Showing posts with label شادی. Show all posts
Showing posts with label شادی. Show all posts

Monday, September 17, 2012

توہین کا غم

جہاں تین سو لوگ ایک دن میں جل کر مرجائیں اور کوئ سنوائ نہ ہو کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا؟ مزدوروں کے حق میں کوئ تحریک نہ چلے۔ محنت کشوں کے لئے موجود ہمارے پالیسی سازوں کے اونچے اونچے محلوں پہ پتھر مارنے کے لئے ایک ہاتھ حرکت میں نہ آئے۔  جہاں ایک فلم  بننے کے ایک سال بعد اااس وقت اس پہ احتجاج شروع ہو جس وقت اسکا عربی ورژن ریلیز ہو۔ یہی نہیں بلکہ لوگ  سوشل میڈیا پہ یہ پیغام شیئر کر رہے ہوں کہ توہین پیغمبر کی سزا ، بس سر سے تن جدا، بس سر سے تن جدا، بس سر سے تن جدا۔ جہاں اس بات پہ خوشی منائ جارہی ہو کہ کراچی میں سفارت خانے پہ حملے میں ضائع ہونے والی جان، دراصل بازی لے جانے والے شخص کی ہے۔
ایسے زمانے میں چھٹی کا دن اور اس سے منسلکہ تفریح اسکے علاوہ کیا رہ جاتی ہے کہ آپ گھر میں سوئیں اور سوتے ہی رہیں۔ مر جائیں مرنے سے پہلے۔
لیکن اس اتوار میں نے یہ نہیں کیا۔ میں کسی بھی اتوار کو یہ کرنا پسند نہیں  کرتی۔ جب سے مجھے یہ احساس ہوا ہے کہ زندگی انسان کی وہ سب سے قیمتی شے ہے جو اسے دوبارہ نہیں ملے گی۔ صرف ایک بارملے گی۔ اس احساس کے بعد سونا کافی مشکل لگتا ہے۔ ذرا سوچیں اس ایک زندگی میں وہ کیا دلچسپ کام ہیں جو ہم کر سکتے ہیں۔ جن سے کسی کو کوئ نقصان نہیں۔ جن سے کسی کی توہین نہیں ہوتی، جن سے دل تشکر کے احساس سے بھر جاتا ہے کہ خدا نے ہمیں زندگی جیسی نعمت سے نوازا۔ 
میں  کتابوں کی ایک دوکان پہ چلی گئ۔ یہاں نئ کتابیں کم اور پرانی زیادہ ہوتی ہیں۔ کتنی پرانی؟ اسکا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایک صاحب نے بتایا کہ وہ علامہ راشد الخیری کے ایک رشتے دار کے ہمراہ اس دوکان پہ موجود تھے۔ وہاں انیس سو تیس میں چھپنے والی انکی سوانح عمری مل گئ۔ جس میں ان صاحب کے دادا کے بچپن کی تصویریں بھی شامل تھیں۔
کتابیں چھانتے ہوئے، ایک کتاب نظر آئ جس پہ مصنف کا نام لکھا تھا، مرزا غلام احمد۔ میں نے سوچا یہ تو کچھ سنا سنا سا نام لگتا ہے۔ ہاتھ میں اٹھا کر دیکھا تو یاد آیا کہ فیس بک پہ روزانہ ہی ان کے دین سے ہشیار کروایا جاتا ہے۔ اور میں انہی کا نام بھول گئ۔ مجھے یقین ہے کہ میں آخری عمر میں الزائمر کا شکار ہونگی۔ اسے اٹھا کر رکھ دیا۔ اپنے مذہب کی تفصیلات یاد نہیں رہتیں، انہیں پڑھ کر کیا کرونگی جبکہ دنیا میں ہر روز کے حساب سے دلچسپ باتیں علم میں آتی ہیں۔
اسی ڈھیر میں  میں ایک اور کتاب مرزا بشیر احمد کی تھی۔ یہ بھی ایک دم خستہ حال ہو رہی تھی۔ جسے ان کتابوں کے حوالے دینا ہوں وہ خریدے۔  یہ سوچ کر ہنسی آئ کہ  قادیانیوں کے خلاف تحریک چلانے والوں کو معلوم نہیں انکا لٹریچر، لوگوں کی لا علمی کی وجہ سے ابھی تک دوکانوں پہ موجود ہے۔ مجھے یقین ہے کہ دوکاندار نے بھی کبھی ان کتابوں میں دلچسپی نہ لی ہوگی۔ شاید اسے معلوم ہی نہ ہوگا کہ وہ قادیانیوں کا لٹریچر رکھتا ہے۔ اور اگر معلوم ہوا بھی تو اس نے سوچا ہوگا کہ جیسے اور لوگ اپنا دینی لٹریچر خریدتے اور پڑھتے ہیں ایسے ہی کوئ قادیانی بھی خرید لے گا۔ اسے کیا، یہ اس کا کاروبار ہے۔ جیسے فیکٹری میں کام کرنے والوں کو اس علم سے کیا غرض تھی کہ اگر آگ لگی تو وہ وہاں سے زندہ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہونگے یا نہیں۔  انہیں کام چاہئیے تھا اور اسکے بدلے میں پیسے۔
وہاں ایک اور کتاب موجود تھی جس میں بتایا گیا تھا کی آغا خان اسمعیلیوں کے خدا کیسے؟ میں نے ایک نظر اس پہ ڈالی۔ آغا خانی ہمارے یہاں کی امیر  ترین اقلیت ہیں۔ کوئ انکو کافر قرار دے کر مار سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا؟  اس میں بھی  آغا خانیوں کے دین پہ لعنت بھیجی گئ تھی۔ لیکن شاید ننانوے فی صد آغا خانیوں کو اردو لٹریچر پڑھنے سے کوئ شغف نہیں۔  
نئ کتابوں پہ ایک نظر ڈالتے ہوئے میری نظر ایک کتاب پہ رکی۔ یہ خوشگوار اسلامی ازدواجی تعلقات پہ تھی۔ مجھے خیال آیا کہ ایک دوست کی شادی ہونے والی ہے انہیں تحفے میں دی جا سکتی ہے۔ لیکن پہلے اسے کھول کر تو دیکھوں کہ اس میں لکھا کیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم ایسی کتابوں میں اسلام کے حوالے سے کیا لکھا ہوتا ہے۔ اسلام کس طرح ازدواجی تعلقات کو خوشگوار بنانے میں مدد کر سکتا ہے۔
میں نے کتاب درمیان سے کھول لی۔ کس قسم کی عورت سے شادی کرنی چاہئیے؟ یہ صفحہ میرے سامنے تھا۔ احادیث اور قرآنی آیات کے حوالے موجود۔  مصنف نے جو کوئ مولانا تھے حدیث سے ثابت کیا کہ ویسے تو رسول اللہ نے دیندار عورت کو ترجیح دینے کو کہا ہے لیکن عورت کا خوب صورت ہونا ضروری ہے اگر عورت خوب صورت نہ ہو تو شوہر کا دل دوسری عورتوں میں لگا رہے گا۔ جسے سفید رنگت اور خوب صورت آنکھوں والی عورت دنیا میں مل گئ جو اپنے شوہر کا خیال رکھتی ہو اسے گویا دنیا ہی میں حور مل گئ۔
ان کے نزدیک عورت کا کنوارہ ہونا ضروری ہے۔ بیوہ  یا طلاق یافتہ عورت کا دل اپنے پہلے شوہر کے خیال میں ڈوبا رہتا ہے اور وہ دوسرے شوہر کے حقوق خوشدلی سے پورے نہیں کر سکتی۔ بکواسو، میں نے سوچا۔ جس پیغمبر نے اپنے سے پندرہ سال بڑی ایک بیوہ عورت کے ساتھ اپنی نوجوانی کے پچیس سال گذارے ہوں اور جسکی صرف ایک بیوی کنواری اور باقی سب پہلے سے شادی شدہ ہوں اسکے نام پہ یہ بات کرنا جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے۔ آگے صفحے پلٹتی ہوں۔
بانجھ عورت سے شادی نہیں کرنی چاہئیے۔  رسول اللہ سے منسوب ایک حدیث کے حوالے سے بتایا گیا کہ اگر کسی عورت کے متعلق پہلے سے پتہ ہو کہ وہ بانجھ ہے تو اس سے شادی نہ کرو۔ میرا دل ٹوٹ  سا گیا۔ میں نے وہ کتاب بند کر کے وہیں واپس رکھ دی۔
میں ایک عورت ہونے کے ناطے سوچتی ہوں۔ کیا میں صرف بچے پیدا کرنے کا ایک آلہ ہوں۔ کیا میرے جذبات نہیں، خواہشات نہیں۔ کیا بانجھ عورت کو شادی کا حق نہیں جبکہ وہ جسمانی طور پہ ایک دم درست ہو؟
کیا یہ منسلکہ حدیث صحیح ہو سکتی ہے؟ آخر ہمیں کیوں تامل ہے کہ حدیثوں کے ذخیرے میں بہت غلطیاں ہیں جن سے لوگ اس ہستی کا مذاق اڑاتے ہیں جس کے لئے آپ  کو کسی کا سر تن سے جدا کرنے میں کوئ عار نہیں۔  
میں کتاب کی دوکان سے واپس آئ، اور اب میرے دماغ میں آگ سے پیچھا چھڑانے والے لوگوں کی چیخوں کے ساتھ اس عورت کا غم بھی شامل ہے جو بانجھ ہے، بچے پیدا نہیں کر سکتی اور کوئ اس سے شادی بھی نہیں کر سکتا۔ گو غم اور چیخ، سانجھے ہیں لیکن کچھ انسان اپنی توہین کروا کر غمزدہ رہنا کیوں پسند کرتے ہیں؟  

Saturday, September 1, 2012

جیت کس کی ہوگی؟

یہ میرا آنرز کا پہلا سال تھا۔ عمر یہی کوئ سترہ سال۔ میں نے اپنا پریکٹیکل ختم کیا اور سامان دھو کر رکھنے لگی۔ اس دن ہم نے رنگ بنانے کا بنیادی طریقہ سیکھا تھا۔ اسکی دلچسپ بات یہ تھی کہ تیزابی پانی میں یہ گلابی رنگ دیتا تو اساسی پانی میں یہ اورنج رنگ کے ساتھ سبز چمک دیتا۔ جو بڑی خوبصورت معلوم ہوتی۔ اسکی ٹیسٹ ٹیوب کو میں نے خوب رگڑا۔ لیکن اس مرکب کا ایک چھوٹا سا غیر محسوس ٹکڑا تہہ میں ایسا چپک گیا تھا کہ نکلنے کا نام ہی نہ لے رہا تھا۔  اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا اور میں نے اس ٹیسٹ ٹیوب کو سکھا کر اوپر سے کاغذ کے ایک گولے سے بند کر کے اپنے بیگ میں رکھ لیا۔
گھر پہنچتے ہی چھوٹی بہن نے خوشی کا نعرہ مارا۔ اسکی عمر یہی کوئ چار پانچ تھی۔ اور وہ ہر روز اپنی سائینس کی ٹیچر کے فرمودات سنایا کرتی تھیں اورروز کے حساب سے حاصل ہونے والی اپنی  معلومات کو فوری طور پہ شیئر کرنا فرض عین سمجھتی تھیں کہ اس سے ہم سب کے منہ کھلے رہ جاتے۔ ہماری اس بے مثل ایکٹنگ سے وہ اپنے آپکو ایک علامہ سے کم نہیں سمجھتی تھیں۔ لیکن آجکا دن ان کی علمیت ہی کیا انکے مشاہدات  پہ بھاری تھا۔ کیونکہ اس سازش میں قدرت ہی نہیں انکی ہر دلعزیز ہمشیرہ بھی شامل تھیں۔ ہر دلعزیز اس لئے کہ زیادہ اچھی اداکاری کرتی تھیں۔
میں نے کھانے وغیرہ سے جب فراغت پائ تو انہیں بتایا کہ آج میرے پاس ایک جادو ہے انکے لئے۔  بیگ سے ٹیسٹ ٹیوب نکالی۔ ایک پیالے میں صابن کا پانی یعنی اساسی محلول تیار کیا اور اس بظاہر خالی ٹیسٹ ٹیوب میں ڈال دیا۔ انکے تجسس بھرے چہرے پہ ایک گہری سنجیدگی ابھری اور وہ میرے جادو کے سامنے چت ہو گئیں۔ اس خالی ٹیسٹ ٹیوب میں اب اورنج رنگ کا محلول موجود تھا جس میں سبز دلکش چمک موجود تھی۔
تو جناب، مجھے بچپن سے ولی بننے کا بہت شوق تھا۔ لوگوں کے دلوں کے راز جان لوں، جائے نماز کے نیچے سے پیسے بر آمد کر لوں، جو خواب دیکھوں سچ ثابت ہو، جسے جو دعا دوں وہ پوری ہوجائے۔ کائینات کے ہر علم سے آگاہ ہوجاءوں۔ اس کوشش میں اولیاء اکرام کی سوانح حیات پڑھیں۔ تاکہ انکے تجربات سے مستفید ہوں۔ 
تھوڑے بڑے ہونے پہ پتہ چلا کہ صرف تقوی وغیرہ سے کام نہیں چلے گا۔ وظیفوں کا گھوٹا بھی لگانا پڑے گا۔ لیجئِے جناب اب ہر روز کئ ہزار دفعہ درود شریف تو خدا جانے کتنی دفعہ اور اسماء کا ورد بھی شامل ہو گیا۔ ادھر چکی کی مشقت بھی جاری تھی۔ یعنی دنیاوی حقیر علوم , سائینس وغیرہ سے بھی نجات ممکن نہ تھی کہ  اس سلسلے میں تعلیمی اداروں کو روانہ ہوتے، فیس بھرتے، امتحان دیتے۔
 یہ وہ زمانہ تھا جب ہماری سائینس کی کتابوں میں پہلا سبق ان مسلمان سائینسدانوں کا شامل ہوا جنہوں نے سائینس کی دنیا پہ وہ عظیم احسانات کئے جس سے اب کئ ہزار سالوں کے لئے ہماری آنے والی نسلوں پہ سے یہ فرض ہٹ گیا۔
ایک طرف اولیاء اکرام کی سحر ناک ہستیاں ، لیکن انکے وظائف کے ساتھ یہ مسئلہ کہ جسے بخشیں بس اسی کو سمجھ میں آوے اور کرے تو ٹھینگا پاوے بلکہ وظائف کا اثر الٹا ہونے کی صورت میں دماغ میں خلل بھی ہو جاوے اور موکل اور جن ایسا قابو پاوے کہ کسی کو کچھ سمجھ میں نہ آوے۔ دل تو اس خبر سے بھی پگھلا جاتا کہ  خدا کے کلام کی برکت پانے کے لئے، ملک کا حکمراں تک ڈنڈا کھانے کو آوے۔
دوسری طرف سائینس کی کرشمہ سازیاں، تھوڑی بہت تربیت پاویں ، کوشش کرتے جاویں اور ایک دن ایسا آوے کہ خود بھی کوئ وظیفہ ، یعنی فارمولا، نظریہ یا ایجاد  بنانے کے قابل ہو جاویں۔ لیکن حکمران ایسا سامان کر جاویں کہ اسے حاصل کرنے میں ہم خون کے آنسو بہاتے جاویں اور ہرگز نہ حاصل کر پاویں۔
اگرچہ لوگوں نے بڑا زور دیا کہ ہمارا مذہبی تصوف بڑے بڑے کمالات دکھا سکتا ہے۔ اسکے بعد دنیا کو کسی علم کو حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔ مگر جناب ادھر تو لفظ 'سکنا' کے بجائے 'موجود' تھا۔ ادھر بے یقینی اور ادھر آنکھوں دیکھا یقین۔ ادھر جتنا سر مارو اسرار ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے ، ہر چھوٹے سے قدم کے بعد حلق سے نکلنے والے مشکل الفاظ کی بھر مار، ادھر جتنا آگے بڑھو اتنا ہی اسرار کی دنیا کھل کر سامنے چلی آرہی ہے۔ ادھر ہر نعرہ ء تعجب کے بعد سبحان اللہ نکلتا ہے ادھر سبحان اللہ کہنے کے بعد نعرہ ء مستجاب۔
یہی نہیں آنکھوں دیکھی یہ کہ ہمارا تصوف ہی کیا دنیا کے ہر مذہب میں ایسے اسرار موجود۔ دنیا کے ہر مذہب میں خدا سے اپنی مرضِی کے کام کروانے کے وظائف حاضر۔ جیت کس کی ہونی تھی؟ میں بھی اپنی ہمشیرہ کی طرح سائِنس کے سامنے چت ہو گئ۔ فرق یہ تھا کہ وہ لا علمی میں ہوئ اور میں علم کے ساتھ اور علم کے ساتھ ہونا افضل ہے۔
آج بھی اعمال وظائف کی کتاب سرہانے دھری ہے۔ سوچتی ہوں اسکا حشر حضرت سلمان کی لاٹھی والا نہ ہوجائے۔ آخری دفعہ  آزمائیشی طور پہ محبوب کو قابو کرنا چاہا۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنا بنا کر چھوڑتا۔ اس سراب سے یوں نکل آئے جیسے بارش کے بعد سورج نکلتا ہے۔ زیادہ واضح ، چمکدار اور گرم۔ ہم قصور انکا سمجھتے تھے  اپنا نکل آیا۔ محبوب اپنے طور پہ سمجھتے ہونگے کہ وہ تاریک راہوں میں مارے گئے لیکن حقیقت میں یہ روشنی کی مار تھی۔
 وظائف کی اس دنیا کے اسیر اتنے ہیں کہ ایک  سے بات شروع کریں دو چار سو اور نکل آئیں گے۔
  مجھے یاد ہے ان دنوں لانڈھی کے علاقے میں خاصے حالات کشیدہ تھے۔ مجھے اپنی ایک عزیزہ کے ساتھ زندگی میں پہلی دفعہ  اس طرف ضروری کام سے جانا پڑا۔ باتوں کا سلسلہ روکنے کے لئے میں نے کہا بس اب چلتے ہیں حالات خراب ہیں، میں اس علاقے سے مناسب طور پہ واقف بھی نہیں اور ہم دو خواتین کو گاڑی خود لے کر جانی ہے۔ اندھیرا ہوجائے گا تو مشکل ہوگی۔ صاحب خانہ کہنے لگے کہ بھئ گھبرانے کی کیا بات ہے آیۃ الکرسی پڑھ کر دم کر لینا۔ میں تو روز صبح آیۃ الکرسی کا دم کر کے نکلتا ہوں آج تک کسی اچکے نے میرے اوپر ہاتھ نہیں ڈالا۔
 معاملات نازک تھے ورنہ کہتی کہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد ہوگی جو آیۃ الکرسی پڑھ کر گھر سے نہیں نکلتی اور آج تک کسی نے ان پہ ہاتھ نہیں ڈالا۔ اگر حفاظت محض آیۃ الکرسی کے پڑھنے سے ہوجاتی تو سزا اور قانون وجود نہ رکھتے اور قاضی صاحب کسی کھاتے میں ہوتے ۔ ایسے میں جو لٹتا تو صاف پتہ چل جاتا کہ یہ ہے وہ ناہنجار جو آیۃ الکرسی نہیں پڑھتا۔ اسی کو درے جڑے جاتے۔ یوں ٹارگٹ کلرز اور طالبان کو منہ چڑا کر بھاگ جاتے۔ ادھر فوجیوں کی سخت تربیت کی ضرورت نہ رہتی بلکہ فوج ہی کی ضرورت نہ رہتی۔ سرحد پہ لائین سے لوگ تسبیح لے کر بیٹھ جاتے اور آیۃ الکرسی پڑھا کرتے۔
ابھی دو سال پہلے مولانا صاحبان نے شہر میں ایک پمفلٹ بٹوایا کہ ملک میں بد امنی اور بے سکونی کی بنیادی وجہ آوارہ عورتیں ہیں۔ ایک تو انکا سد باب کیا جائے دوسرا یہ کہ سورہ والشمس اتنی ہزار دفعہ لوگ گروہ بنا کر پڑھیں۔ ان دنوں ہم جہاں جاتے پتہ چلتا کہ والشّمس کا ورد ہو رہا ہے۔ لیکن پھر بھی آوارہ عورتیں جیت گئیں یعنی ملک اسی طرح بد امنی کا شکار رہا۔
چونکہ آجکل وظائف کا فیشن ہے اس لئے ہر مسئلے کا حل ایک وظیفہ ہے جو ہر کسی کو معلوم ہے۔ جس طرح لوگ پہلے بیمار کو طبی مشورے مفت دیتے تھے اب لوگ مفت وظیفہ بتاتے ہیں۔ یہاں اسی سال کا بوڑھا انسان ہسپتال میں ہو یا خاتون بچے کی ڈلیوری کے سلسلے میں ہسپتال میں، گھر میں یا سلام کا ورد شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد بوڑھآ آدمی مر جاتا ہے۔ یہ کہہ کر تسلی دیتے ہیں کہ انکی تو عمر ہی مرنے کی تھی۔   اور خاتون نارمل ڈلیوری کے بعد گھر میں موجود، جس روح کا آنا ہوتا ہے آکر رہتی ہے، ہم کہتے ہیں۔


مر کر بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے کا سوال بعد میں اٹھتا ہے مرنے کے بعد بھی وظائف کی ایک بھرمار رہتی ہے۔ کسی شخص کی موت کا اعلان ہوتے ہیں سات دفعہ سورہ بقرہ لازمی، اکتالیس دفعہ سورہ یسین، پھر خدا جانے کتنی بار سورہ ء ملک، پھر کئ لاکھ بار کلمہء طیب کا ورد، پھر پچیس ہزار بار قل شریف۔ کس واسطے کہ مرنے والے کی مغفرت ہو اور قبر میں آرام سے رہے۔ چاہے مرنے والا خدا پہ مناسب یقین بھی نہ رکھتا ہو۔ لیکن اس سامان کے بغیر اسکی رخصتی ممکن نہیں۔ یوں وہ لوگ جو دیار غیر میں رہتے ہیں اور وہیں دفن ہوتے ہیں یا وہ جن کا خاندان چھوٹا ہے انکے شدید خسارے میں رہنے کے امکان زیادہ ہیں۔ 
 صفر کا مہینہ آتا ہے تو سورہ مزمل کا وظیفہ، سارے سال کی بیماریوں اور مصائب سے چھٹکارا۔ لیکن پھر بھی احتجاج کے دوائیں مہنگی ہو رہی ہیں، ڈاکٹر لا پرواہ۔ حکومت ناکارہ، مصائب کا کوئ شمار نہیں۔
رجب سے رمضان تک جو وظائف ہیں انکا فوکس گناہوں سے نجات پانا ہے اعمال سے نہیں بلکہ وظائف سے۔ اگرچہ رمضان کے گیارہویں، بارہویں روزے پہ لڑکیوں کے رشتے کرانے کا وظیفہ بھی آتا ہے۔ پھر بھی والدین کو رشتے کرانے والے اداروں کی خاک چھاننی پڑتی ہے۔ لڑکیوں کو سنگھار کر کے چائے لے کر مہمانوں کے سامنے جانا پڑتا ہے اور میٹرک کس سن میں کیا تھا، بتانا پڑتا ہے۔
 شب براءت میں گناہوں کی بخشش کا وظیفہ، لمبی حیات کا وظیفہ، آفات و بلیات کو دفع کرنے کا وظیفہ، قبر کے عذاب سے نجات کا وظیفہ۔ ان سارے وظائف کی وجہ سے گناہوں کے کرنے کا حوصلہ ہے کہ بڑھا جاتا ہے اور مرنے کا خوف دل سے جاتا رہتا ہے۔
  یہی نہیں یا علیم پڑھیں علم حاصل کریں، کراچی گرامر اسکول، ماما پارسی، آئ بی اے یا فاسٹ پہ لعنت بھیجیں۔
 یا اول پڑھیں اور اولاد نرینہ حاصل کریں، سورہ ء واقعہ پڑھیں رزق حاصل کریں، جنت حاصل کرنے کے وظائف بے شمار، خدا کو راضی کرنے کے بھی اتنے ہی وظائف۔ اس سے بھی دل کی تسلی نہیں ہوتی یا یہ کہ آپکا فطری رجحان ریاضی یا شماریات کی جانب ہے تو وہ وظائف اختیار کریں جن میں ثواب کی گنتی بتائ گئ ہے مثلاً تین دفعہ سورہ ء اخلاص پڑھیں سال بھر کے قرآن کی تلاوت کا ثواب۔ باقی کا قرآن کیوں نازل کیا گیا، یہ معمہ حل طلب۔ فلاں دن کا روزہ رکھ لیں سال بھر کے روزوں کا ثواب۔ فلاں مہینے کا عمرہ کر لیں، حج کا ثواب۔ لیجئِے اس مہینے لوگ جوق درجوق عمرے کے لئے جا رہے ہیں۔ سعودیوں کے مزے، زائد آمدنی عمرے کے بہانے ہو رہی ہے۔


میں تو اللہ پاک بے نیاز کا شکر ادا کرتی ہوں۔ بر وقت ولی بننے کا ارادہ موقوف کر دیا۔ ورنہ وظائف کی سیچوریشن کے اس زمانے میں مقابلہ کرنا بڑا مشکل ہوجاتا۔ ہم تو اسی میں خوش، سنگ مر مر پہ تیزابی پانی ڈالو تو کاربن ڈائ آکسائیڈ گیس پیدا ہوتی ہے۔ بچوں، جار کو الٹا کر کے اسے جمع کرو کیونکہ یہ ہوا سے بھاری ہوتی ہے۔
بچے یہ سیکھنے کے لئے کوچنگ سینٹرز کے باہر ہزاروں روپے دے کر ہزاروں کی تعداد میں کھڑے ہیں جبکہ ماں باپ کسی وظیفے کی تسبیح لئے کھڑے ہیں کہ انکا بچہ اے ون گریڈ میں کامیاب ہو اور میڈیکل یا انجینیئرنگ میں داخلہ ہوجائے۔ قارِئین اکرام، اندازہ کریں جیت کس کی ہوگی؟
۔

Monday, August 27, 2012

مسیار نکاح

اپنے پہلے شوہر کے انتقال کے فوراً بعد وہ سعودی عرب میں ایک طویل عرصہ گذار کر پاکستان واپس آگئیں۔ جب گفتگو کے دوران مجھے پتہ چلا کہ انکی دوسری شادی کو بھی پانچ چھ سال کا عرصہ گذر چکا ہے لیکن انکے شوہر انکے ساتھ نہیں رہتے بلکہ اپنی پہلی مرحوم بیوی کے بچوں کے ساتھ اپنے گھر میں رہتے ہیں اور وہ اپنے پہلے شوہر کے بچوں کے ساتھ اپنے گھر میں رہتی ہیں تو مجھے نہایت اچنبھا ہوا۔
 یہ کیسا میاں بیوی کا تعلق ہے؟ میں نے بالکل پاکستانی ذہن سے سوچا۔ ایک تو یہی بات قابل اعتراض ہے کہ پچاس سال سے اوپر کی خاتون دوسری شادی کرے وہ بھی وہ جسکے پانچ بچے ہوں۔ بڑی بیٹی کی شادی ہو چکی ہو۔  اور دونوں ساتھ بھی نہ رہیں۔ کیونکہ اگرہمارے  یہاں کوئ خاتون دوسری شادی کرتی ہے تو بنیادی مقصد تحفظ اور پیسہ ہوتا ہے۔
لیکن گھر واپس آ کر میں نے سوچا، کیا شادی محض معاشرتی تحفظ اور معاشی حالات کو مستحکم رکھنے کے لئے کی جاتی ہے؟
 اسکے چند دنوں بعد ایک محفل میں ادھر ادھر کی باتیں ہو رہی تھیں کہ کسی نے تذکرہ چھیڑ دیا کہ یہ جو سنّی، شیعوں کو متعہ نکاح پہ اتنا برا بھلا کہتے ہیں  یہ اپنے سنّی مسیار نکاح کی بابت کیوں نہیں بات کرتے۔ ایک دفعہ پھر میں نے ہونّق ہو کر پوچھا کہ یہ مسیار نکاح کیا ہوتا ہے؟
 جواب ملا یہ بھی متعہ سے ملتی جلتی چیز ہوتی ہے آپ جا کر نیٹ پہ دیکھ لیں یا اپنے کسی اسکالر سے پوچھیں۔ تس پہ کسی اور نے بتایا کہ ایک صاحب نے کئ اسلامی مدرسوں کو مسیار نکاح کی بابت لکھا کہ انہیں معلومات بہم پہنچائ جائیں لیکن انہیں کہیں سے جواب نہیں ملا۔ اس لئے وہ نہیں جانتے کہ مسیار نکاح کیا ہوتا ہے البتہ یہ معلوم ہے کہ یہ سنّی نکاح کی ایک قسم ہے جو کچھ شیعہ متعہ نکاح سے مشابہت رکھتی ہے۔
ظاہر سی بات ہے کہ اس سارے کے بعد میں نے رات گھر واپس آکر نیٹ گردی کی۔ جناب، تو یہ اسلامی نکاح کی ایک قسم ہے۔
 تمام تر مطالعے کے بعد یہ بات سامنے آئ کہ مسیار نکاح اسلام میں حلال ہے۔ نہ صرف مسلمان آپس میں بلکہ اہل کتاب سے بھی کر سکتے ہیں۔ یہ عام نکاح سے کس طرح مختلف ہوتا ہے؟ یہ متعہ نکاح سے کیسے مختلف ہوتا ہے؟
نکاح مسیار، ایسا اسلامی معاہدہء نکاح ہے جس میں ایک خاتون اپنی مرضی سے اپنے بہت سارے حقوق سے دستبردار ہو جاتی ہے۔ مثلاً شوہر کے ساتھ رہنا، اگر اسکی ایک سے زائد بیویاں ہیں تو اوقات کی برابر تقسیم، نان نفقہ یعنی شوہر اسے گذر بسر کے لئے کوئ خرچہ نہیں دے گا اگرچہ کہ اسے بھی دونوں فریقین کی مرضی سے معاہدے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اور نہ ہی وہ رہائش مہیا کرے گا۔ 
 مہر کی رقم فریقین کی مرضی سے طے کی جاتی ہے۔ مہر اسلامی نکاح میں وہ رقم ہے جو لڑکی کو ادا کی جاتی ہے چاہے نکاح کے وقت یا نکاح کے بعد کسی بھی وقت لڑکی کے طلب کرنے پہ۔
یعنی عورت، اپنے والدین کے گھر یا اپنے ذاتی گھر میں رہتی ہے۔ شوہر اس سے ملنے کے لئے جاتا ہے جیسا وقت دونوں فریقین چاہیں منتخب کریں۔
شادی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے عام طور پہ عورت پالتی ہے۔ مجھے یہ نہیں پتہ چل سکا کہ آیا ان بچوں کا باپ کی وراثت پہ حق ہوتا ہے یا نہیں۔
 نکاح کے بعد بیوی اگر ان سب چیزوں کے لئے دعوی کرے تو اسکا دعوی صحیح ہوگا۔ اب اسکا انحصار شوہر پہ ہے کہ وہ اسے نتیجے میں یہ تمام اشیاء دے یا طلاق دے کر چھٹی پائے۔
اس ضمن میں اسلامی علماء کے درمیان اختلاف ہے کچھ اسے اخلاقی طور پہ اچھا نہیں سمجھتے اگرچہ حلال سمجھتے ہیں۔ الالبانی کے نزدیک یہ نکاح اسلامی روح سے متصادم ہے اس لئے ناجائز ہے۔ اسلامی شادی کی روح یہ بیان کی جاتی ہے کہ فریقین ایک دوسرے سے محبت کریں اور ایکدوسرے سے روحانی خوشی حاصل کریں۔  اگرچہ عملی سطح پہ ہم دیکھتے ہیں کہ محبت کی شادی ہمارے یہاں ایک لعنت سے کم نہیں اور ہم بنیادی طور پہ یہی سمجھتے ہیں کہ اسلامی شادی کا مقصد ایک مرد کی جنسی ضروریات کا حلال طریقے سے پورا ہونا ہے اور عورت محض جنس کا ایک ذریعہ ہے۔ 
 الالبانی کے نزدیک اسکے نتیجے میں ایک خاندان تشکیل نہیں پاتا اور نہ ہی عورت کو تحفظ مل پاتا ہے اور نہ ہی بچے ایک مستحکم خاندان سے آگاہ ہو پاتے ہیں۔ 
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ یہ شادیاں طلاق پہ ختم ہوتی ہیں کیونکہ مرد عام طور پہ یہ شادی اپنی جنسی ضرورت کے لئے کرتا ہے۔
متعہ اور مسیار نکاح میں صرف ایک فرق نظر آتا ہے اور وہ یہ کہ متعہ ایک مقررہ مدت کے لئے کیا جاتا ہے مدت کے اختتام پہ معاہدے کی تجدید کی جا سکتی ہے۔
 اب فقہے سے ہٹ کر ہم دیکھنا چاہیں گے مسیار نکاح کی ضرورت کیسے وجود میں آئ۔ آج کے زمانے میں یہ عرب ریاستوں بالخصوص سعودی عرب اور مصر میں عام ہے۔ جہاں امیر مرد وقت گذاری کے لئے یہ شادیاں کرتے ہیں۔ اسکی وجہ یہ بتائ جاتی ہے کہ یہاں عام اسلامی نکاح کے لئے مرد پہ بہت زیادہ معاشی دباءو ہوتا ہے۔
وہ عورتیں جنکی  شادی اس وجہ سے نہیں ہو پارہی ہو کہ کوئ مرد انکی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں مثلاً  بوڑھی یا بیوہ عورتیں یا وہ عورتیں جن پہ اپنے والدین یا بہن بھائیوں کی ذمہ داریاں ہیں۔ یہ سب مسیار نکاح سے مستفید ہو سکتی ہیں۔ اگرچہ اس بات کے امکان زیادہ ہیں کہ یہ مردوں کی زیادہ جنسی آزادی کا باعث بنیں گی اور معاشرے میں خآندانی استحکام کو نقصان پہنچائیں گی۔
یہ عین ممکن ہے کہ یہ نکاح اسلام سے پہلے بھی رائج ہو۔ اسلامی قوانین کی اکثریت عرب کے قبائلی معاشرے سے تعلق رکھتی ہے۔ ان میں سے بیشتر کو اصطلاحی طور پہ تبدیل کیا گیا ہے۔ 
 پاکستان، ہندوستان کے بر عکس عرب میں شادی کے بعد بیوی کو الگ گھر میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں مشترکہ خاندانی نظام ہندءووں کے زرعی معاشرے کی وجہ سے آیا جسکا عرب میں کوئ خاص تصور نہیں۔ اگر کوئ پاکستانی، مشترکہ خاندانی نظام کو بہتر سمجھتا ہے تو اسے جان لینا چاہئیے کہ یہ عرب میں نہیں ہوتا۔ اس لئے اسلامی ثقافت کا حصہ نہیں ہے۔
چونکہ اس نکاح کا بنیادی مقصد صرف جنسی ضرورت کو پورا کرنا ہی نظر آتا ہے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں جنس کی بڑی اہمیت ہے اور اسے بنیادی انسانی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ یوں عام اسلامی نکاح کے ساتھ اس قسم کے نکاح کی بھی گنجائش رکھی گئ ہے۔   یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ عرب معاشرہ جنس کے معاملے میں اتنا ہی کھلا ہے جتنا کہ مغربی معاشرہ جس کی بے حیائ پہ ہم ہر وقت لعن طعن کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ عرب میں یہ باہر گلیوں میں نظر نہِں آتا۔ لیکن گھروں میں یہ اس سے کہیں زیادہ شدید حالت میں موجود ہے۔
قرآن پڑھتے ہوئے بھی میں اکثر سوچتی ہوں کہ جب ایک چھ سال کا عرب بچہ اسے پڑھتا ہوگا تو کیا وہ اسکے معنی نہیں سمجھتا ہوگا قرآن ایک ایسی کتاب جس میں جنس اور شادی کے معاملات کو کافی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
اسکے ساتھ ہی یہ خیال بھی آتا ہے کہ جب بھی ہمارے یہاں یہ مسئلہ سر اٹھاتا ہے کہ ہائ اسکول یا کالج کی سطح پہ بچوں کو جنس سے آگہی دینا ضروری ہے تو سب سے زیادہ مذہبی حلقے اسکے خلاف شور مچاتے ہیں۔ آخر یہ تضاد کیوں؟
آخر ایسا کیوں ہے کہ ویسے تو ہمارے یہاں عرب معاشرتی اقدار کو اسلامی معاشرتی اقدار کہہ کر پیش کیا جاتا ہے۔ عرب ثقافت کو اسلامی ثقافت کا متبادل سمجھا جاتا ہے۔  لیکن جب ان اقدار کی باری آتی ہے جو عرب کے ایک کھلے معاشرے کو پیش کرتے ہیں تو ہم صم بکم ہوجاتے ہیں ۔ اس وقت ہم عرب معاشرے کو پاکستانی معاشرے سے الگ کیوں سمجھتے ہیں؟

Wednesday, March 14, 2012

آپکی ہمدردی میں

مرد جب اپنے دکھ کی داستان سنانا شروع کرتا ہے تو وہ کسی ایک عورت کے متعلق نہیں ہوتی۔ بلکہ اس میں کئ عورتیں شامل ہوتی ہیں۔ سر فہرست اماں، بہنیں اور وہ یعنی بیگم۔  اس لئے کہا جاتا ہے کہ ناکام مرد کے پیچھے کئ خواتین ہوتی ہیں۔ ویسے یہ ایک پروپیگینڈہ ہے۔ اسکی صداقت کا اندازہ دنیا میں کامیاب مردوں کی تعداد سے لگایا جا سکتا ہے۔
خوفزدہ نہ ہوں یہ پوری تحریر مردوں کی ہمدردی میں لکھی گئ ہے۔
:)
کچھ لسانی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیگم دراصل بے غم کی استعمال شدہ شکل ہے۔ لیکن ارتقاء  سے انحراف کرتے ہوئے، بیگم کے بھی غم ہوتے ہیں۔ بیگم کے غم مردوں کے متعلق نہیں بلکہ مردوں سے تعلق رکھنے والی عورتوں سے متعلق ہوتے ہیں یا پھر لان کے پرنٹس۔
وہ پوچھتے ہیں کہ اندرون خانہ مردوں پہ ظلم ہوتے ہیں انکا بھی سد باب ہونا چاہئیے۔ دو مرغوں اور ایک مرغی کو ایک دڑبے میں بند کر کے ایک طرف رکھ دیں اور پھر جب اس میں دھماچوکڑی ہو تو کہیں کہ  مرغوں نے بڑا پریشان کیا ہوا  ہے۔ نہ جناب یہ شکایت درست نہیں۔
لیکن پھر بھی ہم اصل وجہ سے صرف نظر کرتے ہوئے جو کہ ہمارا قومی خاصہ ہے۔ اس سلسلے میں مختلف مردوں کے آزمائے ہوئے گُر بتاتے ہیں۔
اگرایک مرد نے ابتدائ زندگی میں ہی اپنی صلاحیتیں استعمال کر کے دولت کا ایک انبار جمع کر لیا تھا یاوہ منہ میں سونے ، چاندی کا چمچ لے کر پیدا ہوا توہر دروازہ اس کے لئے کھلتا جائے گا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ دولت سے سکون نہیں خریدا جا سکتا۔ وہ ابھی جان لیں گے کہ انکا زندگی کا عملی تجربہ کتنا کم ہے۔
پیسہ پھینک تماشہ دیکھ کے مصداق،  بیگم کے اکاءونٹ میں فروری میں ایک خطیر رقم جمع کرادے اور خموشی سے اپنے کاموں میں لگ جائے۔ اب دیکھئیے کہ یہ وظیفہ کیسےاسے بے غم کرتا ہے۔
فروری کے مہینے سے نئ لان کے نمائش کے اشتہار آنا شروع ہوتے ہیں جو امید ہے کہ اپریل کے وسط تک جاری رہیں گے۔ بیگم اس دوران اس میں مصروف رہیں گی ۔ نمائیش سے کپڑے خرید کر درزی کو پہنچانا، اور انکے لئے میچنگ کی لیس خریدنا پھر درزی سے اسکے ڈیزائین پہ سیر حاصل بحث کرنا، اس سرگرمی کے بعد اتنا سرور رہے گا کہ اگر کوئ لڑنے پہ آمادہ ہو تو بھی اسکے منہ لگنے کو دل نہ چاہے گا۔ پہلا نشہ، پہلا خمار۔ نیا پیار ہے نیا انتظار، کیا کر لوں میں اپنا حال اے دل بے قرار۔  جینے کی امنگ پیدا ہوتی ہے صرف اس لئے کہ جب تک کپڑے بن کر آئیں ہم شگفتہ نظر آئیں۔ آخر لوگ ہمارا چہرہ ہی تو دیکھتے ہیں۔ 
اپریل کے درمیان میں نئ سرگرمی شروع ہوگی۔  درزی کے پاس سے کپڑے بن کر آئیں گے، پھر پہن کر انکی فٹنگ چیک ہوگی، اس دوران  سب کی بلا درزی کے سر پڑی رہے گی۔  کس کو فکر کے وہ سارا دن کس حرافہ کے ساتھ رہے۔
مئ کا مہینہ ان کپڑوں کی نمائیش کے لئے مختلف پارٹیز میں گذرے گا، ساتھ ہی ساتھ پارلر والوں کی بھی آمدنی میں اضافہ رہے گا۔ جون کے مہینے میں ساون کے کپڑوں کی تیاری ہو گی جولائ میں افطار پارٹیز اور عید کے کپڑوں کی تیاری۔ ستمبر میں مڈ سمر کے پرنٹ آجائیں گے۔ خزاں بہت چھوٹا سا مہینہ ہوتا ہے اس لئے اس دوران ہی سردیوں کے گرم کپڑوں کی تیاری شروع ہو گی۔ دسمبر، جنوری آجکل شادیوں کے لئے انتہائ مناسب خیال کئ جاتے ہیں اور جناب ایک بار پھر فروری آ گیا۔ پچھلے سال کے تجربے کے بعد اسے معلوم ہونا چاہئِے  کہ اب کیا کرنا ہے۔
بیگم جب بھی نئے کپڑے پہن کر سامنے آئیں تو شاندار کہنا نہ بھولیں، وقتاً فوقتاً معلوم کرتے رہیں کہ آج نیا جوڑا کیوں نہیں پہنا۔ بیگم کو زیادہ مصروف رکھنا ہو تو درزی یا پارلر والوں کے کاموں میں نقص نکال دیں اور انہیں درزی یا پارلر تبدیل کرنے کا مشورہ دے دیں۔ اگرسونے پہ سہاگا چاہتے ہیں تو جون جولائ کی چھٹیوں کے لئے بیوی اور اماں کو باہر بھیج دیں مگر خیال رکھیں کہ دونوں مختلف مقامات پہ جائیں۔
اگر آپ مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں تو اصل مصیبت آپکے لئے ہے۔ یہاں آکر ہم مردوں کو تین جماعتوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ عقل مند روائیتی مرد، بے وقوف روائیتی مرد اور غیر روائیتی مرد۔
عقل مند روائیتی مرد کمپیوٹر پہ مصروف رہتا ہے۔ چاہے وہ فیس بک پہ چیٹنگ ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن شکل ایسی بنا کر رکھیں گے کہ کوئ اہم پروجیکٹ چل رہا ہے۔  اگر یہ پروجیکٹ بر وقت مکمل نہ ہوا تو گھر والوں کو آٹے دال کا بھاءو پتہ چل جائے گا۔ لہذا بیوی کو یہ شکایت نہیں رہتی کہ اماں کے پاس زیادہ وقت گذارتے ہیں، بہنوں کی فکر میں مرے جاتے ہیں اور نہ اماں بہنوں  کو یہ شکوہ رہتا ہے کہ شادی کے بعد ایک دم بیوی کا غلام ہو گیا ہے۔ ہم تو سوچ بھی نہ سکتے تھے یہ ایسا نکلے گا۔ شادی سے پہلے تو یوں ہوا کرتا تھا۔ یہ سب چالاکیاں بیوی کی سکھائ ہوئ ہیں۔ ایک کمپیوٹر ہزار بلائیں ٹالتا ہے۔
بے وقوف روائیتی مرد تعداد میں سب سے زیادہ ہوتے ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ بس واقعی میں کائینات کی لگامیں انکے ہاتھ میں ہیں اور اگر کوئ چیز انکے قابو میں نہیں آئ تو اس سے انکی مردانگی کو بھاری نقصان پہنچے گا۔ نتیجتاً انکی کمزوری یعنی مردانگی کو ہر فریق نشانہ بنائے رکھتا ہے اور انکا ہر دن روز عذاب بنا رہتا ہے۔ یہ اپنی روائیت پسندی چھوڑ نہیں سکتے اس لئے اس حالت میں صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے عمر یونہی تمام ہوتی ہے۔ مرتے وقت بھی فکر رہتی ہے کہ مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے۔ لیکن پھر بھی انکے لئے حوروں کی تسلی ایک قوی امید ہوتی ہے بیگم کو کبھِ کبھی اسکی دھمکی بھی دینے کی کوشش کرتے ہیں مگر بیگم کا رد عمل ایسا ہی ہوتا ہے کہ ہونہہ جا کر تو دکھاءو، دوسرے ہی دن بھاگ جائے گی اس سے تو دوزخ ہی بھلا۔ ان میں سے جو زیادہ چھوٹے دل ہوتے ہیں وہ بہتر حوروں والا راستہ لیتے ہیں۔
غیر روائیتی مرد کو ان سب باتوں کی کیا فکر۔ وہ اور انکی بیگم ایک ساتھ صبح گھر سے نکلتے ہیں۔ بچوں کو اسکول چھوڑتے ہوئے اپنے اپنے آفس کو روانگی۔ اب سارا دن گھر میں امّاں کا راج۔ شام کو بیگم کی اماں کے گھر سے بچوں کو لیتے ہوئے گھر پہنچے۔ یہاں آ کر خاتون خانہ بچوں کو نہلانے دھلانے، ہوم ورک کرانے اور رات کے کھانے کے چکروں میں ایسا الجھیں گی کہ انہیں پتہ ہی نہیں چلے گا کہ شوہر صاحب کتنی دیر اماں کے پاس بیٹھے رہے۔ اماں کو بھی یک گونہ تسلی رہتی ہے کہ بیٹے کی آمدنی بیگم کے نخرے اٹھانے میں خرچ نہیں ہو رہی۔
آخیر میں بچ جاتے ہیں غریب مرد۔  یہ فساد اور جھگڑے تو انکی زندگی کی رونق اور تفریح ہیں۔ زندگی کی تلخی کو مزید تلخیوں سے ملاتے ہیں اور یہ اکثر ان مردوں کے بارے میں سوچ کر حیران ہوتے ہیں کہ یہ کیسے مرد ہیں جو لڑے بغیر یا کسی لڑائ میں پڑے بغیر اپنی زندگی گذارتے ہیں۔ یہ جینا بھی کوئ جینا ہے للّو۔ ڈو نہ کیا تو پھر کیا جیا۔

Monday, May 3, 2010

وہ، میں اور مئ

یہی وہ دن تھے جب اک دوسرے کو پایا تھا
ہماری سالگرہ ٹھیک اب کے ماہ میں ہے
فی الحال میں اپنے بلاگ کی سالگرہ کی بات نہیں کر رہی۔ یہ مہینہ میری زندگی میں ایک اہم تبدیلی کا باعث بنا۔ وہی تبدیلی جس کے لئے اکثر لوگ اپنی ہتھیلی پھیلا کر دست شناس کے آگے کر دیتے ہیں کہ نام کا پہلا حرف بتادیں اور یہ کہ خاندان میں ہوگی یا خاندان سے باہر۔ یا یہ گاتے پھرتے ہیں کہ زندگی اپنی گذر جائے گی آرام کے ساتھ اب میرا نام بھی آئے گا تیرے نام کے ساتھ۔ یہ تو بعد میں عقدہ کھلتا ہے کہ صرف ناموں کا ساتھ رکھنا ہی بات نہیں بلکہ مقامات جد وجہد اسکے علاوہ ہیں۔
 میرے شوہر اور میری پہلی ملاقات، جیسا کہ کراچی میں طریقہ رائج الوقت ہے ایک ڈرائنگ روم میں ہوئ۔ لیکن حالات ایسے نہ تھے کہ چپ چپ کھڑے ہو ضرور کوئ بات ہے، پہلی ملاقات ہے یہ پہلی ملاقات ہے۔ اسکی ایک بنیادی وجہ یہ بھی تھی کہ میں سمجھی تھی کہ لڑکا ساتھ میں نہیں آیا اور یہ باقی خاندان والے ہیں۔ اس ملاقات کے آخر میں جب انکا مجھ سے تفصیلی تعارف کرایا گیا تب مجھے اندازہ ہوا کہ ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔
خیر، شادی سے پہلے ہماری خاصی ساری ملاقاتیں گھر کے اندر ہوئیں۔ اسکا مقصد میری طرف سے قطعاً یہ نہیں تھا کہ میں انہیں مزید جان لوں، کیونکہ اس سال فروری میں، میں نے خدا کو گواہ بنا کر عالم طیش میں کہا کہ اب جو بھی پہلا پروپوزل آئیگا میں اسے بغیر چھانے پھٹکے اور سوچے سمجھے ہاں کر دونگی چاہے وہ کوئ بھی ہو۔ اب خدا سے کئے اس وعدے کی لاج بھی تو رکھنی تھی۔ میرے اس جملے کی آزمائش صرف پچیس دن بعد ہی  فہوالمطلوب ہو گئ۔ اور میں نے اس پہ ثابت قدمی دکھائ اور آج تک دکھا رہی ہوں۔
:)
اسکی وجہ نجومی یہ بتاتے ہیں کہ قائد اعظم، سوہنی اور میرا برج ایک ہے اور اسکی بنیادی خاصیت ہے مستقل مزاجی۔ اماں کا خیال ہے کہ انکی اعلی تربیت ہے، احباب کا خیال ہے کہ شکر خورے کو خدا شکر دیتا ہے، کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ میری قسمت اچھی ہے  اور میں سمجھتی ہوں کہ میں خود کافی اچھی ہوں لیکن----------- اچھوں کے ساتھ۔
تو بات یہ بنی کہ
چاہئیے اچھوں کا جتنا چاہئیے
وہ اگر چاہِیں تو پھر کیا چاہئیے
قسمت کی خوبی دیکھئیے کہ در محبوب پہ مجھ سے پہلے رقیب نے دستک دی۔ اور میری رقیب صاحبہ میری قانونی آمد سے پہلے ہماری زندگی میں گھس آئیں۔ بقول ہماری بزرگ پڑوسن کے انہوں نے تو اپنی گاڑی سے نکاح کیا ہوا ہے۔  تو میری یہ رقیب ایک رینج روور ہے۔ انہیں اگر خوش کرنا ہو تو گاڑی کی شان میں ایک تعریفی جملہ کہہ دیں۔ اگر وقت اور معاشیات کا اندازہ لگائیں تو رقیب کو مجھ پہ ایک واضح برتری حاصل ہے۔ لیکن ایسے موقعوں پہ میں ایکدم اسی طرح رہتی ہوں جیسے صوفی راہ سلوک کی منازل پہ۔ حتی کہ کسی کو یہ اندازہ لگانے میں مشکل نہیں ہونی چاہئیے کہ میرا تعلق ملامتی فرقے سے ہے۔
یہ بات تو شادی سے پہلے میرے علم میں لائ جاچکی تھی کہ محترم  لینکس اور غالب کی شان میں ہتک برداشت نہیں کرتے۔ آج بھی کمپیوٹر کی فیلڈ میں ہونے والے میرے تمام مصائب کا سہرا ونڈوز کے سر بندھتا ہے اور اسے برا بھلا کہے بغیر میرے کسی بھِی ٹیکنیکل مسئلے کو شرف باریابی عطا نہیں ہوتا۔ 
 اس مہینے کی اہمیت میں میرے شریک حیات کی شخصی خوبیوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ جو شخص اپنے گھر کے گیٹ پہ گاڑی کے لئے ہارن بجانے کے بجائے خود گیٹ کھولنے کو ترجیح دے تاکہ محلے والے ڈسٹرب نہ ہوں۔ان سے میری شکائیتیں ایسی ہی ہوتی ہیں کہ کپڑے بستر پہ کیوں چھوڑ دئیے۔
خاصے عقلمند ہیں اور شادی کے فوراً بعد میری تربیت میں ڈرائیونگ کو مرکز نگاہ رکھا۔ اپنی جان چھڑائ اور واہ واہ بھی ہو گئ کہ بیگم کو خود انحصاری کی منزل پہ پہنچا دیا ہے۔ حالانکہ اس میں میری دور اندیشی بھی شامل تھی۔ میں نے  ان حالات سے خاصہ سبق سیکھا جب میں شاپنگ کے لئے دوکان کے اندر بیٹھی ہوتی تھی اور میاں صاحب موبائل فون پہ دوکان کے باہر ٹہل ٹہل کر گفتگو فرما رہے ہوتے تھے۔ تو شوہر صاحب کی ان اداءووں کا خوف نکالنے کے لئے دل سے کراچی کی سڑکوں کا خوف نکالا۔ اور نتیجے میں  اب میں دن ہو یا رات اپنے کسی بھی کام کے سلسلے میں انکی محتاج نہیں۔ ڈرائیونگ آنا، خواتین کے لئے ایک نعمت ہے۔ لیکن یہ یاد رکھیں کہ کبھی اپنے شوہر صاحب سے ڈرائیونگ سیکھنے کی حماقت نہ کریں۔
روشن خیال ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میری مستقل مزاجی کا دعوی دھرا کا دھرا رہ جاتا۔ میں نے اپنی پی ایچ ڈی اپنی شادی کے بعد مکمل کی اور اس سلسلے میں مجھے انکا تعاون ہمیشہ حاصل رہا۔ ورنہ یہ تو آپکو اندازہ ہوگا کہ جبری تعاون حاصل کرنا بھی کوئ مشکل کام نہیں، بس یہ کہ دلوں میں بال پڑ جاتے ہیں۔  
اسی وجہ سے مجھے شادی سے پہلے کے دوستوں کی شادی کے بعد چھانٹی نہیں کرنی پڑی اور نہ ہی کسی کی چھٹی۔ نہ ہی پچھلے کسی واقعے کے منہ سے نکل جانے پہ سنسر لگانا پڑا۔
البتہ ایسا ہے کہ پہلے میں راستے کے چھوٹے ہونے کا مطلب یہ لیتی تھی کہ وہ فاصلے میں چھوٹا ہو۔ لیکن جب اپنے میاں موصوف کو کسی جگہ جانے کے آڑے ترچھے راست اختیار کرتے دیکھتی تو ایک دن ان سے پوچھ لیا کہ اس میں کیا اسرار ہے جواب ملا کہ اس راستے میں سگنل کم آتے ہیں اور ٹریفک اتنا نہیں ہوتا۔ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ ایک سگنل بھی کم آتا ہو یا دو گاڑیاں بھی کم ملیں تو وہ اسی راستے کو اختیار کرتے ہیں۔
اگر ہم دونوں کو کہیں ساتھ جانا ہو تو وقت کی خاصی اہمیت ہوتی ہے۔ اور گفتگو کچھ اس طرح ہوگی۔ سوال، کتنے بجے نکلیں گے، جواب سوا نو بجے۔ سوال، یہ ساڑھے نو بجے نہیں ہو سکتا۔ اس وقت فلاں سگنل پہ رش ہوگا اس میں اتنے منٹ خرچ ہو جائیں گے۔ یا یہ کہ مجھے یہ ایک کام کرنا ہے اس میں اتنے منٹ اتنے سیکنڈز لگ جائیں گے۔ جواب، اچھا تو پھر نو بج کر سترہ منٹ کر لیں۔ سوال، مگر ساڑھے نو بجے میں کیا برائ ہے۔ جواب، نو بج کر سترہ منٹ بیس سیکنڈ، بس اسکے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ نکلتے ہم پونے دس بجے ہیں ، کیونکہ عین وقت پہ بیٹی صاحبہ کو یاد آتا ہے کہ واش روم جانا ہے۔
ہمارے درمیان جھڑپوں کا باعث منٹوں اور سیکنڈز کے پیچیدہ حساب کتاب کے علاوہ جارج بش کی فارن پالیسی پہ ہم دونوں کا اختلاف، انکی شرٹس جو کہ باریک سوراخ ہونے کے بعد زیادہ قیمتی ہوجاتی ہیں ان میں میرا انگلی ڈال کر مزید بڑا کرنے کی ناکام کوشش کرنا، اور اسی طرح کے مزید نکات ہیں۔
تجربے سے میں نے یہ سیکھا ہے کہ شوہر صاحب کے جن کپڑوں سے آپ عاجز ہیں، انکے ڈسٹر بنا لیں یا خاموشی سے انکی چھٹی کر دیں۔ بہشتی زیور کی خواتین کی طرح اجازت لینے کے چکر میں مت پڑ جائیے گا ورنہ جواب ملے گا صرف شرٹس کے پیچھے کیوں پڑی رہتی ہیں اور بھی چیزیں ہیں جن سے زندگی میں تبدیلی آ سکتی ہے خاصی نمایاں۔ اور ہاں یہاں میں اپنی پیاری بہنوں سے گذارش کرونگی کہ خدا کے لئے شادی سے پہلے بہشتی زیور مت پڑھئیے گا۔
اگرمیں موڈ میں ہوں تو کوئ بھی قصہ سناءووں ، بڑی توجہ سے سنتے ہیں اور اسکے ختم ہونے کے بعد اپنے کمپیوٹر پہ سے ایک منٹ کے بعد نظر اٹھا کر انتہائ ذمہ داری سےفرمائیں گے ہاں توکیا کہہ رہی تھیں آپ؟  ہماری اماءووں کے زمانے میں اخبار اور ٹی وی شہروں کو مصروف رکتے تھے اور آج کے شوہر حضرات کمپیوٹرمیں گم رہتے ہیں۔   چونکہ میں ایک تابعدار بیوی نہیں ہوں۔ اگر جواباً میں اسی روئیے کا مظاہرہ کروں تو کہہ دیا جاتا ہے کہ کس دنیا میں رہتیں ہیں آپ۔ اب میں اپنی بات بالکل نہیں دہرا رہا۔ اپنے اوپر میرے حملوں کے جوابات انتہائ حاضر دماغی سے دیتے ہیں اور اگر ذرا بھی شکست کاشبہ ہو تو زیر لب مسکراہٹ سے کام چلائیں گے مگرکچھ بول کر نہیں دیں گے۔
جیسا کہ کچھ دانشواران نے لکھا ہے کہ ایک اچھے شوہر کو شادی کی سالگرہ اور بیوی کی سالگرہ کا دن نہیں بھولنا چاہئیے تو اس طرح وہ ایک بے حد اچھے شوہر ثابت ہوتے ہیں۔
باقی یہ کہ پہننے والے کو پتہ ہوتا  ہے کہ جوتا کہاں سے کاٹ رہا ہے ۔
اب یہاں سے ان خواتین کی دل پشوری کا حصہ شروع ہوتا ہے جو یہ پرچار کرتی ہیں کہ اچھی عورتیں وہی ہوتی ہیں جو اپنے مرد سے چار قدم پیچھے چلتی ہوں۔ یہاں میرا قصور نہیں ہے۔ میں بھی انہی اچھی عورتوں میں شامل ہونا چاہتی ہوں مگر یہ ہیں کہ شامل نہیں ہونے دیتے، ہمیشہ اپنے ساتھ لے لیتے ہیں اور آگے ہو جاءووں تو بڑا خوش ہوتے ہیں۔ کچھ خواتین اس بات پہ آہ بھرتی ہیں کہ ہماری اماں تو اپنے شوہر کا نام نہیں لیتیں۔ لیکن تف ہے ان آجکل کی عورتوں پہ، معاشرے سے اخلاقیات اور ادب احترام کا دیوالیہ ہی نکال دیا۔ میری بیٹی کی آمد تک مجھے انکو کسی طرح تو بلانا ہی تھا کہ ہم زنان خانے مردان خانے میں نہیں بلکہ ایک ہی گھر میں، ایک ہی کمرے میں رہتے تھے اس لئے آسانی اختیار کرتے ہوئے میں نے انہیں انکے نام سے بلانا شروع کر دیا۔ بیٹی صاحبہ کی آمد تک نام لینے کی ایسی بری عادت پڑ گئ تھی کہ جیسی منہ لگی کافر کی لت لگ جائے۔ یوں ارے سنئے مشعل کے ابا کی جگہ انکا نام آگیا۔ سو  میں بھی ان خواتین میں شامل ہوں جو معاشرتی اقدار اور روایات اور ادب و احترام کے خاتمے کو شہہ دینے والے ہیں۔
اب میں اس پوسٹ کے ساتھ اپنے تمام شادی شدہ بلاگر ساتھیوں کو ٹیگ کرتی ہوں کہ وہ ایک پوسٹ اپنی یا اپنے شریک حیات کے نام کریں۔

بشکریہ محمد ریاض شاہد، انکی ایک پوسٹ میں اس طرف توجہ دلائ گئ۔