Showing posts with label سمندر. Show all posts
Showing posts with label سمندر. Show all posts

Tuesday, June 5, 2012

حتی کہ جانور بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب انسان ، جبر سے گھبرا جاتا ہے تو علامتوں کا سہارا لیتا ہے۔ یہ علامتیں جانوروں سے لے کر مظاہر قدرت، کچھ بھی ہو سکتی ہیں۔ لیکن ان میں معنوں کا ایک جہاں بند ہوتا ہے۔ 
جبر کے زمانے میں یہ عام ہے لیکن آزادی کے زمانے میں یہ علامتیں تخیل کی اڑان بن جاتی ہیں جیسے بچوں کو ایسی کہانیاں سنانا جن میں جانوروں کو کردار بنا کر اخلاقی نصیحتیں منتقل کی جاتی ہے۔ اور بچے  بالکل حیران نہیں ہوتے کہ جانوروں کی مائیں بھی انہیں چیزیں گم کرنے پہ ڈانٹتی ہیں۔ انہیں بھی اسکول جانا پڑتا ہے، ریچھ بھی چوری کر کے شہد کھاتا ہے، کوے کو چڑیا اپنے گھونسلے سے جلتی ہوئ لکڑی مار کر بھگا دیتی ہے، لومڑی کیسے چالاکی سے شیر کو کنوئیں میں گرا دیتی ہے اور کچھوا ، خرگوش سے کیسے جیت جاتا ہے۔ بچوں کو یہ کہانیاں اسی لئے پسند ہوتی ہیں۔ یہ سوچنے کے لئے کہ  حتی کہ جانور بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حتی کہ جانور بھی، یہ جملہ بچپن کی حدوں میں ہی گونجتا نہیں رہ جاتا بڑے بھی بعض اوقات یہ سوچتے ہیں  اور پھر تحقیق بھی کرتے ہیں کہ وہ کیا افعال ہیں جن میں جانور انسانوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔  اس طرح سے وہ انسانوں میں اخلاقیات کا ارتقاء تلاش کرتے ہیں۔
میرے بچپن میں پڑوسن نے مرغیاں پالی ہوئ تھیں اور فرصت میں وہ پوری تفصیل سے بتاتیں کہ ان مرغیوں کا آپس میں کیا تعلق یا رشتہ بنتا ہے۔ کون کس کی پھوپھی اور چاچی ہے۔ اس سے مجھے تسلی رہتی کہ دنیا میں دراصل وہی نظام جاری ساری ہے جو ہم انسانوں میں ہے یہ وحدت کا احساس بچوں کو ماحول سے جڑا رکھنا میں بڑا کار آمد ہوتا۔ اور پھر وقت کے ساتھ کایا کلپ ہوتی ہے اور تمام بنیادی احساسات کی جگہ کس طرح حقیقتیں اپنا حصہ بنا لیتی ہیں یہ ایک دلچسپ کہانی لگتی ہے۔
 بعض مذاہب جو جنموں کی کہانی سناتے ہیں، ان میں یہ تصور تک بھی ہے کہ انسان اپنے اعمال کی بنیاد پہ اگلے جنم میں کسی جانور کے روپ میں بھی آ سکتا ہے۔ اعمال کو ہم ایک طرف رکھ دیتے ہیں اگر ہم اپنی موجودہ خصوصیات کی بناء پہ کسی جانور سے اپنی مماثلت جاننا چاہیں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کھیل کھیلیں۔ بس کھیل ہی ہے عقیدے کی جنگ لڑنے نہ بیٹھ جائیے گا۔  

ہم سوچتے ہیں کہ کیا جانوروں کے خاندان ہوتے ہیں؟
جی ہاں بعض جانور اپنا پورا سماجی ڈھانچہ رکھتے ہیں۔ مثلاً ڈولفنز کے بچوں کی دیکھ بھال تین چار مادائیں مل کر کرتی ہیں اور وہ ماں کی مددگار ہوتی ہیں ایسے ہی جیسے انسانوں میں مشترکہ خاندانی نظام میں ہوتا ہے بلکہ نانیاں اور خالائیں بھی اس عمل میں حصہ لیتی ہیں۔ حتی کہ گاءوں دیہاتوں میں محلے دار خواتین بھی شامل ہوتی ہیں۔ ہاتھی کے بچوں کو بھی سب ہاتھی مل جل کر سنبھالتے ہیں۔ 
چیونٹی اور شہد کی مکھی تو اس سلسلے میں مثالی منظم معاشرہ رکھتی ہیں کہ ہر ایک کو اپنے فرائض پتہ ہوتے ہیں۔ ان دونوں جنسوں کے معاشرے کی سب سے لاڈلی رکن عام طور پہ  ملکہ ہوتی ہے۔ شہد کی مکھیوں کی ملکہ اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ وہ کن انڈوں کو سہے گی۔ فرٹیلائزڈ انڈوں سے مادہ مکھیاں پیدا ہوتی ہیں اور غیر فرٹیلائزڈ انڈوں سے نر پیدا ہوتے ہیں۔ نر کا سوائے ملاپ کرنے کے اور کوئ کام نہیں ہوتا۔  نر مکھیاں ملاپ کے فوراً بعد مر جاتی ہیں۔ ملکہ انڈے دینے کا فرض سنبھالتی ہے اور باقی مادہ مکھیاں شہد بنانے اور چھتے کو محفوظ رکھنے کا کام انجام دیتی ہیں۔ اس طرح چھتے کا کنٹرول مادہ مکھیوں کے ہاتھ میں رہتا ہے۔ اور یوں یہ ایک مدر سری نظام قرار پاتا ہے۔
جانوروں کو خوش ہوتے تو دیکھا ہی ہوگا۔ جب وہ چہچہاتے ہیں، گاتے ہیں یا اچھلتے کودتے ہیں ایکدوسرے کو کریال کرتے ہیں۔ لیکن کیا جانور اداس بھی ہوتے ہیں۔  جانور بھی اس مشکل سے دوچار ہوتے ہیں بالخصوص جب انکا قریبی ساتھی نہ رہے یا انکا پالنے والا گذر جائے۔  بعض اوقات وہ اتنے اداس ہوتے ہیں کہ کھانا پینا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ حتی کہ جاں سے گذر جاتے ہیں۔
 پرندوں کا گانا گاتے تو سب ہی نے سنا ہوگا، اپنی مادہ کو لبھانے کے لئے وہ تان سین بن جاتے ہیں۔ حتی کہ سمندر کی تہوں میں ڈولفنز اور سمندر ہی میں دنیا کا سب سے بڑا ممالیہ جانور وہیل بھی گیت گاتا ہے۔ بعض جانور تو حتی کہ انسانوں کی  موسیقی سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جی ہاں مارمو سیٹ بندر اور پانڈا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ موسیقی میں تبدیلی کو فوراً محسوس کر لیتے ہیں۔

انسانی طرز زندگی تیزی سے تبدیل ہو چلا ہے سو اب یوگا کرتے ہوئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جانور یوگا کرتے ہیں؟ کچھ منچلوں کا خیال ہے کہ جانور بھی یوگا کرتے ہیں اس کے لئے انہوں نے کچھ تصویری ثبوت اکٹھا کئے ہیں۔ میں تو یہ تصاویر دیکھ کر یہ سوچتی ہوں کہ کہیں انسانوں نے جانوروں سے تو یوگا نہیں سیکھا۔ کیونکہ یوگا کی تاریخ خاصی قدیم ہے اتنی ہی جتنی ان مذاہب کی جو الہامی نہیں بلکہ مظاہر قدرت سے مسحور ہونے والے انسانوں نے انہیں جنم دیا۔

 کیا جانوروں میں بھی روشن خیال اور روایت پسند جانور ہوتے ہیں؟ میرا خیال ہے کہ یہ نظریاتی فرق ان میں بھی پیدا ہو چلا ہے مثلاً  گائے، اونٹ اور بکری اب تک انہی روایات پہ قائم ہیں البتہ یہ کہ انہوں نے دوسرے جانوروں کو اس قسم کی تبلیغ نہیں شروع کی کہ کولہو کا بیل بنے رہنا عین منصب حیوانی ہے۔ اسکی وجہ شاید یہ ہو کہ انکی پہنچ فیس بک تک آسان نہیں۔ انسان انہیں اتنا پسماندہ سمجھتے ہیں کہ اپنے کمپیوٹر کے پاس انہیں پھٹکنے نہیں دیتے۔ مرغی کی روایت پسندی نیچے دی گئ تصویر سے واضح ہے کہ سرتاج کرسی پہ بیٹھے ہیں اور وہ اپنی محبت کا ثبوت اپنے دئے گئے انڈوں کی صورت پیش کر رہی ہے۔

 انکے مقابلے میں بندروں اور ہاتھیوں میں کچھ روشن خیالی پیدا ہوئ ہے۔ ہاتھی تو اب مصوری تک کرنے لگے ہیں جبکہ بندر  سائینسدانوں کے ساتھ تحقیق میں مصروف  ہے۔ چونکہ پردہ اور خواتین کی تعلیم ان کا مسئلہ کبھی نہیں رہے اور ہم اس سے ناواقف ہیں کہ انکے یہاں مشرق اور مغرب کی اصطلاحیں استعمال ہوتی ہیں یا نہیں اس لئے انکی روشن خیالی کے بس یہی معیار نکالے جا سکتے ہیں۔


کیا  جانوروں نے کوئ اخلاقی ترقی کی ہے یا بس انسانوں کی طرح سلسلہء روزوشب میں ہی الجھے ہوئے ہیں؟ بعض عیسائ مبلیغین یقین رکھتے ہیں کہ جانوروں کی بھی روحیں ہوتی ہیں اور انکے لئے بھی ایک جنت ہوگی۔  انکے یقین کی بنیاد ان جانوروں پہ قائم ہے جو ذہین ہوتے ہیں اور اپنی ذہانت کو اپنے مالک کے لے فائدے کے لئے استعمال کرتے ہیں جیسا کہ کتّا۔  ہمارے مبلغین تک شاید  یہ خیال ابھی پہنچا نہیں ہے لیکن پہنچ جائے تو وہ کس جانور کو جنت میں پہنچائیں گے؟
میں اس خیال کے حامیوں میں سے نہیں ہوں۔ اگر اسے تسلیم کر لیا جائے تو پھر جناتی مسائل  اٹھ کھڑے ہونگے۔ میرا محتاط خیال ہے کہ اس خیال پہ مجھے بھٹکا ہوا نہیں کہا جائے گا۔ جانوروں کا رد عمل جاننے کی ضرورت نہیں۔ انکا تعلیم کا بجٹ سرے سے رکھا ہی نہیں جاتا۔ 
جانوروں کو احتیاط سے سڑک پار کرتے ہوئے تو اکثر دیکھا ہی ہوگا کہ کیسے پہلے دائیں  دیکھتے ہیں پھر دائیں دیکھتے ہیں  تیزی سے بھاگتے ہوئے روڈ پار کرتے ہیں اور بچ جائیں تو بائیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور پھر منہ اٹھا کر بائیں کو ہی چل دیتے ہیں۔ اللہ تیرا لاکھ شکر ہے لاکھوں جانیاں پائیاں مار سکے نہ کوئ۔ 
کیا جانور ٹیکنالوجی کی ترقی سے متائثر ہوئے ہیں۔ جی ہاں اس کا ثبوت وہ کتیا ہے جو خلاء میں بھیجی گئ یہ جانچنے کے لئے کہ کیا انسان خلاء میں سفر کر سکتا ہے۔  لائیکا نامی یہ کتیا خلاء میں سفر کے آغاز کے چند ہی گھنٹے بعد مر گئ۔ لیکن انسان کے خلاء میں جانے کے لئے راستہ کھول گئ۔ حالانکہ موت کا ایک دن مقرر ہے اور پھر ہم اس خلاء سے گذر کر ہی آسمانوں تک پہنچیں گے لیکن انسان نجانے کیوں ہوس کا مارا ہے کہ غیب کو غائب ہو کر نہیں دیکھنا چاہتا۔ بہر حال لائیکا اپنے پیچھے  ایک بار پھر یہ سوال چھوڑ گئ کہ کیا جانوروں کے لئے کوئ جنت ہونی چاہئیے؟
  کیا  انٹر نیٹ  ان کے لئے بھی تبدیلی کا باعث بنا ہے؟ جی ہاں حتی کہ جانور بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
:) 




نوٹ نمبر ایک: یہ تحریر قطعی بھی ایک علامتی تحریر نہیں ہے۔ اس لئے کوئ انسان کسی بھی قسم کے دل آزار معنی اخذ کرنے کی کوشش نہ کرے۔ اپنی دل آزاری کی صورت میں وہ خود ذمہ دار ہونگے۔

نوٹ نمبر دو: اگر اس تحریر سے کسی جانور کی دل آزاری ہوتی ہے تو اسے یہ جان لینا چاہئیے کہ یہ سب انسانوں کے لئے لکھا گیا ہے اور اسکے پڑھنے کے لئے نہیں ہے۔

اس کے ساتھ ہی لاحول ولا قوت۔ حتی کہ جانور بھی بلاگ پڑھنے لگے ہیں۔

Saturday, November 19, 2011

مہمان کچھوے

 کیا آپ کراچی کی ایک اہم خوبی سے واقف ہیں جو آپ نہیں جانتے مگر کچھوے جانتے ہیں؟
دنیا کے بڑے شہروں میں کراچی کو ایک امتیازی حیثیت یہ بھی حاصل ہے کہ اسکے ساحل کو سبز سمندری کچھوے انڈے دینے کے لئے پسند کرتے ہیں۔
یہ کچھوے تیزی سے ختم ہوتی ہوئ حیاتیاتی نسل میں شامل ہیں۔ عالمی تحفظ حاصل ہونے کے بعد انہیں بچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اور وہ ساحل جہاں یہ انڈے دیتے ہیں وہاں انکے انڈوں اور نکلنے والے بچوں کو بچانے کا معقول انتظام کیا جاتا ہے۔
کراچی کے سینڈز پٹ کے ساحل پہ ایک ایسی ہی حفاظتی حیات گاہ موجود ہے۔
یہاں مجھے چھ سال پہلےدسمبر کی ایک سردرات جانے کا اتفاق ہوا۔ ساحل پہ رات کو دو بجے ہم یہ دیکھنے کے لئے موجود تھے کہ انڈوں سے کچھووں کے بچے کیسے نکلتے ہی سمندر کی طرف دوڑ لگاتے ہیں اور کیسے مادہ کچھوا انڈے دیتی ہے۔ تین بچوں کو مٹی کے ایک گڑھے سے سمندر کی طرف جاتےدوڑ لگاتے دیکھا۔ یہ اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ بآسانی آپکی ہتھیلی پہ سماجائیں۔
ایک کچھوا انڈے دینے کی تکلیف میں مبتلا ایک ریت کا گڑھا بنائے اسکے سرے پہ بیٹھا تھا۔ ان مناظر کو دیکھنے کے بعد دسمبر کی سمندری سرد ہواءووں کی چھیڑ چھاڑ ذرا بری نہ لگ رہی تھی۔
جی ہاں، یہ کچھوے اتنی ہی بڑی تعداد میں یہاں کا رخ کرتے ہیں کہ نومبر اور ددسمبر کی راتوں میں آپ بھی وہاں جانے کا منصوبہ بنا سکتے ہیں۔ ان مہینوں میں یہ یہاں آتے ہیں انڈے دینے اور پھر چند دن بعد ساحل انکے بچوں سے بھرا ہوتا ہے کہ ہر مادہ تقریباً سو انڈے دیتی ہے۔  امید ہے کہ آپکو کوئ نہ کوئ کچھوے کی سرگرمی دیکھنے کو مل جائے گی۔ جیسا کہ ہمیں کل ایک بار پھر حاصل ہوئ۔
کل شام کو خبر ملی کہ ایک اسکول کے بچے رات کو وہاں پہنچ رہے ہیں اور ہم اور مشعل چاہیں تو قسرت کی اس فیاضہ سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ آتا ہو تو ہاتھ سے جانے نہ دیجیئو۔ ہم نے فوراً ہاں کہا۔
ہم اور مقامی اسکول کے یہ بچے تقریباً سوا آٹھ بجے تک سینڈز پٹ کی ایک ہٹ میں اکٹھا ہوئے۔ بچوں کو انکی ٹیچرز نے پہلے بٹھا کر کھانا کھلایا۔ ہم مشعل کو پہلے ہی کھلا چکے تھے۔ پھر نگراں وائلڈ لائف کے آفیسر نے بچوں کو مصروف رکھنے کے لئے سوالوں جواب کئے۔ بچوں کی عمر یہی کوئ آٹھ نو سال کے درمیان تھی۔ اس دوران انکا آدمی ساحل پہ یہ پتہ لگا آیا کہ کوئ کچھوا کہاں موجود ہے۔ سمندر جب ہائ ٹائڈ پہ ہو تو کچھووں کو ساحل تک پہنچنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس لئے توقع ہوتی ہے کہ ہائ ٹائڈ کے وقت وہ ضرور ساحل کا رخ کریں گے۔

لکھنے کے شوقین ہر جگہ قلم کاغذ پکڑ لیتے,

پاکستان کے سمندر میں دو طرح کے سمندری کچھوے پائے جاتے ہیں ایک اولیو ریڈلی کچھوے اور دوسرے سمندر سبز کچھوے۔  اولیو ریڈلی کچھوے چھوٹے ہوتے ہیں، یعنی محض چالیس کلو گرام کے۔ انکا رنگ اولیو یعنی  گہرے زیتون کے رنگ کا ہوتا ہے ان پہ دھاریاں ہوتی ہیں اور انکی موجودگی کو ریڈلی نامی سائینسداں نے معلوم کیا۔
سبز کچھوے بڑے ہوتے ہیں اوسط وزن تقریباً ایک سو پچاس کلوگرام کے لگ بھگ ہوتا ہے۔ انکا رنگ سرمئ ہوتا ہے۔ پھر یہ سبز کچھوے کیوں کہلاتے ہیں؟
اس لئے کہ انکے جسم میں پائ جانے والی چربی خوبصورت سبز رنگ کی ہوتی ہے۔ اسکا یہ رنگ خیال کیا جاتا ہے کہ سمندری پودے کھانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ سبز کچھوا سمندری پودے اور کائ وغیرہ کھاتا ہے۔
یہ سمندری کچھوے زمینی کچھووں سے مختلف ہوتے ہیں کہ انکے ہاتھ پاءووں کی جگہ تیرنے میں مدد دینے کے لئے چپو سے ہوتے ہیں انہیں فلپرز کہتے ہیں۔ زمینی کچھووں کی طرح سندری کچھوے نہ اپنا سر اپنے خول کے اندر کر سکتے ہیں نہ فلپرز اور نہ دم۔ اس لئے انہیں شارک اور ڈولفنز بڑے آرام سے شکار کر سکتی ہیں۔ یہ سمندری جال میں پھنس کر ہلاک ہو سکتے ہیں یا ٹرالرز اور بوٹس کے نیچے کا بلیڈ انہیں ختم کر سکتا ہے۔
کچھووں کا خول انکی پسلیوں سے بنا ہوتا ہے اور کارٹونز فلموں کی طرح کچھوے اپنا خول چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتے۔ یہ اچھا تیر سکتے ہیں لیکن ساحل کی ریت پہ انہیں چلنے کے لئے بڑی محنت کرنا پڑتی ہے اور ہر دو تین گز کے فاصلے پہ رک کرسکون کی سانس لینی پڑتی ہیں۔
سمندر میں بھی سانس لینے کے لئے ان کچھووں کو سمندر کی سطح پہ آنا پڑتا ہے۔ گوادر میں سمندر کی سطح پہ آنے والے کچھووں کو میں نے دیکھا کہ وہ کیسے سطح پہ ڈول رہے ہوتے ہیں۔
چونکہ مادہ کچھوا ہی انڈے دیتے ہیں اس لئے مادہ کچھوا ہی ساحل پہ آتی ہے۔ نر کچھوا کبھی ساحل نہیں دیکھ پاتا اس لحاظ سے مادہ کچھوے کا علم نر کچھوے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن انکے یہاں معلومات عامہ کے امتحانات ہی نہیں ہوتے ہی نہیں ہوتے اس لئے مادہ کچھوا اسکا فائدہ نہیں اٹھا پاتی۔
کہتے ہیں کہ مادہ کچھوہ جس جگہ انڈے دے ، دوبارہ انڈے دینے کے لئے اسی ساحل کا رخ کرتی ہے۔ جب یہ ان ساحلوں پہ پہنچتی ہیں تو وائلڈ لائف کے لوگ انکے فلپرز پہ ایک ٹیگ پیوست کر دیتے ہیں۔ یہ ٹیگ نہ صرف انکی پہچان کے لئے کار آمد ہوتا ہے بلکہ اس کی وجہ سے سمندر میں انکی موجودگی بھی معلوم کی جا سکتی ہے۔
یہ کچھوے آخر کیوں اتنی تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ اسکی وجہ انسان اور اسکی سرگرمیاں ہیں۔ اول تو بعض ممالک میں کچھووں کے بچوں کا سوپ بہت پسند کیا جاتا ہے۔ اور یہ ایک قیمتی خوراک ہوتی ہے۔ کود کچھووں کے گوشت کی بڑی مانگ ہے۔ ہمارے ساحل پہ انہیں پکڑنے کی ممانعت ہے لیکن اطلاع ہے کہ ساحل سے چند میل کے فاصلے پہ ٹرالر انہیں پکڑتے ہیں اور ٹرالر کے اندر ہی انکا گوشت علیحدہ کر کے کیماڑی پہنچا دیا جاتا ہے جہاں پر پھر انہیں کوئ نہیں پوچھتا۔
دوسرا یہ کہ ساحل پہ موجود کتے بلیاں یا تو انکے انڈوں کو کھالیتے ہیں یا پھر نکلنے والے بچوں کا شکار کرتے ہیں۔  ساحل پہ موجود کچرے میں پھنس کر بھی بعض اوقات یہ بچے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ادھر سمندر میں پہنچ جانے والے بچے بھی ایک خاص عمر تک پہنچ کر اپنے شکاریوں سے محفوظ رہ پاتے ہیں۔ یوں ہزار بچوں میں سے ایک ہی بچ پاتا ہے جو بلوغت تک پہنچے۔
کچھوے کی آمد کی اطلاع کے ساتھ ہی بچوں نے لائن بنائ۔ انکی ٹیچرز ان پہ عقابی نظریں رکھے ہوئے تھیں کہ رات کی تاریکی میں کوئ بچہ ادھر ادھر نہ ہو جائے۔ کچھوے روشنی اور شور  سے بھاگتے ہیں۔ اس لئے اتنے بچوں کی موجودگی کے باوجود کامیاب خاموشی برقرار رہی۔


تھوڑا سا فاصلہ طے کر کے ہم وہاں پہنچے۔ سمندر سے اس جگہ تک کچھوے کے رگڑ کر آنے والے نشانات کا راستہ موجود تھا۔  کچھوا اپنا گڑھا بنانے میں مصروف تھا۔ ویڈیو اور کیمرے کی لائیٹس سے گھبرا گیا۔ ادھر وائلڈ لائف والوں نے اسے پکڑ لیا کہ اسے ٹیگ کر لیا جائے۔
بچوں کی چیخیں نکل گئیں۔ مشعل  تیزی سے مشاق فوٹوگرافر کی طرح تصاویر لینے میں مصروف ہو گئ۔ ادھر اسکول کی ٹیچرز انتہائ تشویشناک حالت میں بچوں کو کچھوے سے دور رکھنے کی کوشش میں مصروف تھیں۔ جبکہ کچھوا ایک بے ضرر اور شرمیلا جانور ہے۔



وائلڈ لائف کے عملے نے کچھوے کو قابو کر کے چیک کیا کہ وہ ٹیگ ہوا ہے یا نہیں۔ ٹیگ نہ پاکر انہوں نے اسکے فلپر میں ایک دھاتی ٹیگ پیوست کیا ، اسکی لمبائ نوٹ کی، اکتالیس اعشاریہ تین پانچ۔ پھر اسے آزاد چھوڑ دیا۔
ٹیگ کرنے کے لئے ہشیار


   اس ہنگامے سے گھبرا کر خلوت پسند کچھوے نے انڈے دینے کا ارادہ ترک کیا اور سمندر کی راہ لی۔ جب وہ اپنے کھودے ہوئے گڑھے سے باہر کی طرف چلا تو بچوں اور انکی ٹیچرز نے جلدی سے دور تک اسکے لئے راستہ صاف کر دیا۔ اور لائن بنا کر خود بھی واپسی کے سفر پہ روانہ ہو گئے کہ اس وقت رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ ہم اسکے پیچھے پیچھے چل پڑے۔ کچھوے نے بیچ میں دو مرتبہ رک لگا کہ اپنے فیصلے پہ نظر ثانی کرنے کاسوچا لیکن چونکہ دستاویزی فلم بنانے والا عملہ اسکے ساتھ ساتھ تھا اس لئے یہ  سوچ بھی عملی جامہ نہ پہن سکی۔ پھر وہ آگے بڑھ کر سمندر کی تاریکی میں گم ہو گیا اور ہم روشنیاں بُجھا کر شہر کی تاریکی میں۔
توقع ہے کہ وہ پھر لوٹ کر آئے گا۔ لیکن اپنے ان معصوم اور شرمیلے مہمانوں کے لئے ہمیں اپنے ساحل صاف رکھنے ہونگے۔ اور ان لوگوں پہ کڑی نظر رکھنی ہوگی جو اپنے تھوڑے سے فائدے کے لئے  ان نایاب جانوروں کی نسل کے لئے خطرہ بن رہے ہیں۔

کبھی الوداع نہ کہنا

Tuesday, February 1, 2011

فرنچ بیچ پہ پاکستانی

سمندر ہمیشہ یکساں حالت میں نہیں رہتا۔ کبھی اسکا پانی ساحل پہ دور تک پھیل جاتا ہے اور کبھی اس طرح سمٹتا ہے کہ اسکے اندر موجود چٹانیں اور ان پہ موجود سمندری مخلوقات ظاہرہو جاتی ہیں۔ یہ عمل دن میں دو بار ہوتا ہے اور اسے سمندر کا مد و جذر  کہتے ہیں۔
جب سمندر جذر کی حالت میں ہو یعنی پانی سمٹ کر پیچھے چلا جائے تو تحقیق دانوں کو بہت کچھ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔  چٹانوں کے کونے کھدروں میں ٹہرا پانی ان میں پھنسی چھوٹی چھوٹی مچھلیاں اور سمندری گھونگھے اور سیپ، سمندری پودے۔
ایک ایسے ہی وقت ہمارا گروپ سمندر کی ان چٹانوں سے سمندری پودوں کو ادھیڑنے میں مصروف تھا تاکہ ان پہ تحقیق کر کے انسانوں کے لئے کار آمد مرکبات نکالے جا سکیں۔
کچھ لوگ کام میں اور کچھ آرام کی حالت میں تھے۔ جب ہمارا آرام کا وقت آیا تو ہم ساحل کے ساتھ ریت کے محل بنانے اور ایک دوسرے کے ساتھ چھیڑ خانیوں میں مصروف ہو گئے۔ کسی نے  ساحل کے ایک طرف انگلی اٹھا کر کہا وہ اس طرف فرنچ بیچ ہے۔ وہاں عام لوگوں کا جانا منع ہے۔ وہاں بڑی اچھی ہٹس ہیں اور بڑا اچھا ویو۔ میں نے اس طرف دیکھا اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو گئ۔
عام آدمی کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہئیے اسی میں اسکی بقاء ہے۔
جب دنیا میں بہت اچھے سمندری ویوز دیکھ چکے جن میں گوادر کا سحر انگیز سمندری ویو بھی شامل ہے تو ابھی گذشتہ دنوں پیغام ملا کہ آپ چاہیں تو فرنچ بیچ پہ ایک پورا دن بلکہ رات بھی گذار سکتی ہیں۔
رات کی تجویز کو تو بچوں کی زیادہ تعداد کی وجہ سے نظر انداز کر دیا۔ البتہ دن گذارنے کے لئے وہاں روانہ ہوئے۔ فرنچ بیچ ساحل کے اس حصے کا نام ہے جو اس قطار میں شامل ہے جہاں ہاکس بے اور پیرا ڈائز پوائینٹ  موجود ہیں۔
یہاں ایک گاءوں ہے جس کی زمین پہ یہ ہٹس شہر کی اشرافیہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ خوبصورت ہٹس کے ساتھ بہت سارے پام، ناریل، اور کھجور کے درخت موجود ہیں۔ ساحل کی خوبی یہ ہے کہ سمندر کی ریت اور چٹانیں  ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ کراچی کے سی ویو پہ صرف ریت ہے۔ پھر یہ کہ وہ کافی عوامی جگہ ہے۔ جبکہ یہاں بغیر کسی مداخلت کے خاندان کے ساتھ دن گذارنے کی سہولت موجود تھی۔
یہاں کے ساحل کی ایک خوبی اور بھی ہے، کراچی کے باقی ساحلوں سے غروب آفتاب کا نظارہ کیا جا سکتا ہے طلوع آفتاب کا نہیں۔ جبکہ اس ساحل سے طلوع آفتاب کا منظر دکھائ دیتا ہے غروب کا نہیں۔
:)
شاید اسی لئے اشرافیہ کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔ تمام دن، ادھر ادھر گھومتے کچھ تصاویر اکٹھی کیں۔ آپ کے لئے بھی حاضر ہیں۔

بچوں کا جمع کیا ہوا ہرمٹ کریبز کا خزانہ



ساحل کی گیلی ریت فنکاری کے نمونے دکھانے کے لئے اچھی جگہ اور بچوں کے لئے ایک قدرتی سلیٹ
خوبصورت ناریل کے درخت

ائے محتسب نہ پھینک ارے محتسب نہ پھینک، ظالم، شراب ہے ارے ظالم شراب ہے 

ہاتھ دھو لیں کھانے کا وقت ہوا چاہتا ہے

 توانائ بچائیے، کباب اور شیر مال ایک ساتھ گرم کریں






ایک سالگرہ بھی منائ گئ
 کتوں نے بھی موقع سے فائدہ اٹھایا اور تصویری سیشن میں ادائیں دکھائیں۔ یوں معلوم ہوا کہ کتے میں بھی عصری آگہی موجود ہے۔