Showing posts with label کراچی. Show all posts
Showing posts with label کراچی. Show all posts

Sunday, October 14, 2012

مختار کا اسکول

مختار ، صفائ کرنے والی کا بیٹا ہے۔ وہ پانچویں جماعت میں پڑھتا ہے۔  ماسی کا کہنا تھا کہ اس کا بچہ خاصہ ذہین ہے کلاس میں ہمیشہ فرسٹ آتا ہے لیکن اسکول میں ٹیچر دو دو ہفتوں تک نہیں آتے اور بچے اسکول جا کر کھیل کود کر واپس آجاتے ہیں۔ بچہ اس وجہ سے اسکول جانے میں دلچسپی نہیں لیتا۔ میں اسے پرائیویٹ اسکول میں داخل کرانا چاہتی ہوں۔ میں نے اس سے کہا کہ تم اسے پڑھنے کے لئے صبح میرے پاس چھوڑ دو۔ دوپہر میں وہ اسکول چلا جائے گا۔ لیکن پرائیویٹ اسکول میں داخل مت کرانا۔ اس وقت تم جوش میں کرادوگی۔ چند مہینے کے بعد تمہارے پاس پیسے نہیں ہونگے تو تم اسے وہاں ہٹا لوگی اور اس طرح اسکی تعلیم ختم ہوجائے گی۔
ویسے بھی غریب بستیوں میں کھلے پرائیویٹ اسکولوں میں ٹیچرز خود بمشکل میٹرک پاس ہوتے ہیں۔ انہیں برائے نام تنخواہ ملتی ہے وہاں پہ بھی یہی ہوگا جو یہاں ہوتا ہے، لوگ تمہاری جہالت کا فائدہ اٹھائیں گے۔  میرے اس مشورے کے دو مہینے بعد مختار میرے پاس پہلی دفعہ پڑھنے کے لئے آیا۔
گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہوئے ایک مہینہ ہو چکا تھا لیکن اردو کی کتاب کے ابھی صرف تین سبق پڑھائے گئے تھے۔ حساب کا پہلا باب جیسے تیسے ہوا تھا۔ انگریزی کی حالت سب سے بری تھی۔ اس کے باوجود کہ اب گورمنمنٹ اسکولز میں انگریزی پہلی جماعت سے پڑھائ جاتی ہے۔ بچہ انگریزی کے سادہ ترین جملے مثلاً دز از آ ڈاگ اور دیٹ از ہر پینسل تک نہیں بول سکتا۔ یاد رہے مختار اپنی کلاس کا سب سے تیز بچہ ہے۔
ہفتہ بھر پڑھانے اور یہ جاننے کے بعد کہ دس دن سے انہیں کوئ استاد پڑھانے نہیں آیا۔ میں نے مختار کے اسکول جا کر خود صورت حال جاننے کا فیصلہ کیا۔ یہ اسکول میرے گھر کے نزدیک ہی ہے۔
اسکول کے باہر تو ایک اسکول کا نام لکھا تھا لیکن اندر داخل ہونے پہ چوکیدار نے استفسار کیا کہ کس اسکول جانا ہے اس احاطے کے اندر تین اسکول موجود ہیں۔ ایک عمارت میں تین مختلف اسکول، مجھے یہ سن کر اتنا ہی تعجب ہوا جتنا کہ یہ جان کر ہوتا ہے کہ ایک عورت نے ایک ساتھ پانچ  بچے جنم دئیے۔ ایسی کیا مصیبت ہے کہ گورنمنٹ ایک ہی علاقے میں ایک ہی عمارت میں تین مختلف اسکول چلا رہی ہے۔ یقیناً کچھ مال پانی کا چکر ہوگا۔
ان تینوں اسکولوں کے آفس اور اسٹاف الگ ہیں۔ وہاں کھڑے ہو کر میں نے اندازاً اشارہ کر دیا کہ اس اسکول جانا ہے لیکن آفس تک فاصلہ طے کرتے ہوئے میں یکسو ہو چکی تھی۔ پہلا آفس سیکنڈری اسکول کا تھا۔ اسکا نام کچھ اور تھا۔ وہاں سے میں دوسرے اسکول گئ جو کہ پرائمری تھا معلوم ہوا کہ یہی مختار کا اسکول ہے۔  ہیڈ مسٹریس صاحبہ سے ابتدائ معلومات لیں تو مزید معلوم ہوا کہ انکے اسٹاف میں پانچ اساتذہ ہیں۔ ہر استاد کے ذمے ایک کلاس ہے وہی سارے مضمون پڑھاتا ہے۔ ان میں سے بھی ایک استاد کا حال مہیں تبادلہ ہو گیا ہے اس لئے مختار کی کلاس باقاعدگی سے نہیں ہو پا رہی ہے۔ الیکشن متوقع ہیں اور الیکشن کے سلسلے میں اساتذہ کی ڈیوٹی لگتی ہے اس لئے بچے کھچے اساتذہ بھی اس کام میں لگنے کا امکان ہے۔ یعنی الیکشن کمیشن الگ سے اپنے لئے عارضی کارکن نہیں رکھ سکتا۔ اسکے لئے بچوں کی تعلیم قربان کی جاتی ہے۔
میرے سوال پہ کہ استاد تو حال ہی میں گئے ہیں جبکہ یہی حالت گرمیوں کی چھٹی سے پہلے بھی تھی۔ انکے پاس کوئ جواب نہ تھا۔ جب میں نے کہا کہ نئے سیشن کو شروع ہوئے دو مہینے سے زیادہ ہو گئے ہیں اور ایک ڈیڑھ مہینے بعد ششماہی امتحان شروع ہونگے جبکہ سلیبس اپنی ابتدائ حالت میں ہے تو جواب ملا کہ آپ کو اطلاع غلط ہے۔ ہم تو انیس سبق پڑھا چکے ہیں۔ یہ کہہ کر ایک استانی جی اٹھیں اور باہر چلی گئیں پھر اردو کی کتاب لےکر واپس داخل ہوئیں۔ اس میں کتاب کے فہرست والے صفحے پہ انیس اسباق میں نشان لگے ہوئے تھے۔ میں نے کہا یہ نہیں ہو سکتا۔ میں ان نشانات کو تسلیم نہیں کر سکتی۔ اگر پڑھایا ہوتا تو اس بچے کو تین سبق کے علاوہ کچھ تو آتا جبکہ وہ فرسٹ آتا ہے۔ جن تائثرات کے ساتھ اس گیارہ سال کے بچے نے مجھے سب بتایا وہ جھوٹ نہیں ہو سکتے۔
 جناب، اسکے بعد بیانات کا سلسلہ چلا۔ یہ لوگ تو اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکول میں پڑھانا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا اس لئے کہ وہ جاہل ہیں اور سمجھتے ہیں کہ گورنمنٹ اسکول میں تو پڑھائ ہوتی نہیں اس لئے محلے کے پرائیویٹ اسکول میں داخل کرا دیں۔ ورنہ خود سوچیں جس کے پاس کحانے کو پیسے نہیں وہ پرائیویٹ اسکول میں کیسے پڑھائے گا۔ پھر آپ نے اپنے اسکول میں بچوں کے لئے کوئ تحرک نہیں رکھا وہ یہاں آکر کیا کریں۔ استاد تک تو انہیں ملتا نہیں۔
ایک استاد نے کہا کہ بچے اتنے گندے حلئیے میں آتے ہیں۔ اتنے گندے بچوں کو کیسے پڑھایا جائے۔ اور میں صفائ دیتی ہوں کہ یہ کچی بستی میں نالے کے کنارے رہنے والے، جنکے ماں باپ گھروں صفائ کا کام کر کے بمشکل اپنا کھانے پینے کا خرچہ اٹھاتے ہیں وہ کیسے انہیں صاف ستھرے یونیفارمز اور جوتوں میں بھیج سکتے ہیں۔
او جی آپکو نہیں معلوم یہاں تو کسی بچے کو ایک تھپڑ مار دو تو انکے ماں باپ یہاں ہنگامہ کرنے کو کھڑے ہوتے ہیں ۔ اس پہ میں کہتی ہوں ، وہ بیچارے ویسے ہی ماں باپ سے بری طرح پٹتے رہتے ہیں اب انکو مار کر کیا کرنا۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ انہیں یتیم بچے سمجھ کر پڑھا لیا کریں۔ یہی سوچ کر پڑھا لیا کریں کہ کل آقپکا معاشرہ آجکے مقابلے میں اس لئے بہتر ہوگا کہ یہ بچے سمجھدار ہونگے۔لیکن آپ دیکھیں اتنے بچوں کو کوئ کب تک پیار سے پڑھا سکتا ہے؟ ایک اور بہانہ سامنے آتا ہے۔
میں نے مسکراتے ہوئے انہیں دیکھا، میری اطلاع کے مطابق مختار کی کلاس میں کل سات بچے ہیں جن میں سے دو تین تو روز غیر حاضر ہوتے ہیں۔  آپکے اسکول میں شاید کل سو بچے ہیں۔ ایک کلاس میں چار بچوں کو ہینڈل کرنا کیا مشکل ہے۔ میں یونیورسٹی میں ایک وقت میں سوا سو بچوں کو پڑھاتی رہی ہوں یہی نہیں میں نے خود گورنمنٹ اسکول سے پڑھا ہے اور ہماری کلاس میں پچاس اسٹوڈنٹس تھے۔ حتی کہ ترقی یافتہ ممالک میں ایک استاد کے پاس پندرہ سے بیس اسٹوڈنٹ ہوتے ہیں اس لحاظ سے آپ کے پاس تو کافی گنجائش ہے جبکہ اگر آپ یہ دیکھیں کہ اس اسکول کے ساتھ ایک اتنی بڑی کچی آبادی ہے۔ غریب لوگ ہیں گورنمنٹ اسکول کی کوئ فیس ہی نہیں، آپکے پاس تو کافی بچے ہونے چاہئیں لیکن ایسا ہے نہیں۔ آپ کو تو کوشش کرنی چاہئیے کہ آپکے اسکول میں زیادہ سے زیادہ بچے آئیں۔ دل میں سوچا کہ کوشش کرنی چاہئیے کہ اپنی تنخواہ کو حلال کریں۔
اس پہ ایک کھسیانی مسکراہٹ۔
معاملے کا اہم پہلو یہ ہے کہ گورنمنٹ پرائمری اسکول کے ایک استاد کی تنخواہ سولہ سترہ ہزار ہوتی ہے۔ جبکہ ادھر سٹی یا بیکن ہاءوس جیسے پرائیویٹ اسکولز میں بھی تقریباً  اتنی ہی تنخواہ ہوتی ہے۔ وہ اپنے اساتذہ سے خوب کام لیتے ہیں۔ دن کا ایک لمحہ ضائع نہیں جانے دیتے۔ کلاس رومز میں کیمرے تک موجود ہوتے ہیں تاکہ پرنسپل اپنے کمرے سے تمام کلاس رومز کو چیک کرتی رہے کہ اساتذہ آرام سے بیٹھے ہیں یا پڑھا رہے ہیں۔ ان اسکولوں کے مقابلے میں گورنمنٹ اساتذہ پہ کام کا سرے سے کوئ دباءو ہی نہیں۔ ان اساتذہ  سے  نتیجہ خیز کام لینے والا کوئ نہیں۔ کوئ اس چیز کا ذمہ دار نہیں کہ یہ اساتذہ اسکول کی چار دیواری میں کیا کر رہے ہی  
قارئین ، اب یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پورے تعلیمی نظام میں کون کتنا سنجیدہ ہے۔ 
میرے وہاں جانے سے یہ ہوا کہ مختار کی کلاس کو ایک استاد نے توجہ دینا شروع کی۔ انگریزی میں اسے دو مضامین لکھوائے گئے۔ یہ دونوں مضامین نہ صرف ناقص تھے بلکہ استاد نے اسکول کے موضوع پہ جو مضمون لکھوایا اس کے لئے یہ بھی زحمت نہ کی کہ لفظ سیکنڈری کی جگہ پرائمری ہی کر دیتا کہ مختار پرائمری اسکول میں پڑھتا ہے۔  ناءون، پروناءون اور ایجیکٹو کی تعریفیں اور مثالیں لکھوائ گئیں البتہ انکی کسی بھی قسم کی مشق ندارد۔ حالانکہ یہ سب اساتذہ، ایجوکیشن میں بیچلرز کی اضافی ڈگری رکھتے ہیں۔ میتھس کی کتاب کچھ آگے بڑھی۔
چند دنوں بعد میں پھر جاءونگی۔ اور اب میں سوچتی ہوں کہ اگر ہم صرف اتنا کر لیں کہ اپنے علاقے میں موجود گورنمنٹ اسکولز کو جا کر چیک کریں اور انکے اساتذہ سے گفتگو کریں تو ان پہ دباءو پڑتا ہے کہ وہ اپنے کام کے معیار کو بہتر کریں۔ اس تحریر کا مقصد بھی یہی ہے کہ آپ بھی اس مہم میں شامل ہو جائیں۔  اس بات سے قطع نظر کہ آپکے خاندان کے بچے اس میں ہیں یا نہیں۔  اپنے علاقے  کے گورنمنٹ اسکول کےا ساتذہ  سے ملیں، کلاسز کو دیکھیں اور اگر موقع ملے تو یہ سب کام کسی بچے سے پہلے سے معلومات حاصل کر کے کریں۔ آپ میں سے جسے موقع ملتا ہے وہ جائے یا پھر علاقے میں نوجوانوں کی ایک ٹیم بنا لیں جو اسکولوں کا جائزہ لے۔
گورنمنٹ اسکول میں پڑھنے والے بچے بھی ہمارے ہی بچے ہیں اگر غریب بچوں کو بہتر تعلیم ملے تو ہی ہم معاشرے میں تبدیلی کی امید رکھ سکتے ہیں۔  

Tuesday, October 9, 2012

مفاد سے آگے

شادی کے کارڈز بانٹنا اور شاپنگ ، اس میں اتنی مصروف رہی کہ مجھے یاد ہی نہ رہا کہ آج آسٹریلیا اور پاکستان کا ٹی ٹوئنٹی میچ ہے۔ میں اپنی ساتھی خاتون کو نارتھ ناظم آباد چھوڑنے کے لئے جب فائیو اسٹار کے سگنل پہ پہنچی تو ٹریفک رکا ہوا تھا۔ رات کے سوا دس بج رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ شادیوں کی ٹریفک کا رش ہے۔ کیونکہ اس طرف درجنوں شادی ہالز ایک قطار میں موجود ہیں۔ لیکن سگنل کھل کے ہی نہ دے رہا تھا۔
 پندرہ منٹ بعد مجھے فضا میں پاکستان کے جھنڈَے لہراتے نظر آئے اور کچھ لڑکے ادھر ادھر بھاگتے دکھائ دئیے۔  تھوڑی دیر بعد ہماری گاڑی چوک پہ لڑکوں کے ایک ہجوم کے درمیان، دوسری گاڑیوں کے ساتھ پھنسی ہوئ تھی۔ لڑکوں کی تعداد یہی کوئ ایک ڈیڑھ ہزار ہوگی۔ آتشبازی ہو رہی تھی، لڑکے ہارن بجا رہے تھے۔ صاف لگ رہا تھا کہ انکے ذہن میں کوئ خاص پروگرام نہیں۔ بس ٹریفک کو روک کر انہیں مزہ آرہا تھا۔ اس اثناء میں ایک لڑکے نے عین گاڑی کے سامنے آکر پستول نکالا اور ہوائ فائرنگ شروع کر دی۔ آج بچ جائیں تو بڑی بات ہے۔ میں نے سوچا، اگر ذرا بھی اندازہ ہوتا تو اس طرف کا رخ نہ کرتے۔
چالیس منٹ کے اس ہنگامے میں پھنسے رہنے کے بعد نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ واپسی پہ میں نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ لیکن ایک چیز جس نے میری توجہ لی وہ یہ کہ نوجوانوں کے اس منتشر، چارجڈ لیکن بے مقصد ہجوم میں کسی بھی سیاسی جماعت کا جھنڈا نہیں تھا۔ صرف پاکستان کے تین چار جھنڈے نظر آئے۔ عجیب یوں لگی کہ اس سے پہلے نوجوان کوئ بھی موقع ہو ایم کیو ایم کا جھنڈا لانا فرض عین سمجھتے تھے۔
یہی نہیں اس سے دو دن بعد جب میں عزیز آباد کے قریبی علاقے میں گئ تو وہاں ایک پارک میں لوگوں کا ہجوم ایک بڑی سی اسکرین پہ میچ دیکھ رہا تھا۔ ہر تھوڑی دیر بعد ہجوم نعرے لگاتا اور جھنڈے لہراتا لیکن یہ جھنڈے صرف پاکستان کے جھنڈے تھے۔
کیا کوئ تصور کر سکتا ہے کہ کراچی میں ایسا ہو گا۔ ایسا کیوں ہوا؟
الیکشن ، مستقبل قریب میں متوقع ہیں۔ اس لئے اکثر لوگوں سے اس حوالے سے بات ہوتی ہے۔ کس جماعت کو ووٹ دینا چاہئیے اور کیوں؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سب سیاستداں چور ہیں اس لئے ہم الیکشن والے دن بیلٹ پیپر پر مہر اس طرح لگائیں گے کہ وہ خراب ہو جائے اور کوئ ہماری جگہ جعلی ووٹ نہ ڈال سکے۔
میں نے پوچھا کہ اس سے کیا ہوگا؟ ووٹ کی گنتی ہوگی تو وہ امیدوار جیت جائے گا جسکے سب سے زیادہ ووٹ ہونگے چاہے اسے پانچ سو ووٹ ملیں۔
ایم کو ایم کو اس صورت حال کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے؟
 اس کی وجوہات اتنی واضح ہیں کہ  عقل و خرد سے عاری شخص بھی بتا سکتا ہے۔ ایم کیو ایم کے حامی کو اب ایم کیو ایم اور دیگر سیاسی جماعتوں میں کوئ فرق نظر نہیں آتا۔  سب چور ہیں ، سب اپنی تجوریاں بھرنا چاہتے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت پہ مفاد پرست طبقے کا قبضہ ہے۔ یہ مفاد پرستی، ذاتی مالی مفاد سے جڑی ہے۔  جب ایم کیو ایم کا نام آتا ہے تو بابر غوری جیسے نام آتے ہیں جو پارٹی میں شامل ہوئے تو کیا تھے اور آج انکی جائدادیں امریکہ میں موجود ہیں۔ 
یوں جاگیرداری اور معاشرے کے استحصال کے خلاف آواز اٹھانے والے خود جاگیر داری کے نشے میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اسکی بنیادی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ پاکستان کی ہر دوسری سیاسی جماعت کی طرح، ایم کیو ایم نے بھی اپنے تھنک ٹینک یعنی حلقہ ء دانشوراں کو مضبوط کرنے کے بجائے شخصی سیاست کی راہ اپنا لی۔ یہ سیاست کا اگرچہ ایک آسان راستہ ہے لیکن بھونڈا راستہ ہے اور جمہوری روح سے دورہے۔ مفاد پرست طبقہ ایک شخصیت کو خوش کر کے فائدے اٹھاتا ہے۔ اس طرح سے جمہور کی آواز کہیں دور رہ جاتی ہے۔
تنظیم نے جس شخصیت کومرکزی شخصیت کے طور پہ چنا وہ اس ملک کی سرحدوں میں ایک طویل عرصے سے نہیں آیا۔ انہیں یہاں کے بارے میں جو بھی اطلاع ملتی ہے وہ کسی کے ذریعے سے ملتی ہے انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ مصطفی کمال کے بنائے ہوئے پلوں نے شہر کا نقشہ تبدیل کر کے کیا سے کیا کر دیا ہے۔ اڑتی خبریں ملتی ہیں کہ وہ خود ہوش و خرد سے عاری ہو چکے ہیں۔ اور در حقیقت اس وقت تنظیم کو پاکستانی ایجنسیز چلا رہی ہیں۔
اس وقت تنظیم کو لائق اور عالم افراد کے قحط کا سامنا ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت میں ایسے لوگوں کی شمولیت کو دیکھا جانا چاہئیے جو کہ زندگی کے مختلف میدانوں مِن مہارت رکھتے ہوں تاکہ ہمیں امید ہو کہ افراد کا یہ مجموعہ ہمارے مسائل سے کیسے نبرد آزما ہوگا۔  زیادہ تر افراد جو تنظیم کی سیکولر پالیسی کی وجہ سے اس سے بہتر امیدیں رکھتے تھے اب اس سے دور ہو چکے ہیں۔ اس طرح سے ایم کیو ایم بحیثیئت ایک سیاسی جماعت کراچی کے نوجوانوں کو کوئ مثبت امید ، راستہ اور سرگرمی دینے میں آہستہ آہستہ ناکام ہو رہی ہے۔ اور اسکی یہ ناکامی، نوجوانوں کو دوسری انتہا کی طرف لے جارہی ہے جو کہ مذہبی انتہا پرستی ہے۔
تنظیم کو اس حقیقت کو تسلیم کرکے مثبت سمت میں کام کرنا چاہئیے۔ انہیں اب اس چیز کو بھی تسلیم کرنا چاہئیے کہ محض پیپلز پارٹی سے اچھے تعلقات استوار کر کے یا صدر زرداری کو خوش رکھ کر یہ ممکن ہے کہ وہ آئیندہ الیکشن میں اسمبلی کے اندر اپنا وجود قائم رکھنے میں کامیاب ہو جائیں، ممکن ہے انہیں مالی مفادات مل جائیں لیکن اس سے وہ عوامی سطح پہ اپنی حیثیئت کم کرتے جا رہے ہیں۔
مجھے اپنے سیاستدانوں کی اس کوتاہ اندیشی پہ حیرت ہوتی ہے کہ وہ محض اپنے مالی مفاد کو محفوظ کرتے ہوئے اپنے  زیادہ فائدہ مند مستقبل کی قربانی دینے سے گریز نہیں کرتے۔ حالانکہ اگر وہ اپنے مالی مفاد میں تھوڑی سی کمی لے آئیں اور اسے عوامی فلاح پہ خرچ کریں تو وہ ایک لمبی مدت تک عوامی پذیرائ سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور زیادہ کما سکتے ہیں۔
بہر حال، باقی سب سے قطع نظر ایم کیو ایم کو یہ سمجھ لینا چاہئیے کہ ایسے ملک میں جہاں سیاست پہ جاگیردار کا سب سے بڑا حق ہے اور جہاں یہ جاگیردار، ملک کی مضبوط طاقت یعنی فوج سے بھی مضبوط روابط رکھتا ہے۔ وہاں وہ اپنی بقاء کی جنگ عوام کی حمایت کے بغیر نہیں لڑ سکتی۔ لیاری امن کمیٹی، اسکا سب سے بڑا ثبوت ہے۔  جو منظر پہ اچانک ابھری اور اب کراچی کے امن و امان میں اپنا حصہ رکھتی ہے یعنی جب چاہے اس شہر کا امن ہلا سکتی ہے حالانکہ اسکا اثر لیاری سے آگے نہیں۔ 
سو انہیں عوام کے لئے کام کرنا پڑے گا، انہیں ترجیح دینی ہوگی اور تنظیم کو مفاد پرست طبقے سے ہی نہیں شخصی سیاست سے بھی باہر نکالنا ہوگا۔ انہیں دلجمعی سے ایک حلقہ ء دانشوراں قائم کرنا ہوگا جسے سوچ وبچار کی آزادی دینی ہوگی۔ لیکن  اگر وہ ریاستی قوتوں سے ہڈی لے کر اس سے خوش ہیں تو یاد رکھیں کہ کل وہ باہر ہونگے جبکہ دیگر طاقتیں اسی طرح کھیل میں شامل رہیں گی جیسے وہ پچھلے تریسٹھ سال سے ہیں۔

 

Monday, October 1, 2012

ڈنگ ڈونگ

ہر اچھا اور برا وقت گذر جاتا ہے کل کا دن بھی گذر گیا۔ ایک اور چبھتی ہوئ یاد۔ فیس بک پہ اب تک اسکی  چبھن باقی ہے۔ جب بھی ہم روائیتی حریف کے سامنے ہوتے ہیں دنیا کو لگ پتہ جاتا ہے کہ آج  کیا ہونے والا ہے۔ کسی زمانے میں شیر کی آ٘د کا پتہ رن کے کانپنے سے چلتا تھا۔ کس شیر کی ٘آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے اب یہ کام میڈیا انجام دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب روڈ پہ سے گذری تو حیران تھی کہ اتنا چھوٹا شامیانہ لگا کر اور اتنی ساری کرسیاں بچھا کر کس تقریب کا اہتمام ہو رہا ہے۔ نوجوان اب بھی ایم کیو ایم کے اتنے دیوانے ہیں۔ واپسی پہ معمہ حل ہوا،  شامیانے کا سائز اسکرین کے سائز جتنا تھا اور کرسیاں ہی کیا لوگ اسکے چاروں طرف کھڑے تھے۔ 
گھر واپس آکر دیکھا کہ لاءونج کا صوفہ ٹی وی سے ایک نامعقول فاصلے پہ رکھا ہوا ہے اور آگے پیر ٹکانے کے اسٹول رکھے ہوئے ہیں۔ آنکھیں جمی ہیں، میچ چل رہا ہے۔
مجھے تو ٹی ٹوئینٹی میچ  کرکٹ کا ساشے پیکٹ لگتا ہے۔ آخر اسکے لئے گیارہ کھلاڑیوں کی کیا ضرورت ہے؟ یعنی رومال بنانے کے لئے پورا تھان لیں۔ یہ اسی صورت نظر انداز کیا جا سکتا ہے جب فیس بک اور ٹوئٹر بھی ساتھ ساتھ رواں دواں ہوں۔ 
فیس بک سے اندازہ ہوا کہ میچ میں پاکستان کی ہار کا منظر ابھرتے ہوئے ہی کچھ کمزور دل حضرات ٹی وی کے آگے سے اٹھ گئے۔ کچھ نے جائے نماز سنبھالی لیکن میچ کے اختتام پہ کچھ دہرئیے والے کلمات کہتے پائے گئے۔ پاکستانی کھلاڑیوں کو سوچنا چاہئیے کہ انکی وجہ سے کچھ لوگ دعا اور رب دونوں سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ جسکا عذاب انکے سر پہ ہوگا۔ کچھ خواتین رونے لگ گئیں اور کچھ کے بچوں کی شامت آئ یعنی طویلے کی بلا بندر کے سر۔ اس دلچسپ صورت حال کی عکاسی کے لئے میں نے کچھ اسٹیٹس چوری کئے ہیں۔ حاضر ہیں۔
Feel like giving two chammats to the team

Kia game on hai? I didnot feel do :(

کوئ بات نہیں، بچہ سمجھ کر جیت دے دی، اگلی باری میں دیکھنا۔
پس ثابت ہوا کہ ٹُلّر ہر واری نہیں چل سکدا۔

اور جیسا کہ میں میچ شروع ہونے سے پہلے کہہ چکا تھا نتیجہ وہی نکلا
 
Chalo toss hu, jeetay or match tum! Baat baraber hoi :)
 
Lo Ji,
Pakistan har gaya.
Allah Hafiz
To boost the performance levels for time being, Pakistani team must presume for time being that they are working in a 3 hour long commercial
Prepare yourself for this song.

Tum Jeeto yaan haaroo
sunooooo
humain tum say piyar ha
 
Shahid Afridi didn't work, lets send Shakeel Afridi with polio drops, and then a drone attack + seal operation on top of that. All over!
 
اس سے بڑی زیادتی اور کیا ہوگی فراز 
ہم جیتیں تو وارم اپ، وہ جیتیں تو سپر 8 

کس عقیدت سے آئوٹ ھوتے ھیں

واہ وا واہ

کس عقیدت سے آئوٹ ھوتے ھیں
ھار جانا ثواب ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ھو جیسے

کیا رحمان ملک پاک بھارت میچ کا سودا کرنے گیا؟ رقم بٹورنے کا اچھا موقع سمجھتے ہوے؟
پاکستانی ٹیم کو کسی کوچ کی نہیں، بلکہ ایک اچھے سائیکیٹریسٹ کی ضرورت ہے۔
اور قارئِن، اس دھلائ سے فارغ ہو کر لوگ ایک دفعہ پھر خداکی طرف رجوع کرتے ہیں۔ کیوں؟ یہ نہیں معلوم۔
I am watching Madni Tv now !!!
میری دلچسپی تو کرکٹ میں اس وقت سے ختم ہو گئ ہے جب سے پاکستان میں کرکٹ کرپشن اپنے عروج پہ پہنچا۔ لیکن اس دفعہ جس چیز کی وجہ سے مجھے بار بار اسکرین کو دیکھنا پڑا۔ وہ ڈنگ ڈونگ کا اشتہار ہے۔ میرے بچپن سے یہ اب میری بیٹی کے بچپن تک آپہنچا۔ جب اشتہار اختتام پہ پہنچتا ہے تو بلی چوہوں کی پٹائ لگانے کے بعد اپنا ڈنگ ڈونگ ببل کا ذخیرہ لیتی ہے اور وہی سونگ گاتی ہے۔ میں سوچتی تھی کہ یہ نہیں پتہ چلتا کہ کون سا سونگ گاتی ہے؟ کچھ عرصے بعد ایک خیال آیا کہ یہ ڈنگ ڈونگ گاتی ہے۔ اب بھی یقین نہیں کہ یہ خِال درست تھا یا غلط۔
 اس میچ کے دوران ڈنگ ڈونگ ببل کا اشتہار پاکستان کی مختلف زبانوں میں آتا رہا۔
اور میں ہر دفعہ کمپیوٹر اسکرین سے نظریں پھیر سنتی کہ یہ اب کون سی علاقائ زبان ہے اور اس میں کیا الفاظ استعمال ہوءے ہیں۔ لیکن کل سے پہلے شاید ہی کبھی شک ہوا ہو کہ یہ اشتہار یا تو یہودیوں نے بنایا ہے یا پھر را کے ایجنٹوں نے۔ ایک مبصر کا کہنا تھا کہ ہر کھلاڑی کے آءوٹ ہونے پہ یہ اشتہار آیا اور بلی خوشی سے ناچتی پھری۔ بعض حقائق بڑی دیر سے پتہ چلتے ہیں۔


اب پھر ایک سوال ذہن میں ہے۔ اگر بلی نے چوہوں کی پٹائ لگائ اور ڈنگ ڈونگ لے کر اس نے پھر وہی سونگ گایا۔ تو اس دفعہ اس نے کون سا سونگ گایا؟ جواب منتخب کریں۔
۱
ڈنگ ڈونگ
۲
تم جیتو یا ہارو
سنو
ہمیں تم سے پیار ہے
۳
لخ لعنت

Saturday, September 22, 2012

کیا واقعی؟

اب کچھ بھی لکھنے سے پہلے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ رسول اللہ پہ بنائے جانے والی فلم کے متعلق میرا کیا خیال ہے۔
 ٹیکنالوجی کے اس زمانے میں کسی بھی قسم کا فضول مواد نیٹ پہ ڈالنا کسی بھی شخص کے لئے کوئ مشکل کام نہیں۔ اسکی مثال وہ فحش مواد ہے جو خود مغربی معاشرے کے لئے ایک مصیبت سے کم نہیں۔
ہمارے یہاں اس فلم کے اوپر غم غصے کا ہونا بجا ہے۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسلام  کے پیغمبر، کوئ تصوراتی شخصیت نہیں ہیں۔ انکی یہی خوبی جہاں ایک مسلمان کے لئے بے حد کشش کا باعث بنتی ہے وہاں نہ ماننے والوں کے لئے تنازعوں کا کھڑا کرنے کا باعث بھی بنتی ہے۔
میرے نزدیک یہ فلم  آزادی ء اظہار رائے کے ضمن میں نہیں آتی بلکہ اسکا تعلق ہیٹ میٹیریئل یعنی نفرت انگیز مواد سے ہے۔  سو اس سلسلے میں مسلمانوں کا یہ مطالبہ اپنی جگہ درست ہے کہ اسے نیٹ پہ سے ہٹایا جائے کیونکہ یہ مسلم دنیا سے نفرت کا اظہار کرتی ہے۔ اور جب تک اسے نیٹ پہ سے نہیں ہٹایا جائے گا۔ مسلم دنیا یہ تسلیم کرنے میں حق بجانب رہے گی کہ یہ نفرت انگیز مواد ، مسلم دنیا کو مشتعل کرنے کے لئے پیش کیا گیا ہے۔
مسلم دنیا  اس سلسلے میں کیا کر سکتی ہے؟
یہ ایک اہم سوال ہے۔ ایک اجتماعی حل تو یہ ہے  کہ تمام مسلم ممالک کو اس سلسلے میں متحد ہو کر کسی ایسے بین الاقوامی قانون کے لئے کوشش کرنی چاہئیے جس سے اس قسم کے نفرت انگیز مواد کا پھیلاءو ممکن نہ رہے۔ 
لیکن اس سے پہلے ہمیں بحیثیئت پاکستانی خود سے بھی پوچھنا چاہئِے کہ کیا ہم دوسرے مذاہب کی تکریم کرتے ہیں۔ کیا ہم دوسرے انسانوں کو یہ آزادی دیتے ہیں کہ وہ اپنے مذہب پہ جیسے دل چاہے عمل کریں۔
کل میری نظر ایک مضمون پہ سے گذری جو کسی مغربی لکھاری کا لکھا ہوا تھا اور انہوں نے اس میں بے شمار چیزیں گنوائیں جو مسلمان ، غیر مسلموں کے لئے کہتے ہیں اور جو نفرت انگیز مواد میں شامل ہونا چاہئیے۔ جب ہم دل آزاری کے اس مرحلے سے بغیر کسی قباحت کے گذر جاتے ہیں تو اپنی باری میں پہ ہم کیوں پریشان ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے رسول کی تکریم ہو تو ہمیں اپنے اعمال کی بھی نگہداشت کرنی چاہئیے۔

ON CHRISTIANS Hasan Rahimpur Azghadi of the Iranian Supreme Council for Cultural Revolution: Christianity is “a reeking corpse, on which you have to constantly pour eau de cologne and perfume, and wash it in order to keep it clean.”http://www.memritv.org/clip/en/1528.htm — July 20, 2007.

Sheik Al-Khatib al-Baghdadi: It is permissible to spill the blood of the Iraqi Christians — and a duty to wage jihad against them.http://www.memri.org/report/en/0/0/0/0/0/0/5200.htm — April 14, 2011.

Abd al-Aziz Fawzan al-Fawzan, a Saudi professor of Islamic law, calls for “positive hatred” of Christians. Al-Majd TV (Saudi Arabia),http://www.memritv.org/clip/en/992.htm — Dec. 16, 2005.

ON SHIITES The Egyptian Cleric Muhammad Hussein Yaaqub: “Muslim Brotherhood Presidential Candidate Mohamed Morsi told me that the Shiites are more dangerous to Islam than the Jews.” www.memritv.org/clip/en/3466.htm — June 13, 2012.

The Egyptian Cleric Mazen al-Sirsawi: “If Allah had not created the Shiites as human beings, they would have been donkeys.” http://www.memritv.org/clip/en/3101.htm — Aug. 7, 2011.

The Sipah-e-Sahaba Pakistan video series: “The Shiite is a Nasl [Race/Offspring] of Jews.”http://www.memri.org/report/en/0/0/0/0/0/51/6208.htm — March 21, 2012.

ON JEWS Article on the Muslim Brotherhood’s Web site praises jihad against America and the Jews: “The Descendants of Apes and Pigs.”http://www.memri.org/report/en/0/0/0/0/0/51/6656.htm — Sept. 7, 2012.

The Pakistani cleric Muhammad Raza Saqib Mustafai: “When the Jews are wiped out, the world would be purified and the sun of peace would rise on the entire world.”http://www.memri.org/report/en/0/0/0/0/0/51/6557.htm — Aug. 1, 2012.

Dr. Ismail Ali Muhammad, a senior Al-Azhar scholar: The Jews, “a source of evil and harm in all human societies.” http://www.memri.org/report/en/0/0/0/0/0/51/6086.htm— Feb. 14, 2012.

ON SUFIS A shrine venerating a Sufi Muslim saint in Libya has been partly destroyed, the latest in a series of attacks blamed on ultraconservative Salafi Islamists.http://www.bbc.co.uk/news/world-africa-19380083 — Aug. 26, 2012.


عوام کی مذہب کے نام پہ  سلطان راہی بننے کی لگن دیکھتے ہوئے سیاستداں بھی اس سے کم فائدہ نہیں اٹھاتے۔ کیونکہ مذہب کا نام لے کر کسی کو قتل کر دیں یا کسی کی زمین چھین لیں یا کسی کو قید کرا دیں یہ کوئ مشکل کام نہیں۔ معاشرہ بھی اسے برا نہیں سمجھتا۔ جو اس چکر میں پھنستا ہے اسکی جاں بخشی اس ملک کی سرحدوں کے باہر ہی ممکن ہو پاتی ہے۔ سو وہ لوگ جو آجکل خواب میں بھی اپنے ہاتھ میں تلوار اور سامنے گستاخ کا سر دیکھتے ہیں انکو بلور صاحب نے پیغام دیا ہے کہ گستاخ فلم بنانے والے کے سر کی قیمت انہوں نے رکھ دی ہے۔ جسے ہو شوق جائے کرے شکار اسے۔ اس طرح صوبہ ء سرحد میں موجود طالبان کو انہوں نے ایک سخت چیلینج دیا ہے۔ دیکھتے ہیں طالبان  کیا زیادہ سخت سزا اس گستاخ کے لئے رکھتے ہیں۔ بلور صاحب سے معذرت کے ساتھ کیا یہ پیغام تشدد، شدت پسندی اور نفرت انگیز جذبات کو ہوا دینے والا نہیں ہے۔
ہمیں دیکھنا چاہئیے کہ مغربی ممالک میں کئ دہائیوں سے بسنے والے لوگوں کی زندگی کیا ان مغربی لوگوں نے اجیرن کی ہوئ ہے۔ کیا وہ انکے سامنے انکے نبی کی توہین کرتے ہیں۔ مجھے آج تک کوئ ایک شخص مغرب میں ایسا نہیں ملا جس نے مجھ سے میرا مذہب پوچھا ہو یا میرا مذہب جاننے کے بعد کوئ توہین آمیز ریمارک دیا ہو۔
کسی بھی ایسے گستاخ کے سر کی قیمت رکھ کر یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں پاگلوں کی کمی نہیں۔ کیا سلمان رشدی کے سر کی قیمت رکھنے کے بعد لوگوں نے مرنے کے ڈر سے گستاخی کرنے کی جراءت نہیں کی؟
مجھے یقین ہے کہ یہ اس سلسلے کا آخری واقعہ نہیں ہوگا جیسا کہ مجھے کارٹونز والے معاملے میں بھی یقین تھا کہ یہ سلسلہ ایسے نہیں رکے گا۔
  اب ہم پاکستان کی طرف آتے ہیں۔ کل ہمارے یہاں یوم عشق رسول  ایسے منایا گیا کہ لوٹ مار کے واقعات کے ساتھ چھبیس افراد اپنی جان سے گئے۔ یہ وہ بے گناہ ہیں جنہیں کوئ شہید بھی نہیں کہتا۔ مذہبی رجحان رکھنے والے لوگوں نے اس پہ مذمت سے زیادہ اس پہ مذمت کی کہ میڈیا نے پر امن ریلیوں کی کوریج کے بجائے ہنگامے کی کوریج زیادہ کی۔ مجھے جس چیز پہ انتہائ افسوس رہا وہ یہ کہ سوائے فضل الرحمن صاحب کے کسی اور مذہبی تنظیم نے جاں کے زیاں پہ اپنے افسوس کا اظہار نہیں کیا۔ حتی کہ سوشل میڈیا پہ موجود دائیں بازو کا پروپیگینڈہ کرنے والوں کی اکثریت اس وقت ایسے خاموش ہوئ جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ جیسے یہ واقعہ پاکستان میں نہیں مریخ پہ پیش آیا ہو، جیسے مرنے والے ہمارے ہم مذہب اور ہم وطن نہیں بلکہ کسی جنگل میں شیر اور ہاتھی کے درمیان لڑی جانے والی جنگ میں کچلی ہوئ گھاس تھے۔
آخر یہ کیسے ہوا کہ اتنے لوگ ہلاک ہو گئے؟
ایک اسٹیٹس میری نظر سے فیس بک پہ گذرا۔ جس میں لکھنے والے نے لکھا کہ ریلیاں انتہائ پر امن تھی۔ ان میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے لیکن معاملہ ان جگہوں پہ خراب ہوا جہاں افغان مہاجرین نے ریلیوں میں شرکت کی۔ یہ افغان توڑ پھوڑ اور ہلاکتوں میں شامل تھے۔ اسکے ساتھ ہی اسلام آباد کے ہنگامے کی تصویر تھی۔
تب مجھے یاد آیا کہ بے نظیر کے مرنے پہ کراچی میں ملیر کے علاقے میں سب سے زیادہ ہنگامہ ہوا۔ لوگوں نے کہا کہ انکے گھروں میں گھس کر نہ صرف لوٹ مار کی گئ بلکہ خواتین کو اٹھا لیا گیا۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اس کا ذمہ دار افغان مہاجرین کو بتایا۔
ادھر کراچی میں میری آج ایک صاحب سے بات ہوئ جو حافظ قرآن ہیں اور لیاری کے علاقے میں رہتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ وہ عینی گواہ ہیں کہ کل صدر کے علاقے میں جو لوٹ مار اور جلاءو گھیراءو ہوا وہ لیاری کے امن کمیٹی والوں کا کیا دھرا ہے۔  چند سال پہلے بھی کراچی پیپر مارکیٹ میں آگ لگانے کا ذمہ دار امن کمیٹی کو بتایا گیا تھا۔ حتی کہ اس وقت کی جانے والی لوٹ مار کا سامان بعد میں لیاری کے ایک گودام سے بر آمد بھی کیا گیا۔ یہ پیپر مارکیٹ صدر کے ساتھ ہی ہے۔
 میں نے حیران ہو کر ان صاحب سے پوچھا، لیکن میڈیا اس سلسلے میں کچھ نہیں بتا رہا اور امن کمیٹی والوں کا اس سارے معاملے سے کیا تعلق؟
کہنے لگے، امن کمیتی کی خبریں میڈیا نہیں دے سکتا۔ مزید یہ کہ  یہ سب ایجنسیز یعنی پاکستانی فوج کے ایماء پہ ہوا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ عوام مذہب کے نام پہ بڑھکوں اور قتل و غارت گری سے بھرپور ڈرامہ دیکھ کر اپنا خون گرم رکھے۔ کیونکہ وہ ایک طرف عوام کو مذہب کے نام پہ طیش میں لاتے ہیں اور دوسری طرف امریکہ بہادر کو جتاتے ہیں دیکھا، ہم نے کتنی مصیبتیں جھیل کر آپکو اپنے علاقے میں تحفظ دیا ہوا ہے۔ اور آپ ہمارے لئے کیا کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف فوج بلکہ حکومت کے بھی پو بارہ ہیں۔
سوسائٹی میں وہ جن لوگوں کو استعمال کر سکتے ہیں انہوں نے کیا، ایک طرف افغان ذرائع انکے قابو میں  دوسری طرف کراچی میں جو قوتیں انکے قابو میں ہیں ان سے بھی حتی الامکان کام لیا ہے۔ مذہبی جماعتیں جہاد کے نام پہ انکے قابو میں ایسے آتی ہیں جیسے تر نوالہ۔
مجھے تو انکی بات پہ شبہ ہی تھا یہ تو آئے دن کا معمول ہے کہ جب کچھ سمجھ نہیں آتا تو کہہ دیتے ہیں کہ اس میں ایجنسیز شامل ہیں۔  لیکن آج صبح جب میں نے کیانی صاحب کا یہ بیان ٹی وی پہ سنا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جہاد جاری رکھیں گے تو میں نے سوچا کہ جہاد اور جنگ میں معمولی سا فرق ہے وہ چاہتے تو اوبامہ کی طرح لفظ جنگ استعمال کر سکتے تھے۔ لیکن در حقیقت اس میں اتنا ہی فرق ہے جتنا خدا حافظ اور اللہ حافظ میں ہے۔ عوام کو کتنی آسانی سے سمجھ میں آیا کہ اللہ حافظ سے ہی اللہ ہمیں حفاظت دے گا۔ کیونکہ مسلمانوں کے خدا کا نام اللہ ہے۔ خدا تو ہر کس و ناکس کا ہو سکتا ہے۔ ہر کسی کا خدا خاص امت کا خدا کیسے ہو سکتا ہے۔ کیانی صاحب نے بڑا ناپ تول کر بولا۔
یہ پاک فوج ہے جس نے مذہبی شدت پسندی کا بیج بویا، اسکی آبیاری کی، اسے تناور بنایا، اسکے سائے میں بیٹھ کر اپنے لئے گلشن بنائے اور اب بھی اسکا کردار شفافیت سے محروم ہے۔ 
کیا واقعی؟ پاکستانی فوج  اب تک اس نشے کا شکار ہے کہ وہ بوتل کے جن کو جب چاہے گی اندر کر لے گی اور جب چاہے گی باہر کر لے گی۔ وہ جب چاہے گی مولوی صاحب کی خدمات حاصل کرے گی اور جب چاہے گی مولوی صاحب کو ایک طرف کر دے گی۔ کیا مولوی صاحب اتنے ہی بے وقوف ہیں؟

Thursday, September 13, 2012

انا للہ

ٹورنٹو میں، میں کچن میں انڈہ فرائ کر رہی تھی۔ فرائ پین  سے دھواں اٹھا ہی تھا کہ ایک الارم بجنے کی آواز سارے گھر میں پھیل گئ۔ میں نے حیران ہو کر سوچا کہ یہ کس قسم کا الارم بجا اور کیوں؟ گھر کے ایک فرد کی آواز سنائ دی کہ کچن کے  باہر لاءونج میں چھت پہ سینسر موجود ہے اسکے پاس بٹن پہ ہاتھ مار دیں۔ الارم بند ہوجائے گا۔ دھویں سے بجا ہے اور بار بار بجے گا۔
کنیڈا میں جنگل اور یوں  لکڑی بہت ہے۔ گھر زیادہ تر لکڑی کے بنے ہوتے ہیں۔ اگر سیمنٹ اور اینٹ سے بنائے جائیں تو بھی اندرونی آرائش میں لکڑی استعمال ہوتی ۰ہے اس طرح شدید سردیوں میں یہ گرم رہتے ہیں۔ لکڑی جلدی آگ پکڑتی ہے اس پہ طرہ یہ کہ بجلی وافر مقدار میں دستیاب ہونے کی وجہ سے چولہے زیادہ تر بجلی کے ہوتے ہیں۔ روائیتی چولہوں سے الگ یہاں موجود جدید چولہوں پہ شیشے کی طرح کے مادے کی ایک تہہ موجود ہوتی ہے۔ یہ چولہے دیکھنے میں اور استعمال میں سادہ ہوتے ہیں  ان سے تپش بھی آسانی سے کنٹرول ہوتی ہے، آگ کے شعلے بھی نہیں ہوتے اس لئے نسبتاً محفوظ ہیں۔  لیکن سب سے بڑا خطرہ اس وقت ہوتا ہے جب انہیں بند کرنا بھول جائیں۔ مسلسل جلتے رہنے کی صورت میں یہ آتشزدگی کا باعث بن سکتے ہیں اس لئے ہر گھر میں آگ کا الارم موجود ہوتا ہے۔
یہی نہیں، کثیر المنزلہ بلڈنگزمیں نہ صرف الارم موجود ہوتے ہیں بلکہ ہر تھوڑے عرصے بعد آگ لگنے کا مصنوعی ڈرامہ رچا کر مکینوں کو اپنے اپارٹمنٹس سے بھاگ کر کم وقت میں نیچے پہنچنے کی مشق بھی کرائ جاتی ہے۔ ابھی دو ہفتے پہلے میں اسکائپ پہ اپنی ایک کینیڈا میں مقیم دوست سے بات کر رہی تھی تو پھولی ہوئ سانسوں کے درمیان انہوں نے بتایا کہ وہ ابھی آگ لگنے کی مشق سے واپس آرہی ہیں۔ انکا اپارٹمنٹ گیارہویں منزل پہ ہے۔ جہاں سے انہیں سیڑھیوں کے راستے بھاگنا پڑا۔

ایسی بلڈنگز میں یہ الارم فائر بریگیڈ کے محکمے سے جڑے ہوتے ہیں۔ خطرے کی پہلی علامت کے چند منٹوں کے اندر یہ جائے واقعہ پہ موجود ہوتے ہیں۔ میرے ایک عزیز نے اپنے اپارٹمنٹ میں پوری پکانے کا واقعہ بتایا، جس کا دھواں اپارٹمنٹ سے نکل کر کوریڈور میں پھیل گیا تھا۔ گھر میں موجود کسی مہمان نے نادانستگی میں اپارٹمنٹ کا دروازہ کھول دیا تھا۔  چند منٹ میں فائر بریگیڈ کی دو گاڑیاں اور ایک ایمبولینس موجود تھی جبکہ پوری بلڈنگ کے لوگ باہر نکال دئیے گئے تھے۔
اصل واقعہ پتہ چلنے کے بعد انہیں ان تینوں گاڑیوں کے آنے جانے کا خرچہ دینا پڑا۔
یہ واقعات بتانے کا مقصد صرف یہی ہے کہ یہ کتنی تکلیف دہ بات ہے کہ کراچی میں ایک فیکٹری میں تین سو سے زائد لوگ، فیکٹری میں آگ سے جل کر مر جائیں۔ تین سو انسان جن سے جڑے تین سو خاندان بھی تھے۔ ابھی بھی مرنے والوں کی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ دماغ کو گھما دینے والے اس سانحے کے بعد مجھ جیسے لوگ جو بیرون ملک یہ سب دیکھ کر آتے ہیں انہیں کیا یہ احساس نہیں ہوتا کہ ہم کس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں انسان کو انسان نہیں سمجھا جاتا۔
 ذرا چشم تصور سے اس انسان کی بے بسی دیکھئیے جو کہ ایک ایسی کھڑکی کے سامنے تین منزل اوپر سے کود کر جان بچانے کی فکر میں ہو جسکے آگے لوہے کا ایک جنگلہ اسے زندگی سے دور کرنے کے لئے موجود ہو۔ اور دنیا میں کوئ ایسی طاقت، کوئ ایسا نظام موجود نہ ہو جو اسے کھڑکی سے نظر آنے والی،  سامنے موجود کھلی فضا میں لے جا سکے۔
سچ پوچھیں تو مجھ سے اس پہ انا للہ و انا الیہ راجعون بھی نہیں پڑھا جاتا۔ کیا میں خدا کے پاس اس طرح واپس جانا چاہتی ہوں، ایسی بے کسی ، بے بسی اور تکلیف کی موت۔
ہم اس شہر کے مکین، ایک ہی محلے سے سترہ جنازے اٹھنے کے بعد، اپنی ہر قسم کی مصروفیت میں بھی مسلسل  یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا ہم کسی ایسے واقعے کے دوبارہ پیش آنے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
جواب یہ ہے کہ محفوظ رہ سکتے ہیں اگر ہم یہ جان لیں کہ یہ واقعہ کیوں پیش آیا اور ان وجوہات کے تدارک کے لئے کام کریں۔
یہ واقعہ کیوں پیش آیا؟
اسکی مختلف ممکنہ وجوہات بتائ جارہی ہیں۔
نمبر ایک، بجلی فراہم کرنے والے جنریٹر میں خرابی کی وجہ سے آگ لگی۔  بجلی کی شدید کمی اب ہمارے لئے کوئ راز کی بات نہیں۔  عوام نے اس کا حل جنریٹرز میں ڈھونڈھا ہے۔ اس سے جہاں ایک طرف جنریٹرز در آمد کرنے کے ایک نئے کاروبار کو وسعت ملی اور اس سلسلے میں ایک نئ مارکیٹ وجود میں آئ وہاں حکومت بھی کسی دباءو سے آزاد ہو گئ۔ جب لوگوں نے اپنی پریشانیوں کے حل نکال ہی لئے ہیں تو حکومت کو کیا ضرورت کے وہ بجلی پیدا کرنے کے نئے منصوبے بنا کر بجلی پیدا کرنے والے ان جنریٹرز کی در آمد کرنے والے لوگوں کے پیٹ پہ لات مارے۔ انکے روزگار کو بند کرنے کے امکان پیدا کرے۔ حکومت اس سلسلے میں خاصی عوام دوست واقع ہوئ ہے۔
کراچی میں ایسی درجنوں مارکیٹس ہیں جہاں بجلی کی عدم موجودگی میں دوکانوں میں موجود جنریٹرز کام کرتے ہیں ، یہ عمارتیں ایک دم بند ہیں اور کسی بھی حادثے کی صورت میں یہاں حد سے زیادہ جانی و مالی نقصان ہو سکتا ہے۔ مثلاً گل پلازہ، صدر یا رابی سینٹر، طارق روڈ۔ ایک عام دن میں، بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے وقت جب یہ جنریٹرز چلنا شروع ہوتے ہیں تو ان مارکیٹس کے اندر سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے۔
دوسری اہم وجہ یہ بتائ جاتی ہے کہ تنخواہ بانٹنے کا دن تھا اور سیکوریٹی کی وجہ سے تمام داخلی دروازے بند کر دئے گئے تھے اسکے علاوہ، سیکیوریٹی کی ہی وجہ سے کھڑکیوں پہ لوہے کے جنگلے موجود تھے۔
جانی و مالی سیکیوریٹی اس وقت ہمارے ملک کے سر فہرست مسائل میں سے ایک ہے۔ اسکی وجہ سے غیر ملکی تو دور ملکی سرمایہ کار کاروبار کرتے ہوئے ڈرتا ہے۔ اور اسکی وجہ سیاسی اور معاشی دونوں ہیں۔ سیاسی سطح پہ لوٹ مار کرنے والے مجرمان کو نہ پکڑا جاتا ہے اور نہ انہیں سزا ہوتی ہے۔ یہ مجرمان جو ہر سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ معاشی سطح پہ ایسے ذرائع موجود نہیں جو لوگوں کو روزگار دیں نتیجتاً وہ لوٹ مار کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اسکی وجہ معاشرتی بھی ہے۔ ایک ایسے نظام میں جہاں لوٹ مار ہر سطح پہ موجود ہو اور لوگ اخلاقی اصولوں کی پامالی کرے ذرا نہ گھبراتے ہوں۔ وہاں اندھیر نگری ہی جنم میں آتی ہے۔ یہ سب عوامل لوگوں میں انکے سرمائے کے لئے عدم تحفظ پیدا کرتے ہیں۔ چونکہ نظام انہیں تحفظ دینے میں ناکام رہا ہے اس لئے وہ اپنے تئیں اسی طرح کے حل نکالتے ہیں۔ یہ فیکٹری ہی کیا خود میرے گھر کی ہر کھڑکی پہ لوہے کا جنگلہ موجود ہے۔ 
یہاں مجھے ایک دفعہ پھر کینیڈا یاد آتا ہے جہاں گھروں کی کھڑکیوں پہ کسی بھی قسم کے جنگلے کا تصور نہیں۔ یہی نہیں بلکہ گھر کے باہر چہار دیواری کا تصور کوئ خاص نہیں۔ انہیں فکر نہیں کہ لوگ باہر سے انکا گھر اور گھر والی دیکھ لیں گے۔ اگر کوئ سڑک  دیکھے تو اندازہ تک نہ ہو کہ کون سا گھر کہاں ختم ہو رہا ہے۔ گھر کے اطراف میں جو کھلے صحن ، گیراج یا ڈرائیو وے موجود ہیں اس میں بچوں کے کھلونوں سے لے کر گاڑیاں تک سبھی چیزیں پھیلی رہتی ہیں لیکن کوئ چیزوں کو ہاتھ تک نہیں لگاتا۔ لوگ  صرف وہی چیزیں اٹھا سکتے ہیں جو گھر کے باہر فٹ پاتھ پہ موجود ہوں۔
تیسری اہم وجہ اس قسم کی فیکٹریز کا فائر بریگیڈ سے کوئ ڈائریکٹ تعلق نہ ہونا ہے۔
چوتھی اہم وجہ فیکٹریز میں آگ بجھانے کے آلات کا نہ ہونا اور مزدروں کو اس بات کی تربیت نہ ہونا ہے کہ ان آلات کو بوقت ضرورت کیسے استعمال کیا جائے۔ اور نہ ہی انکی اس بات کی تربیت ہونا کہ ایمرجینسی کی صورت میں وہ کس طرح کم سے کم وقت میں فیکٹری کو خالی کر سکتے ہیں۔
لوگ کہتے ہیں کہ فیکٹری مالکان مزدوروں کے تحفظ کی فکر نہیں کرتے اور اس پہ اپنا سرمایہ خرچ نہیں کرنا چاہتے۔ اخباری اطلاع یہ بھی ہے کہ مشرف دور کے بعد سے سندھ میں ملز کی اس طرح کی انسپکشن نہیں ہوئیں جن میں مل کے مزدوروں کو دئے گئے ماحول پہ رپورٹ بنتی اور اسکے لئے وزیر اعلی قائم علی شاہ نے انکار کر دیا تھا۔
 اس نکتے سے اس واقعے کو دیکھئیے۔ اس فیکٹری سے زیادہ تر مصنوعات باہر کے ممالک جاتی تھیں۔ یہ خاصی بڑی فیکٹری تھی۔ آتشزدگی کے نتیجے میں یہ فیکٹری مکمل طور پہ تباہ ہو چکی ہے۔ اس میں موجود تمام مال ختم ہو چکا ہے۔ خود مل مالکان پہ چونکہ لاپرواہی کا مقدمہ دائر ہے اس لئے وہ اپنی جان بچانے کو فرار ہیں۔  اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر محنت کش کو یا مزدور کو تحفظ نہیں دیں گے تو سرمایہ اور سرمایہ کار دونوں ہی داءو پہ لگے رہیں گے۔ پھر مل مالکان، وقتی فائدے کے لئے دور کی کیوں نہیں سوچتے؟ اگر وہ یہ سوچتے کہ وزیر اعلی جائے بھاڑ میں ہم اپنی فیکٹری میں یہ انتظام رکھیں گے کہ مزدوروں کو پتہ ہو کہ آگ لگنے کی صورت میں انہیں آگ کیسے بجھانا ہے۔ ایمرجینسی میں نکلنے کے راستے کون سے ہونے چاہئیں۔ فیکٹری میں مختلف سامان کی اسٹوریج کیسی ہونی چاہئیے کہ کسی حادثے کے پیش آنے کی صورت میں کم سے کم نقصان ہو۔ تو یہ فیکٹری آج بھی چل رہی ہوتی۔
کیا اسکی وجہ یہ ہے کہ عام طور پہ لوگ کسی حادثے کے لئے نہ ذہنی طور پہ تیار نہیں ہوتے اور نہ ہی اسکے لئے کوئ متوقع لائحہ ء عمل سوچ کر رکھتے ہیں بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ بس ہر چیز اللہ کے کرم سے درست رہے گی۔ اس حادثے کی ایک اور وجہ کاروباری طرز فکر کی غیر موجودگی بھی نکلتی ہے۔ وہ طرز فکر جو یہ سمجھ دے کہ محض مال اور سیٹھ کا رشتہ ہی اہم نہیں بلکہ اس میں وہ لوگ بھی اہمیت رکھتے ہیں جو مال اور سیٹھ کے درمیان تعلق قائم رکھتے ہیں۔ انہیں تحفظ دئیے بغیر کیسے کوئ اپنی جان اور اپنے مال کا تحفظ کر سکتا ہے۔
اس طرح،  اس واقعے کے پیش آنے کی کوئ ایک وجہ نہیں ہے۔ اس میں پورا نظام شامل ہے کیونکہ پورا نظام منفی طرز فکر پہ چل رہا ہے۔ اس لئے جب کوئ حادثہ ہوتا ہے تو اتنا ہی اندوہناک ہوتا ہے کہ ذہن اسے تسلیم کرنے میں بھی وقت لیتا ہے۔ نہیں معلوم کہ فکر کی اس نہج کو تبدیل ہونے کے لئے کتنی جانوں کی قربانی دینی ہوگی۔ بے شک ہمیں پلٹ کر اللہ ہی کی طرف جانا ہے۔ لیکن قتل کا سامان کرنے والوں کو جہنم رسید کرنے کے بعد یا خود جہنم کا ایندھن بننے کے بعد۔

Monday, July 23, 2012

ہے کون سا فرق ایسا؟

سحری، افطار، پھر عید کی تیاریاں اور ساتھ ہی ثواب کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہی رمضان کی کشش بڑھانے کو کم نہ تھا کہ اس دفعہ وینا ملک نے اپنے استغفار کا بھی اعلان کر دیا اور وہ بھی عین رمضان میں۔ ہم تو سمجھے، شاید اس لئے کہ رمضان میں ہر نیک عمل کا ثواب زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن لوگوں نے اس استغفار کے خلاف مہم چلا دی اور اب سنتے ہیں کہ یہ استغفار عوام تک نہیں پہنچ پائے گا۔ عوام تک کیا اب خدا تک بھی اسکا پہنچنا مشکل ہےیہ رمضان پیکیج تھا اب اگلے سال تک دیکھتے ہیں  کیا یہ استغفار ہو پائے گا۔ سوری وینا، ٹرائ نیکسٹ ٹائم۔
لوگ کہتے ہیں کہ شیطان کو رمضان میں بند کر دیا جاتا ہے۔ لیکن عامر لیاقت حسین کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ انہیں لوگ رمضان میں اتنا زیادہ اس لئے پسند کرتے ہیں کہ وہ شیطان کو بہت مِس کرتے ہیں۔ البتہ انکی دعا کرانے پہ لوگوں پہ گریہ کیسے طاری ہوجاتا ہے یہ معمہ حل طلب ہے۔
http://www.youtube.com/watch?v=iiyG1pSlzpo&feature=related
 مجھے عامر لیاقت سے نجانے کیوں عجیب سی مخاصمت ہے حالانکہ ان کے فتوے، فتوے کم اور لطائف زیادہ لگتے تھے۔ ایک دفعہ مجھے یاد ہے ان سے کسی نے پوچھا کہ کیا شیعوں کی سنیوں سے شادی ہو سکتی ہے۔ کہنے لگے کیوں نہیں، سین سے سنی، شین سے شیعہ اور شین سے شادی۔ کیا مسئلہ ہے بھئ۔ ان سے پہلے حروف تہجی کو فتوی کے لئے کسی نے استعمال نہیں کیا۔ لیکن اتنا پروگریسو ہونے کے باوجود جب کوئ انہیں برا کہتا ہے تو مجھے یک گونہ تسلی رہتی ہے۔
وینا کے پروگرام پہ احتجاج اور عامر لیاقت کو خوش آمدید پہ جب میں سوال کرتی ہوں تو ایک جواب آتا ہے کہ اسکی وجہ وینا کی عریاں تصاویر ہیں۔ بس یونہی خیال آیا کہ جسم کی عریانیت اور زبان کی عریانیت میں سے کون گھٹیا درجے پہ ہے؟
اس لئے شیطان کا بطور خاص اس مہینے میں بند ہوجانا میرے لئے کم از کم بڑا سوالیہ نشان رکھتا ہے۔ ہم جو کچھ اس مہینے مشاہدہ کرتے ہیں کیا وہ اس روایت پہ پورا اترتا دکھائ دیتا ہے۔ کون سا شیطان بند ہوتا ہے۔ وہ جس نے خدا کے حکم پہ آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا جسکا نام عزازیل ہے یا وہ جو ہر انسان کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور خدا کی طرح ہر لمحے اسکے ساتھ رہتا ہے اور صورت حال اس طرح رہتی ہے، اک طرف اسکا گھر اک طرف میکدہ۔ اک طرف محتسب اور اک طرف رند۔ 
خیر، ابھی کل ہی میں طارق روڈ پہ گاڑی پارک کرنے کی جگہ تلاش کر رہی تھی ایک جگہ ملی اسکے پاس چند سیکنڈ کو کھڑا کر کے سوچا کہ یہاں ذرا سناٹا سا ہے اس لئے مناسب نہیں لگ رہا۔ اتنے میں ایک بڑے میاں نازل ہو گئے کہ یہیں گاڑی پارک کرو۔ آگے کہیں  کروگی تو آجکل تو لوگ گاڑی کے شیشے بھی کاٹ لیتے ہیں۔ میں نے یہ سن کر گاڑی موڑی، بڑے میاں کو ناراض چھوڑا اور شاہراہ عام پہ آگئ۔ دور سہی، لیکن شیشہ کٹنے کا امکان کم ہے۔
ڈکیتیوں اور سر راہ لوٹ لینے کے واقعات میں چشم زدن میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ نیا ٹرینڈ یہ ہے کہ لوگ جو شاپنگ کر کے لوٹتے ہیں وہ بھی کوئ لوٹ لیتا ہے۔ چونکہ شیطان بند ہے اس لئے کم از کم اس مہینے تو یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ یہ سب ہمارے بھائ بندوں میں سے کوئ کرتا ہے وہ بھی مسلمان۔  لیکن ان دونوں میں ہے کون سا فرق ایسا؟
یوں اس مہینے پرچون فروشوں، قصائیوں ، درزیوں، بوتیکس اور کپڑے کی دوکان والوں میں مقابلہ کرایا جائے تو ڈاکو اور چور اچکے سب سے زیادہ مصروف نظر آتے ہیں۔ یہ نہیں معلوم کہ ان میں سے شیطان کی دی ہوئ ذمہ داری کون اچھی طرح نبھاتا ہے۔
کیا واقعی شیطان بند ہوتا ہے؟ شاید نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ گوشت کی قیمت میں پہلی رمضان کو نہیں تو دوسرے دن ضرور اضافہ ہوجائے گا۔  قیمت کے اس اضافے سے دودھ اور پھل بھی متائثر ہونگے۔  یہ پیکیج شاید شیطان رمضان کی چھٹیوں سے پہلے طے کر جاتا ہے۔ شیطان، رمضان کی تیاریاں شب براءت میں شروع کرتا ہے جب ہم رات کو جاگ کر اپنے گناہ بخشوا رہے ہوتے ہیں وہ ہمارے نئے گناہوں کا نصاب تیار کر لیتا ہے۔
کیا واقعی شیطان بند ہوتا ہے؟ شاید ہاں۔ کیونکہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی نصیحتوں اور تبلیغ کا ایک ریلہ داخل ہوچکا ہے۔ ہر ایک اس میں بھی مصروف ہے۔ اسکا بھی بڑا ثواب ہے اور اسکا ثواب الگ جو وہ بتلا رہے ہیں۔  فیس بک وغیرہ کی آمد سے ثواب حاصل کرنا اب پہلے سے کہیں آسان ہے صرف ایک کلک پہ ثواب کا سلسلہ جاری۔ کیا لفظ کلک قرآن میں آیا ہے؟ کیا انٹر نیٹ کی پیشن گوئ اس میں موجود ہے؟ یہ سب جانے بغیر لوگ دھڑا دھر ثواب کی کلِکس کئے جا رہے ہیں۔ یہ دوڑ عین اس وقت متائثر ہوتی ہے جب شیئر کرنے کا لنک ہم جیسے شیطانوں کے پاس پہنچتا ہے۔
ان تمام نصیحتوں سے الگ جو مذہبی کتابوں کا خلاصہ نکال کر تیار کی جاتی ہیں۔ کل کی ایک نصیحت یاد آرہی ہے۔ ایک خاتون نے نصیحت کی کہ ڈاکٹر اسرار احمد نے کہا کہ زندگی کو آسان کرو اگر ہر وقت مصروف رہوگے تو خدا کی عبادت کیسے کروگے۔ اگر دن میں اپنی ساری توانائ دنیا کمانے میں لگا دوگے تو رات کو تہجد کیسے پڑھوگے؟  آسان زندگی کے اس فلسفے پہ ایک بزرگ خاتون نے خاصہ احتجاج کیا۔ میں نے کہا ہمارے کراچی میں تو لوگ کاروبار شروع ہی آدھے دن کے بعد کرتے ہیں۔ یہ شاید ڈاکٹر صاحب کی نصیحت کا کمال ہے۔ توانائ دن میں نہیں رات میں خرچ ہونی چاہئیے۔
ادھر رمضان کے لئے وظائف کا چارٹ بھی تیار ہے۔ اگر انسان ان سب پہ عمل کر لے تو سال بھر کے لئے گناہوں کی آزادی صاف نظر آتی ہے۔ مثلاً تین دفعہ قل شریف پڑھ لیں ایک قرآن کا ثواب، میرے جیسے دماغ میں تو آتا ہے کہ بس سارا دن قل شریف ہی پڑھتے رہنا چاہئیے ایکدن میں کتنے ہی قرآنوں کا ثواب ملے گا جبکہ اصل کو ایک دن میں پڑھکر ختم کرنا ہی ناممکن ہوتا، ادھر رمضان میں ایک قرآن ختم کر لیں سال بھر کی تلاوت کا ثواب۔
 چونکہ رمضان میں ثواب کئ گنا بڑھ جاتا ہے اس لئے لوگ عام زندگی کی چھوٹی موٹی نیکیاں بھی رمضان کے لئے چھوڑے رکھتے ہیں۔ مثلاً زکوۃ بچا کر رکھتے ہیں کہ اس مہینے دینے کا ثواب ہے۔ ایک صاحب نے رستے میں ایک پتھر دیکھا اٹھا کر ایک طرف کرنے کا سوچا تھا ہی کے خیال آیا کہ ابھی مغرب کے بعد رمضان کے چاند کا اعلان ہو جائے تو ہٹائیں گے۔ ثواب زیادہ ہوگا۔
کیا شیطان واقعی بند ہوتا ہے؟ تو یہ اوٹ پٹانگ تحاریر کون لکھتا ہے؟ 
رمضان میں ایسی اوٹ پٹانگ تحاریر پڑھنے کا کوئ ثواب نہیں۔ اس لئے آپ جلدی سے اپنی تسبیح پکڑئیے اور یہ بتائیے وہ کون سا اسم یا وظیفہ ہے جسکے پڑھنے سے انسان انٹر نیٹ سے دور رہتا ہے؟ جب تک میں ایک سادہ سا حساب کر لوں وینا ملک اور عامر لیاقت میں ہے کون سا فرق ایسا؟

Friday, May 11, 2012

جامعہ کراچی کے گدھ

بچے اگر ماں باپ کا نام روشن کریں تو یہ والدین کے لئے قابل فخر بات ہوتی ہے لیکن اگر والدین بھی کوئ قابل فخر کارنامہ انجام دیں تو کیا اولاد کا سر بھی فخر سے بلند نہیں ہو جاتا ہے؟
  یہی تعلق ان جگہوں سے ہوتا ہے جہاں سے ہم تعلیم حاصل کرتے ہیں جہاں سے ہم اپنے ہونے کا مطلب سمجھتے ہیں۔ بقول سکندر اعظم، میرا جسمانی باپ مجھے اس دنیا میں لایا اور استاد یعنی میرا روحانی باپ مجھے واپس آسمانوں پہ لے گیا۔ ہماری مادر علمی اگر ترقی کے زینوں پہ نظر آئے تو ہم بھی فخریہ کہتے  ہیں کہ یہ ہے وہ ادارہ جہاں سے ہم نے تعلیم حاصل کی۔ 

اورمیرا نہیں نجانے کتنے افراد کا یہ احساس اس وقت چکنا چور ہوا جب جامعہ کراچی ایچ ای سی کی ملک کی دس بہترین تعلیمی اداروں کی فہرست میں جگہ نہ پا سکی۔
ایک بار پھروہی سوال کیا وہ اسکی حقدار ہے؟
کسی بھی تعلیمی ادارے میں تدریسی عمل ریڑھ کی ہڈی کی حیثیئت رکھتا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹی کے تدریسی عملے میں زیادہ تر تعداد ان اساتذہ کی ہے جو نہ صرف پی ایچ ڈی  نہیں ہیں بلکہ جنہیں مستقل ہونے کا اعزاز بھی حاصل نہیں۔ یہ کو آپریٹو ٹیچرز کہلاتے ہیں۔  ایک مستقل استاد کی نسبت انہیں برائے نام  تنخواہ ملتی ہے اور کسی قسم کے  دوسرے فوائد حاصل نہیں ہوتے، مثلاً سالانہ چھٹیاں۔ انہیں جس وقت چاہے نکال کر باہر کیا جا سکتا ہے۔
ان کو آپریٹو اساتذہ کا انتخاب کیسے عمل میں لایا جاتا ہے؟
ضرورت مند ڈپارٹمنٹ کے نوٹس بورڈ پہ ایک نوٹس لگا دیا جاتا ہے۔ ظاہرسی بات ہے کہ اسے وہی جان پاتے ہیں جو روزانہ اس ڈپارٹمنٹ سے گذرتے ہیں۔ ڈپارٹمنٹ سے تعلق نہ رکھنے والے اس سے آگاہ نہیں ہو پاتے۔ اس طرح اسکی اطلاع بہت محدود لوگوں کو ہوتی ہے اور ان کی بڑی تعداد وہ ہوتے ہیں جو اس وقت ڈپارٹمنٹ میں موجود ہوتے ہیں۔
انتخاب ، ڈپارٹمنٹ کا چیئر مین سینیئر اساتذہ کے مشورے سے کرتا ہے۔ اس طرح کو آپریٹو ٹیچرز کا انتخاب سینیئر اساتذہ کی پسند نا پسند پہ ہوتا ہے۔ کیونکہ بہر حال ان ٹیچرز کو سینیئر اساتذہ کے ماتحت کام کرنا ہوتا ہے۔ اکثر اوقات یہ سینیئر اساتذہ کے زیر نگرانی نام نہاد ایم فل یا پی ایچ ڈی کے طالب علم ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی میں ڈپارٹمنٹس میں کی جانے والی  پی ایچ ڈی کی کوالٹی پہ پھر کبھی بات ہوگی۔
  انکی صورت میں سینیئر اساتذہ کو ایک غلام مل جاتا ہے جو اپنی نوکری پکی کروانے کے چکر میں انکے ہر اشارے پہ ناچتا رہتا ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ بد ترین بات یہ ہوتی ہے کہ ان  کو آپریٹو  ٹیچرز کی تعلیمی استطاعت عموماً ماسٹرز ہوتی ہے۔
اگرڈپارٹمنٹ سے باہر کا کوئ پی ایچ ڈی کو آپریٹو ٹیچر کے طور پہ کام کرنے کے لئے آ بھی جائے تو سینیئر اساتذہ اپنی سازشی ذہانت کے وہ کرشمے دکھاتے ہیں کہ وہ بھاگ لینے میں ہی عافیت جانے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ اس وقت جامعہ میں سینیئر اساتذہ کی زیادہ تر کھیپ اوسط سے نیچے کی صلاحیتوں پہ مبنی اشخاص کی ہے جو ذرا بھی با صلاحیت شخص سے ڈر جاتے ہیں۔
تو ان بےچارے کوآپریٹو اساتذہ یا طالب علموں کو سینیئرٹیچر کے آگے دم مارنے کی بھی مجال نہیں ہوتی کیونکہ اوّل انکی تعلیمی استطاعت ہی نہیں ہوتی  دوئم یہ کہ باہر کی دنیا کا کچھ تجربہ بھی نہیں ہوتا سوئم یہ کہ اپنے استاد کے آگے کوئ کیسے  دم مار سکتا ہے لازماً اسے انکے کرپشن میں شامل ہونا پڑتا ہے۔
سمسٹر کے شروع میں ہر سینیئرٹیچر اپنی مرضی کا کورس لیتا ہے اور اپنی مرضی کا کو آپریٹو ٹیچر تاکہ اس کارسوخ مضبوط رہے۔  اور وہ ایک ہی رٹے ہوئے کورس کو سالوں پڑھاتا رہے، اپنی کاہلی اور کم علمی کی وجہ سے زیادہ محنت نہ کرے۔  یہ سینیئر اساتذہ جس سیاسی پارٹی کی لابنگ کرتے ہیں کو آپریٹو ٹیچر کو بھی اسکی کرنی پڑتی ہے۔ اوریہی چیز سیاسی پارٹیوں کی مضبوطی کا باعث بھی بنتی ہے۔ اگر نہ کریں تو ہر برے نتائج کا الزام اس پہ جائے۔  اس لئے اس امر پہ حیرت نہیں ہونی چاہئیے کہ اتنی بڑی یونیورسٹی میں کو آپریٹو ٹیچرز ، مستقل اساتذہ سے تعداد میں زیادہ رہتے ہیں۔
انہی کو آپریٹو ٹیچرز کی وجہ سے سلیکشن بورڈ میں تاخیر ہوئ چلی جاتی ہے۔ کیونکہ اس طرح کو آپریٹو ٹیچر کا مدت تجربہ بڑھتا رہتا ہے اور سینیئر اساتذہ چالاک عقابوں کی طرح اس پہ نظر رکھے رہتے ہیں کہ انکے امیدوار کو لانے کے لئے کون سا موقع مناسب ہے اس وقت سلیکشن بورڈ بٹھایا یا یہ کہ اس دوران انکا امیدوار ہر جائز نا جائز طریقے سے ایم فل یا پی ایچ ڈی کر لے تاکہ اس کا سی وی بہتر ہو جائے۔ 
ادھر کو آپریٹو ٹیچر بھی امید کے سہارے دن گذارے جاتا ہے۔ حالانکہ یونیورسٹی کے قواعد کی رو سے جیسے ہی کسی ٹیچر کی جگہ خالی ہو اس کے لئے سیلیکشن بورڈ ہونا چاہئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دس  دس سال تک ایک کو آپریٹو ٹیچر کام کئے جاتا ہے۔
پانچ ، چھ سال تک سلیکشن بورڈ کا نہ بیٹھنا ایک معمول کی کارروائ ہے۔ اس سال جو سلیکشن بورڈ بیٹھا وہ چھ سال کے بعد بیٹھا تھا۔  دلچسپ امر یہ ہے کہ زیادہ تر کو آپریٹو ٹیچرز فیل ہو گئے۔ یہ فیل ہونے والے کو آپریٹو ٹیچرز گذشتہ چھ سال سے پڑھا رہے تھے اور ہم امید کر رہے تھے کہ جامعہ کراچی پاکستان کے دس بہترین تعلیمی اداوں میں آئے گی۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ فیل ہوجانے والے یہ امیدوار پھر بھی کو آپریٹو ٹیچر کے طور پہ اپنا کیریئر جاری رکھتے ہیں۔ 
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے، تاریکی  کی وجہ ، وہ اجتماعی شعور  ہے جو تمام خود غرض اور مفاد پرست لوگوں کے اتحاد کا نتیجہ ہے اور نظام پہ حاوی ہے۔  

Wednesday, May 2, 2012

سڑک سے سڑک تک

پرانے زمانے میں کہاوت تھی کہ ایک مرد کی قوت کمائ اسکے گھر کے عورتوں کے سونے کے زیورات سے پتہ چلتی ہے۔ شاید خواتین نے مشہور کر رکھی ہو تاکہ ان کے مرد انہیں خوب سونے کے زیورات بنا کر دیں لیکن کسی ملک کی خوشحالی کی داستان اسکی سڑکیں سب سے پہلے سناتی ہیں۔
میں نے جب بارہ دن پہلے استنبول کی سڑک پہ پاءوں رکھا تو دور تک سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پہ ٹیولپس کے رنگ برنگے پھول لہرا رہے تھے۔ اس منظر نے مجھے مسحور کر دیا تھا۔ میرے شہر میں تو پتہ ہی نہیں چلتا کہ اب کس پھول کا موسم ہے۔ اس شہر کے باسیوں کی خوش قسمتی پہ رشک آیا۔  پھولوں کا سنگھار ہی کافی نہیں۔ سڑکیں صاف ستھری ہیں۔ کم از کم ترکوں کو یہ پتہ ہے کہ کچرا کیا ہوتا ہے اور اسے کہاں ہونا چاہئیے۔ 
جب گاڑی نے پہئیے گھمائے تو میں نے دیکھا کہ روڈ پہ جتنی گاڑیاں ہیں شاید ہی ان میں کوئ خستہ حال گاڑی ہو۔ رکشے جیسی سستی سواری، یہاں لوگ نہیں جانتے کیا ہوتی ہے۔ کسی کو چنگ چی رکشہ چائینا سے منگا کر اپنا کاروبار جمانے کا خیال نہیں آیا۔ بسیں یہاں بھی چلتی ہیں لیکن بسوں کی چھتوں پہ لوگ ندارد۔ منی بسوں کا وجود نہیں، جتنی بسیں ہیں سب بڑی، صاف اور چمکیلی۔
جو ٹرام میں نے دس سال پہلے دیکھی تھی وہ اب بھی چل رہی ہے اتنی ہی صاف۔ کہیں پان کے نشانات نہیں،  لوگ پان کے بجائے شراب کا نشہ کرتے ہیں۔ اس نشے میں کچھ تھوکنا نہیں ہوتا بلکہ نشے کو اور زیادہ خوب صورت کر دیا جاتا ہے۔
انطالیہ ائیر پورٹ سے ہمیں دو سو کلو میٹر کے فاصلے پہ ایک قصبے میں جانا تھا۔ ترکی کے ایک بڑے شہر سے لیکر اس چھوٹے سے قصبے تک ہمیں کوئ گدھا گاڑی، اونٹ گاڑی، رکشہ، چنگ چی رکشہ، منی بس حتی کہ ایف ایکس جیسی چھوٹی گاڑیاں بھی نظر نہ آئیں۔
استنبول میں چار دنوں کے دوران چار فقیر نظر آئے جبکہ انطالیہ میں ایک جگہ ایک فقیر دیکھا۔ وہاں بھی سگنل بند ہونے پہ خواتین اور لڑکے پھول بیچتے نظر آتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک پہ بھی مجھے شبہ نہیں ہوا کہ وہ سڑک کنارے کھڑے کار والوں سے جسم فروشی کے معاہدے کر رہا ہے۔ ایسا ہر گز نہیں کہ وہاں یہ کام نہیں ہوتا مگر اس طرح نہیں۔
انطالیہ سے دو سو کلو یٹر کے فاصلے  پہ موجود قصبہ، کاش ایک چھوٹا سا پہاڑی قصبہ ہے۔ یہاں نوجوانوں کے پاس موٹر سائکلز دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ خواتین بھی چلاتی ہیں۔  اس لئے کہ پہاڑی پر پیچ  راستوں پہ یہ خاصی مددگار رہتی ہیں بالخصوص جب کسی ایک شخص کو سفر کرنا ہو۔
ترکی کا گروتھ ریٹ پچھلے دس سالوں میں پانچ سے چھ فی صد رہا ہے اور مجھے کاغذ پہ لکھی اس تحریر پہ یقین ہے۔ دس سال پہلے نیلی مسجد، آیہ صفیاء، یا انکے درمیان موجود زیر زمین حوض کے لئے مجھے سڑک کنارے قطار نہیں لگانی پڑی تھی۔ لیکن اس دفعہ اتنی لمبی قطاریں موجود تھیں کہ آیہ صفیاء کے اندر داخل ہونے میں ہی ایک گھنٹہ لگ جاتا۔ پچھلے دس سالوں میں سیاحت میں ترکی خاصے آگے گیا ہے۔ اسکی وجہ ترکی کا سیاحوں کے لئے دوستانہ ماحول ہے۔  خاص طور پہ خواتین سیاحوں کے لئے محفوظ ماحول ہے جس کا میں اپنے ملک  کا باشندہ ہونے کے باوجود تصور نہیں کر سکتی۔
یہاں آتے جاتے ہوئے بعض اوقات مجھے انتہائ رش میں پھنسنا پڑ گیا مگر ارادتاً تو کیا کسی مرد کا غلطی سے بھی ہاتھ نہیں لگا۔ واپس آنے کےاگلے دن میں کراچی میں  سڑک کے کنارے لگے سبزی بازار میں شام کے وقت موجود تھی اور سوچ رہی تھی کہ سڑک پہ چلتے ہوئے اپنے آپکو سمیٹنا کیا صرف ایک خاتون کا فرض ہے۔
ترکی کی ایک اہم صنعت گاڑیوں کی تیاری ہے جس کی بیرون ملک خاصی مانگ  ہے آمدنی کے اہم ذرائع میں یہ بھی شامل ہے۔
جبکہ ہمارے یہاں کوشش یہ کی جارتی ہے کہ صنعت کے نام پہ جو کچھ موجود ہے وہ بند ہو جائے۔ کوئ سرمایہ کار غلطی سے بھی پاکستان کا رخ نہ کرے۔ آنے والی خواتین کو ہم پردے اور چہار دیواری کے سبق پڑھائیں۔ کیا سیاح، کیا سرمایہ کار، کوئ اس ملک کا رخ کرتے ہوئے بھی گھبرائے۔  ہم محض دوسرے ملکوں کی اشیاء کے سیلز مین بن کر رہ جائیں۔ چائینا کی چیزیں بیچیں ، وہاں سے جنریٹر اور یو پی ایس اور بیٹریاں لائیں کیونکہ حکومت بجلی کی پیداوار بڑھانے سے قاصر ہے، ہماری گارمنٹس  فیکٹریاں بنگلہ دیش روانہ ہو جائیں،  ہم  اپنی مقامی صنعتیں بند کریں اور انڈیا کی چیزیں فروخت کریں۔ ہم اپنا خام مال باہر بھیج دیں ، لیکن اپنے ملک کے کاریگر کو اپنی کاریگری دکھانے کا موقع نہ دیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا سرمایہ کار اب چین، بنگلہ دیش، انڈیا  اور ملائیشیاء کی طرف دیکھ رہا ہے۔
صنعتوں کے بند ہونے کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس طرح چیزوں کا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہونے کی وجہ انکا مہنگا ہونا ہی نہیں ہے بلکہ قوت خرید کا کم ہونا بھی ہے۔
ترکی  نے پچھلے سالوں میں سینٹرل ایشیاء کی ریاستوں سے تیل کے معاہدے بھی کئے ہیں جن سے اسے خاصہ معاشی استحکام حاصل ہوا ہے جبکہ ہمارا ایران کے ساتھ گیس کا معاہدہ بھی برسوں لٹکا رہا۔
استنبول سے روانہ ہوتے وقت میں نے اپنے ہم سفر سے پوچھا کہ کیا ترکی میں گھر خریدنے کی اجازت ہے۔ جواب ملا ہاں بالکل خرید سکتی ہیں۔ کیا آپ لینا چاہتی ہیں؟ ہاں، سرمایہ ہو تو، میں نے ہنستے ہوئے کہا۔ اور یہ چیز عنقا ہے ہمارے پاس۔ ترکی نے مجھے اپنا سرمایہ لگانے کو تیار کر لیا۔ 
میں بارہ دن کے بعد واپس استنبول ائیر پورٹ میں جہاز میں بیٹھی ٹیک آف کا انتظار کر رہی تھی کہ میں نے دیکھا ہمارے آگے ایک کے بعد ایک چھ جہاز رن وے پہ داخل ہوئے اور اڑ گئے۔ چھٹے نمبر پہ جب ہمارا جہاز اڑنے والی جگہ پہ پہنچا تو میں نے اپنے پیچھے آنے والے جہازوں پہ نظر کی جہاں تک نظر نے ساتھ دیا سات جہاز نظر آئے جو ہمارے پیچھے رینگ رہے تھے۔ اور انہیں ہمارے بعد باری باری فضا میں تتلیوں کی طرح اڑنا تھا۔ یعنی ہر تین منٹ بعد اس رن وے سے ایک جہاز اڑ رہا تھا۔ یہ ایک مصروف ائیر پورٹ ہے۔ جتنا مصروف ائیر پورٹ ہے اتنا  ہی زیادہ آمدنی کا باعث ہوگا۔ 
استنبول ائیر پورٹ پہ نجانے کتنے جہاز بھی موجود تھے جب ہم نے استنبول سے پرواز کی۔  نیچے نظر کی  تو شہر کی جگمگاہٹ دیکھ کر یہ بتا سکتی تھی کہ استنبول شہر کہاں تک پھیلا ہوا ہے۔ کتنے پل ہیں جو یوروپ والے حصے کو اس حصے سے ملاتے ہیں جو ایشیاء میں ہے۔
صبح پانچ بجے جب جہاز کراچی کی حدوں میں داخل ہوا تو میں اوپر سے دیکھ کر بتا سکتی تھی کہ اس وقت شہر کے کن حصوں میں لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ جہاز نے کراچی ائیر پورٹ پہ لینڈ کیا۔ یہاں چھ جہاز کھڑے نظر آئے۔ ائیر پورٹ پہ سناٹا چھایا ہوا تھا۔ صرف ہمارا جہاز حرکت میں تھا۔ اندر داخل ہوئے تو ایک بے رونق ، زرد فضا جس میں گرم جوشی یا حرکت نام کو نہیں۔
باہر نکلے تو زرد چہروں کے بچوں کا ہجوم ، اتنے ہی پیلے چہروں والی خواتین سروں  سے دوپٹہ سختی سے لپیٹے، آنے والے مسافروں میں اپنوں کو تلاش کر رہی تھی۔  میرے آگے سات سے نو سال کی عمر کی تین بچیاں برقعہ پہنے جا رہی تھیں۔ جن کے زرد چہروں کو نورانی کہہ کر انکے رشتے دار صدقے واری ہو رہے تھے۔ ہمارے پیچھے ایک خاندان عمرہ کر کے لوٹ رہا تھا۔  ائیر پورٹ کے احاطے میں جا بجا استعمال کی ہوئ اشیاء کے کارٹنز یا ریپرز ادھر ادھر پڑے ہوئے تھے۔ دو غیر ملکی گورے اپنے سامان کی ٹرالی کو دھکا دے کر اس ڈھلواں پہ چڑھانے کی سخت کوشش میں تھے جو کناروں سے ٹوٹی ہوئ تھی۔ سڑک کی وہی حالت تھی جو بحیثیت مجموعی ہمارے ملک کی ہے۔
سڑک پہ مجھے خیال آیا کہ ابھی دوپہر کو اس سڑک پہ سب سے زیادہ ہجوم موٹر سائکل والوں کا ہوگا۔ شہر میں ٹرانسپورٹ مافیا کی وجہ سے کئ دہائیوں سے کوئ بھی حکومت ٹرانسپورٹ کا کوئ متبادل نظام لانے میں ناکام رہی ہے۔ اس مافیا کے کرتا دھرتا ہماری اسمبلیوں کا حصہ بھی ہوتے ہیں اس لئے کوئ بھی حکومت اس معاملے کو زیر غور لانے میں بھی دلچسپی ظاہر نہیں کرتی۔  لوگوں نے چائینا سے درآمد کی ہوئ سستی موٹر سائیکل میں اپنی مشکل کا حل نکالا ہے۔ حکومت اس سے خوش معلوم ہوتی ہے کہ اس سے اسے جنرل سیلز ٹیکس کے علاوہ دیگر ٹیکسز بھی مل رہے ہونگے۔ 
روزانہ بڑھتی ہوئ تیل کی قیمتوں کی وجہ منی بسز کے کرائے اب عام انسان کی پہنچ سے دور ہو رہے ہیں اسکا حل لوگوں نے چنگ چی رکشے میں نکالا ہے۔ جس فاصلے کے لئے منی بس پندرہ روپے لیتی ہے اس سے زیادہ فاصلے کے لئے چنگ چی دس روپے لیتا ہے۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں ایک شخص کا روزانہ دو بسیں، ایک طرف کے فاصلے کے لئے بدلنا کوئ خاص بات نہیں۔  منی بس کے بجائے چنگ چی سہی۔ لیکن ٹرانسپورٹ کے ذرائع جتنے چھوٹے ہوتے جاتے ہیں ٹریفک اتنا زیادہ بے ہنگم ہوتا جاتا ہے۔
جو لوگ یہ بھی افورڈ نہیں کر سکتے وہ سائکل چلاتے ہیں۔ اسکے باوجود سڑک پہ کوئ خاتون سائیکل یا موٹر سائکل چلاتے نظر نہیں آئے گی۔ سڑک بتاتی ہے کہ خواتین اور مرد میں کتنا فرق ہے۔ 
غریب آدمی سامان ڈھونے کے لئے گدھا گاڑی استعمال کرتا ہے۔ یوں جب سگنل بند ہوتا ہے تو ہمارے ملک کی جی ڈی پی کی شرح دیکھنے کے لئے وزیر اقتصادیات کا بیان پڑھنا ضروری نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ تعداد لش پش کرتی فور وہیل گاڑیوں کی  یا حکومت کی سرپرستی میں چلنے والی صاف ستھری بڑی گاڑیوں کی نہیں بلکہ دو پہیوں کی سواری ہوتی ہے۔ اس لئے جب  وہ یہ  فرماتے ہیں کہ اس سال پاکستان کا گروتھ ریٹ چار فیصد رہا اور اگلے سال چھ فی صد ہونے کی امید ہے تو انکے اس بیان پہ نظر ڈالنے کا بھی دل نہیں چاہتا۔ نجانے وہ کس پاکستان کی گروتھ ریٹ کی بات کرتے ہیں۔ اگر ہمارے پاکستان کی تو جھوٹے کا منہ کالا۔
تو جناب، سڑک، کسی بھی ملک کی سڑک اسکی خوشحالی کی داستان سناتی ہے۔اسکے سیاستدانوں کے جھوٹ سچ بتاتی ہے، اسکے لوگوں کی ترجیحات بتاتی ہے، اسکے لوگوں کا اخلاق بتاتی ہے۔ سڑک کسی ملک  کا، کسی شہر کا آئینہ ہوتی ہے۔ یقین نہیں آتا تو کچھ دیر کو اپنے شہر کی سڑک کے کنارے کھڑے ہوجائیں۔

Wednesday, April 25, 2012

پاکستان سے ترکی

زیر زمین حوض کی راہداریوں میں گھومتے ہوئے گائڈ نے بتایا کہ اگر اس پانی میں پتھر پھینکیں تو دوبارہ استنبول ضرور آتے ہیں۔ مارکیٹنگ اسٹریٹجی، میں نے سوچا اور گائڈ کا دل رکھنے کو ایک سکہ پانی میں اچھال دیا۔ وہ ان سکوں میں جا کر مل گیا جو صاف پانی کی تہہ میں چمک رہے تھے۔  یہ سب سکے جمع ہو کر منافع میں جاتے ہونگے۔ میں نے دل میں پکے بنئیے کی طرح حساب لگایا۔
کون ایسا ہوگا جو دوبارہ استنبول نہ آنا چاہے۔ اگر کسی کو یہاں ہر گلی میں سینکروں سال پرانی تاریخی عمارت سے دلچسپی نہ ہو تو یہاں کے کھانے اسے کھینچ لائیں گے۔ اور کچھ نہیں توباسفورس کا وہ پل کھینچ لائے گا جو ایشیا کو یوروپ سے ملاتا ہے۔ یہاں آکر پتہ چلے گا کہ جب یوروپ کا حسن ایشیاء کے حسن سے ملتا ہے تو کیا دلکش نقش ابھرتے ہیں۔ استنبول میں شاید دنیا کے خوبصورت ترین لوگ بستے ہیں۔ اتنے خوبصورت چہرے میں نے مغرب میں نہیں دیکھے۔
  اسکے بعد دنیا کے مختلف حصوں میں گئے اور یہ دیکھا کہ پانی کو سکے دینے کا رواج ہر جگہ ہی ہے۔ کسی زمانے میں جب پانی دیوتا تھا تو اسے راضی رکھنے کے لئے ایک نوجوان لڑکی دینا بھی ایک رواج ہوا کرتا تھا۔ ہر دیوتا کو عورتیں بڑی پسند ہوتی ہیں قربانی کے لئے۔  تمدن میں ترقی کے ساتھ  ساتھ ہر دو کی حیثیئت میں فرق آیا ۔ جدید انسان صرف سکے عطا کرتا ہے وہ بھی اپنی خوشی کے واسطے۔
ٹورنٹو جیسے جدید شہر کے جدید شاپنگ مال میں نصب فوارے کے اردگرد جمع ہو جانے والے پانی میں بھی سکے جھلملا رہے تھے۔  شاید خیال یہ ہوتا ہے کہ پانی میں پیسے ڈالیں اور اپنی کوئ دلی خواہش بھی اسکے ہمراہ ڈال دیں۔ پانی اپنے بہاءو میں اسے قبولیت کے دروازے تک لے جائے گا۔

ایک لمبا عرصہ گذرنے کے بعد اس سکے نے اپنی قیمت ادا کی اور میں ایک دفعہ پھر استنبول میں موجود ہوں۔  رات بھر سفر کی مصروفیت میں رہنے کے بعد اگلا دن بس یونہی سا گذرا۔ موسم کے ساتھ تعلق نبھانے کی کوششیں۔ سارا دن بارش ہوتی رہی۔ درجہ ء حرارت ویسے ہی کم تھا۔ پندرہ ڈگری سینٹی گریڈ۔ کراچی والوں کے لئے سردی ہی ہے لیکن بارش کے بعد استنبول والے بھی گرم کپڑے پہنے نظر آئے۔ یہاں ابھی سردی رخصت نہیں ہوئ۔ 
اس سے اگلے دن لمبی قطارمیں لگ کر نیلی مسجد کے اندر قدم رکھا۔ یہ قطار جوتے اتار کر تھیلی میں رکھنے کے لئے تھی۔ حیرانی ہوئ کہ پچھلی دفعہ تو ایسی کوئ قطار نہ تھی۔ لوگوں کا رش بہت زیادہ تھا۔ وجوہات یہ معلوم ہوئیں کہ ایک تو اتوار تھا اور دوسرے ترکی کے قومی دن کی چھٹی کی وجہ سے مقامی لوگ اور سیاح سبھی موجود تھے۔ مسجد کے اندر تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔
 داخلی دروازے پہ پلاسٹک کی تھیلیاں مل رہی تھیں جن میں جوتے ڈال  کر مسجد کے اندر داخل ہو سکتے ہیں بس پہن کر نہیں پھر سکتے۔ یہ اتا ترک کا سیکولر ترکی ہے یہاں ایسی ہی دلچسپ باتیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ مسجد کے احاطے میں اس موقع پہ مختلف پروڈکٹس کے اشتہارات لگے ہوئے تھے لیکن ان میں سے ایک بھی خواتین کے پردے یا جہاد پہ نہیں تھا جو کہ ہمارے ملک کے پسندیدہ موضوعات ہوتے ہیں۔



غیر ملکی خواتین کھلی ٹانگوں اور بیشتر خواتین ننگے سر کے ساتھ مسجد کے اندر موجود تھیں مگر طیب اردگان صاحب نے ابھی تک اس اہم مسئلے کی طرف نظر نہیں کی کہ کیسے مسجد کی حرمت خواتین کی اس حرکت کی وجہ سے خراب ہوتی ہے۔


استنبول تقریباً ویسا ہی ہے جیسا میں نے اسے پہلی دفعہ دیکھا۔ بس اس قہوے والے کی دوکان اپنی جگہ پہ نہیں تھی جہاں ترکش چائے پیتے ہوئے ایک پرندے نے میرے کپڑوں پہ بیٹ کر دی تھی اور میرے ترکش دوست نے اسے خوش نصیبی جانا تھا۔
نوجوان جوڑے اسی طرح ایک دوسرے کی کمر میں ہاتھ ڈالے پھر رہے ہیں۔ ایکدوسرے کے ہاتھ سہلا رہے ہیں اور کانوں میں سرگوشیاں کر رہے ہیں۔ انکی ساتھی خواتین میں حجاب اور بغیر حجاب ہر طرح کی خواتین موجود ہیں۔ جدید محبت نے یہ سب رسومات توڑ دی ہیں کم از کم ترکی کو دیکھ کر یہی لگتا ہے۔ ہر طرح کی خواتین کانوں میں ہونے والی سرگوشیوں سے شرماتی ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ شرماتے ہوئے وہ اور زیادہ حسین لگتی ہیں۔
وہی مسجد کے پاس قبلہ ء حاجات  یعنی جام و سبو بھی موجود ہیں۔ اسکی ایک سادی سی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ شہر کے اس حصے میں سب سے زیادہ تاریخی عمارات موجود ہیں مثلاً نیلی مسجد، آیہ صفیاء، ٹوپ کاپی محل، گرانڈ بازار، اسپائس بازار اور پرانے شہر کی فصیلیں سب ایکدوسرے سے قریب ہیں۔ اگر آپ پیدل چلنے کے شوقین ہیں اور ساتھ میں بچے یا بوڑھے ہم سفر موجود نہیں تو بآسانی گھوم پھر کر دیکھ سکتے ہیں۔ اس حصے میں ہوٹل بھی بہت زیادہ ہیں کیونکہ سیاحوں کا وقت بچتا ہے۔ سیاحوں کی اکثریت مغربی معاشرے سے آتی ہے اس لئے  بنتی نہیں ہے بات مئے و ساغر لئے ہوئے۔ اس لئے بھنو پاس آنکھ رکھنی ہی پڑتی ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہئیے کہ سیاح ترکی کی معاشی ترقی میں ایک اہم حیثیئت رکھتے ہیں سیاحت ترکی کی آمدنی کا ایک اہم حصہ ہے۔ حکومت سیاحوں کو مشکلات میں نہیں ڈال سکتی ہے۔ ہمم، لیکن شراب پینے اور بیچنے کی آزادی پورے ترکی کے لئے عام ہے۔ جسے نہیں پینا، وہ بیچتا ضرور ہے مگر پیتا نہیں۔


شہر میں ٹرام بھی چلتی ہے۔ لوگوں کی اکثریت اس سے سفر کرتی ہے۔ دنیا کے ہر حصے میں لوگ سستے طریقے سے سفر کرنا چاہتے ہیں۔ مہنگا طریقہ اسی وقت اختیار کرتے ہیں جب حکومت میں بھیڑئیے لوٹ کھسوٹ کے علاوہ کچھ کرنا نہ جانتے ہوں اور لوگ جو کچھ بھی کریں اس میں انکی ذاتی دلچسپی اور مفاد کے علاوہ کچھ اور شامل نہ ہو۔ اس طرح سے کراچی جیسے پونے دو کروڑ آبادی والے شہر میں شہر کے اندر چلنے والی ٹرین کو تقریباً ختم کر دیا گیا ہے۔ اسکی وجہ ٹرانسپورٹ مافیا کو فائدہ پہنچانا رہا۔ اس سے پہلے کراچی میں ٹرام سروس بھی بھٹو کے زمانے میں کچھ اور لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ختم کی گئ۔ ریل کی پٹٹریاں تک لوگ اکھاڑ کر لے گئے۔ جہاں باقی ہیں وہاں لوگوں نے ناجائز تجاوزات اس طرح پٹٹریوں کے پاس قائم کر لی ہیں کہ آئندہ پچاس سالوں میں ان سے یہ زمین واپس لینا ناممکن نظر آتا ہے۔
بھیڑیوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں دور اندیشی اور ویژن کی کمی ہوتی ہے اور وہ سونے کے انڈے دینے والی مرغی اور ایک عام مرغی میں نہ صرف فرق نہیں کر سکتے بلکہ اس سے مستفید ہونے کے صحیح طریقے بھی نہیں جانتے۔ یہی حال ہماری اسمبلیوں میں موجود بھیڑیوں کا ہے۔ وہ اس ملک سے بہت زیادہ کما سکتے ہیں مگر صرف اسی پہ غدر مچاتے رہتے ہیں جو قدرت انہیں مہیا کر دیتی ہے۔
سفر کی باقی روداد بعد میں موقع ملنے پہ۔ اب تک کے لئے بس اتنا ہی۔  

Friday, April 6, 2012

ایک نوحہ

پورے ایک سال گذرنے کے بعد مجھے داءود انجینیئرنگ کالج کراچی سے خط ملا کہ وہ جو آپ نے سال بھر پہلے ہمارے اشتہار کے سلسلے میں درخواست بھیجی تھی لیکچرر شپ کے لئے، اسکے انٹرویو ہو رہے ہیں آپ آجائیے۔
مقررہ تاریخ پہ صبح ساڑھے آٹھ بجے ہم وہاں موجود تھے۔ گھنٹہ بھر انتظار کے بعد اطلاع ملی کہ ابھی تھوڑی دیر میں ایک تحریری امتحان ہو گا۔ ممتحن آجائیں تو آپکو بلاتے ہیں۔ اسکے دو گھنٹے بعد پتہ چلا کہ ٹیسٹ کا ارداہ موقوف ہو گیا ہے۔ اب صرف انٹرویو ہونگے۔ انٹرویو بورڈ کے سارے ارکان آجائیں تو انٹرویو کا سلسلہ شروع ہوگا۔
 سہانی صبح ڈھل چکی نجانے کب تم آءوگے۔
دن کے دو بجے ہم سب امیدوار دھوپ سے بھرے لان میں بیٹھے، آتی ہوئ کھانوں کی ان قابوں کو دیکھ رہے تھے جو اس کمرے میں جارہی تھیں جہاں انٹرویو ہونا تھا۔ دن کو تین بجے پہلا امیدوار اندر طلب ہوا۔ پون گھنٹے بعد وہ باہر نکلا پندرہ منٹ کے بعد دوسرا امیدوار طلب ہوا۔ ہم وہاں پہ کوئ پندرہ لوگ موجود تھے۔
میں نے ایک آسان سا حساب کیا کہ شام کو پانچ چھ بجے تک کیا صورت حال ہوگی۔  میری توقع کے مطابق شام کو پانچ بجے دو امیدواروں کے انٹرویو کے بعد ہمیں اطلاع دی گئ کہ آج انٹرویو ختم کئے جاتے ہیں  اسکی نئ تاریخ سےآپ کو جلد آگاہ کیا جائے گا۔
تین سال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے بعد وہ نئ مبارک تاریخ آئ۔ ایک دفعہ پھر امیدوار وہاں موجود ، اس دفعہ پہلے سے کم۔ کچھ اس دوران دوسرے کاموں میں مصروف ہو گئے ہونگے۔ یہ کوئ محبوب کی زلف تو نہ تھی کہ اسی کو سر کرنے میں گذار دیتے۔
 ایک دفعہ پھر یہ پیغام کہ ابھی ایک تحریری ٹیسٹ ہوگا۔  لیکن اس دفعہ ریکارڈ توڑنے یا  رکھنے کے لئے ہمیں ڈھائ گھنٹے کے بعد  ٹیسٹ کے لئے بلا ہی لیا گیا۔ ٹیسٹ لینے والے نے پوچھا آپ سب کے پاس کاغذ اور قلم ہے۔ سب کے پاس قلم تھے لیکن ایسا کوئ معتبر کاغذ نہ تھا جس پہ ٹیسٹ دیا جا سکے۔ ہم سب بےوقوفوں کو کالج کی اس غربت کا اندازہ ہی نہ تھا۔ ہم نے اپنے آپ تف بھیجی اور شرمندگی سے سرجھکا دئیے۔ انہوں نےطنزیہ مسکراہٹ سے ہمیں ذلیل کرتے ہوئے کہا اچھا انتظار  کریں آپکو کاغذ فراہم کیا جاتا ہے۔ ایک گھنٹے کے انتظار کے بعد ہم سب کو ایک ایک کاغذ دیا گیا۔ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔
اب آگے ہنسنا منع ہے کیونکہ اسکے بعد ان صاحب نے کہا ایسا ہے کہ میں  کچھ سوالات املا کرا دیتا ہوں وہ آپ اپنے پاس لکھ لیجئیے۔ پھر انہوں نے چار سوال املا کرائے۔ فی البدیہہ املا کرائے جانے والے سوالات میں غلطیاں تھیں جن کی نشاندہی پہ متعلقہ صاحب نے انتہائ بڑکپن کا ثبوت دیتے ہوئے انہیں تبدیل کر دیا۔ ایسی بڑائ کی تعریف کرنا بے جا نہیں۔
آدھ گھنٹے بعد ہم سے کاغذ ، معاف کیجئیے گا ٹیسٹ پیپر لینے کے بعد ہمیں باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔ بعد کے واقعات سے یہ بد گمانی پیدا ہوتی ہے کہ ان ٹیسٹ پیپرز کو ہمارے نکلتے ہی کوڑے دان میں ڈال دیا ہوگا۔ کمزور اور حقیر لوگ بد گمانیوں کا جلد شکار ہوتے ہیں۔
 کراچی میں چالیس ڈگری کی گرمی میں ایک دفعہ پھر ہم بنجر لان میں بیٹھے انٹرویو کی پکار کا انتظار کر رہے تھے۔ ایک دفعہ پھر کھانے کی قابیں اندر جا رہی تھی۔ اس دفعہ یہ ہانڈیاں تھیں۔ منتظمین کو ہانڈیوں سے فراغت پانے میں شام کے چار بج گئے۔ 
میں اٹھی اور کلرک کے پاس گئ۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ میں اپنے گھر فون کر کے اطلاع کر دوں کے میں دیر سے آءونگی، میں اپنا موبائل فون گھر بھول آئ ہوں۔ ہاں ہاں کیوں نہیں۔ وہ مجھے سازش کر کے اس کمرے میں لے گیا جہاں بورڈ کے ارکان انٹرویو لینے کے بہانے موجود پاکستان کا مطلب کیا، ھذا من فضل ربی بتا رہے تھے۔ کلرک ذہنیت ایسی ہی ہوتی ہے خود سامنے آکر کچھ نہیں کرتے بس سازشیں کرتے ہیں یا سازش کرنے والے کا ساتھ دیتے ہیں۔
کمرے میں اس وقت تک مرغن کھانوں کی خوش بو بھری ہوئ تھی۔ ایسا نہیں کہ میرا دل جلانے کے لئے اس خوشبو کو وہاں قید کر کے رکھا گیا تھا۔ وجہ یہ تھِی کہ ایئر کنڈیشنڈ چلنے کی وجہ سے یہ خوشبو باہر نہیں جا سکتی تھی۔ کمرہ ایک دم جنت نظیر محسوس ہو رہا تھا۔  یہ صرف اس منحوس ایئر کنڈیشنڈ کی وجہ سے تھا ورنہ نہ وہاں حوریں تھیں اور نہ شہد کی نہریں۔ اس خوشبو سے مجھے اپنے پیٹ میں ہونے والی گُڑ گُڑ کی آواز آئ۔ یہ اس پانی کی تھی جو میں کئ گھنٹے سے چالیس ڈگری کی گرمی کی شدت کو لان کے ایک سوکھے درخت کے نیچے بیٹھ کر کم کرنے کے لئے پی رہی تھی۔ مجھے نہیں معلوم کہ پانی کیوں پیٹ میں گڑ گڑ کرتا ہے اور کھانا نہیں کرتا۔
میری حیرانی دیکھئیے، وہاں میرے وہ بلند باتیں کرنے والے سینیئر اساتذہ بھی موجود تھے جن سے میں نے پڑھا تھا۔  خوش گپیاں چل رہی تھیں۔بروٹس  یو ٹو۔ میں نے اپنی حیرانی کو چھپانے کے لئے منہ پھیر لیا۔  یہ وہ لوگ ہیں جو باہر کی دنیا میں اس کرپشن کا رونا روتے ہیں جو یہاں فرشتے عالم بالا سے آکر کرتے ہیں۔ ان دس لوگوں میں سے کوئ ایک شخص ایسا نہیں تھا جسے احساس ہو کہ وہ وہاں کس کام کے لئے موجود ہیں۔
شام کو ساڑھے پانچ بجے کلرک نے باہر آکر اعلان کیا کہ انٹرویو ملتوی کر دئے گئے ہیں نئ تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ میرے اس دن کا اختتام سن اسٹروک پہ ہوا۔ وہ رات میں نے بخار اور الٹیوں میں گذاری۔
 سات سال، سات سال سے زائد عرصہ گذر گیا۔ اسکی نئ تاریخ کا اعلان نہیں ہوا۔ کیا داءود انجینیئرنگ کالج میں ان سات سالوں میں کوئ کیمسٹری کا ٹیچر پڑھا نہیں رہا۔ کیا واقعی؟
خیر جناب، داءود انجینیئرنگ کالج تو بے حد خراب ریپوٹیشن رکھنے والا کالج ہے۔ آئیے کراچی شہر کی سب سے مایہ ناز انجینیئرنگ یونیورسٹی کی طرف۔ جہاں ہمارے شہر سے انٹر میں پاس ہونے والے طالب علموں کی کریم داخلہ لیتی ہے۔ جن کا چناءو بہترین رزلٹ اور داخلہ ٹیسٹ میں بہترین کارکردگی کے بعد ممکن  ہوتا ہے۔ کیا سوچتا ہوا گا ایک طالب علم کس قدر شاندار دنیا میں قدم رکھنے والا ہے وہ۔ 
اخبار میں اشتہار آیا کہ انہیں ایک اسسٹنٹ پروفیسر چاہئیے۔ ماسٹرز ہونے کی صورت میں چار سال کا تدریسی تجربہ، پی ایچ ڈی ہونے کی صورت میں کوئ تجربہ درکار نہیں۔ میں نے بھی اپلائ کر دیا۔ پی ایچ ڈی ہوں، ڈیڑھ سال کا تدریسی تجربہ بھی ہے۔ اور بین الاقوامی جرنلز میں چھپے ہوئے  مقالے بھی۔ ایک مضبوط پس منظر، میں نے بےوقوفی سے سوچا۔
چند ماہ بعد خط ملا کہ اس سلسلے میں تحریری امتحان ہوگا۔ تاریخ مقررہ پہ گئے۔ کمرہ ء امتحان میں امیدواروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ان میں سے تین چار لوگ پی ایچ ڈی بھی تھے لیکن ان میں سے کسی کے پاس تدریسی تجربہ نہیں تھا۔ میں نے سوچا  اب بھی میرا پلہ بھاری ہے۔ ٹیسٹ کے لئے چھپے ہوئے پرچے ملے۔ اسے حل کیا۔ ٹیسٹ بھی اچھا ہوا تھا۔
میں خوش خوش واپس آگئ۔ کافی مہینے گذر گئے کوئ اطلاع نہیں۔ این ای ڈی سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر استاد سے معلوم کیا تو کہنے لگے کہ اپائینٹمنٹس تو کب کے ہو گئے۔ میرا دل ٹوٹا، انہیں انٹرویو کے لئے تو بلانا چاہئیے تھا۔ آخر انہوں نے امیدواروں کی شارٹ لسٹنگ تو کی ہوگی۔ محض تحریری امتحان کے بعد ہی تو اپائنٹ نہیں کر لیا ہوگا۔ 
پھر ذرا اور خبر لی تو معلوم ہوا کہ کراچی یونیورسٹی میں تدریس کے دوران ایک خاتون کو لیگ  تھیں میری جن کی نالائقیوں کا انکے طالب علم ہمیشہ رونا روتے نظر آتے۔ ان کا اپائینٹمنٹ ہو گیا ہے۔ یہ خاتون ایم فل تھیں یعنی نان پی ایچ ڈی۔ انکے پاس کوئ بین الاقوامی پبلی کیشن نہیں تھی۔ ایسا کیسے ہو گیا میں نے ان سینیئر ساتھی سے، جو اب مرحوم ہو چکے ہیں پوچھا۔ کہنے لگے میں نے معلوم کیا تھا۔ پتہ چلا کہ ہم پی ایچ ڈی کو رکھ کر کیا کریں گے۔ ہمارے کیمسٹری ڈپارٹمنٹ کی ہیڈ ماسٹرز ہیں اور ایک اتنے زیادہ پڑھے لکھے شخص کو رکھ لیں تو ایک مصیبت ہو گی۔ ہمیں ڈپارٹمنٹ چلانا ہے۔ بھئ ہمیں تو اسٹوڈنٹس کو ہلکی پھلکی کیمسٹری پڑھوانی ہے یہاں کوئ تحقیقی کام تھوڑی کروانا ہے۔
ایچ ای سی کس ملک کی یونیورسٹیز کے لئے قوانین وضع کرتی ہے یہ نہیں معلوم۔
داءود انجیئرنگ کالج تو ویسے بھی سیاسی جماعتوں کا اکھاڑہ ہے کسی گنتی میں نہیں۔ لیکن این ای ڈی انجینیئرنگ یونیورسٹی کراچی بھی ایچ ای سی کی اس فہرست میں شامل نہیں جو ملک کی دس بہترین یونیورسٹیز ہیں۔ 
کیا یہ مکافات عمل ہے؟
کیا یہ  میری بد دعا ہے؟
یہ ان میں سے کوئ چیز نہیں۔ لیکن ہمارے تعلیمی ادروں کے کرتا دھرتاءوں کے منہ پہ ایک طمانچہ ہے جو لکھ کر دیا گیا ہے۔ کیا اسکی شدت کسی کو محسوس ہو گی۔ جی نہیں، کسی کو نہیں ہوگی کیونکہ یہ سارے کرتا دھرتا جانتے ہیں کہ کسی میں ہمت نہیں کہ ان سے سوال کر سکے۔ کون کرے گا ان سے سوال وہ جو خود مفاد پرستی کی لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہیں۔ ایک ننگا دوسرے ننگے سے کیا پوچھے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی اپنی سطح پہ ہر ادارے کو کرپشن کے لحاظ سے پاکستان بنایا ہوا ہے۔ جو حشر پاکستان کا ہے وہی ان اداروں کا۔ 
میں تو صرف یہ سوچ رہی ہوں کہ مجھے این ای ڈی انجینیئرنگ یونیورسٹی سے ہمدردی کرنی چاہئیے یا انکے لئے دعا کرنی چاہئیے۔

Sunday, April 1, 2012

احساس کی برکت

بازار میں انار دیکھے تو دیگر پھلوں کے ساتھ  اسے بھی خریدنے کا سوچا۔ قیمت پوچھی،  معلوم ہوا کہ ڈیڑھ سو روپے کلو ہیں۔  انار کی قیمت اسی عدد کے آگے پیچھے گھومتی رہتی ہے۔ گھر کے سب لوگوں کو انار بہت پسند ہیں۔ خاتون خانہ کو سب کی پسند کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اس لئے میں نے دوکاندار کو اسے بھی تول دینے کو کہا۔ 
میری برابر کھڑی خاتون سیب لے رہی تھیں اور انکے ساتھ ایک میری بیٹی کا ہم عمر بچہ کھڑا ہوا تھا۔ اس نے اپنی ماں سے  کہا کہ وہ بھی انار لینا چاہتا ہے۔ ماں نے کہا نہیں بہت مہنگے ہیں ۔ ہم سیب لے رہے ہیں۔ بچے نے ضد کی اور ماں نے اسے جھڑک دیا۔
میں نے ایک انار اور چنا اور دوکاندار سے کہا کہ اسے بھی ساتھ میں تول دے۔ جب تک وہ تول کر نکالتا وہ لوگ ادائیگی کر کے آگے بڑھ گئے۔ میں نے اس بچے کو پیچھے سے آواز دی اور وہ انار اسکے ہاتھ میں تھما دیا۔ یہ دیکھ کر اسکی ماں نے کہا نہیں واپس دو۔ اور مجھ سے کہنے لگیں بچے تو بس ایسی ہی ضد کرتے ہیں۔ میں نے کہا نہیں یہ میری طرف سےآپکے بچے کے لئے تحفہ ہے میری اپنی بچی بھی اتنی ہی بڑی ہے۔ یہ کہہ کر میں دوسری سمت پلٹ گئ۔
چار پانچ ماہ گذرے ہونگے کہ ایک دن روڈ سے گذرتے ہوئے ایک پھلوں کی دوکان کو دیکھ کر میں نے سوچا پھل خرید لینے چاہئیں۔ میں پھلوں کی دوکان پہ موجود تھی۔ پھل لیتے ہوئے میری بچی کی نظر اسٹرابیریز پہ بڑی۔ اسے اسٹرا بیریز بڑی پسند ہیں۔ ابھی اسٹرابیریز کا موسم شروع ہوا تھا۔ اور میرا خیال تھا کہ اس وقت لینا درست نہیں ایک تو مہنگی ہونگیں دوسرا ذائقہ بھی بہتر نہیں ہوگا۔ لیکن بچی کے ضد کرنے پہ میں نے پوچھا تو معلوم ہوا کہ ڈیڑھ سو روپے پاءو ہیں۔ یعنی چھ سو روپے کلو۔ قطعی نہیں، میں نے سوچا۔ بہت مہنگی ہیں بیٹا۔ یہ کہہ کر باقی خریداری کی ادائیگی کر دی۔
بیٹی صاحبہ بہت ناراض ہوئیں۔ کہنے لگیں کیا آپ دو اسٹرابیری بھی نہیں لے سکتیں۔ میں نے پھر سمجھایا، ابھی بہت مہنگی ہیں، کچی بھی ہیں، دس بارہ دن بعد یہ اور پک جائیں گی اور سستی بھی ہوجائیں گی تو لیں گے۔ میں ان والدین میں سے ہوں جو بچوں کو حقیقی دنیا کے قریب رکھنا چاہتے ہیں اس لئے اس چیز میں حرج نہیں سمجھتی کہ انہیں پتہ ہو کہ والدین انکے لئے کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں۔ 'ماما صرف دو'۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا۔ اب مجھے غصہ آگیا۔ دوکاندار صرف دو نہیں دیتے۔ اس طرح بازار میں ضد نہیں کرنی چاہئیے ورنہ اگلی بار آپ بازار نہیں آ سکیں گی۔ یہ کہہ کر سامان اٹھا کر ہم گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔
گاڑی ابھی اسٹارٹ ہی کی تھی کہ میں نے دیکھا پٹھان دوکاندار دوڑا ہوا ہماری طرف آرہا ہے۔ خیال آیا کہ پیسے تو کم زیادہ نہیں ہو گئے۔ وہ آیا تو میں نے کھڑکی کے شیشے نیچے کر دئے۔ اسکے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ اسکا ہاتھ کھڑکی سے اندر آیا اور اس نے میری بچی کے ہاتھ میں تین اسٹرابیریز تھما دیں۔ مجھے فوراً ہی انار والا واقعہ یاد آگیا۔ میں نے اس دوکاندار کا شکریہ ادا کیا۔ 
گاڑی کو دوبارہ روڈ پہ ڈالتے ہوئے میں نے اپنی بچی کو بتایا کہ  یہ بالکل ضروری نہیں کہ آئیندہ آپ  کو کوئ دوکاندار اس طرح چیزیں دے، جب کوئ اجنبی کوئ چیز دیتا ہے تو اسے انکار کرنا  چاہئیے ہر اجنبی شخص اچھا نہیں ہوتا اور جب لے لیں تو اسکا شکریہ ضرور ادا کرنا چاہئیے اس سے دینے والے کو خوشی ہوتی ہے کہ آپ اسکے احساس کو جانتے ہیں۔
لیکن دل میں مجھے خیال آیا کہ ایک انار کے بدلے تین اسٹرابیریز۔ اگر کسی کام کو کرتے وقت نیت میں اخلاص ہو، انسان بے غرض ہو اور اسے کسی صلے یا ستائیش کی تمنا نہ ہو تو وہ کام  بھی زندگی کے بڑھتے ہوئے سفر میں پلٹ کر آپکو شکریہ ضرور کہتا ہے۔ بس انسان اور موقع بدل جاتے ہیں۔ اسی کو برکت کہتے ہیں۔    

Friday, March 23, 2012

پاکستان؟

آج جب گھر سے نکلی تو ٹی وی پہ قومی ترانے چل رہے تھے۔ فیس بک پہ لوگ تیئیس مارچ جیسے قومی دن پہ اپنے  جذبات سے فضا کو پرجوش بنائے ہوئے تھے۔  گھر سے باہر نکل کر بس جمعہ بازار تک گئ ، سبزیاں لینے اور یہ طلسم ٹوٹ گیا۔
ہوا یوں کہ جب میں نے امرود والے کے اس دعوے کے رد میں کہ اس نے بقول اسکے بہترین امرود رکھے ہیں۔ ایک بھی داغ دار نہیں ہوگا۔ ایک کے بعد ایک چار داغدار امرود نکال کر واپس رکھے تو بازار ان نعروں کی آواز سے گونج اٹھا جو سڑک سے آرہی تھیں۔ دوکاندار کی داغدار زبان رک گئ اور اسکی توجہ روڈ پہ ہو گئ۔ میں نے بھی مڑ کر دیکھا  بلا کسی خوف کے کہ کوہ قاف میں تو موجود نہیں ہوں۔ ایک کے بعد کئ منی بسیں گذریں جن پہ لوگوں کا ہجوم جئے سندھ نیشنلسٹ پارٹی کے جھنڈے لئے بیٹھا وہ نعرے لگا رہا تھا جنکے مطلب  اور معنی سے وہ خود بھی آگاہ نہیں تھے۔ مجھے بھی سمجھ نہیں آرہے تھے۔ یہ گاڑیاں شہر کے اس حصے کی طرف سے آرہی تھِں جہاں سندھی بلوچ گوٹھ ہیں۔ یہ وہ عوام ہے جو پیچھے پلٹ کر دیکھ نہیں سکتی۔ اس لئے نہیں کہ پتھر کی بن جائے گی اس لئے کہ اسے پیچھے دیکھنا ہی نہیں آتا۔ دیکھنا تو اسے آگے بھی نہیں آتا۔ جو انکے جدی پشتی رہ نما دکھا دیں وہی دِکھنے لگتا ہے۔
گھر آکر شہر کے حالات جاننے کا تجسس ہوا کہ ایک دوست سے ملنے کا وعدہ تھا۔ معلوم ہوا کہ  سندھ کی آزادی کا مطالبہ رکھنے والی اس ریلی کے شرکاء کی وجہ سے شاہراہ فیصل پہ بد ترین ٹریفک جام ہے۔ اور اس رکے ہوئے ٹریفک میں مسلح افراد نے لوٹ مار شروع کی ہوئ ہے۔
یہ جئے سندھ کی اس سلسلے میں پہلی ریلی نہیں تھی۔ ابھی چار دن پہلے بھی میں انکی ایسی ہی ریلی میں پھنسی اور جہاں جانے کا ارادہ تھا اسے ترک کے واپس آگئ۔
میں نے اپنا گھر سے نکلنے کا خیال منسوخ کیا۔ اور سوچنے لگی کہ ایک طرف بلوچستان میں آزادی کی نام نہاد جنگ سردار لندن، فرانس اور امریکہ میں بیٹھ کر لڑ رہے ہیں۔ دوسری طرف خیبر پختون خواہ میں انتہا پسندوں نے تحریک چلائ ہوئ ہے کہ انکے علاقے کی علاقہ غیر والی حیثیت بحال کر کے اسے حکومت  پاکستان کے رائج قوانین سے نہ صرف نجات دی جائے بلکہ باقی کے ملک میں بھی انکی مرضی کا نظام حکومت لایا جائے۔ جسے وہ شرعی حکومت کا نام دیتے ہیں۔ ادھر خدا بہتر جانتا ہے کہ کس کی شہہ پہ اچانک جئے سندھ والوں کو سندھ کی آزادی کے نعرے پہ دوبارہ کھڑا کر کے کراچی میں اودھم مچانے کی اجازت دے دی گئ ہے۔ ابھی چند دن پہلے کراچی میں کسی خفیہ ہاتھ نے کراچی کی دیواروں پہ مہاجر صوبے کا مطالبہ بھی لکھنے کی کوشش کی۔  ادھر پنجاب  میں جنوبی پنجاب باقی پنجاب سے اپنا حق مانگ رہا ہے۔ ادھر باقی پنجاب نئے سرے سے مسلمان ہونے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
اب ذہن میں ایک سوال اٹھتا ہے۔ یہ ملک یہاں کی بنیادی اقوام کو چاہئیے یا نہیں؟
مجھ سے ایک بزرگ نے دریافت کیا کہ یوم پاکستان کیوں منایا جاتا ہے؟ میں نے مطالعہ پاکستان میں برسوں پڑھے ہوئے جواب کو طوطے کی طرح دوہرا دیا۔ اس دن دو قومی نظرئیے کی بنیاد پہ پاکستان بنانے کا مطالبہ ایک قرارداد کی صورت میں مسلمانوں کی طرف سے متفقہ طور پہ پیش کیا گیا تھا۔ پھر پاکستان کا پہلا آئین بھی اسی دن پیش ہوا۔
انہوں نے دریافت کیا لیکن جس دن بنگلہ دیش بنا۔ نہ صرف اس قرارداد سے تعلق رکھنے والا  پاکستان اس دن ختم ہو گیا تھا بلکہ واقعی اگر کوئ دو قومی نظریہ تھا تو وہ بھی اس دن غلط ثابت ہوا۔  رہا آئین تو اس  پہلے کے بعد کئ آئین آئے۔ یہ آئین جسکی بگڑی ہوئ شکل اب موجود ہے۔ جو بھٹو نے بنایا۔ اسے قوم کو دینے کے بعد چوبیس گھنٹوں میں اس میں پہلی ترمیم ہوئ، جو بھٹو ہی نے کی تھی مخالفین کو دبانے کے لئے۔ اس لئے ان دونوں وجوہات کی بناء پہ تو اب اس دن کو بالکل نہیں منانا چاہئیے۔ کیوں مناتے ہو تم لوگ یہ دن؟
کیوں مناتے ہیں ہم یہ دن، کیا اس لئے کہ قومی ترانوں کو گانے کی پریکٹس ہو سکے یا اس لئے کہ اپنی منافقت کی ہم مزید مشق کر سکیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ اگلی نسلوں میں اپنی پوری آب و تاب سے منتقل نہ ہو سکے؟
ملک کی سیاسی حالات کی ابتری کا اندازہ لگانے کے لئے مزید اشارے دیکھیں۔ گیلانی صاحب عدالت کے زور دینے پہ بھی سوئس حکومت کو خط لکھنے کے لئے تیار نہیں۔ انکے بقول وہ صدر صاحب کی پیٹھ میں چھرا نہیں مار سکتے۔ یہ نہ کر کے وہ  پاکستان کے سینے میں چھرا مار رہے ہیں اسکا انہیں ذرہ برابر بھی احساس نہیں بلکہ پرواہ بھی نہیں۔
 اعتزاز احسن جو ججوں کی بحالی تحریک میں آگے آگے ہو رہے تھے۔ جسکی وجہ اب یہ سمجھ میں آتی ہے کہ وہ بس مشرف کے لکھے کو مٹانا چاہتے تھے۔ اس کیس میں انہوں نے بھی اپنے ضمیر کی شاید صحیح قیمت وصول کر لی ہے۔ کہتے ہیں عدالت کو گیلانی صاحب کے گدی نشیں ہونے کا تو خیال کرنا چاہئیے۔
یہی نہیں، ادھر برہمداغ بگتی کے اوپر سے سارے مقدمات واپس۔ کیوں جناب؟ اس لئے کہ بلوچستان کہیں پاکستان سے الگ نہ ہوجائے۔ پھر پاکستان کے  یہ چھوٹے چھوٹے لوگ کیوں سزائیں بھگتتے ہیں اس لئے کہ وہ کسی نواب خاندان سے نہیں۔ ہم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ پولیس اور عدالت کا نظام ہی ختم کر کے اس عذاب سے جان چھڑائیں۔
طالبان سے مذاکرات کر کے انکے مطالبات پہ غور ہونا چاہئیے۔ وہ کس لئے؟ کیونکہ ملک میں امن اسی طرح قائم ہو سکتا ہے کہ جنونیوں سے بھی خوشگوار تعلقات رکھے جائیں۔
ادھر کل زرداری صاحب  کو تاحیات صدر منتخب کیا جائے گا۔ وہ کیوں بھئ؟ کیونکہ اگر وہ پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں لگائیں گے تو جئے سندھ والے تو سندھ کو پاکستان سے الگ کر کے لے جائیں گے۔ 
یہ پاکستان کیا کاغذ پہ ایک نقشے کا نام ہے؟ 
پاکستان کیا کسی قرارداد کا نام ہے؟
پاکستان کیا کسی نظرئیے کا نام ہے؟
پاکستان کیا ایک کرکٹ ٹیم کا نام ہے؟
حقیقت کچھ یوں نظر آتی ہے کہ یہاں کے حکمرانوں کو، سرداروں کو، جاگیرداروں کو، نوابوں کو اگر اسکے چھوٹے چھوٹے حصے بنا کر  وہاں کا والی وارث بنادیا جائے تو نہ صرف یہ اسے اپنی خوش قسمتی جانیں گے بلکہ انکے زیر سایہ آنے والے عوام بھی اس نشے میں کئ نسلیں زمین پہ رینگ کر گذار لیں گے۔
آخر ہم یوم پاکستان کیوں مناتے ہیں؟ جبکہ ہم پاکستان پہ یقین نہیں رکھتے۔
جب ہم الگ ہو جائیں گے تو کس حصے کا نام پاکستان ہوگا اور کیا وہاں یوم پاکستان منایا جائے گا؟
اور  اب آخری سوال وہ کیا چیز ہے جو پاکستان کو جوڑ کر رکھ سکتی ہے؟ دائیں بازو والے شاید ایک دفعہ پھر اسکاجواب مذہب دیں لیکن میرے خیال میں شاید ایٹم بم۔ کیونکہ الگ ہوتے ہوئے  ان قوتوں کو یہ بھی تو سوچنا پڑے گا کہ آخر ایٹم بم کس کے حصے میں جائے گا۔ 

Tuesday, March 20, 2012

صداقت کی وراثت

جن سے مل کر زندگی سے محبت ہو جائے وہ لوگ آپ نے دیکھے نہ ہوں مگر ایسے بھی ہیں۔ ڈاکٹر شیر شاہ کا شمار انہی لوگوں میں کیا جا سکتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں وراثتی رہ نماء سیاست کے نام پہ لوگوں کو قتل کرتے ہوں اور اپنے مفاد کے لئے ہر ظلم روا رکھتے ہوں۔ جہاں حکمرانی کے نام پہ اپنی  اور اپنی نسلوں کی عیاشی کے سامان کئے جاتے ہوں۔ جہاں غریب کی غربت کو بیچ کر اپنے لئے خزانے جمع کئے جاتے ہوں۔ جہاں اشرافیہ کا طبقہ دولت اور شہرت دونوں ہی اپنے حلقے میں بانٹتا پھرتا ہو اور معاشرے کے کمزور طبقے کے حصے میں ترس اور حقارت کے سوا کچھ نہ آتا ہو۔ وہاں ان جیسے لوگوں کا موجود ہونا ایک معجزہ لگتا ہے۔
آخر ایسے انسان ایک خود غرض معاشرے کے کینوس پہ کس طرح نمودار ہوجاتے ہیں۔ اسکا بڑا کریڈٹ اس بات کو جاتا ہے کہ والدین اپنے بچوں کے سامنے کون سی زندگی پیش کرتے ہیں۔اور اسے پیش کرتے وقت وہ عملی طور پہ اسکی صداقت پہ خود کتنا پورا اترتے ہیں۔
مجھے انکی شخصیت، پاکستانی خواتین کے لئے انکی گراں مایہ خدمات اور ان سے دردمندی رکھنے کی وجہ سے ہی نہیں پسند بلکہ یہ بھی پسند ہے کہ ہمہ وقت حالت کام میں رہنے کے باوجود انکی زندہ دلی اپنی جگہ رہتی ہے۔  ایک گائناکولوجسٹ کے طور پہ وہ اپنی بے لوث خدمات کے لئے کئ بین الاقوامی ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔ لیکن انکا اصل ایوارڈ وہ خواتین ہیں جنہیں انہوں نے زندہ درگور ہونے سے بچا لیا۔
ڈاکٹر شیر شاہ کا ایک مضمون مجھے ایک دوست کی توسط سے ملا۔ یہ مضمون ڈان اخبار میں چھپ چکا ہے۔ اسکا اردو ترجمہ یہاں حاضر ہے۔ ڈاکٹر شیرشاہ کا یہ مضمون انکے والد صاحب کے حوالے سے ہے۔











اسکین شدہ صفحات کو بہتر طور پہ دیکھنے کے لئے ان پہ کلک کیجئِے۔


Wednesday, March 7, 2012

آبگینوں کے خواب

کل ساری دنیا میں خواتین کا عالمی دن منایا جائے گا۔ نہیں معلوم کہ تاریخ کے کس مقام پہ خواتین کا درجہ اس درجے پہ آگیا جہاں انکے  حقوق کے لئے تحاریک چلانے کا سلسلہ شروع ہوا۔
پاکستان میں ایک سال نہیں صرف ایک ماہ کے واقعات کا جائزہ لیجئیے۔ 
کراچی میں پچھلے ایک ماہ میں ایک لڑکی  اجتماعی زنا بالجبر کا شکار ہوئ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ بے پردہ پھرتی ہوگی نامناسب کپڑے پہنتی ہوگی اس لئے یہ کسی مرد کا حق بن گیا کہ اسے اس طرح بے عزت کرے۔ لیکن اسی ایک مہینے میں تقریباً تین بچیوں کو جنکی عمریں  پانچ سے چھ سال کی تھیں زنا بالجبر کا نشانہ بنایا گیا۔ اس جملے میں زنا بالجبر کا لفظ زائد ہے۔ اس عمر کی بچی کو نہ یہ معلوم ہوگا کہ اسکے ساتھ جو بربریت ہوئ ہے اسے کیا کہا جاتا ہے نہ یہ کہ اسکے ساتھ یہ کیوں کیا گیا ہے اور نہ ہی اغواء کے وقت اسے معلوم ہوگا کہ اس پہ اب کیا ستم ٹوٹ سکتا ہے۔
 کیا شہر میں کوئ آواز اٹھی؟
 نہیں  اس پہ آواز اٹھانے کا وقت نہیں۔ ابھی عافیہ ڈے تو منا لیں۔
اسی ایک مہینے میں مظفر گڑھ میں ایک خاتون کو بازار میں برہنہ کر کے پھرایا گیا۔ کیا کسی نے احتجاج کیا کہ یہ بے حیائ بند کرو۔ کیا یہ بے حیائ نہیں کہلاتی؟
جی نہیں یہ ان سب علاقوں کے رسم و رواج ہیں۔ جھگڑوں میں ایسا ہو ہی جاتا ہے۔ نزلہ تو گرتا ہی کمزور عضو پہ ہے۔
اسی ملک میں ایک ماہ میں تقریباً چھ خواتین پہ تیزاب پھینکا گیا۔ یہ سب کسی مرد کی انتقامی کارروائ کا نشانہ بنیں۔ کیا کوئ مجرم گرفتار ہوا؟ کیا کسی کو سزا ملی؟
 نہیں یہ سب نہیں ہو سکا۔ کیونکہ مجرم یہ قبیہہ فعل کرنے کے بعد پردہ ء غیب میں چلے گئے۔ 
کیا کسی نے اس پہ احتجاج کیا؟
 نہیں۔ 
کیا اس پہ احتجاج کی ضرورت ہے؟
 نہیں ، یہ خواتین ہی کا قصور ہوتا ہے کہ ان پہ تیزاب پھینکا جاتا ہے۔ اگر وہ اس طرح رہیں، اگر وہ یہ کریں، اگر وہ اس طرح کپڑے پہنیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اگر اس موضوع پہ بنائ گئ فلم کو ایوارڈ مل جائے تو فلم بنانے والی خاتون صرف اس لئے سی آئ اے کی ایجنٹ قرار پائے کہ اس نے ایسا موضوع کیوں اٹھایا جس سے پاکستان بدنام ہوتا ہے۔ حالانکہ اسے ایجنٹ قرار دینے کی دیگر وجوہات نکالی جا سکتی ہوں۔  لوگ جلدی جلدی اپنا اسٹیٹس اپ ڈیٹ کریں گے شرمین عبید کو ایوارڈ پاکستان کے منہ پہ ایک طمانچہ۔
 اور کل میں نے خبر سنی کہ ایک خاتون پہ تیزاب پھینک دیا گیا چوبیس گھنٹے گذرنے کے بعد بھی ہمارے کسی نوجوان کا کوئ بیان نہیں۔ یہ تیزابی طمانچے پاکستان کے منہ پہ کون مار رہا ہے؟ تیزاب بنانے والے، پھینکنے والے ان پہ فلم بنانے والے یا خواتین؟
یہ تیزاب پھینکنے والے مرد اپنے خاندانوں کے ساتھ اس زمین پہ موجود ہوتے ہیں ، رہتے ہیں، شادیاں کرتے ہیں انکے بچے ہوتے ہیں۔ اسی طرح زمین پہ پیر مار کر سینہ تان کر چلتے ہیں لیکن کسی شخص کو انکے گریبان پکڑنے کی ہمت نہیں ہوتی حتی کہ انکے گھر والے تک انہیں کسی وعظ یا نصیحت کرنے کی جراءت نہیں رکھتے یا شاید وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کسی نصیحت کی ضرورت ہی نہیں۔
اسی مہینے کا واقعہ ہے کہ اقلیتی ہندو لڑکی کو جبراً مسلمان کر کے اسکی ایک مسلمان لڑکے سے شادی کرا دی جاتی ہے وہ ہندو لڑکی رنکل کماری سے سید فریال شاہ بن جاتی ہے۔ انٹر نیٹ پہ مبارکباد کی ویڈیوز چل جاتی ہیں۔ اگر ملک میں کوئ فکر کی آواز اٹھتی ہے تو یہ کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مغربی میڈیا اسے پاکستان کا امیج بگاڑنے کے لئے استعمال کرے۔


دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو اپنی لڑکیوں کی پسند کی شادی پہ انہیں کاری قرار دے کر قتل کر دیتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو مایا خان کو شہہ دیتے ہیں کہ پارکوں میں ملنے والے جوڑوں کو ہراساں کریں۔ ہم پارکس میں یہ بے حیائ نہیں پھیلنے دیں گے۔  لیکن جب معاملہ ایک اقلیتی لڑکی کا آتا ہے تو ساری اخلاقیات کا دیوالہ نکل جاتا ہے اور اسکی جگہ ایک مست نعرہ، نعرہ ء تکبیر آجاتا ہے۔ ایک ہندو لڑکی کو مسلمان کر کے ایک مسلمان لڑکے سے شادی کرادی اس ثواب میں جتنے لوگ شامل ہوجائیں کم ہیں۔ اس لئے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کو ہر دل بے قرار۔ ہندءووں کی ایک لڑکی کو عقد نکاح میں لے آنا ہندوستان فتح کرنے سے کم نہیں۔ بابری مسجد کا بدلہ لے لیا۔ 
یہ نہیں معلوم کہ عورت کو بیوی بنا لینا یا اس سے جنسی تعلق  قائم کر لینا، مرد کی فتح کیوں قرار پاتا ہے جبکہ وہ عورت اس فاتح سے دل سے نفرت کرتی ہو۔
۔
۔
۔
کیا آپکو معلوم ہے کہ اگر ایک عورت خوشبو لگا کر باہر نکلتی ہے تو جنت کی خوشبو اسے لاکھوں میل دور تک نہیں ملتی، کیا آپ جانتے ہیں کہ اپنی بچیوں کو حیا عادی بنانے کے لئے انہیں بچپن سے  پردے کی عادت ڈال دینی چاہئیے، کیا آپکو معلوم ہے کہ با اختیار عورت رکھنے والے معاشرے ناسور بن جاتے ہیں۔ کیا آپکو معلوم ہے کہ میراتھن ریس میں عورتوں کا دوڑنا بے حیائ ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ خوشگوار ازدواجی زندگی کا راز عورت کی برداشت اور اپنے آپکو جھکا لینے میں ہے۔
 یہ ساری معلومات مجھے نیٹ کی دنیا میں آجکے نوجوان مردوں کی گفتگو کے نتیجے میں ملتی ہیں باقی جو اوپر خبریں میں نے لکھی ہیں وہ اخبار سے ہی مل پاتی ہیں اس پہ ہمارے نوجوان کچھ لکھنا پسند نہیں کرتے۔  اس سے پاکستان کا امیج خراب ہوتا ہے وہ انتہائ دور اندیش ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ سب سی آئ اے والے کراتے ہیں۔ وہ سی آئ اے کی کسی ایسی سازش کا شکار ہونے والے نہیں ہیں۔
شرمین عبید کا کہنا ہے کہ اپنے خوابوں کو مت چھوڑیں۔ میں اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی اس خاتون کی ایسی باتوں میں نہیں آتی۔ کل اگر میں کسی  مشکل میں پھنس جاءوں تو یہ صاحبہ تواس پہ دستاویزی فلم بنا کر اپنی شہرت کھری کر لیں گی۔ انکے تعلقات کی پہنچ پہنچ کہاں تک ہوگی۔ یہ فلم تو کسی غیر ملکی چینل پہ اپنی قیمت وصول کرے گی۔ میرے ہم وطن تو وہ دستاویزی فلم دیکھ تک نہیں پائیں گے۔ اور وہ حسین کپڑوں میں کیوٹ شکل کے ساتھ ایک اور ایوارڈ وصول کرنے کے لئے چھم سے اسٹیج پہ موجود ہونگیں۔ گوروں کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگا کہ کیا تیزاب سے جھلسنے والی عورت اور یہ عورت ایک ہی ملک کی باسی ہیں۔  وہ اس معمے میں ہی پھنس کر رہ جائیں گے کہ اگر ایسا ہے تو یہ کیونکر ممکن ہے۔ جبکہ یہاں ہم وطن مجھ پہ گذرے ہر ستم کو سی آئ اے کی سازش بنا کر معاملہ ہوا کر دیں گے۔
اس لئے میں اپنے خوابوں کو آبگینوں کی طرح سنبھالے اپنے ہم وطنوں سے ہی پوچھتی ہوں منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے؟