Thursday, January 6, 2011

جمہور یا جانور

دوپہر کا وقت تھا۔ میں بازار میں تھی۔ ایک پتھارے والے کے پاس ایک من پسند لیس دیکھ کر رک گئ۔ بھاءو تاءو کرنے کے بعد جب میں نے اپنا پرس کھولا تو اس میں ہزار کا نوٹ تھا۔  لیس پچھتر روپے کی بن رہی تھی جبکہ اسکے پاس ہزار کا کھلا نہیں تھا۔ چھان پھٹکنے پہ ایک پچاس روپے کا نوٹ برآمد ہوا۔ میں نے وہ دوکاندار کو دیا کہ زر ضمانت کے طور پہ رکھے میں واپسی میں باقی پیسے دیکر لیس لے لونگی۔
واپسی میں دیکھا تو اسکا پتھارا ایک چادر سے ڈھکا ہوا تھا۔ پڑوس کے دوکاندار سے پوچھا کہنے لگا نماز پڑھنے گیا ہے ابھی دس منٹ میں آجائے گا۔ تب اچانک میں نے وہیں کھڑے کھڑے اپنے ارد گرد نظر ڈالی۔ تمام دوکاندار اپنے اپنے گاہکوں کے ساتھ مصروف تھے۔ جن کے پاس نہیں تھے وہ چیزیں قرینے سے رکھ رہے تھے۔ یہ دوکانیں کپروں کی بھی تھیں، زیورات کی بھی اور پھل اور سبزی والوں کی بھی۔ اس عوامی ہجوم میں ہر ثقافتی گرو سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے۔ مہاجر، پٹھآن، پنجابی، افغانی۔
اور پھر اسی تسلسل میں مجھے رات ٹی وی پہ آنے والا ایک پروگرام یاد آگیا۔ جس  کے میزبان حامد میر، اور مہمانوں میں ہارون رشید اور انصار عباسی شامل تھے۔ اور ہمارے دونوں مدبر صحافیوں کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اٹھانوے فی صد افراد شرعی قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں اور جو لوگ جمہور کی رائے کا احترام نہیں کرتے انہیں ایسے ہی انجام سے دوچار ہونا پڑے گا یعنی اگر وہ گورنر ہے تب بھی اسکا اپنے محافظ کے ہاتھوں مارا جانا قابل صدمہ نہیں۔
اس وقت میں نے اپنے اس بازار کے تمام لوگوں کو دیکھا جو بازار کے بیچوں بیچ واقع مسجد میں نماز ادا کرنے کے بجائے اپنے اپنے کاروبار میں مصروف تھے۔ نماز دین کا سب سے اہم رکن اسکی ادائیگی سے جان چرانے والے ملک میں شرعی قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں۔ شاید لوگ صحیح کہتے ہیں اٹھانوے فی صد شماریات کے نتائج موقعے پہ ہی بنائے جاتے ہیں۔ جیسی ضروت ویسے نتائج۔
جمہور کون ہے؟ تھری پیس سوٹ میںملبوس نک سک سے ایک دم درست، زندگی کی تمام سہولتوں کو استعمال کرنے والے، ہر ممکنہ وسیلے کے نزدیک،  بغیر ریش اور باریش افراد جو میڈیا کی لائم لائٹ میں رہنے کے چسکے سے آشنا ہیں یا روزانہ کی بنیاد پہ کپڑا بیچنے والا، سبزی بیچنے والا ، کینو بیچنے والا۔
امریکہ میں ایک سروے کے مطابق ، کم از کم بیس فی صد امریکی افراد اس بات پہ یقین رکھتے ہیں کہ صدر باراک حسین اوبامہ مسلمان ہیں۔ جبکہ ہم پاکستانی جانتے ہیں کہ اوبامہ ہر اتوار کو چرچ اپنی ہفتے وارعیسائ عبادت کے لئے جاتے ہیں۔ اور در حقیقت وہ مسلمان نہیں بلکہ عیسائ ہیں البتہ انکے والد مسلمان تھے۔
میں نے ایک امریکی شہریت کے حامل پاکستانی سے پوچھآ، لیکن اتنے زیادہ امریکی اتنا غلط کیوں سوچتے ہیں جبکہ وہ پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ  امریکیوں کی بڑی تعداد سنجیدہ چیزیں نہیں پڑھتی بلکہ ریئلیٹی ٹی وی جیسے پروگرامز کی اسیر ہے۔ ایک امریکی گھر میں ہر وقت ٹی وی چلتا ہے۔  جو لوگ اس سے کوئ خبر حاص کرنا چاہتے ہیں وہ بھی نہیں حاصل کر پاتے کیونکہ میڈیا کی ترجیح لوگوں کو درست  خبریں دینا نہیں، انہیں ٹُن رکھنا ہے۔ ہمم، اسی لئے تو امریکی حیران ہوتے ہیں کہ لوگ ان سے نفرت کیوں کرتے ہیں۔
پاکستانی میڈیا بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں۔ اور جب ہم میڈیا پہ نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ایک اور چیز کا داراک ہوتا ہے اور وہ یہ کہ اردو میڈیا اور انگریزی میڈیا بالکل دو الگ قوموں کو ظاہر کرتے ہیں۔
یہ جنگ اخبار تھا جس میں، میں نے سب سے پہلے ایک کالم نگار کے کالم میں یہ بات پڑھی کہ اب جبکہ دنیا جان گئ ہے کہ پاکستان میں آنے والا زلزلہ اور سیلاب امریکہ کے ہارپ کی وجہ سے آئے ہیں۔ امریکہ کو پاکستان سے معافی مانگنی چاہئیے۔
میں انگریزی اخبار بھی پڑھتی ہوں۔ جب  جنگ جیسے موءقر اردو اخبار میں اس چیز کا باعث ہارپ کو قرار دیا جا رہا تھا۔ اس وقت انگریزی اخبار ڈان میں ملک کے مایہ ناز دو سائینس کے عالموں ڈاکٹر عطاء الرحمن اور ڈاکٹر ہود بھائ کے درمیان اس بات پہ زوردار بحث چل رہی تھی کہ ہارپ ایک ہوّے کے سوا کچھ نہیں۔
حیرت تو ہوتی ہے کہ ان دو عالموں نے کسی اردو اخبار کو اس پہ بحث کرنے کے لئے اپنا میدان نہیں چنا۔
یہی نہیں، اگر ہم اتوار کے دن کا جنگ  اور ڈان میگزین اٹھائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اردو اخبارات کس قدر کم معیار کے مضامین لکھتے ہیں اور انکی ہمیشہ ایک خاص سمت ہوتی ہے۔ 
یہی اردو اخبار، اس شدت پسندی میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں جو پاکستان کو دیمک کی طرح کھا رہا ہے۔ آخر یہ صحافی کیا کریں ۔ ان کی کیا پیشہ ورانہ تربیت ہے یہ کتنی ریسرچ کرتے ہیں ان میں سے کتنوں نے اپنے آپکو بیرونی دنیا کے علم سے جوڑا ہوا ہے۔ کتنے ایسے ہیں جو بیرونی مواد کو ترجمہ کر کے اردو میں لانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
یہ کرایسس انگریزی صحافیوں کے ساتھ بھی ہے لیکن انہیں انگریزی مواد کو کٹ اینڈ پیسٹ کرنے کی آسانی حاصل ہے۔
ادھر انگریزی اخبار کا فوکس ہمارے ایلیٹس یعنی طبقہ ء اشرافیہ ہے۔ اگر ڈان میں ان دو سائینسدانوں کے درمیان بحث ہوئ تو اس سے ہمارا اردو داں طبقہ انجان ہے۔ انگریزی زبان جاننے کا ایک فائدہ ہے اور وہ یہ کہ دنیا میں اس وقت جتنا علم کا دھماکا آیا ہوا ہے وہ سب انگریزی میں دستیاب ہے۔ وہ چاہے ادب ہو یا سیاست یا سائینس۔
اردو داں طبقے کی اکثریت تو بم دھماکے کی ہی اصطلاح سے واقف ہے اور ان  تک وہی پہنچ پاتا ہے جو اردو میڈیا انہیں فراہم کر سکتا ہے۔ اردو میڈیا کو عوامی تبدیلی یا ترقی سے دلچسپی نہیں۔ انہیں سینسیشن چاہئیے۔ چاہے وہ مذہب کے نام پہ ملے۔
کتنے ٹی وی اینکر ایسے ہیں جو جدید معلومات یا ریسرچ سے فائدہ اٹھاتے ہوں۔ شاید کوئ نہیں۔ جب ادھر ادھر کی چیزیں ہی اٹھانی ہوں تو آسانی سے جو ملے گا وہی حاضر ہوگا۔ اور اردو میں آسانی سے مذہب سے متعلق کتابیں ہی دستیاب ہیں چاہے وہ درست نکتہ ء نظر سے لکھی گئ ہوں یا غیر درست۔
ایلییٹس یا طبقہ ء اشرافیہ نہیں چاہتے کہ عام آدمی ان جیسا معیارزندگی رکھے یا ان جیسی معلومات ہی رکھ لے۔ وہ اس بات پہ ہنس سکتے ہیں کہ پاکستانی کتنے بے وقوف ہیں کہ زلزلے کو ہارپ کا لایا ہوا سمجھتے ہیں لیکن وہ اس قوم کو اردو میں ہارپ کے متعلق بتانے کی جدو جہد میں نہیں پڑیں گے۔
قوم اردو سمجھتی ہے اسے اردو میں جو مواد اور ذہن مل رہا ہے وہ اسی کے مطابق سوچتی ہے۔ اردو میں زیادہ تر مذہبی لٹریچر دستیاب ہے۔ کوئ ایک معیاری سائینس کی کتاب نہیں۔ پاکستان میں گذشتہ دس سالوں میں اردو ادب میں کوئ معیاری ناول یا ادیب سامنے نہیں آیا۔ ہمارے آج کے نوجوان کو بھی اشفاق احمد کو ہی پڑھنا پڑ رہا ہے۔ فیس بک پہ دھڑا دھڑ اشفاق احمد کے اقتباسات دستیاب ہیں۔
آجکے عہد میں کون اردو ادب لکھے گا۔ شاید کوئ نہیں۔ کیونکہ معاشرہ جب اظہار کے خوف سے گذر رہا ہو اور لوگ ایک دوسرے کو زبان درازی سے رکنے کی تلقین کر رہے ہوں تو اس صورت میں کس میں جراءت ہوگی کہ حقیقت لکھے فکشن کی صورت میںُُ۔ انگریزی داں طبقے کی عوامیت اتنی کم ہے کہ وہ پاکستان سے متعلق پُر اثر ادب شاید ہی لکھ پائے۔ اشرافیہ، بس نوم چومسکی، ڈکنس اور دستوووسکی اور دیگر فلسفہ ء حیات کو پڑھ کر اپنے ڈرائینگ رومز کی ڈسکشنز کو مزےدار بناتے ہیں۔
تو جب ایک شخص دوسرے کو قتل کرتا ہے۔ اور ملک میں جس طبقے کو یعنی عدلیہ کو عدل اور انصاف پھیلانے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے وہ اس قاتل پہ پھول نچھاور کرتے ہیں تو ہمیں کیوں حیرت ہوتی ہے۔
جب ملک میں طبقاتی تعلیمی نظام چلے گا تو نتیجہ وہی ہوگا جو اس وقت ہمارے سامنے ہے۔اردو میڈیا کہتا ہے کہ جب جمہور کی بات کے خلاف کام ہوگا تو کسی کا قتل ہونا کوئ ایسی بری بات نہیں۔ کیونکہ جمہور ہم ہیں اس لئے ہم جو کہہ رہے ہیں وہ صحیح ہے۔ انگریزی میڈیا اپنے ڈرائینگ روم میں دنگ بیٹھا ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟
ادھر میں  پتھارے والے کے مسجد سے واپس آنے کے انتظار میں بازار میں ادھر اُدھر گھوم کر جن  کو دیکھ رہی ہوں، یہ کون ہیں جمہور یا جانور؟

13 comments:

  1. یہی تو المیہ ہے بہنا۔ جو جانتے ہیں وہ بتانے کے قائل نہیں اور جنہیں "الف دانہ کو کو" نہیں آتا وہ علامہ بنے فلسفے بگھارتے رہتے ہیں۔ اب علامہ حامد میر اگر عوام کی نفسیات کے متعلق ماہر سمجھے جائیں گے تو آپ عوام کو دستیاب معلومات کی درستی کا اندازہ لگا لیجئے۔ لیکن اگر آپ ان تمام رویوں کی تہہ تک پہنچ دیکھیں تو ان تمام کا مآخذ ایک بات ہے۔ وہ یہ کہ ہم شرمناک حد تک انصاف کُش قوم ہیں۔ ہمیں کسی ایک یا دوجی وجہ سے انصاف سے بریت چاہئے۔ ہمارے تمام رویے اسی ایک بنیاد پر اُستوار ہیں اور نتیجہ سب کے سامنے ہے لیکن ماننے کو کوئی تیار نہیں۔ جن کی آنکھوں کی ٹھنڈک نماز تھی اُس نماز کا کسی کو خیال نہیں لیکن شارٹ کٹ سے اپنے آپ کو عاشق مصطفٰے بنانے و بتانے کے لئے سب تیار ہیں۔ مجھے صرف یہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ تعین کون کرے گا کہ کون سے قوانین میں ردوبدل ضروری ہے؟ نوازشریف اور ضیاءالحق کی "مسلمانی" سے سب آگاہ ہیں۔ اصول تو یہ ہے کہ ہر عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور اگر ایک قانون چاہے اسلام کا نام لے کر ہی صرف دنیاوی منفعت و مفاد کے لئے بنایا گیا ہے تو شرع کے نزدیک وہ غلط ہے اگرچہ بظاہر درست ہی ہو۔ لیکن اتنی گہری باتیں کون سوچے؟ جہاں سب کو شارٹ کٹ کی تلاش ہو وہاں درست راستہ کھوجنے کی کسے فرصت؟

    ReplyDelete
  2. اوجی میرا مشہور و معروف سیانا تو بہت پہلے فرما چکا ہے کہ اردو میں اب مذہب اور میانہ درجے کا فکشن ہی عام دستیاب ہے۔ باقی سب کچرا ہے یا چربہ۔ باقی یہ ہے کہ جس طرح ایک گھر میں رہنے والے لوگوں کو ایک دوسرے کی شکل صورت اور جسم و ذہن میں کوئی خاص تبدیلی آتی دیکھائی نہیں دیتی۔ بلکہ جو باہر سے آتا ہے وہی دیکھ کر بتا پاتا ہے۔ تو کچھ یہی صورتحال یہاں بھی ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو جنونیت، مذہب پرستی ، تشدد اور دوسری کئی اقسام کی بیماریوں کاشکار ہو چکی ہے۔ ہاں البتہ پاکستانی اپنی دنیا میں بستے ہیں۔

    اور پچھلی پوسٹ میرا تبصرہ کدھر گیا؟

    ReplyDelete
  3. بلاگر اعظم تو فیس بک پر موجود ہی نہیں۔ لیکن کچھ جاننے والوں اور ذرائع ابلاغ کی بدولت معلوم ہوا ہے کہ یہ بہت سے "عاشقان رسول" فیس بک پر قاتل کی حمایت میں بلے بلے کررہے ہیں۔ صفحے کے صفحے اور گروپ کے گروپ بنے ہوئے ہیں۔ کیسی مخولیہ بات ہے کہ یہ وہی ملعون فیس بک ہے جس پر گستاخی کا مقدمہ لگا کر اس کا بائیکاٹ کرنے کے فتوے جاری کیے گئے تھے۔ پاکستان بھر کی سڑکوں پر مذہب پرست چیختے چنگھارٹے جھاگ اڑاتے اور جذبہ ایمانی کی شرلیاں پٹاخے چلاتے نظر آتے تھے۔ لیکن نجانے اب کیا ہوا۔ ویسے ادھر ادھر دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں جی۔ اسی بلاگستان میں یہ کئی "عاشقان رسول" جو توہین رسالت پر جگہ جگہ غیرت کھاتے پھرتے ہیں لیکن اب تک اپنے بلاگز پر فیس بک پروفائل کے آئیکون سجائے بیٹھے ہیں۔ کئی تو ایسے ہیں جو اکاؤنٹ بند کرکے دوسروں کو اسکی ترکیبیں بتا بتا کر جذبہ ایمانی کے فتوے اور واعظ جاری کر کے بعد میں خود دوبارہ فیس بک پر حاضر ہوچکے ہیں جی۔ ایک فضول محاورے کے مطابق شائد اسے اپنا تھوکا چاٹنا کہتے ہیں۔
    اور دوسری طرف بلاگر اعظم ہے جی۔ کیسا بے غیرت بندہ ہے جی۔ ثواب حاصل کرنے والے دور سے کہیں پہلے فیس بک کو خیر آباد کہہ گیا تھا۔ "عشق رسول" کا ککھ پتا نئیں جی۔ مغرب ذدہ کہیں کا۔ کینیڈا کی روٹیاں کھا پی کر پاکستان کے ڈکار ہی نئیں مارتا جی۔ "اپنی قوم" کی کوئی فکر یاد ہی نئیں ستاتی جی۔ نجانے مذہب اور قومیت پر واعظ کیوں نہیں دیتا۔ قوم کی بیٹیوں کے پردے اور مجاہدین کے جذبات کا ککھ پتا نئیں جی۔ یہ وہی دو فیصد غیر مومن افراد کا نمائیندہ ہے جن کی وجہ سے مومن جمہوریہ پاکستان میں شریعت اور اسلامی نظام نافذ نئیں ہورہا جی۔ لیکن چنگا ہے کہ یہ منحوس باہر کسی ملک دفع دفان ہوچکا ہے۔ اس کے ساتھ باقی ملعون لوگ بھی باہر دفان ہوجائیں۔ پھر مومنستان میں اسلام راج کرے گا۔ امید ہے کہ تب توہین رسالت جیسے قوانین کی کوئی ٹینشن ہی نئیں ہوگی جی۔ کہ سارے بندے ہی مومن ہوں گے۔ لیکن میرا منحوس سیانا بکتا ہے کہ معاملہ فیر وی نئیں حل ہونا۔ مجنوں کا مسئلہ ہی کچھ ہور ہے۔ مینوں تو ککھ سمجھ نہ آوے جی۔ ہن تسی ہی کچھ سمجھاؤ۔

    ReplyDelete
  4. Mam I can understand your feelings....but I am happy....Mumtaz Qadri Khappy....:P

    ReplyDelete
  5. First sentence says it all;

    Death to the Blasphemer

    You know a country is in trouble when committing a murder can make you a national hero. Exhibit A: Malik Mumtaz Hussain Qadri, the 26-year-old Pakistani policeman who on Tuesday shot Salmaan Taseer, governor of Punjab province. Taseer’s crime: standing up for Asia Bibi, an illiterate Christian woman on death row for blasphemy, a charge often used in Pakistan to harass and intimidate the country’s tiny population of Christians, Hindus, and Ahmadiyya Muslims.

    While Pakistan’s clubby English-speaking liberal elites are in shock at the murder of Taseer—one of their own, so to speak—in much of the country the mood is celebratory. Qadri’s supporters have showered the murderer with rose petals and garlanded him for what they see as a courageous act. Within hours of the murder, Facebook was awash with pages celebrating it. Mainstream religious organizations are exultant. And Qadri himself is anything but contrite. “We are ready to sacrifice our life for the prestige of the Prophet Muhammad,” he declared after appearing in court in Islamabad.

    As I argue in the Wall Street Journal, Taseer’s murder shows the depth and reach of radical Islam in nuclear-armed Pakistan. Bluntly put, relatively secular-minded Pakistanis are an endangered species. Qadri murdered the man he was assigned to protect. What does the future hold for a country where even the game warden can’t be trusted not to turn poacher?

    http://blog.american.com/?p=24620

    ReplyDelete
  6. اردو قارئین کو میسر مواد اور انگریزی داں طبقے کے لیے دستیاب مطبوعات میں جو تفاوت ہے اس کو کسی حد تک کم کرنے میں اردو بلاگر ان ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
    یہ درست ہے کہ پاکستان میں عوام کی اکثریت انٹرنیٹ کے وسیع تر استعمال سے دور ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ کمپیوٹر پر اردو پڑھنے اور لکھنے کے لیے جو لوازمات درکار ہیں وہ بھی کسی حد تک مانع ہیں لیکن پھر بھی اردو داں عوام تک اگر بلاگر خواتین و حضرات چاہیں تو معیاری ادب، درست خبر پہنچا سکتے ہیں۔اس ضمن میں جو خلا ہے اسے خاصی حد تک پر کر سکتے ہیں۔

    ReplyDelete
  7. احمد عرفان شفقت، ادب بلاگز پہ تخلیق نہیں ہوتا۔ کٹ اینڈ پیسٹ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح معیاری کتب کا ترجمہ اور انکی اشاعت بھی بلاگز پہ ممکن نہیں۔ البتہ بلاگز پہ کتابوں کے لنکس ڈالے جا سکتے ہیں یا اقتباسات۔

    ReplyDelete
  8. عثمان، آپکا پچھلا تبصرہ تو میرے پاس محفوظ ہے۔
    :)
    مشوروں کی وجہ سے۔ ہر ایک کو نئیں پڑھنا چاہئیں۔

    ReplyDelete
  9. @Usman you said [اسی بلاگستان میں یہ کئی "عاشقان رسول" جو توہین رسالت پر جگہ جگہ غیرت کھاتے پھرتے ہیں لیکن اب تک اپنے بلاگز پر فیس بک پروفائل کے آئیکون سجائے بیٹھے ہیں۔]
    you know facebook is nothing but an addiction so you cant blame religion for addictions...I hope you get my point.

    ReplyDelete
  10. Tribute to Salman Taseer Shaheed
    http://www.youtube.com/watch?v=zjjeoCmRUpA

    ReplyDelete
  11. Tribute to Salman Taseer Shaheed
    http://www.youtube.com/watch?v=zjjeoCmRUpA

    ReplyDelete
  12. ندیم جمالیJanuary 9, 2011 at 12:14 PM

    اس ملک کے مسلمانوں کا ایمان دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ باقی سب ملکوں میں رہنے والے مسلمان مسلمان نہیں۔ اور لے دے کے اگر اسلام کو اور پاکستانی ملا کے ایمان کو خطرہ ہے تو صرف اس ملک کی دو فیصد سے بھی کم اقلیت سے۔ جو بھی ملا کے ایمان کو آزمائے گا وہی منصور کی طرح کا گستاخ قرار دیا جائے گا۔

    ReplyDelete
  13. اب وہ دن دور نہیں کہ پاک لوگوں کے پاک ملک میں مزدوری مانگنے والے "گستاخ" پر بھی آرٹیکل دوسو پچانوے سی استعمال کرکے "ایمان تازہ" کیا جائے گا۔
    کل جب ایک انیس سال کے میرے رشتے کے بھانجے نے سلمان تاثیر کے "قتل" کی مبارک کا اس ایم اس بھیجا تو مجھے اسے جوابی تنبیہ کرنے سے ڈر لگ رہا تھا. نہ جانے کتنے غازی علم دیں شہید ہم اب تک پیدا کر چکے ہیں

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ