Showing posts with label کینیڈا. Show all posts
Showing posts with label کینیڈا. Show all posts

Thursday, September 13, 2012

انا للہ

ٹورنٹو میں، میں کچن میں انڈہ فرائ کر رہی تھی۔ فرائ پین  سے دھواں اٹھا ہی تھا کہ ایک الارم بجنے کی آواز سارے گھر میں پھیل گئ۔ میں نے حیران ہو کر سوچا کہ یہ کس قسم کا الارم بجا اور کیوں؟ گھر کے ایک فرد کی آواز سنائ دی کہ کچن کے  باہر لاءونج میں چھت پہ سینسر موجود ہے اسکے پاس بٹن پہ ہاتھ مار دیں۔ الارم بند ہوجائے گا۔ دھویں سے بجا ہے اور بار بار بجے گا۔
کنیڈا میں جنگل اور یوں  لکڑی بہت ہے۔ گھر زیادہ تر لکڑی کے بنے ہوتے ہیں۔ اگر سیمنٹ اور اینٹ سے بنائے جائیں تو بھی اندرونی آرائش میں لکڑی استعمال ہوتی ۰ہے اس طرح شدید سردیوں میں یہ گرم رہتے ہیں۔ لکڑی جلدی آگ پکڑتی ہے اس پہ طرہ یہ کہ بجلی وافر مقدار میں دستیاب ہونے کی وجہ سے چولہے زیادہ تر بجلی کے ہوتے ہیں۔ روائیتی چولہوں سے الگ یہاں موجود جدید چولہوں پہ شیشے کی طرح کے مادے کی ایک تہہ موجود ہوتی ہے۔ یہ چولہے دیکھنے میں اور استعمال میں سادہ ہوتے ہیں  ان سے تپش بھی آسانی سے کنٹرول ہوتی ہے، آگ کے شعلے بھی نہیں ہوتے اس لئے نسبتاً محفوظ ہیں۔  لیکن سب سے بڑا خطرہ اس وقت ہوتا ہے جب انہیں بند کرنا بھول جائیں۔ مسلسل جلتے رہنے کی صورت میں یہ آتشزدگی کا باعث بن سکتے ہیں اس لئے ہر گھر میں آگ کا الارم موجود ہوتا ہے۔
یہی نہیں، کثیر المنزلہ بلڈنگزمیں نہ صرف الارم موجود ہوتے ہیں بلکہ ہر تھوڑے عرصے بعد آگ لگنے کا مصنوعی ڈرامہ رچا کر مکینوں کو اپنے اپارٹمنٹس سے بھاگ کر کم وقت میں نیچے پہنچنے کی مشق بھی کرائ جاتی ہے۔ ابھی دو ہفتے پہلے میں اسکائپ پہ اپنی ایک کینیڈا میں مقیم دوست سے بات کر رہی تھی تو پھولی ہوئ سانسوں کے درمیان انہوں نے بتایا کہ وہ ابھی آگ لگنے کی مشق سے واپس آرہی ہیں۔ انکا اپارٹمنٹ گیارہویں منزل پہ ہے۔ جہاں سے انہیں سیڑھیوں کے راستے بھاگنا پڑا۔

ایسی بلڈنگز میں یہ الارم فائر بریگیڈ کے محکمے سے جڑے ہوتے ہیں۔ خطرے کی پہلی علامت کے چند منٹوں کے اندر یہ جائے واقعہ پہ موجود ہوتے ہیں۔ میرے ایک عزیز نے اپنے اپارٹمنٹ میں پوری پکانے کا واقعہ بتایا، جس کا دھواں اپارٹمنٹ سے نکل کر کوریڈور میں پھیل گیا تھا۔ گھر میں موجود کسی مہمان نے نادانستگی میں اپارٹمنٹ کا دروازہ کھول دیا تھا۔  چند منٹ میں فائر بریگیڈ کی دو گاڑیاں اور ایک ایمبولینس موجود تھی جبکہ پوری بلڈنگ کے لوگ باہر نکال دئیے گئے تھے۔
اصل واقعہ پتہ چلنے کے بعد انہیں ان تینوں گاڑیوں کے آنے جانے کا خرچہ دینا پڑا۔
یہ واقعات بتانے کا مقصد صرف یہی ہے کہ یہ کتنی تکلیف دہ بات ہے کہ کراچی میں ایک فیکٹری میں تین سو سے زائد لوگ، فیکٹری میں آگ سے جل کر مر جائیں۔ تین سو انسان جن سے جڑے تین سو خاندان بھی تھے۔ ابھی بھی مرنے والوں کی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ دماغ کو گھما دینے والے اس سانحے کے بعد مجھ جیسے لوگ جو بیرون ملک یہ سب دیکھ کر آتے ہیں انہیں کیا یہ احساس نہیں ہوتا کہ ہم کس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں انسان کو انسان نہیں سمجھا جاتا۔
 ذرا چشم تصور سے اس انسان کی بے بسی دیکھئیے جو کہ ایک ایسی کھڑکی کے سامنے تین منزل اوپر سے کود کر جان بچانے کی فکر میں ہو جسکے آگے لوہے کا ایک جنگلہ اسے زندگی سے دور کرنے کے لئے موجود ہو۔ اور دنیا میں کوئ ایسی طاقت، کوئ ایسا نظام موجود نہ ہو جو اسے کھڑکی سے نظر آنے والی،  سامنے موجود کھلی فضا میں لے جا سکے۔
سچ پوچھیں تو مجھ سے اس پہ انا للہ و انا الیہ راجعون بھی نہیں پڑھا جاتا۔ کیا میں خدا کے پاس اس طرح واپس جانا چاہتی ہوں، ایسی بے کسی ، بے بسی اور تکلیف کی موت۔
ہم اس شہر کے مکین، ایک ہی محلے سے سترہ جنازے اٹھنے کے بعد، اپنی ہر قسم کی مصروفیت میں بھی مسلسل  یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا ہم کسی ایسے واقعے کے دوبارہ پیش آنے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
جواب یہ ہے کہ محفوظ رہ سکتے ہیں اگر ہم یہ جان لیں کہ یہ واقعہ کیوں پیش آیا اور ان وجوہات کے تدارک کے لئے کام کریں۔
یہ واقعہ کیوں پیش آیا؟
اسکی مختلف ممکنہ وجوہات بتائ جارہی ہیں۔
نمبر ایک، بجلی فراہم کرنے والے جنریٹر میں خرابی کی وجہ سے آگ لگی۔  بجلی کی شدید کمی اب ہمارے لئے کوئ راز کی بات نہیں۔  عوام نے اس کا حل جنریٹرز میں ڈھونڈھا ہے۔ اس سے جہاں ایک طرف جنریٹرز در آمد کرنے کے ایک نئے کاروبار کو وسعت ملی اور اس سلسلے میں ایک نئ مارکیٹ وجود میں آئ وہاں حکومت بھی کسی دباءو سے آزاد ہو گئ۔ جب لوگوں نے اپنی پریشانیوں کے حل نکال ہی لئے ہیں تو حکومت کو کیا ضرورت کے وہ بجلی پیدا کرنے کے نئے منصوبے بنا کر بجلی پیدا کرنے والے ان جنریٹرز کی در آمد کرنے والے لوگوں کے پیٹ پہ لات مارے۔ انکے روزگار کو بند کرنے کے امکان پیدا کرے۔ حکومت اس سلسلے میں خاصی عوام دوست واقع ہوئ ہے۔
کراچی میں ایسی درجنوں مارکیٹس ہیں جہاں بجلی کی عدم موجودگی میں دوکانوں میں موجود جنریٹرز کام کرتے ہیں ، یہ عمارتیں ایک دم بند ہیں اور کسی بھی حادثے کی صورت میں یہاں حد سے زیادہ جانی و مالی نقصان ہو سکتا ہے۔ مثلاً گل پلازہ، صدر یا رابی سینٹر، طارق روڈ۔ ایک عام دن میں، بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے وقت جب یہ جنریٹرز چلنا شروع ہوتے ہیں تو ان مارکیٹس کے اندر سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے۔
دوسری اہم وجہ یہ بتائ جاتی ہے کہ تنخواہ بانٹنے کا دن تھا اور سیکوریٹی کی وجہ سے تمام داخلی دروازے بند کر دئے گئے تھے اسکے علاوہ، سیکیوریٹی کی ہی وجہ سے کھڑکیوں پہ لوہے کے جنگلے موجود تھے۔
جانی و مالی سیکیوریٹی اس وقت ہمارے ملک کے سر فہرست مسائل میں سے ایک ہے۔ اسکی وجہ سے غیر ملکی تو دور ملکی سرمایہ کار کاروبار کرتے ہوئے ڈرتا ہے۔ اور اسکی وجہ سیاسی اور معاشی دونوں ہیں۔ سیاسی سطح پہ لوٹ مار کرنے والے مجرمان کو نہ پکڑا جاتا ہے اور نہ انہیں سزا ہوتی ہے۔ یہ مجرمان جو ہر سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ معاشی سطح پہ ایسے ذرائع موجود نہیں جو لوگوں کو روزگار دیں نتیجتاً وہ لوٹ مار کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اسکی وجہ معاشرتی بھی ہے۔ ایک ایسے نظام میں جہاں لوٹ مار ہر سطح پہ موجود ہو اور لوگ اخلاقی اصولوں کی پامالی کرے ذرا نہ گھبراتے ہوں۔ وہاں اندھیر نگری ہی جنم میں آتی ہے۔ یہ سب عوامل لوگوں میں انکے سرمائے کے لئے عدم تحفظ پیدا کرتے ہیں۔ چونکہ نظام انہیں تحفظ دینے میں ناکام رہا ہے اس لئے وہ اپنے تئیں اسی طرح کے حل نکالتے ہیں۔ یہ فیکٹری ہی کیا خود میرے گھر کی ہر کھڑکی پہ لوہے کا جنگلہ موجود ہے۔ 
یہاں مجھے ایک دفعہ پھر کینیڈا یاد آتا ہے جہاں گھروں کی کھڑکیوں پہ کسی بھی قسم کے جنگلے کا تصور نہیں۔ یہی نہیں بلکہ گھر کے باہر چہار دیواری کا تصور کوئ خاص نہیں۔ انہیں فکر نہیں کہ لوگ باہر سے انکا گھر اور گھر والی دیکھ لیں گے۔ اگر کوئ سڑک  دیکھے تو اندازہ تک نہ ہو کہ کون سا گھر کہاں ختم ہو رہا ہے۔ گھر کے اطراف میں جو کھلے صحن ، گیراج یا ڈرائیو وے موجود ہیں اس میں بچوں کے کھلونوں سے لے کر گاڑیاں تک سبھی چیزیں پھیلی رہتی ہیں لیکن کوئ چیزوں کو ہاتھ تک نہیں لگاتا۔ لوگ  صرف وہی چیزیں اٹھا سکتے ہیں جو گھر کے باہر فٹ پاتھ پہ موجود ہوں۔
تیسری اہم وجہ اس قسم کی فیکٹریز کا فائر بریگیڈ سے کوئ ڈائریکٹ تعلق نہ ہونا ہے۔
چوتھی اہم وجہ فیکٹریز میں آگ بجھانے کے آلات کا نہ ہونا اور مزدروں کو اس بات کی تربیت نہ ہونا ہے کہ ان آلات کو بوقت ضرورت کیسے استعمال کیا جائے۔ اور نہ ہی انکی اس بات کی تربیت ہونا کہ ایمرجینسی کی صورت میں وہ کس طرح کم سے کم وقت میں فیکٹری کو خالی کر سکتے ہیں۔
لوگ کہتے ہیں کہ فیکٹری مالکان مزدوروں کے تحفظ کی فکر نہیں کرتے اور اس پہ اپنا سرمایہ خرچ نہیں کرنا چاہتے۔ اخباری اطلاع یہ بھی ہے کہ مشرف دور کے بعد سے سندھ میں ملز کی اس طرح کی انسپکشن نہیں ہوئیں جن میں مل کے مزدوروں کو دئے گئے ماحول پہ رپورٹ بنتی اور اسکے لئے وزیر اعلی قائم علی شاہ نے انکار کر دیا تھا۔
 اس نکتے سے اس واقعے کو دیکھئیے۔ اس فیکٹری سے زیادہ تر مصنوعات باہر کے ممالک جاتی تھیں۔ یہ خاصی بڑی فیکٹری تھی۔ آتشزدگی کے نتیجے میں یہ فیکٹری مکمل طور پہ تباہ ہو چکی ہے۔ اس میں موجود تمام مال ختم ہو چکا ہے۔ خود مل مالکان پہ چونکہ لاپرواہی کا مقدمہ دائر ہے اس لئے وہ اپنی جان بچانے کو فرار ہیں۔  اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر محنت کش کو یا مزدور کو تحفظ نہیں دیں گے تو سرمایہ اور سرمایہ کار دونوں ہی داءو پہ لگے رہیں گے۔ پھر مل مالکان، وقتی فائدے کے لئے دور کی کیوں نہیں سوچتے؟ اگر وہ یہ سوچتے کہ وزیر اعلی جائے بھاڑ میں ہم اپنی فیکٹری میں یہ انتظام رکھیں گے کہ مزدوروں کو پتہ ہو کہ آگ لگنے کی صورت میں انہیں آگ کیسے بجھانا ہے۔ ایمرجینسی میں نکلنے کے راستے کون سے ہونے چاہئیں۔ فیکٹری میں مختلف سامان کی اسٹوریج کیسی ہونی چاہئیے کہ کسی حادثے کے پیش آنے کی صورت میں کم سے کم نقصان ہو۔ تو یہ فیکٹری آج بھی چل رہی ہوتی۔
کیا اسکی وجہ یہ ہے کہ عام طور پہ لوگ کسی حادثے کے لئے نہ ذہنی طور پہ تیار نہیں ہوتے اور نہ ہی اسکے لئے کوئ متوقع لائحہ ء عمل سوچ کر رکھتے ہیں بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ بس ہر چیز اللہ کے کرم سے درست رہے گی۔ اس حادثے کی ایک اور وجہ کاروباری طرز فکر کی غیر موجودگی بھی نکلتی ہے۔ وہ طرز فکر جو یہ سمجھ دے کہ محض مال اور سیٹھ کا رشتہ ہی اہم نہیں بلکہ اس میں وہ لوگ بھی اہمیت رکھتے ہیں جو مال اور سیٹھ کے درمیان تعلق قائم رکھتے ہیں۔ انہیں تحفظ دئیے بغیر کیسے کوئ اپنی جان اور اپنے مال کا تحفظ کر سکتا ہے۔
اس طرح،  اس واقعے کے پیش آنے کی کوئ ایک وجہ نہیں ہے۔ اس میں پورا نظام شامل ہے کیونکہ پورا نظام منفی طرز فکر پہ چل رہا ہے۔ اس لئے جب کوئ حادثہ ہوتا ہے تو اتنا ہی اندوہناک ہوتا ہے کہ ذہن اسے تسلیم کرنے میں بھی وقت لیتا ہے۔ نہیں معلوم کہ فکر کی اس نہج کو تبدیل ہونے کے لئے کتنی جانوں کی قربانی دینی ہوگی۔ بے شک ہمیں پلٹ کر اللہ ہی کی طرف جانا ہے۔ لیکن قتل کا سامان کرنے والوں کو جہنم رسید کرنے کے بعد یا خود جہنم کا ایندھن بننے کے بعد۔

Saturday, January 7, 2012

پھر ٹیگے گئے

یہ عرفان احمد شفقت نے گلے میں ٹیگ کا ڈھول ڈال دیا ہے۔ اس لئے بجا رہے ہیں۔
مستقبل کے بارے میں جتنے سوالات ہیں وہ سب انتہائ مشکل لگتے ہیں۔ کیا پتہ کب دل بدل جائے اور ہم  گوتم بدھ کی طرح سب تیاگ کر کسی مختلف دنیا میں جا نکلیں۔ اس لئے اس ٹیگ کے اکثر سوالات ذرا اوکھے معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن سب کے جوابات دینے کی کوشش ضرور کی ہے۔

2012ء میں کیا خاص یا نیا کرنا چاہتے ہیں؟
 اس سال  لکھنا چاہتی ہوں۔ سنجیدگی سے وہ جو کافی عرصے سے لکھنے کی سوچ میں ہوں۔ لیکن اس سے پہلے کچھ پڑھنا بھی چاہتی ہوں۔ کچھ چیزیں جو پہلے نہیں پڑھیں۔ ایک فہرست ہے جسے عملی رکھنے کے لئے میں نے خاصہ مختصر رکھا ہے۔  ہیمنگوے کے کچھ ناول، مزید جارج آرویل کے دو ناول نائینٹین ایٹی فور، اینیمل فارم۔ کچھ کو پورا کرنا ہے مثلاً ایلڈوس ہکسلے کا بریو نیو ورلڈ، وار اینڈ پیس ۔ کچھ چیزیں جاننا چاہتی ہوں مثلاً یہ کہ گھر بیٹھ کر سٹہ کیسے کھیلتے ہیں۔
:) 

۔ 2012ء میں کس واقعے کا انتظار ہے؟
کسی خاص واقعے کا انتظار نہیں,  ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا۔  
۔ 2011ء کی کوئی ایک کام یابی؟
-کامیابی اور ناکامی بالکل نسبتی اصطلاحیں لگتی ہیں۔  سو یہ کامیابی کم نہیں ابھی تک زندہ ہیں اور صحت مند ہیں،  خود کو اور دوسروں کو بم سے نہیں اڑایا، کسی مالیاتی کرپشن کا حصہ نہیں، کسی انسان کا حق نہیں کھایا نہ چھینا، کوئ نئ سیاسی جماعت نہیں بنائ، انقلاب کا نعرہ نہیں لگایا، کینیڈا جا کر غائب نہیں ہوئے۔ حالانکہ اس میں سے بیشتر کاموں کا بڑا دل چاہا۔
۔ 2011ء کی کوئی ایک ناکامی؟
- کوئ ایک وقت ورزش اور چہل قدمی کے لئے مقرر نہ ہو سکا۔
۔ 2011ء کی کوئی ایک ایسی بات جو بہت یادگار یا دل چسپ ہو؟
 - کینیڈا گئے،ایک اردو بلاگر سے ملاقات کی، زندگی میں نئ چیزیں ، نئے لوگ نئ ثقافت دیکھی۔  وہاں کے شہر،  کیوبک سٹی میں چار سو سیڑھیاں چڑھ کر پہاڑ کے اوپر گئے اور ساڑھے تین سو سیڑھیاں اتر کر نیچے واپس آئے۔ وہ دن بڑا دلچسپ اور یادگار رہا۔
۔ سال کے آغاز پر کیسا محسوس کررہے ہیں؟
 - ویسا ہی جیسے نئے دن کے آغاز پہ کرتے ہیں۔
تم کو بھی ہم دکھائیں  کہ مجنوں نے کیا کیا
فرصت کشا کش غم پنہاں سے گر ملے

۔ کوئی چیز یا کام جو 2012ء میں سیکھنا چاہتے ہوں؟
- ایک چھوٹی سی چیز جو آئیندہ دو تین مہینوں میں سیکھنا چاہتی ہوں وہ ہے، اسکرین ریکارڈنگ۔ اسکے علاوہ مہ رخوں سے ملنے کے لئے مصوری سیکھنا ہے۔ مہ رخوں سے میری مراد کچھ دلچسپ اور مزے کے لوگ ہیں۔ مصوری کا مطلب ایسے کام جن میں انہیں دلچسپی ہو۔ اس لئے کہ تقریب ملاقات  ، فیس بکنگ سے زیادہ مزیدار لگتی ہے۔ یہ الگ بات کہ جب دلچسپ اور مزے کے لوگوں کا کردار بنانے لگتی ہوں اس پہ پورا اترنے والے چھوٹے بچے ہوتے ہیں۔
:)
مزید جن افراد کوٹیگنا چاہونگی وہ ہیں ریاض شاہد، راشد کامران، فہد کہر، عدنان مسعود، شاکر عزیز، غلام مصطفی خاور، شعیب صفدر اور نام یاد نہیں آ رہے۔

Thursday, December 1, 2011

میرے مسائل اور انکا حل

جس طرح ماہر جدی پشتی حکیم یہ دعوی کرتے نظر آتے ہیں کہ ہر مرض کاعلاج موجود ہے اسی طرح میں بھی کہہ سکتی ہوں کہ ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔
حالانکہ کبھی کبھی گمان گذرتا ہے کہ اکثر ہمارے مسائل اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ انکے حل ہمارے پاس نہیں ہوتے۔ اس طرح سے انسان مکڑی کی طرح خلوت کی زندگی گذارنے کے بجائے چیونٹیوں کی طرح سماجی جانور بننے پہ مجبور ہو جاتا ہے۔
اگر آپ یہ جانتے ہیں کہ آپکے کسی مسئلے کا حل کہاں سے ملے گا تو یہ ایک خوش قسمتی ٹہرتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ ذریعہ آپکی پہنچ میں ہے یا نہیں۔
مجھے بھی آجکل کچھ مسائل کا سامنا ہے۔ مسئلہ نمبر ایک تو یہ کہ میرے بلاگ کی فیڈز مختلف ایگریگیٹر پہ آنا بند ہو گئیں۔ سب سے پہلے میں یہ بات اردو سیارہ پہ نوٹ کی۔ خیال گذرا کہ انہیں مجھ سے کچھ دبی دبی سی شکائیتیں رہتی ہیں۔ اس لئے شاید اب جان چھڑانی چاہی ہو۔ لیکن نہیں اس بد گمانی کے ساتھ یہ بھی تھا کہ انکی بلاگر لسٹ پہ میرا نام اور اسکی فیڈ اب بھی موجود ہے۔
فیس بک پہ یہ الجھن عرض کی تو جناب محمد بلال محمود صاحب نے خیال ظاہر کیا کہ ہو سکتا ہے فیڈ برنر کے ساتھ کچھ مسئلہ ہو۔ انکے دئیے ہوئے لنک پہ دیکھا تو معلوم ہوا کہ اگر آپکا بلاگ ۵۱۲ کلو بائیٹس سے زیادہ بڑھ جاتا ہے تو آپکی فیڈ بند ہو جائے گی اور یہ دوبارہ اسی صورت بحال ہو گی جب اس میں توسیع کی جائے۔ اسکے لئے طریقہء کار دیا ہوا تھا۔ اس پہ عمل کیا۔  توسیع تو مل گئ لیکن پتہ تبدیل ہو گیا۔ یہ نیا پتہ عثمان، کو دیا کہ سیارہ کی انتظامیہ کو دے دیں۔ کیونکہ ہم نے ان سے جس پتے پہ  رابطہ کیا اس پہ  جواب ندارد۔ عثمان نے اطلاع دی کہ وہ دے چکے ہیں۔ شاگرد عزیز کا شکریہ۔
اب اس بات کو بھی کافی دن گذر گئے ہیں۔ اس لئے اپنے قارئین سے گذارش ہے کہ اس بلاگ سے رابطے میں رہنے کے لئے چاہیں تو سبسکرائیب کر لیں ۔
ادھر ٹی بریک والوں سے بھی بات کی جس دن انہیں ای میل بھیجی اسی دن جواب آگیا کہ آپ اپنا بلاگ ایڈریس بھیجیں ہم چیک کرتے ہیں کیا مسئلہ ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ انکے اپنے گوگل کے ساتھ مسائل چل رہے ہیں اور وہ اسے نبٹا رہے ہیں۔ اسکے بعد وہ ہمارے مسئلے کو دیکھیں گے۔
خیر مستقل قارئین کا بے حد شکریہ کہ وہ اس بلاگ سے رشتہ استوار رکھے ہوئے ہیں۔

دوسرا مسئلہ ذرا دلچسپ ہے۔  بلاگ سے ہٹ کر ایک تحریر کے لئے کچھ تحقیق کرنی ہے۔ اسکے لئے ان لوگوں کا تعاون درکار ہے جنکے والدین یا بزرگ انیس سو سینتالیس میں تقسیم کے نتیجے میں پاکستان آئے اور جو مشرقی پنجاب یا راجستھان سے تعلق رکھتے ہوں۔ میں ان سے گفتگو کرنے میں دلچسپی رکھتی ہوں۔ اگر آپکے ارد گرد کوئ ایسا شخص موجود ہے تو میں اس سے اسکائپ کے ذریعے  یا کسی ایسے ذریعے سے بات کرنا پسند کرونگی جس تک وہ بآسانی پہنچ سکیں اور انکا کوئ خرچہ بھی نہ ہو۔ مجھ سے رابطے کے لئے یہ ای میل ایڈریس ہے۔
 aniqaamar@yahoo.com
آجکل ایک بلاگی ساتھی کے کینیڈا میں مقیم ایک بزرگ سے اسی طرح، اس موضوع پہ بات ہو رہی ہے
اس مسئلے کا ایک اور حل بھی سامنے آیا جب کسی نے مجھے یہ بتایا کہ کراچی میں اورل ہسٹری کے نام سے ایک پروجیکٹ پہ سٹیزن آرکائیو والے کام کر رہے ہیں اور انکے پاس ایسے لوگوں کے ریکارڈ کئے ہوئے انٹرویوز اور تصویریں موجود ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ انکے پاس ایسے لوگوں سے رابطہ کرنے کے لئے پتے بھی موجود ہوں۔ انکے ایک نمائیندے سے معلومات کیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ انہیں ای میل کر کے درخواست بھیجیں۔ وہ ضرور اسکا جواب دیں گے۔
بات تو صحیح ہے انہوں نے یہ ہسٹری جمع تو اسی لئے کی ہو گی کہ جو اس سے مستفید ہونا چاہے اسے آسانی سے مل جائے۔ چنانچہ انہیں ایک ای میل کر دی۔ اب دو دن سے منتظر ہوں کہ کیا وہ بھیجتے ہیں جواب میں۔
ہر مسئلے کا حل موجود ہے نہیں ہے تو نکل آئے گا۔ نہ نکلے تو ایک مسئلے کو کیا دل سے لگا کر بیٹھیں رہیں۔ اگلے والے کو پکڑ لیں۔ بعض اوقات اگلے والوں پہ کام کرنے سے پیچھے والے خود درست ہو جاتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟ 

Monday, November 14, 2011

دس ڈالر میں

ابھی ڈھونڈھ ہی رہی تھی تمہیں یہ نظر ہماری
کہ تم آگئے اچانک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زندگی میں محبوب سے لے کر بس تک پہ یہ بات صادق آسکتی ہے۔ لیکن ہمارے ساتھ یوں ہوا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹہریں پہلے یہ بتادوں کہ قصہ کیا چل رہا تھا۔
ہم گوادر ہی میں تھےرات کو واپسی کے سامان کو صبح کے سفر کے لئے پیک کر کے نادر بلوچ کے یہاں پہنچ گئے کہ ان  کی بھاوج کے یہاں اس دن صبح ایک نئے بچے کی آمد ہوئ تھی۔ خیال تھا کہ انہیں مبارکباد دے کر ، کراچی واپسی کے لئے خدا حافظ کہہ دیں۔
نادر کی بیوی ،خدیجہ بڑے تپاک سے ملی۔  میں نے اسے بتایا کہ اسکا بیٹا بڑا شیطان ہے پچھلی دفعہ اس نے مجھے کیکڑوں کی لڑائ دکھائ تھی۔ اور کیکڑے کے بچے کندھے پہ رکھ کر پھر رہا تھا۔ 'ہاں یہ بہت شیطان ہے۔ اب اسکو گوادر کے سب سے مہنگے اسکول میں داخل کرا دیا ہے۔ فیس اسکا بہت زیادہ ہے۔  نادر کی آمدنی تو زیادہ نہیں کبھی کام ہوتا ہے کبھی نہیں ہوتا۔ میرے بھائ نے کہا کہ وہ اسکا اسکول کا خرچہ اٹھائے گا'۔ 
بڑا اسکول کہتے وقت اسکے چہرے پہ بڑا فخر تھا۔  اسکا بیٹا اویس، دوڑا دوڑا گیا اور اپنی کتابیں کاپیاں اٹھا لایا مجھے دکھانے کے لئے۔ میں نے انہیں بڑے شوق سے دیکھا۔ وہ مونٹیسوری کی لگ رہی تھیں۔  اسے تھوڑا بہت لکھنا آگیا تھا۔ میں نے پوچھا کون سی کلاس میں پڑھتے ہو۔ اپنے ٹوٹے پھوٹے دانتوں والی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔ 'ایڈوانس میں، ایڈوانس میں'، اسکی مراد شاید مونٹیسوری کا آخری سال تھا۔
اس لمحے اچانک مجھے خیال آیا کہ میری ایک  نو عمر پاکستانی نژاد کینیڈیئن دوست نے چند ماہ پہلے مجھ سے کہا تھا کہ وہ پاکستان میں ایک بچے کا تعلیمی خرچہ اٹھانا چاہتی ہے ، کیا میں کسی مستحق بچے کی تلاش میں مدد کر سکتی ہوں۔ میں اس وقت سے ایک بچے کو ڈھونڈھ رہی تھی جو پڑھنے لکھنے میں واقعی دلچسپی رکھتا ہو۔ اور اسکی تعلیم کی راہ میں صرف پیسے کی کمی حائل ہو۔
گھر میں آنے والی ماسیوں کے بچوں کو میں نے اس لسٹ سے نکال دیا تھا کہ ان میں سے کچھ مقامی اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ انکے والدین مار مار کر بھیجتے ہیں مگر یہ پڑھ کر نہیں دیتے۔
سو، میں نے خدیجہ سے پوچھا کہ اسکی بیٹی کون سے اسکول میں پڑھتی ہے۔ کہنے لگی یہیں سُر بندر کے گورنمنٹ اسکول میں۔ اس اسکول کے متعلق مجھے اندازہ تھا کہ انتہائ بے کار ہے ۔ متعدد لڑکیاں یہاں سے دوسری تیسری پڑھ کر چھوڑ چکی ہیں۔ اور انہیں دس تک گنتی بھی نہیں آتی۔اس لئے میں نے اس سے کہا تم عائیشہ کو بھی کیوں نہیں بحریہ ماڈل اسکول میں داخل کرا دیتیں۔
'عنیقہ، اسکی فیس بہت زیادہ ہے، چار ہزار داخلہ فیس ہے'۔ اس نے ذرا منہ پھیلا کر کہا تاکہ مجھے اندازہ ہو کہ کتنی زیادہ ہے۔ چھ سو روپے مہینے کے ہیں' اس دفعہ اس نے چھ سو پہ زور دیا اور  مزید کہا صرف وردی آٹھ سو روپے کی ہے'۔ نادر تو اتنا نہیں کر سکتا'۔  میں خاموش بیٹھی رہی۔ 
یہاں کراچی میں ایسے اسکول ہیں جنکی ماہانہ فیس پچیس ہزار روپے ہے۔ اور ایسے اسکول تو عام ہیں جہاں داخلہ فیس پچاس ہزار سے زائد ہے۔ کیا خدیجہ جیسوں کو معلوم ہے کہ جتنی انکی ماہانہ آمدنی نہیں پاکستان کے کچھ علاقوں میں اتنی ایک بچے کے اسکول کی فیس ہوتی ہے۔
ویسے اچھا ہی ہے اسے معلوم نہیں۔ ورنہ یہ صدمہ شاید اسے زندگی کے سکھ سے دور  کر دے۔
چلو عائشہ کی فیس کا بند و بست ہم کر دیتے ہیں۔ میں نے اس سے کہا۔ 'نئیں نئیں، عنیقہ، تکلیف نہ کرو۔'۔ 'مجھے کوئ تکلیف نہیں ، مجھ سے کسی نے کراچی میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کو پڑھانا چاہتا ہے۔  پیسے وہ دے گا۔ میں نہیں۔  اس لئے مجھے کوئ تکلیف نہیں پہنچ رہی۔ ' نئیں پھر بھی تم ایسا نہ کرو'۔ دیکھو اگر تم نہیں لوگی تو کوئ اور لے لے گا۔ تم چاہتی ہو کہ تمہاری بیٹی ایک اچھے اسکول میں  پڑھے تو موقعے سے فائدہ اٹھا لو۔ یقین رکھو، نہ یہ پیسے میرے ہیں ، نہ میں یہ کسی سے مانگ رہی ہوں اور نہ مجھے اس میں کوئ تکلیف ہے'۔ تھوڑی پس و پیش  کے بعد وہ خاموش ہو گئ۔ خاموشی نیم رضامندی ہوتی ہے۔ اٹھتے وقت میں نے نادر سے بات کی کہ وہ عائشہ کو بھی اسی اسکول میں داخل کرا دے۔ داخلہ فیس اور تین مہینے کی فیس اسکے ہاتھ میں رکھی اور نصیحت کی کہ اسکول کارڈ اور ٹیسٹ رپورٹس سنبھال کر رکھے کہ جو شخص پیسے دے گا وہ انہیں دیکھنا چاہتا ہے۔
میں چلنے لگی تو نادر نے ہاتھ مصافحے کے لئے آگے بڑھا دیا۔ اسکے انداز میں تشکر نمایاں تھا۔ میں جو غیر مردوں سے ہاتھ ملانے سے گریز کرتی ہوں۔ اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیتی ہوں۔ میرے اندر احساس ندامت تھا کہ اس سارے سلسلے میں میرا عملی حصہ نہ ہونے کے برابر ہے پھر بھی انہیں اپنا احسان مند بنا رہی ہوں۔
گھر واپس آکر میں نے سوچا کہ ڈالرز میں داخلہ فیس تقریباً پچاس ڈالر بنتی ہے اور ماہانہ فیس میں  اگر دیگر خرچے بھی ڈال لیں تو دس ڈالر بنتے ہیں۔ میری دوست نے کہا تھا کہ وہ پچاس ڈالرتک مہینے کے اس مد میں دے سکتی ہے۔ اتنے پیسوں میں تو ایک اور بچے کا خرچ نکل سکتا ہے۔ کیونکہ مجھے نادر کی بھانجی کا بھی خیال آیا جو عائشہ کی ہم عمر ہے۔ اسکا باپ اسکی ماں کو بھائ کے پاس چھوڑ گیا ہے نہ طلاق نہ خرچہ۔
کراچی آکر میں نے اپنی دوست کو ای میل کی۔ وہ فوراً تیار ہو گئ۔ اس طرح دو بچیوں کے لئے ایک بہتر اسکول کا بند و بست ہو گیا۔ 
آپ میں سے بیشتر نہیں جانتے ہونگے کہ کینیڈا میں ایک وقت کا اوسط معیار کا کھانا  دس ڈالر میں مل جاتا ہے۔  درحقیقت کراچی کے بہترین ہوٹل میں بھی ایک وقت کا اچھا کھانا اتنے پیسوں میں مل جاتا ہے۔ صرف دس ڈالر میں، میں محسن کی قطار میں اور اگلا احسان مندی کی قطار میں۔
کسی  کے ایک وقت کا کھانا ، کسی دوسرے کے پورے مہینے کے اسکول کا خرچہ۔ قدرت کا مذاق ہے یا انسانوں کا؟

Tuesday, October 25, 2011

سوءر کے بال

انکی باتوں کا سلسلہ جاری تھا۔ اور اس میں فل اسٹاپ آنے کی جلد امید بھی نہیں کی جا سکتی تھی کہ معاملہ انکے شوہر اور شوہر کے گھر والوں کا تھا۔ میں انہیں دبے الفاظ میں اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اس وقت جبکہ آپ کینیڈا میں ہیں اور شوہر کے گھر والے پاکستان میں۔ آپ اپنے گھر پہ اکیلے راج کر رہی ہیں۔ شوہر کے سب بہن بھائ یہاں سے ہزاروں میل دور اپنی دنیا میں مگن ہیں انکے اوپر انہیں کچھ خرچ بھی نہیں کرنا پڑتا تو وہ کیوں انکے تذکرے سے اپنے گھر کی فضا مکدر کرتی ہیں۔ کبھی کبھی شوہر کو محض شوہر نہ سمجھا کریں بلکہ محبوب دلنواز سمجھ کر بھی آءو بھگت کیا کریں اس سے تعلقات پہ کافی مثبت اثر پڑتا ہے لیکن ہر دفعہ وہ ماضی سے کوئ قصہ نکال کر اسکا پوسٹ مارٹم کرنے بیٹھ جاتیں۔
اسی گفت و شنید میں جو کہ میرے لئے گفت کم اور شنید زیادہ تھی، اچانک ٹی وی لاءونج سے بچوں کے جھگڑنے کی آواز آئ۔ پھر مشعل انتہائ ناراض حالت میں وہاں سے برآمد ہوئیں۔ 'میں کارٹون دیکھ رہی تھی کہ ریان نے ٹی وی بند کر دیا'۔ میں نے سوالیہ نظروں سے اور ریان کی ماں نے غصیلی نظروں سے ریان کو دیکھا۔ جسکی تاب نہ لاتے ہوئے ریان نے ترنت جواب دیا،'ٹی وی پہ گندہ کارٹون آرہا تھا۔ میں نے بند کر دیا'۔  کینیڈا میں بچوں کا بڑا مشہور چینل ہے ٹری ہاءوس، مجھے حیرت ہوئ کہ ایسا کون سا گندہ کارٹون ہے جو اس چینل سے آرہا ہے۔ 
بچے کی اس بات پہ ماں نے اطمینان کا سانس لیا۔ 'وہ دراصل یہ گورے تو ایسے غلیظ ہیں کہ انہوں نے پگز تک پہ کارٹونز بنائے ہوئے ہیں۔ پگز کا پورا خاندان اس کارٹون میں موجود ہے۔ جب ٹی وی پہ وہ کارٹون آتا ہے تو ہم ٹی وی بند کر دیتے ہیں۔ اور ریان کو بھی یہی ہدایت ہے اس لئے اس نے بند کر دیا'۔ پگز یعنی سوءر۔
میں نے زبان کھولنے کی کوشش کی اور پھر خاموش ہو گئ۔ رات ہی ان سے سیدوں کے اعلی ہونے پہ کچھ زیادہ بات ہو گئ تھی۔  اس وقت دوبارہ دینی بحث میں جانے کا موڈ نہیں تھا۔ میں انکے یہاں چند دن کے لئے مہمان تھی اور پہلے کچھ خاص علیک سلیک بھی نہ تھی۔
لیکن یہ سوال اپنی جگہ ذہن میں موجود  کہ قرآن میں سوءر کا گوشت کھانا منع ہے۔ یعنی حلال نہیں حرام ہے۔ لیکن اسکے علاوہ کہیں ایسی کوئ بات نہیں کہی گئ کہ سوءر کا دیکھنا بھی منع ہے۔ یا یہ بتانا منع ہے کہ سوءر کے بھی ماں باپ اور بچے ہوتے ہیں۔ در حقیقت وہ بھی اسی فضا میں سانس لیتے ہیں جس میں ہم سانس لیتے ہیں تو کیا یہ ساری فضا غلیظ ہو گئ ہے۔ اب ہم کیسے سانس لیں گے۔ 
پھر یہ کہ گوشت تو شیر اور بھیڑئیے کا بھی کھانا منع ہے یعنی حرام ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ان سے منسوب حکائیتیں تک بچوں کو سنائ جاتی ہیں۔ آخر سوءر کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں؟ آپ نہ کھائیں یہ الگ بات ہے تقریباً تمام مسلمان سوءر کا گوشت نہیں کھاتے وہ بھی جو شراب پی لیتے ہیں۔  لیکن ایسا کیا کہ اسکا کارٹون تک نہ دیکھیں۔
اکثرہمارے ملک میں موجود شدت پسندی کی جڑیں امریکہ، انڈیا، ایران اور سعودی عرب سے جوڑی جاتی ہیں۔ لیکن مشتبہ قوتوں میں ، میں ایک قوت اور شامل کرنا چاہونگی اور وہ ہیں مغربی ممالک کی شہریت اختیار کرنے والے پاکستانی۔ جب سے پاکستانی ان مغربی ممالک میں جا کر آباد ہوئے ہیں ان کی اکثریت نے پاکستان کو اپنے مذہبی خلاء کو پورا کرنے کی جگہ سمجھ لیا ہے۔ نہ صرف وہاں کی ہر تشنگی کو یہاں مٹاتے ہیں۔ جیسے وہاں کے بے حیاء ماحول میں رہ کر انکا دل شدت سے چاہتا ہے کہ پاکستان میں کاش لڑکیاں حجاب کے ساتھ پیدا ہوں۔ کیا سائینس اس سلسلے میں جینیٹک انجینیئرنگ کے کمال دکھا سکتی ہے؟ وہ پوچھنا چاہتے ہیں۔ 
اسی طرح وہاں رہ کر مذہب میں باریکیاں نکالنے کا بڑا شوق پیدا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ، وہاں دو بنیادی طبقے پیدا ہو جاتے ہیں ایک وہ جو وہاں کے رنگ میں ان سے زیادہ رنگ جاتا ہے اور دوسرا وہ جو پہلے سے بھی زیادہ مذہبی ہو جاتا ہے۔ اور ہر طرح کے مذہبی وہم انہیں تنگ کرنے لگتے ہیں۔ درمیانی راہ چلنے والے  نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
مثلاً وہیں ایک پاکستانی خاتون کو میں نے اپنے شوہر سے یہ کہتے سنا کہ اسلام میں گھر کے کام بیوی پہ فرض نہیں اگر کرے تو مرد پہ احسان ہے۔ نہ ہی اسکے والدین کی خدمت اسکا فرض ہے۔ اسلام میں بیوی کا فرض ہے کہ بچے پیدا کرے اور شوہر کی ضرورت پوری کرے۔
لیجئیے اسلام کا یہ ورژن، اگر وطن عزیز میں رہنے والی خاتون بتاتیں تو شوہر بعد میں پہلے سسرال والے انہیں انکی اوقات یاد دلا دیتے۔ کن ہواءوں میں ہیں اسلام میں اسی لئے مرد کے لئے چار شادیاں رکھی گئ ہیں۔
خیر ہم لوٹ کر دوبارہ سوءر پہ آتے ہیں۔ یہاں پاکستان میں تو کچھ لوگ سوءر کا نام بھی منہ سے نہیں نکالتے اور کہہ دیتے ہیں وہی جانور جو گُو کھاتا ہے۔ اگر وہ والا محاورہ کہنا ہو کہ فلاں کی آنکھ میں تو سوءر کا بال ہے تو اسکی جگہ کہتے ہیں اسکی آنکھ میں تو اُسکا بال ہے۔ جو پوچھیں کس کا؟ تو جواب ملے گا وہی جو گوُ کھاتا ہے۔ کچھ لوگوں کو سوءر کے بجائے خنزیر کہنا زیادہ مناسب لگتا ہے۔ سوءر کہتے ہوئے زبان کے آگے خندق آجاتی ہے لیکن خنزیر سے روانی رہتی ہے۔ مجھے اس ترجیح کی وجہ نہیں معلوم۔
 ایک عزیز بزرگ آج سے تیس سال پہلے کا قصہ سنا رہے تھے کہ وہ دبئ میں تھے اور بچوں کے ایک اسکول میں پڑھاتے تھے۔  اسکول لائیبریری کے لئے باہر سے کتابیں منگوانے کے لئے فہرست طلب کی گئ مختلف اساتذہ نے اس میں کتابوں کے نام ڈال دئیے۔ اور اس طرح سے باہر سے کتابیں آئیں لیکن ان میں سے کچھ کتابوں کو فوری طور پہ واپس بھجوایا گیا۔ وجہ اسکول کی عرب ایڈمنسٹریشن نے یہ بتائ کہ کتابوں میں سوءر کی تصویریں ہیں۔
بس جہاں اور اوٹ پٹانگ سوالات ذہن میں آتے ہیں ان میں  یہ بھی چلے آئے کہ پاکستان کے دیہاتوں میں سوءروں کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ شہر کے بچے اگر سوءر دیکھناچاہیں کہ کیسا ہوتا ہے تو کیا کریں؟ کوئ سر پھرا بچہ یہ پوچھے کہ سوءر کے بچے بھی کیوٹ ہوتے ہیں، انکی ماما بھی انکو پیار کرتی ہیں تو کیا اسکا جواب یہ دیں  کہ سوءر کے بال بچوں سے تمہیں کیا، وہ تو خود مارے شرمندگی کے ایکدوسرے سے منہ چھپائے پھرتے ہیں کہ پیدا کیوں ہو گئے۔

Sunday, September 25, 2011

قصہ ایک گرم دن کا

ابھی ہمیں وہاں پہنچے کچھ دن  ہوئے تھے کہ ٹورنٹو میں ایسی گرمی پڑی کہ کہ ڈاءون ٹاءون یعنی وہاں کا آئ آئ چندریگر روڈ سنسان ہو گیا۔ نہ بندہ نہ بندے کی ذات۔ یہ سناٹا اس خوف کی وجہ سے تھا جو وہاں کے محکمہء موسمیات نے پھیلایا تھا۔ اس میں چنداں حیرت نہیں ہونی چاہئیے کہ وہاں یہ کام محکمہ ء موسمیات کرتا ہے۔  نہ معلوم کیوں وہاں کے محکمہء موسمیات کی موسم کے بارے میں خبریں ایک دم درست نکل آتی ہیں۔ لگتا ہے کوئ بڑا پہنچا ہوا پیر پکڑ رکھا ہے انہوں نے۔
خوف کے طاری ہونے کی وجہ یہ  ہے کہ مسلسل آسائیشوں میں رہنے  اور خوف سے پاک زندگی گذارنے کی وجہ سے ان مغربی ممالک کے لوگوں کے دل بہت چھوٹے اور ہمت بچپن سے ہی بوڑھی ہوتی ہے۔ جب شاہینوں کے بجائے ممولے پیدا ہوں تو یہی ہوا کرتا ہے۔ کندن تو بھٹی میں تپنے کے بعد ہی بنتا ہے۔ جبکہ یہاں لوگوں کی اکثریت مر کر ہی بھٹی کا منہ دیکھ پاتی ہے۔ اس حالت میں جب تمام اعضاء جواب دے چکے ہوتے ہیں۔ یہ دیکھنا بھی کوئ دیکھنا ہے۔
لیکن رکئِے، ہمارا شاعر کہتا  ہے کہ ہو دید کا جو شوق تو آنکھوں کو بند کر، ہے دیکھنا یہی کہ نہ دیکھا کرے کوئ۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں آج تک کوئ ایسی بیسٹ سیلر بک نہیں دیکھی جو مرنے کے بعد لکھی گئ ہو۔ اس کا اعزاز بھی صرف ہمیں حاصل ہوا کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا جیسی تہلکہ آمیز کتاب ہمارے ہی لوگوں نے پیش کی۔ مغرب دیکھ لے روحانیت میں کون بڑھا ہوا ہے وہ کہ ہم۔
اپنے فخر کے قصے دوہرانے کو کئ نسلیں باقی ہیں، اس لئےمیں خلاف طبیعت قصہ مختصر کرتی ہوں۔ ایک ایسی گرمی میں جبکہ ٹورنٹو میں چیلیں تک اپنے گھونسلوں میں ایئر کنڈیشنڈ لگوا چکی تھیں کہ کینیڈا میں بجلی کی بڑی فراوانی ہے اسکی بہتات کی وجہ سے کئ بجلی پیدا کرنے والے اسٹیشنز بند پڑے ہوئے ہیں۔ جب شام کو لُو چلنا بند ہوئ۔ میں نے کچن کا کچرا سمیٹا اور اسے گھر کے باہر موجود ڈرم میں ڈالنے کے لئے آئ۔ 
ان ڈرمز میں پورے ہفتے کچرا جمع کرنا پڑتا ہے۔  کھانے پینے کی چیزیں ایک  الگ ڈرم میں اور کاغذ گلاس قماش کی چیزیں دوسرے ڈرم میں۔ ہر علاقے کی ایک تاریخ ہوتی ہے اس تاریخ کو وہاں سے کچرا اٹھایا جاتا ہے۔ مکینوں کو یہ کچرے کا ڈرم روڈ کے ساتھ فٹ پاتھ پہ رکھنا ہوتا ہے تاکہ کوڑا اٹھانے والا ٹرک بآسانی اسے اٹھا لے۔ مایا کے تین روپ جبکہ کاہلی کے سو روپ ہوتے ہیں جو ایسے ہی ترقی یافتہ ممالک میں نظر آتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کے اوپر کام کا زیادہ سے زیادہ بوجھ ڈال کر انتظامیہ آرام سے پڑی مکھیاں مارتی ہیں اور مکھیاں مارنے میں اپنی ان کوششوں کو بیان کرنے سے نہیں چوکتی۔ ڈھٹائ کی بھی حد ہوتی ہے۔ مگرنہیں صاحب، یہاں  بے حیائ ہی نہیں ڈھٹائ کی بھی ساری حدیں پار ہو چکی ہیں۔ اسی لئے تو کمبخت مارے اپنا ویزہ آسانی سے نہیں دیتے کہ ہماری ساری پول پٹی کھل کر دنیا کے سامنے آجائے گی۔
اچھا انکی غیبت ایک طرف۔ میں نے پہلا ڈرم کھولا تو اس میں کاغذ  اور گتے موجود تھے۔ سوچا اسی میں ڈالدوں۔ کاہل قوم کچھ تو کیا کرے اور کچھ نہیں تو کھانے پینے کی چیزوں سے کاغذ، گتے اور ٹن الگ کیا کرے۔ پھر ان بھتّوں کا خیال آِیا جو ایسی تمام سبز سوچوں پہ پابندی لگانے کے لئے موجود ہیں انہیں یہاں فائن کہتے ہیں۔ سو دوسرے ڈرم کو کھولا اور ابھی اس میں ڈالنے کا قصد کیا ہی تھا کہ اعصاب منعکسہ نے ایک زور کا جھٹکا دیا اور ہاتھ کیا میں خود ایک فٹ پیچھے ہٹ گئ۔ ڈرم میں تو کوئ عجیب ساجانور دبک کر بیٹھا ہوا تھا۔


یہاں گلہریاں بڑی چھلانگیں لگاتی پھرتی ہیں وہ بھی خوب بڑی بڑی۔ لیکن یہ جانور گلہری سے بڑا تھا۔ بلی یہ ہو نہیں سکتی کیونکہ یہاں بلی اور کتے  کو وہ آزادی نہیں جو ہم نے انہیں دے رکھی ہے۔ بعضے حاسدی تو کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں ایوان حکومت تک میں بٹھا رکھا ہے۔ ویسے یہ قومیں ان جانوروں سے محبت کے بڑے دعوے کرتی ہیں۔ اب کیا کہیں ایسے کھُلے جھوٹ پہ تو تُف بھیجنے کو بھی دل نہیں چاہتا۔
اچھا تو وہ جانور بلی بھی نہیں تھا، پھر دھیان آیا کہ رات ہی کوئ بتا رہا تھا کہ جلا ہوئے پزا  ڈرم کے اوپر رکھ دیں یہاں ایک رکون آتا ہے رات کو وہ کھالے گا۔ یہ رکون تھا اور اسی چکر میں آیا، اس کا شاید توازن خراب ہوا اور وہ اس میں گر گیا۔ ڈرم خاصہ بڑا تھا اس لئے وہ باہر نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ میں نے کینیڈا میں بیٹھ کر اپنی سازشی فطرت کو تسکین دینے کے لئے  پوری پاکستانی ذہانت اس واقعے کو سمجھنے میں لگائ۔ امریکہ کا ہاتھ اس میں ہو تو ہو طالبان کا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس واقعے میں نہ اب تک کوئ مرا نہ اسکی ذمہ داری انہوں نے لی ۔ امریکہ کے پڑوس میں رہتے ہوئے امریکہ مخالف جذبات کو کچلا تو ہمیں صرف ایک ہی بات سمجھ میں آئ کہ رکون کو ان حالات سے نبٹنے کی تربیت کما حقہ نہیں دی گئ۔ 
اس سے اچھے تو ہمارے آزاد کتے بلیاں ہیں۔ ایسی تربیت ہے کہ اول تو دن کے وقت روڈ کراس نہیں کرتے رات کو کرتے ہیں۔ اور رات کو بھی خاصی احتیاط سے کام لیتے ہیں یوں وہ بھی اسی رفتار سے بڑھ رہے ہیں جس رفتار سے ہم۔ سڑک پہ ہفتہ دس دن میں کسی بلی یا کتے کی سو بار کی کچلی لاش نظر آئے تو ہم اسے ایکسیڈنٹ کہتے ہیں۔ حادثہ نہیں۔ حادثے کی پرورش میں وقت برسوں لگاتا ہے جبکہ ایکسیڈنٹ فی الفور ہو جاتا ہے۔ یہاں کیمسٹری کا ایک قانون یاد آرہا ہے۔ لیکن ہم اسے نظر انداز کرتے ہیں۔ رکون کی تربیت کیمسٹری پڑھانے سے نہیں شروع ہو سکتی۔
ہم نے فوراً گھر کے اندر داخل ہو کر ڈرم میں رکون کی موجودگی کا اسی طرح اعلان کیا جس طرح مسجد سے  گمشدہ بچہ ملنے کی اطلاع دی جاتی ہے یعنی گلا پھاڑ کر۔ اندر موجود، پہلے کے پاکستانی اور اب کے کینیڈیئنز میں ایک سراسیمگی پھیل گئ۔ اب کیا ہوگا؟
اب تو آپ سمجھ گئے ہونگے کہ خمار گندم ہی نہیں ہوتا ہر جگہ کی گندم کے اور بھی اثرات ہوتے ہیں جو طبیعتوں پہ انداز ہوتے ہیں اور اس ادا سے کہ گویا ہمیشہ سے ایسے ہی تھے۔ دروازہ بند کر دیا آپ نے، رکون جارحیت پسند ہوتے ہیں؟ خاتون خانہ نے ہمیں  اطلاع دی یعنی کہ ایک پاکستانی کو۔ اسے ہم نے اپنے اوپر یعنی پاکستان پہ حملہ سمجھا۔   'ڈرم کا دروازہ؟ نہیں کیا، رکون بہت بد حال ہو رہا  تھا، میرا تو خیال ہے کی چالیس ڈگری میں ڈرم کے اندر بیک ہو چکا ہے اس نے توایک مسکین سی نظر کی یہ بتانے کو کہ وہ زندہ ہے اور دوبارہ منہ دبا لیا'۔ ہو سکتا ہے کہ اپنے سامنے ایک پاکستانی جارح کو دیکھ کراسکا  یہ حشر ہوا ہو۔ کیونکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ رکون کو اپنا سبز پاسپورٹ دکھانے کا ہمیں ذرا خیال تک نہیں آیا تھا۔
نہیں گھر کا دروازہ؟ 'گھر کا دروازہ، کیوں نہ کھلا چھوڑ دیں ہمیں معلوم ہے اس وقت رکون امریکہ بنا ہوا ہے۔ اس کے پاس نہ طاقت ہے نہ وقت  کہ وہ کھلے دروازوں کو جھانکنے کی زحمت کرے۔ قیامت،  سمجھتی ہیں آپ، قیامت کا دن۔ آج ٹورنٹو میں اڑتیس ڈگری درجہ ء حرارت تھا وہ بھی اڑتالیس سال کے بعد۔ اور آج ہر کینیڈیئن نے جو ٹورنٹو میں رہتا ہے کم از کم اڑتیس دفعہ یہ جملہ کہا ہوگا، کتنی گرمی ہے، اٹس ٹو ہاٹ۔ یہ ہے تو اڑتیس ڈگری لیکن محکمہ ء موسمیات نے کہا ہے کہ مرطوب نہ ہونے کی وجہ اڑتالیس ڈگری محسوس ہو گا'۔ میں نے ایک کراچی والے نے اس میں جتنی حقارت ڈال سکتا تھا ڈال کر کہا۔ 
ہم نے آج تک گرمی کو یا تو درجہ ء حرارت میں ناپا یا محسوس کیا۔ کبھی بیان کوبڑھاوا دینے کے لئے ان دونوں کا اختلاط نہیں کروایا۔ ہمیشہ ہر سال تاریخی گرمیوں سے نبٹنے کے بعد ہم نے فخر کیا کہ دیکھا اسے بھی گذار آئے۔ یہ نہیں کہ پہلے سے بے سدھ پڑ گئے محکمہ ء موسمیات پہ۔
طے یہ پایا کہ صاحب خانہ کے آنے کا انتظار کیا جائے۔ اگر اس وقت تک رکون نکلنے میں کامیاب نہ ہوا تو صاحب خانہ کو معلوم ہے کہ گھر میں ایک بڑا ڈنڈا کہاں ہے وہ اس سے ڈرم کو ٹیڑھا کر دیں گے اور اس طرح رکون کے بھاگنے کی کچھ سبیل پیدا ہو گی۔
کچھ منٹ گذرے ہونگے کہ وہ آگئے۔ ڈرم ٹیڑھا ہوا اور رکون اس میں سے اس طرح نکل بھاگا کہ تمام تماشائ یہ منظر دیکھنے کی کوشش ہی کرتے رہ گئے۔
گھر میں کچھ سکون ہوا۔ پورے ٹورنٹو میں یہ واحد گھر تھا جہان ایک دن میں دو مصیبتیں نازل ہوئیں۔ ایک گرمی اور دوسرے رکون۔
اب ہم جادو ٹی و ی پہ بیٹھے وطن عزیز میں اینکرز کی پھیلائ گرمی کا زور دیکھ رہے تھے کہ ایک عزیزہ کی آمد ہوئ۔ بچوں نے انہیں دروازے پہ ہی آج کے دلچسپ قصے کی رننگ کمنٹری سنا ڈالی۔ جائے ایکسیڈنٹ کا معائینہ بھی کر وا ڈالا۔ واقعات کی ترتیب اور گہرائ کو جان کر جب وہ گھر میں داخل ہوئ تو پھٹ پڑیں۔
یہ آپ لوگوں نے کیا کیا؟ رکون کو بھگا دیا؟ تو پھر ہم کیا کرتے؟ میں نے انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ '۹۱۱ پہ اطلاع کرتے ناں اور ٹی وی والوں کو فون کر دیتے۔ وہ آتے اس سارے واقعے کی فوٹیج بنتی اور اس وقت ہم یہ جادو دیکھنے کے بجائے' انہوں نے  ٹی وی پہ نظر آنے والے پاکستانی چہروں کو بغض سے دیکھتے ہوئے کہا۔ 'ہم اس وقت ٹی وی پہ اپنی فوٹیج دیکھ رہے ہوتے ۔ ہم کیا اس وقت پورا ٹورنٹو اسے دیکھ رہا ہوتا کہ ہم نے کس ذمہ داری سے ایک رکون کی جان بچائ. لوکل میڈیا پہ تاریخی گرمی کے بعد یہ دوسری سب سے بڑی خبر ہوتی جو مسلسل دوہرائ جارہی ہوتی'۔
ہاں، ہم نے سوچا بات تو ٹھیک ہے۔ اس رکون کو تو اب تک یاد بھی نہ ہوگا کہ کہ ہم نے اسکی جان بچائ۔ رکون تو رکون ہاتھی بھی ایسی انسانی نوازشیں یاد نہیں رکھتا جبکہ کہتے ہیں کہ ہاتھی کی یادداشت بڑی اچھی ہوتی ہے۔ ہمارے سیاستداں تک یاد نہیں رکھتے کہ کون انہیں مسند اقتدار پہ لے کر آیا۔ یہ فوٹیج بنتی تو کم از کم لوگوں کو تو یاد رہتا، کینیڈا کے لوگوں کو۔
پھر یہاں وطن میں چینلز کی بھرمار ہے مگر آج تک کسی پہ بھولے سے بھی ہماری باری نہیں آئ۔ مرنے والوں کی ہی باری آتی ہے یا مارنے والوں کی ہم چونکہ کسی میں شامل نہیں اس لئے محروم ہیں۔ آنکھ ایک نہیں کجلوٹیاں نو نو۔
لیکن عین اسی لمحے ہمیں کینیڈیئن میڈیا کی غربت اور عسرت پہ افسوس ہوا۔ انکے نظام  اور سیاستدانوں کی کاہلی  اور عاقبت نا اندیشی پہ حیرت بھی ہوئ۔ میڈیا، ریاست کے پانچویں ستون کو انہوں نے رکونزکے متعلق خبریں بنانے پہ لگایا ہوا ہے۔ چھی چھی۔ استغفراللہ۔
ان سے تو ہم ہی اچھے انسانوں  کو انسانوں کے پیچھے اور حیوانوں کو حیوانوں کے پیچھے ہی لگایا ہوا ہے کبھی کبھی حیوان انسان کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ تو یہ انکا پاگل پن ہوتا ہے میرا مطلب انسان کا کہ وہ حیوان کے سامنے آتا کیوں ہے۔ لیکن کیا  کبھی ایسا سنا کہ انسان حیوان کے پیچھے۔ ایک انسان کی یہ تذلیل صرف انہی ملکوں میں ممکن ہے۔ بس یہ سر زمین ایسے ہی اوٹ پٹانگ واقعات کی زمین ہے اس لئے لوگ کہتے ہیں کہ ایک بار دیکھا ہے دوبارہ دیکھنے کی ہوس ہے۔   

Saturday, August 20, 2011

قبائلی نظام اور معاشی و معاشرتی پسماندگی

سسکاچُوین، کینیڈا کا ایک صوبہ ہے جو کہ پریری علاقے میں شامل ہے۔ کینیڈا کے دو اور صوبے اس  علاقے میں شامل ہیں جو البرٹا اور مینی ٹوبا ہیں۔ اسکے علاوہ کسی حد تک اس میں برٹش کولمبیا بھی شامل ہے۔ پریری سے ایک جانور یاد آرہا ہے۔  اسے کہتے ہیں پریری ڈاگ۔ لیکن اس پریری علاقے کا اس کتے کے نام کے چوہے نما جانور سے کوئ تعلق نہیں۔  
پریری دراصل ایک گھاس کا نام بھی ہے جو نارتھ امریکہ کے بعض علاقوں میں میں بکثرت پائ جاتی ہے یہ علاقے میدانی علاقے ہیں، زراعت کے لئے مناسب۔ لیکن یہاں معدنیات بھی پائ جاتی ہیں۔ البرٹا، کینیڈا کے امیر ترین صوبوں میں شامل ہے اس لئے کہ یہاں تیل جیسی معدنی دولت کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔
اس وقت یہ تحریر سسکاچُوین صوبے سے لکھی جارہی ہے اس لئے ہم امیروں کی نہیں غریبوں کی بات کریں گے۔ سسکاچُوین کینیڈا کا ایک غریب صوبہ ہے۔ اتنا غریب ہے کہ ٹورنٹو سے لوگ یہاں آکر رہنا پسند نہیں کرتے۔ اتنا غریب ہے کہ یہاں پہنچ کر آپکو وہ مقامی لوگ اکثرنظر آئیں گے جو کینیڈا کے قدیم باشندے ہیں یعنی ریڈ انڈیئنز۔ اتنا غریب ہے کہ کینیڈیئن امیگریشن حاصل کرنے کے بعد اگر آپ یہاں ایک سال گذار لیں تو اپنے پورے خاندان کو کینیڈا بلا سکتے ہیں۔ یہ لالچ اونٹاریو صوبہ آپکو نہیں دے گا۔ جہاں ٹورنٹو واقع ہے۔
دنیا میں ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے چاہے وہ محبت ہو، نفرت ہو، خوف ہو یا لالچ۔ یہ قیمت ادا کیجئِے یہ جذبات پیدا ہو جائیں گے یہ قیمت ادا کیجئیے یہ جذبات ختم ہو جائیں گے۔ اس طرح ہر چیز کی ایک وجہ بھی ہوتی ہے جو بعض اوقات واضح ہوتی ہے اور بعض اوقات ایسے چھپ جاتی ہے کہ محبت کرنے والے پہ، نفرت کرنے والے پہ، خوف یا لالچ رکھنے والے پہ بھی واضح نہیں ہوتی۔ لیکن سسکاچُوین صوبہ اتنا مشکل نہیں یہاں اسکی وجوہات کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اس علاقے میں سال کے چھ مہینے شدید سردی رہتی ہے جس میں زیادہ تر وقت یہاں برفباری  ہوتی ہے اس دوران کچھ اگایا نہیں جا سکتا۔ اس قدرتی حالت سے الگ، یہ ان علاقوں میں بھی شامل ہے جہاں ریڈ انڈیئنز سب سے زیادہ آباد ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یوروپ سے کینیڈا ہجرت کرنے والوں نے ان ریڈ انڈیئنز پہ بڑے ظلم ڈھائے اور انہیں اس بیابان علاقے کی طرف دھکیل دیا۔ یہی نہیں انہیں ایسی لتوں میں مبتلا کر دیا جس سے وہ نسل در نسل نجات نہیں پا سکے۔ ان میں سے ایک لت نشہ آور اشیاء کا استعمال ہے۔
 بعض لوگوں کے خیال میں وہ کاہل بھی ہیں اور اپنی حالت تبدیل کرنے کے لئے کچھ نہیں کرتے۔ بعض کا موءقف ہے کہ انہیں جان بوجھ کر پسماندہ رکھا گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے انہیں چند نام نہاد سہولتیں دے کر مزید کاہل بنادیا گیا ہے اور ان میں سے کچھ کرنے کی امنگ کو ختم کر دیا گیا۔ بہر حال اطراف میں نظر آنے والے یہ مقامی باشندے دیگر لوگوں کے مقابلے میں پسماندہ سے لگتے ہیں۔
ریڈ انڈیئنز کو انیس سو اسّی کے اوئل  میں سرکاری طور پہ فرسٹ نیشنز کا نام دیا گیا۔ فرسٹ نیشنز میں دیگر اقلیتیں بھی شامل ہیں۔ یہ اصطلاح زیادہ مقبول نہ ہو سکی۔ اسکے بجائے لوگوں نے اپنے قبائل کے نام کو اپنی شناخت بنانے پہ ترجیح دی۔
یہ ریڈ انڈیئنز یہاں اس وقت آکر آباد ہوئے جب کولمبس نے امریکہ دریافت کیا اور وہاں کے مقامی باشندوں کو انڈیئنز کہا کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ وہ انڈیا پہنچ گیا ہے۔ ان اقوام کے ظلم سے بچنے کے لئے مقامی باشندے کینیڈا کی طرف ہجرت کر گئے۔
یوروپی اقوام نے جب کینیڈا کا رخ کیا تو ابتداً مقامی باشندوں نے ان کا خاصہ ساتھ دیا۔  لیکن ہوا یہ کہ ان یوروپی اقوام نے اٹھارہویں صدی کے دوران یہاں پائے جانے والی ایک قسم کی بھینس جسے بائ سن کہتے ہیں اسکا بے دریغ شکار کیا۔ 
بائ سن پہ ان مقامی انڈیئنز کا کافی انحصار تھآ۔ وہ نہ صرف اس سے خوراک حاصل کرتے تھے بلکہ اسکی کھال انکے لئے لباس کا ذریعہ تھی۔ 
اندھا دھند شکار کے نتیجے میں یہ جانور اپنے خاتمے کے قریب پہنچ گیا، اس کا سب سے اندوہناک اثر انڈیئنز پہ ہوا اور انہیں شدید ترین قحط سے گذرنا پڑا جسکے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور ہزاروں نے نقل مکانی کی۔  اپنی زمینیں چھوڑیں جس پہ وہ کاشت کاری کرتے تھے اس پہ دیگر اقوام نے قبضہ کر لیا۔
یوروپی اقوام جو کہ اس وقت اپنی حکومت بنا چکے تھے اپنے عدالتی طریقے رائج کر چکے تھے انکا اپنا پولیس کا انتظام تھا۔ یہ سارے انتظامات مقامی انتظامات سے بالکل الگ تھے۔ اس طرح مقامی انتظامات تباہی سے دوچار ہوئے دوسری طرف انہوں نےان انڈیئنز  سے کئ معاہدے کئے۔ لیکن اس سے انکی حالت میں کوئ تبدیلی نہیں آ سکی۔ ان معاہدوں سے تنگ آ کربعض قبائل نے ان معاہدوں پہ دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ اس ساری صورت حال کے بعد انڈیئنز میں احتجاج پیدا ہوا۔ کئ تحریکیں چلیں، انڈیئنز کو دبانے کے لئے ہر طرح کا نسخہ آزمایا گیا جس میں قتل و غارت گری بھی شامل ہے۔
پھر انہیں ضم کرنے کی کوشش یہ کی گئ کہ یوروپی اقوام کا متعارف کرائ ہوئ ثقافت کو اپنانے کے لئے ان پہ زور ڈالا گیا۔ جسے اب وہ کینڈیئن ثقافت کہتے تھے۔  یوروپی النسل لوگ جو کہ اکثریت میں تھے اس طریقے کو صحیح سمجھتے تھے۔ کیونکہ اپنے آپکو وہ ہر لحاظ سے مقامی انڈیئنز سے برتر خیال کرتے تھے۔
ضم کرنے کی ان کوششوں میں ایک انتہائ درجے کی خراب شکل اس وقت پیدا ہوئ۔ جب ان پر یوروپی نظام رکھنے والےاسکولوں میں تعلیم دینے کے لئے قوت کا استعمال ہوا۔اسکے لئے ایسے اسکول قائم کئے گئَ جہاں ان بچوں کو والدین سے الگ رکھا جاتا تھا۔ مبصرین کے نزدیک یہ ان بچوں میں انڈیئن روح کو ختم کرنے کی کوشش تھی۔ 
پابندی عائد کی گئ کہ وہ اپنی زبان نہیں بولیں گے بولنے پہ انہیں سزا ملے گی۔ چونکہ یہ اسکول زیادہ تر مختلف چرچز کے زیر انتظام تھے اس لئے ان پہ یہ پابندی بھی لگائ گئ کہ وہ اپنے بنیادی عقیدے پہ عمل نہیں کریں گے۔ ظاہر سی بات ہے کہ  اسے ثقافتی  اور نسلی قتل کہا جائے گا۔ 
اسکولوں میں مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے طالب علم بڑی تعداد میں جنسی زیادتی کا شکار ہوئے، صفائ کی حالت بہتر نہ ہونے کی وجہ سے ٹی بی جیسا مہلک مرض پھیلا۔ بیسویں صدی کے آغآز میں کینیڈا کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے جذبے نے جنم لیا۔ بالآخر انیس سو ساٹھ میں ان اسکولوں کو بند کر دیا گیا۔ سرکاری طور پہ معافی مانگی گئ۔ اور نئے معاہدے ہوئے۔
انیس ساٹھ میں انڈیئنز کو ووٹ دینے کا حق ملا۔ انیس سو انہتر میں انکی امتیازی حیثت کو ختم کر کے انہیں دیگر کینڈیئنز کے ساتھ ضم کرنے کا ایکٹ سامنے آیا۔
اسکے بعد مقامی انڈیئنز کے مختلف قبائل سے مختلف معاہدوں کی لمبی فہرست ہے ۔ مثلاً آج اکیسویں صدی کے کینیڈا میں کیوبک صوبے کی حکومت نے کری قبائل سے معاہدہ کیا  اور صوبے میں ہائڈرو الیکٹرک ذرائع کو استعمال کرنے پہ کیوبک حکومت کری قبیلے کی حکومت کو تین اعشاریہ چار بلین ڈالر ادا کرے گی۔
اس بات پہ مجھے بلوچستان کے قبائلی سردار یاد آتے ہیں جو حکومت پاکستان سے بلوچستان سے نکلنے والی گیس کی قیمت وصول کرتے ہیں اور اپنے صوبے کی فلاح کے لئے نہیں بلکہ اپنے بچوں اپنی نسل کی فلاح کے لئے استعمال کرتے ہیں اور اگر اس رقم  کے لین دین میں اونچ نیچ ہو تو وہ اسے بلوچستان کے عوام  سے ظلم قرار دیتے ہیں۔
آجکے کینیڈا میں بھی ان مقامی انڈیئنز یا آجکی زبان میں فرسٹ نیشنز کے مسائل دیگر تمام کینیڈیئنز سے کہیں زیادہ ہیں اور سنگین ہیں۔ یہ شاید ایک لمبے عرصے تک دبائے جانے کا اثر ہے۔ تعلیمی شرح کم اور غربت زیادہ ہےان میں بے روزگاری شرح زیادہ ہے۔ جرائم کی شرح زیادہ ہے، وہ نشہ آور اشیاء کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں۔  مجھے کوئ بتا رہا تھآ کہ برفباری دنوں میں برف میں ملنے والی لاشیں زیادہ تر مقامی انڈیئنز کی ہوتی ہیں جو نشے کی گرمی میں برف میں زیادہ دور تک نکل آتے ہیں اور واپس پہنچنے سے پہلے راستے میں ٹھنڈ کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ 
حالت حمل میں الکوحل کے استعمال کی وجہ سے پیدا ہونے والے ذہنی اور جسمانی لحاظ سے پسماندہ  بچوں کی تعداد ان میں کہیں زیادہ ہے۔  اسکے ساتھ خودکشی کا رجحان زیادہ ہے جبکہ جنسی زیادتی کی شرح بھی زیادہ ہے۔
انکا عرصہ ء حیات بھی دیگر کینیڈیئنز کے مقابلے میں کم ہے۔ مردوں میں یہ تقریباً آٹھ سال کم ہے جبکہ خواتین میں ساڑھے پانچ سال کم ہے۔
ان مقامی انڈیئنز کے گینگز اب ایک اور سنگین مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔ جو جرائم میں ملوث ہوتے ہیں۔ یہ غربت کی وجہ سے جنم لیتے ہیں۔ یہ گینگز زیادہ تر ونی پگ اور مینیٹوبا میں پائے جاتے ہیں۔ 
اس تمام صورت کی وجہ یہ خیال کی جاتی ہے کہ لا محدود قسم کے اختیارات قبائلی سردار کے پاس ہونے کی وجہ سے وسائل صحیح طور پہ استعمال نہیں ہو پاتے۔ کیا خیال ہے یہی صورت ہمارے  ملک کی نہیں جہاں نظریات کچھ بھی ہوں، عملی طور پہ قبائلی سرداری نظام نافذ ہے ؟
میں نے سسکاچُوین میں کیا کیا؟ یہ جاننے کے لئے اگلی تحریروں کے منتظر رہئیے۔ خدا حافظ  پاکستان۔

Saskatchewn 
Alberta
Manitoba
Quebec
Tribal system

Monday, August 8, 2011

چندہ اور ثواب

 کینیڈا میں ایکدن مجھے ای میل ملی کہ رمضان کا مہینہ ہے مجھے یہاں  کمیونٹی افطار میں شریک ہونے کا تجربہ کرنا چاہئیے۔ اس سلسلے میں دو نام دئیے گئے ایک اثناء اور دوسرا روائیتی مساجد میں ہونے والے افطار کے اجتماعات۔
حسب عادت ادھر ادھر سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ایک خاندان ابھی تین چار دن پہلے ہی اثناء کے کمیونٹی افطار میں شرکت کر کے آرہا تھا اور انتہائ نالاں تھا۔
اثناء یہاں کینیڈا میں مسلمان کمیونٹی کا ایک ادارہ ہے جس نے اپنے اوپر کچھ ذمہ داریاں لی ہوئ ہیں جو آپ انکی ویب سائیٹ پہ دیکھ سکتے ہیں۔ انکی شاخیں مختلف جگہوں پہ قائم ہیں۔ یہ اپنے انداز میں لبرل سمجھے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اثناء کی طرف سے اسلامی کیلینڈر جاری کیا جاتا ہے۔ جس میں چاند کا حساب جدید سائینسی طریقوں پہ کیا جاتا ہے۔ اور پہلے سے اسکی تاریخ مشتہر کر دی جاتی ہے  یعنی شعبان کے مہینے میں معلوم تھا کہ رمضان کس دن شروع ہونگے۔ افسوس یہاں پشاور کی قاسمی مسجد اور اسکے مولانا صاحبان موجود نہیں۔ ورنہ چاند ہمیشہ ایکدن پہلے ہوتا۔
ہاں تو، انکے نالاں ہونے کی بھی وجوہات تھیں۔ اول انہوں نے کہا کہ وہاں کھانے کے وقت انتہائ افراتفری تھی۔ پاکستانی خواتین سب کی سب اسکارف پہنے ہوئے تھیں۔ اور سب کو نماز سے زیادہ افطار اور کھانے کی چیزوں کی فکر تھی۔ آپکو معلوم ہے یہ سب لوگ یہاں برسوں سے رہ رہے ہیں لیکن کھانے پہ جس طرح ٹوٹ پڑتے ہیں وہ قابل شرمندگی ہوتا ہے۔ کیا پاکستانی ہونا جینز میں چلتا ہے؟ انہوں نے مجھ سے پوچھا۔
دوسرا اہم شکوہ یہ تھا کہ اثناء کو مسلمانوں کی طرف سے چندے کی مد میں ایک ایک شخص ہزاروں لاکھوں ڈالر دیتا ہے اس حساب سے انکے انتظامات انتہائ بے کار تھے۔ آخر یہ لوگ اتنے پیسوں کا کیا کرتے ہیں۔ اگر انہیں افطار کرانے کا طریقہ سیکھنا ہے تو جا کر کراچی کی سڑکوں کو افطار کے وقت دیکھیں کہ لوگ کتنی فیاضی سے اور قرینے سے سڑک کے کنارے دسترخوان سجائے ہوتے ہیں۔ انکی اس بات پہ مجھے رمضان میں سڑک کنارے عوامی افطار یاد آگئے جو اب کراچی کا ایک ثقافتی نشان بنتے جا رہے ہیں۔

 

اس مقام سے ایک اہم موضوع نے جنم لیا۔ وہ ہیں مساجد اور مدارس کو چندے کی مد میں حاصل ہونے والی خطیر رقومات اور انکا استعمال ہیں۔
ادھر پاکستان میں ہوش سنبھالنے سے اکثر مساجد کو تعمیر ہوتے دیکھتے آرہے ہیں وہ اب تک تعمیر ہو رہی ہیں اور اب تک چندہ چل رہا ہے۔ اکثر مساجد میں چندے کا بکس ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ یہاں کینیڈا میں بھی مساجد میں اور دیگر مذہبی اداروں میں خطیر رقم چندے کے طور پہ جمع کی جاتی ہے۔ لیکن ان تمام اداروں سے یہ حساب کتاب کون رکھتا ہے کہ وہ اس رقم کا کیا کرتے ہیں۔
اچھا، حساب کتاب رکھنا تو ایک موضوع ہے دوسرا موضوع یہ ہے کہ جو لوگ ہزاروں لاکھوں ڈالر ان مدارس اور مساجد کو دیتے ہیں وہ آخر پاکستان میں دیگر شعبوں کے اوپر کیوں خرچ نہیں کرنا چاہتے۔ سمجھ میں آتا ہے یہ سارا ثواب کا پروپیگینڈہ ہے۔ آج اگر کوئ مولانا صاحب حساب کتاب لگا کر بتا دیں کہ ایک شخص کو مستقل روزگار کا ذریعہ مہیا کرنا مسجد یا مدرسے کو چندہ دینے سے زیادہ ثواب رکھتا ہے تو لوگوں کا رجحان اس طرف ہو جائے گا۔ ان لوگوں سے ہٹ کر جو جانتے ہیں ثواب طاعت و زہد ، پر طبیعت ادھر نہیں آتی۔
وطن عزیز میں تو ہم لوگوں کی جہالت کو روتے ہیں۔  ان ترقی یافتہ ممالک کو ہجرت کر جانے والے  لوگوں کی کثیر تعداد اعلی تعلیم یافتہ ہوتی ہے۔ لیکن جب صدقے زکوات اور دیگر پیسوں کو خرچ کرنے کی بات آتی ہے تو معذرت کے ساتھ یہ لوگ بھی کسی ویژن یا دور اندیشی  کا مظاہرہ نہیں کرتے۔
آج کے پاکستان میں ایک عام شخص کو مساجد یا دینی مدارس کی زیادہ ضرورت ہے یا ہسپتال اور اسکولوں کی، بنیادی ہنر سکھانے والے اداروں کی یا حفظان صحت سکھانے والی مہموں کی یا روائیتی روزگار کے طریقوں سے ہٹ کر نئے روزگار کے ذرائع پیدا کرنے کی۔
غیر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو ذرا اس طرف بھی توجہ کرنی چاہئیے۔ آپ  چند لوگ مل کر پاکستان میں ایسے اداروں کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جہاں آپ کے پیسے زیادہ بہترین طریقے سے انسانیت کے کام آ سکتے ہیں۔  کسی نے سینکڑوں سال  پہلے کہا تھا کہ پل بنا ، چاہ بنا، مسجد و تالاب بنا۔ آپ لکیر کے فقیر بننے کے بجائے کچھ الگ راستے بنا سکتے ہیں۔ زمانہ آگے نکل آیا ہے۔ ضروریات مختلف ہو گئ ہیں۔ ثواب کمانے میں بھی اگر جدت طرازی آجائے، تخلیق کاری ہو جائے، تو کیا مضائقہ ہے۔ آخر بیرون ملک رہنے سے آپ کو جو ایکسپوژر حاصل ہوتا ہے اسے آپ اپنے پیسے کے ساتھ جوڑ کر کیوں نہیں اس ملک کو دیتے۔ 

ISNA
ramazan
muslim community
canada
community iftar

Sunday, July 31, 2011

جھوٹ بولے کوا کاٹے

رافعہ میری سینیئر کو لیگ ہیں اور دوست بھی۔ جب تک پاکستان میں رہیں  انکی نظریاتی ہمدردی جماعت اسلامی سے رہی۔ چند سال پیشتر وہ ہجرت کر کے کینیڈا آ گئیں۔ گذشتہ دنوں کینیڈا میں ان سے ملاقات ہوئ۔  یہاں بھی وہ اسکارف اور عبایہ پہنتی
ہیں۔ انکی سترہ سالہ اور چودہ سالہ بیٹی بھی سر پہ اسکارف لیتی ہیں۔
یہاں میں جس پاکستانی سے بھی ملتی ہوں اس سے یہ سوال ضرور کرتی ہوں کہ اسے یہاں کیسا لگتا ہے۔ یہی سوال ان سے بھی پوچھا۔ کہنے لگیں جنت کا تصور بھی کچھ ایسا ہی ہے جیسا ہم یہاں حقیقی زندگی میں دیکھتے ہیں۔ بچوں کو وظیفہ ملتا ہے ہمارے بیشتر اخراجات تو اس سے ہی طے ہو جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ شہریوں کے دیگر حقوق ہیں۔ مثلاً اسکول کی تعلیم مفت ہے۔ مجھے آپنے بچوں کی تعلیم پہ نہیں خرچ کرنا پڑتا۔ یونیورسٹی تعلیم کے لئے حکومت قرضے دیتی ہے۔ روزگار نہ ہو تو وظیفہ ملتا ہے۔ گھر میں کوئ بچہ معذور ہو تو بے شمار رعائیتیں ملتی ہیں۔ فلاحی ریاست کا اگر کوئ تصور ہے تو یہ ریاست اس پہ پوری اترتی ہے۔
ہم کام کرتے ہیں مگر زندگی کی دیگر تفریحات کے لئے وقت ملتا ہے۔ اپنے گھر کے سامنے موجود ہرے بھرے ٹیلے کی طرف اشارہ کر کے انہوں نے کہا۔ سردی میں اس پہ برف جمی ہوتی ہے میں اور میرے بچے اس پہ اسکیٹنگ کرتے ہیں۔ یہ
گرمی کا موسم ہے آجکل ہم باقاعدگی سے پارک جاتے ہیں مختلف تفریحی مقامات کے لئے رعائیتی پاسز بھی موجود ہیں۔
اب رمضان آنے والا ہے آپکو تو پاکستان اس موقع پہ بڑا یاد آتا ہوگا۔ رمضان منانے کا لطف تو وہاں پہ ہے۔ میں نے پوچھا۔ انکی بچی کہنے لگی نہیں تو یہاں رمضان زیادہ اچھے ہوتے ہیں۔ ہماری بلڈنگ میں کافی مسلمان ہیں۔ رمضان میں ہم افطاری لے کر مسجد چلے جاتے ہیں۔ وہاں دیگر فیملیز کے ساتھ روزہ افطار کرتے ہیں۔ مسجد میں بھی افطاری کا انتظام ہوتا ہے۔ روزانہ مفت سحری اور افطار ہوتا ہے۔ آخری عشرے میں جاگنے والی راتوں میں محفل شبینہ ہوتا ہے۔ ہم وہیں راتیں
گذارتے ہیں، بڑی رونق رہتی ہے۔
ہاں انہوں نے کہا پاکستان کی ایک چیز بڑی یاد آتی ہے اور وہ رمضان سے پہلے  ، رمضان کی وجہ سے چیزوں کی قمیتوں میں ہوش ربا اضافہ۔ بس یہ یہاں نہیں ہوتا۔  رحمت کی یہ قسم یہاں دستیاب نہیں
پاکستان میں لوگ کہتے ہیں کہ ان مغربی ممالک میں اس وقت تک آپکو قبول نہیں کیا جاتا جب تک آپ ان جیسے نہ ہوجائیں۔ یہاں کینیڈا میں یہ عالم ہے کہ ہجرت کر کے آئے ہوئے مسلمانوں کی تعداد اس قدر بڑھ چکی ہے کہ وہ یہاں اداروں کی پالیسیز پہ اثر انداز ہونے لگے ہیں۔انکی ایک بچی کے اسکول میں تو پچاس فی صد بچے مسلمان ہیں۔ میں نے اسکے اسکول کے کنووکیشن کی تصویر دیکھی اور ناموں سے اندازہ کیا کہ کون کون مسلمان ہیں۔
اسکول ہی نہیں اکثر ادارے ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد ہونے کی وجہ سے وہ اپنی پالیسیز میں تبدیلیاں لائے ہیں۔ کینیڈیئن پارلیمنٹ میں مسلمان ممبران موجود ہیں۔ کیلگیری کا تو میئر بھی مسلمان ہے۔ اسکے علاوہ کینیڈا میں بچوں کے اسلامی اسکول الگ سے ہیں جہاں یہاں کا منظور شدہ اسکول کا کورس بھی ہے اور ساتھ میں اسلامیات اور قرآن کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ ٹورنٹو میں ان اسلامی اسکولوں کی قابل تذکرہ تعداد موجود ہے۔
اگر صورت حال یہ ہو کہ صرف وہی لوگ رہ پاتے ہوں جو اپنے مذہب اور ثقافت کی قربانی دیتے ہیں تو یہ تبدیلی کیسے ممکن ہے کہ جس جگہ آج سے تیس سال پہلے حلال گوشت ملنا تقریباً نا ممکن تھا وہاں اب یہ بآسانی دستیاب ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستانی خواتین اور مرد شلوار قمیض میں عوامی جگہوں پہ نظر آجائیں۔ سو، یہ کہانی سنانے والے یا تو ان علاقوں سے واقف نہیں یا پھر جان بوجھ کر ڈنڈی مارتے ہیں۔ یہ جھوٹ کیوں بولنے پہ مجبور ہیں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
میرے سامنے موجود ایک چھبیس ستائیس سالہ نوجوان نے جو اٹھارہ سال کی عمر میں پاکستان سے کینیڈا پہنچا ،  جب بڑے جذبے سے کہا کہ دنیا میں کوئ ملک کینیڈا کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ کوئ ایک ایسا ملک ایسا نہیں جہاں اتنی بڑی تعداد میں مختلف قومیتوں اور مذاہب کے لوگ اتنی ہم آہنگی سے رہ رہے ہوں۔ میں اسے رد نہیں کر سکی۔ میں نے اس سے پوچھا یہاں مختلف مذاہب اور قومیتوں کے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ پھر بھی ایک ساتھ رہ رہے ہیں۔ پاکستان میں ایک ہی مذہب کے لوگ اکثریت میں ہیں۔ پھر بھی ایسا ممکن کیوں نہیں ہوا؟ اس فخر سے پاکستان میں رہنے والے کیوں محروم ہیں۔
اس نوجوان نے مجھے ایک جانا پہچانا جواب دیا۔ جو پہچان پہ ہے ناز تو پہچان جائیے۔


canada, pakistan, toronto, islam,  culture, islamic school,religion, ramazan, calgary, extremism,

Friday, July 22, 2011

بلندی سے

محبوب آپکے قدموں میں ہو تو دنیا قدموں کے نیچے لگتی ہے۔ لیکن اس میں کچھ قباحتیں ہیں۔ مثلاً ایک ایسے عامل کامل کی کھوج لگانا جو محبوب کو ان دیکھی بیڑیوں سے باندھ کر آپکے قدموں میں لے آئے۔ لیکن اس سے پہلے یہ کہ خدا نے آپکو اس جگر کے ساتھ پیدا کیا ہوا جس سے رائج الوقت طریقے سے ہٹ کر آپ کسی سیاستداں کے بجائے کسی انسان سے محبت کر سکیں۔
ایسا ہونا مشکل ہے کیونکہ آئینسٹائین کے نظریہ ء اضافیت کی طرح محبت کا بھی ایک نظریہ اضافیت ہے اور وہ یہ کہ اگر آپ کسی سیاستداں کو محبوب بنانے کے سنگین امتحان سے نکل آئیں تو اس بات کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں کہ آپ خود سیاستداں بن جائیں گے۔ محبت اور سیاست میں کیا تعلق ہے یہ جاننا کچھ مشکل نہیں مگر بتانا آسان نہیں۔
اچھا، میں اس پوسٹ میں نہ محبوب کو قدموں میں لانے کے لئے کوئ وظیفہ بتا رہی ہوں اور نہ سیاست میں جائز اور ناجائز کی حدیں مقرر کر رہی ہوں۔ کیونکہ ہر محبوب کی تسخیر کے لئے ایک علیحدہ وظیفہ چاہئیے ہوتا ہے اور سیاست میں جائز اور ناجائز کی حدیں تو بڑے بڑے مفتی مقرر نہ کر سکے۔ چہ پدی چہ پدی کا شوربہ۔
البتہ دنیا قدموں میں لانے کا ایک آسان طریقہ بتا سکتی ہوں۔ اسکے لئے آپکو کینیڈا کے شہر ٹورنٹو آنا پڑے گا۔ اور یہاں موجود سی این ٹاور کے ٹکٹ گھر سے صرف تیس ڈالر یعنی مبلغ ڈھائ ہزار پاکستانی روپوں کا ٹکٹ لینا ہوگا۔ اسکے بعد ٹاور کی بلندی پہ لے جانے والی لفٹ کے لئے ڈیڑھ سے دو گھنٹے قطار میں کھڑا ہونا پڑے گا۔
بس پھر دنیا آپکے قدموں میں ہوگی۔ کم از کم کچھ وقت کے لئے محسوس یہی ہوگا۔
:)
یہ کچھ مہنگا طریقہ ضرور ہے لیکن جان رکھیں کہ ہر آسان طریقہ مہنگا ضرور ہوتا ہے۔ شوق کا تو کوئ مول نہیں ہوتا۔ ہم بھی دو گھنٹے لائن میں کھڑے رہنے کے بعد اس ٹاور کی بلندی پہ پہنچنے کے قابل ہوئے۔ ٹاور اور بلڈنگ میں ایک معمولی سا فرق ہوتا ہے۔ ٹاور کثیر المنزلہ نہیں ہوتا۔ نہ اس میں آفس ہوتے ہیں نہ اپارٹمنٹس نہ شاپنگ مالز نہ کوئ اور کمرشل سرگرمی۔ تین سال پہلے دنیا کے بلند ترین ٹاور کے عہدے سے ہٹائے جانے والا ٹاور محض چھتیس سال پہلے وجود میں آیا۔
اسکی تعمیر میں تقریباً سوا تین سال لگے۔


اسے ہر سال لاکھوں لوگ اسی طرح قطار میں کھڑے ہو کر اور ٹکٹ لے کر دیکھتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف کینیڈیئن حکومت کو اربوں کی آمدنی ہوتی ہے بلکہ یہ کینیڈا کی ایک پہچان بن گیا ہے۔
کینیڈا کی پہچان بن جانے والے اس ٹاور کو انیس سو پچانوے میں دی امریکن سوسائیٹی آف سول انجینیئرنگ نے جدید دنیا کے سات عجائبات میں شامل کیا۔
کینیڈا کی پہچان بن جانے والے اس ٹاور کی بلندی تقریباً ایک ہزار آٹھ سو پندرہ فیٹ یعنی تقریباً پانچ سو تریپن میٹر ہے۔ یہ ٹاور ریکٹر اسکیل پہ آٹھ اعشاریہ پانچ کے درجے کا زلزلہ برداشت کر سکتا ہے۔ یہ اپنی اصلیت میں ایک ریڈیو ، ٹی وی کمیونیکیشن پلیٹ فارم ٹاور ہے لیکن بنانے والوں نے اسے سیاحت کی نظر سے بھی دیکھا۔ سو، انیس سو چھیئتّرمیں اس پہ آنے والی تعمیری لاگت تریسٹھ ملین کینیڈیئن ڈالر تھی جو کہ اسکی تعمیر کی پندرہ سال کے اندر وصول ہو گئ۔


سیاح اسکی ایک سو سینتالیسویں منزل تک جا سکتے ہیں جو کہ اسکائ پوڈ کہلاتی ہے۔ اوپر جانے کے لئے چھ لفٹس موجود ہیں جن کی بیرونی سطح شیشے کی ہے یوں اوپر جاتے ہوئے باہر کے بدلتے مناظر نظر میں رہتے ہیں۔ لفٹ جب اوپر کی طرف سفر کرتی ہے تو بائیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چند سیکنڈز میں مشاہداتی منزل تک پہنچا دیتی ہے۔ اس دوران اکثر لوگوں کو کانوں سے حلق میں ہلکے ہلکے بلبلے پھٹتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں یا کان میں ہلکا سا دباءو آتا ہے۔ سب سے پہلے مشاہداتی منزل پہ لیجاتے ہیں۔ یہاں دوربینیں لگی ہوئ ہیں جن سے چیزیں زیادہ صاف دکھتی ہیں۔  اس مقام  سے ارد گرد کی بلند عمارتوں کی چھتیں نظر آتی ہیں۔ گاڑیاں کھلونا اور انسان روبوٹ لگتے ہیں

اس سے اوپر اسکائ پوڈ ہے۔ یہاں بھی دائرے میں شیشے کی دیوار بنی ہوئ ہے۔ یہ مشاہداتی سطح سے تینتیس منزلیں اوپر ہے۔ موسم صاف ہو تو ایک سو ساٹھ کلومیٹر تک کا علاقہ دیکھا جا سکتا ہے۔ اس میں نیاگرا آبشار سے اٹھنے والا پانی کا دھواں بھی شامل ہے۔ یہاں کھڑے ہو کر زمین قدموں تلے تھرتھراتی ہوئ محسوس ہوتی ہے۔ اس تھرتھراہٹ میں ایک عجیب سا سرور ہے۔ یوں بلندی پہ پہنچنا آسان سہی لیکن بلندی پہ ٹہرے رہنا آسان نہیں۔
اسکائ پوڈ سے واپس ہوئے تو ایک لفٹ اس سطح پہ لے گئ جسے گلاس فلور کہتے ہیں۔  گلاس فلور زمین سے تین سو بیالیس فیٹ اونچا ہے۔ درحقیقت مجھے اس فرش کو دیکھنے کی خواہش تھی۔

گلاس فلور یعنی شیشے کے فرش سے نظر آنے والا پارک

شیشے کا فرش، اسکا تذکرہ حضرت سلیمان کے قصے میں بھی ملتا ہے۔ جب ملکہ صبا انکے دربار میں داخل ہوتی ہیں تو سمجھتی ہیں کہ فرش پہ پانی پھیلا ہوا ہے اور اپنے لباس کو اوپر اٹھا لیتی ہیں۔ اس وقت انہیں بتایا جاتا ہے کہ یہ فرش شیشے کا بنا ہوا ہے۔ جس سے وہ اس سلطنت کے رعب میں آجاتی ہیں۔ میں بھی اس ملکہ کی اس کیفیت سے گذرنا چاہتی تھی۔
ہزاروں سال پرانے اس قصے کو عملی طور پہ دیکھنے کی خواہش جاگی تو میں نے ایک چیز پہ توجہ نہیں کی اور وہ ٹاور کی بلندی تھی۔ شیشے کا یہ فرش دنیا میں بنائے جانے والے شیشے کے فرشوں میں اس لئے منفرد ہے کہ سب سے زیادہ بلندی پہ ہے۔ یہاں لوگ اس فرش پہ لیٹے ہوئے تصویریں بنا رہے تھے۔ بیٹھے ہوئے کھڑے ہوئے۔ انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کس زاوئیے سے اسکی تصویر لیں۔  کچھ لوگ اس پہ پیر رکھنے سے بھی گریز کر رہے تھے۔ حالانکہ یہ فرش یہ مکمل شیشے کا فرش نہیں بلکہ اسٹیل کے فریم میںتقریباً چار ضرب تین فیٹ کے ری انفورسڈ شیشے ایک ترتیب میں لگے ہوئے ہیں جو  تقریباً چوبیس اسکوائر میٹر کا رقبہ بناتے ہیں۔ یہ فرش کئ ٹن وزن برداشت کر سکتا ہے۔
 اس فلور گلاس سے زمین کی سطح پہ واقع پارک کو بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ گلاس فلور کے کمرے سے باہر نکلیں تو دائرے میں دھاتی جالی لگی دیوار سامنے آتی ہے۔ اس سے نہ صرف باہر کا نظارہ کیا جا سکتا ہے
بلکہ ہوا کی شدت سے بھی لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔
جالیوں کے باہر وہ جزیرہ جو ایئر پورٹ کے طور پہ استعمال ہوتا ہے

ٹاور کے نزدیک واقع وہ جزیرہ صاف نظر آتا ہے جہاں صرف ایک ائیر پورٹ قائم ہے۔ اس ائیر پورٹ پہ پہنچنے کے لئے
 کشتی سے آنا پڑتا ہے۔ یہاں سے جہاز ملک کی اندرونی پروازوں کے لئے آتے جاتے ہیں۔ ہم نے بھی چند جہازوں کو ٹیک آف کرتے اور لینڈ کرتے دیکھا۔ جزیرے کی لمبائ میں رن وے موجود ہے۔ جہاں پانی جزیرے کو چھوتا ہے وہاں سے رن وے شروع ہوتا ہے اور اگلے سرے پہ جہاں ساحل پانی سے ملتا ہے رن وے ختم ہو جاتا ہے۔ اردگرد بادبانی کشتیاں سمندر میں ڈولتی پھر رہی تھیں۔
ٹاور کی زمینی سطح کے ساتھ ہی ایک اسٹیڈیئم ہے جسے روجرز سینٹر کہتے ہیں۔ اس اسٹیڈیئم پہ حرکت کرنے والی چھت موجود ہے جو اسے ڈھک لیتی ہے۔ ہم اتنی دیر وہاں موجود رہے کہ ایک دفعہ کھلی چھت دیکھی اور دوسری دفعہ بند چھت۔
اس سینٹر کی خاص بات یہ بھی ہے کہ یہاں ٹورنٹو کے مسلمان عیدین کی نماز ادا کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے اسکا کرایہ ادا کیا جاتا ہے۔

اسٹیڈیئم    کی ادھ کھلی چھت

اسٹیڈئم کی بند چھت
واپسی پہ لفٹ ایک شاپنگ سینٹر میں لے جا کر چھوڑتی ہے۔ لیکن خیال رہے کہ یہ جیب لوٹنے کا ایک شریف بہانہ ہوتا ہے۔ یہاں چار ڈالر میں ملنے والی ٹی شرٹ سترہ ڈالر کی مل رہی تھی۔ اس شرٹ کی خاص بات یہ اس پہ موجود سی این ٹاور کے الفاظ تھے۔ سو اس جگہ اور اس لیبل کی قیمت تیرہ ڈالر میں ادا ہوتی ہے۔ باقی چیزوں کا بھی یہی حال ہے۔
کچھ لوگ زندگی میں آنے والے چیلینجز کا سامنا کرنے سے کتراتے ہیں۔ کچھ آنے والے چیلینجز کا سامنا پامردی سے کرتے ہیں اور کچھ لوگ ان چیلینجز کو خود تخلیق کرتے ہیں اور پھر دنیا کو حیران کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں نے اس ٹاور میں بھی چیلینج ڈھونڈھ لیا۔ یہ لوگ اسکائ پوڈ کی بیرونی سطح  کو فتح کرتے ہیں۔ دھیان رہے اس تھرل کے لئے علیحدہ سے ٹکٹ ہے اور اسکی اجازت ہر روز نہیں ہوتی۔
سی این ٹاور اور روجرز سینٹر رات کے وقت

۔
اس بلندی تک جانے کا کیا فائدہ؟
ایک تو گھنٹوں قطار میں کھڑے رہنے سے صبر کی اعلی صفت پیدا ہوتی ہے۔ یقین جانیں محض قطار میں کھڑے رہنے سے برداشت کی صفت پیدا کرنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ گھنٹوں کھڑے رہنے اور تیس ڈالر خرچ کرنے کے بعد کچھ لوگ جب حیرانی سے پوچھتے ہیں کیا اسی واسطے چھانے تھے بیابان بہت اور آپ صم بکم کھڑے رہیں تو آپ کی قلندری زیادہ واضح ہو کر سامنے آتی ہے۔
فائدہ یہ بھی ہے کہ بلندی کا رعب دل سے ختم ہو جاتا ہےاور زمین اہم لگتی ہے۔ وہ زمین جو ٹھوکرکھا کر گرے ہوئے انسان کو ایک دفعہ پھر کھڑے ہونے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یوں دنیا قدموں تلے پڑے رہنے کے بجائے سنگ سنگ چلتے ہوئے بھلی لگتی ہے۔ خیال آرہا ہے کہ قدموں تلے پڑی دنیا دیکھ کر جو عظیم خیالات پیدا ہوتے ہیں کیا وہی خیالات قدموں تلے پڑے محبوب کو دیکھ کر بھی ہوتے ہیں؟
اگر ہاں تو آپ اپنی ذات میں خود ایک سی این ٹاور ہیں۔ اسے دیکھنے کے لئے یہاں آنے کی کوئ ضرورت نہیں۔


Thursday, July 14, 2011

حسد

آجکل کینیڈا میں موسم گرما ہے۔ لیکن مجھے تو بہار کا موسم لگتا ہے۔ ہر جگہ  طرح طرح کے پھول ، قطار اندر قطار، سرخ، اودے، نیلے پیلے ہر طرح کے پیرہن میں۔ ایک دو نہیں، ایک پودے پہ درجنوں گلاب۔ سڑک کنارے بچھی گھاس میں بھی ننھے ننھے پھول مسکراتے جھانک رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں ہم یہاں بھی ہیں۔
گھروں کے آگے سجی ہریالی تو سمجھ میں آتی ہے کہ گھر والوں کاذوق اور محنت ہے لیکن عام  سڑکوں پہ یہ محنت کون کرتا ہے۔ معلوم ہوا کہ شہری حکومت کی طرف سے پھولوں کے گملے روزانہ کی بنیاد پہ سجانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ایک ٹرک اپنے حصے کے گملے لے کر چلتا ہے اور انہیں انکے مقررہ مقام پہ رکھتا جاتا ہے یوں ایک عام پول پہ بھی پھولوں کے گچھے لہراتے نظر آتے ہیں۔ ہم پھولوں کے سوداگر ہیں اور سودا سچا کرتے ہیں۔
سوچ سکتے ہیں کہ امیر ملکوں کے پاس اتنے پیسے بچ جاتے ہیں کہ ان اللے تللوں پہ بھی خرچ کئیے جا سکیں۔ لیکن نیت کی بھی بات ہے۔ نیت صاف منزل آسان۔
شاید یہی وجہ ہے کہ کینیڈا کا شمار دنیا کے ان پانچ ممالک میں ہوتا ہے جہاں لوگ خوش باش اور خوش مزاج بھی ہیں۔ یہ سب خوشیاں، خوشحالی اور معاشرے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم سے جڑی ہیں۔ ایک بھوکا ننگا، فکروں کا مارا، بم اور راکٹ لانچر کے سائے میں جینے والا شخص کیا خوش مزاج ہوگا اور خوش باش۔
اس معاشرے میں بھی لوگ کے درمیان دولت کا فرق موجود ہے۔ وہ لوگ جو کم کماتے ہیں انہیں حکومت کی طرف سے بے شمار رعائیتیں حاصل ہوتی ہیں۔ مثلاً بچوں کے لئے زیادہ وظیفہ۔ اس طرح انکی کم آمدنی کو پورا کیا جاتا ہے۔ جتنی آمدن زیادہ ہوتی ہے ٹیکس بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ ایسا  نہیں ہوتا کہ آپ فارم ہاءوس میں محل بنا کر رہیں اور یہ کہہ کر ٹیکس نہ دیں کہ یہ تو فارم ہاءوس ہے۔ اور پاکستان کی طرح یہ بھی نہیں ہے کہ ٹیکس کا بوجھ صرف مڈل کلاس تنخواہ دار یا کاروباری طبقہ اٹھائے، قبیلوں کےسردار گلچھرے اڑائیں، غریب قسمت پہ شاکر ، معاشرے کے انصاف  اور بندوں کی کارکردگی سے مطمئن، اپنے گردے بیچے یا خودکشی کرے۔
بے روزگار افراد کو حکومت کی طرف سے وظیفہ ملتا ہے۔ بے گھر افراد کے لئے بھی شیلٹر ہاءوس موجود ہیں۔ اسکے باوجود لوگ بھیک مانگتے نظر آ سکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے وظیفے کی رقم  کو نشے پانی پہ اڑا دیتے ہیں۔ بھیک مانگتے ہیں اور پھر کسی دن خودکشی کر لیتے ہیں۔ بھیک مانگنے والی قوموں کی داستان بھی اس سے مختلف نہیں ہوتی۔
خواتین اسکارف پہنے بھی نظر آتی ہیں اور منی اسکرٹ پہنے بھی۔ لیکن کینیڈیئنز کو تو چھوڑیں۔ وہ تو ہیں ہی بے حیا۔ ہمارے پاکستانی دیسی بھائ بھی یہ سب دیکھنے کے باوجود لب سیئے رہتے ہیں۔ یہ نہیں کہتے کہ ٹانگیں ڈھک لو دوپٹہ پہن لو۔ جس کا دل زیادہ جلتا ہے وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑا کر رہ جاتا ہے ۔ انہیں میں سے شاید کچھ لوگ انٹر نیٹ پہ جا کر پاکستانی خواتین کو اخلاقی پاسداریوں کا درس دیتے ہیں، اس بات پہ افسوس کرتے ہیں کہ پاکستان میں اب تک شریعت کا نفاذ کیوں نہیں ہوا اور پھر دوبارہ کسی شاپنگ مال میں جا کر مغرب کی بے حیائ کے چشم دید گواہ بنتے ہیں۔
کیا میں  وطن کو یاد کرتی ہوں۔
شاید نہیں، بس جب ٹی وی دیکھتی ہوں تو یاد آتا ہے۔ مثلا ان دس دنوں میں ایک بھی ایسا واقعہ نہیں سنا کہ کسی خاتون کے ساتھ اجتماعی زنا بالجبر کا واقعہ پیش آیا ہو۔ لیکن ابھی ایکدن پہلے ہی ٹی و ی سے خبر سنی کہ ویہاڑی ایک بارہ سالہ لڑکی کو اس سانحے سے گذرنا پڑا۔  مردوں کی کسی ٹولی نے کسی خاتون کو چوک پہ برہنہ نہیں کیا۔ لیکن یہ خبر بھی دس دن پہلے وطن سے ہی ملی۔ خیر، اسکی وجہ یہ شاید مغرب کی بے حیائ ہی ہوگی۔

 مجھے اپنے اندر بھی خاصی تبدیلیاں محسوس ہوتی ہیں۔ مثلاً میں اور میری بچی روزانہ قریبی پارک جا کر اسکول ٹائم کرتے ہیں۔ اس وقت پارک میں کوئ نہیں ہوتا۔ لیکن میں خاصی بے خوف رہتی ہوں۔  اسی بے خوفی کی وجہ سے میں نے آجکل اپنے سونے کے کچھ زیورات بھی پہنے ہوئے ہیں۔  مجھے اپنے ہینڈ بیگ میں موجود پیسوں کی بھی فکر نہیں ہوتی۔ خدا جانے میں آجکل اتنی بہادر کیوں ہو گئ ہوں۔
 سنگین نامعلوم حالات کے پیش آجانے کے اندیشے سے دل  ہر وقت عام رفتار سے زیادہ دھڑکتا رہتا تھا۔ وہ بھی خاصہ سنبھلا لگتا ہے۔ گھر کے لوگ دیر سے آتے ہیں تو یہ خیال تک نہیں آتا کہ ٹی وی کھول کر شہر کے حالات جان لیں۔ یہاں زیادہ تر پاکستانی کینیڈا یا ٹورنٹو کے حالات سے با خبر رہنے کے بجائے پاکستانی چینلز دیکھتے رہتے ہیں۔
اور پھر ہم سے پوچھتے ہیں پاکستان کب رہنے کے لائق جگہ بنےگا۔
ادھر ایک ساتھی نے کہا کہ پاکستان سے آنے والی خبروں  کوسن کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا کہ اس پہ افسوس کیا جائے یا ہنسا جائے۔ ایک خبر ملی کہ لوگوں نے دو ڈاکوءوں کو پکڑ کر اتنی پٹائ لگائ کہ پولیس کو آ کر چھڑانا پڑا۔ لیجئیے ساری دنیا میں پولیس کو ڈاکوءووں سے لوگوں کو بچانا پڑتا ہے ہمارے یہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ تازہ واقعہ ، کراچی میں کمشنری نظام بحال ہونے کی خوشی میں شاہی سید صاحب نے دعوت کا اہتمام کیا اور اس میں جناب ذوالفقار مرزا سے بہ اصرار تازہ کلام کی فرمائیش کی گئ۔ انہوں نے اپنے مفاہمتی بھائ کے اصرار پہ ایسا پر اسرار، سحر ناک الفاظ کا جادو پھونکا کہ  پندرہ انسانوں نے اپنی قربانی پیش کر دی۔ اب آپ بتائیے اس پہ ہنسا جائے یا رویا جائے۔ 
میں پاکستانی ذہن کے ساتھ جواب دیتی ہوں۔ آپ لوگ کینیڈا کی خبریں کیوں نہیں دیکھتے۔ جواب ملتا ہے۔ یہاں کی خبریں بھی کوئ خبریں ہوتی ہیں۔ نہ گولی، نہ دستی بم، نہ راکٹ لانچر نہ لاشیں نہ ان میں وہ تخلیقی جوہر موجود کہ  ان سب چیزوں سے بھی لطیفے بنا لیں۔
پھر بھی، یہ کوئ بات نہیں کہ اب اپنے جنمی ملک واپس جانے کا ارادہ نہیں پھر بھی وہاں کےمعاملات کی کرید میں رہیں  وہ بھی ایسی کہ اس سے ہماری اور بد تری سامنے آئے۔
یہ پاکستانی ، اپنی مرضی سے یہاں ہجرت کر چکے ہیں ۔ اس ہجرت پہ افسوس کرتے ہیں مگران میں سے شاید ہی کوئ پلٹ کر واپس آئے۔  ایئر پورٹ پہ ایک خاتون مجھ سے کہنے لگیں کہ عرصہ ء پانچ سال کے بعد تین ہفتے کے لئے پاکستان آئ تھی۔ خدا کا لاکھ شکر ادا کرتی ہوں کہ بر وقت پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
ہمم،   مجھے لگتا ہے کہ میں حاسدی بھی ہو گئ ہوں، اور کسی ایک شخص سے نہیں پورے ملک سے حسد میں مبتلا ہوں۔ کیا اسکی وجہ کینیڈا کے پولز پہ لہرانے والے پھولوں کے گچھے ہیں،   شاہی سید کی دعوت عام، ذوالفقار مرزا کا تازہ کلام یا ایئر پورٹ پہ ملنے والی خاتون ہیں۔ 

Tuesday, July 5, 2011

کھنڈالہ میں

میرا کمپیوٹر ہیک نہیں ہوا اور نہ ہی  میں نے بلاگنگ  ترک کی ہے۔ کیونکہ  میں نے توبہ ابھی نہیں کی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ گو ہاتھ میں جنبش نہیں، آنکھوں میں تو دم ہے رہنے دے ابھی ساغر و مینا میرے آگے۔
بات یہ ہوئ کہ اپنا ساغر ومینا یعنی لیپ ٹاپ اٹھائے اٹھائے ہم پاکستان کی سرحدوں سے باہر نکل آئے۔  پاکستان میں آجکل سفر کی دو سمتیں رائج الفیشن ہیں۔ ایک پاکستان کی شمالی سمت اور دوسری دنیا کی مغربی سمت۔  
اب چونکہ میں پاکستان کے شمال میں نہیں تو آپ اس سے بآسانی یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ میں اس وقت  دنیا کے مغرب میں ہوں۔ وہی مغرب جو ہماری بد دعاءووں، لعنتوں اور نفرتوں کے باوجود کسی اللہ لوکی ، کسی مجذوب کی طرح اپنی دھن میں مگن چلا جا رہا ہے۔ حالانکہ شاعر نے اس پہ بھی کچھ فرمایا ہوا ہے کہ اپنی دھن میں رہتا ہوں ، میں بھی تیرے جیسا ہوں۔ لیکن اس شعر سے صرف یہ پتہ چل پاتا ہے سب اپنی اپنی دھن میں ہیں۔ 
اس طرح نکل آنے کی بنیادی وجہ ایک پیغام کا وصول پانا اور اس پہ ہمارا تبادلہ ء خیال تھا۔ جو کم و بیش اس گانے کی طرح تھا۔


تو جناب، اس وقت ہم  کینیڈا میں ہیں۔ اور کینیڈیئن ہائ کمشنر کو لکھے گئے اپنے خط کے مطابق یہاں کے معاشرے  کی جڑیں کھنگال  رہے ہیں۔ جن سے خوشحالی اور امن کی کونپلیں جنم لیتی ہیں۔ مجھے اپنے ملک میں اسکی قلمیں لگانی ہیں۔
 

Monday, March 28, 2011

اُف

ڈیڑھ سال پہلے کینیڈا میں مقیم عزیزوں کے بے حد اصرار پہ وزٹ ویزہ کے لئے درخواست دی۔ ڈھائ مہینے انتظار کے بعد   ایک کاغذ ملا جس پہ ویزہ نہ دینے کی بہت ساری وجوہات بیان کی گئ تھیں۔ ہمارے حصے میں جو آئ اسکے مطابق انہیں شبہ تھا کہ ہم کینیڈا جا کر واپس پاکستان نہیں آئیں گے۔
پہلے تو مجھے خیال گذرا کہ مشعل کے ابا کا ہمارے ساتھ نہ جانا ایک وجہ ہو گا۔ حالانکہ درخواست دیتے وقت میں اسے خاصہ مثبت نکتہ سمجھ رہی تھی۔ کہ جب پاکستان میں ہماری اتنی اہم چیز یعنی جیون ساتھی موجود ہیں تو میں کینیڈا سے واپس آنے پہ مجبور ہونگی۔ لیکن بعد میں مختلف لوگوں نے کہا کہ وہ سوچیں گے آپ کے شوہر سے تعلقات اچھے نہیں اور بچی کو ساتھ لے جا کر انکے ملک میں پناہ گزیں ہونگی۔
کیا امیگیریشن عملے نے بھنگ پی ہوئ ہوگی؟ میں نے نعرہ مارا۔ میری تعلیمی اہلیت اور پیشہ ورانہ قابلیت ایسی ہے کہ اگر کینیڈیئن امیگریشن کے لئے درخواست کروں تو انہیں مجھے دینی پڑے گی . اب تک میرے جتنے ساتھی تھے انہیں مل چکی ہے۔ کیا وہ اتنا نہیں سمجھ سکتے کہ میں وہاں غیر قانونی طور پہ کیوں رہنا چاہونگی جبکہ میں اسے قانونی طور پہ حاصل  کر سکتی ہوں۔
لیکن یقین رکھیں، احمق صرف پاکستان میں ہی نہیں پائے جاتے۔  اتنی بھاگ دوڑ اور خرچے کے بعد ایک فارم ملتا ہے جس  میں بیان کی گئ شقوں میں سے ایک کے اوپر ٹک مارک لگا ہوتا ہے۔  ہم تقریباً پندرہ ہزار روپے خرچ کر کے بے نیل و مرام۔ اس وقت عہد کیا کہ آئیندہ کبھی کینیڈا کے لئے اپلائ نہیں کریں گے۔ ارے ہمارے کچھ پیاروں اور  نیاگرا فال کے علاوہ ایسا کیا ہے کہ انکے ملک کا چکر ہم  لگائیں۔
اب ایک دفعہ پھر انہی کینڈیئن نژاد پاکستانیوں کا دباءو ہے ، یار آپ ایک دفعہ پھر درخواست دیں۔ اس دفعہ کا خرچہ ہمارے ذمّہ۔ میں کہتی ہوں ہمارے بنیادی حالات پہلے جیسے ہی ہیں۔ مشعل کے ابا پھر ساتھ نہیں جا سکتے۔ میری تعلیم قابلیت اور دیگر چیزیں بھی ویسی ہی ہیں میں ایسا کوئ کام نہیں کر پائ جو کسی ملک کا امیگریشن عملہ میری آمد کے لئے تمام مقامی قوانین کو ایک طرف کردے۔ پاکستان میں اسی طرح دھماکے ہو رہے ہیں۔ ملک اسی طرح کرپشن کے لئے مشہور ہے۔  ہم اسی طرح غریب ہیں کہ لوگ ہمارے بارے میں سوچیں کہ یہ کہیں آ کر ہمارے پیسوں پہ نہ پڑجائیں۔
حالانکہ اس دفعہ بھی  میں کینیڈا میں غیر قانونی طور پہ بالکل نہیں رکنا چاہتی۔  میں ہمیشہ ایک  کمزور پاکستانی رہی  ہوں اس لئے قانون پسند ہوں۔ پھر بھی، اب لوگوں سے پوچھتی ہوں کہ آخر میں کیوں امید رکھوں، وہ اس دفعہ ویزہ دے دیں گے۔
کیا اس لئے کہ ہم نے ریمنڈ ڈیوس کو رہا کر دیا ہے؟
کیا اس لئے کہ ہم ورلڈ کپ جیت جائیں گے؟
کیا اس لئے کہ جمہوریت پچھلے تین سال سے کامیابی کے ساتھ اپنا تسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں؟
کیا اس لئے کہ انہیں ترس آجائے گا کہ میں نے اپنے کچھ عزیزوں کو ایک مدت سے نہیں دیکھا اور وہ بھی مجھ سے ملنا چاہتے ہیں؟
میں ہر سوچ کو تولتی ہوں اور ردّی سمجھ کر جھٹک دیتی ہوں۔ پھر سوچتی ہوں، کیا  گرمی میں دماغ  کا دہی بنوانے نکلوں۔ 
نوٹری کے پاس، اپنے گھر سے دس میل دوربینک اور اتنی ہی دور ٹی سی ایس آفس۔ ایک دفعہ پھر ہزاروں میں روپے پھینک دوں۔ ایک اور نشان زدہ کاغذ کے حصول کے لئے۔ اُف

Sunday, November 21, 2010

نو سے پانچ

میں اپنی ایک عزیزہ سے ملنے انکے گھر رات کو نو بجے پہنچی پتہ چلا کہ ابھی تک آفس سے واپسی نہیں ہوئ۔ وہ ایک سوفٹ ویئر انجینیئر ہیں اور ایک سوفٹ ویئر ہاءوس میں کام کرتی ہیں۔ رات کو دس بجے انکی واپسی ہوئ۔ لیکن آفس ٹائم ختم نہیں ہوا تھا کہ اب وہ گھر میں رات کو دیر تک بیٹھ کر کام کریں گی۔ وہ بتانے لگیں کہ اگر چار گھنٹے کی بھی نیند مل جائے تو عیاشی سمجھی جاتی ہےاور یہ انکا روز کا معمول ہے۔ اسکی وجہ سے صحت پہ جو اثرات ہیں وہ الگ ہیں۔ آپ تصور کر سکتی ہیں کہ جو شخص میرے ما تحت کام کرتا ہے وہ آفس چھ بجے چھوڑدیتا ہے اور اسکی تنخواہ مجھ سے بیس ہزار روپے زیادہ ہے۔ انہوں نے جھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔ در حقیت میرے ماتحت پانچ لڑکے کام کرتے ہیں۔اور وہ سب شام کو چھ بجے کے بعد نہ صرف کام کرنے کو تیار نہیں ہوتے بلکہ کام کا معیار ایسا ہوتا ہے کہ مجھے ہی اسے بھگتنا پڑتا ہے۔ لوگ بڑے بڑے ادروں سے پڑھ کر آرہے ہیں بڑے مطالبات ہیں انکے مگر کام کے نام پہ ایک چھوٹے سے مسئلے سے نہیں نبٹ سکتے ایک پریزینٹیشن کا کہہ و جان نکل جاتی ہے انکی اور یہ سب میرے ہم عمر لوگ ہیں۔ میں ٹیم لیڈر ہوں اور نتیجے میں کام کا سارا لوڈ میرے اوپر پڑ جاتا ہے۔
 میری ایک اور دوست جو کہ کسی اور سوفٹ ویئر ہاءوس میں کام کرتی ہیں انکی کہانی بھی یہی کہ رات کو نو دس بجے گھر سے واپسی ہوتی اور صبح ساڑھے سات بجے تک گھر سے نکل جاتی ہیں۔ یہ بتاءو تمہاری اب شادی ہونے والی ہے تب یہ سب کیسے چلے گا۔ میں نے پوچھا۔ ایسے ہی چلتا ہے۔ جو شادی شدہ کولیگز ہیں وہ بھی تقریباً اسی وقت تک جا پاتی ہیں۔ 
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کی جاب کا کوئ تصور نہیں رہا۔ سوائے سرکاری داروں کے تمام غیر سرکاری ادارے اپنے تنخواہ دار طبقے کا خون چوس لینا چاہتے ہیں۔ مقررہ وقت سے الگ رک کر زیادہ کام کرنے والوں کے لئے یعنی اوور ٹآئم کا کوئ تصور نہیں اور یوں اب زائد کام، زائد تنخواہ کا کوئ تصور نہیں رہا۔ ان کام کرنے والوں کے کوئ بنیادی حقوق نام کی چیز نہیں۔
حتی کہ میڈیا سے تعلق رکھنے والے لوگ جو معاشرے کی زبوں حالی کا رونا روتے نہیں تھکتے۔معاشرے کو کرپشن سے پاک کرنے کا عزم دوہراتے ہیں، نا انصافیوں کو دور کرنے کی باتیں کرتے ہیں  وہ خود بھی ان سوفٹ ویئر ہاءوسز کو چلا رہے ہیں مگر انکے یہاں کام کرنے والوں کے ایسے کسی حق کا خیال نہ کرنا انکی شخصی دوہریت کو ظاہر کرتا ہے جو ماشااللہ ہمارے معاشرے میں کثرت سے پائ  جاتی ہیں۔ چار لوگوں کے سامنے بیٹھ کر اخلاقی تقاریر کرنے میں کسے مزہ نہیں آتا۔ عملی طور پہ وہ انہی اخلاقی اصولوں کا مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں۔


خاص طور پہ جب وہ خواتین کو اتنے طویل وقت کے لئے روک رکھتے ہیں تو کیا انہیں خیال ہوتا ہے کہ یہ عورت ایک ماں بھی ہے، اسے اپنی گھریلو ذمہ داریاں بھی دیکھنا ہونگیں اور دیکھنا چاہئییں۔ گھر کسی معاشرے کی اکائ ہوتا ہے۔ اس اکائ کی ساخت کو محفوظ اور بہتر بنانے کے لئے ہمارے یہاں کیا ہو رہا ہے۔ جواب یہ ہے کہ کچھ نہیں۔ خواتین کو ملازمت میں ترجیح دی جاتی ہے اس لئے کہ وہ خاموشی سے گدھے گھوڑے کی طرح کام کرتی رہیں گی۔ ادھر خواتین کے لئے سب سے زیادہ اہمیت نوکری اور تنخواہ ہی کی نہیں ہوتی بلکہ ادارے میں اگر انہیں ماحول محفوظ لگے تو وہ جاب سوئچ کرنے سے گریز کرتی ہیں کہ اگلی جگہ خدا جانے کیسا ماحول ملے یوں وہ رسک لینے سے گھبراتی ہیں۔ دوسری طرف ہماری خواتین کو پیشہ ورانہ میدان میں داخل ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گذرا تو وہ اپنی حق تلفی کے سلسلے میں بلکہ کسی بھی سلسلے میں زبان کھولنے سے گھبراتی ہیں۔ یوں کام کا ایک غیر ضروری بوجھ اٹھاتی ہیں اور دب کر بھی رہتی ہیں۔ تیسری طرف جب سے عالمی مارکیٹ میں کساد بازاری کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ آجر، اپنے اجیروں کی تعداد کو کم سے کم رکھتے ہوئے اتنا ہی کام کروانا چاہ رہے ہیں۔تاکہ انکا سرمایہ زیادہ خرچ نہ ہو اور منافع کی شرح برقرار رہے یوں انکی اس ڈریکولا والے انداز کے خلاف بولنا اپنی نوکری سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہے۔
کیا ترقی یافتہ ممالک میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ مجھے آسٹریلیا میں کچھ وقت گذارنے کا موقع ملا اور یہ دیکھ کر حیرانی ہوئ کہ تقریباً تمام مارکیٹ سات بجے شام کو بند ہوجاتی ہے۔ آفس کے اوقات صبح نو سے پانچ۔ کبھی ہی ایسا موقع ہوتا ہے کہ دیر تک رکنا پڑے۔ ہفتے میں دو دن کی چھٹی۔ جس میں ایک خاندان کے تمام لوگ سیر و تفریح کا پروگرام بناتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے یہ سب کچھ کیوں۔ اس لئے کہ خاندان کو ایک ساتھ وقت گذارنے کا موقع ملے اور اس طرح معاشرے کی اکائ یعنی ایک خاندان مطمئن اور توازن سے بھر پور زندگی گذارے۔
میری وہی عزیزہ، ابھی چند مہینے پہلے  امیگریشن کے بعد کینیڈا چلی گئیں۔ ایک چیز سے خوش ہیں کہ  وہ شام کو چھ بجے اپنے گھر میں ہوتی ہیں، کھانا بناتی ہیں، ٹی وی دیکھتی ہیں۔ رات کا کھاناہم سب مل کر کھاتے ہیں۔ یہاں زندگی بہت ریلیکس ہے۔ ہر ہفتے کو ہم کہیں نہ کہیں گھومنے جاتے ہیں۔
حتی کہ تھائ لینڈ جیسے ملک میں جو کہ ترقی یافتہ ممالک مِں شامل نہیں اور شہروں میں شاید ہر عورت کام کرتی ہوگی۔ اس بات پہ توجہ دی جاتی ہے کہ خواتین اپنے آپکو آفس میں ہی نہ خرچ کر ڈالیں بلکہ اپنے گھر کے لئے بھی خود کو بچا کر رکھیں۔
ہمارے یہاں ایسا کوئ تصور نہیں۔ کوئ ایسی دستاویز جس میں کام کرنے کے زیادہ سے زیادہ اوقات بیان کئے گئے ہوں۔ کسی کو اس بات کی چنداں فکر نہیں کہ ملازمت پیشہ خواتین  کے مسائل کی طرف بھی نظر کرے۔ ظاہر ہے جہاں بات روٹی کے گرد ہی گھوم رہی ہو وہاں اس قسم کے مسائل میں کس کو دلچسپی ہو سکتی۔ اور خواتین کے مسائل کو تو کسی گنتی میں ہی نہیں رکھا جاتا، زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیا جائے گا کہ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ خواتین کام نہ کریں انہیں گھر کی ملکہ بن کر رہنا چاہئیے۔ یہ انکا کام نہیں۔ حالانکہ ملازمت پیشہ خواتین کا بڑا حصہ اپنے خاندان کی معاشی کمزوریوں کی بناء پہ کام کرنے پہ مجبور ہوتا ہے۔مگر یہ سب کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ جب روٹی نہیں خرید پاتے تو کیک خریدنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی۔ جب زراعت کا زمانہ تھا عورت گھر کی کھیتی باڑی میں اپنے حصے کا کام کرتی تھی اور برابر سے کرتی تھی۔ اب انڈسٹریئل زمانہ ہے اس میں بھی کسی کے لئے رعایت نہیں اور سب کو کام کرنا پڑتا ہے۔
کس کو فکر کہ ایک کام کرنے والے پہ کام کا کتنا بوجھ ڈالا جا سکتا ہے۔  ان  پریشان لوگوں کا کوئ پر سان حال نہیں اور نہ شاید کوئ اسکا احساس کرتا ہے۔  حکومتی عناصر اور ہمارے پالیسی ساز ذہن معاشرے کے استحکام کے لئے پالیسیاں بنانا کب شروع کریں گے۔جس طرح معاشرے میں اور ظلم اور زیادتیوں کو قبول کر کے بس زندہ رہنے کی رسم نبھانے کی عادت ڈال لی گئ ہے وہیں اس ظلم کے خلاف بھی کوئ آواز اٹھانے والا نہیں ۔