Showing posts with label مصر. Show all posts
Showing posts with label مصر. Show all posts

Friday, June 17, 2011

زر، زمین، زن

کہتے ہیں  دنیا میں تمام جھگڑوں کا باعث تین چیزیں ہیں۔ زر، زمین اور زن۔ مجھے نہیں معلوم کہ نظریاتی اور مذہبی جھگڑے انکے درمیان کہاں فٹ ہوتے ہیں۔ اس لئے ممکن ہے کہ یہ مقولہ، معاشرتی جھگڑوں پہ زیادہ جچتا ہو۔ 
آپ میری اس رائے سے اختلاف کریں یا انکار، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ جھگڑے اپنی رفتار سے جاری ہیں اور جاری رہیں گے۔ آج ایک وجہ کو ختم کریں کل کسی اور نام سے اٹھ کھڑے ہونگے۔ اس لئے عقلمند لوگ، پرانے جھگڑے نہیں نبٹاتے۔  یہ جتنے پرانے ہوں، اتنی ہی مہارت سے لٹکائے رکھے جا سکتے ہیں۔ یوں بہت سے لوگوں کی دانش اور مہارت کا سکہ جما رہتا ہے۔ اگر پرانے جھگڑے  فی الفور نبٹا دئیے جائیں۔ تو ہر نئے جھگڑے پہ نئ مہارت حاصل کرنی پڑے گی۔ اس سے ارتقاء کی رفتار بڑھ جانے کا اندیشہ ہوگا۔ جس سے نئ مخلوقات سامنے آئیں گی۔ وہ دعوی کریں گی کہ یہ  جھگڑا ہمارا ہے اور ہم اسے بہتر طور پہ حل کر سکتے ہیں۔ لیجئیے  پھر نسلی تفاخر کی جگہ بننا مشکل ہو جائے گی۔ اس طرح، معاشرے کے تارو پود بکھر جانے کا خطرہ پیدا ہو جائے۔
تارو پود کے بکھرنے  سے ، غریب، ترقی پذیر معاشروں کو سب سے زیادہ ڈر لگتا ہے۔ کیونکہ ان تاروں کے بکھرنے میں  تبدیلی کا کرنٹ بہتا ہے۔ انہیں واپس انہی بنیادوں پہ ایستادہ نہیں کیا جا سکتا۔ جس سے پرانے جھگڑے مر جاتے ہیں۔ اتنے مانوس صیاد سے ہو گئے ہیں اب رہائ ملی تو مر جائیں گے۔  اور پود کے متعلق مجھے بھی کچھ اندیشہ ہائے دراز لا حق ہیں۔ پورب جاءو یا پچھم، وہی کرم کے لچھن۔

اس سلسلے کو یہیں فل اسٹاپ لگا کر اپنے اصل موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔ زر، زمین اور زن۔
پچھلے دنوں میں نے دوتحریریں پڑھیں۔ ایک مصری  ادیب علاء الاسوانی کی کہانی اور دوسرے ایک پاکستانی ادیب محمد اقبال دیوان کی کہانی۔ ایک کے پیچھے مصر  کا پس منظر اور اسکے سیاسی، معاشی و معاشرتی حالات جھانک رہے ہیں اور دوسرے میں پاکستان اپنی انہی تلخ حقیقتوں کے ساتھ موجود ہے۔ لیکن ان دو تحریروں میں ایک چیز مشترک لگتی ہے وہ مرد کا عورت سے رشتہ۔ اور یوں لگتا ہے دنیا کا  ہر انقلاب ان دونوں کے اس رشتے سے ہو کر گذرتا ہے۔ تو کیا دنیا کا ہر جھگڑا زر، زمین اور زن کے گرد گھومتا ہے۔
میری تو خواہش تھی کہ اقبال دیوان کی کہانی کو پورا ڈال دیتی ہے۔ کہ اس میں آجکا پاکستان جھلکتا ہے۔ لیکن یہ تیس صفحوں پہ مشتمل ہے۔
علاء الاسوانی کی تحریر کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی مسئلہ ہے۔ اس لئے دونوں کہانیوں کے کچھ صفحات کے اسکین شدہ حصے ہی مل پائیں گے۔ آج مصری ادیب کو پڑھیں۔ مصر کی تہذیب میں ویسے ہی  بڑی سحر انگیزیاں ہیں اسکے ادیب کا سحر دیکھیں۔ یہ حصہ انکے ناول عمارت یعقوبیان کے  دوسرے باب سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ مترجم ہیں محمد عمر میمن۔  شائع ہوا ہے دنیا زاد میں۔ اب دنیا زاد والوں کو مجھے اپنے ایڈورٹائزنگ سیکشن کاحصہ سمجھنا چاہئیے۔
:)




یہ اسکین شدہ صفحات ہیں۔ بہتر طور پہ پڑھنے کے لئے تصویر پہ کلک کیجئیے۔

Thursday, February 24, 2011

خواتین اور بلاگنگ

مصر میں تبدیلی کا سہرا جن لوگوں کے سر جاتا ہے ان میں خواتین بلاگرز بھی شامل ہیں۔ بلاگستان کے ایک طبقے کی زبان میں وہ خواتین  نان کمیٹڈ ہیں جو اپنی گھر میں رہتے ہوئے کسی بھی ایسی چیز سے تعلق رکھنا چاہیں جو ان میں کسی بھی سطح کا شعور پیدا کرنے کے قابل ہو مثلاً بلاگنگ جیسی مفت شے۔ وہ خواتین جو  شادی شدہ ہیں انہیں  چاہئیے کہ ڈائجسٹ پڑھیں یا اسٹار پلس کے ٹی وی پروگرام  مثلاً ساس بھی کبھی بہو تھی دیکھ کر زندگی کے باقی دن پورے کریں۔  لیکن خواتین اگر خدا انہیں ہمت دے تو بلاگنگ نہ کریں جناب۔ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔
مزید دلچسپ ٹرینڈز بھی ہمارے یہاں ہی دیکھے جا سکتے ہیں۔ مثلاً ہمارے یہاں احترام کے لائق کون خواتین ہوتی ہیں؟ جی نہیں وہ خواتین نہیں جو کسی علمی مرتبے پہ یا کسی مقام پہ اپنی صلاحیت کی بناء پہ پہنچی ہوں نہ ہی وہ جو اپنی صلاحیتوں سے اپنے ارد گرد کے لوگوں کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا چاہ رہی ہوں یا دوسروں میں تحرک ہی پیدا کر دیں، نہیں وہ بھی نہیں جو کسی دباءو کا شکار اور کمزور شخص کی آواز بن جائیں اور وہ بھی نہیں جو صرف یہ کام انجام دینے لگیں کہ ایک جگہ کا کار آمد علم دوسری جگہ پہنچانے لگ جائیں۔
ہمارے یہاں کسی خاتون کو اگر احترام حاصل کرنا ہے تو ایک بالکل آسان سا نسخہ ہے حجاب پہننا شروع کر دے۔ اور ابھی اندازہ ہوا کہ سب سے کم سطح پہ یہ کہ اپنا نام ہی حجاب رکھ لے۔ بس اسکے بعد ان خاتون کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ جو کچھ کریں گے دوسرے کریں گے۔ احترام اور ستائیش  اس طرح نکل کر بہے گا کہ اس میں دھل کرعام مٹی بھی زم زم کی گیلی ریت بن جائے گی۔

 میں ان تمام ملکوں میں چلنے والی تحریکوں کی تصاویر دیکھتی ہوں جہاں مردوں کے دوش بدوش عورتیں کھڑی نعرہ زن ہیں۔ سوچتی ہوں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ان احتجاج کرنے والی عورتوں کو ہمارے یہ مرد کس فہرست میں رکھتے ہونگے قابل احترام یا نا قابل احترام۔ اس نیچے والی تصویر میں یقیناً وہ خواتین قابل احترام ہونگیں جنہوں نے اسکارف پہنا ہوا ہے اور جس خاتون نے نہیں پہنا ہوا وہ ناقابل احترام۔



اسماء محفوظ ایک بلاگر جو مصر میں تبدیلی کے بہاءو کو تیز تر کرنے میں شامل رہی۔ وہ اپنے گھر سے کمیٹڈ ہے یا نان کمیٹڈ، گھر اور گھریلو رشتوں کو اہمیت دینے والی ہے یا خود غرض۔  ہمارے یہاں ابھی پیٹ بھرے خیالات کا بہاءو اس طرح ہے۔

انکے دوست نے اپنی گھریلو مصروفیات کی وجہ سے بلاگنگ اور نیٹ سرفنگ سے معذرت کی ہے اس تحریر کے تبصروں میں لوگوں نے انکے اس اقدام کو ان لوگوں نے بہت سراہا جو گھر اور گھر میں بسنے والے لوگوں کی اہمیت سے واقف ہیں اور ان لوگوں نے اس فعل کو غیر اہم اور دقیانوس قرار دیا جو دوسروں کو کچھ نہیں سمجھتے انکے لئے انکا اپنا آپ ہی سب کچھ ہوتا ہے

چلیں جناب، اگر آپ گھر اور گھر میں بسنے والوں کی اہمیت سے واقف ہیں تو فوراً بلاگنگ جییسے قبیح فعل سے جان چھڑائیں ورنہ آپ ان لوگوں میں شامل ہونگے جو دوسروں کو کچھ نہیں سمجھتے اور آپکا اپنا آپ ہی آپ کے لئے اہمیت رکھتا ہے۔ یہ تبصرہ لکھنے والے اور اس پہ واہ واہ کرنے والے اس سے مستثنی ہیں۔ اگر انہوں نے  بلاگنگ چھوڑ دی اور دوسروں نے واہ واہ کرنا  تو بلاگنگ کی دنیا کو راہ راست پہ کون رکھے گا۔

Friday, January 28, 2011

انقلاب اے انقلاب

تیونس سے بھڑکنے والی آگ کے شعلے مصر تک جا پہنچے۔  تیونس کے صدر زین العابدین بن علی نے مشتعل عوام سے بھاگ کر سعودی عرب میں پناہ لی۔ فرانس نے انہیں پناہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔  ادھر مصر میں ہزاروں لوگوں نے حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف احتجاج میں حصہ لیکر ناراضگی کا جمعہ منایا۔ یوں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی ہجوم سے نبرد آزما صدر حسنی مبارک نے کرفیو کا نفاذ کر دیا۔
لوگوں کو اس احتجاج کے لئے جمع کرنے میں جدید ٹیکنالوجی نے بڑا حصہ لیا۔ پچھلے دو دنوں میں انٹر نیٹ سرگرمی مصر میں اتنی زیادہ رہی کہ حکومت نے انٹرنیٹ پہ پابندی لگا دی۔ اس سے پہلے سے متائثرکاروباری حلقے کو سخت نقصان پہنچا۔

  دونوں ملکوں میں جو قدر مشترک ہے وہ آمریت کا ایک طویل عرصے تک اقتدار پہ قابض رہنا اور اسے قائم رکھنے کے لئے اپنی قوم کو ہر طرح کے دباءو میں رکھنا،  بد ترین معاشی حالات اور ایک ہی ملک کے اندر مختلف طبقات کے اندر غیر متوازن فرق۔ عوام کو جاہل رکھا جا سکتا ہے مگر بھوکا نہیں۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ عمل یمن اور اردن میں بھی دوہرائے جانے کا امکان ہے اور جلد یا بدیر سعودی عرب بھی اسکی لپیٹ میں آئے گا۔  یوں عرب دنیا ایک بڑی تبدیلی سے دوچار ہونے جا رہی ہے۔  طویل شخصی حکومتوں کے عادی نظام کس نئ سمت میں جائیں گے یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔

ان انقلابات کو دیکھ کر پاکستان میں کچھ لوگوں نے یہ امید لگائ ہے کہ شاید ہم بھی ایسے ہی کسی انقلاب کی طرف گامزن  ہونے والے ہوں۔ لیکن کیا عوام کسی انقلاب کی طرف جانے کو تیار ہیں۔  آئیے دیکھتے ہیں یہ ویڈیو۔

Wednesday, January 12, 2011

ایک کتاب اور کچھ اقتباسات-۴

 گذشتہ سے پیوستہ

قاہرہ کو دیکھ کر مایوسی ہوئ۔ میں نے اس کے متعلق سن رکھا تھا کہ دنیا کے بہترین شہروں میں سے ایک شہر ہے لیکن ہندوستان کے اچھے قسم کے  شہروں سے کسی طرح بہتر نہیں پایا۔ فرانسیسی بازار اس کا بہترین حصہ  ہے اور گھنا آباد ہے، شہر کا باقی حصہ پرانا، ٹوٹا پھوٹا اور گندہ تھا۔ نائب السلطنت کی شاہی عمارتیں مصریوں کے نزدیک بہترین عمارتوں میں ہوں تو ہوں مگر میری نظر میں ایسی نہیں ہیں۔ شاہان مغلیہ کی بنائ ہوئ دہلی، آگرہ، اور دیگر مقامات کی عمارتوں کے مقابلے میں بہت گھٹیا ہیں۔ انکی شان و شوکت انکے خوبصورت نقشے اور قابل تعریف تناسب اس زمانے کے بڑے بڑے ماہرین تعمیر کو بھی حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ نائیبین سلطنت کے مقبرے ، قلعہ کے اندر نائب السلطنت کا محل اور مسجد ، خود قلعہ اور شہر کا محل بہت شاندار عمارتیں ہیں۔ مسجد خاص طور سے خوبصورت ہے۔ اس کے نقش و نگار بہت عمدہ ہیں۔
سفر کرتے ہوئے اسکندریہ پہنچے۔ کرایہ پر خچر چلانے والے لڑکوں کی سینہ زوری سے بہت لطف اٹھایا۔ میرے دو دوست اول باہر نکلے اور دو لڑکوں کو اشارہ سے بلایا مگر انکے آس پاس اتنے جمع ہو گئے  کہ ان کے لئے کسی خچر پر بھی سوار ہونا مشکل ہو گیا۔ ہر لڑکا قریب کے خچر کو ہٹا کر اپنا خچر بڑھا لاتا۔ ممکن سے ممکن  جو افراتفری ہو سکتی تھی وہ تھی۔ لڑکے الٹی سیدھی انگریزی میں خچروں کی تعریف کرتے 'میرا خچر  انگریزی جانتا ہے۔' 'میرا خچر انگریز سر پٹ بھگاتا ہے'، 'خچر دلکی چال چلتا ہے' ، 'ہندوستانی جانتا ہے'۔

سلطان کی مملکت کے اس حصے کو دیکھ کر  سلطنت کی ترقی کے بارے میں ہمارے اعتماد میں اتنا ہی اضافہ ہوا جتنا عرب کو دیکھ کر کم ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ سر زمین عرب کو مقدس سمجھنے اور اس کے تقدس کو لا دینی اثرات سے محفوظ رکھنے کے علاوہ اس ملک سے اچھی آمدنی کی بھی امید نہیں۔ غالباً اسی وجہ سے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ شریف اور مقامی سردار اپنے اسلاف کے طور طریق پر حکومت کرنے کے لئے آزاد  چھوڑ دئیے گئے ہیں۔ مختلف خانوادے یا قبائل اب سے دس صدی قبل کے حقوق سے مستفید ہو رہے ہیں۔


جاری ہے