Showing posts with label جاپان. Show all posts
Showing posts with label جاپان. Show all posts

Friday, March 16, 2012

لہو کے رنگ شخصیت پہ


آپ کسی کو پہلا پہلا محبت نامہ بھیجیں اور وہ یہ لکھ بھیجے کہ ہم دونوں کی راہیں ایک نہیں ہو سکتیں۔ میرے خون کا گروپ اے ہے اور آپکا او۔ جو لوگ  او گروپ رکھتے ہیں وہ مغرور ہوتے ہیں جبکہ اے گروپ والے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ پڑھتے ہی آپ اس دن کو لعنت بھیجیں گے جب یہ معلوم ہوا کہ خون ایک طرح کا نہیں ہوتا بلکہ اسکے گروپس ہوتے ہیں اسکے بعد آپ کسی جاننے والے کا نمبر کھڑکھڑائیں گے کہ یار ایک رپورٹ بنا دو جس میں میرا خون کا گروپ اے ہو۔
پریشان نہ ہو ہوں ایسا ہونے کے امکانات جاپان ، کوریا اور مشرق بعید میں ہی ہیں۔ جہاں بوڑھے سے لے کر بچے تک خون کے گروپ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔  کیونکہ اس سے وہ مقابل کی شخصیت جاننا چاہتے ہیں۔ اس لئے آپ جتنی بار چاہیں محبت کی بازی کھیلئیے۔ ہم اور آپ تو یہی سمجھتے ہیں کہ خون کا گروپ صرف اس وقت معلوم ہونا ضروری ہے جب کسی انسان کو انتقال خون کی ضرورت پیش آجائے ورنہ  بیٹھ کر سکھ چین کی بانسری بجا۔

جاپان میں خون کا گروپ پوچھنے کی روایت لوگوں کے آسمانی برج پوچھنے سے زیادہ ہے حتی کہ بعض جگہ پہ ملازمت کی درخواست میں خون کا گروپ بتانا ضروری ہوتا ہے۔ ان میں سے بعض ممالک میں فیس بک اپنے استعمال کرنے والوں کو خون کے گروپ  کا آپشن بھی دیتی ہے، دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا۔
مزید باتوں سے پہلے ہم پہلے یہ دیکھ لیں کہ جاپانی خون کے مختلف گروپس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ خون کہ یہ گروپس اے بی او نظام سے لئے جاتے ہیں یعنی  خون کی درجہ بندی کا وہ نظام جس میں خون کے بنیادی چار گروپس ہیں۔ اے، بی، او اور اے بی گروپس۔

اے گروپ؛
یہ گروپ رکھنے والے معتبر، ایماندار، با اصول،صابر، ذمہ دار ہوتے ہیں۔ انکی ایک اور خوبی اکملیت پسندی ہے یعنی کام کو اس طرح کرنا کہ اس میں کوئ کمی نہ رہ جائے۔ وہ باہر سے پر سکون نظر آتے ہیں لیکن اندرونی طور پہ مضطرب رہتے ہیں۔  یہ اچھی جمالیاتی حس رکھتے ہیں۔ اکثر شرمیلے اور حساس ہوتے ہیں۔
منفی خصوصیات؛ نازک مزاج، لوگوں سے کٹ کر رہنے والے، ضدی لوگ جو تناءو کا شکار ہو جاتے ہیں۔

بی گروپ؛
یہ بڑے مستحکم مزاج ہوتے ہیں۔اپنے اہداف حاصل کرنے میں جنون کی حد تک دلچسپی رکھتے ہیں۔ جو کام شروع کرتے ہیں اسے اپنے وقت میں بہترین طریقے سے ختم کر کے ہی دم لیتے ہیں۔ یہ گروپ رکھنے والے افراد زندگی اپنے طور پہ گذارتے ہیں۔
منفی خصوصیات؛ خود غرض، سست، معاف نہ کرنے والے، ناقابل بھروسہ، غیر ذمہ دار لوگ۔
اے بی گروپ؛
یہ خاصے دلچسپ لوگ ہوتے ہیں۔ قابل اعتبار، ایماندار لوگوں کی مدد کرنے پہ تیار، خوداعتماد۔ کہا جاتا ہے کہ یہ افراد دوہری شخصیات رکھتے ہیں۔ شاید اسکی وجہ یہ ہو کہ ان میں اے اور بی دونوں گروپ والے افراد کی خصوصیات پائ جاتی ہیں۔
منفی خصوصیات؛ ناقد، فیصلے کی صلاحیت سے محروم، خود غرض، گھٹیا لوگ۔
او گروپ؛
یہ گروپ رکھنے والے افراد بڑے تخلیق کار ہوتے ہیں۔ خوداعتماد اور مشہور ہوتے ہیں۔ انہیں مرکز نگاہ بننے میں مزہ آتا ہے۔ سماجی طور پہ متحرک یہ لوگ کسی کام کو شروع کرنے میں ہمیشہ پہل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ رہنمائ کے خواص رکھتے ہیں۔ یہ جو کام شروع کریں اسے ختم بڑی مشکل سے کرتے ہیں۔
منفی خصوصیات؛ باتونی، مغرور، حاسدی، غیر مہذب۔
اب ان خواص کو سامنے رکھتے ہوئے آپ بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کون سا خون کا گروپ کس کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔
اے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اے اور اے بی کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھتا ہے۔
بی، بی اور اے بی کے ساتھ بخوشی چلتا ہے
اے بی، ہر ایک کے ساتھ نبھا لیتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اے بی گروپ رکھنے والے افراد باقی دوسرے گروپ والوں کا خون بھی قبول کر سکتے ہیں اور یونیورسل ایکسیپٹر کہلاتے ہیں۔
اور گروپ رکھنے والے او اور اے بی کے ساتھ راضی بازی رہتے ہیں۔

سائینس، اس تمام تفصیل پہ کچھ خاص یقین نہیں رکھتی اگرچہ کہ اس ضمن میں ڈیٹا اکٹھا کر کے نتائج نکالنے کی کوشش کی گئ لیکن چند ایک حقائق کے علاوہ کچھ ثابت نہ ہو سکا۔
توہم پرستی اور عقیدے میں اتنا ہی معمولی فرق ہے ایک کو جانچنے کی کوشش کی جا سکتی ہے دوسرے کے بارے میں یہ سوچنا بھی محال ہے۔
نیچے چارٹ میں دئیے گئے ممالک میں خون کے مختلف گروپس کے پائے جانے کی شرح موجود ہے۔ اور اس سے آپ بھی اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ وہم کس حد تک درست ہوسکتا ہے۔
کیونکہ اس سے ایک بات پتہ چلتی ہے وہ یہ کہ او گروپ ساری دنیا میں کثیر تعداد پایا جاتا ہے۔ لیکن کیا اسی شرح سے خود اعتماد اور مشہور لوگ بھی پائَے جاتے ہیں ایسے لوگ جو پہل کرنے میں آگے ہوں؟

ملک آبادی O+ A+ B+ AB+ O- A- B- AB-
آسٹریلیا 21,262,641 40.0% 31.0% 8.0% 2.0% 9.0% 7.0% 2.0% 1.0%
آسٹریا 8,210,281 30.0% 33.0% 12.0% 6.0% 7.0% 8.0% 3.0% 1.0%
بیلجیئم 10,414,336 38.0% 34.0% 8.5% 4.1% 7.0% 6.0% 1.5% 0.8%
برازیل 198,739,269 36.0% 34.0% 8.0% 2.5% 9.0% 8.0% 2.0% 0.5%
کینیڈا 33,487,208 39.0% 36.0% 7.6% 2.5% 7.0% 6.0% 1.4% 0.5%
زیک ریپبلک 10,532,770 27.0% 36.0% 15.0% 7.0% 5.0% 6.0% 3.0% 1.0%
ڈنمارک 5,500,510 35.0% 37.0% 8.0% 4.0% 6.0% 7.0% 2.0% 1.0%
ایسٹونیا 1,299,371 30.0% 31.0% 20.0% 6.0% 4.5% 4.5% 3.0% 1.0%
فن لینڈ 5,250,275 27.0% 38.0% 15.0% 7.0% 4.0% 6.0% 2.0% 1.0%
فرانس 62,150,775 36.0% 37.0% 9.0% 3.0% 6.0% 7.0% 1.0% 1.0%
جرمنی 82,329,758 35.0% 37.0% 9.0% 4.0% 6.0% 6.0% 2.0% 1.0%
ہانگ کانگ 7,055,071 40.0% 26.0% 27.0% 7.0% 0.3% 0.2% 0.1% 0.1%
آئس لینڈ 306,694 47.6% 26.4% 9.3% 1.6% 8.4% 4.6% 1.7% 0.4%
انڈیا 1,166,079,217 36.5% 22.1% 30.9% 6.4% 2.0% 0.8% 1.1% 0.2%
آئر لینڈ 4,203,200 47.0% 26.0% 9.0% 2.0% 8.0% 5.0% 2.0% 1.0%
اسرائیل 7,233,701 32.0% 34.0% 17.0% 7.0% 3.0% 4.0% 2.0% 1.0%
نیدر لینڈز 16,715,999 39.5% 35.0% 6.7% 2.5% 7.5% 7.0% 1.3% 0.5%
نیوزی لینڈ 4,213,418 38.0% 32.0% 9.0% 3.0% 9.0% 6.0% 2.0% 1.0%
ناروے 4,660,539 34.0% 42.5% 6.8% 3.4% 6.0% 7.5% 1.2% 0.6%
پولینڈ 38,482,919 31.0% 32.0% 15.0% 7.0% 6.0% 6.0% 2.0% 1.0%
پرتگال 10,707,924 36.2% 39.8% 6.6% 2.9% 6.0% 6.6% 1.1% 0.5%
سعودی عرب 28,686,633 48.0% 24.0% 17.0% 4.0% 4.0% 2.0% 1.0% 0.3%
جنوبی افریقہ 49,320,000 39.0% 32.0% 12.0% 3.0% 7.0% 5.0% 2.0% 1.0%
اسپین 40,525,002 36.0% 34.0% 8.0% 2.5% 9.0% 8.0% 2.0% 0.5%
سوِئیڈن 9,059,651 32.0% 37.0% 10.0% 5.0% 6.0% 7.0% 2.0% 1.0%
ترکی 76,805,524 29.8% 37.8% 14.2% 7.2% 3.9% 4.7% 1.6% 0.8%
برطانیہ 61,113,205 37.0% 35.0% 8.0% 3.0% 7.0% 7.0% 2.0% 1.0%
ریاست ہائے متحدہ امریکہ 307,212,123 37.4% 35.7% 8.5% 3.4% 6.6% 6.3% 1.5% 0.6%











خون کے یہ گروپس کس طرح وجود میں آئے سائینس اس بارے میں اپنے نظریات رکھتی ہے لیکن کچھ سوالات ہم ضرور پوچھنا چاہیں گے۔
کیا تقسیم کرو حکومت کرو، یہ پالیسی خدا نے بھی اپنائ ہے۔ اس لئے بظاہر سرخ سیال نظر آنے والا  خون تک  جدا کر ڈالا۔؟
خون کے گروپس کیا خدا نے اس لئے بنائے ہیں کہ بیسویں صدی میں خون بیچنے اور خریدنے کا کاروبار ہو سکے؟
کیا یہ گروپ اس لئے بنائے گئے کہ انکی بنیاد پہ انسانوں کی خصوصیات معلوم کی جا سکیں؟
یا یہ انسان کے ارتقاء کے دوران وجود میں آئے؟

  

Saturday, June 4, 2011

او رے گیمی بولے تو اوری گیمی

وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی تو یاد ہوگا۔ لیکن کاغذ  ، ہاتھ اور خوشی کا تعلق،  بچپن کی ان کشتیوں  پہ نہیں ختم ہوتا۔  یہ مجھے اس وقت پتہ چلا جب ہمیں ایک جاپانی استاد ملے۔ یہاں وہ پہنچے تو انکی بیگم بھی ہمراہ تھیں۔ یہ  ستّر سالہ خاتون اکیلے یہاں کیا کرتی رہتی ہیں۔ جاپانی تو خدا پہ یقین نہیں رکھتے،  ایسا بھی نہیں کہ تسبیح گھماتے ہوئے آخری وقت کے سہل ہو جانے کا بندو بست کرتی رہتی ہوں۔ ہمارے شہر میں کوئ ڈھنگ کی تفریحی جگہ، میوزیم یا لائبریری کچھ بھی تو نہیں ہے۔ رشتے دار بھی نہیں کہ انکی غیبت کر کے وقت گذاریں، زبان بھی انہیں یہاں کی نہیں آتی کہ نوکروں سے حال احوال معلوم کرتی رہیں۔  آخر یہ کیا کرتی رہتی ہیں۔
کسی نے بتایا  بیشتر اوقات کاغذ کے کھلونے تیار کرتی ہیں۔ جب ایک معقول تعداد میں بن جاتے ہیں تو انہِن جاپان کے کسی اسکول بھجوا دیتی ہیں۔ کس قدر عجیب سنَکی ہوئ قوم ہے۔ کس قدر غیر دلچسپ چیز میں وقت لگاتی ہیں۔ کھلونے وہ بھی کاغذ کے۔
کاغذ کی جاپان میں بڑی اہمیت ہے۔ ہم چند لائینیں لکھ کر کاغذ کو پھینک دینے میں کوئ حرج نہیں سمجھتے۔ ہمارے جاپانی پروفیسر، جب کچھ سمجھانے بیٹھتے تو کاغذ کا سینٹی میٹر بھی نہ بچ پاتا۔ جب تک وہ اچھی طرح بھر نہ جاتا دوسرے صفحے پہ نہیں لکھتے تھے۔
خیر، میں کاغذ کے کھلونوں کے متعلق بتا رہی تھی۔ جاپانی زبان میں اس کے لئے ایک لفظ مخصوص ہے اور وہ ہے اوریگیمی۔ اس مخصوص طریقے میں کاغذ کو اس طرح تہیں دی جاتی ہیں کہ وہ ایک کھلونے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
اگرچہ کہ اسکے آغاز کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کیا جا سکتا کہ کاغذ کو محفوظ رکھنا مشکل ہوتا ہے اور اسکے قدیم نسخے اس وجہ سے دستیاب نہیں۔ اس لئے چین اور یوروپ کا بھی نام لیا جاتا ہے کہ وہاں پہ  یہ ایک ہزار عیسوی کے دوران موجود تھی۔ لیکن ثبوت اس کا موجود ہے کہ اس کا باقاعدہ آغاز جاپان میں سترہویں صدی میں ہوا اور انیسویں صدی میں اسکی شہرت جاپان سے باہر پھیلنا شروع ہوئ۔ ایہارا سائکاکو ایک کی نظم میں کاغذ کی تتلیوں کا تذکرہ ہے یہ سترہویں صدی کا ایک جاپانی شاعر ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تقریباً ایک ہزار عیسوی میں میں جاپان میں شادیوں میں کاغذ کو تہہ کر کے تتلیاں بنانے کی روایت موجود تھی۔
اوریگیمی کے لئے جاپان میں مخصوص کاغذ استعمال ہوتا ہے جسے واشی کہتے ہیں۔ یہ مخصوص کاغذ اس طرح تیار کیا جاتا ہے کہ  تہوں کو برداشت کر سکے ۔ یہ ڈھائ سینٹی میٹر سے پچیس سینٹی میٹر تک کے سائز میں ملتے ہیں۔ عام طور پہ ایک سطح سفید اور دوسری رنگدار ہوتی ہے لیکن ڈیزائن والے کاغذ بھی ملتے ہیں۔
روائیتی جاپانی اوریگیمی سے الگ  کاغذ کے علاوہ کسی بھی ایسی چیز کو استعمال کر سکتے ہیں جس کی تہہ بنائ جا سکے اور وہ تہہ قائم رہ سکے۔ مثلاً ایلومینیئم فوائل۔ ایک اور خاص مادہ ملتا ہے جس میں ایلومینیئم فوائل کے اوپر ٹشو کو اچھی طرح چپکا لیا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ  ہمم، نوٹوں کا کاغذ بھی استعمال ہو سکتا ہے۔
اگرچہ کے روائیتی اوریگیمی میں اوزار استعمال کرنے کا تصور نہیں۔ لیکن تہوں کو بہتر بنانے کے لئے اسکیل اور ٹوئزر کی مدد لی جا سکتی ہے۔ ہاتھ کی انگلیاں ناکافی پڑ رہی ہوں تو کلپس کام میں لائے جا سکتے ہیں۔
اوریگیمی سے حرکت کرنے والے کھلونے بنائے جا سکتے ہیں اس طرح کے انکی حرکت کے لئے آپ اپنے ہاتھ کی انگلیاں استعمال کر سکیں۔ جیسے ہاتھ کی پتلیاں ہوتی ہیں۔ اس طرح ایک اڑتا ہوا پرندہ یا کھلتا ہوا پھول بنانا کوئ مشکل کام نہیں۔
سہہ جہتی کھلونے بنانا بھی اوریگیمی میں ممکن ہے، جبکہ تہوں کو بالکل واضح رکھنے کے بجائے نرمی کا تائثر دینے کے لئے کاغذ کو بھگویا جا سکتا ہے۔



معذور بچوں کی دلچسپی کے لئے ایسی اوریگیمی کے طریقے بھی موجود ہیں جن میں کاغذ کی تہہ کو پلٹا نہیں جاتا۔ اس طرح تہہ کے اندر پیچیدگی نہیں پیدا ہو پاتی۔ اور ایک ذہنی طور پہ سست بچے کو بھی یہ کرنا آسان ہوتی ہے۔ اس طرح اوریگیمی ذہنی طور پہ معذور بچوں کے لئے بھی ایک دلچسپ مشغلہ ثابت ہو سکتی ہے۔
بہت سارے حصوں کو الگ الگ  بنا کر کسی چیز کی مدد سے جوڑا جا سکتا ہے اس طرح ایک خاصہ بڑا ماڈل تیار ہو سکتا ہے۔
 اب اتنی تفصیلات کے بعد آپ  کے اندر اگر تھوڑی سی بھی خواہش پیدا ہوئ ہے کچھ بنانے کی تو اس سادہ سے ماڈل سے شروع کریں۔

مزید کے لئے ان لنکس کو دیکھیں 


اور جب مہارت حاصل ہو جائے تو یہ ویڈیو دیکھنا مت بھول جائیے گا۔ اس سے آپکو پتہ چلے گا کہ جاپانی ذہنی اور جسمانی مشقت کے کیوں عادی ہوتے ہیں۔ وہ اس نشے کا شکار قوم ہے۔ جیسے ہم جنگ کے نشے میں چور ہیں وہ محنت کے نشے میں مست ہیں۔ ہماری اکثریت ایکدوسرے کو جعلی نصیحتوں کے علاوہ کوئ مشغلہ پالنے میں دلچسپی نہیں رکھتی اور وہ مشغلے کے طور پہ ایک کاغذ کے پرزے پہ بھی اتنی محنت کر ڈالتے ہیں۔


اس کا فائدہ کیا ہوگا؟ جسم سے فاسد خون نکالنے کے لئے ایک زمانے میں جونکیں استعمال کی جاتی تھیں۔ دماغ سے فاسد خیالات  دور رکھنے کے لئے اسے کسی تخلیقی کام میں مصروف کر لیں اس سے آپکی تخلیقی صلاحیت کو جِلا ملے گی۔ تخلیقی کام ایسا ہو جسے کر کے آپکو خوشی اوردوسروں کو حیرانی ہو تو کیا بات ہے۔ تحقیق کہتی ہے کہ جو لوگ تخلیقی کاموں میں لگے رہتے ہیں وہ اپنے آپ سے زیادہ باہردیکھنے لگتے ہیں تاکہ انسپیریشن ملنے کا کوئ لمحہ ضائع نہ چلا جائے۔ 
لیکن کچھ لوگ اتنی زیادہ تانکا جھانکی کرتے ہیں کہ باہر سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ سو یہ بھی ممکن ہے کہ کاغذ کی تہیں لگاتے ہوئے آپ کی  اپنی تہیں کھلنے لگ جائیں۔ اور آپ اپنے آپ سے ملاقات کے قابل ہو سکیں۔
اگر آپ استاد ہیں تو کلاس میں  دلچسپی پیدا کرنے کے لئے مددگار اور طالب علم  متائثر الگ ہونگے۔ لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ گرمیوں کی طویل چھٹیوں میں اپنے گھر کے بچوں کو مصروف رکھیں آجکل بہت سے والدین اسکی تلاش میں ہونگے ۔
وہ پوچھتے ہیں آخر گرمیوں کی چھٹیاں اتنی لمبی کیوں ہوتی ہیں؟

Friday, March 11, 2011

ایک سونامی چاہئیے

اطلاع  ملی کہ جاپان میں شدید زلزلے کے ساتھ سونامی آگئ۔  نیوکلیئر پاور پلانٹ سمیت متعدد مقامات شدید نقصان سے دوچار۔ پاکستان میں کچھ لوگ کف افسوس مل رہے ہونگے کہ یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ یہ سب کچھ ہمارے یہاں ہوتا۔  قدرتی آفات کے نام پہ ہمارے یہاں کچھ لوگوں کی رال ٹپکنے لگ جاتی ہے۔ امداد جو ملتی ہے۔
خیر، اس وقت تو میں یہ خبر پڑھ کر سر دھن رہی ہوں کہ  وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا آج سب سندھ اسمبلی میں داخل ہوئے تو ان کا ڈیسکیں بجا کر گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔  اسکی وجہ یہ نہ تھی کہ انہوں نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کو روکنے کے لئَ کوئ موءثر قدم اٹھا ڈالا تھا، یہ انکا سر درد نہیں۔ اسکی وجہ یہ بھی نہیں تھی کہ وہ موجودہ عہد حکومت کے دوران ہونے والے کراچی میں سنگین واقعات مثلاً پچھلے سال محرم میں ہونے والی دہشت گردی اور لوٹ مار،  کے مجرمین کو وصل جہنم کر آئے تھے اور نہ ہی اسکی وجہ یہ تھی کہ وہ بحیثیت وزیر داخلہ سندھ میں جرائم کی سرکوبی کرنے میں کامیاب رہے اور کراچی سمیت پورے سندھ میں انہوں نے جرائم پیشہ لوگوں لو اپنے انجام تک پہنچادیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پورے کراچی میں پچھلے تین سالوں میں نہ صرف  ڈکیتیوں سے لے کر اغواء برائے تاوان کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ٹارگٹ کلنگ میں ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔
تو پھر انکی پذیرائ کی وجہ کیا ہے؟  اسکی وجہ یہ ہے کہ لیاری کے جرائم پیشہ عناصر کو پیپلز پارٹی کی حفاظت کی چادر اوڑھائ۔ یہ یقیناً سندھ میں پیپلز پارٹی کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ یوں ، پچھلے سال شیر شاہ میں ہونے والے قتل و غارت گری کے مجرموں کو پہلے امن کمیٹی کا تحفظ دیا گیا  اور پھر پیٹھ تھپک کر شاباش دے دی گئ۔ اور اس عمل کو پیپلز پارٹی کے ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل رہی۔ انکا کہنا کہے کہ اس طرح وہ لیاری کے جرائم پیشہ افراد کو مین اسٹریم میں لا رہے ہیں۔ مرنے والے جائیں جہنم میں۔ ویسے بھی انکی اکثریت اردو بولنے والوں سے تعلق رکھتی ہے۔ انکی پرواہ اگر کسی کو کرنی چاہئیے تو وہ ایم کیو ایم ہے۔ پیپلز پارٹی کیوں کرے۔ سب کو اپنے تعصب کی جنگ لڑنی ہے۔
اپنی ایک عوامی تقریر میں وہ فرماتے ہیں کہ
یہ بات بھی کوئ ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ کراچی میں اغواء برائےتاوان اور لوٹ مار کی وارداتیں اب صوبائ حکومت کی سرپرستی میں ہو رہے ہیں۔ اغواء برائے تاوان اور ڈاکے، فیوڈل سسٹم کے کرتا دھرتاءوں کا نشان امتیاز رہے ہیں۔ اور اب شاید ایم کیو ایم سے متائثر ہو کر انہوں نے بھتے کو بھی اپنے منشور میں شامل کر لیا ہے۔ ایم کیو ایم اپنے اس امیج کو دھونے کی کوشش کر رہی ہے تو پیپلز پارٹی نے اسے حاصل کر لیا۔   
اس روئیے کے بعد پاکستانی معاشرے کے مختلف لوگ خدا جانے کس منہ سے یہ بات کرتے ہیں کہ ایم کیو ایم تعصب کی سیاست کرتی ہے فاشسٹ ہے۔ اور ہم نہیں ہیں۔ یہاں سب ایک حمام میں ننگے ہیں۔
ہماری حکمراں جماعت کے حصے میں یہ کارنامہ بھی آیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے خلاف انہوں نے سندھ میں ہڑتال کال کی اور اسے کامیاب بنانے کے لئے ایکدن میں نو سے زائد افراد مارے گئے۔ شہر میں گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا۔ اور انتہائ دلچسپی کی بات یہ کہ ہمارے محبوب صدر کے گھر بلاول ہاءس کے سامنے ہی ایک بس کو جلایا گیا۔ یہ بات تو ہمارے قارئین کو ضرور پتہ ہوگی کہ صدر صاحب، پیپلز پارٹی کے کو چیئر مین ہیں۔ یوں جیالوں کی آزادی، عدلیہ کی آزادی پہ سبقت لے گئ۔
یہ بات ہمارے علم میں نہیں کہ  سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہڑتال کی 'دانشمندانہ، جیالی اور جوسی تجویز' پہ ملکی کال دینے کے بجائے کراچی کو کیوں چنا گیا؟
 خیر، ملکی سیاست پہ ایک ہلکی سی نظر سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ پاکستان میں آزاد غنڈوں کا کوئ تصور نہیں رہا۔ ہر غنڈہ ، بدمعاش شخص کام پہ لگا ہوا ہے۔ کسی نہ کسی سیاسی یا مذہبی تنظیم سے وابستہ ہے۔ مذہبی جماعتوں نے انہیں مجاہد کا نام دیا ہے اور سیاسی جماعتوں نے کارکنوں کا۔
میری عزیز دوست نے اپنے جواں العمر بھائ اور  چار چھوٹی بچیوں کے باپ کے ایسے ہی قتل پہ  آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔ جو لوگ سیاسی غنڈوں کے ہاتھوں قتل ہوتے ہیں۔ انکے لئے انصاف کی داد رسی کس سے چاہیں؟
میرے پاس اس کا جواب نہیں۔ میں تو خوداپنے ملک میں کسی سیاسی سونامی کی منتظر ہوں۔

Sunday, May 24, 2009

خبردار ہم ایک ایٹمی قوت ہیں

اپنے بچپن میں میں ہم ایک کھیل کھیلتے تھے جس میں ہم بچے ایک تخت پہ چڑھ کر بیٹھ جاتے اور ایک فرضیہ بھوت کو تخت کے نیچے محسوس کرتے اور زور زور سے چیختے تھے ایک فرض کئے ہوئے خوف کے زیر اثر۔چیخنے کے بعد بڑا مزہ آتا۔ اور ہر تھوڑی دیر بعد یہ سیشن ہوتا۔ میری نانی کے گھر میں ایک کونے میں پڑا ہوا تخت بس اسی مقصد کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ اسے اڈرینالن ہائپ کہتے ہیں۔ ایک سنسنی سے گذرنا اور پھر اس سے لطف اندوز ہونا کیونکہ کافی دیر تک خون رگوں میں پارہ بن کر بھڑکتا اور دوڑتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں،

پلٹنا جھپٹنا، جھپٹ کر پلٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

لیکن بات پلٹنے جھپٹنے سے کہیں آگے بڑھ چکی ہے۔ اب میدانوں میں شمشیر کے کمال دکھا نے والے شمشیر زن نہیں رہےبلکہ کسی لیبارٹری میں ایک میز پہ جھکا وہ خود غرض شخص ہے جو طاقت کے کھیل میں شامل فریقین کے اڈرینالن ہائپ سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ کیوں اسے بھی تو ناموری کا شوق ہے۔ بد نام جو ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا۔ لاکھوں انسانوں کو بیک جنبش انگلی اس صفحہء ہستی سے مٹا دینا اب ہوا کتنا آسان۔ ایٹم بم کی بدولت۔ اب ہمیں کس کا شکریہ ادا کرنا چاہئیے۔اڈرینالن ہائپ کے شکار حکمرانوں اور انہیں شہہ دینے والی قوتوں کا۔ فوجی ھتھیاروں کی سپلائ کرنے والی صنعتوں کا۔ یا انسانیت کے دشمنوں کاجو انسان نامی مخلوق کو اس دنیا سے مٹانے کی کوششوں میں رات دن مصروف ہیں اور اسی تندہی سے مصنوعی طریقوں انسان پیدا کرنے کی کوششوں میں بھی۔

آئنسٹائن کے نظریہء اضافت کو استعمال کرکے امریکہ نے ایک پروجیکٹ کی بنیاد رکھی۔ جس کا نام رکھا گیا۔ پروجیکٹ مین ہیٹٹن۔اس پروجیکٹ کو جناب آءنسٹائن کی تائید حاصل تھی۔ اس پروجیکٹ میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور یورپ کے طبعیات دان، انجینیئرز اور حساب دان شامل تھے۔ اسکے نتیجے میں بننے والے پہلے ایٹم بم کو دی گڈگت کا نام دیا گیا۔ ۱۹۳۹ ء میں بم بنانے کے کام کا آغاز ہوا۔ اور ۱۹۴۵ میں اسمیں کامیابی حاصل ہوئ۔ اس وقت ان چھ سالوں ،میں اسپروجیکٹ پردو بلین ڈالر کا خرچہ آیا۔ پہلا دھماکہ ا۱۹۴۵ کی جولائ میں میں نیو میکسیکو میں امریکہ صاحب بہادر نے کیا۔

پروجیکٹ مین ہیٹن کے نگراں رابرٹ اوپنار نے پہلے دھماکے کے بعد سر خوشی کے عالم میں کہا۔

'I am become death, the destroyers of world.
'اب میں موت ہوں، دنیاءووں کو نیست ونابود کرنے والا۔

اور اگلے دو دھماکے جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی میں بالترتیب چھ اور نو اگست کو کئے گئے۔انسانی تاریخ میں یہ ایک گھناءونے دن کے طور پہ یاد رکھا جائے گا۔ لاکھوں انسان ، زندہ انسان چشم زدن میں صفحہء ہستی سے نابود ہو گئے۔اور جو بچ گئے وہ نشان عبرت بن گئے ان کی ان نسلوں نے بھی اسے بھگتا جو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئ تھیں۔ دھماکے کے فوراً بعد ہیروشیما میں بم گرنے کے مرکز سے لیکر ڈھائ میل کے علاقے میں ہر جلنے والی چیز جل کر ختم ہو گئ۔ آپ کو پتہ تو ہوگا کہ انسان بھی آگ سے مامون نہیں۔ باقی بچ جانے والے لوگ ایٹم بم سے نکلنے والی تابکار شعاعوں کے شکار ہوئے اور مختلف لاعلاج قسم کے امراض میں مبتلا ہوئے۔ ان کی آنے والی نسلوں میں خون کا کینسر عام تھا۔ اور آج بھی وہ مکمل طور پر اس سے چھٹکارا نہیں پاسکے۔ یہ عذاب خدا نے ان پہ نہیں اتارا تھا۔ یہ بہت سارے انسانوں کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ قدرت نے تو بس ہمیں اشارہ دیا کہایٹم بم کی تابکار شعاعیں اگر ہمارے دشمن کی نہیں تو ہماری بھی نہیں ہیں۔

ان دھماکوں کے نتیجے میں جاپان نے دس اگست ۱۹۴۵ کو ہتھیار ڈال دئیے۔ یوں دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا۔ جاپانیوں نے بعد میں ایٹم بم تیار کرنے کی کوشش نہیں کی انہوں نے اپنی تعلیم اور ہنر مندی میں اضافہ کیا اور ایک وقت ایسا آیا کہ خود امریکہ کے اندر امریکی مصنوعات کے بجائے جاپانی مصنوعات کو ترجیح دی جانے لگی۔یوں آج جاپانی دنیاکی سب سے محنتی قوم ہے۔



پاکستان نے۲۸ اور ۳۰ مئ ۱۹۹۸ میں پانچ ایٹمی دھماکے کئے۔ یہ دھماکے ان دھماکو ں کے جواب میں کئے گئے جو انڈیا نے اسی مہینے کی گیارہ اور تیرہ تاریخ کو کئے گئےتھے۔خیال تھا کہ اس طرح دونوں ملکوں کے درمیان تناءو کم ہوگا اور دونوں ممالک اپنے دفاعی بجٹ کو کم کر کے اپنے عوام کی بہتری کے لئے کچھ کام کریں گے۔ اب تک تو ایسا ہونے کے کوئ آثار نہیں۔
انڈیا اس سے پہلے بھی ۱۹۷۴ میں اپنا پہلا ایٹمی دھماکہ کر چکا تھا۔ اگر آپ ہنسنا چاہیں تو اس پروجیکٹ کا نام بھی سن لیجئے اس کا نام تھا 'مسکراتا ہوا بدھا۔' یہ کسی بڈھے یا بدھ کے نام پر نہیں۔ بلکہ گوتم بدھ کے نام پہ تھا۔ جنہوں نے راج پاٹ چھورا اور نروان حاصل کرنے کے جنگلوں کا رخ کیا۔ اورایک لمبا عرصہ کی تپسیا کے بعد یہ عقدہ کھولا کہ انسان ہر جاندار سے محبت کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔

خیر اس قسم کے مذاق ہمارے پڑوسی اکثر کرتے رہتے ہیں۔ ان پہ کیا دل جلانا۔ دل تو اس بات پہ جلائیے کہ ان پانچ ٹیسٹوں پہ جو پاکستان نے کئے قریباً ۱۰۰ملین ڈالر کا خرچہ آیا۔ یقیناً انڈیا کا بھی اتنا ہی خرچ ہوا ہوگا۔ پاکستان اپنے بجٹ کا ایک چوتھائ حصہ دفاع پہ خرچ کرتا ہے یہی حال انڈیا کا بھی ہے۔ دونوں ملکوں کی کل آبادی ساری دنیا کی آآبادی کا پانچواں حصہ ہے اور دونوں ملکوں کے غریبوں کی کل تعداد دنیا بھر کے غریب لوگوں کا چھٹا حصہ ہے۔آنڈیا میں کل آبادی کا ۲۰فی صد حصہ غربت کی سطح سے نیچے زندگی گذار رہا ہے۔ پاکستانابھی غربت کے اس اسکیل پہ تو نہیں پہنچا مگر خودکشی کرنے والوں کی شرح میں اضافہ ہے جو گھریلو مسائل سے تنگ آکر خودکشی کرتے ہیں۔ معاشرے کےاندر بڑھتی ہوئَ شدت پسندی کا رحجان بھی پیسے کی غیر منصفانہ تقسیم کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ بھوکے کو تو چاند سورج بھی روٹیاں نظر آتے ہیں۔اور جب یہ صحیح طریقے سے حاصل نہ ہو تو محبت اور جنگ کی طرح اس کے حصول میں بھی ہر چیز جائز ہو جاتی ہے۔

جنگ میں، ایکدوسرے کو مار ڈالنے کا جذبہ اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ ہابیل اور قابیل کی تاریخ۔ ایک زمانے میں جنگیں اپنی بقاء، جذبہء انتقام یا حکمرانی کے دائرے کو بڑھانے کے لئے استعمال ہوتی تھیں۔ فی زمانہ اپنا ابنایا ہوا اسلحہ بیچنے کے لئے بھی جنگیں کرائ جاتی ہیں یا ایسے حالات پیدا کئے جاتے ہیں جن میں متعلقہ فریق احساس خوف کا شکار ہو کر ان لوگوں سے ان کی شرائط پہ اسلحہ خریدنے کے لئے مجبور ہو۔ نتیجتاً مختلف ممالک کے اندر شورشیں برپا کی جاتی ہیں ۔ پھر شورش برپا کرنے والے کو بھی اسلحہ ملتا ہے اور ان کو روکنے والوں کو بھی۔ یوں اسلحے کے بازار میں کساد مندی نہیں پیدا ہو پاتی۔

دنیا بھر کے جی ڈی پی کا دو فیصد حصہ اسلحے کی تیاری پہ خرچ ہوتا ہے۔ اس کے بڑے سپلائرز میں امریکہ، روس ، برطانیہ، جرمنی اور چین شامل ہیں۔ امریکہ چھتیس فیصد اسلھہ سپلائ کرتا ہے۔ سوچیں ذرا اگر آج دنیا بھر کے انسان تہیا کرلیں کہ وہ جنگ میں شامل ہونے کے بجائے اپنے عوام کی فلاح کو ترجیح دیں گے تو ان ممالک کو کتنا نقصان ہو۔اس لئےفوج، معاشیات اور سیاست کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے عوام ہوتے ہیں۔وہ اس کا اسلحہ ہوتے ہیںاور بلڈنگ میٹیریل بھی، اسکو تعمیر کرنے والے بھی اور اسے ختم کرنے والے بھی۔ اگر کسی ملک کے لوگ ایک اکائ بن کر نہیں سوچتے تو کوئ ایٹم بم انہیں جوڑ کر نہیں رکھ سکتا۔اپنے پڑوسی انڈیا کی ہمیں تعریف کرنی چاہئیے کہ وہ ہم سے زیادہ مخلص ہو کر اپنے ملک کے لئے سوچتے ہیں اور اس پہ فخر کرتے ہیں۔ کہنے کو ہماری زبانیں اسلام کا نام لیتےنہیں
تھکتیں۔

لیکن جب بھی ہمارے یہاں کوئ شورش برپا ہوتی ہے اس میں ہمارے ہی مسلمان بھائ ان سے پیسہ اور اسلحہ
لیکر ہماری جڑیں کاٹتے ہیں۔ دو فریقین ایکدوسرے پہ اللہ اکبر کہ کر حملہ آور ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے ہیں۔آفریں ہے ہماری منافقت پہ۔

اس وقت دنیا میں کم از کم نو ممالک کے پاس یہ مہلک ہتھیار موجود ہے۔ایٹم بم اس توانائ سے حاصل کیا جاتا ہے جو ایٹم کے مرکز کو جوڑ کر رکھتی ہے۔ ہم مرکز توڑتے ہیں اور یہ توانائ ہمیں مل جاتی ہے۔ اس توانائ کا حصول دیگر بہت ساری ماحولیاتی مسائل کو جنم دیتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میںپیدا ہونے والے تابکارفضلے کو اسی دنیا میں جمع کرتے ہیں جس میں آپ اور میں رہتے ہیں اور اپنے بچوں کے لئے خواب بنتے ہیں۔ اگر دنیا میں اتنی ہی تیزی سے ایٹمی تابکاری پھیلتی رہی تو وہ دن دور نہیں جب یہ آلودہ دنیا انسانوں کے رہنے کے قابل نہ رہے گی۔ ہم تو اس وقت نہ ہونگے لیکن آنے والی انسانی نسل ہم سب سے شدید نفرت کریگی۔

خیر ہمیں اس سے کیا، ہمارے گذر جانے کے بعد کوئ ہم سے نفرت کرے یا محبت۔
اس وقت ایک بس کا شعر یاد آرہا ہے
قتل کرنا ہے تو نظروں سے کر تلوار میں کیا رکھا ہے
سفر کرنا ہے تو ون ڈی سے کر ، کار میں کیا رکھا ہے
ہائے یہ سادہ دل بس والے اور میں، یہ میری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو۔

ریفرنس؛
ایٹم بم کی ایجاد

پہلا ایٹمی دھماکہ

پاکستانی فوج