Showing posts with label karachi University. Show all posts
Showing posts with label karachi University. Show all posts

Thursday, March 4, 2010

رقیب سے

بارے کچھ اپنی تعلیمی قابلیت کا تذکرہ ہو جائے کہ اس سے اردو بلاگنگ کی دنیا میں کچھ لوگوں کو 'کچھ کچھ' ہوتا ہے۔ اور عالم یہ ہو گیا ہے کہ
ذکر میری پی ایچ ڈی کا، اور پھر بیاں انکا
بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
تو ان سب رقیبوں کو نئے راستے دیتی ہوں۔ دل کے بہلانے کو کچھ نہ کچھ تبدیلی لاتے رہنا چاہئیے کہ یہ دل مانگے مور۔  اسکی وجہ یہ ہے کہ سب کے پاس جو اطلاعات ہیں وہ خاصی ادھوری ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ لوگ میری پی ایچ ڈی کو اپنے لئیے ایک تازیانہ سمجھتے ہیں۔ لیکن چونکہ یہ کارنامہ میں نے بلاگنگ کی دنیا میں آنے سے پہلے کیا تھآ اس لئے اس میں میرا قصور اتنا نہیں جتنا کہ لوگوں کی نیت میں فتور ہے۔
میں نے بیچلرز آنرز، کراچی یونیورسٹی سے کیا اور پھر وہیں سے نامیاتی کیمیاء میں ماسٹرز کیا۔ اور ابھی ہمارے ماسٹرز کا آخری سمسٹر ختم بھی نہ ہوا تھآ کہ یونیورسٹی میں واقع تھرڈ ورلڈ کے سینٹر آف ایکسیلینس کے اینٹرنس ٹیسٹ اور انٹرویو میں جا پہنچے۔ خدا کا کرنا یوں ہوا کہ دونوں مرحلوں سے بخیر و عافیت گذر گئے۔ اور بس ماسٹرز کے آخری پیپر کے بعد تمام تر مخالفتوں اور نا مساعد زمینی حالات  کے باجود ریسرچ شروع کر دی۔
پی ایچ ڈی کا مطلب ہے ڈاکٹر آف فلاسفی۔ اگر آپ اسکی تمام شرائط کو پورا کریں تو یہ محض ایک کاغذ کی ڈگری نہیں ہوتی بلکہ یہ آپکے روئیے، نظریات اور زندگی کی طرف دیکھنے کی صلاحیتوں میں واضح تبدیلیاں لے آتی ہے۔ اگر میں ماسٹرز کرنے کے بعد اس راہ پہ قدم نہ رکھتی تو آج کی نسبت بہت مختلف ہوتی۔ اسکی وجہ ریسرچ کے مطالبات ہیں۔۔ 
 چونکہ دراصل پی ایچ ڈی فلسفے کی طرف لیجاتی ہے جو اپنے ارد گرد کی دنیا کو عقل کی عینک سے دیکھنے کا نام ہے۔ اسکا بنیادی مقصد کسی انسان میں آزاد سوچ کو پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ماسٹرز تک کی سطح پہ ہم ایک کورس پہ عمل کرتے ہیں اسی میں سے ہمارا امتحان ہوتا ہے۔ لیکن پی ایچ ڈی کی سطح پہ اس بات کی تربیت ہوتی ہے کہ ہم اپنے طور پہ مسائل پہ قابو پانے اور انکے حل کی طرف اپنی صلاحیتیں خود سے استعمال کرنے کے قابل ہوں اور اس سے بھی ایک قدم آگے کہ ہم مسائل کے پیدا ہونے سے قبل یہ کامیاب اندازہ لگانے کے قابل ہو جائیں کہ آنیوالے مسائل یہ ہونگے۔ انگریزی میں اسے ویژن کا پیدا ہونا کہتے ہیں۔ ویژن کا اردو ترجمہ مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت  کر سکتے ہیں۔ ایک زمانے میں جب اس طرح کی اسناد نہیں ہوتی تھیں لوگ اپنے تجربے، مشاہدے اور علم سے یہ قوت حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہ ایک مشکل بات ہوتی تھی کہ ہر شخص اپنے محدود ذرائع کی وجہ سے صحیح بات تک پہنچنے کے قابل نہ ہو پاتا تھا۔ وقت کے ساتھ آسانیاں آئیں، یونیورسٹیز کی صورت میں ان تمام طریق ہائے کو ایک جگہ کر دیا گیا۔ اور سکھانے کے طریقے نکالے گئے اور یوں اب اہل طلب کے لئے مشکلات پہلے سے کم ہیں۔
لیکن سیکھنے کا عمل اتنا ہی وقت لیتا ہے جتنا آج سے ہزار سال پہلے لیتا تھا۔ اب زندگی اس لئے مشکل ہو گئ کہ مجھے اپنے کسی تحقیقی مضمون پہ تحقیق کرتے وقت گذشتہ ہزار سال میں جو کچھ ہوا اسے بھِی نظر میں رکھنا پڑتا ہے ۔ جبکہ آج سے ہزرا سال پہلے کسی شخص کی الجھنیں یہ نہیں کچھ اور تھیں۔
 اب سائینسی سطح پہ پی ایچ ڈی کرنے کے دوران مختلف مرحلے ہوتے ہیں۔ پہلا مرحلہ ریسرچ پروجیکٹ تیار کرنا ہوتا ہے، اس میں ایک سپر وائزر یہ مدد کر سکتا ہے کہ وہ مختلف موضوعات بتا دے جسکے تحت اس ادارے میں سہولیات موجود ہوں اور وہ خود بھی اسے کرانے کی اہلیت رکھتا ہو۔ اس پروجیکٹ پہ کام کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اب تک کی ریکارڈڈ تاریخ میں اس پہ کس نوعیت کا کام ہوا ہے۔ اس ساری تاریخ کو مختلف جرنلز سے کھنگالا جاتا ہے اور اس مِں ذرا سی غلطی یا صرف نظر کی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ اس صورت میں آپکا کام نقل کہلائے گا اور کوئ بھی اچھا ادارہ اس پہ یہ سند نہیں دیگا۔
 دوسرے مرحلے پہ اس تمام پروجیکٹ کو تجرباتی سطح پہ کر کے ایسے نتیجے نکالنے ہوتے ہیں جو آپ سے پہلے کبھی کسی نے نہ نکالے ہوں، آپکا نتیجہ بالکل نیا نکور ہونا چاہئیے۔ تیسرے مرحلے پہ آپ ان تمام نتائج کو جو آپ نے اخذ کئے ہوتے ہیں انکے لئیے دلیلیں تلاش کرنی ہوتی ہیں اور ان پہ جو کام پہلے کیا گیا تھا۔ چاہے وہ سو سال پہلے ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔ اپنی دلیلی کو ان تمام نتائج کی رو سے ثابت کرنا ہوتا ہے۔ اچھا، یہ تمام کام تو چلتا رہتا ہے۔ لیکن اسکے ساتھ ہی ساتھ کورسز ہوتے ہیں اور انکے امتحانات بھی جنہیں پاس کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ نظریات طور پہ بھی اپنے میدان کے علاوہ بھی باقی چیزوں کی معلومات رہے۔ وہ تمام نتائج جو آپ نے انپے تجربات کے دوران حاصل کئے انہیں چھوٹے چھوٹے تحقیقی مضامین کی شکل میں شائع کرانا ضروری ہوتا ہے۔ ان مضامین کو تحقیقی مقالہ کہتے ہیں۔ ان مقالوں میں  کسی نئ معلومات کو بیان کیا جاتا ہے، اسکے ثبوت اور اس پہ موجود حقائق کی داستان دی جاتی ہے۔ کسی بھی سائینسی جریدے میں چھپنے سے پہلے انکا تفصیلی مطالعہ ریفریز کرتے ہیں۔ جہاں سے میں نے پی ایچ ڈی کیا تھا۔ وہاں کی شرط غیر ملکی سائینسی جریدے تھے۔ انکے ریفریز بھی غیر ملکی ہوتے ہیں ایک پی ایچ ڈی کے لئیے کم سے کم شائع ہونے والےتحقیقی مقالوں کی تعداد مقرر ہوتی ہے۔
اسکے ساتھ ہی ساتھ، ہر پی ایچ ڈی کرنے والے کو اپنی تمام تربیت کے دوران سیمینارز کی ایک مخصوص تعداد دینی ہوتی ہے۔  جس میں تمام فیکلٹی اور ادارے کے تمام طالب علم اور اگر باہر سے کوئ مہمان سائنسداں موجود ہو سب شریک ہوتے ہیں اور ہر ایک سوال کرنے کا حق رکھتا ہے جسکا تشفی جواب دینا ضروری ہوتا ہے۔ ہر سیمینار کی طوالت ایک گھنٹہ ہوتی ہے۔ اسکی تیاری کسی طرح ایک تحقیقی مقالے سے کم نہیں ہوتی البتہ اس میں آپکی کوئ نئ تحقیق نہیں بلکہ پرانے کام کو استعمال کیا گیا ہوتا ہے۔ پرانے کام سے میری مراد  وہ کام ہے جو تحریری سطح پہ  دنیا میں کہیں بھی موجود ہے۔
اسکے علاوہ گروپ میٹنگز اور گروپ ڈسکشنز ہر ہفتے ہوتے ہیں، کانفرنسز میں شرکت اور ورکشاپس میں تربیت بھی شامل ہیں۔ اگر ہم باہر کے کسی سائنسداں کے ساتھ مل کر کسی پروجیکٹ پہ کام کر رہے ہوں تو اسے بھی رپورٹ دینی ہوتی ہے۔ اور اپنے روزانہ کے کام کی رپورٹ بھی تیار کرنا ہوتی ہے۔
پی ایچ ڈی کے آخری مرحلے میں ایک پینل کے سامنے آپ نے جو کچھ دوران پی ایچ ڈی کیا اسکا دفاع کرنا ہوتا ہے۔ اسکا ایک اور اہم مرحلہ، اپنے تمام نتائج اس پہ گفتگو، اسکی پچھلی تاریخ اور اسے تیار کرنے کے لئیے جتنے بھی حوالے آپ نے استعمال کئیے، جنکی تعداد کءی سو تک جا پہنچتی ہے سب اس تھیسس میں جمع کرنے ہوتے ہیں۔  جس پہ سند ملتی ہے۔
یہ تھیسس ، اس ادارے سے جہاں سے میں نے پی ایچ ڈی کیا وہاں سے پاکستان سے باہر کسی بھی کیمسٹری کے اعلی ادارے میں کام کرنے والے  دو مختلف تحقیق دانوں کو بھیجا جاتا ہے جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ تحریر اس قابل ہے کہ اس کو پی ایچ ڈی کی سند دی جا سکے۔
 تو محترم قارئین، چاول کے دانے پہ تحریر لکھنے والا یقیناً بہت بڑا آرٹسٹ ہے، میرے کمپیوٹر کے ہارڈ وئیر پہ کام کرنے والا اپنے کام کا بے حد ماہر ہے، حتی کہ وہ میکینک جس  سے میں اپنی گاڑی صحیح کراتی ہوں وہ اس سلسلے میں مجھ سے کہیں زیادہ بہتر معلومات رکھتا ہے، شیف ذاکر مجھ سے اچھا کھانا پکاتے ہونگے، طاہرہ سید، مجھ سے اچھا گا تی ہیں ۔ ریما مجھ سے کہیں بہتر ڈانس کر سکتی ہیں۔  ایشوریا رائے مجھ سے زیادہ خوبصورت ہے۔ لیکن ان سب نے وہ نہیں کیا جو میں نے کیا ہے۔ 
مزے کی بات یہ ہے کہ میں تو کسی پہ اپنا علم جتاتی بھی نہیں نہ کسی بھی شخص کے بارے میں یہ جاننے کی کوشش کرتی ہوں کہ اسکی تعلیمی استطاعت کیا ہے۔ آج تک میں نے کسی کے بلاگ پہ اسکا پروفائل نہیں چیک کیا۔ میں تو لوگوں کو انکے لکھے ہوئے سے سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں۔  اب کسی کا اس بات پہ اپنا دل جلانے کا کیا فائدہ۔ کیا فائدہ کہ آپ ہر وقت اس چیز پہ اپنی انگلیاں تھکاتے رہیں کہ دراصل پی ایچ ڈی کی کوئ اہمیت نہیں اور اس چیز کی اہمیت ہے اور اس چیز کی ہے۔ اس سے صرف ایک بات مجھے پتہ چلتی ہے اور وہ یہ کہ آپ کو اپنے اوپر اعتماد نہیں۔  ایسا کہنے والا مجھے اس ٹین ایجر بچے کی طرح لگتا ہے جو اپنے ارد گرد کی دنیا سے ہر صورت بغاوت کرنا چاہتا ہے۔ بغیر اپنی صلاحیتوں کو آزمائے۔
آپ میری بیان کی ہوئ کسی چیز میں غلطی نکالنا چاہتے ہیں بصد شوق۔ مگر میری پی ایچ ڈی پہ تبرہ بھیجنے سے آپکے الفاظ کی اہمیت میں کوئ اضافہ نہیں ہوگا۔ اگر آپ میری کسی دی ہوئ معلومات کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں تو کسی مستند لکھنے والے کا حوالہ دیجئیے اور پھر اپنی بات کریں۔ میری پی ایچ ڈی کی تربیت مجھ سے یہی کہتی ہے۔ کسی سنی سنائ بات پہ یقین نہ کریں جب تک اسے ایسے تجربے کی کسوٹی پہ پرکھ نہ لیں جوکوئ دوسرا کرے تو اسے بھی وہی نتیجہ ملے جو آپکو ملا ہے۔ یا اگر ایسا نہ کر سکیں تو کسی مستند ذریعے سے اسکی تصدیق نہ کر لیں۔ اور یہ مستند ذریعہ لکھے ہوئے الفاظ ہوتے ہیں۔ اس لئیے ہم اپنی مذہبی کتاب کو اتنی اہمیت دیتے ہیں۔ اب اعتماد سے بات کرنی ہے تو یہی طریقہ لگانا ہوگا۔ ورنہ دوسری صورت یہی ہوگی کہ آپ کسی کی علمی قابلیت کے بارے میں جان لیں گے تو اپنی سطح بلند کرنے کے بجائے اس میں خامیاں نکالتے رہیں گے۔ جو لوگ اپنی عمر گذار چکے انہیں چھوڑ کر باقی سب  تو ابھی عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں انہیں ہر لحظہ کچھ نئے کی امنگ سے بھرا رہنا چاہئیے۔ پھر یہ رویہ کیوں؟
میری باتوں پہ آپکا عمل کرنا بالکل ضروری نہیں۔ کیونکہ آپ  کہہ  سکتے ہیں کہ  آپکی بات پہ کیوں عمل کیا جائے آپ تو کتاب لئیے گھڑے میں بٹھی ہیں اور لوگ بالائ چاٹ چاٹ کرایک گھڑے سے نکل کر دوسرے میں جا چکے ہیں۔

Tuesday, August 25, 2009

کون سی تعلیم


اب وقت ملا کہ کچھ تعلیم پر بھی لکھا جائے۔ سب نے اپنے طالب علمی کے زمانے کو یاد کیا۔ فی الحال میں ان خوش نصیبوں میں سے ہوں جنہیں اب سے تین سال پہلے تک بہت مختصر عرصے کے لئے تدریس سے بھی وابستہ رہنے کا موقعہ ملا وہ بھی پاکستان کی سب سے بڑی جامعہ اور ایک اور پبلک یونیورسٹی میں۔ تو میرے پاس پڑھانے کا بھی تجربہ ہے اور اپنے طالب علموں سے آگاہ ہونے کا ایک ذریعہ بھی۔
اس سے پہلے یہ بتادوں کہ طالب علمی کے زمانے میں اسکولوں کی عمارت سے قطع نظر اور ہمارے ٹوٹے پھوٹے نظام کے باوجود کچھ انتہائ اچھے استاد ملے خاص طور پر اسکول کی سطح پر اور پھر یونیورسٹی میں کہ انکی بدولت دماغ کی گرہیں کھل گئیں۔ میری اردو کی اچھائ ساری کی ساری چھٹی سے میٹرک تک ملنے والی اردو کی ٹیچرز پہ جاتی ہے۔ اسلامیات کے استاد نے گیارہ سال کی عمر میں قرآن ہاتھ میں لیکر مختلف آیتوں اورانکے حوالے اور انکے پس منظر دیکھنے کی عادت ڈالی۔ اور سائنس کے ٹیچر نے جستجو کے جذبے کو ہوا دی۔ جبکہ مطالعہ ء پاکستان کی استاد نے تاریخ سے دلچسپی پیدا کرائ۔ کچھ معاشی اور معاشرتی مسائل کی بناء پر کوچنگ سینٹر اور ٹیوشن پڑھنے کی لعنت سے محفوظ رہے اور اس طرح خود سے تلاش کرنے اور کورس کی کتابوں کے علاوہ کتابں پڑھنے کو ملیں۔ اس نے یقین پیدا کیا اپنے آپ پر۔ جہاں استاد اچھے ملے وہاں قدرت نے بھی کچھ خوبیوں سے نوازا تھا ، جنکو میرے اسکول ٹیچرز نے خاصہ ابھارا۔ یہ میری پی ایچ ڈی کے دوران کا قصہ ہے جب میں نے انسانوں کے مکروہ چہرے زیادہ دیکھے۔ لیکن خیر اندھیرا دیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ اسکے بغیر روشنی کا احساس صحیح سے نہیں ہوتا۔ اسکا ایک فائدہ یہ ہوا کہ لوگوں سے اور ارد گرد کے ماحول سے توقعات رکھنا چھوڑ دیں۔ جو کچھ ہے وہی ہے۔ اور جو خود کر سکتے ہیں وہی ہوگا۔
بہ حیثیت استاد میرے تجربات بہت دلچسپ رہے۔ کیونکہ شومی ء قسمت مجھے پی ایچ ڈی کرنے کا موقع مل گیا تھا اور وہ بھی ملک کے بہترین ادارے سے تو اب لوگ اس چیز سے خائف ہوتے تھے خاص طور پر وہ لوگ جو اپنی اہلیتوں کو جانتے تھے اور علم سے مقابلے کرنے کی بجائے اپنے بےکار انسانی خواص کا مظاہرہ کرنے لگے۔ نجانے کیوں ہمارے معاشرے میں ذہنی مریض اتنے زیادہ کیوں ہیں۔
اپنے سیکشن کے چودہ ٹیچرز میں سے صرف چار کے متعلق میں کہہ سکتی ہوں کہ وہ انسانوں کی طرح سوچ سکتے تھے جبکہ تین کے متعلق مجھے یقین تھا کہ وہ شیزوفرینیا کے مریض ہیں وہ بھی مکمل طور پر اور ان تین میں سے دو کے ساتھ مجھے تین سمسٹر گذارنے پڑے۔ کوئ اور جونیئر ٹیچر انکے ساتھ جانے کو تیار نہ تھا اور میں کسی بھی سیاسی پارٹی کے ساتھ شامل نہ ہونا چاہتی تھی جو سپورٹ دے۔ خیر یہ ایک الگ دلچسپ کہانی ہے۔
سلیبس کی تیاری کے وقت ہمارے سینیئر ٹیچر جو دس پندرہ سالوں سے ٹیچنگ سے وابستہ تھے۔

جس قسم کی تجاویز دیتے تھے۔ انکو سن کر عقل حیران ہوتی تھی۔ مثلاً فرسٹ ایئر آنرز کا سلیبس
ان میں سے کوئ تیار کر کے لایا۔ اسکا معیار اتنا کم تھا کہ مجھے میٹنگ میں کہنا پڑا کہ اس سے بہتر سلیبس توانٹر میں کالج کی سطح پر پڑھایا جاتا ہے۔ انکی بات سنیں۔ کیونکہ کالجز میں کچھ نہیں پڑھایا جاتا اس لئےکورس کو آسان رکھنا چاہئیے۔ تاکہ آنیوالے اسٹوڈنٹس کو پریشانی نہ ہو۔

میں اور میری ایک اور جونئیر ساتھی نے کہا کہ یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے کہ اسٹوڈنٹس کو کالج میں کسطرح پڑھایا جا رہا ہے۔ ہمیں یونیورسٹی کو دیکھنا چاہئیے۔ یونیورسٹی کی سطح پر کورسز کو دیگر بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے معیار کا ہونا چاہئیے ۔ اسٹوڈنٹس کے اوپر دباءو پڑنا چاہئیے کہ وہ پڑھیں۔ یونیورسٹیاں اسٹوڈنٹس کو آسانیاں دینے کے لئے نہیں ہوتی ہیں۔ بلکہ ان میں محنت کی عادت کو ترقی دیکر انہیں کندن بناتی ہیں۔خیر اس بات پر کافی گرم بحث ہوئ۔ کیونکہ سلیبس کو جدیدکرنے کا مطلب یہ تھا کہ انہیں اپنے پرانے نوٹس صحیح کرنے پڑیں اور خود بھی کچھ نئے سرے سے پڑھنا پڑے۔ جبکہ یہ بھی ہماری یونیورسٹیز کا خاصہ ہے کہ استاد کو لآئبریری جانے سے مبرا سمجھ لیا جاتا ہے۔ وہ تو استاد ہیں انہیں سب آتا ہے۔ فی زمانہ استادکی یہ تعریف بھی بدل چکی ہے۔استاد کو بھی علم کی دوڑ میں شامل رہنا پڑتا ہے ہر لمحے، ہر لحظہ۔
کوچنگ سینٹرز اور ٹیوشنز سے فیضیاب ہونے کی وجہ سے اسٹوڈنٹس خود سے کچھ نہیں کرنا چاہتے۔ میں نے دیکھا کہ ہر اسٹوڈنٹ صرف لیکچر تک محدود رہنا چاہتا ہے۔ ریفرنس کی کتابوں کو کھولنے والے اور لیکچر کے مواد پر مشتمل پرابلمز کو حل کرنے میں دلچسپی لینے والے ایک سو بیس کی کلاس میں سے چار پانچ سے زیادہ نہ تھے۔ کسی بھی مضمون کو پڑھکر اسے اپلائ کرنے کی صلاحیت نہ پیدا ہو تو اسکا پڑھنا نہ پڑھنا برابر ہے خاص طور پر سائنس نظریات کو یاد کرنے کا نام نہیں۔ لیکن اب اسٹوڈنٹس اتنے سہل پسند ہو گئے ہیں کہ اگر انہیں کلاس میں مثال کے لئے دو جمع دو چار سکھایا ہے اور امتحان میں تین جمع تین دے دیا جائے تو یہ سوال آءوٹ آف کورس قرار دیا جاتا ہے۔
اسٹوڈنٹس کا دماغ دیگر سرگرمیوں میں اتنا مصروف رہتا ہے کہ بلیک بورڈ سے صحیح مساوات اتارنے میں دشواری ہوتی ہے۔ خود میں نے تو یہ طریقہ بھی رکھا کہ پریکٹیکل کلاسز میں جہاں میرا اندازہ کہتا تھا کہ اس مساوات میں ذرا پیچیدگی ہے اور ان آرام پسندوں میں سے چند ایک کے علاوہ کوئ صحیح اتارنے کے قابل نہ ہو گا۔ اسکے لئے میں چاکلیٹ کا تحفہ بھی رکھتی تھی۔ جی، یہ ہیں ہمارے یونیورسٹی لیول کے طالب علم۔
لڑکے یونیورسٹی میں آکر سیاست کو رعب جمانے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ نوکری تو بعد میں اماں ابا سفارش سے دلا ہی دیں گے یا پھر اس نظام کو برا بھلا کہہ کر کہہ دیں گے کہ یہاں رکھا کیا ہے۔انہیں تو یہاں سے کاغذ کا ایک ٹکڑا لیکر نکلنا ہے۔ نظام بھی چونکہ آسان طلب لوگوں پر مشتمل ہے اس لئے ایک سو بیس کی کلاس میں جہاں میں سمجھتی ہوں کہ صرف بیس اسٹوڈنٹس بھی بمشکل کامیاب ہونگے۔ وہاں ساٹھ ستر لوگوں کو اضافی نمبر دیکر پاس کرنا پڑتا ہے، ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ کی ہدایت پر۔
ادھر اساتذہ میں ذاتیات کو اہمیت دینے کا یہ عالم کہ ہمارے سینئیر ٹیچر ہم سے نمبروں کی شیٹ منگاتے ہیں اور جس اسٹوڈنٹ کو ہم نے سب سے زیادہ نمبر دئے ہوتے تھے اسکو کہیں ساتویں آٹھویں نمبر پر پہنچا دیتے میرے چھ اسٹوڈنٹس کے ساتھ انہوں نے ایسا کیا۔ محض ان اسٹوڈنٹس سے اپنی ذاتی پرخاش نکالنے کے لئے۔ اور مجھے میری حیثیت جتانے کے لئے جبکہ میں ان نمبروں کو ڈسپلے بورڈ پر لگا بھی چکی تھی۔ ایسا کرتے ہوئے انہیں ذرا بھی احساس ندامت نہ ہوتا کہ وہ بہ ہر حال مجھ سے اور ان بچوں سے بڑے ہیں۔ اور اس طرح وہ کس قسم کی مثال قائم کر رہے ہیں۔
تو جناب نطام کی خرابی میں ہر ایک کا حصہ ہے۔ اور جب تک معاشرے کی سوچ تبدیل نہ ہو فرد واحد کے لئے کچھ کرنا ممکن نہیں۔
میرے ایک بلاگر ساتھی نے اس بات پر مجھے ایچ ای سی کی ڈائریکٹرشپ عنایت فرمائ ہے کہ میں یہ کہتی ہوں کہ یونیورسٹی کی تعلیم ایک عیاشی ہے اور یہ صرف ان لوگوں کے لئے ہوتی ہے جو اسکا رجحان رکھتے ہیں۔ انکا خیال ہے کہ اس طرح طبقاتی فرق پیدا کیا جائےگا۔ جناب تمام ترقی یافتہ ممالک میں ایسا ہی ہوتا ہے وہاں ہمارے یہاں سے زیادہ طبقاتی فرق نہیں ہے۔ حتی کہ بعض ممالک میں اسکول کی سطح پر ان اسٹوڈنٹس کو مارک کر لیا جاتا ہے جو یونیورسٹی تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
ہماری پبلک یونیورسٹیاں عوام کے پیسے سے اور انکے دئیے گئے ٹیکس سے چلتی ہیں۔ یہاں سے ایسے لوگوں کو سامنے آنا چاہئیے جو ملکی سطح پر اپنی ذات سے کچھ فائدہ پہنچا سکیں۔ نہ کہ یہ سیاست کا گڑھ بن جائیں۔ ویسے بھی یونورسٹیاں بنیادی طور پر تحقیقی ادارے ہوتی ہیں اور کسی قوم کے مستقبل کی ترجیحات کے لئے کام کرتی ہیں۔ اگر وہاں تحقیق نہیں ہو رہی ہے تو ان اداروں کو یونیورسٹی نہیں کہنا چاہئیے۔ اس لئیے ہماری یونیورسٹیاں دنیا میں کسی رینک میں شامل نہیں ہیں۔ ذہین مگر غریب اسٹوڈنٹس کے لئے وظائف کا اجراء ہوتا ہے۔ تاکہ انہیں یہ شکایت نہ ہو کہ انکے ساتھ پیسوں کی وجہ سے امتیاز کیا گیا ہے۔
وہ لوگ جو یونورسٹی تعلیم حاصل کرنے کا رجحان نہیں رکھتے۔ انکو اپنے رجحان کو دیکھتے ہوئے تعلیم حاصل کرنی چاہئیے۔ لوگوں میں روزگار کے حصول میں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ کا جال بچھانا چاہئیے۔ تاکہ وہ بھی کسی قسم کے احساس کمتری کا شکار نہ ہوں۔
مکینک، ٹیکنیشنز، شیف، پلمبر ، درزی اور اسطرح کے دیگر پیشے، یہ بھی علم کی ہی شاخیں ہیں۔

ان علوم کے لئے بھی ادارے ہونے چاہئیں۔ان میں مہارت حاصل کر کے اس علم کے ذریعے بھی پیسہ کمایا جا سکتا ہے۔
محض یونیورسٹی کی تعلیم کو تعلیم سمجھنا بھی بہت بڑی لا علمی یا بچپنا ہے۔ قدرت نے مختلف لوگوں کو مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ جس شخص کو حساب کی تھیورمز سمجھنے سے دلچسپی نہیں یا وہ انٹرنیشنل افئیرز نہیں جاننا چاہتا۔ وہ ایک ناکارہ انسان تو نہیں۔ انکی دیگر صلاحیتوں کی قدر کر کے ہی انہیں کارآمد شہری بنایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ کسی بھی قسم کی تعلیم کا بنیادی مقصد یہی ہوتا ہے۔ زیادہ شعور اور زیادہ دیکھنے کی صلاحیت، اس میڈیم یا راستے سے جو آپکو دلچسپ لگتا ہو۔ یہ آپکی ذہانت اور خوش قسمتی ہے کہ آپ اسے اپنے ذریعہ ء روزگار میں تبدیل کر لیں۔

ریفرنس؛

میرے ایک بلاگر ساتھی


Thursday, August 13, 2009

برسبیل تذکرہ


میں اپنے کمرے میں آنیوالی لیب کی تیاری کر رہی ہوں کہ کمرے کے دروازے پہ دستک ہوتی ہے۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ یہ فرسٹ ائیر آنرز کی دو لڑکیاں ہیں۔ ایک برقعہ پہنتی ہے اور دوسری برقعے کے بغیر۔ میری ایک سو بیس اسٹوڈنٹس کی کلاس میں یہ لڑکیاں ان پانچ چھ اسٹوڈنٹس میں شامل ہیں جو کلاس کے بعد مجھ سے ملتے ہیں، اس لیکچر کو ڈسکس کرتے ہیں، مزید حوالے چاہتے ہیں اور ان سے منسلک سوالات کو حل کر کے مجھے دکھانے بھی ضرور آتے ہیں۔ انکی اس ساری مشق کے پیچھے نہ صرف انکی علم حاصل کرنے کی لگن شامل ہے۔ بلکہ میرا وہ رویہ ہے جو میرے بیشتر سینئیر استادوں کو جو کچھ عرصہ پہلے میرے بھی استاد رہ چکے ہیں ایک نظر نہیں بھاتا۔
میں نے ٹیچرز کی ایک غیر رسمی میٹنگ میں اپنے کچھ سینئیر اساتذہ کو یہ بات کہتے سنا کہ یہ کتنا عجیب ہے کہ جونئیر اساتذہ کے کمرے میں اسٹوڈنٹس بغیر کسی جھجھک کے چلے جاتے ہیں۔ اس طرح تو استاد کی کوئ عزت اور احترام اور رعب دبدبہ نہیں رہتا۔ اور اس طرح سے اسٹوڈنٹس میں کتنا بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ یہ سینئیر اساتذہ اپنے ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں اور میں نے ابھی آغاز کیا ہے۔انکے اور میرے درمیان ایک نسل کا ہی نہیں اس لامتناہی علم کا بھی فرق ہے جو ٹیکنالوجی کی بے پناہ ترقی کی وجہ سے ایک آتش فشاں پہاڑ کی طرح پھوٹ پڑا ہے۔ آج استاد ہونےکی تعریف کچھ مختلف ہو گئ ہے۔
ہاں، میری ان اسٹوڈنٹس میں سے برقعہ پوش خاتون کا نام نزہت اور دوسری کا نام سائرہ ہے۔ ناموں سے آسانی رہتی ہے اور مخاطب کرنے کے مناسب القاب ڈھونڈنے کے تردد سے بچ جاتے ہیں جو بعض اوقات خاصہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ وہ موٹی، چھوٹی فٹبال نما لڑکی اور وہ کالا سا زرافہ مخنچو، یہ نہ صرف ان افرادکی بلکہ مخاطب کرنے والے کی صحت کےلئے بھی مفید نہیں ہوتا۔
ان لوگوں نے دستک دینے کے ساتھ سلام کیا اور کہنے لگیں میم عید مبارک۔ کیسی گذری آپکی عید۔ جواباً میں نے ان سے ان کی عید کے بارے میں پوچھا۔ سائرہ مذہباً عیسائ ہے یہ مجھے اسکے نام کے بقیہ حصے سے پتہ چلا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ مجھے حیرت ہوئ جب وہ امتحان کے زمانے میں اسلامیات یاد کر رہی تھی۔ آپ لوگوں کے لئے تو اخلاقیات کا مضمون ہوتا ہے۔ پھر اسلامیات کیوں پڑھی جا رہی ہے۔ میم سب اسکی تیاری کر رہے ہوتے ہیں اب میں کیا الگ سے ایک مضمون کی تیاری کروں۔ لیکن ہمیشہ اسلامیات پڑھنے کے باوجود وہ عیسائ ہے۔ وہ نہ صرف میرے مضمون کے دونوں حصوں میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کر چکی ہے بلکہ دیگر مضامین میں بھی اسکی کارکردگی نمایاں ہے۔ ان سے کچھ رسمی بات کرنے کے بعد میں پھر اپنے کام میں مشغول ہو گئ۔ پھر انہیں اسی استقامت سے کھڑا دیکھ کر مجھے کچھ شبہ ہوا۔ کوئ خاص بات ہے۔ میں نے دریافت کیا۔ میم عیدی چاہئیے۔ یہ لیجئیے میرا خرچہ آگیا ۔
میں مسکرا دی۔ روزے رکھےتھے۔ نزہت نے بڑے جوش میں جواب دیا سب رکھے تھے۔ اور عید بھی اتنی اہتمام سے منائ۔ سائرہ خاموش کھڑی آہستہ سے مسکراتی رہی۔ میں نے اپنا بیگ چھانا اور دس روپے کا ایک تازہ نوٹ ٹوکن عیدی کے طور پر نزہت کو دیا۔ وہ چیخ پڑی۔ میم اسے تو میں پلاسٹک کوٹنگ کرواکے رکھ لونگی۔ سائرہ نے آواز نکالی اور میری عیدی۔ عیدی روزے رکھنے والوں کو ملتی۔ میں نے اسے چھیڑا۔ اب آپ لوگ بھاگیں میری لیب شروع ہونے میں دس منٹ رہ گئے ہیں۔ وہ خامشی سے چلے گئے۔ میں اپنا لیب کوٹ پہننے لگی کہ دفعتاً مجھے لگا کہ میرا دل اندر سے خالی ہو گیا ہے۔ میں نے کوٹ میں سے ہاتھ نکالااور دروازے کی طرف دوڑ لگائ۔ وہ لوگ کوریڈور کے آخری سرے پہ پہنچ کر مڑنے والی تھیں۔ تہذیب کے برخلاف میں نے وہاں سے آواز لگائ۔ سائرہ۔ اس نے پلٹ کر دیکھا۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں کمرے میں آنے کا کہا۔اب وہ کمرے میں موجود ہیں۔ میں نے ایک اور تازہ نوٹ نکالا اور سائرہ کو دیا۔ یہ آپکی عیدی ہے میں تو آپ کو چھیڑ رہی تھی۔ اسکے خاموش چہرے پہ وہی مدھم مسکراہٹ پھیل گئ جو مجھے بےحد پسند ہے۔
وہ لوگ جا چکی ہیں۔ میں آخری پانچ منٹ گذرنے کے انتظار میں کھڑکی کے ساتھ کھڑی ہوں۔ ذرا سی بلندی پر آجانے سے چھوٹی چھوٹی بدصورتیاں ختم ہوجاتی ہیں۔زمین کتنی وسیع اور آسمان کتنا کھلا لگتا ہے۔ میں نے کبوتروں کی غٹر غوں کے ساتھ سوچا۔