Showing posts with label بلاگنگ. Show all posts
Showing posts with label بلاگنگ. Show all posts

Wednesday, July 18, 2012

سوشل میڈیا: چیلوں کا میلہ

تصور کریں کہ ایک شخص جو کہ اس ملک کے کسی مضافاتی علاقے میں رہا ہو جہاں زندگی کی اشد ضرورت کی اشیاء بھی نایاب ہوں۔ جس نے کبھی کسی فائیو اسٹار ہوٹل کی شکل نہ دیکھی ہو، کبھی سگریٹ پیتی عورت سے بہ نفس نفیس ملاقات نہ کی ہو، کبھی ایک عورت کو ایک مرد سے معانقہ کرتے نہ دیکھا ہو بلکہ کسی عورت کا گھر سے باہر نکلنا ہی شدت سے برا سمجھتا ہو۔ اسے آپ اچانک ایسی تقریب میں پہنچا دیں جہاں اسکی دنیا کی یہ ساری قباحتیں موجود ہوں، جن کا اس نے زندگی میں تصور تک نہ کیا ہو۔
  مزے کی بات یہ ہے کہ تقریب کا نام تو سوشل میڈیا میلہ ہو جو پاکستان کے حوالے سے ہو۔ لیکن اس میں صرف وہ لوگ چھائے ہوں۔  جو اس ملک کے عام آدمی کی زبان نہیں بولتے۔ اسکے مسائل سے صرف اتنی دلچسپی رکھتے ہیں کہ اسے کسی اور جگہ استعمال کر کے اپنی دولت اور شہرت میں اضافہ کیا جا سکے۔ کیا یہ بے حسی، سفاکی اور خود غرضی کا دوسرا نام نہیں۔
سوشل میڈیا میلہ کے نام سے یہ تقریب کراچی میں  منعقد ہوئ۔ جس میں ایک اطلاع کے مطابق شہر کے اشرافیہ اور امریکی سفارتخانے کے عہدے داروں نے شرکت کی۔ میں اس میں نہیں گئ مجھے اس طبقے کے رنگ ڈھنگ معلوم ہیں۔ میں یہ بھی جانتی ہوں کہ عام طور پہ یہ تقریبات اشرافیہ کے بیرون ملک  عہدے داروں سے تعلقات کو بڑھانے کے لئے منعقد ہوتی ہیں۔ اس میں تالیاں بجانے کا کام میں کیوں کروں؟ اس لئے اس ترغیب کے باوجود کہ اس میں اردو زبان کے حوالے سے بھی کوئ سیشن رکھاجائے گا میں نہیں گئ۔ 
مجھے اس چیز سے، اس منافقت سے بڑی تکلیف ہوتی ہے کہ جس سوشل میڈیا کو تبدیلی کا اہم ذریعہ سمجھا جا رہا ہے اسکے کرتا دھرتا انگریزی کے علاوہ کسی زبان کو اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ پاکستان میں سوشل میڈیا کیوں کوئ موئثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہے اس لئے کہ یہ سوشل نہیں ہے۔ ایک گیند مخصوص حلقوں میں گھومتی رہتی ہے۔ اللہ اللہ خیر صلا۔
حالانکہ ہمارے یہ کرتا دھرتا اتنے وسائل رکھتے ہیں کہ چاہتے تو گوگل کو اردو سپورٹ کے لئے مجبور کروالیتے آخیر گوگل فارسی، عربی حتی کہ تیلگو زبان تک کو سپورٹ کرتا ہے۔ 
یہی نہیں یہ سارے کرتا دھرتا در حقیقت دل سے یہ چاہتے ہی نہیں کہ ایک عام آدمی کو درپیش مسائل حل ہو جائیں یا وہ اسکے حل میں اپنا حصہ ڈال سکیں حالانکہ ان میں سے ہر ایک اتنی اہلیت اور وسائل رکھتا ہے کہ یہاں تبدیلی کا سیلاب آجائے۔ لیکن ایسی تبدیلی کا کیا فائدہ کہ ان میں اور عام آدمی میں برسوں کی محنت سے ٹہرایا ہوا فرق کم ہو جائے۔
 یہ اشرافیہ جن میں ہمارے دانشور بھی شامل ہیں، فکشن لکھنے والے بھی شامل ہیں اور اپنے لکھے پہ دنیا سے انعامات لینے والے بھی شامل ہیں، دستاویزی فلمیں بنانے والے بھی شامل ہیں، این جی اوز سے تعلق رکھنے والے بھی شامل ہیں۔
یہ سب لوگ، اسی عام آدمی کی وجہ سے اپنی زندگیوں میں رنگینی حاصل کرتے ہیں۔ اگر انہیں ہم اپنی زندگی کے دکھ نہ سنائیں تو یہ کون سا فکشن لکھیں گے۔ اگر ہم اپنے مسائل کو حل کرنے کی قوت حاصل کر پائیں تو یہ انہیں دور کرنے کے لئے کہاں سے غیر ملکی امداد حاصل کریں گے۔ ہم اور ہماری تکلیفیں انکے لئے خوش قسمتی کے دروازے کھول دیتی ہیں لیکن اس کے باوجود جب یہ ہمارے سامنے کبھی اتفاقاً آکر کھڑے ہوتے ہیں تو یہ کیوں اس بات کی علامت بنے رہتے ہیں کہ یہ ہم میں سے نہیں۔ البتہ یہ ہمارے مسائل کے حل کے لئے کوشاں ضرور ہیں۔ کتنے عظیم لوگ ہیں جو ہم بے چاروں کو شعور دینا چاہتے ہیں، ہمیں ایک آسان زندگی دینا چاہتے ہیں، ہمیں بنیادی انسانی حقوق دلوانا چاہتے ہیں لیکن ان کا ہم سے کوئ تعلق نہیں ہے۔ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں یہ ان کا ہم پہ اور اس معاشرے پہ احسان ہے۔
ایسی تقریبات میں جان بوجھ کر پیدا کیا جانے والا طبقاتی فرق مجھے انتہائ مکروہ لگتا ہے۔ مجھے ذاتی طور پہ نہ بغیر آستین کے کپڑوں سےخار ہے۔ اگر میرا رنگ خوب سفید ہوتا تو شاید میں بھی کبھی کبھار پہن لیتی۔ نہ ہی مجھے خواتین کا سگریٹ پینا عجیب لگتا ہے دیہاتی عورتیں بھی پیتی ہیں، حتی کہ میں ان عورتوں اور مردوں کو بھی نظر انداز کر دیتی ہوں جو ایکدوسرے کو خوش آمدید کہنے کے لئے معانقہ کرتے ہیں۔ یہاں دیہاتوں میں عورت اور مرد مصافحہ کرتے ہیں۔
لیکن مجھے اس چیز پہ حیرت ہوتی ہے کہ اسی معاشرے میں جہاں ایک انتہا یہ ہوتی ہے کہ عورت دس گز کے برقعے میں بھی باہر نہیں نکل سکتی وہاں دوسری انتہا یہ ہوتی ہے کہ خواتین سگریٹ ہاتھ میں دبائے، کھلے ڈلے کپڑے پہنے کسی مرد سے گلے مل رہی ہوتی ہیں۔ خواتین کے اس انداز پہ بھی مجھے اعتراض نہیں۔ ایک شخص اپنے لئے جو چاہے پسند کرے۔ اپنی ذاتی زندگی جیسے چاہے گذارے۔  لیکن طرہ یہ ہوتا ہے کہ یہ خواتین اس ملک کی پسی ہوئ خواتین کے حقوق کی بات کرتی ہیں۔ ایک عام آدمی لازماً یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ ہماری عورت جب دس گز کے برقعے سے باہر نکلے گی تو یہ عورت بن جائے گی۔ یہ عورت جو اسکے نزدیک بے حیاء عورت ہے۔ اس سے انکے کاز کو کوئ فائدہ نہیں پہنچتا۔ سوائے اسکے کہ انکا یہ لباس طبقاتی فرق کو قائم رکھنے میں معاون ہوتا ہے وہ کسی بھی مثبت مقصد کے لئے ایک رول ماڈل نہیں بنتیں۔ ایک ایسا رول ماڈل جسے دیکھ کر ایک کمزور عورت یہ سوچے کہ اگر میں کوشش کروں تو ایسی عورت بن سکتی ہوں، ایسی زبردست صلاحیتوں والی عورت۔ البتہ یہ کہ وہ اپنے سر کا اسکارف اور کس کے باندھ لیتی ہے۔
اس جگہ پہ آ کر ہمیں اپنی سرحد متعین کرنی پڑے گی۔ کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک کی عورتیں تعلیم حاصل کریں، معاشی استحکام حاصل کریں، اپنی زندگی پہ اپنا اختیار حاصل کریں، اپنے فیصلے خود کرنے کی قوت حاصل کریں۔ صحت حاصل کریں، بچے کتنے پیدا کریں گی یہ حق حاصل کریں، یا ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ سگریٹ۔ پیئیں، شراب پیئیں، کم کپڑے پہنیں، مردوں کے برابر اس طرح ہوں کہ انکے گال چومیں یا گلے لگیں۔
اسی طرح کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں معیاری اور بنیادی تعلیم سب کا حق ہو یا ہم یہ چاہتے ہیں کہ چونکہ ہم بہتر معاشی حالت رکھتے ہیں اس لئے ہمارے بچے تو معیاری تعلیم حاصل کر لیں لیکن جو نہیں کر سکتے ہیں ہم انکا مذاق اڑائیں۔ حالانکہ انکا نہ کر پانا اس فرسودہ نظام کی وجہ سے ہے جسکی وجہ سے ہم مضبوط اور وہ کمزور ہیں۔ ہم خود ہی اس ملک میں کئ طرح کے تعلیمی طبقات بنائیں۔ کسی کواردو میڈیئم گورنمنٹ کے ناکارہ اسکول دیں کسی کو انگلش میڈیئم اعلی اسکول عنایت کریں۔ اور پھر اردو میڈیئم کو حقارت سے دیکھیں اور ان سے دور خود صرف اس لئے اڑے اڑے پھریں کہ انگلش بول سکتے ہیں لکھ سکتے ہیں چاہے اسکے علاوہ ککھ نہ جانتے ہوں۔
اسی طرح بحیثیئت ایک لبرل پاکستانی کیا ہم اس ملک میں اس بات کی آزادی کے خواہشمند ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے مذہب پہ آزادی سے عمل کر سکے، بلا تفریق، مذہب، جنس، زبان، اور نسل کے ہم میں سے ہر ایک کو تعلیم کا اور صحت کا حق حاصل ہو، ہم میں سے ہر ایک کے  پاس با عزت روزگار ہو، ملک کا قانون ہر ایک شہری کو برابر کی نظر سے دیکھے اور اس کے فیصلوں پہ عمل در آمد ہو، ہر شہری کی جان ، مال اور عزت محفوظ ہو۔ ہم دنیا میں دہشت گرد ملک کے طور پہ نہ پہچانے جائیں، ہمارے لوگ خود کو بموں سے نہ اڑائیں ہم بات بے بات جان لینے اور جان دینے پہ نہ تیار رہیں۔ ہمارے یہاں درجنوں لوگ روزانہ بے گناہ تاریک راہوں میں نہ جان گنوائیں۔ ہماری عورتوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی نہ ہو۔ ایک عورت کو باہر نکلنے ، چلنے پھرنے زندگی برتنے کی آزادی ہو۔ یا ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں بس شراب پینے کی آزادی ہو۔
ہمارے اس طبقے کو جو انگریزی بولتا ہے سمجھتا ہے اور انگریزی میں اظہار کرنا پسند کرتا ہے اورمزید یہ کہ اپنے آپکو دانشور سمجھتا ہے، سمجھتا ہے کہ مسائل کی وجوہات اور صحیح حل اسے معلوم ہیں۔ اسے یہ بھی تو طے کرنا چاہئیے کہ آخر انکا کاز درحقیقت ہے کیا۔ 
اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے ملک میں تبدیلی کا ڈھول پیٹنے والے سوچیں کہ دراصل وہ  کیا چاہتے ہیں؟ 
بہرحال انکے چاہنے سے الگ، سوشل میڈیا کسی کے اشاروں پہ نہیں چل سکتا۔ یہ عام آدمی سے چلتا ہے اور اگر کوئ اسے اپنے اشاروں پہ چلانا چاہتا ہے تو اسے عوامی بننا پڑے گا۔ یہی دیوار کا لکھا ہے۔
 

Monday, January 2, 2012

نیا سال

جس طرح ہر تہوار کے کچھ  رسوم اور آداب ہوتے ہیں اسے منانے کے لئے. اسی طرح نئے سال  کو خوش آمدید کہنے کے انداز ہوتے ہیں۔ مثلاً کچھ لوگ اسے محبوب دلنواز کے ساتھ منانا چاہتے ہیں۔ اسکے لئے مناسب مقام و طعام کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ کچھ دوستوں کے ساتھ منانا چاہتے ہیں انہیں  مقام اور مشروب چاہئیے ہوتا ہے۔ کچھ کو نہ دوست چاہئیے ہوتے ہیں نہ محبوب، وہ زمانے کو دکھانا اور ہلانا چاہتے ہیں۔ انہیں مقام اور کچھ گولہ بارود چاہئے ہوتا ہے۔ کچھ آگ سے کھیلنے کے شوقین ہوتے ہیں اور آتشبازی سے دل بہلاتے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے کم درجے پہ وہ نوجوان ہوتے ہیں جو موٹر سائیکل کے سائیلینسر ہٹا کر سڑکوں پہ دوڑتے پھرتے ہیں۔ صرف سڑکوں پہ دوڑنے کے ہم نہیں قائل، جو پھٹپھٹا کر سنائ نہ دے وہ سائیکل کیا ہے۔
ہم نئے سال کی پہلی رات کیا کرتے ہیں؟
شروع کےتین چار گھنٹے اندازہ لگاتے رہتے ہیں کہ یہ فائرنگ کی آواز تھی یا آتشبازی کا پٹاخہ۔  کراچی میں جنم لینے اور پیدائیش کے بعد سے اب تک اس شہر سے جڑے رہنے کی وجہ سے یہ ایک انتہائ دلچسپ مشغلہ لگتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے بعض مردوں کو یہ اندازہ لگانے میں لطف آتا ہے کہ سامنے سے گذرتی خاتون شادی شدہ ہے یا نہیں۔
باقی ساری دنیا میں جہاں نئے سال پہ فائرنگ اور آتشبازی کے پٹاخوں کا نادر نمونہ نہیں چلایا جاتا،ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ محض نشے میں دھت ہو کر اپنے ہی پیشاب اور قے میں لوٹیں لگانے سے کیا خاک مزہ آتا ہوگا۔ نئے سال کے آغاز کو مناتے ہوئے تین افراد کراچی میں مارے گئے۔ اس پہ ہمیں کوئ افسوس نہیں، خوشی کے اظہار کے لئے گولی اور آتشبازی میں  مرنے کا مقام، شراب کے نشے میں دھت ہو کرکسی نالے یا موری میں پڑے رہنے کے مقام سے کہیں اعلی معلوم ہوتا ہے۔ سلام ان پہ جنہوں نے اظہار اور اس دوران انتقال کے لئے معروف روائیتی  و مثالی پاکستانی طریقوں کو اپنایا۔
۔
۔
۔
نئے سال کا آغاز چونکہ ہماری روایت نہیں بلکہ نئے معاشرتی رکھ رکھاءو کی دیگر لا تعداد اداءووں کے ساتھ یہ بھی مغرب کی دین ہے۔ اس لئے اسے منانے کے طور طریقوں پہ اب تک اتفاق نہیں پیدا ہو پایا۔ جہاں سے یہ ہمارے یہاں آیا انہوں نے اسکے ساتھ ایک پخ یہ بھی لگا رکھی ہے کہ آنے والے سال کے لئے کوئ قرار داد بھی رکھی جائے۔ میں نے  کچھ قرار دادوں کا اندازہ لگایا ہے۔ تفصیل کچھ اس طرح ہے۔
حکومتی قرارداد، عوام کے لئے فوری بنیادوں پہ کم قیمت  چنوں کی فراہمی تاکہ وہ چنوں سے گیس پیدا کر سکیں۔ چنا گیس امید کی جاتی ہے کہ سی این جی کی نسبت زیادہ تسلسل کے ساتھ فراہم کی جا سکے گی۔ اس سلسلے میں مزید گیس پیدا کرنے والی روائیتی اشیاء پہ بھی غور کیا جائے گا، مثلاً گوبھی اور مولی۔ ادرک اور کالے نمک کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی۔
تحریک انصاف، تمام لوٹوں کو ایک جگہ جمع کرنے کی کوششوں میں کامیاب ہو گی۔ لوٹوں کے پائڈ پائیپر ، عمران خان کا یہ احسان قوم جلد ہی ووٹوں کی صورت میں اتارے گی۔ اگچہ اب تک یہ ایک سوال ہی ہے کہ جمع کئیے ہوئے لوٹوں کو کیسے ری سائیکل کیا جائے گا۔
خفیہ طاقتیں، میمو گیٹ نامی چوہے کو تین چار مہینے اور دوڑائیں گی جب تک انکے پیچھے دوڑنے والی بلیاں انکی پسند کے پنجروں میں نہ پہنچ جائیں۔
تمام سیاسی جماعتوں کا اب ایک موسیقی کا ونگ بھی ہوگا۔ اس طرح ملک میں فن اور فنکار کی اہمیت بڑھنے کا امکان ہے ۔



اسکے علاوہ چند پیشنگوئیاں جو بالکل درست ثابت ہونگیں۔
 اس سال  ملک کی زیر بحث مشہور زندہ شخصیات، زرداری،   مشرف، الطاف حسین، عمران خان، اور وینا ملک رہیں گی۔ مردہ شخصیات میں سید ابوالاعلی مودودی اور بھٹو کے درمیان مقابلہ جاری رہے گا۔
رواں سال بھی یہ طے نہیں ہو پائے گا کہ قائد اعظم سیکولر تھے یا مولانا۔
بے نظیر بھٹو کے قاتل کی تلاش جاری رہے گی۔
عوامی گفتگو میں مشہور الفاظ کچھ اس طرح ہونگے، چور، جھوٹے، بے غیرت، کرپشن، لوٹے، انصاف ، تحریک اور تحریک انصاف۔
اس سال بھی اس برہمن کا پتہ نہ چل پائے گا جو ہر سال کے آغاز پہ عشّاق کو تسلی دے کر روانہ ہوتا ہے کہ یہ سال اچھا ہے۔ اسکی وجہ سے عشاق کی تعداد میں روز افزوں اضافہ جاری رہے گا۔
پاکستان بلاگ ایوارڈز والے ایک دفعہ پھر فرحان دانش کو بہترین اردو بلاگر کا ایوارڈ دیں گے تاکہ اردو بلاگرز میں صحیح سے رن کا میدان چھڑے اور وہ بلاگنگ سے تائب ہو جائیں یا پھر انگریزی میں بلاگنگ کریں۔

میں کیا کرونگی؟
 میں سر سید جیسی عظیم ہستی پہ اپنی تحاریر کو مکمل کرونگی۔
:)
آپ سب کو نیا سال مبارک ہو۔ وائے افسوس کہ غالب نے نئے سال کے متعلق برہمن کے ارشاد کے سوا کچھ نہیں فرمایا لیکن امید کرتے ہیں عشاق کے علاوہ ہمیں بھی کچھ بہتر ملے گا۔


Wednesday, December 28, 2011

اچھی بلاگ پوسٹس

متھ کا سائینس اور شماریات سے کوئ تعلق نہیں۔  یہ خیالات کچھ مخصوص ماحول میں تقویت پا جاتے ہیں اور پھر انہیں پھاڑ کر ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے متھ بسٹر کی اصطلاح   گھڑنی پڑی۔
متھ کیا ہے؟ اسکی تعریف میں جائے بغیر ایک مثال دیتی ہوں۔ اگر کسی جوڑے کے یہاں لگاتار بیٹیاں ہوئے جا رہی ہیں اور انہیں یہ فکر ہے کہ بغیر وارث کے ہی اپنی سلطنت چھوڑنی پڑے گی تو آخری بچی کا نام بشری رکھ دیں۔ انشاءاللہ، اسکے بعد بیٹا ہوگا۔ ویسے یہ ایک متھ ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بشری ون، بشری ٹو قسم  کے سیکوئیلز کے بعد بھی آپکا کام نہ بنے۔
بلاگنگ میں بھی اسی طرح کی بہت ساری متھس ہیں۔ بالخصوص اردو بلاگنگ میں۔ مثلاً اچھی پوسٹ وہ ہے جس پہ بہت سارے تبصرے ہوں۔ یا اچھی پوسٹ وہ ہے جسے بہت سارے لوگ ویو کرتے ہوں۔
اب ہم دیکھیں تو اس معیار پہ وہ تحاریر زیادہ آئیں گی جن میں ہمارے یہاں مذہب کے ایک خاص ورژن سے ہٹ کر لکھی جانے والی تحاریر پہ مخالفین نے مناظرہ کیا ہو۔ انسانی زندگی میں دلچسپی کے مقامات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس لئے ان تمام تحاریر کو اچھی بلاگ پوسٹ کے زمرے میں کیا اس لئے رکھا جائے کہ ان پہ تبصرے زیادہ ہیں یا انکو ایک مدت میں بار بار لوگوں نے دیکھا ہے۔ اس لئے میری نظر میں یہ رائے ایک متھ ہے۔
پھر اچھی بلاگ پوسٹ کیا ہوگی؟
اچھی بلاگ پوسٹ وہ ہونی چاہئیے جسے آپ بھول جائیں مگر اس پہ ویوز آتے رہیں۔ محض سال بھر بعد وہ ایک بچکانہ بات نہ لگے۔
میں کچھ پھولوں کے بیج کینیڈا سے لیکر آئ۔ یہاں زمین کے حوالے کرنے سے پہلے میں نے انکے بارے میں سرچ کرنا ضروری سمجھا۔ ایک کے بعد ایک جب انکے نام سرچ پہ ڈالے تو درجنوں بلاگز سامنے آگئے۔ یہ بلاگز سالوں پہلے لکھے گئے تھے۔ مگر آج بھی میں نے انہیں کھولا اورانہیں مددگار پایا۔ 
میں انہیں اچھے بلاگز سمجھتی ہوں۔ ایک دفعہ ان بلاگز پہ جانے کے بعد میں نے انہیں یاد رکھا کہ تاکہ مزید مدد کے لئے دوبارہ انہیں دیکھ سکوں۔ ان میں سے کچھ معلومات بہترین ثابت ہوئ اور اس طرح میرا ان پہ اعتماد قائم ہوا۔
اسی طرح بلاگ لکھنے کے لئے موضوعات کا انتخاب۔ اس سلسلے میں بیرون ملک ویب سائیٹس سے آپ جتنی چاہیں مدد لیں لیکن اگر آپ اپنے معاشرے میں صحیح سے جذب نہیں ہوئے تو بلاگ کا موضوع ہمیشہ ایک مسئلہ رہے گا۔ باہر دیکھنے سے پہلے اپنے آپ کو یعنی اپنے ماحول کو خوب اچھی طرح سمجھ لیں۔
آپ باہر سے وہ خیال لا کر یہاں نہیں بو سکتے ہیں جس کے لئے یہاں کا موسم سازگار نہیں۔ مثلاًبیوی کو خوش رکھنے کے دس مغربی طریقے یہاں نہیں چل سکتے جو مغرب میں زیر استعمال ہیں۔ یہاں کا شوہر اس بارے میں فکر مند نہیں ہوتا کہ کپڑے دھوتے وقت ہلکے اور گہرے رنگ کے کپڑے الگ الگ دھونا چاہئیں۔ اور بیگم صاحبہ ، میاں صاحب کا یہ سگھڑاپہ دیکھ کر خوشی سے کھل اٹھیں گی۔  یہ اسکا درد سر نہیں۔ اسے اپنے کپڑے صحیح جگہ اور مقام پہ چاہئیے ہوتے ہیں۔ اس لئے صابن کے اشتہاروں میں وہ بیویاں خوش ہوتی ہیں جنکے شوہر انکے دھلے ہوئے کپڑوں کی تعریف کرتے ہیں۔
اچھی تحریر کے لئے لوگوں سے ملیں جلیں، عوامی جگہوں پہ جائیں، ٹی وی کو وقت دیں مگر اسی طرح جیسے کسی کتاب کو پڑھتے وقت آپ اندازہ لگاتے ہیں کہ اسکا ہر حرف پڑھنا ہے یا بس سرسری سا۔ اخبار پڑھیں اور کتابیں ضرور۔
اپنے آپ سے ملاقات کیجئیے اور جانئیے کہ خود آپکی دلچسپی کس رخ میں ہے۔ یہ بالکل ضروری نہیں کہ چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی۔ آپ اپنی دلچسپی کے میدان میں جادوئ صلاحیتیں رکھتے ہیں۔اور الگ سمت میں چل کر ہوا کو بھی اسی سمت میں چلنے پہ مجبور کر سکتے ہیں۔
چلیں پھر ہم کچھ بلاگنگ متھس کی فہرست بناتے ہیں۔
اچھی بلاگ پوسٹ، زیادہ تبصرے
اچھی بلاگ پوسٹ، زیادہ ویوز
اچھی بلاگ پوسٹ، جس سے زیادہ مبصرین متفق ہوں
اچھی بلاگ پوسٹ، جس میں کسی کی دل شکنی نہ ہو
اچھی بلاگ پوسٹ،  جو معاشرے کے رجحانات کے مطابق ہو
اور اگر کچھ آپکے ذہن میں ہو تو جمع کیجئیے۔

Saturday, December 17, 2011

حاصل، لا حاصل

تمام لکھنے والے انسان کے متعلق لکھتے ہیں اور لکھنا چاہتے ہیں۔ جب وہ ظاہری طور پہ ایسا نہیں کرتے جب بھی وہ ایسا ہی کر رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ انسان اس کائینات میں جس چیز کو سب سے زیادہ جاننے کی  خواہش رکھتا ہے وہ بھی حیرتناک طور پہ خدا نہیں انسان ہے۔
بانو قدسیہ کا ناول ہے 'راجہ گدھ'۔ ایک ناول جس میں انسان کی نفسیات کو شاید رزق کے حوالے سے دیکھنے کی کوشش کی گئ ہے۔ بانو قدسیہ ایک کہنہ مشق لکھاری اور ہمارے ملک کی ایک بڑی ادیبہ ہیں۔ خوش قسمتی سے اپنے پڑھنے والوں پہ اپنا اثر بھی رکھتی ہیں۔ کیونکہ غضب کے لکھنے والے تو ہوتے ہیں مگر پڑھنے والوں کو اپنے اثر میں لے آنا یہ ہر ایک کی قسمت نہیں ہوتی۔
انکے اس ناول سے میں نے ایک اصطلاح کا تعارف لیا، عشق لا حاصل۔ لا حاصل کا عشق انسان کو دیوانگی میں مبتلا کر دیتا ہے مجھے انکی تحریر سے یہ سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن یہ سمجھ نہیں آتا کہ عشق میں حاصل اور لا حاصل کی حد تمیز کہاں ہوتی ہے۔
عشق لا حاصل نہیں ہو سکتا۔ جو لا حاصل ہو وہ عشق نہیں ہو سکتا۔ اور ریاضی کے اس کلئیے سے تو ہم واقف ہیں کہ صفر سے جو چیز ضرب کھائے وہ صفر ہو جاتی ہے۔
ویسے عشق کا حاصل کیا ہوتا ہے؟ عرفان ذات، میرے خیال سے اگر عشق انسان کو عرفان ذات نہیں دیتا تو یہ عشق نہیں ہوتا۔
 انکے ناول میں رزق حلال اور حرام کے انسانی نفسیات پہ اثرات کا مطالعہ بھی آتا ہے۔ ہو سکتا ہے اسے پڑھنے والے بیشتر قاری اس سے متفق ہوں۔ مگر چند ایک اختلاف بھی رکھتے ہونگے۔ جیسے میں۔
کیونکہ عملی دنیا میں جو ہم دیکھتے ہیں وہ اس سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو کہ حلال زندگی نہیں گذارتے لیکن انکی اولاد یہ رجحان نہیں رکھتی۔ مثلا حضرت ابراہیم کے والد ایک بت تراش تھے جبکہ حضرت ابراہیم ایک بت شکن۔
 اس طرح رزق حلال انسان میں روحانی اطمینان تو پیدا کرتا ہے لیکن دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو حلال کماتے کھاتے ہیں پھر بھی سخت ترین دنیاوی آزمائیشوں میں گھرے رہتے ہیں اور یہ پے درپے آزمائیشیں ان سے دل کا سکون چھین لیتی ہیں۔ اور انسان یہ کہنے پہ مجبور ہو جاتا ہے کہ ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے ہیں۔
کیا انسانی اخلاق یا تقدیر کا تعلق رزق سے ہوتا ہے ؟
کیا حلال رزق کھانے والے اعلی اخلاقی کردار رکھتے ہیں اور حرام کھانے والے  رذیل کردار؟ کیا حلال کھانے والے آسان تقدیر رکھتے ہیں اور حرام کھانے والے مشکل؟
کیا حلال اور حرام رزق انسان کے ڈی این اے پہ اثر انداز ہوتا ہے؟ کیا مکافات عمل واقعی کوئ وجود رکھتا ہے؟

انسانی نفسیات یا مختلف رویوں کے ماءخذ، لکھنے والے کے لئے اسرار کی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک انسان یا انسانوں پہ مشتمل ایک معاشرہ کیوں ایک خاص رویہ یا رجحان رکھتا ہے؟ انسان نہ چاہتے ہوئے بھی کیوں ان چیزوں کا شکار ہو جاتا ہے جو اسے نا پسند ہوتی ہیں اور کیوں پسند کی چیزیں اس کی پہنچ میں نہیں آپاتیں؟ کیا یہ سب تقدیر ہے؟ لیکن کیا انسانوں کے لئے کوئ خاص قدرتی نہج موجود ہے؟ کیا سورج چاند ستاروں کی طرح انسان کے لئے بھی کوئ ایک مقررہ رستہ ہے یا اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے قدرت انہیں  الگ نظر سے دیکھتی ہے؟ قدرت اپنا یہ پیمانہ کس طرح مقرر کرتی ہے؟
 کل میں ایک اردو بلاگ سے گذری۔ یہاں  بلاگر نے اپنی اس تفصیلی پوسٹ میں جنس سے متعلق مختلف چیزوں پہ اپنے خیالات کو پیش کرتے ہوئے لکھا کہ جو بچے نفرت کے رشتے سے پیدا ہوتے ہیں وہ ذہنی طور پہ غیر متوازن شخصیت رکھتے ہیں اور صحت مند نہیں ہوتے۔
مصنف جنسی تعلق کو عبادت کے مقابل لاتا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ اگر عبادت میں خشوع و خضوع نہ ہو تو عبادت رائگاں ہوتی ہے۔ جنسی عمل میں بھی اگر صداقت نہ ہو تو یہ کمزور انسانوں کو وجود میں لاتا ہے اور کمزور انسان کمزور معاشرے کو جنم دیتا ہے۔ انکی اس تحریر سے میں نتیجہ نکالتی ہوں کہ ایک ایسے تعلق، جس میں جذباتی وابستگی نہ ہو، محبت نہ ہو، حاصل  لا حاصل کے برابر ہوتا ہے۔   
اگر عشق لا حاصل دیوانگی دیتا ہے اور اگر نفرت کا تعلق کمزور انسان  اور اگر یہ انسان کے ڈی این اے کو بھی متائثر کرتے ہیں تو یہ سلسلہ زنجیر کی مانند چلتے رہنا چاہئیے اور مستقبل ہمیں تاریک نظر آنا چاہئیے۔ لیکن ہمارے دلوں پہ امید کیوں دستک دیتی ہے۔ اور ہم مستقبل سے اپنے لئے کیوں خوشی چاہتے ہیں؟

Thursday, December 1, 2011

میرے مسائل اور انکا حل

جس طرح ماہر جدی پشتی حکیم یہ دعوی کرتے نظر آتے ہیں کہ ہر مرض کاعلاج موجود ہے اسی طرح میں بھی کہہ سکتی ہوں کہ ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔
حالانکہ کبھی کبھی گمان گذرتا ہے کہ اکثر ہمارے مسائل اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ انکے حل ہمارے پاس نہیں ہوتے۔ اس طرح سے انسان مکڑی کی طرح خلوت کی زندگی گذارنے کے بجائے چیونٹیوں کی طرح سماجی جانور بننے پہ مجبور ہو جاتا ہے۔
اگر آپ یہ جانتے ہیں کہ آپکے کسی مسئلے کا حل کہاں سے ملے گا تو یہ ایک خوش قسمتی ٹہرتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ ذریعہ آپکی پہنچ میں ہے یا نہیں۔
مجھے بھی آجکل کچھ مسائل کا سامنا ہے۔ مسئلہ نمبر ایک تو یہ کہ میرے بلاگ کی فیڈز مختلف ایگریگیٹر پہ آنا بند ہو گئیں۔ سب سے پہلے میں یہ بات اردو سیارہ پہ نوٹ کی۔ خیال گذرا کہ انہیں مجھ سے کچھ دبی دبی سی شکائیتیں رہتی ہیں۔ اس لئے شاید اب جان چھڑانی چاہی ہو۔ لیکن نہیں اس بد گمانی کے ساتھ یہ بھی تھا کہ انکی بلاگر لسٹ پہ میرا نام اور اسکی فیڈ اب بھی موجود ہے۔
فیس بک پہ یہ الجھن عرض کی تو جناب محمد بلال محمود صاحب نے خیال ظاہر کیا کہ ہو سکتا ہے فیڈ برنر کے ساتھ کچھ مسئلہ ہو۔ انکے دئیے ہوئے لنک پہ دیکھا تو معلوم ہوا کہ اگر آپکا بلاگ ۵۱۲ کلو بائیٹس سے زیادہ بڑھ جاتا ہے تو آپکی فیڈ بند ہو جائے گی اور یہ دوبارہ اسی صورت بحال ہو گی جب اس میں توسیع کی جائے۔ اسکے لئے طریقہء کار دیا ہوا تھا۔ اس پہ عمل کیا۔  توسیع تو مل گئ لیکن پتہ تبدیل ہو گیا۔ یہ نیا پتہ عثمان، کو دیا کہ سیارہ کی انتظامیہ کو دے دیں۔ کیونکہ ہم نے ان سے جس پتے پہ  رابطہ کیا اس پہ  جواب ندارد۔ عثمان نے اطلاع دی کہ وہ دے چکے ہیں۔ شاگرد عزیز کا شکریہ۔
اب اس بات کو بھی کافی دن گذر گئے ہیں۔ اس لئے اپنے قارئین سے گذارش ہے کہ اس بلاگ سے رابطے میں رہنے کے لئے چاہیں تو سبسکرائیب کر لیں ۔
ادھر ٹی بریک والوں سے بھی بات کی جس دن انہیں ای میل بھیجی اسی دن جواب آگیا کہ آپ اپنا بلاگ ایڈریس بھیجیں ہم چیک کرتے ہیں کیا مسئلہ ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ انکے اپنے گوگل کے ساتھ مسائل چل رہے ہیں اور وہ اسے نبٹا رہے ہیں۔ اسکے بعد وہ ہمارے مسئلے کو دیکھیں گے۔
خیر مستقل قارئین کا بے حد شکریہ کہ وہ اس بلاگ سے رشتہ استوار رکھے ہوئے ہیں۔

دوسرا مسئلہ ذرا دلچسپ ہے۔  بلاگ سے ہٹ کر ایک تحریر کے لئے کچھ تحقیق کرنی ہے۔ اسکے لئے ان لوگوں کا تعاون درکار ہے جنکے والدین یا بزرگ انیس سو سینتالیس میں تقسیم کے نتیجے میں پاکستان آئے اور جو مشرقی پنجاب یا راجستھان سے تعلق رکھتے ہوں۔ میں ان سے گفتگو کرنے میں دلچسپی رکھتی ہوں۔ اگر آپکے ارد گرد کوئ ایسا شخص موجود ہے تو میں اس سے اسکائپ کے ذریعے  یا کسی ایسے ذریعے سے بات کرنا پسند کرونگی جس تک وہ بآسانی پہنچ سکیں اور انکا کوئ خرچہ بھی نہ ہو۔ مجھ سے رابطے کے لئے یہ ای میل ایڈریس ہے۔
 aniqaamar@yahoo.com
آجکل ایک بلاگی ساتھی کے کینیڈا میں مقیم ایک بزرگ سے اسی طرح، اس موضوع پہ بات ہو رہی ہے
اس مسئلے کا ایک اور حل بھی سامنے آیا جب کسی نے مجھے یہ بتایا کہ کراچی میں اورل ہسٹری کے نام سے ایک پروجیکٹ پہ سٹیزن آرکائیو والے کام کر رہے ہیں اور انکے پاس ایسے لوگوں کے ریکارڈ کئے ہوئے انٹرویوز اور تصویریں موجود ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ انکے پاس ایسے لوگوں سے رابطہ کرنے کے لئے پتے بھی موجود ہوں۔ انکے ایک نمائیندے سے معلومات کیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ انہیں ای میل کر کے درخواست بھیجیں۔ وہ ضرور اسکا جواب دیں گے۔
بات تو صحیح ہے انہوں نے یہ ہسٹری جمع تو اسی لئے کی ہو گی کہ جو اس سے مستفید ہونا چاہے اسے آسانی سے مل جائے۔ چنانچہ انہیں ایک ای میل کر دی۔ اب دو دن سے منتظر ہوں کہ کیا وہ بھیجتے ہیں جواب میں۔
ہر مسئلے کا حل موجود ہے نہیں ہے تو نکل آئے گا۔ نہ نکلے تو ایک مسئلے کو کیا دل سے لگا کر بیٹھیں رہیں۔ اگلے والے کو پکڑ لیں۔ بعض اوقات اگلے والوں پہ کام کرنے سے پیچھے والے خود درست ہو جاتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟ 

Friday, November 25, 2011

تبدیلی کا ایوارڈ

بلاگرز کی اکثریت بلاگ ایوارڈز میں مصروف ہے۔ میں نے اسے پہلے نظر انداز کئے رکھا کہ میرے ذاتی خیال میں ایوارڈز میں لابنگ کا خاصہ حصہ ہوتا ہے اور جب بلاگ ایوارڈز والے خود ہی کہہ رہے ہیں کہ ووٹ کے لئے اندھا دھند لوگوں پہ چڑھ دوڑیں تو یہ تو ہمارے ایک دوست کے بقول جمہوری ایوارڈ ہو گئے۔ اور پاکستان کی  جمہوریت ہم سب کی دیکھی بھالی ہے۔  پھر ایک اور ساتھی کے اصرار پہ نومینیشن کی کوشش کی، ایجنٹ آف چینج کی کٹیگری میں اپنے بلاگ کو ڈالنے کی ہمت کی۔ یہ نومینیشن شاید ہماری کسی غلطی کی وجہ سے نہ ہو سکی۔ اب ہم آرام سے ہیں۔
سو آجکل فیس بک پہ لوگ ووٹ مانگتے نظر آتے ہیں۔ ان سے جان چھڑانے کے لئے لوگوں نے اپنی دیواروں پہ یہ نہیں لکھا کہ دیکھو یہاں کتا پیشاب کر رہا ہے۔ البتہ جعلی ووٹ ڈالنے کے طریقے بتا دئیے ہیں۔ ہائو سوئیٹ۔ میں نے نوٹ کیا کہ اسکے بعد ووٹ مانگنے کے اسٹیٹس کم نظر آئے۔
ایک بلاگ اسٹیٹس ایسا بھی نظر آیا جو اپنے لئے نہیں میڈیا کے ایک مشہور صاحب کے لئے ووٹ مانگ رہا تھا۔ یہ صاحب انگلش میں بلاگنگ کرتے ہیں۔  کیا آپکو نہیں لگتا کہ جب انسان دنیا میں بہت کچھ حاصل کر لیتا ہے تو اسے کم از کم چھوٹی موٹی چیزوں کو اس لئے چھوڑ دینا چاہئیے کہ خاص طور پہ نوجوان کم از کم اسی کی تگ و دو میں مصروف رہیں۔ آخر تبدیلی کا عمل کہاں سے شروع ہوگا؟ جن کی طرف سے یہ اسٹیٹس تھا وہ پاکستان میں انقلابی تبدیلی کے خواہاں ہیں۔
ویسےسوشل میڈیا پاکستان میں کافی سرگرم ہے۔ لیکن پاکستان میں اسکے وہ اثرات نظر نہیں آتے جو ہم باقی ممالک میں دیکھتے ہیں۔ کیونکہ سوشل میڈیا پہ جو لوگ تبدیلی کے متعلق بہت زیادہ بات کرتے ہیں یہ وہ ہیں جو اپنے رابطے کی زبان اردو کو اپنی سوچ کی ترسیل کے لئے استعمال نہیں کرتے۔
اس سے میں تو یہی اندازہ لگاتی ہوں انہیں عوامی پیمانے پہ تبدیلی کی خواہش نہیں۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ عوام کے دیوتاءووں میں تبدیلی آجائے،ایسی تبدیلی جس میں انکے طبقے کو کوئ نقصان نہ پہنچے۔
اس لئے جب شعیب صفدر صاحب نے یہ بتایا کہ پچھلے سال ان ایوارڈز کی انتظامیہ کی توجہ انہوں نے اس طرف دلائ کہ اردو بلاگنگ بھی اپنا ایک منحنا وجود رکھتی ہے اور اسکے لئے بھی کسی خاص ایوارڈ کا اعلان ہونا چاہئیے۔  انتظامیہ نے انکی اس التماس پہ اردو کے لئے بھی ایک حصہ مختص کیا ۔ تو اس سے مجھے برصغیر میں انگریزوں کا دور یاد آگیا۔ ان سے بھی بر صغیر کے عوام کے لئے ایسی ہی درخواستیں کرنی پڑتی تھیں۔ انکا بنیادی مسئلہ تو یہ تھا کہ وہ یہاں سے تعلق نہیں رکھتے نہ جسمانی نہ جذباتی۔
مزے کی بات یہ ہے کہ یہ وہی اردو زبان ہے جسے بچانے کا ایجنڈا تحریک پاکستان کا حصہ تھا۔ تحریک کی صرف ایک چیز یاد رہی پاکستان کا مطلب کیا اور باقی سب بھول گئے۔ اسی پہ آج تک سارے جھگڑے چل رہے ہیں۔
میں اپنے ایک اور دوست کو یہ بات بتا رہی تھی کہنے لگے یہ ایوارڈز کروا کون رہا ہے۔ میں نے بتایا کہ یہ گوگل والے مرکزی کردار ہیں۔ کہنے لگے جو کروا رہے ہیں یہ سب سی آئ اے کے ایجنڈے پہ کام کرتے ہیں۔ انہیں عوام سے کیا مطلب، انکا مقصد پاکستان میں خواص کو خوش اور مصروف رکھنا ہے۔ اس لئے وہ اردو کی طرف کیوں توجہ کریں گے؟ کیا آپ نے یہ نہیں نوٹس کیا کہ اردو کو اب تک گوگل پہ سپورٹ حاصل نہیں۔ اردو میں بلاگنگ کرنے کے لئے مقامی نوجوانوں کے تجربات کی بھٹی سے گذرنا پڑتا ہے۔ وہ تپے ہوئے تھے۔ حالانکہ وہ بلاگر بھی نہیں ہیں۔
ہاں لیکن وہ کہتے ہیں کہ اردو مواد اتنا موجود نہیں ہے۔ میں نے دفاع کیا۔ اچھا تو تیلگو مواد موجود ہے جو بھارت کی علاقائ زبان ہے۔ انہوں نے مجھ سے سوال کیا۔ جس خطے میں انہیں جیسی تبدیلی چاہئیے ہوتی ہے وہ ویسی ہی سپورٹ رکھتے ہیں۔ یہاں ابھی وہ عوامی سطح کی تبدیلی نہیں چاہتے، اس لئے سوشل میڈیا پہ انگریزی کا قبضہ ہے۔ انگریزی کا جو نہ صرف اشرافیہ کے رابطے کی زبان ہء بلکہ جو ان اشرافیہ کو بیرونی طاقتوں سے فنڈنگ حاصل کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ آپ کوشش کر لیں کہ اردو بلاگنگ کو آسان بنانے کے لئے کہیں سے فنڈنگ مل جائے۔ نہیں ملے گی۔ یہ انکا دعوی ہے۔ لیکن میں ایسی کوشش نہیں کرنے جا رہی۔ اسکی وجہ میرا ٹیکنیکلی زیرو ہونا ہے۔
یہ بیرونی طاقتوں کی بات تو ایک طرف خود اردو بلاگنگ انتہائ مخدوش حالت میں ہے۔ حالانکہ میرے اندازے کے مطابق اسے کوئ دس سال کا عرصہ ہو رہا ہے۔ لیکن اردو بلاگنگ نے جو مواد دیا ہے وہ قطعی ایسا نہیں کہ کوئ اس سے بار بار مستفید ہونے کے لئے آئے۔ قطعی غیر متائثر کن۔
اب اردو بلاگرز کو دیکھیئے، ان کی اکثریت ناپختہ ذہن کی مالک ہے یا یہ کہ وہ اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو پچھلے چالیس سالوں کی سیاسی اور مذہبی جدو جہد کے نتیجے میں آئ ہے یا یہ کہ انکی اکثریت بلاگنگ کو غیر سنجیدہ لیتے ہیں۔اور وہ انتہائ بے کار کی باتوں پہ بخوشی اپنا وقت لگاتے ہیں۔ اسکا فیصلہ میں آپ پہ چھوڑتی ہوں۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ چند ایک بلاگز کو چھوڑ کر انگریزی بلاگرز بھی کوئ تیر نہیں مار رہے ہیں۔ لیکن یہ کہ بہرحال انگریزی بلاگرز موضوعات کا تنوع رکھتے ہیں۔ کل ہی ایک خاتون بلاگرہ سے ملاقات ہوئ جنکے بلاگ کا موضوع ہے گملوں میں پودے کیسے اگائیں۔  
جبکہ اردو بلاگز صرف دو طرح کے رجحانات رکھتے ہیں ایک جگت بازی، یعنی آئیے مل کر مذاق اڑائیں اور اگر وہ کوئ اور اردو بلاگر ہو جو مشترکہ طور پہ برا لگتا  ہو تو رنگ چوکھا دوسرا، آئیے مذہب کی تبلیغ کریں۔
ایک اور سوچ یہ ہے کہ اردو بلاگرز لگتا ہے اردو سیارہ کے لئے لکھتے ہیں۔ہم خیال بلاگرز ایکدوسرے کی ہاں میں ہاں ملا کر داد و تحسین کے ڈونگرے برساتے ہیں اور اللہ اللہ خیر صلّا۔  یہی وجہ ہے کہ اردو بلاگرز کے درمیان چپقلش اتنی بڑھ جاتی ہے کہ سیارہ پہ بلاگرز کے گروپ بن جاتے ہیں۔ بلکہ گروپ والی میری یہ بات بھی غلط ہی ہوگی کہ سیارہ بظاہر ایک خاص طبقے کا مرکز لگتا ہے چاہے وہ ایسا شعوری طور پہ  نہ کرتے ہوں۔
نتیجتاً اکثریت کے مزاج کے خلاف بات کرنے والے کو سیارہ سے باہر ہونا پڑتا ہے بعض دفعہ انکی انتظامیہ ایسا کرنے پہ مجبور ہوتی ہے اور بعض اوقات وہ بلاگر ہی اس جنجال پورے سے نکلنے میں عافیت سمجھتا ہے۔ ہر دو صورت میں وہ بلاگر اردو بلاگنگ چھوڑ دیتا ہے۔ 
مجھے نہیں معلوم کہ انگریزی بلاگنگ کے کسی ایگریگیٹر پہ یہ صورت حال پیدا ہوئ ہو اور لوگ اس ایگریگیٹر پہ صرف لڑائ کا مزہ لینے جاتے ہوں۔ اس لئے میں اسے ناپختہ رجحان میں رکھتی ہوں۔ اپنے آپکو بین الاقوامی سطح پہ دیکھنے کے بجائے کسی کچی آبادی کے کسی متوقع ڈیڈ اینڈ پہ دیکھنا اور خوش ہونا کہ خدا کا شکر ہے یہ دنیا یہی تک ہے اور میں اس چھوٹی سی دنیا میں محفوظ و مامون ہوں۔

ہم واپس ایوارڈز کی طرف آتے ہیں، ویسے تو ایوارڈز بانٹنا کوئ آسان کام نہیں۔
اگر آپ پاکستان میں کسی تبدیلی کے خواہاں ہیں تو ان ایوارڈز میں ووٹ ڈالتے وقت بلاگ کی کارکردگی کو ضرور دیکھیں ، چاہے آپ بلاگر کے نانا یا بھانجے یا دوست یا قبیلے کے ہوں اگر آپ اپنا یہ ووٹ صرف دوستی کا خراج ادا کرنے کے لئے دیتے ہیں تو پھر یاد رکھیں کہ جب حکمرانوں کی باری آئے گی تب بھی آپ یہی کریں گے۔ 
کیا میں امید کروں کہ کسی ایسے بلاگ کو ایوارڈ نہیں ملے گا جسے اس فہرست میں دیکھ کر میں سوچوں کہ اسے کس وجہ سے ایوارڈ ملا؟ اور اسکا پہلا جواب ہو اقرباء پروری۔



Wednesday, August 10, 2011

چوہے کا سوال

چوہوں کے ساتھ ریس میں ایک نقصان ہے اور وہ یہ کہ اگر آپ فاتح ہوں تو بھی ایک چوہے ہی ہوتے ہیں۔
یہ جملہ کہنے والا لگتا ہے کہ چوہوں کے ساتھ ریس لگانے سے منع کرنا چاہتا ہے۔ سو اب چوہوں کے ساتھ ریس لگانا ضروری ٹہرا۔ سوال یہاں اس منادی کی وجہ معلوم کرنا نہیں۔ اگر ہم یہ کریں گے تو نتیجتاً ایک دفعہ پھر معتوب ٹہریں گے کہ مخلوقات میں سے کچھ کو اعلی اور کچھ کو کمتر جانتے ہیں۔  اس لئے ہم ایک براہ راست سوال رکھتے ہیں آخر چوہا اتنا حقیر کیوں جانا جاتا ہے؟
  کچھ لوگ سادہ سا جواب دیں گے اس لئے کہ اسکا دل اتنا سا ہوتا ہے ذرا سا ہش کرو اور بھاگ جاتا ہے, ہونہہ چوہے کا سا دل۔ لیکن یہ کہتے وقت لوگ اسکی پھرتی کو مد نظر نہیں رکھتے۔  داد دینے سے مت چوکیں۔ اتنی پھرتی تو بس آپکی حرکات منعکسہ میں ہی ہو سکتی ہے آپ میں نہیں۔ 
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ چوہا بھاگتا نہیں ہے بلکہ چھپ جاتا ہے اور جیسے ہی آپکی توجہ ہٹتی دیکھتا ہے فورا آموجود ہوتا ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ چوہے کے اندر ایک دفاعی ذہانت پائ جاتی ہے۔ وہ گوریلا جنگ لڑنے کے فن سے واقف ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ انسان نے گوریلا جنگ کا فن چوہے سے سیکھا ہو مگر چوہوں کو ادنی مخلوق سمجھتے ہوئے اس کا کریڈٹ اسے دینے کے بجائے گوریلے کو دے دیا۔ اس سے انسانی ذہن کی چلتر بازی سامنے آتی ہے کہ اس نے اپنی ہم شکل مخلوق کو ترجیح دی۔ اس انسانی ادا پہ ہم واہ واہ کریں گے مگر اس سے چوہوں کی جو حق تلفی ہوئ ہے اس پہ ہم نالاں بھی ہیں۔

کیا ایسا معاشرہ ممکن ہے جہاں انسان چوہے کے حق میں آواز بلند کر سکے اس کے ساتھ جو نا انصافی ہوئ ہے اسے سامنے لا سکیں۔ شاید نہیں، کیونکہ خود چوہوں کو اس سے کوئ دلچسپی نہیں۔ انسان اگر انکے لئے لڑ لڑ کر مر جائے تو بھی چوہے اسے در خور اعتناء نہیں سمجھیں گے۔ آیا یہ انکا طرز تغافل ہے یا ادائے بے نیازی۔ یہ جاننے کے لئے دو قسم کے شاعر چاہئیے ہونگے ایک انقلابی اور دوسرے رومانی۔
کیا چوہوں کو شاعری سے دلچسپی ہوتی ہے۔ یہ مجھے نہیں معلوم لیکن چوہوں کو موسیقی سے بڑی دلچسپی ہوتی ہے۔ اس کا ثبوت وہ کہانی ہے جس میں جادوگر اپنی بانسری بجاتا چلا جاتا ہے اور چوہے اسکے پیچھے ناچتے، کودتے، اچھلتے اتنے مست جاتے ہیں کہ انہیں اپنا انجام تک نظر نہیں آتا۔ موسیقی کے لئے چوہوں کی ان خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ 
یہاں پہ کچھ ذہن یہ کہنا چاہیں گے کہ وہ بانسری دراصل جادگر کی بانسری تھی۔ تو کیا ہوا، ہوا کرے۔ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ چوہوں نے اس پہ ایک شاندار رقص درویشاں کا مظاہرہ کیا۔ جو جادوگر خود نہیں کر سکتا تھا۔ جس سے متائثر ہو کر ایک شہر کے لوگوں نے اپنے بچے بھی اسی جادوگر کے حوالے کر دئیے۔ جادو گر نے کبھی ایک لفظ شکرئیے کا بھی نہیں پھُوٹا، انسان ایسا ہی بلا کا احسان فراموش ہوتا ہے اور پھر دوسروں پہ نام دھرتا ہے۔
سو چوہے پپو سالے سے بہتر ہیں وہ ڈانس کر سکتے ہیں۔ پھر بھی انسان انہیں حقیر کیوں سمجھتا ہے۔ شاید اس لئے کہ چوہے خوبصورت نہیں ہوتے۔  کسی انسان نے اس بد صورت بات سے بچنے کے لئے ایک خوبصورت بات کہی کہ خوبصورتی دیکھنے والے کی نظر میں ہوتی ہے۔
کیا چوہوں کو اس بات کی فکر ہے کہ وہ خوبصورت نہیں ہیں۔ بادی النظر میں لگتا ہے کہ ایسا نہیں ہیں۔ چوہوں کو کبھی بھی فیئر اینڈ لولی قسم کی کریموں کو استعمال کرتے نہیں دیکھا وہ تو اسے سونگھتے تک نہیں۔ اپنا ایک شریک حیات ڈھونڈھنے کے لئے ہزاروں کو نہیں دیکھتے پھرتے۔ پھر دیکھیں کہ چوہے ایک ایک جھول میں آٹھ آٹھ بچے دیتے ہیں چند مہینوں میں وہ اپنے بچوں کے پر دادا بن جاتے ہیں اور اگر وہ حکمرانی کی طرف توجہ دیں تو چند سال میں انسان کونکال باہر کریں۔  یہ ان کا فقیری انداز ہے جس کی بناء پہ انسان اپنی بھونڈی حکمرانی کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ کیا اب بھی کسی کو شک ہے کہ وہ خوبصورت نہیں۔
چوہے احسان فراموش ہوتے ہیں اور جس چھلنی میں کھاتے ہیں اسی میں سوراخ کرتے ہیں۔ یہ ان پہ ایک سنگین الزام ہے۔ در اصل چوہے کترنے کے معاملے میں ذرا جزباتی واقع ہوئے ہیں۔ کترنے کے عمل کو وہ چیلینج سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔ ہر چھلنی انہیں یہ کہتی نظر آتی ہے کہ ہزار دانت سے نکلا ہوں اپنی سختی سے، جسے ہو زعم آئے کتر لے مجھے۔ 
انکی نفسیات کا یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ جنگل کے بادشاہ شیر کو بھی اسکا جال کتر کر آزاد کروالیتے ہیں مگر اس پہ احسان نہیں دھرتے۔ کبھی آپ نے سنا کہ چوہوں نے شیر کے اوپر بموں سے حملہ کیا ہو کہ ابے سالے تجھے آزاد کرایا تھا اور آج ہم پہ دھاڑ رہا ہے۔ چوہے سالے کی حقیقت سے واقف ہیں۔
دنیا کی کسی مذہبی کتاب میں شاید ہی چوہوں کے بارے میں کوئ تذکرہ موجود ہو۔ دنیا کا کوئ مذہب چوہوں کے بارے میں فکر مند نہیں اسی لئے چوہے بھی اپنے بارے میں زیادہ فکرمند نہیں انہیں مل جائے تو ریشم کے کپڑوں میں اور بیکریوں کے من و سلوی میں بھی رہ لیتے ہیں نہیں تو غلاظت کے گٹر بھی کوئ بری جگہ نہیں۔ دما دم مست قلندر۔
لیکن انسانی زبانی اور سینہ بہ سینہ چلی آنے والی تاریخ میں چوہوں کے متعلق کچھ واقعات موجود ہیں جن میں سے زیادہ تر میں انکی توہین کی گئ ہے۔ یہ بڑی زیادتی ہے کہ کسی کے دانتوں کا بدلہ اسکی عزت سے لیا جائے۔ چوہوں نے اس توہین کا بدلہ لیا  اور ہیضے کے جراثیمی ہتھیار کے ساتھ انسانوں پہ حملہ آور ہوئے۔ پوری پوری آبادیوں کو نگل لیا۔ اور انسان کچھ نہ کر سکا۔ بقاء کی جنگ میں چوہا انسان پہ بھاری رہا مگر پھر بھی چوہا کہلایا۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ اس کا نام ہی چوہا ہے۔
تاریخ کے اس مرحلے پہ انسان نے چوہوں سے کثیر الہلاکتی ہتھیاروں کا تصور لیا لیکن چوہوں کی نفسیاتی برتری دیکھئیے کہ انسان یہ ہتھیار انسان کے خلاف تو استعمال کر سکا مگر کبھی چوہوں کے خلاف نہیں کر سکا، انہیں مارنے کے لئے اسے وہی روٹی کا لالچ دینا پڑتا ہے۔ روٹی چوہوں کی سب سے بڑی کمزوری ہے اور اگر روٹی نہ ہو تو وہ کیک بھی شوق سے کھالیتے ہیں لیکن کبھی کیک دینے والے ہاتھوں کو چاٹتے نہیں ہمیشہ کترتے ہیں۔
بعض خواتین چوہوں سے بڑا ڈرتی ہیں۔ چوہے بھی ایسی خواتین سے بہت ڈرتے ہیں۔ سو جب وہ ڈر کر ایک نعرہ ء خوف ہائے اللہ لگا کر ریس لگاتی ہیں  تو چوہے استغفراللہ کہہ کر ریس لگا دیتے ہیں۔ یہ ریس عام طور پہ مخالف سمتوں میں ہوتی ہے اس لئے اسکا صحیح فیصلہ کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ کبھی کبھی چوہے اس آسمانی مصیبت سے اتنا گھبرا جاتے ہیں کہ بجائے مخالف سمت بھاگنے کے خاتون پہ ہی چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ اس اقدام قتل میں اگر وہ بچ بھی جائیں تو گھر کی کچھ چیزیں دو چوہوں کے درمیان کچومر بن جاتی ہیں۔ محلے والے الگ سمجھتے ہیں کہ میاں صاحب ، بیگم صاحبہ کی کُٹ لگا رہے ہیں۔ یوں میاں صاحب کو ہتک عزت اور مختلف این جی اوز سے بچنے کے لئے میدان میں کودنا پڑتا ہے۔ کچھ شوہر حضرات اس موقع کو محلے والوں پہ اپنی دھاک جمانے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور شام کے وقت ہجوم دوستاں میں بیگم کی حد سے پرے پرے  چپکے چپکے کہتے ہیں باتوں کے بھوت چوہوں سے مانتے ہیں۔ 
خیر، ایک خاتون نے چار چوہے مارے اور خاندان بھر نے انکی پیٹھ ٹھونکی۔ جب چوہے سمجھتے ہیں کہ وہ  کسی انسان کا قلع قمع کرچکے تو وہ اپنی خوشی کا اظہار کیسے کرتے ہیں؟  سوچیں، لیکن یہ سوچنے سے پہلے آپکو روحانی طور پہ چوہا بننا پڑے گا اسکے بغیر آپ سمجھ نہیں سکتے کہ چوہا آخر کیا کرے گا۔ کیا کہا، لعنت ہو چوہے کے بارے میں ہم کیوں سوچیں۔ چوہے نے بھی یہی کہا تھا  کہ میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں۔ ششش،  ہشیار باش، چوہا آپکے سیدھے ہاتھ پر موجود ہے اور چوہے نہ صرف ڈھیٹ ہوتے ہیں بلکہ بڑے متجسس بھی۔


نوٹ؛
یہ انٹ شنٹ تحریر ایک چوہے نےای میل کی ہے۔ معمولی ردو بدل کے ساتھ ہم اسے اپنے بلاگ پہ ڈال رہے ہیں یہ دیکھنے کے لئے ہم میں سے کتنے لوگ  چوہوں کی پرواہ کرتے ہیں۔


Reflexive actions
Weapons of mass destruction
Biological weapons
Mouse and rats

Friday, April 1, 2011

شکریہ

دیکھیں لکھنے تو جا رہی تھی سلسلہ، ساحل کے ساتھ، کی اگلی قسط۔ لیکن جتنی دیر میں نئی پوسٹ کے لئے صفحہ کھلتا میں نے سوچا اردو سیارہ دیکھ لوں۔ بس وہاں سے ایک بلاگ پہ گئ۔ اور جب اسکی آخری سطروں تک پہنچی تو لگا کہ میری انگلیوں میں دوران خون اتنا تیز ہو چکا ہے کہ اب میں آج کچھ اور نہیں لکھ سکتی۔ لیجئیے یہ چند لائنیں آپ کے لئے بھی حاضر ہیں۔

جب کسی معاشرے سے عورت کو غائب کردیا جاتا ہے تو زندگی بھی اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ آہستہ آہستہ تحلیل ہونا شروع ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں اس معاشرے کا تمدن بھی زندگی کے ساتھ ساتھ تحلیل ہوتا رہتا ہے اور آخر کار ایسی قوم دوسری قوموں کے لیے ” آفت ” بن جاتی ہے، عورت ہر معاشرے کی زندگی کی نبض ہے، جہاں عورت نہیں، وہاں معاشرہ  نہیں۔
یہ لائینز آپ نے پڑھیں۔ اسکے لکھنے والے مصنف مکی صاحب ہمارے مایہ ناز اردو بلاگر ہیں۔ انہوں نے اپنے بلاگ پہ تبصرے کا آپشن بند کر دیا ہے۔  اس لئے مجھے اپنے بلاگ پہ لکھنا پڑ رہا ہے۔ 
تو جناب مکی، آپ اس  کمزور اور خوفزدہ پاکستانی معاشرے  میں زندگی کی بچی کھچی علامتوں میں سے ایک ہیں۔ آپ کا بہت شکریہ۔ 

Sunday, March 27, 2011

آگے سے ہٹ جا


جس شدت سے پاکستانی تیس مارچ کے منتظر ہیں۔ میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ پاکستان کم از کم تیس مارچ تک اپنی سالمیت کی جنگ پہ کوئ سودا نہیں کرے گا۔ اوراس دوران آپکو شاید ہی یہ جملہ سننے کو ملے کہ پاکستان بس اب ٹوٹنے ہی والا ہے۔
مختلف کاروبار حیات ماند پڑ گئے ہیں۔ اور شاعر کہتا ہے
عشق کچھ پڑ گیا ہے ٹھنڈا سا
آج کل امتحان ہے پیارے
سن رہے ہیں کہ سیمی فائنل والے دن آدھی چھٹی ہوگی۔ اور یہ بھی کہ اس دن لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔ اتنی خوش خبریوں کے بعد ہماری ایک بزرگ خاتون کا کہنا ہے کہ پاکستان کو سیمی فائنل جیت جانا چاہئیے۔ کیوں؟ کیونکہ، انہوں نے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا،  پھر فائنل والے دن بھی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔
اسکی وجہ تیس مارچ کو دو ازلی دشمنوں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والا میچ ہے جو کانٹے کا ہو یا نہ ہو کانٹوں پہ ضرور ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے میچ کی دو اہم خصوصیات ہیں۔
اول ہارجانے کے بعد  افسوس ہوتا ہے کہ ہمارا ہاتھ ایٹم بم چلانے والے بٹن پہ کیوں نہیں۔ جیت جانے کے بعد بھی یہی افسوس ہوتا ہے۔ دوم میچ سے پہلے، دوران اور ہار جیت کے بعد، جہادی روح  جوانوں میں بیدار رہتی ہے۔ بغیر کسی زائد خرچے کے۔
اب کھیل میں دو ہی چیزیں ہو سکتی ہیں یا تو ہم جیتیں گے۔ اور ہر پاکستانی فتح کے نشے میں چور گانا گائے گا ہم ہیں پاکستانی ہم تو جیتیں گے۔ آگے سے ہٹ جا۔ یا پھر میرے منہ میں خاک ہم ہار جائیں گے تو اسکے بعد میں تو را کا ایجنٹ قرار ہی پاءونگی لیکن شاہد آفریدی تیرا کیا ہوگا میرے پٹھان۔  گو طالبان نے ابھی تک کرکٹ کو غیر اسلامی نہیں قرار دیا۔ لیکن اسلامی یا غیر اسلامی ہر دو صورت میں وہ سینے پہ بم باندھ کر پھرنے والے ہیں۔
جنوبی ایشیا میں اور بالخصوص پاکستان میں ورلڈ کپ  کا مقابلہ ایک مرض کی صورت پھیل جاتا ہے سو جو اس کھیل میں دلچسپی نہیں لینے کا دعوی کرتے وہ بھی اسکور پوچھتے نظر آتے ہیں۔ اس حالت میں مریض خود سے، رشتے داروں سے، دوستوں سے حتی کہ محبوب سے بھی شرط لگانے کو تیار رہتا ہے۔
یہ ایک وائرل مرض ہے اپنا سائیکل ختم ہونے پہ ختم ہو جاتا ہے لیکن اختتام کے بعد صورت زیادہ سنگین ہو جاتی ہے اور اکثر مریض واہی تباہی بکنے لگتے ہیں۔

کچھ بیانات کی پیشن گوئ ہم بھی کر رہے ہیں۔
غیرت مند پاکستانیوں نے ہندوءوں کو انکی سر زمین پہ شکست دے دی۔
اللہ نے مسلمانوں کو ہندءووں کی سر زمین پہ سرخ رو کیا۔
سترہ کروڑ عوام کی دعائیں رنگ لائیں۔ 
دودھ پینے والے گوشت کھانے والوں سے کیسے جیت سکتے ہیں۔
جیت کی صورت میں انڈینز کو اسلامی انتہا پسندوں  کے  حملوں کا ڈر تھا۔
سٹے باز کھلاڑیوں کو نکالنے کے بعد ٹیم اپنی فارم میں واپس۔
سینے پُھلا دئیے ہمارے شیروں نے۔
ریمنڈ ڈیوس کی رہائ کی ڈیل میں پاکستان کو جتانا شامل تھا۔
بمبئ کے مسلمان انڈر ورلڈ ڈان داءود ابرہیم نے میچ کو مسلمانوں کے حق میں فکس کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
زرداری نے میچ پہ پیسے لگائے تھےکیسے ہار سکتے تھے ۔
 اس تاریخی فتح کے موقع پہ ہمیں عافیہ صدیقی اور انکے بچوں کو نہیں بھولنا چاہئیے۔ عافیہ تیری عظمت کو سلام۔
بلوچستان اور وزیرستان میں امن کے لئے کرکٹ کے میدان قائم کئیے جائیں۔
انقلاب آوے ہی آوے، عمران خان تم جیو ہزاروں سال۔

ہارنے کی صورت میں زیادہ مزے کے ڈائیلاگ ہونگے۔
یہ کھلاڑی ہیں ہی ,**********۔ ان ستاروں کی جگہ پہ مناسب الفاظ کے لئے ہمارے کچھ بلاگرز یا مبصرین مدد کر سکتے ہیں۔
پیسے کھائے ہیں۔ کس نے؟ پچاس فی صد لوگ، کھلاڑیوں نے۔ پچاس فی صد لوگ زرداری نے یا حکومت نے۔
بال ٹھاکرے کی دہشت ہو گئ تھی ہمارے کھلاڑیوں پہ،  یہ سٹے باز چوہے ہیں۔
جب تک اسلامی شریعت نافذ نہیں ہوگی، سترہ کروڑ دعاءووں میں کوئ اثر نہیں ہوگا۔ ہم اسی طرح ہندءووں سے ، عیسائیوں سے یہودیوں سے شکست کھاتے رہیں گے۔
اس میں سی آئ اے والوں کا ہاتھ ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کو سینتالیس دن تک جیل میں رکھا اس کا انتقام لیا ہے۔
اس میں را اور موساد کے ایجنٹ شامل ہیں۔
وینا ملک کا انتقام ہے، اس نے انڈیئینز بُکیز سے ملی بھگت کر کے قوم سے انتقام لیا ہے۔ اسکے خلاف کارروائ کی جائے۔
ہارپ ٹیکنالوجی کی مدد سے پچ کا موڈ تبدیل کر دیا گیا، جب پاکستان کھیلا اس وقت ہوا میں نمی  بڑھا دی گئ یا گھٹا دی گئ۔
کھلاڑیوں کو ہپنا ٹائز کر دیا گیا۔
کھلاڑیوں پہ یا کھیل کے میدان پہ جادو کیا گیا تھا۔ میں نے خود دیکھا کہ ہندو کھلاڑی کچھ بد بدا رہے تھے۔ ہندو تو ویسے بھی جادو ٹونے میں کمال رکھتے ہیں۔ جادو برحق ہے۔
طالبان کو چاہئیے کہ اب کرکٹ کے میدانوں کو اڑانا شروع کر دیں۔
موہالی کے میدان میں رکھا ہی اس لئے گیا تھا کہ پاکستانیوں کا جیتنا محال ہو جائے۔
امریکہ کا ہاتھ ہے، امریکہ اگلا ورلڈ کپ اپنے یہاں رکھنا چاہتا ہے۔
بے غیرت پاکستانیوں، تمہیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بد دعا لگی ہے۔ تم کیا ورلڈ کپ جیتوگے۔
انقلاب، آوے ہی آوے۔
ایسی منحوس قوم کیا انقلاب لائے گی پہلے اپنی کرکٹ میں توانقلاب لے آئے۔ انکی تو یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انکی تو وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹوئٹر پہ کچھ اس طرح کی ٹوئٹس ہونگیں۔
ہندوءوں پہ لعنت ہو
مسلمانوں پہ لعنت ہو
حکومت پہ لعنت ہو
زرداری پہ لعنت ہو
لعنت سے رسول اللہ نے منع فرمایا۔
جماعتیوں پہ لعنت ہو
لبرلز پہ لعنت ہو
آج دو قومی نظریہ ثابت ہو گیا۔
آج دو قومی نظریہ موہالی کے میدان میں دفن ہو گیا۔

سو قارئین، پاکستانیوں کی خوبی یہ ہے کہ خدا پرست ہی نہیں خدائ خصوصیات بھی رکھتے ہیں یعنی
ہو گئے خوش تو فرشتوں سے کرائے سجدے
آگئے طیش میں تو فردوس میں رہنے نہ دیا

میرے مبصرین کہیں گے۔
مسلمانوں کی اس عظیم فتح پہ تو آپ جیسے لبرلز کو بڑا صدمہ ہوا ہوگا۔
امن کی آشا والے دیکھ لیں ہندءووں نے ہمیں ہرا کر دم لیا۔ کیا جذبہ ء خیر سگالی کے لئے ہار نہیں سکتے تھے۔
کیمسٹری کے چار فارمولے یاد کرنے والوں کو کیا پتہ، کہ ہارپ ٹیکنالوجی موسم تو موسم، انسانی ذہن کو بھی تبدیل کر سکتی ہیں۔ ان لنکس کو اور پڑھو، ہا ہا ہا۔
پاکستان کے بال ٹھاکرے کا تذکرہ نہیں کیا میڈم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابے بولتا کیوں نہیں، پاکستان کا بال ٹھاکرے کون ہے
اپنے شہر کے غنڈوں سے پوچھو۔ 
کس کے پی پی پی، ایم کیو ایم یا اے این پی۔
وہ جو بھتہ لیتے ہیں
اور وہ جو اغواء برائے تاوان کرتے ہیں
تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو۔
بکتے ہو، اپنے صوبے کے دہشت گردوں کو دیکھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تعصب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اردو بلاگستان کی دنیا میں
یہ ڈفر صاحب کے بلاگ پہ ایک نظم ملی ہے یہ ایک سچے انقلابی شاعر سلیم فاروقی نے لکھی ہے۔ انکی وصیت ہے کہ جو اسے پڑھے وہ اسے اپنے بلاگ کی زینت ضرور بنائے ورنہ اس پہ عذاب ہوگا۔ وما علینا الاالبلاغ۔
جب بیانات اس نوعیت پہ پہنچ جائیں تو سمجھ لیجئیے کہ  مریض کو افاقہ ہے۔ اب آپ اپنے روزمرہ کے کام بلا جھجھک جاری رکھ سکتے ہیں۔

ادھر اطلاعات ہیں کہ شہر میں گولیوں کے دام بڑھ گئے ہیں اور لوگ انہیں ذخیرہ کرنے میں مصروف ہیں۔ اب اگر پاکستان جیت جاتا ہے تو نقار خانے میں طوطیوں کا کیا کام۔ طوطیوں کو ٹوئٹر، فیس بک اور بلاگز استعمال کرنا پڑیں گے۔ اور اگر نہیں جیتا تو اگلے چند دن ٹارگٹ کلنگ میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ  متوقع ہے۔  کچھ لوگوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔ خوف کی وجہ سے گھر میں رہنا ہوگا۔ ٹوئٹر، فیس بک اور بلاگز استعمال کرنا پڑے گا۔ یوں ثابت ہوگا کہ یہ سب ایجادات امت  مسلمہ یعنی پاکستانیوں کے خلاف سازش ہیں۔
۔
۔
۔
۔
اچھا اس ساری واہی تباہی کو ایک طرف رکھیں میں سوچ رہی تھی ورلڈ کپ کون جیتے گا۔ میرے خیال سے سری لنکا یا نیوزی لینڈ۔ کیا کہا پاکستان کیوں نہیں؟ تو پھر لگا لیں ایک شرط۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Thursday, February 24, 2011

خواتین اور بلاگنگ

مصر میں تبدیلی کا سہرا جن لوگوں کے سر جاتا ہے ان میں خواتین بلاگرز بھی شامل ہیں۔ بلاگستان کے ایک طبقے کی زبان میں وہ خواتین  نان کمیٹڈ ہیں جو اپنی گھر میں رہتے ہوئے کسی بھی ایسی چیز سے تعلق رکھنا چاہیں جو ان میں کسی بھی سطح کا شعور پیدا کرنے کے قابل ہو مثلاً بلاگنگ جیسی مفت شے۔ وہ خواتین جو  شادی شدہ ہیں انہیں  چاہئیے کہ ڈائجسٹ پڑھیں یا اسٹار پلس کے ٹی وی پروگرام  مثلاً ساس بھی کبھی بہو تھی دیکھ کر زندگی کے باقی دن پورے کریں۔  لیکن خواتین اگر خدا انہیں ہمت دے تو بلاگنگ نہ کریں جناب۔ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔
مزید دلچسپ ٹرینڈز بھی ہمارے یہاں ہی دیکھے جا سکتے ہیں۔ مثلاً ہمارے یہاں احترام کے لائق کون خواتین ہوتی ہیں؟ جی نہیں وہ خواتین نہیں جو کسی علمی مرتبے پہ یا کسی مقام پہ اپنی صلاحیت کی بناء پہ پہنچی ہوں نہ ہی وہ جو اپنی صلاحیتوں سے اپنے ارد گرد کے لوگوں کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا چاہ رہی ہوں یا دوسروں میں تحرک ہی پیدا کر دیں، نہیں وہ بھی نہیں جو کسی دباءو کا شکار اور کمزور شخص کی آواز بن جائیں اور وہ بھی نہیں جو صرف یہ کام انجام دینے لگیں کہ ایک جگہ کا کار آمد علم دوسری جگہ پہنچانے لگ جائیں۔
ہمارے یہاں کسی خاتون کو اگر احترام حاصل کرنا ہے تو ایک بالکل آسان سا نسخہ ہے حجاب پہننا شروع کر دے۔ اور ابھی اندازہ ہوا کہ سب سے کم سطح پہ یہ کہ اپنا نام ہی حجاب رکھ لے۔ بس اسکے بعد ان خاتون کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ جو کچھ کریں گے دوسرے کریں گے۔ احترام اور ستائیش  اس طرح نکل کر بہے گا کہ اس میں دھل کرعام مٹی بھی زم زم کی گیلی ریت بن جائے گی۔

 میں ان تمام ملکوں میں چلنے والی تحریکوں کی تصاویر دیکھتی ہوں جہاں مردوں کے دوش بدوش عورتیں کھڑی نعرہ زن ہیں۔ سوچتی ہوں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ان احتجاج کرنے والی عورتوں کو ہمارے یہ مرد کس فہرست میں رکھتے ہونگے قابل احترام یا نا قابل احترام۔ اس نیچے والی تصویر میں یقیناً وہ خواتین قابل احترام ہونگیں جنہوں نے اسکارف پہنا ہوا ہے اور جس خاتون نے نہیں پہنا ہوا وہ ناقابل احترام۔



اسماء محفوظ ایک بلاگر جو مصر میں تبدیلی کے بہاءو کو تیز تر کرنے میں شامل رہی۔ وہ اپنے گھر سے کمیٹڈ ہے یا نان کمیٹڈ، گھر اور گھریلو رشتوں کو اہمیت دینے والی ہے یا خود غرض۔  ہمارے یہاں ابھی پیٹ بھرے خیالات کا بہاءو اس طرح ہے۔

انکے دوست نے اپنی گھریلو مصروفیات کی وجہ سے بلاگنگ اور نیٹ سرفنگ سے معذرت کی ہے اس تحریر کے تبصروں میں لوگوں نے انکے اس اقدام کو ان لوگوں نے بہت سراہا جو گھر اور گھر میں بسنے والے لوگوں کی اہمیت سے واقف ہیں اور ان لوگوں نے اس فعل کو غیر اہم اور دقیانوس قرار دیا جو دوسروں کو کچھ نہیں سمجھتے انکے لئے انکا اپنا آپ ہی سب کچھ ہوتا ہے

چلیں جناب، اگر آپ گھر اور گھر میں بسنے والوں کی اہمیت سے واقف ہیں تو فوراً بلاگنگ جییسے قبیح فعل سے جان چھڑائیں ورنہ آپ ان لوگوں میں شامل ہونگے جو دوسروں کو کچھ نہیں سمجھتے اور آپکا اپنا آپ ہی آپ کے لئے اہمیت رکھتا ہے۔ یہ تبصرہ لکھنے والے اور اس پہ واہ واہ کرنے والے اس سے مستثنی ہیں۔ اگر انہوں نے  بلاگنگ چھوڑ دی اور دوسروں نے واہ واہ کرنا  تو بلاگنگ کی دنیا کو راہ راست پہ کون رکھے گا۔

Monday, January 17, 2011

میں کیوں بلاگ لکھتی ہوں

ہوا یوں کہ میں نے ایک سفر نامہ لکھا۔  لکھنے کے بعد میں جنگ اخبار کے میگزین سیکشن کے مدیر کو بھیجا کہ کیا وہ اسے اپنے اخبار کے میگزین میں چھاپ سکتے ہیں۔  انہوں نے جواب دیا کہ ہم اسے چھاپ دیں گے آپکے پاس جو تصویری مواد ہے وہ بھی بھیج دیں۔ میں نے انہیں وہ بھی بیج دیا۔ انہوں نے وہ چھاپنا شروع کر دیا۔ انکے میگزین کے ایک فل صفحے پہ وہ سفر نامہ نو اقساط میں شائع ہوا۔
لیکن یہ دیکھ کر مجھے شدید صدمہ ہوا کہ انہوں نے  چھ سات قسطوں تک تو ایک لفظ کی بھی ایڈیٹنگ نہیں کی لیکن جس صفحے سے مشرف کا نام آیا اس سے انہوں نے انتہائ بھونڈی ایڈیٹنگ کی اور مجھے مطلع تک نہ کیا۔ مجحے سمجھ نہیں آیا کہ اس لائن کو اڑانے کی کیا ضرورت تھی کہ وہاں مشرف کے نام کی افتتاحی تختی لگی ہوئ تھی۔ لیکن یہ شاید جنگ گروپ کی پالیسی کا حصہ تھا۔ اسی طرح انسانی اسمگلنگ میں شامل ایک شخص کا قصہ جس سے میری ملاقات ہوئ غائب کر دیا۔ چند اور دلچسپ باتیں کٹ گئیں۔
 مجھے یہ بات قطعاً پسند نہیں آئ، ان کے/کی ایڈیٹر کی ایڈیٹنگ کا معیار یہ تھا کہ یہ سفر ہم دو لوگوں نے ایک رینج روورگاڑی سے کیا تھا مگر آخری قسط میں انہوں نے ہم دونوں کو جہاز سے واپس بھجوا دیا اور گاڑی کا قصہ ہی گول ہو گیا کہ گاڑی کہاں گئ۔ جبکہ اس گاڑی کی وجہ سے ہمیں سفر میں بہت ایڈوینچر سے گذرنا پڑا اور اس پوری تحریر میں اس کا بڑا بیان تھا۔
حیرت ہے ایک شخص آپکو، چھپنے سے پہلے  پورا پلندہ ایک ساتھ دے دیتا ہے آپ اسے دو مہینے سے اوپر اپنے میگزین میں ایک بڑی جگہ دیتے ہیں اور آپ اسے یہ تک نہیں بتاتے کہ آپ اس میں کیا ترمیمات کرنا چاہتے ہیں۔ اس بد ترین ایڈیٹنگ سے پڑھنے والے قارئین کے ذہن میں اگر کسی خامی کا خیال آیا تو یقیناً وہ اس نے  مصنف کے کھاتے میں ڈالی ہوگی۔ حالانکہ یہ ان ایڈیٹر کی اہلیت کا اظہار تھا۔  اس وقت میں نے تہییہ کیا کہ آئیندہ اپنی تحاریر یوں ضائع نہیں کرنی۔  کوئ بھی عقل سے خالی شخص کسی کی بھی تحاریر کی ایڈیٹنگ کرنے بیٹھ جائے اس لئے کہ اس ادارے نے اسے ملازمت دی ہوئ ہے یا اس ادارے کی یہ پالیسی ہے۔ میرے پاس اگر موقع ہے تو ایسے لوگوں پہ کیوں انحصار کروں۔
کچھ دنوں بعد مجھ سے کسی نے کہا کہ آپ بلاگنگ کیوں نہیں کرتیں۔ اس سے پہلے میں نے کبھی اس طرف سوچا ہی نہ تھا۔ جناب یہ دیکھنے کے لئے کہ کیا اردو میں بلاگنگ ہوتی ہے سرچ ورڈذ ڈالے تو بلاگستان تک پہنچے۔ مگر یہاں پہنچ کر شدید مایوسی ہوئ۔  یوں لگا کہ اردو بلاگنگ دائیں بازو والوں کے قبضے میں ہے۔ اور لبرل تو دور یہاں تو موڈریٹ ویوز کا قحط ہے۔
سوچا یہاں تو بڑا زلزلہ پیدا کرنے کی گنجائیش ہے اور لکھنا شروع کر دیا۔

نوٹ؛
یہ تحریر پوسٹ کرنے کے بعد جب اردو سیارہ پہ گئ تو اندازہ ہوا کہ وہاں مشہوری کے لئے ایک نیا مقالہ موجود ہے۔  کیونکہ میں یہ کہانی کسی تبصرے میں انکے حوالے کر چکی ہوں۔ اور یہ تو آپ جانتے ہیں کہ بلاگستان میں کس شخصیت کے اوپر سب سے زیادہ مقالے حتی کہ تھیسس تک لکھا گیا ہے۔ اور بلاگ ٹریفک بڑھانے کے گُروں میں ایک گُر یہ بھی ہے کہ اس قسم کا مقالہ لکھ ڈالیں۔
:)
قارئین؛ چونکہ یہ  دونوں  مضامین باہمی مشاورت اور رونمائ حاصل ہوئے بغیر لکھے جا چکے ہیں اس لئے اب آپ ان دو تحاریر کا مزہ ایک ساتھ لیں۔ 

Thursday, October 14, 2010

شک اور یقین

 شک کرنا ایک اچھی عادت ہے یا بری۔ یہ میں نہیں کہہ سکتی۔ لیکن یہ مشورہ اکثر دوسروں کودیا کہ شکی مرد سے شادی بالکل نہیں کرنی چاہئیے چاہے وہ منگنی پہ ہیرے کی انگوٹھی دے۔ البتہ شکی  بیوی، ضرور شوہر کا مورال بڑھاتی ہے۔ اگر آپ اپنی مجرد زندگی میں باوجود کوشش صادق کے، کوئ معمولی افیئر چلانے میں بھی ناکام رہے ہیں اور عالم یہ ہے کہ یاد ماضی عذاب ہے یارب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا۔  تو ایک شکی مزاج خاتون سے شادی کر لیجِئے۔ وہ آپکے ماضی کو ایسا رنگین بنادیں گی کہ آپ خود گنگنانے لگیں گے جیسا اب ہے میرا ماضی کبھی ایسا تو نہ تھا۔
  صرف ماضی ہی نہیں شک کی تخلییقی صلاحیتوں سے آشنا لوگ آپکے حال کو بھی بدل ڈالنے پہ قدرت رکھتے ہیں۔
 ابھی اپنے حال کا قصہ بتاتی ہوں۔ ایک صاحب نے میل کی  کہ چونکہ آپکا نام فارسی زبان سے لیا گیا ہے اور آپکے بقول کسی ایرانی خاتون کے نام پہ ہے اس لئے میں آپکو شیعہ سمجھتا تھا۔ لیکن اب پتہ چلا کہ آپ لا مذہب ہیں۔  پہلے شک کی وجہ تو انہوں نے کھل کر بتادی۔  دوسرے شک کی وجہ تو نہیں معلوم  لیکن میراشک  ہے کہ یہ ان تحاریر کا گہرا تجزیاتی نچوڑ ہے جو آجکل 'ہم' سر سید پہ لکھ رہے ہیں۔  انکے شکوک کی پیداواری صلاحیت سے انجان رہنے کے لئے  میں نے انہیں لکھ دیا کہ آئیندہ مجھے میل نہ کریں۔  عقل کل نے کچھ بھانپ کر بات اس یقین تک پہنچائ کہ اس زہنیت کی بناء پہ عورتوں کی گواہی آدھی رکھی گئ ہے۔ اب میرے پچھلے ایک سال اور چند مہینوں پہ مشتمل ماضی کے حصے دار ہونے کی وجہ سے یہ بات آپ کے لئے تعجب خیز نہیں ہونی چاہئیے کہ میں نے انکی ذہنیت سے مزید لا علم رہنے کا یقین پیدا کرنے کے لئے انکے ای میل ایڈریس کو رپورٹ اسپیم میں ڈال دیا۔ لا علمی بڑی نعمت ہے۔
شکوک اور شبہات  کی کھچڑی کس دماغ میں نہیں پلتی۔ شاعر تو اس قدر شکی ہوتے ہیں کہ پوری شاعری شک کی پیداوار کہی جا سکتی ہے۔ محض  محبوب کے پاءوں دُکھنے کی شکایت پہ غالب نے فرما دیا کہ
شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیں
دُکھتے ہیں آج اس بت نازک بدن کے پاءوں
ایک ایسی ہی کیفیت میں شاعر کہتا ہے کہ
مجھ تک کب اسکی بزم میں آتا تھا دور جام
ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
ایک اور جگہ یہی حضرت اپنے محبوب کی شکی طبیعت کا افسانہ بناتے ہیں کہ
پینس میں گذرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے
کندھا بھی کہاروں کو بدلنے نہیں دیتے
 اب مداحین غالب، غالب کے مرقد پہ جا کر یہ رولا ڈالنے کی کوشش نہ کریں کہ کیسے کیسے لوگ آپکے بارے میں ایسی ویسی ہجو کر رہے ہیں۔  یقین رکھیں کہ وہ شک اور یقین کی منزل سے بالا مقام پہ ہیں۔ اوراس یقین  نے میرے اندر یہ سب لکھنے کی ہمت پیدا کی ہے۔
 ادھر میر تقی میر نے تو پوری کائینات کو توہم کا کارخانہ قرار دیا اور کہتے ہیں کہ
یہ توہم کا کاخانہ ہے
یاں وہ ہےجو اعتبار کیا 
اس سے مجھے شک ہوتا ہے اور کچھ کو یقین ہوگا کہ وہ لامذہب تھے۔ تاریخ کہتی ہے کہ انکے اجداد شیعہ تھے۔ نمعلوم خود وہ اس بارے میں کیا گمان رکھتے تھے۔ اب یہ عقدہ روز قیامت کے لئے چھوڑ رکھتے ہیں۔ آخر اس طویل دن کو کس سرگرمی کے ساتھ گذاریں گے۔
اور تو اور سائینس جیسے ماڈرن اور جدید علم میں بھی ہر خیال کسی شک سے جنم لیتا ہے۔ اور اسے یقین تک پہنچانے کے عمل کو انہوں نے تحقیق جیسا معتبر نام دے رکھا ہے۔ وہ لوگ جو سائینس میں ناکام رہے ہیں اسکی وجہ انہیں اب بآسانی سمجھ میں آتی ہوگی۔ 
اب میرے نفسیات کا محدود علم کہتا ہے کہ شک کی جڑیں یا تو تحت الشعور میں پھوٹتی ہیں یا لا شعور میں۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میں نہ صرف نفسیات کی ان اصطلاحوں کے ہجے جانتی ہوں۔ بلکہ اس سے شک ہوتا ہے کہ شک کی اہلیت رکھنے کے لئے شعور کا ہونا ایک لازمی عنصر ہے۔ جو لوگ اس سے محروم ہوتے ہیں انہیں لوگ پاگل یا پاگل دا پتر کہتے ہیں۔ ہر دو صورت میں محروم یقین کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے۔ سو اس سے یقین پیدا ہوتا ہے کہ یقین کے لئے شعور کا ہونا کچھ لازمی نہیں۔ یہ جڑیں جب ادھر ادھر پھیلتی ہیں تو شک اپنے جامے سے باہر ہو کر اوروں کو بھی نظر آنے لگتا ہے ۔ بالکل ایسے، جیسے سینہ ء شمشیر سے باہر ہے دل شمشیر کا ، میں ہوتا ہے۔ 
ادھر ہمارے ایک   بلاگر کے تحت الشعورکی جڑیں جب اپنے تبصروں سے پھوٹیں تو سر تبصرہ ہمیں بھی ایک شک کا پتہ دے گئیں۔   اور وہ یہ کہ عبداللہ اور عنیقہ ناز ایک ہی شخصیت کے دو رخ ہیں۔ مجھے شک ہے کہ وہ ابن صفی کے عمران سیریزکے کردار ایکسٹو سے بہت متائثر ہیں۔ عمران اور ایکسٹو ایک شخصیت کے دو رخ۔ لیکن یہ خیال اس سے بڑھ کر ہے۔ ایک شخصیت  کبھی مرد بن جاتی ہے اور کبھی عورت۔ کبھی بلاگر اور کبھی مبصر۔ زبردست۔ شک کرنے والا ذہن بڑی زبردست تخلیقی صلاحیتیں رکھتا ہے۔  اب مجھے یقین ہے کہ  لوگ عبداللہ کے تبصروں کو زیادہ شک سے پڑھیں گے۔ میری تحاریر تو ویسے بھی آدھی گواہی کے سلسلے میں آتی ہیں۔ سو عبداللہ کسے خوش ہونا چاہئیے؟
خیر نیٹ کی دنیا شکوک کا پینڈورا بکس ہے۔ کبھی بند نہیں ہوتا اور ایک کے بعد ایک پیدا ہوتا رہتا ہے۔ ایک شک پیدا ہوتا ہے کہ کچھ عرصے بعد استعمال کنندہ اپنے اوپر بھی شک کرنے لگے گا۔ اس وقت تک کے لئے میں نفسیات کے کچھ اور الفاظ کے ہجے سیکھنا چاہونگی۔
لاریب، شک سے ہے وجود کائنات میں رنگ۔  کسی کو شک ہے کہ انقلاب آنے والا ہے وہ روز اس امید پہ اخبار خریدتا ہے اور ٹی وی کے ٹاک شوز دیکھتا ہے کہ سب سے پہلے وہ یہ خبر سنے کہ اج پاکستان کے اسٹنیڈرڈ وقت کے مطابق اس وقت تاج اچھالیں جائیں گے اور اس وقت تخت گرائے جائیں گے۔ تممام کارروائ براہ راست نشر ہوگی۔ کچھ کو یقین ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ سب بہلانے کی باتیں ہیں۔ وہ روز اخبار چھاپتے ہیں اور کوئ نیا چینل کھولتے ہیں۔
کچھ کو شک ہے کہ ہماری اصل حکومت واشنگٹن میں ہے کچھ کو یقن ہے کہ ہمارا اصل دارالحکومت افغانستان میں بنے گا۔ حکومتی سطح پہ شک کے کاروبار میں کبھی مندی نہیں ہوتی۔ کچھ کو شک ہے کہ خود کش دھماکے امریکہ کروا رہا ہے،  سیلاب امریکہ لے کر آیا ہے،عمران فاروق کو امریکہ نے مروایا ہے، ٹارگٹ کلنگ میں امریکن ایجنسیز کام کر رہی ہیں۔ طالبان امریکن ایجنٹ ہیں۔ حکومت وقت امریکن ایجنٹ ہے۔ کئ شک کرنے والے پچھلے ڈھائ سال سے موجودہ حکومت کو کسی بھی وقت جاتا دیکھ رہے ہیں۔  مگرحکومتی ارکان کا یقین دیکھ کر مجھے اس شک پہ شک ہوتا ہے۔ ادھر معاشیات سے دلچسپی رکھنے والوں کو شک ہے کہ کرکٹ ٹیم کی میچ فکسنگ کا قصہ، صدر صاحب کے ذرائع آمدنی کم کرنے کی سازش تھی۔
عام لوگوں کے شکوک بھی عام سے ہوتے ہیں۔ مثلاً ڈبے کا دودھ نری ملاوٹ ہے اور کچھ نہیں۔ کچھ کو شک ہے کہ گائے کا کھلا دودھ کوئ چیز نہیں۔ عرصہ ہوا گایوں نے دودھ دینا چھوڑ دیا ہے اور وہ سفید چیز جو ہم پیتے ہیں وہ صرف ہارمونز ہیں جو گائے کو انجیکٹ کئے جاتے ہیں۔  
بعض شکوک بہت معصوم ہوتے ہیں مثلاً آدھی رات کو فیس بک پہ ایک انجان خاتون یا مرد سے چیٹنگ کے بعد یہ سوچنا کہ یہ عمل اسلامی ہے یا غیر اسلامی۔ اور محض اسی شک پہ باقی رات نوافل ادا کرنا۔
مذہبی شکوک، عام طور پہ کافر ہونا، کافر نہ ہونا، مشرک ہونا مشرک نہ ہونا، بدعتی ہونا اور بدعتی نہ ہونے کے گرد گھومتے رہتے ہیں۔
میرے بھی ہیں کچھ شکوک، مثلاً گھوڑا اور دریائ گھوڑا اب سے پچاس ہزار سال پہلے سیامی جڑواں تھے۔ تہذیبوں کی جنگ میں دونوں میں نظریاتی اختلاف پیدا ہوا۔ اور وہ الگ ہو گئے۔  سو اب زمینی گھوڑے میں مادہ ہی بچے کو جنم دیتی ہے جبکہ دریائ گھوڑے میں نر۔ یہاں ان لوگوں کا خیال دل میں آ سکتا ہے جو گھوڑے کی پیٹھ پہ پیدا ہوئے۔ لیکن مجھے شک ہے کہ  اس میں کچھ پردہ نشینوں کے نام اس طرح آئیں گے کہ یقیناً ثقافتی جنگ چھڑ جائے گی۔ 
میرے باقی شکوک بھی اسی طرح نقص امن کا باعث ہو سکتے ہیں۔ اس لئے میں انہیں اپنی سوانح حیات میں لکھنا چاہونگی جو بعد از مرگ شائع ہوگی۔ یعنی میرے شعور کی موت کے بعد۔ یاد رکھیں شعور کی جو موت ہے وہ فرد کی حیات ہے۔
شکوک کا ازالہ عملی طور پہ کوئ چیز نہیں۔ شک ایک دفعہ جنم لے لے تو یہ سو سکتا ہے مگر مر نہیں سکتا۔

نوٹ؛ اس تحریر پہ تبصرہ ضرور کیجئیے گا اورکرنے سے پہلے برائے مہربانی تعریف کے ڈونگرے ذرا کھل کر بر سائیے گا ورنہ مجھے شک رہے گا کہ آپ مجھ سے جیلس ہو رہے ہیں۔ اور میں یقیناً اسے آپکی ایروگینسی سمجھونگی۔  کچھ لوگوں کو شک ہو سکتا ہے کہ جب ہم اتنی تعریفیں کر لیں گے تو اصل موضوع پہ بات کرنے کی ہمت کہاں ہوگی۔ ہم صرف مدہم الفاظ میں اپنے شکوک ظاہر کر سکتے ہیں۔ یقیناً، یہی تو 'ہم' چاہتے ہیں۔