Showing posts with label جنات. Show all posts
Showing posts with label جنات. Show all posts

Thursday, April 12, 2012

جنّاتی مسائل

وہ ایک مستند دہرئیے تھے۔ یعنی صرف لوگ ہی یہ رائے انکے بارے میں نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ بھی اسکا وقتاً فوقتاً اعلان کرتے تھے۔ یہ میری ان سے ابتدائ ملاقاتوں کی بات ہے۔  ایک عمومی رائے کے بر عکس وہ راقم کے بارے میں یہ رائے رکھتے تھے کہ تم ایک روایت پسند مسلمان ہو۔
 اگرچہ اس پہ کچھ بنیاد پرست مسلمانوں کو بڑا غصہ آتا ہے۔ لیکن  انکے نزدیک  ڈیڑھ ہزار سال پرانے مذہب پہ عمل کرنا روایت پسندی ہی ہے۔ ہمارے ایک اور ساتھی کا کہنا ہے کہ اسلام ڈیڑھ ہزار سال پرانا نہیں بلکہ ابتدائے کائینات سے صرف ایک ہی مذہب تھا اور وہ اسلام ہے۔ اگر وہ یہ بات سنتے تو یہی کہتے کہ  میاں، پھر تو یہ اربوں سال پرانا ہو گیا۔ یعنی اس سے زیادہ مستند روایتی اور کیا چیز  ہوگی۔
دہریئے پن کے علاوہ ان میں ہر وہ خوبی موجود تھی جو ایک ایماندار انسان میں ہونا چاہئیے۔ اس میں دل کی نرمی سر فہرست ہے۔ لیکن چونکہ یہ تحریر انکی شخصیت کے بارے میں نہیں۔ اس لئے ہم آگے چلتے ہیں۔
مجھے روایت پسند مسلمان جان کر ایک دن انہوں نے مجھے آڑے ہاتھوں لیا۔ میں اس ساری چیز سے گریزاں تھی۔ اور یہ کہہ کر ٹال دیا کہ مجھے آپکے نظریات پہ کوئ اعتراض نہیں ، آپ بھی میرے نظریات کو نشانہ نہ بنائیں۔ کہنے لگے اچھا ایک بات بتاءو، جنات پہ یقین رکھتی ہو؟
سائینس غیر زمینی، ذہین مخلوق پہ تحقیق کے لئے زر کثیر لگا چکی ہے۔ ہم بھی سوچتے ہیں کہ کوئ نہ کوئ مخلوق انسان کے علاوہ ہو گی۔ تو پھر یہ بات تسلیم کر لینے میں کیا حرج کہ جنّات بھی موجود ہونگے۔ میں نے اپنا بیان دیا۔ ویسے بھی جنات پہ ایمان رکھنے یا نہ رکھنے سے ایمان پہ کوئ اثر نہیں پڑتا۔ جنات کا میری عام زندگی سے کوئ تعلق نہیں۔ میں آج تک جن چند جنوں سے ملی ہوں۔   ان  پہ  یہ جناتی کیفیت کبھی کبھی طاری ہوتی ہے۔ اس لئے وہ با قاعدہ جنوں میں نہیں آ سکتے۔  بات آئ گئ ہوگی۔
 محمد علی مکی نے اپنے بلاگ پہ دوسرے سیاروں پہ ذہین مخلوق یا انسان جیسی مخلوق کا موضوع کھولا تو مجھے جنات پہ یہ بحث یاد آئ۔ اور انکی تحریر سے نئے سوال اٹھ کھڑے ہوئے۔ جو میں نے وہاں ڈالنے کے ساتھ اپنے بلاگ پہ بھی ڈال دئیے۔ 
 اسکی ایک بے کار سی وجہ یہ ہے کہ میری ذہنی ساخت مقلّد سے زیادہ سائینسی ہے۔ میں ہر خیال کو سوال کے ساتھ دیکھتی ہوں۔ مثلاً کل شام تک بچی ٹھیک تھی ایسا کیوں ہوا کہ رات بھر الٹی دست لگے رہے؟ ایسا کیوں کہ ہر بار کرپٹ لوگ ہمارے ووٹوں سے منتخب ہو کر آتے ہیں؟ ایسا کیوں کہ ہمارے ملک میں اعلی تعلیم پہ ایک ادارہ بنا کر اس پہ اتنا فنڈ لگایا جائے اور اسکول کی تعلیم کو نظر انداز کیا جائے؟ ایسا کیوں کہ مارچ میں جو ارہر کی دال آتی ہے وہ جلدی گلتی ہے جبکہ جو ارہر کی دال نومبر میں آتی ہے وہ گل کر نہیں دیتی؟
اگرچہ حکومت اور معاشرے نے اتحاد باہمی سے اس فضا کو قائم رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہے کہ جس سے لوگوں میں سوال پیدا کرنے کی اہلیت پیدا ہو نے پہ قدغن لگائ جائے مگر انسانی تاریخ کہتی ہے کہ فرعون کے گھر موسی ضرور پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے جہاں اور سوالات پیدا ہوتے ہیں وہاں جنّات پہ بھی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
چونکہ خدا کی کتاب میں یہ تذکرہ ہے کہ جنات  موجود ہیں۔ اور چونکہ ہمارے مسلمان دینی عالم ہی نہیں مسلمان سائینسی عالم بھی ہر بات کو قرآن یعنی خدا کی آخری کتاب تک لے جانے پہ بضد رہتے ہیں اس لئے کچھ جوابات کی چاہت بھی ہوئ۔ جن میں سے آج کچھ جنّات کے متعلق ہیں۔
ادھر ایسی احادیث ہیں جن کے مطابق  رسول اللہ سے جنات کے قبائل آکر ملے اور مسلمان ہوئے ان میں سے بعض تو حضرت نوح کے زمانے کے تھے۔  یعنی جنات طویل العمر ہوتے ہیں۔ ایک اور روایت کے مطابق انسانوں کو جنات سے شادی نہیں کرنی چاہئیے۔
 روحانی شخصیات جو کہ جنوں کو انکی اصل حالت میں دیکھنے کا دعوی کرتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ انکی جسمانی ساخت انسانوں سے بالکل الگ ہے۔ یہی نہیں، انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئ ہے اور جنات کی آگ سے۔ شیطان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھی اصل میں ایک جن ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انسان سے پہلے زمین پہ جنات آباد تھے۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں، جتنے دماغ اتنے خیالات۔ لیکن مکی کی باتوں سے مجھے خیال آیا کہ اگر جنات مسلمان ہوتے ہیں تو یہ بات اتنی سادہ نہیں رہتی۔ اس خیال کے ساتھ ہی بہت سارے سوالات میرے جیسے بے دماغ لوگوں کے ذہن میں آتے ہیں۔ مثلاً
اگر جنات مسلمان ہوتے ہیں تو یہودی، عیسائ، ہندو اور بدھ بھی ہوتے ہونگے۔ حتی کہ قادیانی بھی ہوتے ہونگے۔ کیا انکے یہاں بھی کافر قرار دینے کی مہم چلتی ہونگیں؟ یا وہ اس معاملے میں انسان کے مقلد ہیں؟
کیا انکے یہاں بھی مسلمان جنات کے علاوہ باقی سب ترقی یافتہ ہونگے؟
کیا انکے یہاں بھی امریکہ، اسرائیل اور سعودی عربجیسی طاقتیں موجود ہیں یا وہ ہمارے والوں پہ ہی گذارا کرتے ہیں؟
کیا انکے یہاں بھی مختلف احادیث کی روشنی میں مختلف فرقے ہونگے؟
کیا انکے بھی آپس میں جہاد ہوتے ہیں یا وہ ہمارے جہادوں میں ہی حصہ لے کر اپنی تسلی کرتے ہیں؟
کیا انکے ہاتھ ہوتے ہیں جن کے ناف پہ باندھنے اور نہ باندھنے کی وجہ سے مسلمان جنوں کے فرقے وجود میں آتے  ہوں؟
کیا انکی خواتین کے کان اور ناک ہوتی ہے جن پہ حجاب ٹہر سکے؟ کیا انکے یہاں مدنی اور مکی برقعے ہوتے ہیں؟
کیا جنات خواتین آدھی آستین یا بغیر آستین کے کپڑے پہنتی ہیں جن پہ مرد جنات بے غیرت کہلائے جائیں؟
کیا انکے یہاں بھی گل احمد اور الکرم کی لان کے اشتہار آتے ہیں، جن کی عریانیت پہ احتجاج کرنے کے واسطے خفیہ ورکنگ ویمن کی تنظیم  کروڑوں روپوں کے بینرز بنواتی ہے؟
کیا ان کے یہاں بھی غریب جنات عورتیں ان کروڑوں روپوں کے بینرز کے نیچے کھڑی ہو کر غربت کی وجہ سے اپنی عصمت کا سواد کرتی ہیں؟
کیا جنات خواتین اپنے گھروں میں بند رہنے پہ اللہ کی رحمت کی حقدار ٹہرتی ہیں؟
کیا مرد جنات اپنی خواتین کوقابو میں رکھنے کے فلسفوں پہ عمر گذارتے ہیں اور مولانا جنات انکی مدد اسی طرح کرتے ہیں جیسے ہمارے والے کرتے ہیں؟
ایک روایت کے مطابق ہماری پھینکی ہوئ ہڈیوں پہ سے اپنا کھانا چننے والے جنات کیا امیر اور غریب ہوتے ہیں؟
کیا انکے یہاں بھی نیک جنات کی قبر پہ مزار بنتے ہیں یا وہ نیک انسان کی قبر سے ہی گذارا کرتے ہیں؟
جنات تبلیغ کے لئے کسی اور سیارے پہ جاتے ہیں یا رائے ونڈ ہی آتے ہیں؟
انسانوں کے تبلیغی اجتماعات میں جنات موجود ہوتے ہیں لیکن وہ  انسان  کو تبلیغ کیوں نہیں کر سکتے ؟
اگر وہ زمین کے علاوہ کسی اور سیارے پہ آباد ہیں انکے نماز اور روزے کے اوقات اور اس سے متعلق فقہ بھی الگ ہوگا۔ کیا انکے اپنے امام ہیں یا وہ انسانوں کے اماموں سے گذارا کرتے ہیں؟ 
اگر جنات مسلمان ہوتے ہیں تو عقیدہ ء آخرت انکے لئے بھی ہوگا۔ انکو بھی اعمال نیک و بد کا حساب دینا ہوگا۔
کیا انہیں بھی حوریں ملیں گی؟ چونکہ  وہ آگ سے بنے ہیں تو یقیناً انکی جنت کی ساخت اور حوریں الگ خصوصیات رکھتے ہونگے۔ کیا انکی ایک الگ جنت ہوگی؟
چونکہ وہ آگ سے بنے ہیں تو انکی دوزخ بھی الگ ہوگی اب انہیں اس دوزخ میں تو رکھا نہیں جا سکتا جس کی آگ کا خوف انسانوں کو دلایا جاتا ہے۔  کیا انکے لئے آگ کا ہی عذاب ہے یا کسی اور چیز کا؟
آخر خدا نے جنوں کو کیوں تخلیق کیا جبکہ انسان فساد کرنے کو کافی تھا؟

 نوٹ؛ اس سلسلے میں قارئین میں سے  کسی کے ذہن میں کوئ اور سوال ہو تو ضرور شامل کرے۔ اگر کوئ جواب دینا چاہتا ہے تو سو بسم اللہ۔
 

Monday, May 9, 2011

یاد کا جادو

ہمارے گھر کے مسائل کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس پہ جنات کا سایہ ہے'۔ 'تو آپ اسے بدل کیوں نہیں دیتے'۔ نجمہ خالہ نے اپنے ماموں کی اس بات کو جیسے کسی گنتی میں ہی نہیں رکھا۔ 'ارے بھئ، ہمارے دادا کا گھر ہے وہ۔ اب اس میں ہماری چوتھی پشت رہ رہی ہے'۔ ماموں نے انہیں یاد دلانے کی کوشش کی۔ 'ائے چھوڑیں، ہردوسرا شخص کسی بیماری کا شکار ہے ہر تیسرا شخص ذہنی طور پہ بیمار ہے چوتھی پشت رہ رہی ہے۔ پانچویں پشت باقی بچے گی تو رہے گی۔ ہمیں دیکھیں، تیس سال کے عرصے میں چار گھر خریدے اور ان میں رہے پھر بدل دئیے'۔  خالہ نے پرس میں اپنا موبائل فون تلاش کرتے ہوئے کہا۔
'یہ جائیداد کا خریدنا بڑا مشکل کام ہے'۔  ماموں نے جان چھڑانی چاہی۔ 'ماموں آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں ۔ میں ایک عورت ہوں، شوہر کے انتقال کو بھی سترہ سال ہو گئے۔ انکے بعد بھی دو گھر میں نے  یکے بعد دیگرے خریدے۔ انہیں تلاش کیا، اس چکر میں اسٹیٹ ایجنٹس کے ساتھ درجنوں گھر دیکھے۔ پھر جا کر پسند آئے۔ اسکے بعد وہاں جانے سے پہلے انکی مرمت، رنگ و روغن اور ان میں کچھ تبدیلیاں بھی کرائیں۔ یہ سب کام میں نے اکیلے کیا'۔ خالہ نے فخر سے کہا۔ 'کرنے پہ آئے تو انسان کیا نہیں کر سکتا'۔ میں خاموشی سے گفتگو سنتی رہی۔ خیال تھا کہ بات کسی طرح گھوم کر جنات پہ پہنچے گی۔ اور ہم جان سکیں گے کہ اس گھر میں جنات کا کیسے پتہ چلا؟ وہ کیا کرتے ہیں؟ کس نے انہیں دیکھا؟ اور یہ سارے مصائب انکی وجہ سے کیوں ہیں؟؟؟؟؟؟
یہ خالہ ہماری سگی خالہ نہیں۔ بس ہماری اماں سے کچھ بچپن کی دوستی کا تعلق  ہے۔ سو ہمارے بچپن میں بھی ساجھا کر لیا ۔
تو تم بڑی عقلمند سمجھتی ہو اپنے آپکو'۔ ماموں نے ایک بھولپن سے اپنی بھانجی سے کہا۔
اس مرحلے پہ کسی نے گفتگو کا رخ موڑ دیا۔ 'ہماری اماں کا انتقال ایک سو سات سال کی عمر میں ہوا'۔ ماموں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ بس اب میری باری تھی۔ جنات ہاتھ نہیں آئے تو کیا ہوا عمر کا حساب بھی کچھ کم نہیں۔ 'ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟'  'ہاں آپ لوگوں کو کیسے یقین آ سکتا ہے آپ نے انہیں کہاں دیکھا؟ پھر آجکی نسل کو ایسی باتوں پہ یقین کہاں آتا ہے' 'میں نے انہیں دیکھا تھا۔ اپنے بچپن میں، وہ ایک بہت کام کاجو خاتون تھیں'۔ میں نے نکتہ ء اعتراض کو واضح کرنے کی کوشش کی۔ 'پہلی دفعہ لکھنوء سے پاکستان آئیں تو گھر بھر کی رضائیاں کھلوا کر بیٹھی ہوئیں تھیں۔ اتنی تندرست اور صحیح تھیں کہ  خود بیٹھی ان میں ڈورے ڈال رہی تھیں یا ڈلوا رہی تھیں۔ میں تو یقین نہیں کر سکتی کہ وہ ایک سو سات سال کی تھیں'۔
ہم ہیں ان کے بیٹے اور بتا رہ ہیں کہ ایک سو سات سال کی تھیں۔ ہم صحیح ہوں گے یا آپ'۔ وہ اپنے دھیمے لہجے میں گویا ہوئے۔
انکی سب سے بڑی بیٹی یعنی خالہ کی امی کی عمر اس وقت پچھتر سال کے قریب ہے۔  آپکی امی یعنی خالہ کی نانی ، انکی شادی میں نے سنا ہے کہ اس وقت کے مروجہ طریقے کے مطابق چودہ پندہ سال کی عمر میں ہو گئ تھی۔ اب اگر آپکی امی زندہ ہوتیں تو زیادہ سے زیادہ نوے سال کی ہوتیں۔ اب جبکہ انکے انتقال کو پانچ سال ہو گئے ہیں میرا اندازہ ہے کہ انکی عمر پچاسی سال ہوگی'۔ میں نے حساب کتاب کے تیز رفتار گھوڑے دوڑا دئیے۔
یہ تم سے کس نے کہا کہ انکی بیٹی کی عمر اس وقت پچھتر سال ہے۔ وہ میری بہن ہیں۔ مجھ سے پندرہ سال بڑی۔ میں اس وقت پچھتر سال کا ہو چکا ہوں۔ ماموں نے ایک اور اعتراض کیا۔
لیجیئے جناب عمر کا ایک نیا چکر شروع ہوا۔ میں نے کہا خالہ آپکی بھانجی ہیں۔ یہ لوگ سن چونسٹھ میں پاکستان آئے ہیں ۔ خالہ کی امی یعنی آپکی بڑی بہن کہتی ہیں کہ جس وقت وہ یہاں آئیں تو آپ گیارہ بارہ سال کے تھے۔ اب یہ بات تو ہم نے اتنی تسلسل سے سنی ہے کہ  غلط نہیں ہو سکتی' ۔ تائید کے لئے میں نے انکی بھانجی اور بڑی بہن کی طرف دیکھا ان لوگوں نے گردن ہلائ، تائید میں۔' اب آپ بتائیے ، اگر آپ اس وقت پچھتر سال کے ہیں تو سن چونسٹھ میں آپکی عمر، ایک سادہ سے حساب سےپچیس سال کے قریب بنتی ہے۔ پھر تو آپکو ہر چیز  خاصی  یاد ہونی چاہئیے'۔
ماموں ، میری شکل دیکھنے لگے۔ بہن کی ہجرت کے حوالے سے انکا خاکہ زیادہ واضح نہیں تھا۔ یہ بات تو ماننی پڑتی کہ ایک پچیس سال کے شخص کو یہ چیزیں درستی سے یاد ہوں۔ خاص طور پہ اپنی بڑی بہن کے متعلق۔' نہ آپ پچھتر سال کے ہیں اور نہ آپکی امی کا انتقال ایک سو سات کی عمر میں ہوا۔ آپکی عمر اس وقت ساٹھ سال کے قریب ہے، آپکی بڑی بہن پچھتر سال کی اور امی کا انتقال پچاسی سال کی عمر میں ہوا'۔
بڑی عجیب خواتین ہیں آپ۔  یہ کراچی میں گندم کہاں سے آتا ہے؟'۔ یہ کہہ کر ایک بھولپن سے مسکرانے لگے۔ شاید سوچ رہے ہوں کہ عمر رفتہ کا حساب تو بڑا آسان ہے پھر ہم کاہے کو ایک گورکھ دھندے میں پھنسے رہے۔
دو ہفتے بعد میں نے سنا کہ واپس جا رہے ہیں اپنے وطن بھارت۔ 
سوچا ایک دفعہ پھر ملاقات کی جائے۔ ایک دفعہ پھر اسی کمرے میں لیکن اس دفعہ مختلف لوگ بیٹھے تھے۔ گفتگو کچھ ماضی اور مستقبل کے دو نہ چھونے والے دائروں میں گھوم رہی تھی۔ کبھی چھلانگ کر اس طرف کبھی چھلانگ لگا کر اس طرف۔ ایسے میں اسے حال کے کرداروں کی انگلی پکڑنی پڑتی۔ ماموں نے ایک آہ بھری۔ 'پینتالیس سال ہو گئے ہماری بہن کو ادھر آئے تو ہم پہلی دفعہ آنے میں کامیاب ہوئے۔ اب دیکھیں آ پاتے ہیں یا نہیں'۔ 'ارے نہیں صاحب، خدا آپکو لمبی عمر دے۔ سنا ہے آپکی والدہ  نے بھی کافی لمبی عمر پائ تھی'۔
اسی بچوں جیسی سادگی سے کہنے لگے، 'جی ہاں ماشاءاللہ ایک سو سات سال کی عمر میں انتقال ہوا انکا'۔
وہ جھوٹ نہیں کہہ رہے تھے۔ یادداشت کے طلسم ہوش رُبا میں کہیں کہیں انسان پتھر کا ہو جاتا ہے۔ نہ اس سے آگے دیکھ پاتا ہے نہ پیچھے۔