اچھا تو ہوا یوں کہ میں نے اپنی بچی کے لئے بازار سے کافی ساری اردو کی کہانیاں خریدیں۔ لیکن ان سب میں مجھے کچھ مسائل مشترکہ لگے۔
الفاظ کے درمیان فاصلہ اتنا کم ہے کہ ایک بچہ جو ابھی اردو سیکھنے کے بالکل ابتدائ مراحل میں ہے اسے انہیں الگ الگ پڑھنے میں دشواری ہوتی ہے۔
کہانیوں میں غیر ضروری تفصیلات ہیں ۔ جس سے وہ خاصی لمبی ہوجاتی ہیں۔ چھوٹے بچے اگر کہانی بہت لمبی ہو اسے پڑھنے میں دلچسپی نہیں لیتے۔
ابتدائ کلاس کے بچوں کے حساب سے کہانیوں کی زبان آسان نہیں ہے۔
کہانیوں میں تسلسل کی کمی لگتی ہے۔
الفاظ کا چناءو کم درجے کا ہے۔
کہانیوں میں غیر ضروری تفصیلات ہیں ۔ جس سے وہ خاصی لمبی ہوجاتی ہیں۔ چھوٹے بچے اگر کہانی بہت لمبی ہو اسے پڑھنے میں دلچسپی نہیں لیتے۔
ابتدائ کلاس کے بچوں کے حساب سے کہانیوں کی زبان آسان نہیں ہے۔
کہانیوں میں تسلسل کی کمی لگتی ہے۔
الفاظ کا چناءو کم درجے کا ہے۔
یہ تو تھیں ان کہانیوں کی بنیاد خامیاں۔ اس لئے ایک دن مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ میں یہ کہانیاں اپنی بچی کے لئے خود لکھوں۔ اس سلسلے میں پہلی کہانی سنڈریلا پہ لکھی ہے۔ یہ ان پیج میں لکھی گئ ہے۔ اس لئے کہ میں اسکے پرنٹس نکال کر جب چاہے کسی کو دے سکوں۔ ورڈ میں فونٹ نوری نستعلیق نہیں آتا۔
الفاظ کے درمیان فاصلہ رکھا ہے تاکہ بچہ ہر لفظ کو الگ پہچان سکے۔ الفاظ کو غیر ضروری طور پہ جوڑنے سے احتراز کیا گیا ہے۔ مثلاً اسکے کو اس کے لکھا گیا ہے۔ یہ لہانی پہلی جماعت کے حساب سے لکھی گئ ہے۔ کہانی میں کچھ ڈرائنگز نیٹ سے لے کر ڈالی گئ ہیں۔ جب بچہ کہانی سن لے تو اس میں رنگ بھرے۔ میری بچی کو تصویروں میں رنگ بھرنے کا بہت شوق ہے۔ اس لئے میں نے یہ کام کیا۔
بے کار کے خیالات سے پرہیز کیا ہے۔ یعنی یہ نہیں لکھا کہ سوتیلی مائیں تو بس ایسے ہی ہوتی ہیں۔ چاہیں تو روز ایک صفحہ کرائیں ، اور اسکے ساتھ تصویر پہ رنگ بھی کروائیں۔ کہانی سنانے کے بعد اپنے بچے سے کہانی کے متعلق سوالات ضرور پوچھیں۔ اور اگر وہ سوال کرتا ہے تو اسکے تسلی بخش جوابات دیں۔ جن سوالوں کے جواب نہیں دینا چاہتے انکے متعلق یہ نہ کہیں کہ یہ سوال نہیں کرنا چاہئیے۔ انکی عمر کے حساب سے کوئ آسان سا جواب تلاش کریں جو اصل حقائق سے دور نہ ہو۔ اگر وہ سوال نہیں کرتا ، تو اس سے پوچھیں، کوئ سوال؟
الفاظ کے درمیان فاصلہ رکھا ہے تاکہ بچہ ہر لفظ کو الگ پہچان سکے۔ الفاظ کو غیر ضروری طور پہ جوڑنے سے احتراز کیا گیا ہے۔ مثلاً اسکے کو اس کے لکھا گیا ہے۔ یہ لہانی پہلی جماعت کے حساب سے لکھی گئ ہے۔ کہانی میں کچھ ڈرائنگز نیٹ سے لے کر ڈالی گئ ہیں۔ جب بچہ کہانی سن لے تو اس میں رنگ بھرے۔ میری بچی کو تصویروں میں رنگ بھرنے کا بہت شوق ہے۔ اس لئے میں نے یہ کام کیا۔
بے کار کے خیالات سے پرہیز کیا ہے۔ یعنی یہ نہیں لکھا کہ سوتیلی مائیں تو بس ایسے ہی ہوتی ہیں۔ چاہیں تو روز ایک صفحہ کرائیں ، اور اسکے ساتھ تصویر پہ رنگ بھی کروائیں۔ کہانی سنانے کے بعد اپنے بچے سے کہانی کے متعلق سوالات ضرور پوچھیں۔ اور اگر وہ سوال کرتا ہے تو اسکے تسلی بخش جوابات دیں۔ جن سوالوں کے جواب نہیں دینا چاہتے انکے متعلق یہ نہ کہیں کہ یہ سوال نہیں کرنا چاہئیے۔ انکی عمر کے حساب سے کوئ آسان سا جواب تلاش کریں جو اصل حقائق سے دور نہ ہو۔ اگر وہ سوال نہیں کرتا ، تو اس سے پوچھیں، کوئ سوال؟
چلیں، تو یہ پہلی کہانی ہے ۔ یہ کہانی ایک کلاسک کہانی ہے، سنڈریلا کے متعلق۔ ہم سب نے اپنے بچپن میں سنی۔ اب ہمارے بچوں کی باری ہے۔ پریوں اور کوہ قاف کی دنیا کی کہانیاں نہ صرف بچوں کو پسند آتی ہیں بلکہ یہ انکے تخیل کو مہمیز کرتی ہیں۔ تخیل کی پرواز پہ پھر کبھی گفتگو ا۔ اس وقت سنڈریلا کی روائیتی کہانی اردو میں۔





![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)
