چلئیے۔
آج کچھ ادھر ادھر چلتے ہیں۔ یہ آج سے کچھ سال ادھر کی بات ہے۔ میں سانگھڑ کے ایک مضافاتی گاءوں میں موجود ہوں۔ جہاں پہنچنے کے لئیے ہمیں پہلے فور وھیل ڈرائیو کرنی پڑی۔ اور پھر کشتی کے ذریعے ایک جھیل کو پار کیا اور ریت کے ٹیلوں پر سے پھسلتے چڑھتے ہم بالآخر ایک گاءوں کی اوطاق تک جا پہنچے۔ یہاں موجود پندرہ بیس گھر سب کے سب مٹی کے گارے اور گھاس پھونس کی مدد سے بنائے گئے تھے۔ قریب میں موجود ایک ہینڈ پمپ سے پانی لیا منہ ہاتھ دھو کر جب آنکھوں سے مٹی صاف ہوئ تو احساس ہوا کہ کچھ گھر بالکل نزدیک ہیں۔ ابھی کھانا آنے میں وقت تھا اس لئے میں اٹھی۔ اپنا بیک پیک اٹھایا اور ایک گھر کی طرف چل پڑی کہ خواتین سے ملاقات کرکے آجاءوں۔
ایک گھر میں داخل ہوئ تو مجھے دیکھتے ہی ایک عورت جلدی سے ایک سندھی رلی نکال کر لے آئ اور لپک کر اسے چارپائ پر بچھا دیا۔ میں اسے منع کرتی رہ گئ کہ مجھے کھری چارپائ پر بیٹھنے میں کوئ اعتراض نہیں لیکن اسے اردو آتی نہ تھی اس لئے اس نے میری بات پہ کوئ دھیان نہ دیا۔ کمرے میں ایک دیوار پہ پیر پگارا کی تصویر لگی ہوئ تھی۔ یہ ان کا علاقہ ہے اور علاقے کے لوگ انکے معتقد ہیں۔ تھوڑی دیر ہم ایکدوسرے کو دیکھتے رہے۔ پھر میں نے اپنی سندھی آزمائ جوکہ بولنے کے ضمن میں بمشکل پچاس الفاط پر مشتمل ہے۔ البتہ سمجھ خاصی آجاتی ہے۔ اس نے مجھے سندھی بولتے دیکھا تو حیران ہوئ۔ تم کہاں سے آئ ہو۔ میں نے جواب دیا۔ کراچی سے۔ وہ بالکل ٹھٹھک گئ۔ کیا پنجابی ہو۔میں ہنسی, اپنے حلئے پر نظر ڈالی ایک مثالی سکنہ کراچی۔نہیں تو سندھی ہوں۔ نہیں کراچی میں تو پنجابی رہتے ہیں۔ اس نے بھی ہنس کر جیسے میری بات ہنسی میں اڑائ۔ نہیں سب پنجابی نہیں ہوتے۔ میں نہیں ہوں ۔ اچھا تمہاری ذات کیا ہے؟ اس نے جیسے امتحان لیا۔سندھ میں ذات کی بڑی اہمیت ہے۔ اب میں پھر مسکرائ۔ میں پٹھان ہوں۔ سندھی تو پٹھان نہیں ہوتے اس نے بڑی معصومیت سے کہا۔ آگے کی گفتگو کا کیا تذکرہ کہ میں نے کیسے پچاس الفاظ سے اسکا دل موم کیا۔ لیکن یہ ضرور سوچا کہ پنجابی ہونے کے ذکر پہ وہ اس قدر تذبذب میں اور کھنچی ہوئ کیوں تھی۔
اس بات کو ایک وقت گذر گیا اب ایک نئے منظر میں ، میں بلوچستان کے شہر گوادر کے مضافاتی علاقے میں ہوں۔ یہ چھوٹا سا گھر ہمارا ذاتی ہے جسے بلوچیوں کے کھلے دل، اس علاقے کے سکون اور سمندر سے نزدیکی کی بناء پر بنایا گیا ہے۔ اطلاع ملی کہ اکبر بگتی مارا گیا۔ ابھی شام کا دھندلکا پھیلے زیادہ دیر نہ ہوئ تھی کہ پندرہ سولہ لوگ گھر کی باءونڈری وال پھاند کر گھس آئے۔ان سب کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے۔ ہم نے سوچا اب شامت آئ۔ ساری شیشے کی کھڑکیاں جائیں گی جو صرف سمندر کا نظارہ کرنے کے لیئے لگائ گئیں تھیں۔گھر کے بزرگ حضرت آگے بڑھے۔ کیا بات ہے؟تم لوگ پنجابی ہو اور یہاں سے فوج کے لئے مخبری کرتے ہو۔ تمہارے پاس مخبری کی مشینیں بھی ہیں۔ کوئ غرایا۔ نہیں ہم پنجابی نہیں ہیں۔ کراچی کے رہنے والے ہیں۔ اردو بولتے ہیں۔ اور اس گھر میں ایسی کوئ مشین نہیں ہے۔ چاہو تو تم میں سے دو تین لوگ جا کر پورے گھر کی تلاشی بھی لے سکتے ہیں۔ بزرگ حضرت نے پر امن پیش کش کی۔ ان میں سے تین آگے بڑھے۔ پورے گھر کی تلاشی ہوئ۔ اس دوران بزرگوار انہیں اپنے غیر پنجابی ہونے کے مزید ثبوت بتاتے رہے۔ اتنی دیر میں محلے کے ایک دو لوگ بھی آگئے انہوں نے بھی کہا کہ یہ پنجابی نہیں ہیں۔ بچت ہوئ، وہ جن ارادوں سے آئے تھے انہیں پورا کئے بغیر چلے گئے۔
ان دونوں علاقوں کے درمیان ہزار کلو میٹر سے زیادہ فاصلہ ہے ان دونوں علاقوں کے رہن سہن اور ثقافت میں فرق ہے مگر ان دونوں علاقوں کے لوگ اپنے ملک کے ایک صوبے کے رہنے والوں سے نالاں کیوں ہیں۔
غالب تمہیں کہو کہ ملیگا جواب کیا
مانا کہ تم کہا کئے، اور وہ سنا کئے
ریفرنس؛
سانگھڑ
گوادر

![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)
