آرٹس کونسل کراچی میں، میں بھی ان بے تحا شہ تالیاں بجانے والی ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والی خواتین میں شامل تھی جب مدیحہ گوہر کا ڈرامہ بری اپنے اختتام پر پہنچا۔
کہانی کے کئ زنانہ کرداروں میں جو کہ جیل میں اپنے مقدمات کے فیصلے کا انتظار کر رہی تھیں ایک کردار جمیلہ کا تھا۔ سولہ سال کی عمر میں ایک ساٹھ سال کے بیمار بڈھے سےسوہنی جمیلہ کی شادی، یہی سوچ کر کی گئ تھی کہ وہ اپنے شوہر کے اپنے سے بڑے بچوں کی اور بیمار شوہر کی خدمت کرے گی۔ لیکن وہ اس گاءوں کے ایک نوجوان کے عشق میں مبتلا ہو کر اپنے شوہر اور اسکے بچوں کے ہاتھوں اچھی طرح پٹنے کے بعد اس رات کلہاڑی لیکر اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ اور اپنے شوہر کو للکار کے اٹھاتی ہے۔ یہاں سے ڈرامہ اپنے کلائمیکس میں داخل ہوتا ہے۔ وہ اپنی کلہاڑی لہراتی ہوئ اسکے سینے پر مارتی ہے اور کہتی ہے، 'جا میں نے تجھے طلاق دی'۔ اسی طرح تین کلہاڑیوں کے وار کے ساتھ تین طلاقیں اس مرد کے حصے میں آتی ہیں۔ سوہنی سی جمیلہ کو پھانسی ہوجاتی ہے۔ لیکن جمیلہ کا کردار معاشرتی نا انصافیوں کے خلاف اٹھنے والی ایک مضبوط آواز ہے اور وہ جہاں کہیں بھی ہے، میں اسکے ساتھ ہوں۔
اب سے کچھ عرصے پہلے ٹی وی پر ایک بسکٹ کا اشتہار آتا تھا۔ جس میں ایک لڑکی جو غالباً کسی ہوسٹل میں رہ رہی ہوتی ہے اپنی ماں سے بسکٹ کھاتے ہوئے فون پر باتیں کر رہی ہوتی تھی۔ اور وہ بسکٹ کھانے میں اتنی مگن ہوتی ہے کہ جب اسکی ماں کہتی ہیں کہ ہم نے تمہارا رشتہ طے کر دیا ہے تو جواب میں وہ کہتی ہے۔'سپر'۔ یہ بسکٹ کا نام ہے۔ اس وقت فون رکھنے کے بعد وہ لڑکی سوچتی ہے یہ تو کوئ غیر معمولی بات ہوئ۔ پھر بھی بسکٹ کی لذت جیت جاتی ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ایک برانڈ کے بسکٹ کے ساتھ زندگی نہیں گذاری جاتی۔ اور زندگی میں اچھے بسکٹوں کے علاوہ بہت سارے تلخ حقائق ہیں جنہیں بسکٹوں کے سہارے نہیں اڑایا جا سکتا۔
یونیورسٹی میں میری وہ دوستیں جو ہوسٹل میں رہا کرتی تھیں۔ جب کبھی ہم لوگوں کی زبانی یہ بات سنتیں کہ ہمارے دو ہم جماعتوں یا جاننے کی آپس میں پسند کی شادی ہو رہی ہے تو ذرا اترا کر کہتیں۔ ہمارے یہاں ایسا نہیں ہوتا۔ بھئ ہمارے یہاں تو کسی دن اماں یا ابا کا فون آئیگا کہ اگلے ہفتے تمہاری شادی ہو رہی ہے۔ آجاءو۔ بس ہم جائیں گے اور شادی ہو جائے گی۔ میں نے انکے غرور کو کبھی تحسین سے نہیں دیکھا۔ میرا خیال ہے یہ فیوڈل روایات ہیں اور ان پر فخر کرنا اس نظام کو مضبوط کرتا ہے۔
میں ابھی دو دن پہلے تک یہی سمجھتی رہی کہ گھروں سے بھاگ کر شادی کرنے والے اس فرسودہ روائتی نظام کی پیدا وار ہیں۔ لیکن بھلا ہو ہمارے ایک ساتھی بلاگر کا انہوں نے میرے جیسے لوگوں کے علم میں اضافہ فرمایا اور انکشاف کیا کہ یہ وبا ان علاقوں میں ہوتی ہے جہاں ٹیوب ویل نہیں ہوتے ہیں اور ان سے منسلکہ کمرے۔ جہاں جہاں یہ سہولت بہم میسر ہے وہاں وہاں گھروں سے بھاگنے کی زحمت کوئ نہیں کرتا۔ اے کاش، جب آدم اور حوا کو زمین پر نا فرمان کہہ کر بھیجا گیا تھا تو ایک ٹیوب ویل بھی بھیج دیا جاتا اس سے ہابیل قابیل کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچ جاتے اور ہمیں بھی اس وقت اس مسئلے کا سامنا نہ ہوتا۔ یعنی ہمارے نوجوان گھروں سے بھاگ کر شادیاں نہ کرتے۔ صرف اسی انکشاف پر انکی انگلیاں نہیں رکتیں۔ بلکہ وہ روائت پسندوں کی اس بات کو دہراتے ہیں کہ عورتیں تو ہوتی ہیں ریا کار، اور جیسے ہی انہیں موقع ملتا ہے وہ اپنی تخلیق میں موجود برائیوں کو سامنے لے آتی ہیں۔ مختصراً یہ کہ عورت کی تخلیق بس برائ کے خمیر سے اٹھائ گئ ہے۔ خیر، یہ وہ چیز ہے جو انہوں نے اپنی زندگی کے سفر میں مختلف مراحل سے گذر کر سیکھی ہو گی۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ انکے چاہنے والوں میں چند ایک کے علاوہ سب انکے عظیم خیالات کو سراہتے ہیں۔ ان میں سے بھی چند کو صرف یہ اعتراض ہے کہ بات کہنے کا انداز مناسب نہیں۔ اس غضب کی بات کو ذرا مناسب الفاظ میں کہا جاتا تو----------۔
اول تو میں ان سے یہ پوچھنا چاہونگی ہمارے صدر صاحب کے بارے میں کیا خیال ہے جب وہ اپنی مرحومہ بیگم کی تصویر گلے میں لٹکائے بیرون ملک امداد کی درخواست کرتے نظر آتے ہیں۔ اور پھر نیو یارک کے ایک فلیٹ کے قصے-----ریاکاری کی مثالیں اگر آپ ڈھونڈنے نکلیں تو شاید آپکی صنف کا کوئ مقابلہ نہ کرسکے۔ جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ عورت تھی جس کی وجہ سے ہم جنت سے نکلے تو نا انصافی کا پہلا بیج وہاں بویا جاتا ہے۔اس سے ملتے جلتے تمام بیانات یہودیوں اور عیسائیوں کے ذرائع سے حاصل کر کے ہماری تفسیروں میں ڈالے گئے ہیں۔تاکہ پدری نظام کو سپورٹ ملتی رہے۔ ہماری مذہبی کتاب میں اس بہکانے کے متعلق کوئ ہلکا سا اشارہ بھی موجود نہیں۔البتہ رسول للہ جب پہلی وحی کے بعد جب کسی کو اس میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو یہ ایک خاتون ہی ہوتی ہیں۔
آپکے نظام میں یہ معاشرتی کمزوریاں ابھی سے نہیں آئ ہیں۔ بلکہ یہ اس وقت بھی موجود تھیں جب سوہنی کچے گھڑے پر دریا تیر کر پہنچ رہی تھی، جب ہیر رانجھے کی بانسری سن رہی تھی اور جب صاحباں اپنے مرزا کے ساتھ بھاگنے کے تیار کھڑی تھی۔ ان کہانیوں کا دلچسپ عنصر یہ ہے کہ یہ سب شادی شدہ خواتین کہی جاتی ہیں۔ انہیں گھڑے ہوئے قصے کہا جا سکتا ہے لیکن ایسے قصے اس دور کے مزاج اور سوچ کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ وہ وقت تھا کہ ٹیوب ویل وجود میں نہیں آیا تھا شاید اسی لئے ان برائیوں کو اپنے پیر جمانے کے موقع مل گیا۔
میرا تعلق اس شہر سے ہے جسے ایک عورت مائ کولاچی کے نام سے بسایا گیا۔ اپنے ساتھی بلاگر کی معلومات میں ، میں بھی کچھ اضافہ کرنا چاہونگی کہ اسی زمین سے ماروی اور سسی جیسی عورتوں نے جنم لیا۔ شاید آپکے علم میں ہو کہ ماروی ایک سال تک اپنے شوہر سے الگ بادشاہ کے محل میں رہی مگر اس نے اس محل میں رہنے سے انکار کر کے اپنے شوہر کے ساتھ رہنے پر ترجیح دی۔ اسکے بیحد اصرار پر جب وہ واپس آئ تو بعض روایات کے تحت اسے اپنی پاکیزگی ثابت کرنے کے لئے ایک آزمائسشی امتحان سے گذرنا پڑا۔ جبکہ سسی اپنے محبوب شوہر سے ملنے کی کٹھنائیوں سے گذرتے ہوئے مر گئ۔ دنیا کی تاریخ اور ادب جو کہ بیشتر مردوں نے لکھا ہے اس میں بھی ایماندار اور غیر جانبدار مردوں کے لکھے ہوئے الفاظ عورتوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ اگر عورت صرف ریاکاری اور جسمانی تعلق کے لئے ہر کام کر گذرنے والی مخلوق کا نام ہوتا تو آج اقبال فاطمہ بنت عبداللہ پر نظم نہ لکھتے۔ یہی نہیں فاضل قلمکارجب چالیس سالہ مردوں کےحیات کے گوشوں پر سے پردے اٹھاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ خود کسقدر فیوڈل نظام کی سوچوں کے زیر اثر ہیں۔
ایک عجیب بات یہ بھی ہے کہ اسی ڈیڑھ کروڑ سے زائد آبادی والے کراچی میں یہ واقعات بہت کم سننے میں آتے ہیں۔ جبکہ یہاں ٹیوب ویل بھی نہیں ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ روزانہ لاکھوں مرد اور عورت صبح اپنے گھروں کو چھوڑتے ہیں اور نو دس گھنٹے گذار کر اپنے گھروں کو واپس پہنچتے ہیں۔ اچھی خاصی خواتین کے شوہر شہر یا ملک سے باہر رہتے ہیں۔ نو جوان لڑکیاں بلا کھٹکے ادھر ادھر بازاروں، تعلیمی اداروں، ملازمتی مقامات اور تفریح کے لئے اپنے مرد رشتے داروں کے تحفظی ساتھ کے بغیر آتی جاتی ہیں۔ ان میں سے بیشتر اپنے والدین کی مرضی سے شادی کرتی ہیں اور شادی شدہ جوڑوں کی اکثریت ایک مطمئن زندگی گذارتی ہے۔ یہاں اگر آنر کلنگ کے واقعات سنائ بھی دیتے ہیں تو انکا تعلق شاید ہی یہاں بسنے والی اکثریتی طبقے سے ہو۔ اب یہاں ٹیوب ویل نہ ہونے کے باوجود ایسا کیوں ہے۔ اسپر کوئ کچھ روشنی ڈالنا پسندکرے گا۔ یا ابھی آپ اسی قسم کا کوئ چٹخارے دار بلاگ پڑھ رہے ہیں۔
ڈرامہ بری
آنر کلنگ-۱
آنر کلنگ-۲
مرکزی خیال ماخوذ
کہانی کے کئ زنانہ کرداروں میں جو کہ جیل میں اپنے مقدمات کے فیصلے کا انتظار کر رہی تھیں ایک کردار جمیلہ کا تھا۔ سولہ سال کی عمر میں ایک ساٹھ سال کے بیمار بڈھے سےسوہنی جمیلہ کی شادی، یہی سوچ کر کی گئ تھی کہ وہ اپنے شوہر کے اپنے سے بڑے بچوں کی اور بیمار شوہر کی خدمت کرے گی۔ لیکن وہ اس گاءوں کے ایک نوجوان کے عشق میں مبتلا ہو کر اپنے شوہر اور اسکے بچوں کے ہاتھوں اچھی طرح پٹنے کے بعد اس رات کلہاڑی لیکر اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ اور اپنے شوہر کو للکار کے اٹھاتی ہے۔ یہاں سے ڈرامہ اپنے کلائمیکس میں داخل ہوتا ہے۔ وہ اپنی کلہاڑی لہراتی ہوئ اسکے سینے پر مارتی ہے اور کہتی ہے، 'جا میں نے تجھے طلاق دی'۔ اسی طرح تین کلہاڑیوں کے وار کے ساتھ تین طلاقیں اس مرد کے حصے میں آتی ہیں۔ سوہنی سی جمیلہ کو پھانسی ہوجاتی ہے۔ لیکن جمیلہ کا کردار معاشرتی نا انصافیوں کے خلاف اٹھنے والی ایک مضبوط آواز ہے اور وہ جہاں کہیں بھی ہے، میں اسکے ساتھ ہوں۔
اب سے کچھ عرصے پہلے ٹی وی پر ایک بسکٹ کا اشتہار آتا تھا۔ جس میں ایک لڑکی جو غالباً کسی ہوسٹل میں رہ رہی ہوتی ہے اپنی ماں سے بسکٹ کھاتے ہوئے فون پر باتیں کر رہی ہوتی تھی۔ اور وہ بسکٹ کھانے میں اتنی مگن ہوتی ہے کہ جب اسکی ماں کہتی ہیں کہ ہم نے تمہارا رشتہ طے کر دیا ہے تو جواب میں وہ کہتی ہے۔'سپر'۔ یہ بسکٹ کا نام ہے۔ اس وقت فون رکھنے کے بعد وہ لڑکی سوچتی ہے یہ تو کوئ غیر معمولی بات ہوئ۔ پھر بھی بسکٹ کی لذت جیت جاتی ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ایک برانڈ کے بسکٹ کے ساتھ زندگی نہیں گذاری جاتی۔ اور زندگی میں اچھے بسکٹوں کے علاوہ بہت سارے تلخ حقائق ہیں جنہیں بسکٹوں کے سہارے نہیں اڑایا جا سکتا۔
یونیورسٹی میں میری وہ دوستیں جو ہوسٹل میں رہا کرتی تھیں۔ جب کبھی ہم لوگوں کی زبانی یہ بات سنتیں کہ ہمارے دو ہم جماعتوں یا جاننے کی آپس میں پسند کی شادی ہو رہی ہے تو ذرا اترا کر کہتیں۔ ہمارے یہاں ایسا نہیں ہوتا۔ بھئ ہمارے یہاں تو کسی دن اماں یا ابا کا فون آئیگا کہ اگلے ہفتے تمہاری شادی ہو رہی ہے۔ آجاءو۔ بس ہم جائیں گے اور شادی ہو جائے گی۔ میں نے انکے غرور کو کبھی تحسین سے نہیں دیکھا۔ میرا خیال ہے یہ فیوڈل روایات ہیں اور ان پر فخر کرنا اس نظام کو مضبوط کرتا ہے۔
میں ابھی دو دن پہلے تک یہی سمجھتی رہی کہ گھروں سے بھاگ کر شادی کرنے والے اس فرسودہ روائتی نظام کی پیدا وار ہیں۔ لیکن بھلا ہو ہمارے ایک ساتھی بلاگر کا انہوں نے میرے جیسے لوگوں کے علم میں اضافہ فرمایا اور انکشاف کیا کہ یہ وبا ان علاقوں میں ہوتی ہے جہاں ٹیوب ویل نہیں ہوتے ہیں اور ان سے منسلکہ کمرے۔ جہاں جہاں یہ سہولت بہم میسر ہے وہاں وہاں گھروں سے بھاگنے کی زحمت کوئ نہیں کرتا۔ اے کاش، جب آدم اور حوا کو زمین پر نا فرمان کہہ کر بھیجا گیا تھا تو ایک ٹیوب ویل بھی بھیج دیا جاتا اس سے ہابیل قابیل کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچ جاتے اور ہمیں بھی اس وقت اس مسئلے کا سامنا نہ ہوتا۔ یعنی ہمارے نوجوان گھروں سے بھاگ کر شادیاں نہ کرتے۔ صرف اسی انکشاف پر انکی انگلیاں نہیں رکتیں۔ بلکہ وہ روائت پسندوں کی اس بات کو دہراتے ہیں کہ عورتیں تو ہوتی ہیں ریا کار، اور جیسے ہی انہیں موقع ملتا ہے وہ اپنی تخلیق میں موجود برائیوں کو سامنے لے آتی ہیں۔ مختصراً یہ کہ عورت کی تخلیق بس برائ کے خمیر سے اٹھائ گئ ہے۔ خیر، یہ وہ چیز ہے جو انہوں نے اپنی زندگی کے سفر میں مختلف مراحل سے گذر کر سیکھی ہو گی۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ انکے چاہنے والوں میں چند ایک کے علاوہ سب انکے عظیم خیالات کو سراہتے ہیں۔ ان میں سے بھی چند کو صرف یہ اعتراض ہے کہ بات کہنے کا انداز مناسب نہیں۔ اس غضب کی بات کو ذرا مناسب الفاظ میں کہا جاتا تو----------۔
اول تو میں ان سے یہ پوچھنا چاہونگی ہمارے صدر صاحب کے بارے میں کیا خیال ہے جب وہ اپنی مرحومہ بیگم کی تصویر گلے میں لٹکائے بیرون ملک امداد کی درخواست کرتے نظر آتے ہیں۔ اور پھر نیو یارک کے ایک فلیٹ کے قصے-----ریاکاری کی مثالیں اگر آپ ڈھونڈنے نکلیں تو شاید آپکی صنف کا کوئ مقابلہ نہ کرسکے۔ جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ عورت تھی جس کی وجہ سے ہم جنت سے نکلے تو نا انصافی کا پہلا بیج وہاں بویا جاتا ہے۔اس سے ملتے جلتے تمام بیانات یہودیوں اور عیسائیوں کے ذرائع سے حاصل کر کے ہماری تفسیروں میں ڈالے گئے ہیں۔تاکہ پدری نظام کو سپورٹ ملتی رہے۔ ہماری مذہبی کتاب میں اس بہکانے کے متعلق کوئ ہلکا سا اشارہ بھی موجود نہیں۔البتہ رسول للہ جب پہلی وحی کے بعد جب کسی کو اس میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو یہ ایک خاتون ہی ہوتی ہیں۔
آپکے نظام میں یہ معاشرتی کمزوریاں ابھی سے نہیں آئ ہیں۔ بلکہ یہ اس وقت بھی موجود تھیں جب سوہنی کچے گھڑے پر دریا تیر کر پہنچ رہی تھی، جب ہیر رانجھے کی بانسری سن رہی تھی اور جب صاحباں اپنے مرزا کے ساتھ بھاگنے کے تیار کھڑی تھی۔ ان کہانیوں کا دلچسپ عنصر یہ ہے کہ یہ سب شادی شدہ خواتین کہی جاتی ہیں۔ انہیں گھڑے ہوئے قصے کہا جا سکتا ہے لیکن ایسے قصے اس دور کے مزاج اور سوچ کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ وہ وقت تھا کہ ٹیوب ویل وجود میں نہیں آیا تھا شاید اسی لئے ان برائیوں کو اپنے پیر جمانے کے موقع مل گیا۔
میرا تعلق اس شہر سے ہے جسے ایک عورت مائ کولاچی کے نام سے بسایا گیا۔ اپنے ساتھی بلاگر کی معلومات میں ، میں بھی کچھ اضافہ کرنا چاہونگی کہ اسی زمین سے ماروی اور سسی جیسی عورتوں نے جنم لیا۔ شاید آپکے علم میں ہو کہ ماروی ایک سال تک اپنے شوہر سے الگ بادشاہ کے محل میں رہی مگر اس نے اس محل میں رہنے سے انکار کر کے اپنے شوہر کے ساتھ رہنے پر ترجیح دی۔ اسکے بیحد اصرار پر جب وہ واپس آئ تو بعض روایات کے تحت اسے اپنی پاکیزگی ثابت کرنے کے لئے ایک آزمائسشی امتحان سے گذرنا پڑا۔ جبکہ سسی اپنے محبوب شوہر سے ملنے کی کٹھنائیوں سے گذرتے ہوئے مر گئ۔ دنیا کی تاریخ اور ادب جو کہ بیشتر مردوں نے لکھا ہے اس میں بھی ایماندار اور غیر جانبدار مردوں کے لکھے ہوئے الفاظ عورتوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ اگر عورت صرف ریاکاری اور جسمانی تعلق کے لئے ہر کام کر گذرنے والی مخلوق کا نام ہوتا تو آج اقبال فاطمہ بنت عبداللہ پر نظم نہ لکھتے۔ یہی نہیں فاضل قلمکارجب چالیس سالہ مردوں کےحیات کے گوشوں پر سے پردے اٹھاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ خود کسقدر فیوڈل نظام کی سوچوں کے زیر اثر ہیں۔
ایک عجیب بات یہ بھی ہے کہ اسی ڈیڑھ کروڑ سے زائد آبادی والے کراچی میں یہ واقعات بہت کم سننے میں آتے ہیں۔ جبکہ یہاں ٹیوب ویل بھی نہیں ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ روزانہ لاکھوں مرد اور عورت صبح اپنے گھروں کو چھوڑتے ہیں اور نو دس گھنٹے گذار کر اپنے گھروں کو واپس پہنچتے ہیں۔ اچھی خاصی خواتین کے شوہر شہر یا ملک سے باہر رہتے ہیں۔ نو جوان لڑکیاں بلا کھٹکے ادھر ادھر بازاروں، تعلیمی اداروں، ملازمتی مقامات اور تفریح کے لئے اپنے مرد رشتے داروں کے تحفظی ساتھ کے بغیر آتی جاتی ہیں۔ ان میں سے بیشتر اپنے والدین کی مرضی سے شادی کرتی ہیں اور شادی شدہ جوڑوں کی اکثریت ایک مطمئن زندگی گذارتی ہے۔ یہاں اگر آنر کلنگ کے واقعات سنائ بھی دیتے ہیں تو انکا تعلق شاید ہی یہاں بسنے والی اکثریتی طبقے سے ہو۔ اب یہاں ٹیوب ویل نہ ہونے کے باوجود ایسا کیوں ہے۔ اسپر کوئ کچھ روشنی ڈالنا پسندکرے گا۔ یا ابھی آپ اسی قسم کا کوئ چٹخارے دار بلاگ پڑھ رہے ہیں۔
ڈرامہ بری
آنر کلنگ-۱
آنر کلنگ-۲
مرکزی خیال ماخوذ

![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)
