Showing posts with label ایم کیو ایم. Show all posts
Showing posts with label ایم کیو ایم. Show all posts

Tuesday, October 9, 2012

مفاد سے آگے

شادی کے کارڈز بانٹنا اور شاپنگ ، اس میں اتنی مصروف رہی کہ مجھے یاد ہی نہ رہا کہ آج آسٹریلیا اور پاکستان کا ٹی ٹوئنٹی میچ ہے۔ میں اپنی ساتھی خاتون کو نارتھ ناظم آباد چھوڑنے کے لئے جب فائیو اسٹار کے سگنل پہ پہنچی تو ٹریفک رکا ہوا تھا۔ رات کے سوا دس بج رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ شادیوں کی ٹریفک کا رش ہے۔ کیونکہ اس طرف درجنوں شادی ہالز ایک قطار میں موجود ہیں۔ لیکن سگنل کھل کے ہی نہ دے رہا تھا۔
 پندرہ منٹ بعد مجھے فضا میں پاکستان کے جھنڈَے لہراتے نظر آئے اور کچھ لڑکے ادھر ادھر بھاگتے دکھائ دئیے۔  تھوڑی دیر بعد ہماری گاڑی چوک پہ لڑکوں کے ایک ہجوم کے درمیان، دوسری گاڑیوں کے ساتھ پھنسی ہوئ تھی۔ لڑکوں کی تعداد یہی کوئ ایک ڈیڑھ ہزار ہوگی۔ آتشبازی ہو رہی تھی، لڑکے ہارن بجا رہے تھے۔ صاف لگ رہا تھا کہ انکے ذہن میں کوئ خاص پروگرام نہیں۔ بس ٹریفک کو روک کر انہیں مزہ آرہا تھا۔ اس اثناء میں ایک لڑکے نے عین گاڑی کے سامنے آکر پستول نکالا اور ہوائ فائرنگ شروع کر دی۔ آج بچ جائیں تو بڑی بات ہے۔ میں نے سوچا، اگر ذرا بھی اندازہ ہوتا تو اس طرف کا رخ نہ کرتے۔
چالیس منٹ کے اس ہنگامے میں پھنسے رہنے کے بعد نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ واپسی پہ میں نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ لیکن ایک چیز جس نے میری توجہ لی وہ یہ کہ نوجوانوں کے اس منتشر، چارجڈ لیکن بے مقصد ہجوم میں کسی بھی سیاسی جماعت کا جھنڈا نہیں تھا۔ صرف پاکستان کے تین چار جھنڈے نظر آئے۔ عجیب یوں لگی کہ اس سے پہلے نوجوان کوئ بھی موقع ہو ایم کیو ایم کا جھنڈا لانا فرض عین سمجھتے تھے۔
یہی نہیں اس سے دو دن بعد جب میں عزیز آباد کے قریبی علاقے میں گئ تو وہاں ایک پارک میں لوگوں کا ہجوم ایک بڑی سی اسکرین پہ میچ دیکھ رہا تھا۔ ہر تھوڑی دیر بعد ہجوم نعرے لگاتا اور جھنڈے لہراتا لیکن یہ جھنڈے صرف پاکستان کے جھنڈے تھے۔
کیا کوئ تصور کر سکتا ہے کہ کراچی میں ایسا ہو گا۔ ایسا کیوں ہوا؟
الیکشن ، مستقبل قریب میں متوقع ہیں۔ اس لئے اکثر لوگوں سے اس حوالے سے بات ہوتی ہے۔ کس جماعت کو ووٹ دینا چاہئیے اور کیوں؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سب سیاستداں چور ہیں اس لئے ہم الیکشن والے دن بیلٹ پیپر پر مہر اس طرح لگائیں گے کہ وہ خراب ہو جائے اور کوئ ہماری جگہ جعلی ووٹ نہ ڈال سکے۔
میں نے پوچھا کہ اس سے کیا ہوگا؟ ووٹ کی گنتی ہوگی تو وہ امیدوار جیت جائے گا جسکے سب سے زیادہ ووٹ ہونگے چاہے اسے پانچ سو ووٹ ملیں۔
ایم کو ایم کو اس صورت حال کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے؟
 اس کی وجوہات اتنی واضح ہیں کہ  عقل و خرد سے عاری شخص بھی بتا سکتا ہے۔ ایم کیو ایم کے حامی کو اب ایم کیو ایم اور دیگر سیاسی جماعتوں میں کوئ فرق نظر نہیں آتا۔  سب چور ہیں ، سب اپنی تجوریاں بھرنا چاہتے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت پہ مفاد پرست طبقے کا قبضہ ہے۔ یہ مفاد پرستی، ذاتی مالی مفاد سے جڑی ہے۔  جب ایم کیو ایم کا نام آتا ہے تو بابر غوری جیسے نام آتے ہیں جو پارٹی میں شامل ہوئے تو کیا تھے اور آج انکی جائدادیں امریکہ میں موجود ہیں۔ 
یوں جاگیرداری اور معاشرے کے استحصال کے خلاف آواز اٹھانے والے خود جاگیر داری کے نشے میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اسکی بنیادی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ پاکستان کی ہر دوسری سیاسی جماعت کی طرح، ایم کیو ایم نے بھی اپنے تھنک ٹینک یعنی حلقہ ء دانشوراں کو مضبوط کرنے کے بجائے شخصی سیاست کی راہ اپنا لی۔ یہ سیاست کا اگرچہ ایک آسان راستہ ہے لیکن بھونڈا راستہ ہے اور جمہوری روح سے دورہے۔ مفاد پرست طبقہ ایک شخصیت کو خوش کر کے فائدے اٹھاتا ہے۔ اس طرح سے جمہور کی آواز کہیں دور رہ جاتی ہے۔
تنظیم نے جس شخصیت کومرکزی شخصیت کے طور پہ چنا وہ اس ملک کی سرحدوں میں ایک طویل عرصے سے نہیں آیا۔ انہیں یہاں کے بارے میں جو بھی اطلاع ملتی ہے وہ کسی کے ذریعے سے ملتی ہے انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ مصطفی کمال کے بنائے ہوئے پلوں نے شہر کا نقشہ تبدیل کر کے کیا سے کیا کر دیا ہے۔ اڑتی خبریں ملتی ہیں کہ وہ خود ہوش و خرد سے عاری ہو چکے ہیں۔ اور در حقیقت اس وقت تنظیم کو پاکستانی ایجنسیز چلا رہی ہیں۔
اس وقت تنظیم کو لائق اور عالم افراد کے قحط کا سامنا ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت میں ایسے لوگوں کی شمولیت کو دیکھا جانا چاہئیے جو کہ زندگی کے مختلف میدانوں مِن مہارت رکھتے ہوں تاکہ ہمیں امید ہو کہ افراد کا یہ مجموعہ ہمارے مسائل سے کیسے نبرد آزما ہوگا۔  زیادہ تر افراد جو تنظیم کی سیکولر پالیسی کی وجہ سے اس سے بہتر امیدیں رکھتے تھے اب اس سے دور ہو چکے ہیں۔ اس طرح سے ایم کیو ایم بحیثیئت ایک سیاسی جماعت کراچی کے نوجوانوں کو کوئ مثبت امید ، راستہ اور سرگرمی دینے میں آہستہ آہستہ ناکام ہو رہی ہے۔ اور اسکی یہ ناکامی، نوجوانوں کو دوسری انتہا کی طرف لے جارہی ہے جو کہ مذہبی انتہا پرستی ہے۔
تنظیم کو اس حقیقت کو تسلیم کرکے مثبت سمت میں کام کرنا چاہئیے۔ انہیں اب اس چیز کو بھی تسلیم کرنا چاہئیے کہ محض پیپلز پارٹی سے اچھے تعلقات استوار کر کے یا صدر زرداری کو خوش رکھ کر یہ ممکن ہے کہ وہ آئیندہ الیکشن میں اسمبلی کے اندر اپنا وجود قائم رکھنے میں کامیاب ہو جائیں، ممکن ہے انہیں مالی مفادات مل جائیں لیکن اس سے وہ عوامی سطح پہ اپنی حیثیئت کم کرتے جا رہے ہیں۔
مجھے اپنے سیاستدانوں کی اس کوتاہ اندیشی پہ حیرت ہوتی ہے کہ وہ محض اپنے مالی مفاد کو محفوظ کرتے ہوئے اپنے  زیادہ فائدہ مند مستقبل کی قربانی دینے سے گریز نہیں کرتے۔ حالانکہ اگر وہ اپنے مالی مفاد میں تھوڑی سی کمی لے آئیں اور اسے عوامی فلاح پہ خرچ کریں تو وہ ایک لمبی مدت تک عوامی پذیرائ سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور زیادہ کما سکتے ہیں۔
بہر حال، باقی سب سے قطع نظر ایم کیو ایم کو یہ سمجھ لینا چاہئیے کہ ایسے ملک میں جہاں سیاست پہ جاگیردار کا سب سے بڑا حق ہے اور جہاں یہ جاگیردار، ملک کی مضبوط طاقت یعنی فوج سے بھی مضبوط روابط رکھتا ہے۔ وہاں وہ اپنی بقاء کی جنگ عوام کی حمایت کے بغیر نہیں لڑ سکتی۔ لیاری امن کمیٹی، اسکا سب سے بڑا ثبوت ہے۔  جو منظر پہ اچانک ابھری اور اب کراچی کے امن و امان میں اپنا حصہ رکھتی ہے یعنی جب چاہے اس شہر کا امن ہلا سکتی ہے حالانکہ اسکا اثر لیاری سے آگے نہیں۔ 
سو انہیں عوام کے لئے کام کرنا پڑے گا، انہیں ترجیح دینی ہوگی اور تنظیم کو مفاد پرست طبقے سے ہی نہیں شخصی سیاست سے بھی باہر نکالنا ہوگا۔ انہیں دلجمعی سے ایک حلقہ ء دانشوراں قائم کرنا ہوگا جسے سوچ وبچار کی آزادی دینی ہوگی۔ لیکن  اگر وہ ریاستی قوتوں سے ہڈی لے کر اس سے خوش ہیں تو یاد رکھیں کہ کل وہ باہر ہونگے جبکہ دیگر طاقتیں اسی طرح کھیل میں شامل رہیں گی جیسے وہ پچھلے تریسٹھ سال سے ہیں۔

 

Monday, October 1, 2012

ڈنگ ڈونگ

ہر اچھا اور برا وقت گذر جاتا ہے کل کا دن بھی گذر گیا۔ ایک اور چبھتی ہوئ یاد۔ فیس بک پہ اب تک اسکی  چبھن باقی ہے۔ جب بھی ہم روائیتی حریف کے سامنے ہوتے ہیں دنیا کو لگ پتہ جاتا ہے کہ آج  کیا ہونے والا ہے۔ کسی زمانے میں شیر کی آ٘د کا پتہ رن کے کانپنے سے چلتا تھا۔ کس شیر کی ٘آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے اب یہ کام میڈیا انجام دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب روڈ پہ سے گذری تو حیران تھی کہ اتنا چھوٹا شامیانہ لگا کر اور اتنی ساری کرسیاں بچھا کر کس تقریب کا اہتمام ہو رہا ہے۔ نوجوان اب بھی ایم کیو ایم کے اتنے دیوانے ہیں۔ واپسی پہ معمہ حل ہوا،  شامیانے کا سائز اسکرین کے سائز جتنا تھا اور کرسیاں ہی کیا لوگ اسکے چاروں طرف کھڑے تھے۔ 
گھر واپس آکر دیکھا کہ لاءونج کا صوفہ ٹی وی سے ایک نامعقول فاصلے پہ رکھا ہوا ہے اور آگے پیر ٹکانے کے اسٹول رکھے ہوئے ہیں۔ آنکھیں جمی ہیں، میچ چل رہا ہے۔
مجھے تو ٹی ٹوئینٹی میچ  کرکٹ کا ساشے پیکٹ لگتا ہے۔ آخر اسکے لئے گیارہ کھلاڑیوں کی کیا ضرورت ہے؟ یعنی رومال بنانے کے لئے پورا تھان لیں۔ یہ اسی صورت نظر انداز کیا جا سکتا ہے جب فیس بک اور ٹوئٹر بھی ساتھ ساتھ رواں دواں ہوں۔ 
فیس بک سے اندازہ ہوا کہ میچ میں پاکستان کی ہار کا منظر ابھرتے ہوئے ہی کچھ کمزور دل حضرات ٹی وی کے آگے سے اٹھ گئے۔ کچھ نے جائے نماز سنبھالی لیکن میچ کے اختتام پہ کچھ دہرئیے والے کلمات کہتے پائے گئے۔ پاکستانی کھلاڑیوں کو سوچنا چاہئیے کہ انکی وجہ سے کچھ لوگ دعا اور رب دونوں سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ جسکا عذاب انکے سر پہ ہوگا۔ کچھ خواتین رونے لگ گئیں اور کچھ کے بچوں کی شامت آئ یعنی طویلے کی بلا بندر کے سر۔ اس دلچسپ صورت حال کی عکاسی کے لئے میں نے کچھ اسٹیٹس چوری کئے ہیں۔ حاضر ہیں۔
Feel like giving two chammats to the team

Kia game on hai? I didnot feel do :(

کوئ بات نہیں، بچہ سمجھ کر جیت دے دی، اگلی باری میں دیکھنا۔
پس ثابت ہوا کہ ٹُلّر ہر واری نہیں چل سکدا۔

اور جیسا کہ میں میچ شروع ہونے سے پہلے کہہ چکا تھا نتیجہ وہی نکلا
 
Chalo toss hu, jeetay or match tum! Baat baraber hoi :)
 
Lo Ji,
Pakistan har gaya.
Allah Hafiz
To boost the performance levels for time being, Pakistani team must presume for time being that they are working in a 3 hour long commercial
Prepare yourself for this song.

Tum Jeeto yaan haaroo
sunooooo
humain tum say piyar ha
 
Shahid Afridi didn't work, lets send Shakeel Afridi with polio drops, and then a drone attack + seal operation on top of that. All over!
 
اس سے بڑی زیادتی اور کیا ہوگی فراز 
ہم جیتیں تو وارم اپ، وہ جیتیں تو سپر 8 

کس عقیدت سے آئوٹ ھوتے ھیں

واہ وا واہ

کس عقیدت سے آئوٹ ھوتے ھیں
ھار جانا ثواب ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ھو جیسے

کیا رحمان ملک پاک بھارت میچ کا سودا کرنے گیا؟ رقم بٹورنے کا اچھا موقع سمجھتے ہوے؟
پاکستانی ٹیم کو کسی کوچ کی نہیں، بلکہ ایک اچھے سائیکیٹریسٹ کی ضرورت ہے۔
اور قارئِن، اس دھلائ سے فارغ ہو کر لوگ ایک دفعہ پھر خداکی طرف رجوع کرتے ہیں۔ کیوں؟ یہ نہیں معلوم۔
I am watching Madni Tv now !!!
میری دلچسپی تو کرکٹ میں اس وقت سے ختم ہو گئ ہے جب سے پاکستان میں کرکٹ کرپشن اپنے عروج پہ پہنچا۔ لیکن اس دفعہ جس چیز کی وجہ سے مجھے بار بار اسکرین کو دیکھنا پڑا۔ وہ ڈنگ ڈونگ کا اشتہار ہے۔ میرے بچپن سے یہ اب میری بیٹی کے بچپن تک آپہنچا۔ جب اشتہار اختتام پہ پہنچتا ہے تو بلی چوہوں کی پٹائ لگانے کے بعد اپنا ڈنگ ڈونگ ببل کا ذخیرہ لیتی ہے اور وہی سونگ گاتی ہے۔ میں سوچتی تھی کہ یہ نہیں پتہ چلتا کہ کون سا سونگ گاتی ہے؟ کچھ عرصے بعد ایک خیال آیا کہ یہ ڈنگ ڈونگ گاتی ہے۔ اب بھی یقین نہیں کہ یہ خِال درست تھا یا غلط۔
 اس میچ کے دوران ڈنگ ڈونگ ببل کا اشتہار پاکستان کی مختلف زبانوں میں آتا رہا۔
اور میں ہر دفعہ کمپیوٹر اسکرین سے نظریں پھیر سنتی کہ یہ اب کون سی علاقائ زبان ہے اور اس میں کیا الفاظ استعمال ہوءے ہیں۔ لیکن کل سے پہلے شاید ہی کبھی شک ہوا ہو کہ یہ اشتہار یا تو یہودیوں نے بنایا ہے یا پھر را کے ایجنٹوں نے۔ ایک مبصر کا کہنا تھا کہ ہر کھلاڑی کے آءوٹ ہونے پہ یہ اشتہار آیا اور بلی خوشی سے ناچتی پھری۔ بعض حقائق بڑی دیر سے پتہ چلتے ہیں۔


اب پھر ایک سوال ذہن میں ہے۔ اگر بلی نے چوہوں کی پٹائ لگائ اور ڈنگ ڈونگ لے کر اس نے پھر وہی سونگ گایا۔ تو اس دفعہ اس نے کون سا سونگ گایا؟ جواب منتخب کریں۔
۱
ڈنگ ڈونگ
۲
تم جیتو یا ہارو
سنو
ہمیں تم سے پیار ہے
۳
لخ لعنت

Monday, February 27, 2012

ایک شہر، تین اجتماعات

ابھی تقدس سے باہر کے لئے لکھی گئ ایک تحریر کے حوالہ جات کو ایک آخری نظر سے دیکھنا چاہ رہی تھی کہ اس اتوار کے ندیم ایف پراچہ کے مضمون پہ نظر پڑ گئ۔ مضمون مزے کا تھا۔ 
گذشتہ دنوں کراچی میں چند دلچسپ اجتماعات ہوئے۔ ایک  کراچی لٹریچر فیسٹیول،  اسکے متوازی چلنے والا دوسرا دفاع پاکستان کا اجتماع اور تیسرا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت کی طرف سے خواتین کے لئے کیا گیا پہلا اجتماع۔
کراچی لٹریچر فیسٹیول کے بارے میں کیا کہوں، کراچی کے سب سے پوش علاقے ڈیفینس ہاءوسنگ سوسائیٹی کے بھی ایک دور افتادہ  کونے میں منعقدہ کسی تقریب کے لئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ اسکے منعقد کرنے میں یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ کہیں غلطی سے بھی کوئ ایرا غیرا نتھو خیرا ایسا اس میں  نہ آجائے جس کا ہائ کلاس سے کوئ تعلق نہ ہو، اردو لکھنے پڑھنےوالے اس سے جتنا دور رہیں اتنا اچھا ہے ، ایسا نہ ہو کہ عام لوگوں کو اس سے کوئ انسپیریشن حاصل ہو جائے یا یہ کہیں واقعی پاکستان میں لٹریچر کو عام نہ کر ڈالے۔ اور صورت حال کچھ ایسی بنی رہتی ہے  کہ ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں۔ وہ تو تقریب کے احوال اردو میں اتنی تفصیل سے نہیں پہنچ پاتے اس لئے لوگوں کو پتہ نہیں چل پاتا کہ اس بہانے کیسے کیسے غیر ملکی ایجنٹ ہمارے یہاں گھوم پھر کر چلے جاتے ہیں۔
دوسرا اجتماع دفاع پاکستان والوں کا تھا۔  
مقام تھا اسکا قائد اعظم کا مزار۔ خدا جانے کیوں چونسٹھ سال کے بعد قائد اعظم کے سر پہ سب سوار ہونے کو تیار ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ سب کیا دھرا انہی کا تھا اس لئے مر کر بھی چین نہیں پا سکتے۔ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ بہت پاءوں پھیلا کر سو لئے کنج مزار میں۔  ایک کے بعد ایک اجتماع وہیں ہو رہا ہے۔ اب انہیں بھی لگ پتہ گیا ہوگا  بالکل براہ راست کے پاکستان میں ہو کیا رہا ہے۔
دفاع پاکستان کے متعلق میرا خیال تھا کہ جماعۃ الدعوۃ والے کر رہے ہیں۔ جی وہی جماعت جس پہ حکومت کی طرف سے پابندی ہے۔ پھر شہر میں لگے اشتہاروں سے پتہ چلا کہ جماعت اسلامی والے بھی شامل ہیں۔ پھر معلوم ہوا کہ شیخ رشید جیسی سیاسی ہستی  اور اعجاز الحق بھی تشریف لا رہے ہیں۔
اوہ تو یہ آئ ایس آئ والوں کا جلوہ ہے۔ میں نے ہی نہیں بیشتر دیگر لوگوں نے بھی یہی خیال کیا۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہم میں کوئ غیر معمولی ذہانت پائ جاتی ہے۔ بلکہ آپ نے اس سکھ کا لطیفہ تو سنا ہوگا جو ایک الماری پہ فدا ہو گیا تھا۔ لیکن دوکاندار اسے دینے کو تیار نہیں تھا کہ ہم سکھوں کو نہیں دیتے۔ پھر اسکے بعد وہ کئ دفعہ ہندو ، عیسائ اور مسلمان کے بھیس بدل کر اسکے پاس پہنچا۔ لیکن ہر دفعہ اس نے ایک ہی جواب دیا۔ ہم سکھوں کو نہیں دیتے۔ 'او تجھے پتہ کیسے لگ جاتا ہے کہ میں سکھ ہوں'۔ سکھ نے عاجز آکر پوچھا۔ 'تم ہر دفعہ فریج کو الماری کہتے ہو'۔ دوکاندار نے عجز سے جواب دیا۔
دفاع پاکستان میں ہونا کیا تھا وہی پاکستان کے دشمنوں کی آنکھیں پھوڑ دینے کا دعوی، جبکہ یہاں ابھی ہمیں ہی کچھ نظر نہیں آرہا۔ تاریخ سے گن گن کر ان واقعات کے حوالے جن سے خون میں ویسا ہی ابال پیدا ہو جیسا باسی کڑھی میں پیدا ہوتا ہے۔  اور پھر انتقام در انتقام سے انکی بینڈ بجانے کا تہیہ۔ اللہ جانتا ہے کہ مجھے نہیں معلوم ، یہاں بینڈ سے کیا مراد ہے۔
اس اجتماع میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی، اسکی وجہ یہ تھی کہ لٹریچر فیسٹیول والوں کے مقابلے میں دفاع پاکستان والوں کو اپنے پیغام کے عام ہونے کا کوئ خوف نہ تھا۔ حالانکہ انکا پیغام سنا ہے کہ حرف بحرف نفرت کا پیغام تھا۔ لیکن اسے سننے کے لئے لوگ ون ڈی، ٹو کے اور ڈبلیو گیارہ جیسی بسوں سے بآسانی پہنچ سکتے تھے۔ حتی کہ جو اس میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے وہ بھی اس جگہ سے اسے سنے بغیر نہیں گذر سکتے تھے۔ تقریریں کرنے والے اور سننے والے انگریزی نہیں اردو میں رواں تھے۔ کیونکہ انکی دل سے خواہش تھی کہ وہ جس جذبے سے بول رہے ہیں وہ جذبہ انکے سامعین کے رگ و ریشے میں اتر جائے اور جب جلسہ ختم ہو تو یہاں موجود ہر شخص ایک مرد مجاہد ہو۔ موسیقی سے اجتناب کیا گیا اور صرف اپنی بغلیں اور دوسروں کی اینٹ سے اینٹ بجانے پہ ہی اکتفا کیا گیا۔ 
سب سے اہم بات یہ تھی کہ جلسے کی پوری کارروائ میں ایک بھی خاتون موجود نہ تھی۔ دفاع جیسا اہم موضوع خواتین کی سمجھ میں کیا خاک آئے گا۔ انہیں تو اپنے دفاع کے لئے بھی بچاءو بچاءو کا نعرہ بلند کرنا پڑتا ہے۔ پھر اللہ کا کوئ بندہ انکا دفاع کرتا ہے یہ الگ بات کے اللہ ہی کا ایک اور بندہ انہیں مورچہ بند ہونے پہ مجبور کرتا ہے۔ یوں اگر خواتین کے دفاع کی بات ہو رہی ہو تو بھی کہانی آخیر میں دو مردوں کے درمیان جنگ کی صورت بن جاتی ہے۔
قسمت کی یہ ستم ظریفی کراچی جیسے ظالم شہر میں ہی نظر آسکتی ہے کہ کہاں تو ایک مقام پہ خون کی ندیاں بہائ جا رہی تھیں کہاں اسی مقام پہ ایک ہفتے بعد بھنگڑے ڈالے جا رہے تھے۔  میں تو بھنگڑے جیسا محتاط لفظ استعمال کر رہی ہوں لیکن لوگوں کے خیال میں اس کے لئے درست لفظ مجرا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ مرد اگر مجرا کر رہے تو بھی کبھی وہ محفل سماع جیسا نیک نام حاصل کرتا ہے، کبھی جدید موسیقی جیسے راک اینڈ رول کہلاتا ہے  یا کبھی شغل اور لوک ڈانس  وغیرہ کہلاتا ہے مثلاً خٹک ڈانس، بھنگڑا۔ اً لیکن خواتین اگر شغلاً بھی ہاتھ پیر ، کولہے ہلا لیں مثلاً لڈی بھی ڈال لیں تو اسے مجرے جیسا پُر شوق نام کیوں دیا جاتا ہے؟
اچھا بہر حال ناقدین کی نظر میں خواتین کا مجرا کرایا گیا ۔ کچھ لوگوں کو یہ اعتراض ہے کہ وہ بھی ننگے سر۔ یعنی اگر سر پہ دوپٹہ ہوتا تو اتنا مکروہ نہ ہوتا۔
بہر حال جلسہ کیوں کہ خواتین سے متعلق تھا اس لئے جو رنگینی اس میں نہ ہوتی وہ کم ہوتی کہ وجود زن سے ہے تصویر کائینات میں رنگ۔ دفاع پاکستان کے خون کے دھبے دھونے کے لئے یا یہ کہ منتظمین نے دفاع پاکستان والوں کے سینے پہ مونگ دلنے کے لئے خواتین کو اسی مقام پہ چوڑیاں بیچیں، پہنائیں اور مہندیاں بھی لگوائیں۔
پونے دو کروڑ کی آبادی رکھنے والے شہر کی خواتین کی توجہ حاصل کرنا ایک  نئے رجحان یا تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سیاسی پارٹیاں اس بات پہ متفق ہوتی ہوں کہ  ملک کے بعض حصوں میں خواتین کو ووٹ نہیں ڈالنے دیا جائے گا۔ اس میں مسلم لیگ سے لے کر پی ٹی آئ والے بلکہ اے این پی بھی شامل ہوتی ہے۔ وہاں خواتین کی بحیثیت ووٹر آءو بھگت ہونا اانکے لئے خاصہ پر جوش ہے۔
خواتین کے مسائل کے حوالے سے اگرچہ کچھ زیادہ نہیں کہا گیا۔  جلسہ کراچی میں ہوا تھا اور یہاں خواتین کی بڑی تعداد ملازمت پیشہ ہے جو مختلف صنعتوں میں نہ صرف کام کر رہی ہیں بلکہ گھریلو صنعتیں بھی چلا رہی ہیں۔ انکے مسائل بھی اسی حساب سے ہیں۔  بہر حال ہم اس آواز میں شامل ہیں  کہ خواتین پہ تیزاب پھینکنے والوں کے لئے سزائے موت سے کم سزا نہیں ہونی چاہئیے۔
اچھا تو ان تین اجتماعات کے بعد میں کیا سوچ رہی ہوں؟ بس یہ کہ خواتین اور مرد وں کے دلوں تک پہنچنے کے لئے کتنے مختلف راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں۔ کیا کسی ایک سیاسی پارٹی کے لئے یہ دونوں راستے بیک وقت اختیار کرنا ممکن ہے؟

Monday, July 11, 2011

زمین اور زبان

جو ستارے ہم دیکھتے ہیں وہ لاکھوں برس پہلے ختم ہو چکے ہوتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں وہاں ایک تارہ دمک رہا ہے مگر حقیقتاً وہاں اس وقت شاید اسکی راکھ ہوتی ہے جو نئ کائیناتوں کی تشکیل میں حصہ لینے کو تیار ہوتی ہے۔  ہر عروج اپنے زوال سے دو چار ہوتا ہے ۔ مگر ایسی بھی اشیاء ہیں جو بغیر کسی عروج کو دیکھے زوال کی نظر ہو جاتے ہیں۔ پاکستان ان میں سے ایک ہے۔ کوئ دن جاتا ہے کہ ہم اس طرح کی خبریں سنیں گے۔
پاکستان میں عدالتی نظام ختم کر کے جرگہ نظام قائم کر دیا گیا۔ یہ زیادہ موئثر اور پاکستانیوں کے قومی مزاج سے زیادہ قریب ہے۔ اس میں ہر مسئلے کا حل خواتین کی لین دین یا انکی لباسی اور بے لباسی سے بآسانی  نکالا جا سکتا ہے۔ جیل وغیرہ کا خرچہ بچے گا۔ عدالتی کارروائیوں اور انتظام پہ جو خرچہ آتا ہے وہ الگ ختم ہو گا۔
پاکستان میں جدید تہذیب کے اسکولوں کو ختم کر کے مدرسوں کا نظام ترتیب دیا جا رہا ہے۔ اس سے زیادہ بہتر اور با اخلاق انسان وجود میں آئیں گے۔ جو معاشرے کی بنیادیں ہلانے سے پرہیز کریں گے۔ مدرسے برین واشنگ کی تیکنیک سے زیادہ بہتر طور پہ واقف ہیں۔
پاکستان میں جدید طبی سہولتوں سے آراستہ ہسپتالوں کو ختم کر کے ہزاروں سال پرانے حکمت خانے کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔ انکی دواءووں کے اجزاء مقامی درختوں یا جانوروں سے حاصل کئے جائیں گے اور یوں مغرب کی دواءووں کی حکمرانی ختم ہوگی۔ کیا ہوا اگر شرح اموات بڑھ جائیں گی۔ مرنے والوں کی موت اسی طرح لکھی ہوگی۔ ان حکمت خانوں میں بنیادی طور پہ مردوں کی قوت بڑھانے پہ توجہ دی جائے گی۔ 
پاکستان میں جدید ٹرانسپورٹ کی سہولتیں ختم کی جارہی ہیں۔ سوائے صدر مملکت اور وزیر اعظم کے کسی کو باہر کا سفر کرنے کی ضرورت نہیں۔ بیرون ملک لوگوں سے میل جول پاکستانی معاشرے کے لئے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اپنے گھر سے دس میل دور سفر کے لئے حکومت سے خصوصی اجازت نامہ لینا ہوگا۔ جس میں اس سفر کی وجوہات بیان کی جائیں گی۔ اگر وہ قابل قبول ہوئیں تو اجازت ملے گی۔ اس طرح سے پیٹرول وغیرہ کی بچت ہوگی اور ہم پیٹرول میں زیادہ خود کفیل ہونگے۔ جو ہمارے حکمرانوں کے کام آئے گا۔ تاکہ وہ مکمل ذہنی عیاشی کے ساتھ حکومت کر سکیں۔
پاکستان میں زراعت اور چند بنیادی صنعتوں کے بعد باقی سب کی چھٹی کی جارہی ہے۔ وہ بنیادی صنعتیں کون سی ہونگیں اسکا انحصار اس بات پہ ہوگا کہ ہمارے صدر، وزیر اعظم اور حکومت کے اہم اراکین کن کن صنعتوں کے مالک ہیں۔
یہ سارے خیالات پڑھنے میں کچھ عجیب و غریب لگیں گے۔ لیکن اگر آپ ایسے پاکستانی ہیں جو ابھی تازہ تازہ کسی ترقی یافتہ ملک میں وارد ہیں ۔ اور اپنی آمد کے بعد پاکستان سے جو خبریں وصول کرتا ہے اس میں شہر کراچی میں تین چار  دنوں کے اندر سو سے زائد افراد کی ایک گروہ سے دوسرے گروہ پہ دستی بموں اور راکٹ لانچر سے ہلاکت کی خبریں سنتا ہے۔ پھر سنتا ہے کہ کراچی میں کمشنری نطام بحال کر دیا گیا ہے۔ وہ کمشنری نظام جسے تخلیق کرنے والے ممالک نے اسے اپنے ملک سے نکال باہر کیا۔ وہ اسے انتظامی معاملات چلانے کے لئے مناسب نہیں سمجھتے۔ 
پھر سنتا ہے کہ حکومت کے وڈے بد معاشوں میں سے ایک بدمعاش یعنی ذوالفقار مرزا اس قتل و غارت گری کے منصوبے میں شامل رہے۔ یہ وہی صاحب ہیں جن پہ اس سے پہلے بھی شہر کے غنڈوں ، اسمگلرز اور مافیا کے دیگر عناصر سے اس شہر کے سکون کو تہہ و بالا کرنے کے الزامات لگتے رہے۔ اور صدر زرداری نے اس وقت تناءو کو کم کرنے کے لئے مرزا صاحب کو کچھ وقت کے لئے انڈر گراءونڈ ہونے کا مشورہ دے کر حالات کو اپنے قابو میں کیا۔ اور پھر دوبارہ اپنے شیطانی کارندے کو آزادی دے دی۔ 
 میں ایسا کیوں سوچتی ہوں ؟
اسکی وجہ شاید جینیٹک ہے۔ میرے والدین نے اس پاکستان کی زمین سے جنم نہیں لیا۔ میں  اس زمین سے صرف پیدائشی تعلق رکھتی ہوں۔  میں تعریف کے لحاظ سے وہ مہاجر ہوں، جسکی تہذیب میں لڑائ جحگڑوں میں اسلحے کا استعمال شرفاء کا دستور نہیں۔ میرے یہاں مردوں کے کئے کی سزا میں نہ عوتوں کو ونی کیا جاتا ہے نہ کاروکاری ہوتی ہے نہ ان کی شادی قرآن سے ہوتی ہے، نہ انہیں ذہنی لحاظ سے بنجر سمجھا جاتا ہے۔  
میری تہذیب میں جھگڑوں اور تنازعوں کے فیصلے جرگے میں نہیں ہوتے۔ میرے آباء کسی اور نسل سے نفرت میں اتنے نہیں بڑھے کے ان پہ راکٹ لانچر سے حملے کرتے ہوں اور انکے گھر جلا دیتے ہوں۔ یاد رہے کہ میں انیس سو چھیاسی میں اسی طرح کے واقعات دیکھ چکی ہوں جو آج دو ہزار گیارہ میں دوہرائے گئے۔
سو مجھے ان تمام چیزوں سے بے حد تکلیف ہوتی ہے۔ اور جب میں اپنی تکلیف کا اظہار کرتی ہوں تو دیگر لوگوں کو اس اظہار سے بڑی تکلیف ہوتی ہے۔
انکے اور میرے درمیان  ایک بڑا فرق ہے اور وہ یہ کہ میں اور وہ تہذیباً دو مختلف ثقافتوں کے نمائندے ہیں۔ وہ قبائلی نظام اور سوچ و فکر کے پروردہ ہیں اور میں  ترقی پسند سوچ کی پروردہ ۔
جب آپ یہ خبر سنتے ہیں کہ کراچی میں ایک گروہ نے دوسرے گروہ پہ دستی بموں اور راکٹ لانچر سے حملہ کر دیا۔ پھر سنتے ہیں کہ کراچی میں کمشنری نظام بحال کر دیا گیا، پھر سنتے ہیں کہ سندھ میں فنکشنل لیگ اور پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کی چھوڑی ہوئ وزارتوں پہ بندر بانٹ کر رہی ہیں۔ یہ دونوں پارٹیز بنیادی طور پہ سندھی لسانی گروہ کی نمائیندگی کرتے ہیں۔ پھر سنتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور اے این پی نے مفاہمت کی سیاست پہ اتفاق کیا ہے یعنی کراچی میں پیپلز پارٹی خود تو جو کچھ کرے گی وہ کرے گی اے این پی کو بھی کھلی چھوٹ دے گی اس طرح  کراچی کی سب سے بڑی لسانی آبادی کا دماغ درست رکھا جائے۔ اے این پی، پشتون لسانی گروہ کی نمائیندگی کرتی ہے۔ پھر اسکے بعد لازماً ایم کیو ایم کے اندر موجود عناصر بھی انتقامی کارروائ کریں گے۔ یہ وہی ایم کیو ایم ہے جو کراچی میں لسانی عصبیتوں کی حکمرانی کی وجہ سے وجود میں آئ۔
تو اسکے بعد آپ کچھ بھی سوچیں، میں یہ سوچتی ہوں کہ پاکستان کے لئے سب سے مناسب نظام قبائلی نظام ہے۔ یہ یہاں کی اکثریت کا قومی مزاج ہے۔ اور جو لوگ اس نظام سے مطابقت میں مشکل محسوس کرتے ہیں انہیں پاکستان چھوڑ کر کسی اور ملک کی شہریت اختیار کرنی چاہئیے۔ لیکن اپنی بَک بَک سے باز رہنا چاہئیے۔ 
یا خدا، کیا میں ایسا کر سکتی ہوں؟ کیا میں اس زمین سے اتنی لا تعلق رہ سکتی ہوں جس میں میرا جنم ہوا؟ 

Wednesday, April 13, 2011

الم نشرح

ایم کیو ایم  کے پنجاب میں جلسہ کرنے کے بارے میں مختلف قیاسات جاری تھے۔ میں اتوار بازار میں سبزی لے رہی تھی جب دو دوکانداروں کو جوش و خروش سے اس پہ  بات کرتے سنا کہ آج دیکھو پنجاب میں کیا ہوتا ہے۔ دماغ پہ زور ڈالا ، پنجاب میں ایسا کیا ہونے جا رہا ہے جس سے کراچی کے سبزی فروشوں کو دلچسپی ہو۔
جلسہ ہو گیا۔ اس بارے میں بھی مختلف خیالات ہیں۔ کچھ کے نزدیک ناکام تھا اور کچھ اسے کامیاب کہتے ہیں۔ ناکام کہنے والوں کے نزدیک اس میں لوگوں کی تعداد اتنی نہ تھی اور کامیاب کہنے والوں کے نزدیک اس جلسے سے ایم کیو ایم نے اپنی آواز تو پنجاب تک پہنچا دی ہے اور دوسرا یہ کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک کی دیگر سیاسی جماعتیں اپنے علاقوں میں محدود ہوتی جارہی ہیں اور وفاق کی ترجمانی کرنے کے بجائے لسانی طبقوں کی نمائمندگی کرتی ہوئ نظر آتی ہیں۔ یہ ایک مثبت قدم ہے کہ ایم کیو ایم اپنی جنم بھومی سے نکل کر دوسرے علاقوں میں بھی قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے دلچسپ امر یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے دوسری سیاسی جماعتوں کے بر عکس  لسانی سیاست سے آغاز کیا تھا۔
میں اس جلسے کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں کچھ کہنا نہیں چاہتی اور نہ ہی میں ایم کیو ایم کی اس حالیہ سرگرمی میں کوئ خاص دلچسپی رکھتی ہوں ۔ لیکن بحیثیت ایک  پاکستانی میں یہ ضرور جاننا چاہتی ہوں کہ ایم کیو ایم نے اپنے اس جلسے میں ایسی کون سی کشش  اپنے نئے متوقع ووٹروں کے لئے رکھی ہے جس سے وہ اپنے پرانے نظام کے پرانے گھاگ اور لسانی طور پہ قریب رہ نماءووں کو چھوڑ کر انکے پیچھے ہو لیں۔
سیاسی پارٹیاں ایسی کشش اپنے منشور کے ذریعے پیش کرتی ہیں۔
 پارٹی مینیفیسٹو یا منشور ایک بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جس کی بد قسمتی سے ہمارے یہاں کوئ شناخت نہیں۔ ہماری سیاست، پارٹی منشور کے گرد گھومنے کے بجائے شخصیات کے گرد گھومتی ہے۔ سیاست کی اس طرز کی بناء پہ ہم جمہوریت کی اصل روح سے اب تک دور ہیں اور اس چلن پہ ہمیشہ دور رہیں گے۔
عوام کے ذہن کو چند رہ نماءووں کی شخصیت کا اسیر بنا لیا جاتا ہے اور اسکے بعد عوام کے  لئے ہر دروازہ بند اور رہنماءووں کے لئے ہر دروازہ کھلتا جاتا ہے۔
پاکستانی سیاست میں یہ چلن شاید ذوالفقار علی بھٹو کی 'شہادت' کے بعد زیادہ واضح طور پہ شروع ہوا۔ اس سے پہلے تحریک پاکستان میں قائد اعظم کی شخصیت  مرکز بنی رہی۔ قیام پاکستان کے وقت ہمارے پاس واضح طور پہ ایک منصوبہ موجود نہ تھا کہ نئ مملکت کس طرح کام کرے گی۔ قائد اعظم موجود تھے۔  نئ مملکت کے قیام کے تقریباً تیرہ ماہ بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور اسکے ساتھ ہی ہمارا شیرازہ بکھرگیا۔
آج کے پاکستان میں ہم اس بات سے واقف نہیں کہ مختلف پارٹیز کے منشور کیا ہیں۔ لیکن ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اس پارٹی کا کون سا شخص وہ طوطا ہے جس میں پارٹی کی جان ہے۔
یہ پیپلز پارٹی ہے۔ اسکے سربراہ زرداری ہیں جو سب پہ بھاری ہیں۔ انکا پلہ بھاری ہے کیونکہ خوش قسمتی یا بد قسمتی سے جسکا فیصلہ ہم آسانی سے نہیں کر سکتے انکے پچھلے تمام بڑے رہنما شہید ہو چکے ہیں۔ ان شہید رہنماءووں کے مزار پہ نئ سیاسی امنگیں رکھنے والے آشیرباد کے لئے حاضریاں دیتے ہیں۔ عوام اپنے ازلی مسائل کے حل کے لئے ان مزاروں پہ حاضر ہوتے ہیں شاید انہیں یاد دلاتے ہیں کہ کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔ میرا اندازہ تو کہتا ہے کہ مردہ لوگ اپنے جسم کے ساتھ اپنی یادداشت بھی بھلا دیتے ہیں۔ لیکن اس بات کے لئے میرے پاس  کوئ ثبوت نہیں۔ وہ شاید یہ بھی یاد دلانا چاہتے ہیں کہ  جو مسائل اپنی زندگی میں حل نہیں کر سکے اسکے لئے اب آپکے پاس وقت ہوگا اب ذرا کوشش کر لیں۔ اس سے بہرحال ایک بات ثابت ہوتی ہے، عوام موت کے بعد کی زندگی پہ یقین رکھتے ہیں جبکہ رہ نما نہیں رکھتے۔
یہ مسلم لیگ ہے، اسکے اتنے ٹکڑے ہیں اوریہاں، وہاں، جہاں، تہاں گرے ہوئے ہیں کہ انہیں بھی شخصیات کی وجہ سے پہچانا جاسکتا ہے منشور کی وجہ سے نہیں۔ یہ مسلم لیگ نون ہے اسے پہلے ابا جی چلایا کرتے تھے آجکل سعودی حکومت کے تعاون سے چل رہی ہے۔ خوف خدا کوٹ کوٹ کر بھر دیا گیا ہے اس لئے پنجاب کی مڈل کلاس جو کہ مذہبی رجحان زیادہ رکھتی ہے انکی طرف مائل ہے۔ رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماعات کی برکت سے یہ جماعت اب تک پاکستان میں جمہوریت کا عمل سازگار رکھنے کی کوششوں میں سرگرداں فرینڈلی اپوزیشن کا کردار بحسن و خوبی ادا کر رہی ہے یہ جماعت  اپنے دو شریف بھائیوں کے اتحاد کا اعلی نمونہ پیش کرتی ہے۔ اس لئے ان سے امیدیں لگانے میں اتحاد پاکستان کی امید نظر آتی  ہے۔
یہ مسلم لیگ قاف ہے۔ پہلے اسے مشرف کی جماعت سمجھا جاتا تھا۔ پھر مشرف کو اڑنگا لگا کر گرانے والی جماعت سمجھا گیا، پھرقاتل لیگ کے نام سے مشہور ہوئ۔ آجکل نہ تین میں ہے نہ تیرہ میں۔ اسکی پہچان الہی خاندان کے دو سپوت ہیں۔ مشاہد حسین صاحب نے بڑی کوشش کی کہ انکا نام بھی ہوجائے، لیکن انکی گوری رنگت اور اچھے خاصے نین نقش کے باوجود دلہن وہی جو پیا من بھائے۔ ہر کسی کو خدا ایسی سحر انگیز شخصیت نہیں دیتا کہ لوگوں کا دماغ ماءوف ہو جائے۔ یہ امتحان بھی کسی کسی کا ہوتا ہے۔
یہ مسلم لیگ فنکشنل ہے، اسکے اس نام کی وجہ شاید پیر پگارا صاحب کی ذات ہے۔ اسّی سال کی عمر میں انکے سب سے چھوٹے جڑواں بچوں کی عمریں شاید پانچ چھ سال ہیں اس لئے اس کا نام فنکشنل رکھا گیا ہے۔ اپنے مریدوں کو جب زیارت کا موقع دیتے ہیں تو دیدار کا ٹیکس لیتے ہیں۔ مرید تحفوں سے لدے پھدے آتے ہیں اور دعاءووں سے سر سبز جاتے ہیں۔ اپنے بنیادی مسائل کو وہ پیر صاحب کی کرامت سے خدا کا لکھا سمجھ کر آسانی سے جھیل جاتے ہیں۔ جبکہ پیر صاحب نئے تعلقات استوار کرتے ہیں۔ مرید پیج پگارا کے نعرے لگاتے ہیں۔
یہ اے این پی ہے۔ کسی زمانے میں بائیں بازو کی سیاست کرنے والوں میں شامل تھی آج اسمگلرز اور مافیا کے مفاد کی نگرانی کرتی ہے۔  انکے پاس باچہ خان کی یادوں کے سوا کچھ نہیں بچا۔ سب اسمگلرز اور مافیا سمیٹ لے گئے۔ افسوس، باچہ خان شہید نہ ہوئے۔ اب انکی تصویر کسی رقّت آمیز نعرے کے بغیر استعمال ہوتی ہے۔
یہ تحریک انصاف ہے، سنا ہے کہ پنجاب کے نوجوانوں میں مقبول ہونے والی جماعت ہے۔ اگرچہ کہ اسکے لیڈر پنجاب یونیورسٹی میں پنجاب کے نوجوانوں کے ہاتھوں دھوکے سے پٹ گئے۔ لیکن  پھر بھی اپنی والدہ کی یاد میں بنائے جانے والے ہسپتال کو کامیابی سے چلانے اور کرکٹ میں پاکستان کو ایک دفعہ ورلڈ کپ دلانے کے احسان میں ان سے یہ مضبوط امید کی جاتی ہے کہ وہ پاکستان کی سیاست کا بھی نقشہ بدل دیں گے۔ انکا منشور تو دور انکی جماعت کے کسی اور عہدے دار سے بھی ہم واقف نہیں۔ عمران خان کی سحر انگیز شخصیت نے کسی اور کو سامنے آنے کا موقع ہی نہیں دیا۔
یہ ایم کیو ایم ہے، کراچی میں مڈل کلاس کی نمائیندہ جماعت۔ یہ پہلے مہاجر قومی مومنٹ تھی۔ اسکے وجود میں آنے کی وجہ یہ تھی کہ اس مملکت خداداد  کے جتنے بھی فرزند زمین تھے وہ وقتاً فوقتاً اپنی اپنی باری پہ یہ کہہ چکے تھے اور کہتے ہیں  کہ یہ ہم تھے جنہوں نے ان مہاجروں کو پاکستان میں جگہ دی، پناہ دی، احسان کیا۔ ان سب کو یہ یاد دلانے کے لئے کہ پاکستان اپنے وجود میں آنے سے پہلے ہندوستان تھا۔ اور اسے پاکستان بنانے کے لئے ایک لمبی جنگ لڑی گئ۔ ان علاقوں میں جہاں پاکستان نہیں بنا۔ تو اس بھولی بسری یادداشت کا ایک حصہ اس جماعت کی شکل میں آگیا۔  جب اسلحے، دنگے فساد اور طاقت میں یہ جماعت پاکستان کے دیگر فرزند زمین کے برابر آ گئ تو اب یہ چکر شروع ہوا کہ یہ تو لسانی جماعت ہے اور ہم تو سیاست کے ڈگری ہولڈرز۔  ایک دفعہ پھر اس جماعت کے مہاجروں نے قربانی دی اور اسکا نام متحدہ رکھنے پہ متحد ہو گئے۔ مسئلہ اب بھی حل نہیں ہوا۔ فریقین کے درمیان اب جھگڑا اس بات کا اٹھ کھڑا ہوا کہ نشانہ کس کا اچھا ہے۔ استاد کا یا شاگرد کا۔
اس جماعت کے اس نعرے سے مجھے بالکل تکلیف نہیں ہوتی کہ جفا کروگے، جفا کریں گے، وفا کروگے، وفا کریں گے، ہم آدمی ہیں تمہارے جیسے جو تم کروگے وہ ہم کریں گے۔ کیونکہ سماجی سائینسدانوں کا یہ کہنا ہے کہ انسان سماجی جانور ہے۔  لیکن جب میں یہ نعرہ دیکھتی ہوں کہ ہم کو منزل نہیں رہنما چاہئیے۔ تو پھر یہ کہنے کو دل چاہتا ہے کہ اتنے وزن  کا نہیں چاہئیے۔ بات میں وزن ہونا چاہئیے، لیڈر میں نہیں۔ دوسرے یہ کہ جب تقریر کرے تو یہ فرق واضح ہونا چاہئیے کہ کوئ شیعہ ذاکر وعظ کر رہا ہے یا پاکستان میں انقلاب کی بات ہورہی ہے۔ تقریر کے درمیان دو جملوں میں اتنا لمبا وقفہ ہوتا ہے کہ لوگ کہتے ہیں قدرتی ضرورت سے فارغ ہونے گئے تھے۔ مجھے امید ہونے لگتی ہے اگلے جملے تک انقلاب برپا ہو چکا ہوگا۔ اس لئے فوراً رفو چکر ہو جاتی ہوں۔ ہمیشہ اگلے دن کے اخبار سے تقریر کا متن پتہ چلتا ہے۔  یوں دستک انقلاب، صرف الطاف پہ میں راضی نہیں۔ خیر،  آجکل انہیں بھی نعرہ انقلاب لگانے سے فرصت نہیں۔ انقلاب کیسے آئے گا اسکی کیا ترجیحات ہونگیں ، اس سے ہم لا علم ہیں۔
اچھا، یہ پاکستان کی مذہبی جماعتیں ہیں، ان کی خوشش قسمتی یہ ہے کہ انہیں منشور بنانے کی قطعاً کوئ ضرورت نہیں انکا منشور صرف اسلام ہے۔ بجلی کی کمی ہو، تعلیم کا بحران ہو، بے روزگاری ہو،، عوام کے لئے کسی صحت پالیسی کی عدم موجودگی، فضائ آلودگی، سیلاب و زلزلہ، پاکستانی خواتین کی بڑھتی ہوئ فحاشی، پاکستانی مردوں کا لمحہ ء فکر و پریشانی،    پاکستانی خواتین کا کاروکاری میں مرنا ہو  یا ایک بڑی تعداد کا چھاتی کے کینسر سے مرنا ہر مسئلے کا ایک جواب۔ الحمد للہ ہم نے ماضی میں بھی، ماشاللہ سے حال میں بھی اور انشاءاللہ مستقبل میں بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے، کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے کہ صرف اسلام ہمارے تمام مسائل کا حل ہے۔ الحمد للہ، غیرت مند مسلمان ہمارے ساتھ ہیں۔
خوش قسمتی سے یا بد قسمتی سے وطن عزیز میں صرف طالبان ایسے ہیں جن کے منشور سے ہمیں آگہی حاصل ہے یعنی ہم تو دھماکے سے مر جائیں گے صنم تجھ کو بھی نہ چھوڑیں گے۔ یہ وہ ہیں جس پہ مرتے ہیں اسے مار رکھتے ہیں۔ انکی اس ادا پہ ایک طبقہ نثار ہے۔ لیکن ایک دفعہ پھر خوش قسمتی سے یا بد قسمتی سے طالبان اس سیاسی عمل پہ یقین نہیں رکھتے جسکے لئے منشور کی ضرورت پڑے۔
یہ سب باتیں آپکو پہلے سے پتہ ہونگیں۔ اپنے اپنے رجحان کے باعث کچھ کم ، کچھ زیادہ۔ لیکن اس مختصر جائزے کے بعد یہ اندازہ لگانے میں مشکل نہیں ہوتی کہ پاکستانی عوام کے بھولپن کی وجہ سے شخصیات کا تسلط قائم ہے اور اس طرح وہ چیز جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کوئ سیاسی پارٹی عوام کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لئے کیا اسٹرٹجی اپنانا چاہتی ہے اسکی طرف جانے سے ان پارٹیز کی بچت ہو جاتی ہے۔
 ایسے ہی آج خیال آیا کہ کہ پارٹیز تو منشور بتانے سے قاصر ہیں کیوں نہ ہم عوام ہی ایک منشور ترتیب دے ڈالیں اور انکے حضور پیش کریں کہ جناب سوئیمبر رچانے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ ہمیں کیا چاہئیے۔ اس لئے شروع کرتے ہیں خدا کے با برکت نام سے۔  ایک دو تین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Friday, July 2, 2010

نا معلوم

نواز شریف خانہ ء کعبہ کا طواف کر رہے تھے کہ اچانک دل میں شدید تکلیف اٹھی۔ لگا کہ شاید دل کا دورہ پڑنے والا ہے۔ جس وقت انہیں ایمبولینس میں منتقل کیا جا رہا تھا انہوں نے اپنے ایک ایک چاہنے والے سے کہا فوراً لاہور فون کر کے کہو کہ داتا دربار پہ چالیس دیگیں چڑھا دیں۔
یہ ایک لطیفہ ہے جو آپ میں سے بیشتر لوگ برسوں سے سنتے آرہے ہونگے۔ یہ یقیناً اس عقیدت کی مبالغہ آرائ ہے جو اہلیان لاہور داتا دربار سے رکھتے ہیں۔ لیکن اسی دربار میں کل رات ایک خود کش حملہ آور نے جو کسی نا معلوم قومیت کا تھا اور ہم میں سے بیشتر اس خیال کے حامی ہیں کہ اسکا کوئ مذہب نہ تھا۔ اپنے آپکو بم سے اڑا دیا اور ساتھ ہی چالیس سے زائد معصوم، بے گناہ لوگوں کی جو اپنے مسائل کے حل کے لئے یا داتا صاحب کی محبت میں وہاں موجود تھے انہیں بھی خدا کی عطا کردہ بیش قیمت نعمت، زندگی سے محروم کر دیا۔
ابھی ابھی میں ایک پتلی سی کتاب پڑھ کر فارغ ہوئ ہوں جو انیس سو ننانوے میں ادارہ ء معارف اسلامی کی سرپرستی میں شائع ہوئ۔ جس میں مصنف نے سارا زور اس بات پہ دیا کہ خود کشی سیکولر سماج کی پیداوار ہے۔ اور پاکستان میں جہاں کہیں خودکشی ہوتی ہے یہ وہ علاقے ہیں جہاں سیکولیرزم اپنے قدم جما چکا ہے۔ اس کتاب کے دلچسپ اقتباسات پھر کبھی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں اس واقعے کی مذمت کرنی چاہئیے؟
یہ مذمت حکومت وقت کے خلاف ہونی چائیے؟ پاکستان کے ایک عملی طور پہ اسلامی مملکت نہ ہونے کے خلاف ہونی چاہئیے؟ خود کش حملوں کے خلاف ہونی چاہئیے؟ خود کش حملہ آوروں کے خلاف ہونی چاہئیے؟
نامعلوم خودکش حملہ آوروں کے خلاف ہونی چاہئیے یا معلوم خود کش حملہ آوروں کے خلاف؟
اگر ہم یہ مذمتی بیان نامعلوم خودکش حملہ آوروں کے خلاف کرتے ہیں جنکی قومیت اور مذہب نہیں معلوم، تو کیا وجہ ہے کہ ہم اپنے آپکو اول درجے کامنافق نہ کہیں؟ 
کیا مذمت کرتے وقت ایسے نامعلوم خود کش حملہ آوروں کا تذکرہ کر کے  ہم مرنے والوں کا اور انکے لواحقین کا مذاق نہیں اڑاتے؟
ان نامعلوم حملہ آوروں کی جنکی کوئ قومیت اور مذہب نہیں ہے مذمت اور مرنے والوں کی تعزیت ہم کب تک کرتے رہیں گے؟
وہ کون سے فضائ، بری اور بحری راستے ہیں جنکے ذریعے یہ خود کش حملہ آور ہمارے ملک میں داخل ہو کر ہمارے شہریوں کو جان سے ختم کر دیتے ہیں؟
 مختلف علاقوں میں جو نام نہاد خود کش حملہ آور تیار کرنے کے کیمپس ہیں اور جہاں سے کچھ انتہائ بے وقوف لوگوں کی اطلاعات کے مطابق  یہ دھڑا دھڑ پھٹنے کے لئے بھیجے جا رہے ہیں کیا وہ سب کچھ بالکل جھوٹ پہ مبنی ہے؟
اور کیا کسی اور قوت نے انسانی کلوننگ کے ذریعے خود کش حملہ آور تیار کرنے کا طریقہ معلوم کر لیا ہے؟ کیا ہم یہ طریقہ اپنے دشمن پہ نہیں لگا سکتے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم خود کش حملہ آور بھیج کر دنیا بھر میں موجود اپنے دشمنوں کا قلع قمع کر دیں تاکہ ہمارے شہری اپنی عبادت گاہوں میں تو سکون سے جا سکیں؟
ان سوالوں کی فہرست خاصی طویل ہوتی جاتی ہے۔ لیکن میرا خیال ہے بجائے کسی واقعے پہ اپنے تاثرات لکھنے کے میں صرف ذہن میں آنے والے چند سوالات لکھ دیتی ہوں۔ تاکہ ہمارے دیگر لوگ جو زیادہ بہتر طریقے سے کسی مسئلے کو حل کر لیتے ہیں وہ انکے مناسب جوابات دے سکیں۔
کیونکہ یہ سوالات ہیں جنہیں جانے بغیر ہم اپنا دفاع کرنے سے محروم ہیں۔ ایک خود کش حملہ آور کہیں بھی، کسی بھی وقت نمودار ہوگا اور خود جنت حاصل کر کے اپنے پیچھے سینکڑوں لوگوں کی زندگی جہنم بنا جائے گا۔
مذمتی بیانات تو سب ہی ڈال کر اپنا فرض پورا کرتے ہیں۔ اس وقت یہ مذمت ذرا الگ انداز سے کرتے ہیں۔ جس سے مجھ جیسے کم علم لوگ بھی مستفید ہو سکیں۔ اور انہیں صحیح سے معلوم ہو کے انہیں کیا کرنا ہے۔ مذمت کرنی ہے، تعزیت کرنی ہے، تبرہ کرنا ہے، یا لعنت بھیجنی ہے۔ اور ان سب کا ٹارگٹ کسے بنانا ہے۔
اور ہاں ایم کیو ایم اور الطاف حسین کو خدا پوچھے۔ وہ  ایک نمبر کے دہشت گرد ہیں بس ان میں اوردیگر دہشت گردوں میں  یہ فرق ہے کہ انکے خود کش حملہ آور عام لوگوں کے درمیان نہیں پھٹتے۔ لیکن یہ بھی میں غلط ہی کہتی ہوں یہ دوسرے دہشت گرد ہمارے ملک سے تعلق ہی کہاں رکھتے ہیں۔ یہاں تو صرف ایک ہی طرح کے دہشت گرد ہیں اور وہ ہیں الطاف حسین کے دہشت گرد۔ 


Wednesday, March 10, 2010

اختلاف نظر

اس اتوار کو 'ڈان' اخبار میں دو ملتے جلتے مضامین آئے۔ ملتے جلتے اس لئے کہ دونوں میں پاکستانی سیاست کے رجحانات پہ ایک جیسے حوالے سے بات کی گئ ہے۔
 پہلا مضمون ھما یوسف نے لکھا ہے جو کہ ایڈیٹوریل صفحے پہ موجود ہے۔ جہاں ایک طرف انکا کہنا ہے کہ پاکستانی قوم کو شدت سے ایک ہیرو کی ضروورت ہے وہاں انہوں نے بلوچستان کی مائ جوری کی مثال دیتے ہوئے انہیں پاکستانی سیاست مین تبدیلی کی نشانی قرار دیا ،  انکا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاست میں اب یہ تبدیلی آرہی ہے کہ لوگ مسائل کو لیکر چلنے والی سیاست کی طرف جا رہے ہیں۔
 اس سلسلے میں مجھے اس وقت مایوسی ہوئ جب انہوں نے مسلم  لیگ نون، جماعت اسلامی اور عمران خان کی سیاست کو مسائل کو سامنے والی سیاست میں شامل کیا۔ دوسری طرف انہیں لگا کہ ایم کیو ایم نے پچھلے چند مہینوں میں یہی پالسی اپنائ ہے اور اسکا ثبوت یہ ہے کہ سندھ کے شہری علاقون سے ایم کیو ایم ملک کے دہگر حصوں کی طرف متوجہ ہوئ ہے۔
مسلم لیگ نون، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف انکے کریڈٹ پہ عدلیہ کی جنگ ڈال دینا اور اسے ایشو بیسڈ سیاست کی طرف جانیوالا قدم قرار دینا کہاں تک صحیح ہے۔ اس طرح تو بھٹو کے دور میں اسلامی حکومت کا نفاذ اس وقت کی حزب اختلاف کا نعرہ بن گیا تھا جو جنرل ضیا الحق کی حکومت کی شکل میں منتج ہوا۔ اگر اسے معیار بنا لیا جائے تو تو پاکستان میں ہمیشہ ایشو بیسڈ سیاست ہوئ ہے یہ الگ بات کہ یہ وہ ایشوز ہوتے ہیں جو ان سیاسی جماعتوں کو وقتی طور پہ سہارا دے رہے ہوتے ہیں۔
جہاں تک ایم کیو ایم کی پالیسی تبدیلی کا تعلق ہے ایم کیو ایم اسکی کوششیں پچھلے کافی سالوں سے کر رہی ہے۔ اور وہ اس سلسلے میں مختلف مواقع پہ کام کرتے رہے ہیں یہ دراصل پچھلے چند مہینوں کا کام نہیں ہے اسی وجہ سے سے کئ سال پہلے ایم کیو ایم نے اپنا نام مہاجر قومی مومنٹ کے بجائے متحدہ قومی مومنٹ رکھ لیا تھا۔
انکی ایک بات سے ہر پاکستانی اتفاق کریگا کہ فاٹا کہ علاقے میں سیاسی لیڈران کو کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے روائتی نظام سے نکل کر قومی دھارے میں آ سکیں اور اسکے لئے وہاں تعلیم، صحت اور انفرا اسٹرکچر پہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ 
دوسرا مضمون ندیم ایف پراچہ کا ہے جس میں انہوں نے پنڈی کے حلقہ پچپن کے نتائج سے اس روئیے کو اخذ کرنے کی کوشش کی ہے۔  ان میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں میں، مسلم لیگ نون اور شیخ رشید کی عوامی لیگ دونوں ہی دائیں بازو کی جماعتیں ہیں۔ انکے مقابل جماعت اسلامی اور تحریک انصاف وہ جماعتیں ہیں جو امریکہ کے اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے خلاف اور مشتبہ غیر ملکی سیکیوریٹی ایجنسیز کے افراد کی پاکستان کی موجودگی کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے ان الیکشنز میں سیاسی وجوہات کی بناء پہ حصہ نہیں لیا۔
 ان الیکشنز میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف دونوں کو شکست ہوئ۔ پراچہ صاحب کے خیال میں جماعت اسلامی اپنے طور پہ کبھی بھی دو سے تین فی صد سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کر سکی۔ انکی پالیسی مجموعہ ہے اسلامی راسخ العقیدہ نظریات، امریکہ کے خلاف ہونا اور طالبان کا حامی ہونا۔
 انکے کہنے کے مطابق اگرچہ پاکستانی ووٹرز کے نزدیک  جماعتوں کے نظریات اہمیت رکھتے ہیں لیکن یہ بات با بار مشاہدے میں آچکی ہے کہ وہ ایسے امیدوار چاہتے ہیں جو بے روزگاری، جرائم، ہنگامہ آرائ اور ملکی ترقی جیسے معاملات کو حل کرنے کی طرف بھی توجہ دینا چاہتے ہیں۔
انکے خیال میں وہ جماعتیں جو اس طرف توجہ دے رہی ہیں وہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون، ایم کیو ایم اور اے این پی ہیں۔
جبکہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف اس سلسلے میں ناکام رہی ہیں۔
ایک مزے کی بات جو پراچہ صاحب کہتے ہیں  وہ یہ کہ ایک سیاستدانوں کی کرپشن، عدلیہ کی آزادی اور طالبان کے خلاف جاری جنگ پہ ٹی وی کے اینکر پرسن زیادہ اچھی طرح بول سکتے ہیں مگر کیا وہ ان بنیادوں پہ الیکشن جیت سکتے ہیں۔
 دیکھا آپ نے دو مختلف افراد ایک ہی موضوع پہ بات کرتے ہیں مگر ایک کو جو جماعت ایک چیز کرتی نظر آرہی ہے دوسرے کو وہی جماعت وہی چیز کرتی نہیں نظر آ رہی۔
تمہی کچھ بتلاءو اسکو کیا کہتے ہیں؟

 حوالہ؛

Friday, May 8, 2009

میرا پٹھان ڈرائیور چلا گیا

میرا پٹھان ڈرائیور چلا گیا۔ میں نے اسے قطعاً جانے کے لئے نہیں کہا۔ میں نے اس کے سامنے ہمیشہ اپنی کم علمی کا اعتراف کیا۔ اس نے بھی کبھی مجھے با خبر رکھنے میں بخیلی سے کام نہیں لیا۔ وہ اکثر خود اندازہ کر لیتا تھاکہ یہ بات مجھے معلوم نہیں یا صحیح طریقے سے معلوم نہیں۔ ایکدن جب دوران سفر اسے اندازہ ہوا کہ میں شاید کبھی سینماہال کے اندر نہیں گئ اور میں یہ بات نہیں سمجھ سکتی کہ وہاں اتنے سارے لوگ کسی مشکل کے بغیر فلم دیکھ لیتے ہیں اور کسی کا سر کسی کے دیکھنے کی راہ میں حائل نہیں ہوتا تو اس نے مجھے اس بارے میہں کافی اطلاعات دیں۔پھر مجھ کوڑھ مغز کو مزید سمجھانے کے لئے اس نے ہاتھوں کی مدد سے نشستوں کی ڈھلواں ترتیب بھی سمجھائ۔ آخر میں اسے خاصی خوشی ہوئ کہ کس طرح اس نے مجھے وہاں کا معاملات سمجھا دئے۔ کسی کویہ جان کر اگر خوشی ہوتی پہے کہ ہماری جہالت کو وہ کم کر سکتا ہے تو کچھ وقت کے لئے جاہل بنے رہنے میں کیا مضائقہ ہے۔کم از کم میں اسے کوئ برائ نہیں سمجھتی۔ چھوٹے بچے تو اس طرح بڑے خوش ہوتے ہیں۔ویسے بھی عورتوں کو عقل دیکر سب مرد خوش ہوتے ہیں اور عورتِں مردوںکو خوش دیکھ کر خوش ہوتی ہیں۔

میں جب اس کے ساتھ سفر میں ہوتی تو وہ اکثر کچھ نہ کچھ بتاتا رہتا۔ اسی نے ایکدن بتایا کہ عباسی شہید ہسپتال اب بہت اچھا ہو گیا ہے۔ ایسا کیسے ہوگیا میں نے پھر معصوم حیرانی کا اظہار کیا۔ 'باجی، جب سے پیپلز کا حکومت آیا ہےہسپتال کا انتظام بہت اچھا ہو گیا ہے۔' چلو کسی نے تو پیپلز حکومت کی تعریف کی۔ لیکن پہلے کیسا تھا۔ 'باجی پہلے جب ایم کیو ایم کی حکومت تھا تو بڑا برا حال تھا۔ ہر جگہ اندھیرا رہتا تھا۔ اور پٹھانوں کے ساتھ بڑا ظلم ہوتا تھا'۔ کسی کے ساتھ زبان کی بنیاد پر ظلم ہو یہ بڑی غلط بات ہے ۔ کون کرتا ظلم اور کیسے۔ میں نے ہمدردی کی۔ 'باجی جب پٹھان علاج کے لئے آتا تو وہ لوگ اسے زہر دے دیتے تھے۔ مگر تمہیں کیسے پتہ چلا میں نے اسے کریدا۔لوگ بتاتے تھے باجی اچھا بھلا آدمی لیکر ہسپتال جاتے اور وہ مر کر واپس آتا تھا'۔ میرے خدا اچھے بھلے آدمی کو لیکر ہسپتال کیوں جاتے تھے۔' میں نے حیرت سے پوچھا۔ اس نے بھی حیرت سے میری طرف دیکھا۔اور پھر جیسے سوچا۔ لوگ ٹھیک کہتا ہے یہ عورت لوگ کے پاس عقل نہیں ہوتی۔ سامنے سڑک کی طرف دیکھنے لگا۔ میں نے اپنے طور پہ بات کو سنبھالا اور ڈرائیور کو سمجھایا۔ 'تم اب بھی وہاں جانے میںاحتیاط کیا کرو۔ تمہیں معلوم نہیں کراچی میں اب بھی ایم کیو ایم کا کنٹرول ہے۔ اس پر اس نے مجھے پھر سمجھایااللہ سب کی حفاظت کرنے والا ہے۔ اور پرائویٹ ہسپتال عوام کے زیادہ وفادار ہوتے ہیں۔ میں نے اس کی رائے سے اتفاق کیا، اختلاف کر کے میں اسے ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔آخر اس کی وجہ سے میں اتنی باخبر رہتی تھی۔

لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ سوئے اتفاق کہ ہم سب گھر والوں کو شہر سے باہر جانا پڑا۔ ڈرائیور کی ذمہداری یہ لگائ گئی کہ وہ ہماری غیر موجودگی میں آئے گا۔ اس طرح صفائ کرنے والی ماسی آکر ڈرائیو وے صاف کر دے گی اور درفتوں کے پتوں کا ڈھیر نہیں جمع پو پائے گا۔ وضاحت کے لئے یہ بھی بتادوں کہ اس سرائیکی ماسی کی بہن بھی ہمارے اوپر والے حصے میں کام کرتی تھی۔
ہم جب پندرہ دن بعد لوٹے تو کراچی میں فسادات کے بعد بظاہر سب ٹھیک ٹھاک لگ رہا تھا۔ فسادات کے نتیجے میں اطلاع یہ تھی کہ پٹھانوں کا کافی نقصان ہوا۔ڈرائیور نے بتایا کہ ماسی اس دوران بالکل نہیں آئ اور صحن کی صفائ کا کام اس نے خود انجام دیا۔ ہم نے اس کی تعریف کی اور ماسی کو برا بھلا کہا۔اور اسے تسلی دی کہ ماسی جب آئے گی تو اس کی خوب سرزنش کی جائے گی۔اگلے دن ماسی کی آمد کسی نے اس ڈانٹ بھی دیا۔ اور کیا کرتے۔ اگلے دن اس کے پٹھان مالی دوست نے ہم مجھ سے کہا کہ وہ مجھسے کچھ بات کرنا چاہتا ہے۔ 'کیا ہوا ؟' مجھے اس کے پراسرار انداز پہ حیرت تھی۔ ''وہ باجی، وہ جو ماسی ہے اس نے ڈرائیور کی بڑی بےعزتی کی۔' کس بات پر ' میری حیرانی اور بڑھی۔ "وہ باجی، ماسی کی بہن گلی میں سے جا رہی تھی ڈرائیور نے اسے روک کر پوچھا کہ اس کی بہن کیوں نہیں آرہی۔ تو اس نے اس کی بےعزتی کر دی۔' کیا کہا اسنے.' میں نے دلچسپی سے پوچھا۔'باجی وہ کہنے لگی کہ وہ آءندہ اس چرھ اس سے راستے میں کھڑے ہو کر نہ پوچھےورنہ وہ اس کا منہ بگاڑ دے گی۔ جو کچھ پوچھنا ہے میری بہن سے پوچھو۔ باجی سامنے والوں کا ڈرائیور بھی کھڑا تھا۔ اس کی بڑی بے عزتی ہوئ۔ وہ کہتا ہے جی کہ ماسی اس سے معافی مانگے۔ ' میرے خدا۔ اب میں کیا کروں۔ اب سوال یہ تھا کہ ان موصوف اتنی کارکردگی کیوں دکھائ اور دوسرا سوال یہ تھاکہ اگر وہ ماسی سے کھڑے ہو کر نہ پوچھتا تو کیا لیٹ کر پوچھتا۔ یہ ماسی بھی بس یایک اکھڑ دماغ کی ہے۔ مالی کو تسلی دی۔ اس ماسی کو بات کرنے کی تمیز نہیں۔ میں نے اسے بہلانے کی کوشش کی۔ بہرحال میں اسے سمجھا دونگی۔
اگلے دن ماسی آئ تو میں نے ڈرائیور کو بلوالیا۔ اب جناب پہلے تو بضد ہوءے کہ سامنے والے ڈرائیور کو بھی بلوا لیا جائے۔ ان کی اس بات پر توجہ نہ کی گئ۔ اور ماسی سے پوچھ شروع ہوئ۔تو ماسی نے منہ بگاڑنے والی دھمکی سے صریح انکار کیا۔ لو کر لو بات۔ 'باجی اس طرح روک کرکوئ بھی ہم سے بیچ راستے میں بات کرنے لگ جائے تو دیکھنے والے کیا سمجھیں گے۔ اب کسی کو کیا پتہ یہ مجھ سے کیا بات کر رہا ہے'۔ بہرحال میں نے پھر بھی ڈرائیور کا دل رکھنے کو ماسی سے کہا کہ بات احتیاط سے کیا کرو۔ اب میں ناقص العقل تو یہ سمجھی کہ معاملہ نمٹ گیا۔ لیکن عین اس وقت جب کوئ مولانا صاحب ٹی وی پر بتا رہے تھے کہ خواتین کا نا محرم کے ساتھ نکلنا کس قدر نقص امن کا باعث ہے اور اس کی ممکنہ اسلامی سزا کیا ہے اور کس طرح اس مسئلہ کے حل ہونے سے عالم اسلام کے دیگر معاشی و معاملاتی مسائل حل ہو جائیں گے۔ ڈرائیور آیا۔ گاڑی کی چابی میرے سامنے میز پہ رکھی اور ہمیشہ کے لئے جانے کی اجازت مانگی۔ میں تو ویسے ہی اس پروگرام کو سن کر دہشت زدہ تھی کہ کس طرح ایک نا محرم ڈرائیور کے ساتھ سارے شہر میں پھرتی رہی۔ کچھ بھی نہ کہہ سکی۔ اب سوچتی ہوں کہ اس میں صوفی محمد کی کارستانی تو نہیں یا میرا اردو اسپیکنگ ہونا حالانکہ میںنے ہمیشہ کسی بھی سیاسی جماعت سے اپنی لا تعلقی کا اظہار کیا۔ آخر اس نے ایسا کیوں کیا۔ کوئ بتلائے۔