مشعل کو بڑا مزہ آتا ہے جب کسی کو ڈانٹ پڑ رہی ہو۔ اور اگر اسے ذرا بھی شبہ ہو کہ کسی کو ڈانٹ پڑنے والی ہے تو وہ موقع پہ جم جاتی ہے سو بعض اوقات گھر میں لوگوں کو اس وجہ سے ڈانٹ موءخر کرنی پڑتی ہے۔ کیونکہ انکی موجودگی کی وجہ سے ڈانٹ میں وہ کڑک نہیں پیدا ہو پاتی جس کا اثر تا دیر رہے۔
کسی شخص کو بے وقوف کہنا وہ عیاشی ہے جسے وہ وقتاً فوقتاً حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ اس لئے جب بھی کسی کو بے وقوف کہا جائے وہ ہمیشہ وجہ پوچھتی ہیں کہ اسے بے وقوف کیوں کہا گیا۔ اسکا مقصد عبرت حاصل کرنا نہیں بلکہ دوبارہ کسی سے بھی اس حرکت کے سرزد ہونے پہ انکا سب سے پہلے بے وقوف کہنے کی تیاری ہے۔
اپنی مونٹیسوری آتے جاتے ہوئے، دن میں ایک وقت وہ میرے ساتھ اور دوسرے وقت اپنے ابا کے ساتھ ہوتی ہیں۔ کبھی کبھی ابا کی زیادہ مصروفیت کی وجہ سے دونوں وقت یہ میری ذمہ داری ہو جاتی ہے۔ رستہ بھر ہم دونوں باتیں کرتے جاتے ہیں اس میں انکا حصہ زیادہ ہوتا ہے لیکن زبان کے ساتھ وہ خود بھی بہت متحرک رہتی ہیں اس لئے ڈرائیونگ کے دوران ہر تھوڑی دیر بعد مجھے کوئ نصیحت کرنی پڑتی ہے۔ مثلاً سیٹ سے ٹیک لگا کر بیٹھو، چہرہ آگے کی طرف رکھو، گاڑی سے ہاتھ باہر بالکل نہیں نکالنا، پیچھے والی سیٹ پہ جانے کی کوشش نہ کرو، پیچھے سے آگے آنے کی حماقت نہیں کرنا، چلتی گاڑی میں پانی خود سے نہیں پینا وغیرہ وغیرہ۔
ابھی تین چار دن پہلے جب میں نے ایک موٹر سائیکل والے کو اپنے برابر سے مسکراتے ہوئے نکلتے دیکھا تو روڈ سے نظر ہٹا کر ان پہ ڈالی، وہ کھلی کھڑکی سے ہاتھ باہر نکالے پاس سے گذرنے والوں سے جذبہ ء خیر سگالی کا مظاہرہ کر رہی تھِں۔ میں بالکل اصل والے غصے میں چنگھاڑی۔ مشعل کتنی دفعہ منع کیا ہے چلتی گاڑی میں سے ہاتھ باہر نہیں نکالا کرو، بالکل یاد نہیں رکھتیں تم۔ انہوں نے میرے چہرے کے تائثرات دیکھے اور پھر سیٹ پہ بیٹھ گئیں۔ کچھ منٹ خاموشی رہی۔ میں نے کن انکھیوں سے دیکھا وہ دونوں ہاتھ گود میںرکھے ، منہ پھلائے ڈیش بورڈ کو تک رہی تھیں۔ اس وقت میں نے انکے حواسوں کو مہمیز کرنے والا جملہ بولا۔ ارے یہ کیا؟ فوراً ہی آواز آئ کیا ہوا ماما؟ یہ بس پہ اتنے سارے لوگ چڑھے بیٹھے ہیں۔ کراچی میں یہ منظر روز کا منظر ہے۔ لیکن میں نے مشعل کی توجہ اس طرف کرائ۔ محض گاڑی کے ماحول کے تناءو میں کمی کے لئے۔
کتنے بے وقوف لوگ ہیں چھت پہ بیٹھے ہیں، کتنا خطرناک ہے یہ گر بھی سکتے ہیں۔ میں نے یہ سارے ڈائیلاگز بولے کہ مشعل کے پسندیدہ ہیں۔ انہوں نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا یہ تو بے وقوف لوگ ہیں ایسا تو نہیں کرنا چاہئیے۔ ہم تو اپنی گاڑی کے اندر بیٹھے ہیں۔ ہے ناں ماما۔ اگریہ گر جائیں تو چوٹ لگ سکتی ہے پھر ڈاکٹر کے پاس جانا پڑے گا۔ وہاں ڈاکٹر انجکشن لگائے گا پھر روئیں گے کہ تکلیف ہو رہی ہے۔ مشعل نے اپنی آپ بیتی کو شامل کر کے ایک پورا ڈرامہ کھڑاکر لیا۔ اسکول پہنچنے تک بے وقوف لوگوں، ہسپتال اور ڈاکٹر کے تذکرے میں ہم الجھے رہے۔ اسکے بعد سے وہ روڈ پہ ایسی گاڑیوں کو نظر میں رکھتیں کہ پھرلوگوں کو بے وقوف کہنے کا موقع ملے گا۔
آج صبح بھی جب ہم ایک چورنگی سے مڑے تو سامنے ایک رکشہ جا رہا تھا۔ میں نے تو دھیان نہیں دیا کہ روڈ کہ باقی پیرامیٹرز کو دھیان میں رکھنا تھا۔ لیکن مشعل کی آواز آئ۔ کتنا بے وقوف بچہ ہے رکشے کے اوپر بیٹھا ہے ایسا تو نہیں کرنا چاہئیے۔ یہ گر بھی سکتا ہے، اسے چوٹ بھی لگ سکتی کتنا خنّاک ہے۔ ماما ہم تو ایسا نہیں کرتے ناں۔ میں نے دیکھا کہ رکشے کی چھت پہ ایک گیارہ بارہ سال کا بچہ جیسے تخت طاءوس پہ بیٹھا ہوا تھا۔ زیر لب مسکراہٹ سے کہا ہمم، ہم ایسا نہیں کرتے۔ پھر سوچا ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں ہم اسکے مقابلے میں بہتر سہولیات زندگی رکھتے ہیں۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی سوچ رہی تھی کہ جو میری بچی کو پتہ ہے یہ پورا سچ نہیں ہے۔ اور مشعل کو اس پورے سچ کو جاننے میں وقت لگے گا۔ پھر وہ سامنے دیکھتے دیکھتے، میری طرف مڑی۔ اور کہنے لگی، ماما لگتا ہے رکشے کے اندر جگہ نہیں ہوگی۔ میں نے کچھ حیرانی، کچھ مادرانہ فخر اور خوشی سے اپنی بیٹی کو دیکھا۔ یہ وہ خصوصیت ہے جومیں اس میں چاہتی ہوں۔ وجوہات پہ غور کرنا، جو نظر نہیں آرہا، اسکے بارے میں بہتر اندازہ لگانا اور پھر نتیجہ نکالنا۔

![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)
