Showing posts with label سر سید. Show all posts
Showing posts with label سر سید. Show all posts

Tuesday, December 28, 2010

سر سید، تبیین الکلام اور علی گڑھ


سر سید اپنی نو عمری سے یہ دیکھ رہے تھے کہ عیسائ مشنری کے علماء ہندوستان میں پھیلے ہوئے ہیں اور مسلمانوں سے مناظرہ اور مباحثہ کرتے پھرتے ہیں۔ مسلمان علماء بھی ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اسکی وجہ سے ایک جانب تو لوگ ان مشنریز کے زیر اثر آنے سے بچ گئے تھے مگر دوسری جانب یہ فریقین کے درمیان تلخی کا باعث بنتا تھا۔ جبکہ سر سید اپنے فہم پہ سمجھتے تھے کہ ان دونوں فرقوں کے عقائد میں فرق زیادہ نہیں ہے۔ جتنےدونوں طرف کے مولویوں نے بنا رکھے ہیں۔
اس پہ انہیں خیال آیا کہ ایسی کتاب لکھنی چاہئیے جس سے پتہ چلے کہ بائبل اورقرآن دونوں آسمانی کتابیں بہت سے معاملات میں ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان علماء جو کہ تحریف کی وجہ سے بائبل کو سراسر غلط سمجھتے ہیں اور عیسائ علماء جو قرآن کو سرے سے آسمانی کتاب تسلیم کرنے کو تیار نہیں  ان میں اس گمراہی کی اصلاح ہونی چاہئیے۔
اسے لکھنے کے لئے سرسید نے تفصیلی طور پہ بائبل کا مطالعہ کیا، عبرانی زبان سے واقفیت پیدا کی۔ تاکہ اسے اصل زبان میں پڑھ کر معلوم کریں کہ عیسائیوں نے کہاں کہاں تحریف کی ہے۔
عیسائ تین خداءووں کے قائل ہیں جبکہ بائبل میں تثلیث کا تذکرہ نہیں ملتا۔ اسی طرح مسلمان نسخ آیت قرآنی کے قائل ہیں لیکن سر سید نےنے اپنی کتاب تبین الکلام اور خطبات احمدیہ میں ثابت کیا کہ قرآن حکیم کی کوئ آیت منسوخ نہیں ہوئ۔
بہر حال عیسائیت اور اسلام کے تعلق پہ انہوں نے کتاب تبیین الکلام لکھی۔ اس بارے میں مسلمانوں اورعیسائیوں دونوں میں شبہات اٹھے۔ سر آرنلڈ کے خط کے جواب میں سر سید لکھتے ہیں کہ

بایں ہمہ مجھ کو یقین ہے کہ میری زندگی میں عام مسلمانوں کی گالیوں اور نفرت سے مجھے نجات نہ ملے گی۔ عیسائ بھی میری تفسیر سے خوش نہیں ہو سکتے کہ جس طرح میں انجیل کی تعلیم کو صحیح اور درست سمجھتا ہوں اسی طرح تثلیث کے مسئلے کا قائل نہیں اس لئے کہ میں انجیل میں کہیں اسکی تائید یا وجود نہیں پاتا ہوں۔
مجھ کو یقین ہے کہ  مذہب اسلام صحیح ہے اور اسکی صحت اور وجود دونوں انجیل سے ثابت ہیں۔ اس لئے مجھے کچھ پرواہ نہیں کہ کسی گروہ کے لوگوں کو خواہ وہ مسلمان ہوں یا عیسائ خوش کروں۔ میں حق پہ ہوں اور اس خدا کو خوش کرنا چاہتا ہوں جس کے روبرو سب کو ایک دن جانا ہے۔ البتہ یہ میری خواہش رہی ہے کہ مسلمان اور عیسائیوں میں محبت پیدا ہو کیونکہ قرآن مجید کے موافق اگر کوئ فرقہ ہمارا دوست ہو سکتا ہے تو وہ عیسائ ہیں۔

وقت کے دھارے سے گذرتے ہوئے سر سید احمد خان کو یہ احساس ہوا کہ جب تک ہندوستان میں علم کی روشنی نہیں پھیلتی انکے ترقی کرنے کی امید نہیں کی جا سکتی۔ ادھر علوم جدیدہ، کے خزانے انگریزی میں دستیاب تھے۔ مسلمان انگریز سے نفرت کرتے تھے اور انگریزی سیکھنے کی طرف مائل نہ تھے۔ جبکہ ہندو بھی صرف اسی قدر انگریزی سیکھنے میں دلچسپی رکھتے تھے جو ملازمت کے حصول کو آسان بنادے۔
ان علوم کی طرف توجہ دلانے کی غرض سے سر سید نے یہ تجویز پیش کی کہ ایک سائینٹیفک سوسائیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ جس کا اہم کام، اہم علمی و سائینسی کتابوں کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرا کے انکی اشاعت ہو۔
اس طرح سے ۱۸۶۳ میں غازی پور، جہاں سر سید بغرض ملازمت موجود تھے، میں یہ سوسائٹی وجود میں آئ۔ اس وقت کے وزیر ہند کو اسکا پیٹرن بنایا گیا، پنجاب اور یوپی کے گورنر اسکے وائس پیٹرن بنے۔ ملک بھر سے رئیس اور علم دوست لوگوں کو اسکا ممبر بنایا گیا۔
سر سید اگرچہ اس سوسائیٹی کے روح رواں تھے مگر انہوں نے خود کو اسکا سیکریٹری کہلوانا پسند کیا۔ 
اس سلسلے میں انہوں نے مختلف شہروں کا دورہ کیا تاکہ اسے متعارف کرایا جا سکے۔
 انہی بنیادوں پہ انہوں نے غازی پور میں ایک مدرسہ بھی قائم کیا۔اسکی تعمیر کے لئے چندہ اکٹھا کیا گیا اور اسّی ہزارروپے کی لاگت سے ایک شاندار عمارت تعمیر کی گئ۔ اس مدرسے کا موجودہ نام وکٹوریہ ہائ اسکول ہے۔ ۱۸۶۴ میں سر سید کا تبادلہ غازی پور سے علی گڑھ ہو گیا۔
علی گڑھ جاتے ہوئے وہ سائینٹیفک سوسائیٹی کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ اور علیگڑھ میں علاقے کے رئیسوں سے چندہ اکٹھا کر کے  اسکے لئےایک عالی شان عمارت تعمیر کروائ۔
اس انسٹیٹیوٹ میں ہر ماہ علمی اجلاس اور مذاکرے ہوتے۔ مختلف موضوعات پہ لیکچر کا اہتمام کیا جاتا۔ سائینسی آلات کی مدد سے مختلف سائینسی علوم کی وضاحت اور تشریح کی جاتی۔ بہت سی کتابوں کے تراجم ہوئے۔ مفید اور علمی کتابوں کی ایک لائبریری قائم کی گئ۔
حالی لکھتے ہیں کہ رئیسہ ء بھوپال نواب سکندر بیگم نے سر سید کی خدمات کے اعتراف میں ایک قیمتی انگوٹھی بطور تحفہ بھجوائ جسے سرسید نے ایک ہزارروپے میں بیچ کر ساری رقم انسٹیٹیوٹ کے فنڈ میں جمع کروادی۔ سر سید نے تبیین الکلام کی طباعت کے لئےآٹھ ہزار روپے اس زمانے کے لحاظ سے  کثیر رقم خرچ کر کے اپنا پریس خریدا تھا۔ وہ بھی اس انسٹیٹیوٹ کے حوالے کیا اور یوں سوسائیٹی کی کتابیں، اخبار، رسالے اور اطلاع نامے اسی پریس سے چھپنے لگے۔
اس ادارے کے دارالمطالعہ میں لندن اور ہندوستان کے اطراف و جوانب کے اٹھارہ انگریزی اور چھبیس اردو اخبارات و رسائل آیا کرتے تھے جو اس وقت کے لحاظ سے ایک خاصی بڑی تعداد تھی۔ یوں اسکی روشنی ملک کے طول و عرض میں اہل بصیرت تک پہنچنے لگی۔

جاری ہے 

Tuesday, October 19, 2010

سر سید اور اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی-۲


اٹھارہ سو اٹھاون کے شروع میں سر سید کلکٹر کے ہمراہ بجنور واپس پہنچے۔ گھر کا قبضہ حاصل کیا۔ کئ لوگ جو ہنگامے کے دنوں میں سر سید کے دشمن ہو گئے تھے اور انکی جان کے درپے تھے۔ اب پریشان تھے۔ سرسید نے انکی سفارشیں کیں اور انکی گلو خلاصی کرائ۔
ہنگامے کے دنوں میں سر سید کی خدمات کی وجہ سے حکومت نے انہیں ضلع بجنور مین مسلمان باغی کی ضبط شدہ جاگیر بطور انعام دینا چاہی۔ مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ وہ بڑا کام  اس وقت یہی سمجھتے تھے کہ ایسے وقت میں ان سے کوئ امر شرافت اور اسلام کی ہدایت کے بر خلاف سر زد نہیں ہوا۔
دسمبر اٹھارہ سو نواسی میں ایجوکیشنل کانفرنس میں تقریر کے دوران اس سانحے کا تذکرہ کرتے ہوئے سر سید نے لکھا کہ

غدر کے بعد نہ مجھ کو اپنا گھر لٹنے کا رنج تھا نہ مال و اسباب کے تلف ہو نے کا۔ جو کچھ رنج تھا اپنی قوم کی بربادی کا تھا اور غدر کے دوران ہندوستانیوں کے ہاتھ سے جو کچھ انگریزوں پہ گذرا اسکا رنج تھا۔--------- جب بعوض وفاداری کے تعلقہ جہاں آباد جو سادات نامی خاندان کی ملکیت اور لاکھ روپے سے زیادہ مالیت کا تھا مجھ کو دینا چاہا تو میرے دل کو نہایت صدمہ پہنچا۔ میرے دل نے کہا کہ مجھ سے زیادہ نالائق دنیا میں نہ ہوگا کہ قوم پہ تو یہ بربادی ہو اور میں انکی جائیداد لے کر تعلقہ دار بنوں۔
اپریل اٹھارہ سو اٹھاون میں سر سید صدالصدور کے عہدے پہ ترقی پا کر مراد آباد میں تعینات ہوئے۔ اسکے علاوہ انہیں اس اسپیشل کمیشن کا ممبر بھی نامزد کیا گیا جو ضبط شدہ جائیدادوں کی عذر داریوں کا فیصلہ کرنے کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ مراد آباد میں متعدد ضبط شدہ جائیدادیں واگذار ہوئیں۔ مراد آباد کے ایک مسلمان رئیس مولانا عالم علی جو مشہور عالم، طبیب اور محدث تھے انہوں نے ہنگامہ آرائ کے دنوں میں چند یورپیئن عورتوں اور بچوں کو اپنے گھر میں پناہ دی تھی مگر باغیوں نے زبر دستی گھر میں گھس کر ان عورتوں اور بچوں کو قتل کر دیا تھا۔ اس میں مولانا بے قصور اور بے بس تھے مگر انگریز حکام کو ان پہ سازش کا شبہ تھا۔ جب انگریزوں کی عملداری دوبارہ قائم ہوئ تو وہ مواخذے اور سزا کے ڈر سے روپوش ہو گئے۔ سر سید نے انکے بارے میں انگریز حکام کے شکوک رفع کئے اور انکی بے گناہی ثابت کر کے انہیں مواخذے سے بچا لیا۔ ضابطے کی کارروائ کے بعد انہیں بری کر دیا گیا۔ اس طرح جہاں جہاں سر سید کا بس چلا مسلمانوں کی مدد کی اور انکی مصیبتوں کو کم کیا۔ مراد آباد  کے قیام کے دوران سر سید نے تاریخ سرکشی بجنور تحریر کی اور مئ اٹھارہ سو ستاون سے اپریل اٹھارہ سو اٹھارہ سو اٹھارہ اٹھاون تک ضلع بجنور میں جو واقعات پیش کآئے ان کو تاریخ وار ترتیب اور پوری تفصیل کے ساتھ لکھا۔ اس میں وہ تمام خط و کتابت بھی شامل ہے جو اس دوران انکے اور انگریز حکام کے درمیان ہوئ یا نواب محمود خان اور ہندو چوہدریوں نے انکے ساتھ کی۔ 
اٹھارہ سو ستاون کے ہنگامے کے بعد جب انگریزوں کی عملداری دوبارہ قائم ہوئ تو انگریزوں نے مسلمانوں کو بالخصوص اپنے غیض و غضب کا نشانہ بنایا۔اور باغی قرار دئیے جانے کے لئے مسلمان ہونا کافی تھا۔ انگریزوں نے حکومت مسلمانوں سے لی تھی اس لئے وہ انہیں ہی اپنا حریف اور دشمن سمجھتے تھے۔ اور اس سارے ہنگامے کا ذمہ دار مسلمانوں کو ہی سمجھتے تھے۔ وہ اس پہ یقین رکھتے تھے کہ یہ ساری سازش مسلمانوں کی ہے۔ حالانکہ ہنگامے کی وجوہات اور اس کے آغاز میں ہندو بھی اس میں شامل تھے۔ بعد میں ہندءووں نے موقع سے فاءدہ اٹھایا اور انگریزوں کی خیر خواہی کی آڑ میں مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہو گئے۔ یہ سب چیزیں مل کر مسلمانوں کو ہمہ گیر تباہی کی طرف لئے جا رہی تھیں۔ سر سید معاملے کی سنگینی سے آگاہ تھے اور اسکے تدارک کے لئے انہوں نے رسالہ اسباب بغاوت ہند لکھا۔ اس رسالے کی تفصیلات اس سے منسلکہ اگلی تحریر میں دیکھئیے گا۔