Showing posts with label Sialkot. Show all posts
Showing posts with label Sialkot. Show all posts

Monday, August 23, 2010

تشدد اور چند سوال

میں اب تک اس ویڈیو کو دیکھنے کی ہمت نہیں مجتمع کر پائ۔ جسکی  مذمت اس وقت ہر کوئ کر رہا ہے۔ شاید میں ایسا کبھی نہیں کر پاءونگی۔ مجھے اپنی اس کمزوری پہ ندامت ہے۔ میں ایک پر تشدد معاشرے کا حصہ تو ہو سکتی ہوں مگر اس سے سرزد ہونے والے ایسے حیوانیت کے مظاہروں کو دیکھنے سے کیوں گریز کرتی ہوں۔ 
اب جبکہ تمام لوگ اس واقعے کی کما حقہ مذمت کر چکے تو ہمیں اس سے اگلے مرحلے میں داخل ہونا چاہئیے۔ اور وہ ہے اسکی وجوہات کا تعین۔ کیونکہ ان دو لڑکوں کی جگہ کل آپ یا میں بھی اس مقام پہ ہو سکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے قتل ہونے والوں میں یا ہو سکتا ہے تماشہ دیکھنے والوں میں۔ ایک غلط وقت میں اگر آپ غلط جگہ پہ، غلط لوگوں کے ساتھ  موجود ہوں تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہجوم کا پر  تشدد ہونا اپنی نوعیت کا پاکستان میں پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی یہ واقعات ہوئے البتہ انکی ویڈیوز اس طرح سامنے نہیں آ سکیں۔
وجوہات کے جاننے سے قبل ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے اور وہ ہے اپنے آپ سے سوالات۔
یہ مندرجہ ذیل چند سوالات ہیں جو میرے ذہن میں آتے ہیں ہو سکتا ہے آپکے ذہن میں اور مختلف سوالات بھی ہوں۔ تو ان  سوالوں اور انکے جوابوں میں ایکدوسرے کو شریک کرتے ہیں۔
 
کیا ایسے واقعات کی روک تھام ہونی چاہئیے یا مذمت کرنے کے چھوڑ دینا چاہئیے؟ 
کیا بد دعائیں لوگوں کو انکے انجام تک پہنچا دیں گی، کیا ان واقعات کا سد باب بد دعاءووں سے کیا جا سکتا ہے؟ کیا بد دعا دینے والے اپنی کم ہمتی کو ظاہر نہیں کرتے؟
کیا یہ واقعات محض معاشرے میں موجود کچھ لوگوں کی پر تشدد فطرت کی وجہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں یا ہم من حیث القوم ایک اخلاقی تنزلی کا شکار ہیں؟ ہماری اس اخلاقی تنزلی کا باعث مذہب سے ہماری دوری، یا تعلیم کی کمی یا  ہماری ایک مہذب قوم کے طور پہ تربیت نہ ہونا ہے؟
ہماری مذہب سے ظاہراً گہری وابستگی بھی ہمیں کیوں تشدد سے دور نہیں رکھ پاتی؟
کچھ لوگوں کے خیال میں مذہب سے دوری ، ان واقعات کا باعث ہے۔ تو وہ ممالک جو بالکل سیکولر ہیں وہاں ایسے واقعات کیوں اس تسلسل سے پیش نہیں آتے؟
جب ہم اس چیز پہ یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے ایسے افعال ہمارے اوپر عذاب کا باعث بنتے ہیں تو پھر بھی ہم کیوں انکو کرنے میں ذرا تامل نہیں کرتے؟
کیا کچھ لوگ موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنی بالا دستی کے جذبے کو کمزوروں پہ ظلم کر کے تسکین دیتے ہیں اس لئے یہ واقعات ہو پاتے ہیں؟
کیا تشدد پسند فطرت، فیوڈل نظام کی دین ہے؟
کیا ایسا اجتماعی بہیمانہ تشدد، معاشرتی نا انصافیوں کا حصہ ہے؟ تو پھر ہم اسے اپنے اوپر ظلم کرنے والے طاقتور طبقے کے خلاف کیوں استعمال نہیں کرتے؟
کیا تشدد انسانی فطرت ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا اسے سدھار کر کسی مثبت جذبے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے؟