میں ہمیشہ یہ سمجھتی رہی کہ زکوِٰت اس زائد مال پر فرض ہوتی ہے جو آپکے پاس سال بھر پڑا رہا ہو۔ یہاں زائد سے میری مراد صاحب نصاب ہونا ہے۔ اپنی شادی والے دن جب مختلف حاصل ہونے والے تحائف کی وجہ سے میں صاحب نصاب ہو گئ تو میں نے فیصلہ کیا کہ ہر سال اپنی شادی کے سالگرہ کے دن کو زکوٰت کا حساب لگانے کا دن بنا لیا جائے۔ اور اگر اس درمیان خدا کسی اور چیز کی توفیق دے تو اسکی زکوٰت وقت خرید پر ادا کر کے اسے باقی چیزوں کے حساب کتاب میں ڈالدوں۔ یعنی اب اسکی زکوٰت بھی باقی چیزوں کے ساتھ ادا کی جائے گی۔
کچھ عرصے بعد رمضان آگیا۔ گھر میں نئے پرانے کام کرنے والے زکوٰت کا مطالبہ کرنے لگے۔ اس وقت ابھی سال ہونے میں کافی عرصہ تھا۔ اس لئے میں نے زکوٰت سے تو معذرت کر لی البتہ جو کچھ اور ممکن ہوا وہ کر دیا۔
لیکن اب ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ آخر رمضان میں کیوں اتنے جوش و خروش سے زکوٰت دی جاتی ہے۔ کسی نے ہمیں کہا کہ ارے اپنی علامیت ایک طرف رکھ دیں۔ آپ نے بے شک پڑھا لکھا ہے لیکن آپ سے بہتر اسلامیات ہمیں معلوم ہے جو بات آپ کہہ رہی ہیں اسکے حساب سے تو صاحب حیثیت شخص کو ایک رجسٹر رکھنا پڑ جائے گا کہ کونسی چیز کب خریدی۔ ہاں تو، میں نے دلیل دی مال جمع کرنا آسان کام تو نہیں۔ اسکی ذمہ داری ہوتی ہے۔جواب ملا،' اور اسکا کیا کیا جائے کہ آپکو صحیح سے علم نہیں کہ زکوٰت رجب اور رمضان میں دی جاتی ہے'۔ لیجئیے، کہاں تو رمضان کا عقدہ نہ حل ہو رہا تھا۔ کہاں یہ رجب بھی آگیا۔یہ شرمندگی الگ کہ اتنا پڑھنے کے باوجود یہ چیز آج تک کیوں نہ پتہ چلی کہ رجب سے بھی زکوٰت کا تعلق ہے۔
اس لمحہ ء غور وفکر میں اپنی ایک سینئیر دوست کا خیال آیا کہ وہ ان دنوں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد ادارہ الھدی میں قرآنی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ یعنی تفسیر کے ساتھ پڑھنے میں مصروف تھیں۔ انہیں فون کھڑکھڑایا۔
باتوں باتوں میں، میں نے انہیں اپنا مسئلہ بتایا۔ کہنے لگیں، 'آج ہی زکوٰت والا سبق ختم کیا ہے۔ رجب کی کہانی یہ ہے کہ اس حکم سے پہلے عرب اپنے دیوی دیوتاءووں کے نام سے پیسے نکالا کرتے تھے جس کے لئے انہوں نے رجب کا مہینہ مقرر کیا تھآ۔ جس سال زکوٰت فرض ہوئ اس سال رسول اللہ نے رجب کے مہینے اپنے قاصد تمام قبائل کو بھیجے تاکہ انہیں نئے حکم کا پتہ چل جائے اور جو رقم انہوں نے اس سال اپنے بتوں کے لئے نکالی تھی اسے وصول کر لیا جائے۔ بس اس سال اس مہینے وصولی کے بعد یہ چیز ختم ہو گئ۔ کیونکہ زکوٰت سال بھر رکھے رہے زائد مال پر فرض ہے'۔
اچھا، میں نے مزید کہا۔ 'اب لگے ہاتھوں یہ بھی بتا دیں کہ رمضان سے اسکا کیا تعلق ہے'۔ اب وہ تھوڑا سا جھجھکیں۔' ویسے تو کوئ تعلق نہیں ہے۔ لیکن دیکھو ناں رمضان میں ہر نیکی کا ثواب کئ گنا بڑھ جاتا ہے۔ اور پھر عید پر لوگوں کو پیسے چاہئیے ہوتے ہیں اس لئے لوگ رمضان میں زیادہ زکو٘ دیتے ہیں'۔
یہ جو ثواب کمانے کی ایک نئ لہر پاکستانی مسلمانوں میں نظر آتی ہے۔ کیا واقعی اس سے انہیں اتنا ہی ثواب ملتا ہے۔اگر آپ پر محرم کے مہینے زکوٰت فرض ہوتی ہے تو آپ نو مہینے رمضان کےمہینے کا انتظار کریں گے تاکہ زیادہ ثواب ملے۔
میں گاڑی سگنل پہ روکے اپنی باری کا انتظار کر رہی ہوں۔ ہر طرف بل بورڈز لگے ہیں۔ خوب بڑے۔
ایک طرف عمران خان کالی شیروانی پہنے کھڑے مسکرا رہے ہیں. انہیں زکوٰت چاہئیے اپنے ہسپتال کے لئے۔ دوسری طرف ایک بورڈ پر ایک غریب بچی کا چہرہ سوال کر رہا ہے، زکوٰت مجھے نہیں دیں گے کیا۔ ایک اور جانب کسی اور ادارے کا اشتہار لگا ہے، ہم ہیں اسکے صحیح مستحق۔گاڑی کے شیشے پر تین چار لوگ ہاتھ مار رہے ہیں، زکوٰت، زکوٰت۔ میری چھوٹی سی بچی پیچھے اپنی کار سیٹ میں بندھی مجھ سے سوال کرتی ہے۔ اماں، یہ کیا کر رہے ہیں۔ میں گاڑی آگے بڑھاتی ہوں اور سوچتی ہوں۔ یہ سب زیادہ ثواب حاصل کرنے والوں کی مدد کر رہے ہیں۔

![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)
