Showing posts with label افریقہ. Show all posts
Showing posts with label افریقہ. Show all posts

Saturday, October 8, 2011

امن اور خواتین

آج کی تازہ خبر اب شام کے سات بجے پرانی ہو چکی ہے مگر فیس بک پہ کسی نے بھی اس بارے میں سانس تک نہیں لی تو مجھے اندازہ ہوا کہ آجکی تازہ خبر پاکستان نہیں پہنچی۔
پہنچ بھی کیسے سکتی ہے اس خبر میں دو نقص ہیں۔ ایک تو یہ خواتین کی کامیابی کی داستانوں میں سے ہے اور دوسرا یہ امن سے بھی تعلق رکھتی ہے۔
پاکستان میں خواتین سے متعلق جو خبرجگہ لیتی ہے وہ کسی مغربی ملک میں چہرے کے حجاب پہ پابندی کی خبر ہوتی ہے۔ اپنی بیٹی کو ناشتہ کراتے ہوئے میں نے یونہی سرسری سی نظر اخبار پہ ڈالی تو بزنس ریکارڈر اور ڈان دونوں کے اولیں صفحے پہ یہ خبر موجود تھی کہ اس سال امن کا نوبل انعام تین خواتین کے حصے میں آیا ہے۔ ان میں دو خواتین ایلن جونسن اور لیماہ گبووی افریقہ کے ملک لائبیریا سے تعلق رکھتی ہیں۔ جبکہ تیسری خاتون نہ صرف عرب ہیں بلکہ مسلم ہیں اور یمن سے تعلق رکھتی ہیں توکل کرمان۔


بہتّر سالہ ایلن جونسن، لائبیریا کی پہلی منتخب جمہوری صدر ہیں۔ لائبیریا، سن انیس سو انّاسی سے خانہ جنگی کا شکار ملک ہے خانہ جنگی جس نے  تقریباً دو لاکھ لوگوں کو نگل لیا۔ دو ہزار تین میں ایلن جونسن کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے حالات میں خاطر خواہ تبدیلی آئ ہے۔
دوسری خاتون،  خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی لیماہ رابرٹا گبووی بھی اسی ملک سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے اپنے ملک کی مسلم اور عیسائ خواتین کو متحد کیا تاکہ وہ ملک کے حالات بدلنے کے عمل میں حصہ لے سکیں۔ اس سے پہلے انہوں نے زنا کے خلاف بھی ایک لمبی مہم میں حصہ لیا۔ انکے پانچ بچے ہیں۔ 
عرب خاتون توکل کرمان المخلافی جوکہ یمن کےآمرانہ نظام  کے سامنے کھڑی ہو گئیں۔ انہوں نے صدر عبدالصالح کے خلاف احتجاجات کو منظم کرنے میں بھرپور حصہ لیا۔  انکے تین بچے ہیں۔ نوبل انعام کی کمیٹی کے خیال میں عرب ممالک میں آنے والی تبدیلی کی لہر وہاں کی خواتین کے مرہون منت ہے۔
یہ عرب اور افریقہ سے نکل کر ہم اپنے ملک کی طرف دیکھتے ہیں۔ ہم بھی تو تیس سال سے جنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہماری عورتوں کو کیوں خیال نہیں آتا کہ انکے بچے  محض جنگ کا ایندھن بننے کے لئے پیدا نہیں ہوتے۔  یہ جنگ ہو یا قدرتی آفات سب سے زیادہ مصائب کا شکار کون ہوتا ہے عورت۔ جب گھر کا کمانے والا نہیں رہتا تو ایک جاہل اور معاشی طور پہ کمزور بدحال عورت کو کن اندوہناک حالات سے نہیں گذرنا پڑتا۔ 
ایک عورت جس نے گھر کی چہار دیواری کے علاوہ دنیا ہی نہیں دیکھی ہوتی سیلاب اور زلزلے سے گذرنے کے بعد جب لاوارث ہوتی تو کیسی قیامت اس پہ گذرتی ہے کیا اسکا اندازہ کوئ لگا سکتا ہے۔
ایک عورت کس طرح تڑپ تڑپ کر زچگی کے دوران جان دیتی صرف اس لئے کہ اسے کوئ طبی امداد نہیں دینے والا ہوتا۔
 آخر اسے کیوں نہیں خیال آتا کہ وہ بھی اپنے ملک میں امن  کے قیام اور خوشحالی کی جدو جہد میں حصہ لے سکتی ہے۔ معاشرے کے امن استحکام اور خوشحالی کا مطلب اسکے لئے ایک آسان،  دکھ اور اذیت سے آزاد زندگی ہوتا ہے۔
آخر وہ کب تک اس سماج کے بنے ہوئے ظالمانہ نظام کا حصہ بنی رہے گی؟
آپ نے دیکھا، یہ خواتین جو اپنے بچوں کی ماں بھی ہیں وہ کس طرح اپنے اردگرد کی دنیا کو اپنے بچوں کے لئے محفوظ بنا رہی ہیں۔  آخر ہم کب اس بات پہ جمع ہونگے کہ ہمارے بچوں کو بھی ایک پُر امن معاشرہ نصیب ہو۔ وہ نام نہاد جہاد اور ٹارگٹ کلنگ میں نہ مارے جائیں، انہیں سیلاب کے پانیوں کا کفن نہ نصیب ہو اور نہ اپنے جسموں کو بم سے اڑائیں۔
  اے میرے دیس کی آدھی آبادی تم بھی اپنی بقاء کے لئے اٹھ کھڑی ہو۔ ہمیں بھی امن چاہئیے۔ ہم بھی جینا چاہتے ہیں۔ ہم بھی اس سرزمین پہ لہلہاتے پھولوں کے درمیان اپنے بچوں کو پھلتے پھولتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں بھی جانوروں جیسے نہیں انسانوں جیسے حقوق چاہئیں۔ ہم بھی اپنے اوپر ظلم کرنے والوں کے لئے سزا چاہتے ہیں۔ آخر ہم ان سب سے دور کیوں رہیں۔
آپ نے دیکھا ، ان عورتوں کے بھی گھر ہیں بچے ہیں، گھریلو زندگی ہے لیکن کیا یہ چیز انکے راستے کی دیورا بنی۔
یقین رکھیں اس ملک میں امن اب خواتین ہی لا سکتی ہیں۔ اور انہیں اسکا حصہ بننا پڑے گا، جان رکھیں آنے والا زمانہ خواتین کی مضبوطی کا زمانہ ہے۔ انہیں اپنی انتظامی صلاحیتوں کو اپنے علم اور زندگی کے عملی تجربات سے نکھارنا ہوگا۔ 
دوسری طرف ہمارے ملک میں بھی امن اورخوشحالی کے تمام منصوبوں میں خواتین کو واضح طور پہ شامل کیا جائے انکی تعداد کو بڑھایا جائے جس میں معاشرے کے ہر طبقے سے خواتین کی نمائیندگی لی جائے۔ تاکہ یوں نہ ہو کہ طبقہ ء اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی خواتین اپنے مردوں کے اشارے پہ حکومتی نظام کا حصہ بنی رہیں اور انکی حیثیت ایک کٹھ پتلی سے زیادہ نہ ہو۔
ہمیں کٹھ پتلیاں نہیں خود اعتماد , جراءت مند اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی خواتین اپنی نمائِندگی کے لئے چاہئیں۔ وہ خواتین جو زندگی کی جدو جہد کی جنگ لڑ کر آئ ہوں۔
بہر حال یہ ایک مزے کی خبر ہے۔

Friday, April 22, 2011

صومالی قزاق اور لیلی

لیلی ایک دس سالہ بچی کا نام نہیں بلکہ خوف اور بے بسی کی کیفیت کا نام ہے۔ وہ ایک عام بچی نہیں، بلکہ   جدو جہد اور امید کے مابین ڈولتی  ہمت کی علامت ہے۔ اس نے شاید سند باد جہازی کی کہانیوں میں ہی سمندری قزاقوں کے بارے میں پڑھا ہوگا اور اسے گمان بھی نہ ہو گا کہ وہ زمین پہ رہتے ہوئے انکے ظلم کا شکار ہو جائے گی۔
وہ سنڈریلا ، باربی, کوہ قاف کی دیومالائ کہانیوں کی عمر سے ابھی باہر نہیں آئ اس لئے خواب دیکھ رہی ہے کہ اسکے ارد گرد کے لوگ، اسکی قوم کے لوگ اسکے باپ کے موت کے پنجے سے چھڑا لائیں گے۔ اور وہ صرف خواب ہی نہیں دیکھتی بلکہ اس چیز کے لئے بھی تیار ہے کہ اپنے باپ کی رہائ کے لئے اپنا گردہ بیچ دے۔
اسکے باپ کی صومالی قزاقوں سے رہائ کے لئے اب صرف پانچ کروڑ روپے چاہئیں۔ وہ اس حادثے میں اکیلے نہیں جہاز کے دیگر عملے میں مصری اور انڈینز بھی شامل ہیں۔ تاوان کی کل رقم تقریباً بیس کروڑ بنتی ہے جس میں سے مصری اور انڈیئنز اپنا حصہ ادا کر چکے اور اب پاکستان کی باری ہے۔
لیلی کے رشتے دار سوال کرتے ہیں کہ ایک کھلاڑی کی شادی پہ ہماری ایک وزیر سونے کا تاج دے سکتی ہیں مگر پاکستانیوں کی رہائ کے لئے حکومت کوئ دلچسپی نہیں لے رہی۔
ایک ایسے ملک میں جہاں اربوں روپوں کا غبن اور کرپشن ہوتا ہو جہاں لوگوں کو اپنا بینک بیلینس تک یاد نہ ہو۔ وہاں میں اگر صرف پانچ کروڑکہا جائے تو کیا غلط ہے۔ اگر ایسے دس لوگ صرف پچاس پچاس لاکھ روپے دے دیں تو لیلی کو  میڈیا کے سامنے آنسو نہ بہانا پڑیں۔
پتہ نہیں کیوں میں بھی لیلی کی اس  کوہ قاف کا حصہ ہوں مجھے۔ مجھے بھی یقین  ہے اس کے والد کیپٹین وصی حسن صومالی قزاقوں کے پنجہ ء موت سے نکل آئیں گے اور وہ ایک دفعہ پھر ہنسی خوشی  نئے خواب بُنے گی۔
آپ بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ مندرجہ ذیل معلومات استعمال کر کے، قزاقوں کی دی گئ مدت اب ختم ہونے کے قریب ہے۔
 اکاءونٹ نمبر؛
1066-0081-009278-01-9
بینک الحبیب لمیٹڈ
بفرزون برانچ ، کراچی
 صومالی قزاقوں کی یہ سرگرمیاں پچھلے کئ سالوں سے جاری ہیں۔  یہ قزاق، بنیادی طور پہ صومالیہ سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ بر اعظم افریقہ کا حصہ ہے۔ قزاقوں کی اس سرگرمی کا باعث کئ باتوں کو بتایا جاتا ہے۔ مثلاً ملک میں سیاسی عدم استحکام اور  کئ سالوں تک جاری خانہ جنگی جسکی وجہ سے عملاً کوئ حکومت نہیں۔ یا صومالی مچھیروں کی انتقامی کارروائ ان غیر ملکی ٹرالرز کے خلاف جو کہ انکے سمندری حصے میں  آکر اتنی زیادہ مچھلیاں پکڑتے تھے کہ انہوں نے سمندر کو مچھلیوں سے خالی کر دیا اور اس سے مقامی مچھیروں کا ذریعہ ء روزگار ختم ہو گیا۔
ان قزاقوں میں تین طرح کے لوگ شامل ہیں۔
مقامی مچھیرے، جنہیں سمندر سے پوری واقفیت ہے اور یہ قزاقوں کا ماسٹر مائینڈ ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ باہر کی بوٹس کو انکے ساحل کے قریب سے گذرنے کا کوئ حق نہیں۔
 سابق فوج کے افراد جو پہلے اپنے جنگی سرداروں کے لئے لڑا کرتے تھے اب اس کام میں شامل ہو گئے۔
تیکنیکی مددگار جو تیکنیکی آلات کو دیکھتے ہیں مثلاً جی پی ایس۔
یہ صومالی قزاق اپنی سمندری حدودوں کے قریب سے گذرنے والے پانی کے جہازوں پہ قبضہ کر لیتے ہیں اور پھر لاکھوں ڈالر تاوان کا مطالبہ کرتے ہیں۔

صومالیہ ایک مسلمان اکثریتی ملک ہے  لیکن غربت یہاں کا بنیادی مسئلہ ہے۔ قزاقوں کو ایک لمبے عرصے سے اتنی کامیابی سے حملہ کرتے دیکھ کر ذہن میں کئ سوال پیدا ہوتے ہیں۔   پہلا سوال تو ذہن میں یہی آتا ہے کہ ان قزاقوں کو اسلحہ کہاں سے ملتا ہے۔ اندازہ ہے کہ اسلحہ انکے پاس یمن اور موغادیشو کے رستے سے آتا ہے۔ دوسرا خیال یہ آتا ہے کہ تاوان کی رقم ادا کیسے کی جاتی ہے۔ تاوان کی رقم ڈالرز کی شکل میں ادا کی جاتی ہے اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے جہاز تک پہنچائ جاتی ہے۔

قزاقوں کے ذریعے آئ آمدنی نے علاقے کے معاشی حالات کو بہت بہتر کر دیا ہے۔ بہترین گھر بنے، تفریحی مقامات وجود میں آئے، مختلف اشیائے زندگی کی ڈیمانڈ بنی انکی مارکیٹ وجود میں آئ اور یوں خوشحالی نے جگہ بنائ۔ خوش شکل لڑکیوں کو بھی مالدار بحری قزاقوں کی رفاقت ملی۔
مقامی آبادی کے لوگ اس چیز سے خوش ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انکے سمندر کے ماحول کو جو نقصان پہنچایا گیا اس طرح وہ اسکی قیمت وصول کر رہے ہیں۔ لیکن انہیں بھی چند شکایات ہیں اور ان میں سر فہرست قزاقوں کا  نشہ آور اشیاء  اور اسلحے کا بے دریغ استعمال۔
قزاقوں کی اس مصیبت سے وہاں سے گذرنے والے جہاز خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔ اس علاقے کی پوزیشن ایسی ہے کہ یہاں سے ہر سال ہزاروں پانی کے مال بردار اور مسافر جہاز گذرتے ہیں۔ یوں یہ منظر بیک وقت قزاقوں کے لئے خوشحال زندگی کی نوید بنتے ہیں اور پانی کے جہاز سے وابستہ لوگوں کے لئے ایک مسلسل خطرہ۔ اسکے علاوہ کاروباری حلقوں کی سرگرمیاں بھی اس سے متائثر ہوتی ہیں اور اعتماد دگرگوں ہوتا ہے۔
اس ساری بظاہر دہشت ناک صورت حال کے باوجود ان قزاقوں کی پیدائیش کا ایک مثبت اثر محسوس ہو رہا ہے اور وہ صومالیہ اور اسکے ارد گرد کے سمندر کی ماحولیاتی زندگی  کی بحالی ہے۔ صومالیہ سے منسلک کینیا میں رواں سال  مچھلی کی بہترین پیداوار رہی۔  اسکی وجہ،  بحری قزاقوں کے خوف کی وجہ سے باہر کے ٹرالرز کا شکار سے دور رہنا ہے۔
خوف، شکار ہو جانے والوں کو کمزور بنا سکتا ہے مگر استعمال کرنے والوں کو مضبوط۔ دیکھنا یہ ہے کہ دنیا اس دہشت گردی پہ قابو پانے کے لئے کیا راستہ نکالتی ہے۔
ایک دفعہ پھر لیلی کو اس خوف سے باہر نکالنے کے لئے آگے آئیے۔

Friday, April 30, 2010

خاص آدمی

.ایک بلاگ پہ سے گذری تو اس سوال پہ نظر پڑی

کتنے لوگ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ ایک اکیلا بندہ کچھ نہیں کر سکتا ؟ اور کتنے لوگ اس کے برعکس سوچ میں یقین رکھتے ہیں ؟
مختلف تبصروں پہ سے گذرتے ہوئے کچھ خیال آیا کہ کافی عرصے پہلے ڈاکٹر مبارک علی کی ایک کتاب پڑھی تھی، تاریخ اور فلسفہ ء تاریخ۔ کتاب کوچھانا پھٹکا اور اس سوال سے قطع نظر مندرجہ ذیل تحریر کا باعث بن گیا۔
ڈاکٹر مبارک علی تاریخ کے استاد ہیں اور اس موضوع پہ کئ کتابیں لکھ چکے ہیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ انسان اور اسکے مقاصد کو زیر بحث لاتے ہوئے ایک نظریہ یہ پیدا ہوا کہ فطرت کسی ایک شخص کو مافوق الفطرت طاقت دیتی ہے تاکہ  وہ اس مقصد کے لئے جدو جہد کرے اس میں وہ عوام کی اکثریت کو لیکر چلتا ہے۔ وہ قانون اور اخلاق سے بالاتر ہوتا جو کچھ کرتا ہے صحیح ہوتا ہے۔ تاریخ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ ان شخصیات کے عمل کا نتیجہ ہے۔ تاریخ ان لوگوں کی سوانح عمری کے علاوہ کچھ نہیں
 تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ افراد تاریخ ساز ہوتے ہیں، انکے عمل سے تاریخ کا بہاءو تیز ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ افراد تاریخ کا راستہ متعین کرتے ہیں۔ کیونکہ تاریخ کا ہر واقعہ گذشتہ واقعات اور ارتقاء کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے اور وہ افراد جو تاریخ کی تعمیر میں نمایاں کردار دا کرتے ہیں محض اک آلہ ءکار ہوتے ہیں۔
پلیخانوف کہتا ہے کہ
'بارسوخ افراد اپنے کردار اور اپنے ذہنوں کی مخصوص صفات کی بدولت واقعات کو اور انکے مخصوص نتائج کو تو بدل سکتے ہیں لیکن وہ واقعات کے عمومی رجحان کو نہیں بدل سکتے جو دوسری قوتوں سے متعین ہوتے ہیں۔
 وہ یہ کہتا ہے کہ جب بھی عظیم افراد کے ارتقاء کے لئے سازگار حالات موجود ہوئے یہ لوگ ہر جگہ نمودار ہوئے۔ یعنی صاحب صلاحیت شخص کا نمودار ہونا معاشرتی تعلقات کی پیداوار ہوتا ہے۔ ایک عظیم انسان دوسروں کے مقابلے میں واقعات کی رفتار کو سمجھتا ہے یہی اسکی عظمت ہے۔
تاریخِ میں معاشی و سیاسی و معاشرتی قوتیں اس قدر طاقتور ہوتی ہیں کہ وہ تاریخ کو مسلسل تبدیل کرتی رہتی ہیں۔ دنیا میں انقلابات ان قوتوں کی وجہ سے آتے ہیں۔ شخصیتیں صرف ان کے عمل کو تیز کر دیتی ہیں۔ ورنہ انکے بغیر بھی وہی کام ہوگا مگراس کام کی تکمیل میں زیادہ وقت اورزیادہ لوگ چاہئیے ہونگے۔ شخصی حکومت کے زمانے میں شخصیات کو اہمیت دی جاتی تھی اور انکے کارنامے لکھے جاتے تھے اس لئے اس میں حکمراں طبقے کی تاریخ تو ہوتی ہے لیکن عوام کی نہیں۔ مذہبی علماء کی تو ہوتی ہے لیکن انکے پیروکاروں کی نہیں، زمینداروں کی تو ہوتی ہے لیکن کسانوں کی نہیں، فوجی جرنیلوں کی ہوتی  ہے سپاہیوں کی نہیں، صنعت کاروں کی ہوتی ہے مزدوروں کی نہیں۔
اس طرح روائتی تاریخ میں اس بات پہ زور دیا گیا  ے کہ تاریخ صرف عظیم شخصیتوں کے کارناموں کا مرقع ہے۔ قدرت انہیں خاص صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کرتی ہے اور یہ اپنی صلاحیتوں کے ذریعے معاشرہ کی ترقی اور تمدن کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تاریخ کا دوسرا نظریہ یہ ہے کہ عظیم شخصیتیں بذات خود کچھ نہیں ہوتیں بلکہ یہ حالات کی پیداوار ہوتی ہیں۔ شخصیتوں کی اہمیت اسی وقت ہوتی ہے جب انکے کام کے کے لئے  حالات سازگار ہوں اور معاشرہ کا ذہن ان کے پیغام اور تسلیمات کو سننے کے لئے  اور اس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو اگر وہ سازگار ماحول سے ہٹ کر پیدا ہوتے ہیں تو انکی عظمت ختم ہو جاتی ہے۔
بقول 'ٹالسٹائ۔'عظیم شخصیتیں بذات خود کچھ نہیں ۔ بلکہ یہ واقعات ہیں جو انکا روپ اختیار کر لیتے ہیں'۔
یہ بات کچھ تاریخی واقعات کو دیکھنے کے بعد صحیح بھی لگتی ہے۔ ورنہ ایسا کیوں کہ گلیلو جب یہ نظریہ پیش کرتا ہے کہ زمین نہیں بلکہ سورج اس کائنات کا مرکز ہے تو پابند سلاسل ٹہرتا ہے اور دس سال قید و بند میں گذارنے کے بعد اسے عدالت میں اپنے اس بیان کی معافی جمع کرانے کے بعد رہائ ملتی ہے۔ لیکن یہی بات جب  کپلر کہتا ہے تو فلکیات کی دنیا میں انقلاب آجاتا ہے۔
کولونیل نظام کے خاتمے کے بعد ایشیا و افریقہ سمیت دیگر ممالک میں شخصیت پرستی کا فروغ ہوا۔ ، ہر نئے آزاد ملک نے شخصیتوں کے بت تراشے اور انکے گرد ایسی روایات کا ہالہ تیار ہوا کہ انکی حیثیت انتہائ مقدس و متبرک ہو گئ۔ آزادی کی تحریکوں میں انکی جدوجہد کو اس قدر مبالغہ کے ساتھ پیش کیا کہ عوام کی قربانیوں اور انکے کردار کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔


 جاری ہے۔