑے پر جوش نظر آرہے ہیں۔ کہنے لگے، آپکو پتہ ہے ٹونی بلیئر کی سالی مسلمان ہو گئ۔

تو اس میں اتنا خوش ہونے کی کیا بات ہے لگ رہا ہے کہ آپکی ہونے والی  سالی آپکے ہاتھ پہ  مشرف بہ اسلام ہوئ ہیں۔ اس بات پہ انکا چہرہ لال ہو گیا اور باچھیں کھل گئیں فوری طور پہ تو یہی سمجھ آیا کہ ایک مشرقی، کنوارے مرد کو سالی کے تذکرے پہ اسی طرح حیا کا مظاہرہ کرنا چاہئیے۔
  کہنے لگے، انشاللہ، ہمارے اعمال درست رہے تو خدا ہمیں بھی کسی ایسی نیکی کی توفیق دے گا۔ جی ہاں، میں سمجھ رہی ہوں۔ اس بہانے آپ کسی گوری خاتون سے شادی کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ میرا خیال ہے آپ ٹونی بلیئر سے ایک میٹنگ کر لیں باہمی دلچسپی کے  امور پہ گفت و شنید کے لئے۔ بارے آپکے علم میں آجائے کہ وہ کون سی نیکی ٹونی بلیئر نے کی کہ اسکے نتیجے میں اتنی نیک سالی انہیں ملی۔
مذاق بنا رہی ہیں آپ میرا،  اہل کتاب خاتون سے تو مسلمان مرد کا شادی کرنا جائز ہے۔ اہل کتاب کا مسلمان مرد سے شادی کرنا جائز ہے تو مسلمان مرد انہیں مسلمان کیوں کرتے ہیں، میں ہنسی۔ آپکے عمران خان نے بھی جمائمہ خان کو مسلمان کر کے شادی کی تھی۔ پھر انکی علیحدگی ہو گئ اور وہ خاتون ایک مغربی خاتون کی طرح اپنے شب و روز اپنے وطن میں گذارنے لگیں۔ عمران خان یا انکی بیگم  کے تذکرے پہ وہ ایکدم لال ٹماٹر ہوئے۔ دیکھیں، وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ کوئ شخص مسلمان ہونے کے بعد اپنے شب و روز کیسے گذارتا ہے یہ آپکا سر درد نہیں ہے۔ خاص طور پہ کسی نو مسلم اہل کتاب خاتون کے متعلق اس طرح بات کرنا تو اخلاقی طور پہ کوئ اچھی بات نہیں۔ پھر وہ اٹھے اور دراز سے چھری نکالی۔  میں نے چستی سے اپنے اور دروازے کے درمیان ، انکے اور دروازے کے درمیان اور پھر اپنے اور انکے درمیان فاصلے کو نظروں سے ناپا اور سوچا کہ تمام فاصلے انتہائ مناسب ہیں اور اگر میں ذرا بھی جسمانی پھرتی سے کام لوں تو فرشتوں کے حساب سود زیاں والے انٹرویو سے جلدی سامنا ہونے سے بچا جا سکتا ہے۔
اس لئے ایک دفعہ پھر ہمت کڑی کر کے  اخلاقی گراوٹ کا مظاہرہ کیا۔ یہ بتائیے کہ ایک نو مسلم اہل کتاب خاتون کو جب آپ تمام رعائیتیں دینے کو تیار ہیں تو کئ اور جدی پشتی مسلمان خواتین کو جو مشرقی روایات کی خاصی حد تک علمبردارہیں کیوں ہر وقت اسلام کے دائرے سے باہر کرنے پہ  کمر بستہ رہتے ہیں یہی سلوک آپکا جدی پشتی مسلمان مردوں کے ساتھ بھی ہے۔ آخر کیوں؟
جواباً وہ چھری کی نوک پہ سیب کی ایک قاش پھنسا کر میرے ذرا قریب آ گئے۔  ایسے ہی جدی پشتی مسلمانوں نے مسلمانوں کی عزت کا جنازہ نکال ڈالا ہے۔ اب ان جیسے روشن خیال ڈھیٹ دیکھ لیں پاسباں ملیں گے کعبے کو صنم خانے سے۔ پھر سیب کی اس قاش کو کچر کچر چبانے لگے۔ 
میرا تو خیال ہے کہ آجکل کے حالات دیکھتے ہوئے ٹونی بلیئر کی سالی کا مسلمان ہونا ہی اسکے روشن خیال اور ڈھیٹ ہونے کا ثبوت ہے۔ میں نے اپنے دوپٹے کے پلو کو  تفکر میں مروڑا۔  لیکن پھر اچانک ہی  میرے منہ سے ایک ہلکی پر جوش چیخ نکلی۔ واءو، یوریکا شعر مکمل ہو گیا۔
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے بھائ میاں
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

انہوں نے مجھے ترس کھانے والی نگاہوں سے دیکھا۔ اور جا کر اس خبر کو دوسرے جدی پشتیوں کو اس طعنے کے ساتھ فارورڈ کرنے لگے کہ  بے حیا ، شرم کر۔
-
-
-

چھری واپس دراز میں ، سیب پیٹ میں۔ میں اپنی جگہ محفوظ۔ لیکن یہ کیسی سرگوشی ہے؟
اب بھی وزن پورا نہیں ہوا۔
شاعری کیا ہے بات میں وزن کا پیدا ہونا۔ 
مجھے تو لگتا ہے یہ مصرعہ کسی کی سازش ہے یا بد دعا۔