Showing posts with label فسچولا. Show all posts
Showing posts with label فسچولا. Show all posts

Wednesday, January 26, 2011

مرض، مریض اور مسیحا-۲


ابھی چند دن پہلے عرصہ ء پانچ سال کے بعد مجھے اس ہسپتال میں جانے کا دوبارہ اتفاق ہوا۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئ کہ ہسپتال اسی طرح صاف ستھرا تھا جس طرح چارسال پہلے جبکہ یہ اپنی تعمیر کے ابتدائ مراحل میں تھا۔

جتنی دیر  ہم موجود رہے انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ چار خواتین کا آپریشن کیا۔ ایک کا پہلے ہو چکا تھا۔ اور اس دوران  مختلف کام بھی نبٹاتے رہے۔

ہسپتال میں محض فسچولا کا علاج ہی نہیں ہوتا بلکہ عورتوں کے جملہ امراض کا علاج بھی کیا جاتا ہے جن میں  حمل ، زچگی، ،سن یاس اور بانجھ پن شامل ہیں۔
شاید اسی لئے اسکا نام 'عورتوں کا ہسپتال' رکھا گیا ہے۔



علاج کی غرض سے آنے والی خواتین کا علاج مفت کیا جاتا ہے ۔ صرف مریض ہی نہیں بلکہ تیماردار کو مفت کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ یوں یہاں ایک کینٹین بھی ہے جہاں سے ہسپتال کا عملہ ہی نہیں ڈاکٹر صاحبان بھی وہی کھانا کھاتے ہیں۔

فسچولا کے مریضوں کے لئے ایک علیحدہ وارڈ ہے
یہاں  مڈوائفری کا کورس کرانے کے انتظامات بھی ہیں اور نرسنگ کی تربیت کا بھی انتظام بھی۔ یوں مقامی گوٹھوں کی بلوچ لڑکیوں کو کافی تعداد میں اس میں دلچسپی لیتے دیکھا۔ ان تربیتی کورسوں کے علاوہ مقامی گوٹھ کی دلچسپی رکھنے والی خواتین کی مفت ابتدائ تعلیم کے لئے بھی ایک گوشہ مختص کیا گیا ہے جسے سندھ ایجوکیشن فاءونڈیشن چلا رہا ہے۔

سندھ ایجوکیشن فاءونڈیشن کی استاد اپنے کمرہ ء جماعت میں
  
بچوں کے لئے ایک چھوٹا سا پارک










اگر آپ کے نزدیک کوئ خاتون محض  پیسوں کی وجہ سے علاج کرانے سے ہچکچاتی ہیں تو انہیں اس ہسپتال کا پتہ ضرور دیجئیے۔ ہسپتال مختلف ڈونیشنز سے چلتا ہے اگر آپ بھی دینا چاہیں تو اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔
ایک پسماندہ ملک کی پسماندہ خواتین کے لئے یہ ہسپتال ترقی کی ایک علامت ہے۔ مزید معلومات کے لئے یہ ویڈیو دیکھئیے۔

ہسپتال کے مختلف حصوں سے گذرتے ہوئے میری نظر ایک زمین کے نیچے جاتے ہوئے راستے پہ پڑی۔ بتایا گیا کہ اس کا نام ہم نے مصطفی کمال بائ پاس رکھا ہے۔ کیونکہ مصطفی کمال اتنی تیزی سے بائ پاس بنوا رہے تھے جس زمانے میں ہمیں اسے بنانا پڑا۔ مگر ضرورت کیا پڑی تھی اسے بنانے کی؟ دراصل مقامی گوٹھ کے لوگوں نے  اعتراض کیا تھا کہ اس ہسپتال کی وجہ سے گوٹھ کے اندر چلنا انکے لئے مشکل ہو گیا ہے۔ اس لئے ہسپتال کی زمین میں سے انہیں راستہ دینا پڑا۔ یوں دو ٹکڑے ہونے کے بعد دوسرے ٹکڑے سے رابط کے لئے یہ بائ پاس بنانا پڑا۔

ہمم، یہ دلوں کے درمیان بائ پاس بنانے سے پہلے زمین میں بھی بائ پاس بنانا پڑتے ہیں۔ 
:)

مرض، مریض اور مسیحا-۱

گل بانو، بلوچستان کے دور افتادہ گاءوں کی رہنے والی  لڑکی مقامی روایات کے تحت تیرہ سال کی عمر میں شادی کے بندھن میں باندھ دی گئ۔ اگلے سال وہ ماں بننے کے مراحل میں تھی۔ اسکی زندگی میں افسوسناک صورت حال نے اس وقت جنم لیا جب وہ بچے کی پیدائیش کے عمل سے گذر رہی تھی۔ کم عمری اور نا تجربے کار دائ  کی وجہ سے  کی اس نے چار دن اس تکلیف میں گذارے ۔ 
بچے کی پیدائیش کے بعد گل بانو کو احساس ہوا کہ پیشاب اور پائخانہ اسکے جسم سے بغیر کسی کنٹرول کے ہر وقت رس رہے ہیں۔ یہ ایک تکلیف دہ ہی نہیں شرمندہ کر دینے والی صورت حال تھی۔ کسی کو نہیں معلوم تھا کہ اسے کیا ہو گیا ہے اور اسکا کیا علاج ہے۔ 
گل بانو اپنی جھونپڑی میں قید ہو کر رہ گئ۔ تین سال اس حالت میں گذرے۔  اس مایوسی میں امید کی کرن اسکا شوہر تھا۔ وہ خوش قسمت تھی کہ اس کے شوہر نے اسکا ساتھ نہیں چھوڑا تھا۔ ایک دن اسکے شوہر کو کراچی میں موجود ایک ہسپتال کا پتہ چلا جہاں نہ صرف اسکی بیوی کا علاج مفت ہو سکتا تھا بلکہ تیماردار کی حیثیت سے اسکو بھی سپورٹ حاصل ہوجاتی۔
گل بانو کو چارپائ پہ ڈالا گیا تاکہ اسے اٹھا کر گاءوں کے قریب سے گذرنے والی سڑک تک پہنچایا جا سکے۔ دو دن اور رات کے سفر کے بعد وہ سڑک تک پہنچے۔ جہاں سے ایک ٹویوٹا ہائ لکس پک اپ میں آٹھ گھنٹے کا سفر کرنے کے بعد وہ کراچی کے نزدیک کوہی گوٹھ پہنچے۔ جہاں وہ ہسپتال تھا۔
یہاں نو مہینے کے دوران گل بانو کے چھ آپریشن ہوئے اور وہ اپنے جسم پہ  شرمندگی کے سوراخ بھرنے میں کامیاب ہو گئ۔  
فسچولا وہ پیچیدگی ہے جو بچوں کی ڈلیوری کے دوران پیدا ہو سکتی ہے خاص طور پہ اس وقت جبکہ ڈیلیوری میں زیادہ وقت لگ جائے۔ یوں بچے کی حرکت کی وجہ خواتین کے اندرونی اعضاء پھٹ جاتے ہیں اور ان میں سوراخ ہو جاتے ہیں۔ ان سوراخوں سے پیشاب پائخانے کا اخراج اندرونی اعضاء میں ہونے لگتا ہے اور ان پہ سے ایک عورت کا جسمانی کنٹرول ختم ہو جاتا ہے۔
مسلسل اخراج کی وجہ سے جسم کے اوپری حصے پہ آبلے پڑ جاتے ہیں۔ بچہ دانی سوکھ سکتی ہے، بانجھ پن پیدا ہو سکتا ہے ، مایوسی، ڈپریشن اور سٹریس بڑھتا ہے۔ اکثرعورتوں کو انکے شوہر لا وارث چھوڑ دیتے ہیں اور گھر والے یا دیگر لوگ مسلسل بدبو کی وجہ سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔
کوہی گوٹھ میں واقع یہ ہسپتال جس کا نام عورتوں کا ہسپتال ہے۔  ڈاکٹر شیرشاہ سید کی زیر نگرانی چلنے والا ایک ہسپتال ہے اس کے قیام کے لئے انہوں نے فنڈز اکٹھے کئیے۔ انہوں نے کوشش کی کہ کمیونیٹی کی بنیاد پہ خواتین کی صحت کے 
  مسائل کے بارے میں احساس پیدا کیا جائے









متعلقہ ویڈیو یہاں حاضر ہے۔

Friday, May 15, 2009

چھوٹے دماغ کا آدمی

ڈاکٹر شیر شاہ سید کا نام کراچی کے لئے اور طب کی دنیا سے تعلق رکحنے والے لوگوں کے لئے انجان نہیں۔ وہ ایک قابل اور محنتی گائناکولوجسٹ ہی نہیں بلکہ اپنے پیشے سے اور اس ملک کے لوگوں سے مخلص بھی ہیں۔ انہوں نے خواتین کے مختلف پیچیدہ امراض کے علاج کے لئے فلاحی بنیادوں پر کراچی کے مضافات میں واقع کوہی گوٹھ میں ایک ہسپتال بھی کھولا ہے جہاں فسچولا سمیت دیگر امراض کا علاج مفت یا بہت ہی کم پیسوں میں کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر شیرشاہ سید کا نام فسچولا کی مریض خواتین کے لئے زندگی کے فرشتے سے کم نہیں۔ جب میں نے فسچولا سے صحت مند ہونے والی ایک خاتون کو فرط جذبات سے ڈاکٹر شیر شاہ کےہاتھ چومتے دیکھا تو احساس ہوا کہ حقیقی مسرت کیا چیز ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ بھی انہوں نے خواتین کی صحت کو بہتر بنانے کےمختلفالنوع کام کئے ہیں جن کا یہاں تذکرہ ممکن نہیں اور نہ ہی یہ میرا مقصد ہے۔ لیکن بحیثیت ایک خاتون کے میں ان کا شکریہ ضرور ادا کرنا چاہوں گی۔ شکریہ ڈاکٹر شیر شاہ سید۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب خود کئی افسانوں کے مجموعوں کے خالق بھی ہیں۔ خیر یہ تو ان کا ایک مختصر سا تعارف تھا۔

تو جناب یہ واقعہ مجھے خود ان کی زبانی سننے کو ملا۔ گفتگو کے ضمن میں وہ ایک بہت دلچسپ آدمی ہیں۔ ڈاکٹر شیر شاہ سید سے معذرت کے ساتھ کہ یہ واقعہ ان کی اجازت کے بغیر تحریر کر رہی ہوں۔ امید رکھتی ہوںکہ وہ اس جسارت کو درگذر کریں گے۔ اب آجائیں اصل واقعے کی طرف۔ تو ہوا یوں کہ ایک دفعہ ڈاکٹر صاحب کاکوئٹہ کسی کام کے سلسلے میں جانا ہوا۔ کہیں جانے کے لئے ٹیکسی کی ضرورت پڑی۔ آدمی اکیلا ہو اور باتوں کا شوقین بھی تو ٹیکسی ڈرائیور خا صا کارآمد ثابت ہوتاہے ان کی ڈرائیور سے گفتگو شروع ہو گئ اب ادھر ادھر کی باتوں کے دوران ڈرائیور کی ذاتی زندگی بھی گفتگو میں آگئے۔ اس نے خوشی خوشی بتایا کہ اس کے چار بیٹے ہیں۔ اب ان کے ڈائیلاگ حاضر ہیں۔

ڈاکٹر صاحب؛ کیا کرتے ہیں تمہارے چاروں بیٹے؟
ڈرائیور؛ صاب ابھی چھوٹا ہے۔ بڑا والا کوئ گیارہ سال کا ہے اور صب سے چھوٹا چھ سال کا۔ چاروں ابھی مدرسہ جاتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب: اسکول نہیں جاتا تمہارا کوئ بچہ۔
درائور: نہیں صاب ، اسکول کوئ نہیں جاتا۔
ڈاکٹر صاحب: بھئ تم انہیں اسکول کیوں نہیں بھیجتے۔ دیکھو وہ اسکول جائیں گے تو ان میں سے کوئ انجینیئر بنے گا اور کوئ ڈاکٹر بنے گا۔ لوگوں کا علاج کرےگا۔ تمہیں معلوم ہے پاکستان میں ہر سال تیس ہزار سے زیادہ عورتیں بچے کی پیدائش کے دوران مر جاتی ہیں۔
ڈرائیور: صاحب ہمارابچہ مدرسے جاتا ہے وہ وہاں زیادہ بڑا کام کرے گا۔
ڈاکٹر صاحب حیرانی سے: وہاں کیا زیادہ بڑا کام کرے گا
ڈرائیور: صاب ، وہ ساری دنیا میں کافروں سے لڑائ کرے گا۔ ساری برائ ان کافروں نے پھیلائ ہے ان کو صحیح کرے گا۔ادھر وہ عراق میں مسلمانوں کو مارتا ہے۔ کشمیر میں مارتا ہے افغانستان میں مارتا ہے۔ ان سب لوگوں سے جہاد کرے گا۔
ڈاکٹر صاحب نے ایک دفعہ پھر اسے بتانے کی کوشش کی: تم میری بات نہیں سمجھ رہے تمہارے بچے ڈاکٹر بنیں گے اور ان عورتوں کی جان بچائیں گے تو سوچو پاکستان میں ہر سال تیس ہزار عورتوں کی جان بچے گی۔ اس کا ان کو کتنا ثواب ملے گا۔

اب ڈرائیور بالکل سیخ پا ہو گیا کہنے لگا۔ "تم کتنے چھوٹے دماغ کا آدمی ہے ہم پوری دنیا کی بات کرتا ہے اور تم صرف پاکستان کی اور پاکستانی عورتوں کی بات کرتا ہے"۔

اس بات کے آخیر میں ہم سب زوردار قہقہہ لگا کر خاموش ہو گئے۔ وہ ڈرائیور بھی حیران ہو گا کہ عورت کی جان بچانے کا بھی ثواب ہوتا ہے۔۔ شکر ہے اس نے پلٹ کر یہ نہیں کہا کہ ابے تو جان بچاتا ہے کافی نہیں ہے۔ یہ قصہ تقریباً تین سال پرانا ہے۔ لیکن میں سوچتی ہوں کہ یہ ہیں ہماری ترجیحات جس کی وجہ سے آج ہماری فوجیں ان لوگوں سے لڑ رہی ہیں جو کہنے کو اس ملک کا حصہ کہلاتے ہیں۔ جس کیوجہ سے آج دس لاکھ سے زائد لوگ گھر سے بے گھر ہوگئے ہیں۔ جس کیوجہ سے آج باقیماندہ ملک کا ہر شہری خوف اور بے یقینی کا شکار ہے۔ حالات کی ستم ظریفی دیکھیں کہ وہ مذہب جسے امن کا مذہب کہا جاتا ہے آج اسے ہی نقص امن کا باعث بنادیا گیا ہے۔ آئیے اس بات پہ ہم سب مل کر ہنستے ہیں ایک کھسیانی ہنسی۔ ہی ہی ہی

ریفرنس: ہسپتال کے بارے میں معلومات یہاں سے حاصل کریں۔

کوہی گوٹھ ہسپتال


فسچولا کی انکہی کہانی