دوپہر میں، میں نے سوچا کہ سر شام اپنی ایک پرانی دوست سے ملاقات کر لی جائے۔ گھر سے نصیحت ہوئ کہ باہر نکلنے کا کوئ بھی پروگرام مغرب سے پہلے نہ بنائیے گا۔ اگر کوئ دھماکہ ہوا تو پھنس جائیں گی۔ میں نے سوچا صحیح کہہ رہے ہیں۔ اور پروگرام ملتوی کر دیا۔
کچھ دیر پہلے فون آیا کہ شہر کے مرکز سے گذرنے والے ماتمی جلوس میں دھماکا ہو گیا ہے۔ یہ جلوس ہر سال نکلتا ہے۔ دل دھک سے رہ گیا۔ فوراً ٹی وی کھولا، خبر صحیح تھی۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق بیس افراد جاں بحق اور پینتالیس افراد زخمی ہوگئے۔ یہ ایک خود کش دھماکا تھا۔۔
ایک عرصے سے میں نے اس موضوع پہ لکھنا چھوڑ دیا تھا۔ آخر کب تک ہم بھی سیاسی لیڈران کی طرح مذمتی تحریریں لکھ لکھ کر اپنے دکھ کا اظہار کرتے رہیں گے۔ مرنیوالے مر جاتے ہیں اور جھیلنے والے جھیلتے رہتے ہیں۔ باقی لوگ اپنے حصے کے صفحے بھرتے رہتے ہیں۔
لیکن مختلف چینلز کو سرف کرتی ہوئ جب میں ایک چینل پہ پہنچی تو عمران خان سے تاثرات پوچھے جا رہے تھے۔ اور انکا وہی کہنا کہ جناب یہ سب دوسروں کی جنگ میں جانے کی وجہ سے ہوا ہے۔ ان سے کوئ پوچھے دوسروں کی جنگ میں تو ہم انیس سو اناسی سے شامل ہیں آخر اس وقت یہ خیال کیوں اتنی شدت سے آرہا ہے۔
اب جبکہ حالات اس نہج پہ پہنچ چکے ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف ہم میں سے ہر ایک کو بلا کسی تفرقے کے کھڑا ہوجانا چاہئیے۔ وہاں ایسے لیڈران کا اب بھی دہشت گردوں کا دفاع کرنا انکی عوام دشمنی کو ظاہر کرتا ہے۔ اور اگر ان رہنماءووں نے اپنا رویہ نہ بدلا تو وہ دن دور نہیں جب دھماکوں سے تنگ آئے عوام انہیں بتائیں گے کہ ایسے رہنماءووں کا اور اس سیاست کا انجام کیا ہوگا۔

![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)
