Showing posts with label انتہا پسندی. Show all posts
Showing posts with label انتہا پسندی. Show all posts

Saturday, May 7, 2011

علم اور عمل

جب حضرت سفیان ثوری کی والدہ نے ان سے فرمایا کہ بیٹے علم حاصل نہ کرو تو صرف اتنی ہی بات انہوں نے نہیں کہی۔ انہوں نے فرمایا کہ بیٹے علم حاصل کرو تو اس پہ عمل کرنے کی کوشش کرو ورنہ قیامت کے دن یہ تمہارا علم تمہارے لئے حساب کتاب کے دروازے کھولدے گا۔ حضور اکرم صلعم کے ایک ارشاد کا مطلب ہے کہ دو آدمیوں نے میری کمر توڑ دی ایک جاہل دیندار نے دوسرے بے عمل عالم نے۔
علم اگر برتا نہ جائے تو پھر ایسے علم سے کیا فائدہ۔ اللہ نے انبیاء کو علم عطا کیا تو انہوں نے علم کو برتا اور اس پہ عمل کر دکھایا۔ علم اگر آدمی میں اچھے برے کی تمیز اور عمل کی تحریک نہ پیدا کر سکے تو ایسا علم بے کار ہے۔ قرآن علم کا سرچشمہ ہے۔ اللہ کے رسول کو جب یہ علم وحی کے ذریعے عطا ہوا تو آپ نے اسکے ایک ایک لفظ پہ عمل کر کے دکھایا اسی لئے قرآن کہتا ہے کہ آپ مومنوں کے لئے نمونہ ہیں۔
علم اور عمل میں فرق ہو تو ایک طرح کی منافقت ہےبلکہ کھلی منافقت۔ علم سکھاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو۔آدمی اللہ سے ڈرنے کے بجائے سرکش ہو جاتا ہے۔سیدھی راہ چھوڑ کر الٹی راہ چلنے لگتا ہے۔ علم دھوکے اور ریاکاری سے روکتا ہے اور اگر کوئ علم حاصل کرنے کے بعد بھی ریاکار ہوجائے تو کیا کہا جائے۔
حضرت حسن بصری، تاریخ اسلام کی ایک بڑی شخصیت اکثر اپنے نفس پہ خفا ہوتے اور اپنے آپکو جھڑک کر کہتے حسن بصری، تو  پرہیز گاروں اور اطاعت گذاروں جیسی باتیں کرتا ہے مگر تیرے کام تو جھوٹوں ، منافقوں اور دکھاوا کرنے والوں کے سے ہیں۔ سن لے اور خوب اچھی طرح سن لے کہ یہ اللہ سے محبت  رکھنے والوں کی صفت نہیں کہ وہ سراپا اخلاص اور تمام تر ایثار نہ ہوں۔
یحیی بن معاذ سے پوچھا گیا کہ آدمی اخلاص والا کب ہوتا ہے۔ فرمایا جب اسکی عادت دودھ پیتے بچے کی سی بن جائے۔ کوئ اسے اچھا کہے تو خوش نہ ہو۔ برا کہے تو برا نہ منائے۔
حضرت ابراہیم ادھم کہتے ہیں کہ جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ لوگ اسے اچھا کہیں وہ نہ اللہ سے ڈرنے والا ہے نہ صاحب اخلاص۔
جسکی نیت نیک ہوگی اس کا عمل بھی ویسا ہوگا۔علم وہ جوہر ہے جو نیت کو نیک اور عمل کو بہتر بناتا ہے۔ اسی لئے قرآن کہتا ہے کہ وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ جو علم نہیں رکھتے دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ علم اللہ کی صفات میں سے ایک ہے ۔
جو صاحب علم ہوتا ہے اسکی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ حضرت عیسی نے لوگوں سے پوچھآ۔ جانتے ہو ولی اللہ کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں آپ بتائیے۔
فرمایا کہ وہ جو اپنے علم پہ عمل کرے۔


یہ ایک تحریر ہے جو شاہ بلیغ الدین کی کتاب روشنی سے مستعار لی گئ۔ میرے بچپن میں ہماری صبح کا آغاز ریڈیو سے مثنوی مولانا روم کے ترجمے سے ہوتا تھا اور اسکے بعد شاہ بلیغ الدین کا پانچ دس منٹ کا پروگرام روشنی چلا کرتا تھا۔ مولانا صاحب اپنے دھیمے لہجے میں اپنی بات کرتے جاتے اور ہم اپنے اسکول کی تیاری۔
علم کے ساتھ عمل نہ ہو تو یہ منافقت ہے۔ یہ بات میں نے اپنی سوچ سے کہیں لکھی تھی۔ لیکن آج جب میں نے اس کتاب کو دوبارہ کھولا تو لگا کہ شاید میں نے لا شعوری طور پہ یہ جملہ محفوظ کر لیا تھا۔ میرے شعور نے مجھے بتایا کہ دراصل یہ جملہ  اپنی پوری معنویت میں یہاں استعمال کرنا ہے۔
عالم بے عمل، کیا تبلیغ کا حق رکھتے ہیں؟

Thursday, May 5, 2011

آج یا کبھی نہیں؟

کل پہلی دفعہ جیو چینل پہ کامران خان کی زبانی سنا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم پاکستانی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ آج یا کبھی نہیں۔ 
یہ وہی چینل ہے جو انتہا پسندوں کو ہیرو بنانے کا شاید ہی کوئ لمحہ ضائع جانے دیتا ہو۔ ایک طرف امن کی آشا اور دوسری طرف انتہا پسندوں کی بھاشا۔ میڈیا نے انتہا پسندی کو پھیلانے میں بڑی سرگرمی سے کام کیا۔ اور اب وہی اپنے اوپر لگے اس دھبے کو دھو سکتے ہیں۔
خیر، دیر آید درست آید۔ کامران خان کہتے ہیں کہ اب ہمیں سوچنا چاہئیے کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی کی بڑی کارروائ ہوتی ہے ایسا کیوں ہوتا ہے کہ دہشت گرد کا تعلق یا تو پاکستان سے ہوتا ہے یا پھر وہ پاکستان سے پکڑا جاتا ہے۔
اسکی وجہ بالکل سامنے ہے اور وہ یہ کہ دنیا بھر میں پائے جانے والے سینتالیس کے قریب اسلامی ممالک میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں پہ عوام ان انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کی حمایت کے لئے کمر بستہ ہے۔ یقین نہ ہو تو پچھلے چار مہینے کی بلاگستان کی پوسٹس اٹھا کر دیکھ لیں۔ خاص طور پہ سلمان تاثیر کے قتل کے بعد تحاریر اور انکے تبصرے۔
ہر دہشت گرد اور انتہا پسند ہمارا ہیرو۔ ہم اسکے پیش کئے گئے نظرئے پہ جان دینے اور لینے کو بے قرار۔ جب وہ بم مار کر درجنوں لوگوں کو ایک ساتھ موت کی نیند سلا دیتا ہے تو اول ہمیں یقین نہیں آتا کہ یہ ہمارے ہیرو کے کسی ساتھی نے کیا ہوگا یقیناً کسی نے اسے پھنسایا ہوگا۔ اور اگر دنیا کے دباءو پہ ہم یقین کر لیں تو ہم انا لللہ پڑھ کر دعا کرتے ہیں کہ  اللہ اسکی مغفرت کرے۔ جب وہ کسی کو قتل کر کے سرخرو ہوتا ہے تو ہم اس کا مقدمہ لڑ کر اسے رہا کرانے کو بےتاب۔ جب وہ کسی اور ملک میں گرفتار ہو تو ہم سجدے میں  کہ خدا کوئ چمتکار دکھائے اور وہ رہا ہو جائے۔ آخر کسی دہشت گرد اور انتہا پسند کو کیا چاہئیے۔  یہی عقیدت اور غیر مشروط محبت و وفاداری۔ جس میں دُھت ہمیں یہ خیال تک نہیں آتا کہ تین سال میں تین ہزار سے زائد پاکستانی امریکیوں کے ہاتھوں نہیں انہی 'محبوبوں' کے ہاتھوں زندگی سے محروم ہوئے۔ ہمارے مستقبل کے متوقع حکمراں عمران خان بھی ڈرون حملوں کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں مگر ان خود کش بمبار کے لئے کوئ ریلی نہیں نکالتے۔
لیکن دنیا ہمارے بارے میں کیا سوچتی ہے؟ آئیے اسکے لئے ایک کہانی کے آخری دو صفحات پڑھتے ہیں۔ کہانی کے لکھنے والے ہیں ڈاکٹر شیر شاہ سید۔ ڈاکٹر صاحب پاکستان کے ایک مایہ ناز گائیناکولوجسٹ  ہی نہیں ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے پاکستانی خواتین کی فلاح بہبود کے لئے اپنی زندگی کو ایک مشن بنایا ہوا ہے۔ اگر عمران خان کو شوکت خانم ہسپتال  بنانے اور چلانے پہ پاکستان کی حکمرانی پیش کی جا سکتی ہے تو مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر شیر شاہ بھی اسکے مضبوط امیدوار ہو سکتے ہیں۔
انکی گوناگوں خوبیوں میں ایک خوبی ایک اچھا ادیب ہونا بھی ہے۔ انکی کہانیوں کے کئ مجموعے منظر عام پہ آچکے ہیں۔ یہ صفحات  انکے تازہ ترین مجموعے 'دل نے کہا نہیں' کی کہانی  'نفرت کی تصویر'  سے لی گئے ہیں۔
ڈاکٹر شیر شاہ کا کہنا ہے کہ اس مجموعے کی تمام کہانیاں حقائق سے جڑی ہوئ ہیں۔ اور نرا فکشن نہیں ہیں۔ تمام کہانیاں ہمارے آجکے پاکستان سے تعلق رکھتی ہیں۔ کتاب کے پبلشر ہیں شہر زاد اور قیمت ہے دو سو روپے۔
یہ دو صفحات حاضر خدمت ہیں۔
بہتر طور پہ پڑھنے کے لئے تصویر کو کلک کریں۔
 

Friday, April 1, 2011

شکریہ

دیکھیں لکھنے تو جا رہی تھی سلسلہ، ساحل کے ساتھ، کی اگلی قسط۔ لیکن جتنی دیر میں نئی پوسٹ کے لئے صفحہ کھلتا میں نے سوچا اردو سیارہ دیکھ لوں۔ بس وہاں سے ایک بلاگ پہ گئ۔ اور جب اسکی آخری سطروں تک پہنچی تو لگا کہ میری انگلیوں میں دوران خون اتنا تیز ہو چکا ہے کہ اب میں آج کچھ اور نہیں لکھ سکتی۔ لیجئیے یہ چند لائنیں آپ کے لئے بھی حاضر ہیں۔

جب کسی معاشرے سے عورت کو غائب کردیا جاتا ہے تو زندگی بھی اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ آہستہ آہستہ تحلیل ہونا شروع ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں اس معاشرے کا تمدن بھی زندگی کے ساتھ ساتھ تحلیل ہوتا رہتا ہے اور آخر کار ایسی قوم دوسری قوموں کے لیے ” آفت ” بن جاتی ہے، عورت ہر معاشرے کی زندگی کی نبض ہے، جہاں عورت نہیں، وہاں معاشرہ  نہیں۔
یہ لائینز آپ نے پڑھیں۔ اسکے لکھنے والے مصنف مکی صاحب ہمارے مایہ ناز اردو بلاگر ہیں۔ انہوں نے اپنے بلاگ پہ تبصرے کا آپشن بند کر دیا ہے۔  اس لئے مجھے اپنے بلاگ پہ لکھنا پڑ رہا ہے۔ 
تو جناب مکی، آپ اس  کمزور اور خوفزدہ پاکستانی معاشرے  میں زندگی کی بچی کھچی علامتوں میں سے ایک ہیں۔ آپ کا بہت شکریہ۔ 

Thursday, January 6, 2011

جمہور یا جانور

دوپہر کا وقت تھا۔ میں بازار میں تھی۔ ایک پتھارے والے کے پاس ایک من پسند لیس دیکھ کر رک گئ۔ بھاءو تاءو کرنے کے بعد جب میں نے اپنا پرس کھولا تو اس میں ہزار کا نوٹ تھا۔  لیس پچھتر روپے کی بن رہی تھی جبکہ اسکے پاس ہزار کا کھلا نہیں تھا۔ چھان پھٹکنے پہ ایک پچاس روپے کا نوٹ برآمد ہوا۔ میں نے وہ دوکاندار کو دیا کہ زر ضمانت کے طور پہ رکھے میں واپسی میں باقی پیسے دیکر لیس لے لونگی۔
واپسی میں دیکھا تو اسکا پتھارا ایک چادر سے ڈھکا ہوا تھا۔ پڑوس کے دوکاندار سے پوچھا کہنے لگا نماز پڑھنے گیا ہے ابھی دس منٹ میں آجائے گا۔ تب اچانک میں نے وہیں کھڑے کھڑے اپنے ارد گرد نظر ڈالی۔ تمام دوکاندار اپنے اپنے گاہکوں کے ساتھ مصروف تھے۔ جن کے پاس نہیں تھے وہ چیزیں قرینے سے رکھ رہے تھے۔ یہ دوکانیں کپروں کی بھی تھیں، زیورات کی بھی اور پھل اور سبزی والوں کی بھی۔ اس عوامی ہجوم میں ہر ثقافتی گرو سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے۔ مہاجر، پٹھآن، پنجابی، افغانی۔
اور پھر اسی تسلسل میں مجھے رات ٹی وی پہ آنے والا ایک پروگرام یاد آگیا۔ جس  کے میزبان حامد میر، اور مہمانوں میں ہارون رشید اور انصار عباسی شامل تھے۔ اور ہمارے دونوں مدبر صحافیوں کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اٹھانوے فی صد افراد شرعی قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں اور جو لوگ جمہور کی رائے کا احترام نہیں کرتے انہیں ایسے ہی انجام سے دوچار ہونا پڑے گا یعنی اگر وہ گورنر ہے تب بھی اسکا اپنے محافظ کے ہاتھوں مارا جانا قابل صدمہ نہیں۔
اس وقت میں نے اپنے اس بازار کے تمام لوگوں کو دیکھا جو بازار کے بیچوں بیچ واقع مسجد میں نماز ادا کرنے کے بجائے اپنے اپنے کاروبار میں مصروف تھے۔ نماز دین کا سب سے اہم رکن اسکی ادائیگی سے جان چرانے والے ملک میں شرعی قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں۔ شاید لوگ صحیح کہتے ہیں اٹھانوے فی صد شماریات کے نتائج موقعے پہ ہی بنائے جاتے ہیں۔ جیسی ضروت ویسے نتائج۔
جمہور کون ہے؟ تھری پیس سوٹ میںملبوس نک سک سے ایک دم درست، زندگی کی تمام سہولتوں کو استعمال کرنے والے، ہر ممکنہ وسیلے کے نزدیک،  بغیر ریش اور باریش افراد جو میڈیا کی لائم لائٹ میں رہنے کے چسکے سے آشنا ہیں یا روزانہ کی بنیاد پہ کپڑا بیچنے والا، سبزی بیچنے والا ، کینو بیچنے والا۔
امریکہ میں ایک سروے کے مطابق ، کم از کم بیس فی صد امریکی افراد اس بات پہ یقین رکھتے ہیں کہ صدر باراک حسین اوبامہ مسلمان ہیں۔ جبکہ ہم پاکستانی جانتے ہیں کہ اوبامہ ہر اتوار کو چرچ اپنی ہفتے وارعیسائ عبادت کے لئے جاتے ہیں۔ اور در حقیقت وہ مسلمان نہیں بلکہ عیسائ ہیں البتہ انکے والد مسلمان تھے۔
میں نے ایک امریکی شہریت کے حامل پاکستانی سے پوچھآ، لیکن اتنے زیادہ امریکی اتنا غلط کیوں سوچتے ہیں جبکہ وہ پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ  امریکیوں کی بڑی تعداد سنجیدہ چیزیں نہیں پڑھتی بلکہ ریئلیٹی ٹی وی جیسے پروگرامز کی اسیر ہے۔ ایک امریکی گھر میں ہر وقت ٹی وی چلتا ہے۔  جو لوگ اس سے کوئ خبر حاص کرنا چاہتے ہیں وہ بھی نہیں حاصل کر پاتے کیونکہ میڈیا کی ترجیح لوگوں کو درست  خبریں دینا نہیں، انہیں ٹُن رکھنا ہے۔ ہمم، اسی لئے تو امریکی حیران ہوتے ہیں کہ لوگ ان سے نفرت کیوں کرتے ہیں۔
پاکستانی میڈیا بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں۔ اور جب ہم میڈیا پہ نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ایک اور چیز کا داراک ہوتا ہے اور وہ یہ کہ اردو میڈیا اور انگریزی میڈیا بالکل دو الگ قوموں کو ظاہر کرتے ہیں۔
یہ جنگ اخبار تھا جس میں، میں نے سب سے پہلے ایک کالم نگار کے کالم میں یہ بات پڑھی کہ اب جبکہ دنیا جان گئ ہے کہ پاکستان میں آنے والا زلزلہ اور سیلاب امریکہ کے ہارپ کی وجہ سے آئے ہیں۔ امریکہ کو پاکستان سے معافی مانگنی چاہئیے۔
میں انگریزی اخبار بھی پڑھتی ہوں۔ جب  جنگ جیسے موءقر اردو اخبار میں اس چیز کا باعث ہارپ کو قرار دیا جا رہا تھا۔ اس وقت انگریزی اخبار ڈان میں ملک کے مایہ ناز دو سائینس کے عالموں ڈاکٹر عطاء الرحمن اور ڈاکٹر ہود بھائ کے درمیان اس بات پہ زوردار بحث چل رہی تھی کہ ہارپ ایک ہوّے کے سوا کچھ نہیں۔
حیرت تو ہوتی ہے کہ ان دو عالموں نے کسی اردو اخبار کو اس پہ بحث کرنے کے لئے اپنا میدان نہیں چنا۔
یہی نہیں، اگر ہم اتوار کے دن کا جنگ  اور ڈان میگزین اٹھائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اردو اخبارات کس قدر کم معیار کے مضامین لکھتے ہیں اور انکی ہمیشہ ایک خاص سمت ہوتی ہے۔ 
یہی اردو اخبار، اس شدت پسندی میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں جو پاکستان کو دیمک کی طرح کھا رہا ہے۔ آخر یہ صحافی کیا کریں ۔ ان کی کیا پیشہ ورانہ تربیت ہے یہ کتنی ریسرچ کرتے ہیں ان میں سے کتنوں نے اپنے آپکو بیرونی دنیا کے علم سے جوڑا ہوا ہے۔ کتنے ایسے ہیں جو بیرونی مواد کو ترجمہ کر کے اردو میں لانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
یہ کرایسس انگریزی صحافیوں کے ساتھ بھی ہے لیکن انہیں انگریزی مواد کو کٹ اینڈ پیسٹ کرنے کی آسانی حاصل ہے۔
ادھر انگریزی اخبار کا فوکس ہمارے ایلیٹس یعنی طبقہ ء اشرافیہ ہے۔ اگر ڈان میں ان دو سائینسدانوں کے درمیان بحث ہوئ تو اس سے ہمارا اردو داں طبقہ انجان ہے۔ انگریزی زبان جاننے کا ایک فائدہ ہے اور وہ یہ کہ دنیا میں اس وقت جتنا علم کا دھماکا آیا ہوا ہے وہ سب انگریزی میں دستیاب ہے۔ وہ چاہے ادب ہو یا سیاست یا سائینس۔
اردو داں طبقے کی اکثریت تو بم دھماکے کی ہی اصطلاح سے واقف ہے اور ان  تک وہی پہنچ پاتا ہے جو اردو میڈیا انہیں فراہم کر سکتا ہے۔ اردو میڈیا کو عوامی تبدیلی یا ترقی سے دلچسپی نہیں۔ انہیں سینسیشن چاہئیے۔ چاہے وہ مذہب کے نام پہ ملے۔
کتنے ٹی وی اینکر ایسے ہیں جو جدید معلومات یا ریسرچ سے فائدہ اٹھاتے ہوں۔ شاید کوئ نہیں۔ جب ادھر ادھر کی چیزیں ہی اٹھانی ہوں تو آسانی سے جو ملے گا وہی حاضر ہوگا۔ اور اردو میں آسانی سے مذہب سے متعلق کتابیں ہی دستیاب ہیں چاہے وہ درست نکتہ ء نظر سے لکھی گئ ہوں یا غیر درست۔
ایلییٹس یا طبقہ ء اشرافیہ نہیں چاہتے کہ عام آدمی ان جیسا معیارزندگی رکھے یا ان جیسی معلومات ہی رکھ لے۔ وہ اس بات پہ ہنس سکتے ہیں کہ پاکستانی کتنے بے وقوف ہیں کہ زلزلے کو ہارپ کا لایا ہوا سمجھتے ہیں لیکن وہ اس قوم کو اردو میں ہارپ کے متعلق بتانے کی جدو جہد میں نہیں پڑیں گے۔
قوم اردو سمجھتی ہے اسے اردو میں جو مواد اور ذہن مل رہا ہے وہ اسی کے مطابق سوچتی ہے۔ اردو میں زیادہ تر مذہبی لٹریچر دستیاب ہے۔ کوئ ایک معیاری سائینس کی کتاب نہیں۔ پاکستان میں گذشتہ دس سالوں میں اردو ادب میں کوئ معیاری ناول یا ادیب سامنے نہیں آیا۔ ہمارے آج کے نوجوان کو بھی اشفاق احمد کو ہی پڑھنا پڑ رہا ہے۔ فیس بک پہ دھڑا دھڑ اشفاق احمد کے اقتباسات دستیاب ہیں۔
آجکے عہد میں کون اردو ادب لکھے گا۔ شاید کوئ نہیں۔ کیونکہ معاشرہ جب اظہار کے خوف سے گذر رہا ہو اور لوگ ایک دوسرے کو زبان درازی سے رکنے کی تلقین کر رہے ہوں تو اس صورت میں کس میں جراءت ہوگی کہ حقیقت لکھے فکشن کی صورت میںُُ۔ انگریزی داں طبقے کی عوامیت اتنی کم ہے کہ وہ پاکستان سے متعلق پُر اثر ادب شاید ہی لکھ پائے۔ اشرافیہ، بس نوم چومسکی، ڈکنس اور دستوووسکی اور دیگر فلسفہ ء حیات کو پڑھ کر اپنے ڈرائینگ رومز کی ڈسکشنز کو مزےدار بناتے ہیں۔
تو جب ایک شخص دوسرے کو قتل کرتا ہے۔ اور ملک میں جس طبقے کو یعنی عدلیہ کو عدل اور انصاف پھیلانے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے وہ اس قاتل پہ پھول نچھاور کرتے ہیں تو ہمیں کیوں حیرت ہوتی ہے۔
جب ملک میں طبقاتی تعلیمی نظام چلے گا تو نتیجہ وہی ہوگا جو اس وقت ہمارے سامنے ہے۔اردو میڈیا کہتا ہے کہ جب جمہور کی بات کے خلاف کام ہوگا تو کسی کا قتل ہونا کوئ ایسی بری بات نہیں۔ کیونکہ جمہور ہم ہیں اس لئے ہم جو کہہ رہے ہیں وہ صحیح ہے۔ انگریزی میڈیا اپنے ڈرائینگ روم میں دنگ بیٹھا ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟
ادھر میں  پتھارے والے کے مسجد سے واپس آنے کے انتظار میں بازار میں ادھر اُدھر گھوم کر جن  کو دیکھ رہی ہوں، یہ کون ہیں جمہور یا جانور؟

Monday, December 6, 2010

یوریکا، میں نے پا لیا

سرکاری اسکول کی کارکردگی کے معائینے کو ایک انسپکٹرصاحب پہنچے اور ایک کلاس کا معائینہ کرتے ہوئے انہوں نے کلاس کے سب سے ذہین بچے سے پوچھا۔ 'ہمم، یہ بتاءو سومنات کا مندر کس نے توڑا؟'۔ گڈو میاں کا چہرہ فق ہو گیا۔ ایکدم روہانسے ہو گئےہکلاتے ہوئے کہنے لگے،' سر، قسم لے لیجئیے، میں نے  نہیں توڑا'۔
انسپکٹر حیران ہوا کلاس ٹیچر سے کہنے لگا یہ گڈو میاں کیا کہہ رہے ہیں۔ ٹیچر نے انکی شکل دیکھی اور فرمایا' گڈو ایک بہت ذہین اور تمیز دار بچہ ہے میں اسے ذاتی طور پہ جانتا ہوں۔ یہ کبھی کسی توپھوڑ یا شرارت میں شامل نہیں ہوتا'۔
انسپکٹر نے انہیں ترحم والی نظروں سے دیکھا اور ہیڈ ماسٹر کے پاس پہنچا۔ اور انہیں گڈو میاں اور انکے ٹیچر کے جوابات سے مطلع کیا۔ ہیڈ ماسٹر صاحب نے پوری سنجیدگی سے انکی بات سنی اور ایک خاموشی کے بعد بولے۔' میں خود بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ گڈو ایسا بچہ نہیں ہے۔ میں اسے اور اسکے ٹیچر کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ گڈو نے آج تک ایسا توڑ پھوڑ کا کوئ کام نہیں کیا۔

اب تو انسپکٹر صاحب کو اور تاءو آیا۔ اپنے آفس پہنچے اور محکمہ ء تعلیم کے نام خط لکھ ڈالا۔ اور اس میں تمام واقعے کا تذکرہ لکھا۔جواب آیا۔ محترم ہمیں آپکا خط ملا۔ اس میں کچھ توڑ پھوڑ کا تذکرہ تھا۔ اس لئے ہم نے اسے محکمہ ء تعمیرات کو بھیج دیا۔ امید ہے وہ آپکو تسلی بخش جواب دیں گے۔
یہی گڈو جب  اسی تعلیمی نظام کے زیر سایہ پل کر بڑے ہوئے تو ملک میں ایک خاص نظریاتی ماحول تشکیل پا چکا تھا۔ اسکی رو سے ملک کے اندر مروجہ مذہبی  تاریخ اور چیدہ چیدہ واقعات کے علاوہ تمام باتیں قابل سزا ٹہریں۔ ان سزاءووں کی بھی مختلف سطحیں بنادی گئیں تھیں۔ ملک کے انتظامی معاملات ہوں یا خارجہ امور، باشندوں کا رہن سہن ہو یا میل ملاپ، تفریح ہو یا تحقیق، ادب ہو یا تخلیق کا کوئ بھی میدان، وہ اس اثر سے خالی نہ تھا۔ اور نظام ان گڈو میاءووں سے بھرا ہواتھا۔ یوں سب ہنسی خوشی رہ رہے تھے۔
مگر ایک دن ٹیکنالوجی اپنی ڈھٹائ کی وجہ سے ملک میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئ۔
گڈو میاں اور انکے ساتھیوں کے لئے یہ بڑا لمحہ ء فکریہ تھا۔ اس سے معاشرے کے تار پود بکھرنے کا اندیشہ تھا۔ سو وہ اپنی بساط بھر کوششیں کرنے میں مصروف ہو گئے۔ یعنی کسی طرح تار وپود بچ جائیں وہ جو اس نظام کے تحت بنائے گئے جس میں انکی پرورش ہوئ تھی۔
لیکن ٹیکنالوجی اتنی خبیث چیز تھی کہ وہ ایکدن اسکا سر کاٹ کر قلع قمع کرتے اور دوسرے دن پھر وہ سر پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتی۔ یہ ایک راز تھا۔ جو گڈو میاں اور ہمنواءووں کی سمجھ سے باہر تھا۔ اسکا حل انکے نزدیک بس اسکا سر کاٹنا ہی ٹہرا تھا۔ یوں ملک میں سر کاٹنے کے مختلف طریقوں پہ بحث  اور عملدر آمد شروع ہوا۔
ایک دفعہ، گڈو میاں اور ساتھیوں نے اس ساری صورت حال پہ تبادلہ ء خیال کے لئے میٹنگ بلائ۔ جس میں ظاہری سی بات ہے کہ صرف وہ لوگ شامل تھے جو سر کاٹنے کے عمل سے متفق تھے۔ اس میں کسی نے یہ خیال پیش کیا کہ چونکہ ٹیکنالوجی سرحد پار کسی علاقے سے آئ ہے اس لئے اسکا سر کاٹنے کے مناسب طریقے بھی انکے پاس ہونگے۔ یہ سوچنے کے بعد انہوں نے اپنے درمیان سے سب سے زیادہ سرگرم شخص کو ملک سے باہر بھیجا۔ تاکہ اس راز سے پردہ اٹھ سکے۔ 
وہ شخص ایکدن بعد ہی واپس آگیا۔ گڈو میاں خوش ہوئے انہیں اپنے ساتھی کی ذہانت پہ مکمل یقین تھا۔
لیکن ساتھی نے بتایا کہ وہ جیسے ہی سرحد سے باہر نکلا اسے ایک شخص ملا۔ اس نے جب اس سے بات کی تو اس شخص نے بتایا کہ وہ ٹیکنالوجی کے خالق ہیں۔ سو وہ وہیں رک کر اس سے معلومات حاصل کرنے لگا۔ اس نے بڑی عجیب بات کی اور کہا کہ  مسلسل فکر اور عقل کے استعمال سے عقل اس سطح تک پہنچ جاتی ہے جہاں یہ وجدان کا روپ دھار لیتی ہے۔ بس پھر اسکے بعد مسائل کے حل بھی سامنے آنے لگتے ہیں۔
پھراس شخص نے اپنے ایک دانشور کا قصہ سنایا کہ کس طرح وہ پانی کے ٹب میں بیٹھا نہا رہا تھا کہ ایک مسئلے کے بارے میں اس پہ ایکدم وجدان طاری ہوا۔ اور وہ فکر کی سر خوشی کے عالم میں یہ تک بھول گیا کہ وہ کپڑے نہیں پہنے ہوا اور اسی حالت میں گھر سے باہر نکل کر ناچنے  اور گانے لگا۔ یوریکا، یوریکا، میں نے پا لیا، میں نے پا لیا۔
وہ کہہ رہا تھا کہ جب تک انسان فکر میں اتنا نہ ڈوب جائے کہ اپنی ذات کو بھول جائے کسی کام کی چیز کا حاصل ہونا مشکل ہے۔ فکر کی اس گہرائ سے جب کوئ پردہ ہٹتا ہے تو انسان مست ہو کر ناچ اٹھتا ہے۔ اس کیفیت کو اب ہم یوریکا کہتے ہیں۔
گڈو میاں اور ہمنواءووں کا چہرہ فق ہو گیا۔ وہ روہانسے ہو کر بولے تو کیا اب ہمیں ننگا ہو کر گلی میں ناچنا پڑے گا۔
اسکے بعد کیا ہوا؟
کہانی ابھی جاری ہے۔ کیا گڈو میاں اور ہمنوا اصل راز جاننے میں کامیاب ہو  گئے؟ کیا ٹیکنالوجی کا قلع قمع ہو گیا؟ کیا وہ لوگ ایک دفعہ پھر ہنسی خوشی رہنے لگے؟  یہ جاننے کے لئے پڑھئیے گڈو میاں کے کارنامے۔