Showing posts with label گوادر. Show all posts
Showing posts with label گوادر. Show all posts

Monday, September 3, 2012

چار ستمبر، یوم حجاب

ایک ساٹھ سالہ خاتون انتہائ غصے میں بتا رہی تھیں کہ وہ کسی مجبوری کی بناء پہ بس سے سفر کر رہی تھیں۔ بس والا اتنی تیز بس چلا رہا تھا اور مسافروں کو اتارنے کے لئے بھی بس آہستہ کرتا لیکن روک نہیں رہا تھا۔ یہ دیکھ کر انہوں نے اس سے کہا دیکھ بھال کر چلاءو۔ کیونکہ کچھ سال پہلے وہ چلتی بس سے گر کر اپنا ہاتھ تڑوا بیٹھی تھیں۔  اس پٹھان ڈرائیور نے انکی نصیحت پہ عمل کرنے کے بجائے ان سے کہا دوپٹہ سر سے اوڑھ کر بیٹھو۔ طیش میں انہوں نے بس ڈرائیور کو کہا  کہ تو کیا میرا باپ لگتا ہے۔ تیرا قصور نہیں، تیری ماں کا قصور ہے نہ اس نے اپنی عزت کرائ ہو گی نہ تجھے اسکی تربیت دی کہ تو کسی اور عورت کی عزت کرے۔ شاید اور کچھ بھی کہا ہوگا۔ خیر اسی وقت اس سے بس رکوائ اور اتر گئیں۔
یہاں ڈرائیور کی لسانی شناخت بتانی ضروری ہو گئ کہ اگر اردو اسپیکنگ ہوتا تو غصے میں کہتا' جاءو جاءو، ایسی نوابی ہے تو بس کے بجائے ٹیکسی سے سفر کیا کرو'۔ یہ ابھی ایک ہفتے پہلے کراچی میں پیش آنے والا واقعہ ہے۔
مجھے اس وقت کیوں یاد آیا؟
ابھی تفصیل سے بتاتی ہوں۔  چند دن پہلے میں ایک دفعہ پھر گوادر گئ تقریباً دس مہینے بعد۔ اس دفعہ مجھے ماحول میں ایک واضح تبدیلی محسوس ہوئ۔ اول تو ہری پگڑی والے لوگ دیکھے جو کہ موٹر سائکلوں پہ پھر رہے تھے۔ یہ تو میں پچھلی ایک پوسٹ میں بتا چکی ہوں کہ یہ جو گوادر کی دیواروں پہ مذہبی اجتماعات کی دعوتیں لکھی نظر آرہی ہیں۔ یہ کسی نئ سمت کا اشارہ کر رہی ہیں جو یقیناً مکران کے ماحول کو تبدیل کرے گا۔ اور اس دفعہ یہ تبدیلی واضح نظر آرہی تھی۔
کیونکہ پھر میرے ساتھ دو واقعات ہوئے۔
پہلا واقعہ دلچسپ ہے۔ ہوا کچھ یوں  کہ جس جگہ ہم رہائش پذیر تھے وہ جگہ سمندر سے چند قدم کے فاصلے پہ تھی۔
ساتھ ہی ایک پہاڑ ہے۔ میں جب بھی یہاں جاتی تھی تو اس پہاڑ کے ساتھ سمندر کنارے ضرور تنہا بیٹھتی کہ ایک دم مراقبے کا مزہ آجاتا۔ یوں معلوم ہوتا کہ میں زمین پہ نہیں بلکہ کائینات کے کسی لامتناہی نکتے سے زمین کو دیکھ رہی ہوں۔ پھر یہاں سے پتھرلیے فوسلز جمع کرتی اور گھر واپس آجاتی۔ گوادر میں یہ میری سب سے اہم اور بڑی عیاشی ہوتی۔ اسکے لئے میں ساڑھے سات سو کلومیٹر کا پر مشقت سفر کر کے یہاں آتی ہوں۔ اب یہ مشغلہ میری بیٹی کو بھی پسند آتا ہے۔
اس دن میرے ساتھ میری بچی، پالتو کتا اور مقامی بچے درجن بھر موجود تھے۔ ہم جلوس کی شکل میں پہاڑ کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ اگرچہ میری خواہش تو یہ تھی کہ یہ بچے ساتھ میں نہ ہوتے تاکہ تھوڑی دیر اپنے مراقبے کا مزہ لیتی۔  لیکن بہر حال بچے بہت زیادہ مشتاق تھے ساتھ چلنے کے۔ شاید اسکی ایک وجہ کتے کا ہمارے ساتھ ہونا بھی تھا۔ کتا بھی خوش تھا۔ بار بار تھوڑی دور تک دوڑ کر جاتا۔ اپنے پیشاب کی بو چھوڑتا اور پھر خوشی سے اچھلتا کودتا واپس آتا۔ پیشاب کی بو سے اسکے حصے کی زمین میں اضافہ جو ہو رہا تھا۔
راستے میں ایک صاحب نے قریب سے گذرتے ہوئے موٹر سائیکل روکی اور کہنے لگے۔ آپ اس طرح اکیلے نہ پھریں آجکل سیکیوریٹی کا مسئلہ ہے۔ میں نے اسکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا میں صرف پہاڑ کے ساتھ جا کر سامنے والی جگہ پر جا کر واپس آجاءونگی۔ نہ بستی کی طرف جاءونگی اور نہ یہاں سے زیادہ دور۔ مجھے بھی اس بات کا احساس ہے۔  وہ خاموش ہو کر واپس پلٹ  گیا۔
ابھی چند ہی گز طے کئے ہونگے کہ ایک صاحب موٹر سائیکل پہ آئے انکے پیچھے ایک گن بردار شخص بیٹھا ہوا تھا۔ میں ٹھٹھک کر رک گئ۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کہاں جا رہی ہیں۔ میں نے انگلی کے اشارے سے بتایا کہ بس وہاں تک جا رہی ہوں۔ پھرمزید سوالات کے جواب دینے سے پہلے میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے۔  پتہ چلا کہ وہ پولیس سے تعلق رکھتا ہے۔ کس کے ساتھ آئ ہیں، کس جگہ رہ  رہی ہیں قسم کے سوالات کے بعد اس نے کہا کہ ہمیں اطلاع ملی کہ ایک انگریز عورت ادھر اکیلے پھر رہی ہے۔ مجھے ہلکی سی ہنسی آئ۔ آپ نے دیکھ لیا میں انگریز نہیں ہوں۔ ہاں وہ اس نے آپکے حلئے کو دیکھ کر کہا ہوگا۔ حلئے سے شاید اس کی مراد پیروں کے جاگرز اور سر کی ٹوپی ہوگی۔ دراصل یہ پسماندہ علاقہ ہے یہاں اس حلئے کو ہی انگریز سمجھ لیتے ہیں۔  بات یہ ہے کہ سیکوریٹی کا مسئلہ ہے آپ زیادہ دور تک نہ جائیں۔ میں نے اسے تسلی دی۔ میں بس سامنے ہی سے پتھرلے کر واپس آجاءونگی۔ یہاں کراچی میں پڑھنے لکھنے والے بچوں کو تحفے میں مجھے یہ پتھر دینا پسند ہیں۔
پھراس جگہ پہنچ کر ان بچوں کے ساتھ چند منٹ رک کر پتھر ڈھونڈھے اور جلدی ہی واپسی کا راستہ لیا کیونکہ میں نے دیکھا کہ وہ دونوں ایک چٹان پہ بیٹھے ہم لوگوں کی نگرانی کر رہے تھے۔ ایسے میں میرے دل دھڑکا بھی کم ہوگا اور انکی ڈیوٹی بھی ختم ہوگی۔
اگلے دن گھر کے سامنے ساحل پہ بچی کے ساتھ چلی گئ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ماضی میں یعنی تین چار سال پہلے میں ایک ڈیڑھ میل تک تنہا چہل قدمی کر چکی ہوں۔ مقامی لوگوں سے گپ شپ کی اور کبھی کوئ مسئلہ نہیں ہوا۔ اس دن جب میں اپنی بچی اور محلے کے دیگر بلوچی بچوں کے ساتھ اپنے گھر واپس آنے لگی تو ایک موٹر سائیکل قریب سے گذری جس پہ دو افراد بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے موٹر سائیکل کو آہستہ کیا۔ میں کچھ ہوشیار ہوئ۔ پھر ان میں سے ایک نے نفرت بھری نظر مجھ پہ ڈال کر کہا جاءو جا کر کچھ پہنو۔
قارئین کی تسلی کے لئے میں اس وقت تیراکی کے مغربی لباس میں نہیں تھی۔ بلکہ پاکستانی سوتی شلوار قمیض پوری آستین کا پہنے ہوئے تھی اور دھوپ سے بچنے کے لئے ڈھائ گز کے سوتی دوپٹے کو سر سے لپیٹ کر منہ بھی اطراف سے ڈھکا ہوا تھا۔ سو میں نے حیرانی سے انکی طرف دیکھا اور پھر غور کیا کہ وہ کچھ کیا ہو سکتا ہے جو میں پہنوں۔ سمجھ آیا کہ برقعہ قسم کی چیز ہی اب اس کے بعد بچ جاتی ہے۔
  دس سال سے یہاں آرہی ہوں اور اتنے لمبے عرصے کے تجربے کے بعد میں اس علاقے کو کافی بہتر سمجھتی تھی۔ مقامی لوگ مچھیرے ہیں جو اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ وہ خود کیسے بھی رہیں دوسروں کے کام میں مداخلت نہیں کرتے۔ حتی کہ عین اس وقت جب کراچی میں کسی ہوٹل میں بیٹھ کر سر عام شراب نہیں پی جا سکتی تھی یہاں ایسی کوئ منادی نہ تھی۔  اس وقت میں ساحل پہ تنہا بیٹھ کر گھنٹوں سمندر کی آتی جاتی لہریں دیکھا کرتی تھی۔ کراچی  کی مٹی سے جنم لینے کے باعث سمندر کی محبت میرے اندر ہمیشہ مءوجزن رہی ہے۔
 یہ وہ وقت تھا جب  یہاں کوئ مدرسہ  نہ تھا۔ پھر کوسٹل ہائ وے کی تعمیر کے ساتھ ہی زمین کے ایک بڑے رقبے پہ ایک بڑا مدرسہ وجود میں آگیا۔ اور اب جیسے جیسے یہاں مذہبی ماحول کو شہہ مل رہی ہے ویسے ویسے یہ شدت پسندی ماحول کا حصہ بن رہی ہے۔ معاشرے کے کمزور طبقات ہمیشہ شدت پسندی کا پہلا نشانہ ہوتے ہیں۔ تاکہ دوسرے لوگ ان سے سبق سیکھیں۔ خواتین اس لئے سب سے پہلا نشانہ بنتی ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گوادر میں یہ مذہبی شدت پسندی کون متعارف کرا رہا ہے؟ کیا بلوچستان کے مسائل کا حل مذہبی شدت پسندی کو ہوا دینے میں ڈھونڈھاجا رہا ہے؟
حیرت ہوتی ہے کہ گوادر میں ایک اچھا ہسپتال موجود نہیں ہے۔ اسکی وجہ سے عورتوں کو کس قدر مصائب کا سامنا ہے اسکا اندازہ اس عورت سے لگائیں جس نے بتایا کہ ابھی چند مہینے پہلے اسکی بچی پیدائیش کے دوران مر گئ۔ کوئ ماہر ڈاکٹر نہ تھا کہ وہ زندہ پیدا ہو پاتی۔ کسی ماہر ڈاکٹر کے موجود نہ ہونے سے وہ لیبر میں اتنا زیادہ عرصہ رہی کہ  اسے فسچولا ہو گیا۔ شوہر بھائ کے پاس چھوڑ گیا وہاں سے وہ کراچی کے جناح ہسپتال پہنچی جہاں ایک مہینہ علاج میں ناکامی کے بعد اسے کراچی کے مضافات میں واقع، کوہی گوٹھ کے فسچولا  ہسپتال بھیجا گیا وہاں وہ تین مہینے رہی اسکے تین آپریشن ہوئے  اور ابھی بھی بالکل تندرست نہیں ڈاکٹر نے اسے تین مہینے بعد پھر بلایا ہے۔
حیرانی ہوتی ہے ناں کے جس شہر میں عورتیں محفوظ طریقے سے بچہ نہ پیدا کر سکیں وہاں عورتوں کو پردے کی تبلیغ کرنے والے پیدا کئے جائیں۔ ایک بڑا مدرسہ بنانے والے تو موجود ہوں لیکن ہسپتال کا کوئ انتظام نہ ہو۔ یہی نہیں یہاں کوئ ڈھنگ کا اسکول موجود نہیں ہے۔ لیکن کوسٹل ہائ وے پہ جاتے ہوئے سنسان پہاڑوں پر خوبصورت ٹائلز کی بنی ہوئ بڑی مساجد نظر آئیں گی جو کہ پچھلے دو سالوں میں عرب بھائیوں کی فیاضی سے تعمیر ہوئ ہیں۔ اتنے سنسان علاقوں میں ان مساجد کا کیا کام؟
 ایک صاحب کا کہنا ہے کہ عرب اسکول کی تعمیر کے لئے پیسے خرچ نہیں کرتے وہ مسجدیں اور مدرسے بناتے ہیں بہت زیادہ فیاضی اگر کبھی دکھائ تو شاید ہسپتال بنا دیں لیکن اسکول، نو وے۔
عرب ہمارے ملک میں اسکے علاوہ کس چیز پہ پیسہ خرچ کرتے ہیں؟
اس کا اندازہ اس خبر سے ہوگا کہ ایک عرب شیخ ایک بلوچ کو پیسے دے رہے ہیں کہ وہ سو بچوں کو پیدا کرنے کا ریکارڈ قائم کر کے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام ڈال لے۔ اس سلسلے میں وہ بلوچ تیئیس شادیاں کر چکا ہے اسکے ترانوے بچے پیدا ہو چکے ہیں۔ ہر تھوڑے دنوں بعد ایک بیوی کو طلاق دے کر ایک اور شادی کر لیتا ہے۔ طلاق یافتہ بیوی کو وہ عرب پیسہ دیتا ہے کہ وہ اپنی باقی زندگی عسرت میں نہ گذارے۔
  اس بلوچ کو یہ یاد نہیں کہ اسکا کون سا بچہ کس بیوی سے ہے اسکے لئے اسے اپنی ڈائری دیکھنی پڑتی ہے۔ اور نہ اسے یہ معلوم ہوگا کہ اسکا کوئ بچہ پڑھتا لکھتا بھی ہے یا نہیں۔ یہ شخص پہلے فوج میں رہ چکا ہے اور ٹانگ سے معذور ہونے کے بعد وہاں سے نکل آیا۔ ہو سکتا ہے آپ میں سے کچھ کو اس سے کراہیئت آئے اور کچھ ہنس دیں ۔ لیکن ایک دفعہ پھر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ مسلمان مرد ، اپنی عورتوں کو کیا سمجھتے ہیں؟
خیر ہم موضوع کی طرف واپس پلٹتے ہیں۔ کراچی میں آجکل جماعت اسلامی کے زیر اہتمام چار ستمبر کو یوم حجاب منانے کی تیاریاں زور شور سے جاری ہیں۔ شہر میں ہر جگہ خواتین کو حجاب کی تلقین کے بینرز ملیں گے۔ یہی نہیں روزنامہ جنگ کے اس  دفعہ کے اتوار میگزین میں بھی، میں نے دیکھا کہ یوم حجاب کے حوالے سے چار مضامین موجود ہیں۔ گوادر میں میرے ساتھ پیش آنے والا واقعہ آپ پڑھ چکے۔ ملک ہی نہیں باقی دنیا میں بھی مسلمان مردوں کی شدت پسندی کو ہوا دینے والی یہ مذہبی جماعتیں ہیں اور کوئ نہیں۔ شاید اسی لئے بنگلہ دیش میں سیاسی جماعتوں پہ پابندی لگا دی گئ ہے کہ وہ اپنے نام کے ساتھ کوئ مذہبی نام استعمال نہیں کریں گی۔
اس بات کو خآطر میں لائے بغیر کہ ہمارے ملک میں عورتوں کی حالت کتنی دگرگوں ہیں۔ جماعت اسلامی کے زیر اہتمام منائے جانے والے اس طرح کے یوم مجھے تو مردوں کو مزید شدت پسندی کی ترغیب دیتے ہوئے ہی لگتے ہیں۔ جس وقت وہ یہ پیغام دیتے ہیں کہ حجاب عورت کی عزت کا ضامن ہے اس وت وہ مردوں کو بین السطور یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ اگر کوئ عورت بے حجاب ہے تو اسکی عزت پہ حملہ کوئ بری بات نہیں۔ اسکے ساتھ یہی ہوگا، کیونکہ مذہب اسکے بارے میں یہ پیشن گوئ کر چکا ہو۔ چاہے مذہب نے اس بات کو نکتہ بھی نہ بنایا ہو۔
بالکل ایسے ہی وہ انفوگرافکس جس میں مردوں سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو کس لباس میں دیکھنا پسند کریں گے۔ اور انتخاب میں شدید برقعے سے لیکر جینز ٹی شرٹ میں ملبوس خواتین دکھا دی جاتی ہیں۔ ایسے جیسے بازار میں آپ مختلف برانڈز کے کیچپ دیکھ رہے ہوں۔ پھر انہیں غیرت کے طعنے دے کر کہا جاتا ہے کہ دراصل تمہاری بیوی کو کس قدر حجاب میں ہونا چاہئیے۔ چاہے وہ اسکی اہلیت نہ رکھتے ہوں کہ اپنے خاندان کے معاشی مسائل حل کر سکیں لیکن ان میں یہ اہلیت ضرور پیدا کی جاتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کے لباس پہ غضب کی نظر رکھیں۔  
جماعت اسلامی سمیت، ہر مذہب کا ڈھنڈورہ پیٹنے والی جماعت سے ایک ہی سوال ہے کہ وہ کبھی خواتین کے حالات میں بہتری کے لئے بھی کچھ کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا مردوں کو خواتین کے نام پہ ہی غیرت دلاتے رہیں گے۔  معاشرے کو خواتین کے لئے مزید غیر محفوظ بنانے کے فول پروف انتظامات کرتے رہیں گے۔ یہ ملک جو پہلے ہی مسائلستان بنا ہوا ہے کیا اسکے مسائل میں وہ مثبت طریقے سے کوئ کمی لا سکتے ہیں۔ کیونکہ فلسفہ ء جہاد سے لے کر مرد و خواتین کی جہالت تک ہر ایک میں  وہ برابر کے حصے دار ہیں۔ 
آخری اہم سوال لوگوں کو خدا کے قہر اور عذاب سے ڈرانے والے کیا خود خدا کے عذاب اور قہر سے ڈرتے ہیں؟
 کیونکہ انکی پھیلائ ہوئ شدت پسندی کی وجہ سے جتنی انسانی جانیں جاتی ہیں اسکے ذمہ دار وہ ہوتے ہیں۔ جب کسی عورت پہ تیزاب پھینکا جاتا ہے، جب کوئ عورت کاروکاری کا شکار ہوتی ہے، جب کسی عورت کو اس لئے نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ انکے متعارف کرائے گئے فلسفہ ء حجاب پہ یقین نہیں رکھتی۔ ہر  ہر صورت میں وہ عذاب کے مستحق ہوتے ہیں اور ہونگے۔  خدا کے عذاب سے بچنے کے لئے وہ خود کیا کریں گے؟ کیونکہ جو تم کروگے وہ ہم کریں گے۔ 

Sunday, December 11, 2011

بچوں سے بڑوں تک

میری بچی نے جیسے ہی سامنے پڑا ہوا کھلونا اٹھایا اسکی ہم عمر میزبان بچی نے لپک کر اسکے ہاتھ سے لینے کی کوشش کی۔ یہ دیکھ کرمشعل نے اس پہ اپنی گرفت اور سخت کر دی۔ 'مجھے یہ اچھا لگ رہا ہے میں اس سے کھیلونگی'۔ اس نے احتجاج کیا۔ میزبان بچی نے کہا نہیں یہ میرا ہے۔ میں اس سے کھیلتی ہوں ۔ ماں نے کہا وہ تمہارے گھر مہمان آئ ہے تھوڑی دیر میں چلی جائے گی۔ تم اسکے ساتھ کھیل لو لیکن بچی نے یہ تسلیم نہیں کر کے دیا۔ میں نے مشعل کو سمجھایا کہ یہ تمہارا نہیں ہے اسکا ہے۔ واپس رکھ دو۔ لیکن اسے یہ بات نہیں سمجھ آ رہی تھی کہ سامنے اتنے سارے کھلونے موجود ہیں تو وہ کیسے ان میں سے کسی کو ہاتھ نہیں لگا سکتی۔
یہ سب کچھ ترقی یافتہ،  پہلی دنیا کے اس حصے میں ہو رہا تھا جہاں ٹی وی پروگرامز میں یہ نصیحت بچوں کو ہی نہیں والدین کو بھی بار بار کی جاتی ہے کہ شیئر کرو، شیئر کرنے کی عادت ڈالیں۔ چاہے وہ بارنی شو ہو یا ڈورا دی ایکسپلورر۔ 
 صرف یہی ایک گھر نہیں،  بلکہ ہم وہاں رہتے ہوئے جس گھر میں بھی گئے وہاں بچوں کا کم و بیش یہی رویہ تھا۔ گھروں میں ہر طرح کے کھلونوں کا ایک ڈھیر لگا ہوا لیکن میزبان بچے کو یہ فکر کہ آنے والا مہمان بچہ کہیں اسکے کھلونوں سے کھیلنے نہ لگے۔ اکثر بچے اس کے لئے مار پیٹ پہ آمادہ۔ وہ کھیلنے سے زیادہ اس باتکے لئے فکر مند تھے کہ نیا آنے والا بچہ کہیں انکی چیزوں پہ قابض نہ ہو جائے۔ چیزیں انکے لئے بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔
اسکے چند مہینے بعد ہم پاکستان میں گوادر جیسی پسماندہ جگہ پہ موجود تھے۔ نیم دیہاتی سا علاقہ جہاں بچے سارا سارا دن گلیوں میں گھومتے رہتے ہیں ایک دوسرے کے گھروں میں ٹہلتے رہتے ہیں۔ یہ نہیں معلوم چلتا کہ یہ حقیقتاً کس بچے کا گھر ہے۔  انکی دنیا میں  بہت محدود تعداد میں کھلونے ہیں۔ مگر حیرت انگیز طور پہ میں نے یہاں یہ گردان نہیں سنی کہ یہ میرا ہے۔
در حقیقت کسی بچے کو اسکی فکر ہی نہیں تھی کہ کیا میرا ہے۔ وہ صرف کھیلنا چاہتے ہیں آزادی سے، گھر میں، گلیوں میں، سمندر کنارے، مٹی سے، پانی سے، دوسرے بچوں سے۔
مگر دونوں جگہ کے  بڑے اپنے بچوں سے اتنے مختلف کیوں ہیں؟

Monday, November 14, 2011

دس ڈالر میں

ابھی ڈھونڈھ ہی رہی تھی تمہیں یہ نظر ہماری
کہ تم آگئے اچانک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زندگی میں محبوب سے لے کر بس تک پہ یہ بات صادق آسکتی ہے۔ لیکن ہمارے ساتھ یوں ہوا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹہریں پہلے یہ بتادوں کہ قصہ کیا چل رہا تھا۔
ہم گوادر ہی میں تھےرات کو واپسی کے سامان کو صبح کے سفر کے لئے پیک کر کے نادر بلوچ کے یہاں پہنچ گئے کہ ان  کی بھاوج کے یہاں اس دن صبح ایک نئے بچے کی آمد ہوئ تھی۔ خیال تھا کہ انہیں مبارکباد دے کر ، کراچی واپسی کے لئے خدا حافظ کہہ دیں۔
نادر کی بیوی ،خدیجہ بڑے تپاک سے ملی۔  میں نے اسے بتایا کہ اسکا بیٹا بڑا شیطان ہے پچھلی دفعہ اس نے مجھے کیکڑوں کی لڑائ دکھائ تھی۔ اور کیکڑے کے بچے کندھے پہ رکھ کر پھر رہا تھا۔ 'ہاں یہ بہت شیطان ہے۔ اب اسکو گوادر کے سب سے مہنگے اسکول میں داخل کرا دیا ہے۔ فیس اسکا بہت زیادہ ہے۔  نادر کی آمدنی تو زیادہ نہیں کبھی کام ہوتا ہے کبھی نہیں ہوتا۔ میرے بھائ نے کہا کہ وہ اسکا اسکول کا خرچہ اٹھائے گا'۔ 
بڑا اسکول کہتے وقت اسکے چہرے پہ بڑا فخر تھا۔  اسکا بیٹا اویس، دوڑا دوڑا گیا اور اپنی کتابیں کاپیاں اٹھا لایا مجھے دکھانے کے لئے۔ میں نے انہیں بڑے شوق سے دیکھا۔ وہ مونٹیسوری کی لگ رہی تھیں۔  اسے تھوڑا بہت لکھنا آگیا تھا۔ میں نے پوچھا کون سی کلاس میں پڑھتے ہو۔ اپنے ٹوٹے پھوٹے دانتوں والی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔ 'ایڈوانس میں، ایڈوانس میں'، اسکی مراد شاید مونٹیسوری کا آخری سال تھا۔
اس لمحے اچانک مجھے خیال آیا کہ میری ایک  نو عمر پاکستانی نژاد کینیڈیئن دوست نے چند ماہ پہلے مجھ سے کہا تھا کہ وہ پاکستان میں ایک بچے کا تعلیمی خرچہ اٹھانا چاہتی ہے ، کیا میں کسی مستحق بچے کی تلاش میں مدد کر سکتی ہوں۔ میں اس وقت سے ایک بچے کو ڈھونڈھ رہی تھی جو پڑھنے لکھنے میں واقعی دلچسپی رکھتا ہو۔ اور اسکی تعلیم کی راہ میں صرف پیسے کی کمی حائل ہو۔
گھر میں آنے والی ماسیوں کے بچوں کو میں نے اس لسٹ سے نکال دیا تھا کہ ان میں سے کچھ مقامی اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ انکے والدین مار مار کر بھیجتے ہیں مگر یہ پڑھ کر نہیں دیتے۔
سو، میں نے خدیجہ سے پوچھا کہ اسکی بیٹی کون سے اسکول میں پڑھتی ہے۔ کہنے لگی یہیں سُر بندر کے گورنمنٹ اسکول میں۔ اس اسکول کے متعلق مجھے اندازہ تھا کہ انتہائ بے کار ہے ۔ متعدد لڑکیاں یہاں سے دوسری تیسری پڑھ کر چھوڑ چکی ہیں۔ اور انہیں دس تک گنتی بھی نہیں آتی۔اس لئے میں نے اس سے کہا تم عائیشہ کو بھی کیوں نہیں بحریہ ماڈل اسکول میں داخل کرا دیتیں۔
'عنیقہ، اسکی فیس بہت زیادہ ہے، چار ہزار داخلہ فیس ہے'۔ اس نے ذرا منہ پھیلا کر کہا تاکہ مجھے اندازہ ہو کہ کتنی زیادہ ہے۔ چھ سو روپے مہینے کے ہیں' اس دفعہ اس نے چھ سو پہ زور دیا اور  مزید کہا صرف وردی آٹھ سو روپے کی ہے'۔ نادر تو اتنا نہیں کر سکتا'۔  میں خاموش بیٹھی رہی۔ 
یہاں کراچی میں ایسے اسکول ہیں جنکی ماہانہ فیس پچیس ہزار روپے ہے۔ اور ایسے اسکول تو عام ہیں جہاں داخلہ فیس پچاس ہزار سے زائد ہے۔ کیا خدیجہ جیسوں کو معلوم ہے کہ جتنی انکی ماہانہ آمدنی نہیں پاکستان کے کچھ علاقوں میں اتنی ایک بچے کے اسکول کی فیس ہوتی ہے۔
ویسے اچھا ہی ہے اسے معلوم نہیں۔ ورنہ یہ صدمہ شاید اسے زندگی کے سکھ سے دور  کر دے۔
چلو عائشہ کی فیس کا بند و بست ہم کر دیتے ہیں۔ میں نے اس سے کہا۔ 'نئیں نئیں، عنیقہ، تکلیف نہ کرو۔'۔ 'مجھے کوئ تکلیف نہیں ، مجھ سے کسی نے کراچی میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کو پڑھانا چاہتا ہے۔  پیسے وہ دے گا۔ میں نہیں۔  اس لئے مجھے کوئ تکلیف نہیں پہنچ رہی۔ ' نئیں پھر بھی تم ایسا نہ کرو'۔ دیکھو اگر تم نہیں لوگی تو کوئ اور لے لے گا۔ تم چاہتی ہو کہ تمہاری بیٹی ایک اچھے اسکول میں  پڑھے تو موقعے سے فائدہ اٹھا لو۔ یقین رکھو، نہ یہ پیسے میرے ہیں ، نہ میں یہ کسی سے مانگ رہی ہوں اور نہ مجھے اس میں کوئ تکلیف ہے'۔ تھوڑی پس و پیش  کے بعد وہ خاموش ہو گئ۔ خاموشی نیم رضامندی ہوتی ہے۔ اٹھتے وقت میں نے نادر سے بات کی کہ وہ عائشہ کو بھی اسی اسکول میں داخل کرا دے۔ داخلہ فیس اور تین مہینے کی فیس اسکے ہاتھ میں رکھی اور نصیحت کی کہ اسکول کارڈ اور ٹیسٹ رپورٹس سنبھال کر رکھے کہ جو شخص پیسے دے گا وہ انہیں دیکھنا چاہتا ہے۔
میں چلنے لگی تو نادر نے ہاتھ مصافحے کے لئے آگے بڑھا دیا۔ اسکے انداز میں تشکر نمایاں تھا۔ میں جو غیر مردوں سے ہاتھ ملانے سے گریز کرتی ہوں۔ اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیتی ہوں۔ میرے اندر احساس ندامت تھا کہ اس سارے سلسلے میں میرا عملی حصہ نہ ہونے کے برابر ہے پھر بھی انہیں اپنا احسان مند بنا رہی ہوں۔
گھر واپس آکر میں نے سوچا کہ ڈالرز میں داخلہ فیس تقریباً پچاس ڈالر بنتی ہے اور ماہانہ فیس میں  اگر دیگر خرچے بھی ڈال لیں تو دس ڈالر بنتے ہیں۔ میری دوست نے کہا تھا کہ وہ پچاس ڈالرتک مہینے کے اس مد میں دے سکتی ہے۔ اتنے پیسوں میں تو ایک اور بچے کا خرچ نکل سکتا ہے۔ کیونکہ مجھے نادر کی بھانجی کا بھی خیال آیا جو عائشہ کی ہم عمر ہے۔ اسکا باپ اسکی ماں کو بھائ کے پاس چھوڑ گیا ہے نہ طلاق نہ خرچہ۔
کراچی آکر میں نے اپنی دوست کو ای میل کی۔ وہ فوراً تیار ہو گئ۔ اس طرح دو بچیوں کے لئے ایک بہتر اسکول کا بند و بست ہو گیا۔ 
آپ میں سے بیشتر نہیں جانتے ہونگے کہ کینیڈا میں ایک وقت کا اوسط معیار کا کھانا  دس ڈالر میں مل جاتا ہے۔  درحقیقت کراچی کے بہترین ہوٹل میں بھی ایک وقت کا اچھا کھانا اتنے پیسوں میں مل جاتا ہے۔ صرف دس ڈالر میں، میں محسن کی قطار میں اور اگلا احسان مندی کی قطار میں۔
کسی  کے ایک وقت کا کھانا ، کسی دوسرے کے پورے مہینے کے اسکول کا خرچہ۔ قدرت کا مذاق ہے یا انسانوں کا؟

Friday, November 11, 2011

گوادر میں بقر عید

انسان فطرتاً تغیر پسند ہے اسی فطرت کی وجہ سے جنت سے بے دخلی پسند کی اور زمین جیسی پست جگہ کو اپنے تخیل کی اڑان کے لئے مناسب پایا۔ اقبال نے اسی زمین سے خدا سے یہ مکالمہ کیا کہ
تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا ، نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی، وہاں جینے کی پابندی
وائے افسوس اقبال کی اس آزاد روی کو زمانہ شناس لوگوں نے زنداں کا رخ دکھایا۔ اگر انسان کو اتنی ہی آزادی مل جائے کہ وہ کسی دل پسند موقع سے مستفید ہو لے تو وہ خوش قسمت کہلائے گا۔ سو میں ہوں۔
بقر عید سے محض چار دن پہلے مجھے اطلاع ملی کہ چاہوں تو عید کراچی سے باہر منا سکتی ہوں۔ کتنے باہر؟ یہی کوئ سات سو کلو میٹر۔ موسم کیسا ہوگا وہاں؟ بدلتے موسم کو ذہن میں رکھا۔ جواب ملا ایسا ہی جیسا کراچی کا ہے اور یہی نہیں کراچی جیسا سمندر بھی ملے گا۔ را عقلمند اشارہ کافی است۔ بھئ صاف کیوں نہی کہہ دیتے کہ آئیں چلیں اس دفعہ عید گوادر میں مناتے ہیں۔ ہم بھی یہ کہتے ہیں ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں،اس دفعہ عید ذرا مختلف انداز میں۔
تو جناب، جمعہ کے مبارک دن ہم اپنے جمع جتھہ سامان کے ساتھ کوسٹل ہائ وے پہ رواں دواں تھے۔ شہر سے نکلے تو سڑک پہ اسکول کی بسوں کا رش تو تھا ہی لیکن سوزوکیاں بھی چلتی نظر آئیں جن میں جانور جا رہے تھے۔ یعنی بکرا منڈی رات بھر کھلی رہی جبھی صبح ساڑھے سات بجے لوگ خریداری کر کے لوٹ رہے ہیں۔ شہر کے مکینوں کا یہ فخر بے جا نہیں کہ یہ شہر کبھی نہیں سوتا۔
جانور اندر لوگ باہر

اہل ہوس کے ہزار رستے ہوں مگر گودار جانے کا زمینی رستہ بس ایک ہی ہے اور وہ ہے کوسٹل ہائ وے۔ اس ہائ وے تک کراچی سے پہنچنے کے لئے آر سی ڈی ہائ وے سے ہو کر گذرنا پڑتا ہے۔ اور آر سی ڈی ہائ وے کا رستہ حب شہر سے نکلتا ہے۔ یوں کراچی، حب، وندر سےہوتے ہوئے جب اوتھل پہنچتے ہیں تو کوسٹل ہائ وے شروع ہوتی ہے۔ یہاں تک پہنچنے میں تقریباً پونے دو گھنٹے لگتے ہیں۔
حب شہر سے نکل کر جب سومیانی کے قریب تھے تو خانہ بدوشوں کی بستیاں نظر آئیں۔ جنکے پاس مٹی کے بڑے بڑے الٹے پیالےسے بنے ہوئے تھے۔ ان پیالوں میں لکڑی کو بند کر کے جلاتے ہیں تاکہ کوئلہ بنے۔ کوئلے کی اس تہوار میں بڑی مانگ ہوتی ہے کہ ہر گھر میں کچھ نہ کچھ بار بی کیو ہوتا ہے۔ میں نے انکی تصویریں بنائیں اس نصیحت کے ساتھ کہ خواتین کی نہ بنائیے گا۔ قبائلی اس پہ بڑا ناراض ہوتے ہیں۔ معلوم ہے، بھئ معلوم ہے۔ تو بھی پاکستان ہے میں بھی پاکستان ہوں۔

کوئلے کی تیاری


رستے میں دو جگہ رکے۔ ایک ہنگول دریا کے مقام پہ مگر مچھ دیکھنے کے لئے جو وہاں نہیں ملے۔ نومبر میں جبکہ ٹھنڈ ابھی ساحلی پٹی پہ شروع نہیں ہوئ۔ مگر مچھ کا دوپہر تک وہاں موجود ہونا ویسے بھی مشکل ہی تھا۔


پہاڑ کی تہہ میں خراماں دریائے ہنگول

آگے ہم ماکولا کے قریب پیٹ پوجا کے لئے رکے۔ سالن ہمارے پاس موجود تھا۔ پانی کی بوتلیں بھی حاضر تھیں بس روٹی چاہئیے تھی وہ گرما گرم مل گئ وہاں موجود ایک جھونپڑا ہوٹل سے۔ جنت کے عوض دانہ ء گندم برا سودا نہیں، میں نے زمین پہ پھیلی چٹائ پہ اپنے پاءوں پھیلاتے سوچا۔
شام کو چھ بجے ہم گوادر کی مضافاتی بستی سر بندر میں اپنا سامان گاڑی سے اتار رہے تھے۔ ابھی سامان اتار کر فارغ ہوئے کہ لوڈ شیڈنگ کے اوقات شروع ہو گئَے۔  اوپر پانی کی ٹینکی میں پانی نہیں، گھر مہینوں سے بند پڑا ہوا۔ ہمارے پاس اسکے علاوہ کوئ چارہ نہیں کہ صبر سے لائٹ آنے کا انتظار کریں۔ لائٹ اس علاقے میں پانچ سال پہلے ہی آئ ہے۔ اس چھوٹے سے قصبے میں ابھی لوگ اسکے اتنے عادی نہیں کہ اس کے یوں چلے جانے پہ خفا ہو کر کہیں کہ یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے، ساتھ چل موج ہوا ہو جیسے۔
چھت کا رخ کیا۔  گھر سمندر کے بالکل کنارے ، کشتیاں دور تک سمندر کے پانی میں ٹہری ہوئیں۔ اگر اقبال ہوتے تو کہتے کہ اودے اودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے، سرخ سرخ قمقمے قطار اندر قطار۔ یہ جلتے بجھتے قمقمے ان کشتیوں پہ سمندر میں شکار کے وقت مختلف اشاروں کی زبان کے طور پہ استعمال ہوتے ہیں لیکن اس وقت انہوں نے سمندر اور لوڈ شیڈنگ کی تاریکی میں ایک سماں باندھ  دیا تھا۔ اوپر آسمان  پہ آلودگی نہ ہونے کی وجہ سے ستارے جیسے ہنس رہے تھے۔ ٹمٹماتے، جھلملاتے، نزاکت سے کانپتے اترا رہے تھے۔ ایسی سحر انگیز اترتی رات صرف سُر بندر کے حصے میں ہی آ سکتی ہے۔
دو گھنٹے بعد لائٹ نے درشن کرائے۔ ہم نے یوں پرنام کیا کہ فوراً دوڑ کر پانی کی موٹر آن کی۔ سب نے مل کر جلدی جلدی صفائ شروع کی  تاکہ رات کو سونے کا انتظام ہو سکے۔ پڑوسی نے بھی مدد کی۔ رات کا کھانا انکے یہاں سے آپہنچا۔ حالانکہ کہا بھی تھا کہ ہم کراچی سے دو وقت کا کھانا ساتھ لے کر چلے ہیں۔ لیکن بلوچ اپنی روایت سے مجبور۔
اگلے دن تفصیلی طور پہ صفائ کر کے تمام چیزیں اپنے مقامات پہ پہنچائیں۔ کھانے پینے کے چکر سے فارغ ہوئے۔ بکرے کا دیدار ہوا۔ جو کہ میزبان ہمارے لئے لے چکے تھے۔ یہاں قربانی کے لئے بکرے کا رواج ہے جبکہ کراچی میں گائے پہ زیادہ لوگوں کا دل آتا ہے۔ یہ تو پہاڑی بکرا ہے، میں نے اپنے ساتھی سے کہا۔ 'لوگ کہتے ہیں کہ پہاڑی بکرے کا گوشت سخت ہوتا ہے اور اس میں ہلکی سی بد بو ہوتی ہے'۔ اب اس وقت تو یہی ہے۔ یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ کم عمر ہے اسکا گوشت نرم ہوگا۔ 'چلیں یہی سہی۔ ہمیں تو قربانی کی رسم نبھانی ہے ، میں یونہی ایک خیال بتا رہی تھی'۔
مشعل کو پہلے ہی نادر بلوچ نے ڈرا دیا تھا کہ بکرا بڑا خطرناک ہے ٹکر مارتا ہے اس سے دور رہنا۔ مشعل نے بکرے کے تیور دیکھے تو بالکل اسکے قریب جانے سے انکار کر دیا۔ میں نے اسے سمجھانے کی کوشش بھی کہ بیٹا  پہاڑی بکرا اس برج کی علامت ہے جس سے تم اور تمہاری اماں دونوں تعلق رکھتے ہیں۔
شام کو محلے کی خواتین آگئیں۔ انکی بیشتر تعداد کو اردو بالکل نہیں آتی۔ میری ترجمان نازنین تو اپنے شوہر کے پاس مسقط جا چلی گئ۔ لیکن دو ایسی لڑکیاں نکل آئیں جو ٹوٹی پھوٹی اردو بول سکتی تھیں۔ بس وہ دونوں بے چاری ترجمہ کرتی رہیں۔ بلوچی زبان پہ فارسی کا اثر ہے ویسے بھی اردو کی بہن زبان ہے۔ اس لئے کہیں نہ کہیں میں بھی بلوچی پکڑ ہی لیتی۔ اس سے وہ خواتین بڑی متائثر ہوئیں کہ تھوڑی بہت بلوچی مجھے آتی ہے۔
میں ان کے لئے کچھ تحائف لے کر گئ تھی جس سے وہ بڑی خوش ہوئیں۔ چلتے چلتے کہنے لگیں کہ تم عید پہ مہندی لگاتی۔ ہاں، میں نے گردن ہلائ۔ کیا مہندی یہاں ملتی ہے۔ جواب ملا مہندی یہاں ملتی، دس روپے کی ٹیوب ملتی۔ کل ہم لائے گی اور تمہیں اور مشعل کو لگائے گی۔
پتہ نہیں کیا چیز ہوگی اور یہ کیا لگائے گی۔ میں نے دل میں سوچا۔ اگلے دن دوپہر میں ہم گوادر شہر کی طرف چلے گئے۔ وہاں سنگھار پہاڑی کے ساحل کی طرف اترے اور سورج ڈوبنے کا نظارہ کیا۔ ایک خوبصورت اور پر سکون ساحل جو سورج ڈوبنے کے وقت ہر طرف سے جلنے لگا۔ ساحل سے اس آگ کی لپٹیں آسمان کے مرکز کی طرف پہنچے جا رہی تھیں۔ آگ اور پانی کا یہ ملن چاند ایک طرف کھڑا دیکھ رہا تھا۔ سورج اور چاند کا بیک وقت ایسا طلوع اور غروب بھی بس گوادر میں ہی نظر آ سکتا ہے۔ بعض لوگوں کو اپنی خوبیوں اور خوش قسمتی  کا اندازہ نہیں ہوتا اور بعض جگہوں کو بھی۔


غروب آفتاب کے وقت طلوع مہتاب


رات دس بجے جب کھانا کھا کر سُر بندر واپس پہنچے اور میں ابھی سوئ ہوئ مشعل کو سونے کے کپڑوں میں ڈال رہی تھی کہ وہ لوگ مہندی لے کر پہنچ گئیں۔
اوہ، مشعل تو سو گئ۔ اب مجھے ہی اپنے ہاتھوں میں ان سے نقش و نگار بنوانے پڑیں گے۔ وہ اتنے شوق سے آئیں ہیں کیسے منع کر دوں۔ گھر والے میرا المیہ جان کر مسکرا رہے تھے۔ میرا ہاتھ، ہاتھ میں لے کر اس نے مہندی کی کون جیسا کہ ہم کراچی میں کہتے ہیں جب چلانی شروع کی تو خاصہ اچھا ڈیزائین بنا ڈالا۔ یہ تم نے کہاں سے سیکھا؟ میں نے پوچھا۔  اسکول سے۔ اس نے سر جھکائے جھکائے بتایا۔  بڑا اچھا اسکول ہے۔ پڑھنا لکھنا چاہے سکھائے نہ سکھائے مہندی لگانا سکھا دی۔ ہنسنے لگیں۔ کیا میں عید کے کپڑے لائ ہوں اس نے پوچھا۔ ہاں، ہاں سب لائ ہوں اور چوڑیاں بھی؟ ہاں چوڑیاں بھی۔
مشعل کی مہندی رکھ کر وہ چلی گئیں۔
میں عید کی نماز والوں کے کپڑے استری کرنے لگی۔ اور مشعل کے کپڑوں تک اس قدر نیند آ رہی تھی کہ میں نے سوچا کہ صبح اٹھ کر کر لونگی۔
بستر پہ لیٹی تو مسلسل لوگوں کے کچھ زور سے پڑھنے کی آواز آرہی تھی۔ یہ ذکری ہیں۔ گوادر میں مسلمانوں کے دو فرقے پائے جاتے ہیں ایک نمازی اور دوسرے ذکری۔ نمازی نماز پڑھتے ہیں اور ذکری نماز نہیں پڑھتے صرف ذکر کرتے ہیں۔ جس جگہ وہ ذکر کرتے ہیں وہ ذکر خانہ کہلاتی ہے۔ جو کہ ہمارے گھر سے خاصی قریب تھی۔ اس لحاظ سے گوادر میں بڑی مذہبی رواداری پائ جاتی ہے۔
لیکن اپنی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے امید کی جاتی ہے کہ یہ مذہبی ہم آہنگی بس کچھ اور سالوں کی بات ہے وجہ یہ کہ اس دفعہ میں نے وہاں ایک بہت بڑا بورڈ دیکھا جس پہ لکھا تھا تبلیغی اجتماع گاہ اور اس پہ ایک تیر کا نشان بنا ہوا تھا۔ یعنی مقام کی نشان دہی۔ کافی ساری کشتیوں پہ اس دفعہ میں نے جماعت اسلامی کے جھنڈے دیکھے۔ آج سے آٹھ سال پہلے جب میں گوادر گئ تو وہاں کوئ بڑا مدرسہ نہیں تھا لیکن اب وہاں ایک بہت بڑا دارالعلوم ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کتنے وقت میں گودار کی دیواروں پہ ذکری کافر، نمازی کافر، سنی کافر اور شیعہ کافر جیسے نعرے وجود میں آتے ہیں ابھی تو وہاں، ہندءووں کے ایجنٹوں کے نام ،  پاکستان مردہ باد اور پاکستان زندہ باد جیسے نعروں کی اکثریت ہے۔



بہر حال ذکری  ساری رات ذکر کرنے کے بعد، فجر سے پہلے قربانی کے فریضے سے فارغ ہو جاتے ہیں۔
صبح لوگ قصبے کی عید گاہ میں نماز عید کے لئے جمع ہوئے۔  لائوڈ اسپیکر کا انتظام خاصہ خراب تھا۔ کچھ کو آواز پہنچی اور کچھ نمازیوں کو آواز نہیں پہنچی۔ نماز کی ادائیگی میں مسئلہ ہوا اور نماز کے اختتام پہ کچھ نمازیوں نے مطالبہ کیا کہ دوبارہ نماز پڑھائ جائے یعنی لوٹائ جائے۔ یوں نماز دوبارہ پڑھی گئ۔
یہاں ہمارے ساتھ کیا ہوا کہ آٹھ بجے ہم نے سوچا کہ مشعل ابھی سو رہی ہے اسکے کپڑے استری کر لئیے جائیں۔ لیکن یہ کیا؟ عین اسی وقت لائٹ چلی گئ۔ کوئ بات نہیں ایک دو گھنٹے میں اجائے گی۔ دل کو تسلی دی۔  مگر وہ نہ آئ۔ حتی کہ بارہ بجے دو پہربکرا قربان ہو گیا۔ میں نے احتیاطاً مشعل کے لئے دو زرق برق کپڑے رکھ لئیے تھے جو اس وقت کام آ گئے۔
بکرے کے حصے کیسے بنوانے ہیں آپکو؟ سوال آیا۔  کیسے حصے؟ میں نے دریافت کیا۔'یہاں کا طریقہ یہ ہے کہ سارے گوشت کے تین حصے کر دئیے جاتے ہیں ایک غریبوں اور ہمسایوں کا دوسرا رشتہ داروں کا اور تیسرا اپنے لئے'۔ مزید تفصیل حاصل ہوئ۔  اچھا کراچی میں تو قصائ بس گوشت بنانے کا کام کرتا ہے۔ خیر ہم وہی کریں گے جو یہاں رائج ہے۔ جب روم میں ہو تو وہی کرو جو رومی کرتے ہیں۔
سارے گوشت کو اچھی طرح ملا دیا گیا پھر اسکے برابر کے حصے لگے، اس میں سے غریبوں کا حصہ کر کے وہاں موجود لوگوں نے اسے بھیجنے کے لئےخود ہی حصے بنا کر بھیج بھی دئیے۔ چلیں جی اس ذمہ داری کی بھی چھٹی ہوئ۔  گوادر میں غربت زیادہ ہے۔ لیکن، اچھی بات یہ ہے کہ سمندر کے کنارے ہونے کی وجہ سے کوئ بھوکا نہیں مرتا کہ سمندر سب کو کھانا تو دیتا ہے۔ لیکن مچھلی کے علاوہ کھانے کی دیگر اشیاء عام انسان کی پہنچ سے باہر ہیں۔ دیگر جانوروں کا گوشت ایک عیاشی ہے۔ قربانی بہت کم لوگوں نے کی۔ اس لئے جانوروں کی وہ چہل پہل نہیں تھی جو کراچی میں نظر آتی ہے۔
بکرے کے سری پائے پھینک دئیے گئے اور اوجھڑی کو اسی وقت سامنے سمندر میں لے جا کر دھو کر صاف کر لیا گیا۔ رات کو جب میں نے رخسار سے پوچھا کہ آج کیا پکایا تو جواب ملا اوجھڑی۔ مجھے ایک جھٹکا لگا۔ کراچی میں اوجھڑی پھینک دی جاتی ہے۔ البتہ سری پائے بنوا کر رکھ لیتے ہیں۔ اوجھڑی کی وجہ سے شہر میں آلائیشیں پھیل جاتی ہیں۔ مگر یہاں سب نے پہلے دن اوجھڑی پکائ۔ کہنے لگی نادر بلوچ سے کہا تھا کہ آپکو اوجھڑی کا سالن دے دے۔ لیکن کہنے لگا کہ عنیقہ کہاں اوجھڑی کھائے گی۔
میں ہنسنے لگی۔ میں اوجھڑی کھاتی ہوں۔ اچھی طرح پکی ہو تو بڑے مزے کی ہوتی ہے لیکن عید والے دن، ذبح کئے ہوئے جانور میں اتنا کچھ ہوتا ہے کہ ہم لوگ اوجھڑی بالکل نہیں کھاتے۔ جب بھی کھاتے ہیں خرید کر پکاتے ہیں۔ بعد میں، میں نے اپنی اور انکی اس ادا پہ غور کیا تو خیال آیا  اسکی وجہ شاید اسکی صفائ کی پیچیدگی ہے۔ سمندر ہمارے پاس ہے لیکن ایک تو بڑی دور ہے دوسرا پونے دو کروڑ آبادی کے لوگ اگر اسے عید پہ اوجھڑی دھونے کے لئے استعمال کریں تو سوچ لیں کیا ہوگا۔
اپنے حصے میں آنے والے گوشت پہ سے چربی اچھی طرح صاف کی۔ یوں اس گوشت میں مزید ڈیڑھ دو کلو کی کمی واقع ہو گئ۔ نادر سے ڈرتے ڈرتے بات کی کہ کہیں اسے برا نہ لگے کہ وہ اگر چاہے تو یہ چربی لے سکتا ہے ورنہ ہم اسے پھینک ہی دیں گے۔ چربی کا یہ ڈھیر وہ بخوشی لے گیا۔
سارا دن گھر محلے بچوں سے بھرا رہا یا خواتین وقفے وقفے آتی رہیں۔ بچوں کے لئے تو گھر کے لیونگ روم میں موجود چھ ضرب چار فٹ کا جھولا سب سے بڑی کشش تھا۔ ایک وقت میں آٹھ دس بچے اس پہ لدے مزے لے رہے ہوتے۔ خواتین کے لئے شاید صوفے میں بڑی کشش تھی۔ وہ ایک دن میں دو دو بار آتیں۔ شام تک بچوں کے اس ہنگامے کی وجہ سے تھکن ہو گئ۔ اگرچہ اس دن میں نے ایک بلوچی لفظ سیکھا۔ بورو، مطلب باہر جاءو۔

عید گاہ کی طرف لوگوں کی روانگی





مشعل بچوں کے اس ہجوم میں کہیں غائب تھی۔ کبھی کبھی مجھے اسکی شکستہ بلوچی جملوں کی آوازیں آتیں۔ وہ زبان سیکھنے کے معاملے میں کافی تیز ہے۔ محض دو دن میں بلوچی لہجہ اور جملے سیکھ لئے تھے۔ جہاں الفاظ نہیں آتے وہاں لہجے سے کام چلاتی۔
آنے والی مہمان خواتین کے آگے جب میں نے دودھ سویاں رکھیں تو وہ اسے کھاتے ہوئے بادام کی ہوائیاں نکال کر ایک طرف رکھنے لگیں مجھے اندازہ ہوا کہ وہ اس بات سے واقف نہیں کہ بادام بھی کوئ چیز ہوتی ہے۔ 
لائیٹ اب تک لا پتہ تھی۔ معلوم یہ ہوا کہ پی ایم ٹی اڑ چکا ہے۔ واپڈا والوں سے بات ہوئ ہے وہ اس پہ کام کر رہے ہیں رات تک آئے گی۔ رات مطلب، گیارہ بجے آئ۔ کبھی آپ نے نوٹ کیا کہ صحیح وقت کے بجائے رات، صبح،  دوپہر کہہ لیا جائے تو ذمہ داریوں کے تناءو سے کیسے نجات مل جاتی ہے۔
رات کے لئے میں نے پلاءو بنانے کے پروجیکٹ پہ کام شروع کیا۔ گوشت کا قورمہ تیار کر لیا اور چاول ابالنے کی باری آئ تو پتہ چلا کہ سلنڈر میں گیس ختم ہو گئ ہے۔ اسے کہتے ہیں غربت میں آٹا گیلا۔ عید کی چھٹی گیس کہاں سے ملے گی۔ یہ ایک الگ کہانی کہ پلاءو کس طرح اپنی منزل کو پہنچا۔ بہر حال ہم نے اسے کھایا بھی اور پڑوسیوں کو بھی دیا۔ اور ہاں نہ گوشت میں بُو تھی اور نہ ہی یہ سخت تھا۔ مزے سے گھنٹہ بھر میں گل گیا۔
بجلی رات کو شکر ہے کہ گیارہ بجے آگئ۔ یوں گوشت  ریفریجریٹر میں گیا۔
رات کو بارہ بجے جب ہم بستر پہ ڈھیر ہوئے تو ذکری ورد کی آوازیں ایک بار پھر آ رہی تھیں۔ یہ شاید تین راتوں تک جاری رہے۔ میں نے سوچا۔  سارا دن کے ہنگامے میں پتہ ہی نہ چلا کہ ہم ایک تہوار پر اپنے شہر، گھر اور رشتے داروں سے دور ایک اجنبی جگہ پر ہیں۔ انسان اگر مختلف کاموں میں شدید مصروف ہو تو ایسے خیالات کیسے راستہ پائیں۔ خالی ذہن چاہے افراد کے ہوں یا قوم کے شیطان کا گھر ہی بنتے ہیں۔


گوادر کے متلعق مزید تحاریر پڑھنے کے لئے اس لنک پہ جائیں۔

Sunday, April 3, 2011

ساحل کے ساتھ-۱۰

گذشتہ سے پیوستہ

یہ ایک ڈائیوو کی ائیر کنڈیشنڈ اور باہر سے خاصی بہتر نظر آنے والی بس تھی مگر اندر داخل ہوتے ہی ایک شدید گھٹن کا احساس ہوا۔ کوئ ایک خاتون نظر نہ آرہی تھی۔ سیٹ تک پہنچنے کے لئے جو قدم بڑھائے تو معلوم ہوا کہ درمیانی راستے سے لیکر بس کے پچھلے حصے میں سامان ٹھنسا پڑا ہے۔ حالانکہ بس کے نچلے حصے میں جگہ تھی  لیکن معلوم ہوا کہ وہاں گنجائش ختم ہو گئ ہے۔آخر گوادر میں ایسا کیا ملتا ہے۔
گھٹن کے احساس کی وجہ بس میں کپڑوں کی زیادہ موجودگی تھی۔ کھڑکیوں پہ پڑے لال رنگ کے مصنوعی ریشم کے موٹے پردے جن پہ اسی کپڑے کی چوڑی چوڑی جھالریں لٹک رہی تھیں۔ بس کی چھت پہ بھی یہی کپڑا منڈھا ہوا تھا۔ کھڑکیوں کے درمیانی وقفے پہ مصنوعی لال بڑے بڑے پھولوں کے گچھے آویزاں۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد خوب گھیر داربلوچی کپڑوں میں ملبوس انکے سربڑے بڑے پگڑسے سجے۔
سامان پہ سے چھلانگ لگنے کی مہارت دکھاتے ہوئے، میں نے بیٹھتے ہی اپنی کھڑکیوں کے پردوں کو جہاں تک ممکن تھا سمیٹ دیا۔ باہر گھپ اندہیرا تھا مگر پھر بھی نجانے کیوں ایک تسلی سی ہو گئ۔ میں باہرمحسوس ہونے والی  وسعت کو بس میں شامل سمجھ رہی تھی۔
مجھے اپنا ترکی کا سفر یاد آیا۔ پندرہ دن میں ہم نے چھ شہر دیکھے۔ رات بھر ایسی ہی بسوں میں سفر کرتے تھے اور دن میں تفریح۔ لکن ان بسوں میں اندر سامان کے نام پہ صرف بیک پیک ہوتا تھا۔ ایک مناسب ہوائ سفر کی اکانومی کلاس کا مزہ۔ دوران سفر چائے یا جوس اور بسکٹس یا مونگ پھلیاں تواضع میں شامل ہوتیں۔ ان بسوں کی سب سے بڑی خوبی وقت کی پابندی تھی۔ ترکی کا سیاحوں کا پسندیدہ مقام ہونے میں ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا بڑا حصہ ہے۔
بس چل پڑی تو لوگوں نے شور مچانا شروع کیا۔ فلم لگاءو، اوئے فلم لگاءو۔ فلم کا شاید انتظام نہ تھا اس لئے موسیقی مہیا کی گئ۔ اور اس کا آغاز بلوچی موسیقی سے ہوا۔
ہم، ہمراہ لائے کھانے سے فارغ ہوئے۔ مشعل سو گئ انکے ابا  بھی آنکھیں موند کر پڑ گئے۔ میں ان بد قسمتوں میں سے ہوں جن کا دوران سفر سونا محال ہوتا ہے۔ اور جب منی اتنے زور وشور سے بد نام ہو رہی ہو تو کون کافر سو سکتا ہے۔ یوں بلوچی گانوں کے بعد انڈین گانوں کی باری آئ۔ بس میں سب جیسے نشے میں دھت تھے۔

اے شمع ، تیری عمر طبیعی ہے ایک رات
ہنس کر گذار یا اسے رو کر گذار دے
یہ سائکل جاری تھا۔ کچھ بلوچی اور کچھ انڈیئن گانے ہر دو کے درمیان، منی کی بدنامی کا سریلا، بھڑکیلا اور رسیلا بیان۔ بلوچی اور انڈیئن، دونوں ہی گانے عشق مجازی کے شیرے میں ڈوبے ہوئے۔ لیکن دونوں میں ایک فرق تھا۔ بلوچی گانوں میں گانے والی ایک بھی عورت نہ تھی۔ جبکہ انڈیئن گانے عورت اور مرد دونوں کی آوازوں میں تھے۔ یہ فرق شاید غیرت کے فرق کی وجہ سے تھا۔
تقریباً پون گھنٹے کے بعد بس  پہلی رینجرز کی چوکی پہ رکی۔  کنڈیکٹر نے نعرہ مارا سب اپنے بیگز لے کر نیچے اتر جاءو۔ بس میں سے ایکسرے مشین نظر آرہی تھی۔ میں نے سوچا اتنے سامان سے لدی گاڑی میں سے ہر ایک شخص اپنا سامان چیک کرائے گا تو کم ازکم دو گھنٹے یہیں خرچ ہو جائیں گے۔ پھر مشعل کے بابا کو دو ہینڈ کیری اور ایک بڑا بیگ چیک کروانا ہو گا بڑا مسئلہ ہو جائے گا۔  بے چارے سامان ہی ڈھوتے رہیں گے۔
لیکن لگا کسی نے کنڈیکٹر کی بات نہیں سنی۔ دو تین دفعہ اس نے اور کہا۔ سب یونہی گل محمد بنے پڑے رہے۔ زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔ پھر رینجرز کا ایک آدمی اندر آیا، ایک ٹارچ کی بے قابو روشنی ادھر ادھر پھینکی۔ بیگ چیک کراءو اوئے سب۔ چھ سات لوگوں  رضاکارانہ طور پہ اٹھے۔ ان میں ہمارے صاحب بھی شامل تھے۔ ہمارے سامنے جو دس بارہ لوگ بیٹھے تھے وہ اپنے جثّے سے ایجنسیز کے لوگ رہے تھے وہ اسی طرح پڑے رہے۔ سب نے اپنے ساتھ ایک ایک بیگ لیا۔ دس منٹ میں سب واپس آگئے۔ مردم پورے۔ بس دوبارہ چل پڑی۔ کیا ایکسرے مشین سے گذارا تھا۔ نہیں ، ایسا کچھ نہیں ہوا۔
پاکستان زندہ باد۔
گوادر ساحلی شہر ہونے کی بناء پہ اسمگلروں کا پسندیدہ مقام ہے۔ اٹھارویں صدی میں سمندری سچے موتیوں کے قزاق تھے۔ اور اکیسویں صدی میں اسمگلرز۔ جب تک کوسٹل ہائ وے نہی بنی تھی۔ کراچی تک پہنچنا آسان نہ تھا۔ ایران سے سرحد ملی ہوئ ہے۔  ویزے کی ضرورت نہیں۔  یوں گوادر ڈسٹرکٹ میں ایران کی مصنوعات چھائ ہوئ تھیں۔ چاہے وہ چائے پینے کے معمولی کپ ہوں، کھانے کا تیل ہو یا گاڑیوں کا تیل۔ بہت سارے گوادریوں کی شادیاں بھی ایران میں ہوئ ہیں۔  
پٹرولیئم مصنوعات ایران سے اسمگل ہو کر آتی تھیں اب بھی آتی ہیں البتہ دیگر ضروریات زندگی میں اب پاکستانی اشیاء آ گئ ہیں۔ گوادر میں تین چار سال پہلے ایک سپر مارکیٹ بھی کھل گئ ہے۔
دو ہزار تین میں جب میں گوادر پہنچی تو گوادر میں پٹرول کی قیمت کراچی کے مقابلے میں تقریبا آدھی تھی۔ پہلے یہ اسمگل شدہ تیل ٹرالرز کے ذرہعے پہنچایا جاتا تھا، پھر ہائ وے بننے کے بعد گوادر سے پٹرول اسمگل ہو کر بسوں وغیرہ کے ذریعے کراچی آتا رہا۔
لیکن ہوا یہ کہ کراچی پہنچانے کے لئے عام طور پہ انہی بسوں کے خفیہ خانوں میں پٹرول موجود ہوتا تھا۔  جب کئ دفعہ ایسا ہوا کہ پٹرول کی ٹنکیاں زیادہ گرمی کی وجہ سے پھٹ گئیں  اور ائیر کنڈیشنڈ بس ہونے کی وجہ سے پوری پوری بسوں کو آگ لگ گئ۔ تو پٹرول کی اسمگلنگ میں کمی آئ۔ پھر یہ کہ ایران اور پاکستان مین پٹرول کی قیمتوں میں قابل منافع فرق نہیں رہا۔ لیکن ابھی بھی ڈیزل کی اسمگلنگ جاری ہے۔  ایرانی مصنوعات کا معیار بھی گھٹیا ہوتا ہے۔ گاڑی میں مسائل پیدا کرتا ہے۔
گوادر کے مقامی لوگوں کا کاروبار یا تو مچھلیوں سے متعلق ہے یا اسمگلنگ سے متعلق۔  مشرف دور میں گوادر میں ریئل اسٹیٹ کا کاروبار عروج پہ تھا۔ سنتے ہیں کہ باہر سے لوگ بوریوں میں پیسے بھر کر لاتے تھے۔ زمین خریدنے کے لئے۔ جس جگہ میں نے مٹی کے بنے ہوئے چند مکانات دیکھے تھے۔ محض دوتین سالوں میں وہاں ایسے گھر کھڑے ہو گئے جو کراچی میں ڈیفینس کے علاقے میں نظر آتے ہیں۔ اعلی برانڈ کی کاریں حتی کہ عام لوگوں کے پاس سیٹیلائیٹ فون ہوا کرتے تھے۔ لوگوں کی بہتات کی وجہ سے پرل کانٹی نینٹل نے ایک خوبصورت عمارت بھی اپنے ہوٹل کے لئے بنائ۔ لیکن حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے۔ اب وہاں سناٹا ہے۔ بلبل نے آشیاں چمن سے اٹھا لیا،اسکی بلا سے بوم بسے یا ہُما رہے۔

لوگ ایک دفعہ پھر اسمگلنگ کی طرف متوجہ ہوئے۔ مہینے میں ایک لانچ تین چار چکر لگا لے تو چار پانچ لاکھ روپے بن جاتے ہیں۔ جس بس میں ہم جا رہے تھے اسکے متعلق بھی اطلاع تھی کہ اس میں ڈیزل جا رہا ہے۔ ڈیزل کے علاوہ، شراب کی بھی اسمگلنگ ہوتی ہے۔ یہاں سر عام پینا کوئ برائ نہیں۔
رات کو ڈھائ بجے ارمارہ پہنچے۔ بس کے بیشتر لوگ حوائج سے فارغ ہونے کے لئے اتر گئے۔ میں بھی اتر گئ۔  ایک  دفعہ پھر ایک لڑکا دوڑتا ہوا آیا۔ لیڈیز ادھر ہے۔ میں اسکے ساتھ گئ۔ ہوٹل کے پچھواڑے میں ایک کمرہ جس میں کوئ کھڑکی نہ تھی صرف ایک دروازہ تھا۔ اور فرش پہ چٹائیاں پڑی تھیں۔ یہ کیا ہے۔ کھانے کا کمرہ عورتوں کے لئے۔ میں نے اس سے کہا کہ لیڈیز کا واش روم کہاں ہے۔ وہ میری بات  پہ کچھ حیران سے ہو گیا۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ اسے واش روم کے ہونے پہ تعجب تھا یا لیڈیز کے واش روم کے ہونے پہ تعجب تھا۔
 میں اسے حیرانگی میں چھوڑ کر واپس ہونے لگی تو تاحد نظر پھیلے ہوئے اندھیرے اور ویرانے میں مجھے ایک بہت عجیب سا احساس ہوا۔ جہاں روشنی کی حد ختم ہو رہی تھی اور اندھیرے کا راج شروع ہو رہا تھا وہاں  ایک کے بعد ایک ، دور تک گٹھریاں سی رکھی ہوئ تھیں۔ لیکن غور سے دیکھنے کے بعد میں نے اپنا سر جھٹکا یہ گٹھریاں نہیں ایکدم زندہ سلامت انسان تھے۔ ہر غیرت سے بھرپور انسان بھی  چند حیاتیاتی عوامل سے جان نہیں چھڑا سکتا۔  مجھے قدرت اللہ شہاب کی کتاب شہاب نامہ میں ان کا سکھوں کے متعلق بیان یاد آگیا۔
بس میں واپس آکر مجھے خیال آیا کہ مشعل کو اٹھا کر اسے بھی فارغ کرا لینا چاہئیے۔ مبادا رستے میں انہیں ضرورت محسوس ہو تو بس رکوانے میں بڑی مشکل ہو جائے گی۔ انکے جوتے تلاش کرنے کے لئے سیٹ کے نیچے ہاتھ مارا تو ایک عجیب سا پھل میرے ہاتھ میں آگیا۔ سخت اور روئیں دار۔ یہ کیا ہو سکتا ہے۔ میں نے اسے روشنی میں نکال کر دیکھا۔ یہ کیوی فروٹ تھا۔ ایران میں پیدا ہوتا ہے اور کراچی میں سو روپے سے زائد صرف ایک پھل ملتا ہے۔ اس کا سائز ایک مرغی کے انڈے کے برابر ہوتا ہے۔ اب جو میں نے روشنی لے کر نیچے جھانکا تو متعدد سیٹوں کے نیچے اسکے کریٹ موجود تھے۔
سب لوگ واپس آئے۔ مردم پورے کا نعرہ بلند ہوا اور بس روانہ۔
اگلی چوکی صبح چار بجے کے وقت ملی۔ جیسے ہی بس رکی۔ رینجرز کے ایک صاحب اندر داخل ہوئے۔ ڈرائیور سے کہنے لگے کتنے ہزار لٹر ڈیزل جا رہا ہے۔ سر جی جتنے میں یہ بس چل جائے۔ میں بس کے ڈیزل کی بات نہیں کر رہا انکی کر رہا ہوں جو تم چوری سے  لے کر جاتے ہو۔ اس نے ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں کہا۔ 'نہیں جناب اور تو کوئ ڈیزل نہیں ہے'۔ 'سب پتہ ہے مجھے'۔ ڈرائیور خاموش ہو گیا۔   پھر وہ اسی طنطنے میں آگے بڑھا۔ ایک آواز آئ۔ میں میجر ہوں اور یہ دس نوجوان میرے ساتھ ہیں۔ ایک ہاتھ بڑھا اس میں ایک کارڈ تھا۔ دیکھنے والے نے اسے ایک نظر دیکھا۔ سلیوٹ مارا۔ آگے آکر سب کے چہروں پہ ایک لائٹ ڈالی اور بس سے اتر گیا۔ 
اسکے بعد ایک اور چوکی،  اب ہم حب کی حدود میں داخل ہوگئے تھے۔ لوگوں نے فجر کی نکلتی ہوئ نماز پڑھی۔ کیونکہ روشنی پھیل چکی تھی۔ اسکے آدھ گھنٹے بعد ٹھیک آٹھ بجے ہم کراچی کے مضافات میں واقع یوسف گوٹھ کے بسوں کے اڈے پہ موجود تھے۔ اس سفر میں ہمیں گیارہ گھنٹے لگے جس کے متعلق دعوی بس پر لکھا تھا کہ سات گھنٹے لے گا۔
کہتے ہیں پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھنا چاہئیے پتھر کے ہو جاتے ہیں۔ مگر ایسا کوہ قاف میں ہی ہوتا ہے۔ شادمند دل پلٹ کر پیچھے ضرور دیکھتا ہے یہ کہنے کو کہ

سیر کی، خوب پھرے، پھول چنے، شاد رہے
باغباں جاتے ہیں ہم، گلشن تیرا آباد رہے
مشعل اٹھ چکی تھی۔ اس نے زندگی میں پہلی دفعہ دیکھا کہ دور دور تک رنگ برنگی خالی بسوں کی لائینیں لگی ہوئ ہیں۔  کہنے لگی۔ ماما کیا ہم یہاں سے صرف ایک بس لے سکتے ہیں وہ پنک والی، وہ مجھے پسند آرہی ہے۔ نہیں میرے بچے یہ کھلونے نہیں ہیں۔ ماما نے ایک روکھا سا جواب دیا۔
اڈے پہ ٹیکسیوں اور رکشوں کی بھر مار تھی۔ اور اترتے ہی وہ نقشہ بنا کہ، اٹھا جو مینا بدست ساقی، رہی نہ پھر تاب ضبط باقی، تمام  مے کش  پکار اٹھے، یہاں سے پہلے، یہاں سے پہلے۔
ہم نے اپنی جیب ٹٹولی اور  ایک زمانہ ء قدیم کی کالی پیلی ٹیکسی نما کھٹارے میں اپنا سامان رکھنا شروع کیا۔ اور مشعل گنگنانے لگی، منّی  ڈارلنگ تیرے لئے۔ ہائیں میں نے اسے  دیکھا ، یہ تو رات بھر سوتی رہی تھی۔

ختم شد


Thursday, March 24, 2011

ساحل کے ساتھ-۹


یہ گوادر میں مرنے والے کیا ذکری تھے؟ نہیں، نہیں، نمازی تھے۔ ہمم، تو یہ بھی نہیں سوچا جا سکتا کہ مذہب کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔ انہیں یقین تھا کہ ایجنسی والوں نے مارا ہے۔ یہ ہنگامہ کرنے والے لوگ بہت تھوڑے سے ہیں۔ سب کو باہر سے پیسہ ملتا ہے۔ ایجینسی والوں نے سوچا ہوگا کہ لوگوں کو لاپتہ کرنے میں پیچیدگیاں زیادہ ہیں۔ پکڑو اور ماردو۔ یہ ان کا خیال تھا۔
 یہاں میں نمازی اور ذکری کا فرق بتاتی چلوں۔ بلوچستان میں عمومی طور پہ اور ڈسٹرکٹ گوادر میں بالخصوص مسلمانوں کا ایک فرقہ پایا جاتا ہے جو ذکری کہلاتا ہے۔ ذکری، کراچی میں بھی پائے جاتے ہیں اسکے علاوہ ایران میں بھی موجود ہیں۔  انکے فرقے کے بانی کے طور پہ ایک شخص محمد جونپوری کا نام لیا جاتا ہے۔ زکریوں کے عقیدے کے مطابق وہ امام مہدی ہیں۔ کچھ کے خیال میں وہ ایک صوفی تھے اور ذکری دراصل صوفی ازم کی کسی تحریک سے متائثر ہو کر وجود میں آیا۔
ذکری اور نمازی میں فرق جیسا کہ نام سے اندازہ ہو تا ہے، نماز کا ہے۔ ذکری نماز کی جگہ ذکر کرتے ہیں۔ یہ مذہب تقریباً پانچ سو سال پرانا ہے۔  ذکرکے اوقات مقرر ہیں۔ جس جگہ ذکر کیا جاتا ہے اسے ذکر خانہ کہا جاتا ہے۔ یہ عمارت مسجد کا ظاہری حلیہ نہیں رکھتی کسی گھر کا کوئ کمرہ بھی ہو سکتی ہے۔ اگرچہ کہ میسر مواد کہتا ہے کہ ذکری دن میں پانچ دفعہ نماز کی جگہ پانچ دفعہ ذکر کرتے ہیں۔ مگر عملی طور پہ میں دیکھتی ہوں کہ ایسا اجتماع ہفتے میں ایک بار ہوتا ہے۔
ذکریوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حج بھی کرتے ہیں لیکن وہ رمضان کی ستائیس تاریخ کو گوادر شہر کے قریب واقع ایک اور شہر تربت میں موجود ایک مقام کی زیارت کو جاتے ہیں یہ مقام کوہ مراد میں واقع ہے۔ جہاں انکے مطابق امام مہدی کبھی رہ چکے ہیں۔ اسے زیارت بھی کہا جاتا ہے اور اسکے اعمال حج سے ملتے جلتے ہوتے ہیں سنتے ہیں کہ وہاں ایک کنواں بھی موجود تھا جو اب خشک ہو چکا ہے۔ یہ آب زم زم کے وزن پہ چاہ سم سم کہلاتا تھا۔
یوں ، مجھے سن دو ہزار تین میں اسکے متعلق جان کر حیرانی ہوئ کہ قادیانیوں کی طرح سے انہیں غیر مسلم کیوں نہیں قرار دیا گیا۔ آج سن دو ہزار گیارہ میں ذکریوں کو اپنے تحفظ کے متعلق خدشات ہیں۔ اور لوگ علی الاعلان اپنے آپ کو ذکری کہنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اسکی وجہ آپ جانیں؟
جب سے کوسٹل ہائ وے بنی ہے مختلف اسلامی گروپوں کا یہاں نفوذ آسان ہو گیا ہے۔ سن دو ہزار تین میں جب میں یہاں پہلی دفعہ آئ تھی۔ کوئ بڑا مدرسہ موجود نہ تھا۔ چھوٹے درس قرآنی کے مدرسے ہوں تو ہوں۔ کوسٹل ہائ وے کی تکمیل کے دوران ہی  زمین کا ایک بڑا ٹکڑا ایک مذہبی تنظیم کے حوالے کیا گیا۔ اب اس پہ ایک خاصی بڑی عمارت موجود ہے۔
ان گروپوں نے ذکری فرقے کو خلاف اسلام قرار دینے کی جد و جہد شروع کر دی ہے۔ کچھ بلوچوں کے خیال میں ذکریوں کو غیر مسلم قرار دینے کی سازش بھی پنجابیوں کی ہے۔
خیر، یہاں تک آنے کے بعد آپکو یہ تو سمجھ آرہا ہوگا کہ عام سنّی مسلمان نمازی کہلاتا ہے۔ ابھی تک نمازی اور ذکری ایک دوسرے سے معاشرتی تعلق رکھتے ہیں۔ انکی آپس میں رشتے داریاں ہیں اور وہ آپس میں شادیاں بھی کرتے ہیں۔ کیونکہ عقائد کے فرق کے باوجود وہ اپنے آپکو ایک ہی سمجھتے ہیں یعنی بلوچ۔
اچھا ، اس ہڑتال سے ہمارے واپسی کے منصوبے پہ کچھ ایسا ہی بھونچکا  اثر پڑا جیسا آدم کا دانہ ء گندم کھانے کے بعد دنیا کے حالات پہ پڑا۔  لوگ بڑے فخر اور بے نیازی سے کہتے ہیں کہ ہمیں سیاسی موضوعات اور گفتگو پسند نہیں آتے۔ مگر یہ سیاسی حالات لمحے بھر میں ہماری  ترجیحات،  امیدوں اور خدشات کو یکدم تبدیل کر دیتے ہیں اور بالکل پرواہ نہیں کرتے کہ ہم انکے متعلق کیسے خیالات رکھتے ہیں۔ دیکھا جائے تو جنت سے ہمارا نکالا جانا بھی سیاست شیطاں ہی تھی۔
اب کہاں تو ہم میٹھی سویوں کی خوشبو میں غرق  تھے۔ اس خیال سے مہمیز تھے کہ رات کو  چھت پہ بیٹھ کر ستاروں کی کہکشاءوں سے مزین آسماں کی رونق  کو  دیر تک نرگس کی آنکھ سے دیکھیں گے کہ کراچی میں آسماں تک پہنچنے سے پہلے ہی نظر دھویں کی آلودگی میں گم ہو جاتی ہے۔ یہی آسماں ہوتا ہے مگر اس قدر آباد نہیں۔ کہاں ہمارے خیال دل افروز کی ایسی دھجیاں بنیں کہ وہ خود خشک سویوں کی شکل میں آگیا۔ ستاروں کا خیال ذہن آسمانی سے بھک سے اڑ گیا۔ ہم اب روحانی طور پہ کراچی میں تھے۔
وہ لوگ رخصت ہوئے تو ہم دونوں نے ایک دوسرے کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ ہماری موجودگی اتوار کے دن کراچی میں ہونا لازمی تھی۔   اگر دودن ہڑتال  وجہ سے رکتے ہیں تو اتوار کو ہی نکل پاتے۔  یہ نہیں ہو سکتا تھا۔ ادھر ہڑتال کی وجہ سے اگلے دن ٹرانسپورٹ بھی نہیں ہو گی ۔ اس لئے واپسی کا منصوبہ اسی لمحے بنانا تھا ۔
وہاں سے کراچی کے لئے چلنے والی بس ساڑھے آٹھ بجے روانہ ہونی تھی۔ جو دراصل گوادر شہر سے یہاں آتی ہے۔ اس وقت ساڑھے چھ بج رہے تھے۔
چلیں جناب، پہلے بکنگ آفس سے معلوم کرنا پڑے گا کہ بس میں تین افراد کے لئے جگہ بھی ہے یا نہیں۔ وہ یہ کہہ کر روانہ ہوئے۔
کراچی کی منی بسوں میں دن رات لمبے لمبے سفر کرنے کے باوجود میں پاکستان میں شہروں کے درمیان چلنے والی بسوں کے سفر سے اب تک محروم رہی تھی۔  اور اب کن حالات میں اس سفر کے امکان پیدا ہوئے۔ شام ، سات بجے اطلاع ملی کہ بکنگ ہو گئ ہے۔ ساڑھے آٹھ بجے روانگی ہے۔ بس والوں کا کہنا ہے کہ سات گھنٹے میں کراچی پہنچ جائیں گے۔
سویاں اٹھا کر رفیق بلوچ کے حوالے کیں۔ جلدی جلدی، بھاگم بھاگ چار دن کی پھیلائ گرہستی کو سمیٹا۔ رات کے کھانے کے لئے روٹی اور آملیٹ تیار کر کے باندھا۔ کچن کو صاف ستھرا کیا کہ بعد میں آنے والوں کو پریشانی نہ ہو۔ اب ہم گوادر سے کراچی بس کے سفر کے لئے تیار تھے۔
صرف دو سیٹیں ملیں۔ ہڑتال کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ لوگ یہاں سے نکلنا چاہ رہے ہیں اور بس بھری ہوئ ہوگی۔ یعنی مشعل ساری رات ہم دونوں کی گود میں پھیل کر سوئیں گی۔ 
ساڑھے آٹھ بجے ہم بس کے اڈے پہ کھڑے تھے۔ رفیق بلوچ میرے پاس آیا اور ایک تھیلا میرے ہاتھ میں پکڑا دیا۔ اس میں گوادر کی مٹھائ ہے۔ اس نے کچھ جھجھکتے ہوئے کہا۔ مٹھائ، میں نے اسکی کیلوریز کا حساب لگایا۔ پھر اپنے پہ تف بھیجی، جدید شہری انداز زندگی کے متائثرین، جذبات کو بھی کیلوریز میں دیکھتے ہیں۔
ایک جانی پہچانی منزل کی طرف، جانے پہچانے راستوں پہ ایک  انجان سفر شروع ہونے کو تھا۔  دیکھیں تو ہر سفر ہی اپنے اختتام تک انجان رہتا ہے، جیسے زندگی کا سفر۔ لیکن بعض اوقات یا تو راستوں میں اتنے طلسم  ہوتے ہیں کہ راستےمیں ہونے کا احساس دل سے نکل جاتا ہے جیسے ایلس ان دا ونڈر لینڈ یا پھر انگریزی کا ایک محاورہ اختتام اچھا ہو تو سب اچھا ہوتا ہے، سفر بھی گذر ہی جاتا ہے۔ 
ساڑھے نو بجے رات کو پاکستان کےمعیاری طریقہ ء تاخیر کے مطابق بس آئ۔ میں نے مشعل کو گود میں سنبھالا، اور ذرا عالم جوش میں گوادر کے ساحل سے بس میں قدم رکھا، یوں جیسے کولمبس نے امریکہ کے ساحلوں پہ پیر دھرے ہوں۔ میرا گوادر سے کراچی پہلا بس کا سفر۔


جاری ہے

Saturday, March 19, 2011

ساحل کےساتھ-۸

 گذشتہ سے پیوستہ

اگلے دن کے لئے میں نے صاحب سے درخواست کی کہ مشعل کو تیراکی کے لئے سمندر میں لے جانے کا وقت نکالیں۔ تاکہ انکے اس سوال سے نجات ملے کہ سوئمنگ کب کریں گے اور ہمارا ان سے کیا گیا وعدہ بھی پورا ہو۔ ہم کوئ اہل سیاست تو نہیں کہ ہمارے وعدے قرآن حدیث نہ قرار پائیں۔ تس پہ انہوں نے ایک خالصتاً سیاسی بیان دیا۔  ابھی تو جا رہا ہوں دوپہر کے کھانے تک واپسی ہوگی۔ تب دیکھیں گے۔
:)
  اس سطر سے وہ قاری تو واپس ہونگے جو صرف غیر سیاسی تحاریر پڑھنا چاہتے ہیں۔ لیکن کیا کروں، سیاست کی تعریف بھی کچھ ایسی اوکھی ہی سی ہے۔ چاہے تو کھانے کی ترکیب سے بھی جھانکنے لگے۔
:)
ہم دونوں ماں بیٹی جب اپنے کاموں سے فارغ ہوئے تو پلان کیا کہ گھر کے سامنے ساحل کا چکر لگا کر آتے ہیں۔  صبح  لو ٹائڈ ہو چکی تھی۔ اور اب پانی آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا۔ ہم نے ساحل کے ایک طرف پڑے پتھروں میں جھانک تانک شروع کی۔  اور ساحل پہ منہ بند  اور منہ کھلی سیپیوں کا معائنہ۔  لیجیئے منہ بند سیپیوں پہ ایک شعر یاد آگیا۔
بھیجی ہیں اس نے پھولوں میں منہ بند سیپیاں
انکار بھی عجب ہے، بلاوا بھی ہے عجب
مجھے خیال آ رہا تھا کہ ساحل پہ موجود مقامی لوگ بھی سوچتے ہونگے کہ یہ خاتون اور یہ چھوٹی سی بچی پتھروں میں گھسی کیا کرتی رہتی ہیں اور ان پتھروں کی تصویریں بھی بناتی ہیں۔  کیوں؟


ساحل پہ مقامی لوگ اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ رات شکار کے لئے گئ کشتیاں اب واپس آرہی تھیں۔ ان سے مچھلیاں اتار کر ساحل تک پہنچائ جارہی تھی۔ کشتیوں سے یہ مچھلیاں عام طور پہ گدھا گاڑی میں اتاری جاتی ہیں جس کے لئے گدھا گاڑی کو سمندر کے اندر جانا پڑتا ہے۔ اب جو یہاں جیٹی بن رہی ہے تو اسکے مکمل ہونے کے بعد ان گدھا گاڑیوں کی ضرورت  نہیں رہے گی۔ گدھوں کی فطرت کا اندازہ ہے کہ  گدھے تو اس بارے میں سوچیں گے نہیں۔ ہم ہی سوچتے ہیں کہ  گدھے کیا کریں گے؟


ایک طرف کچھ لوگ ایک جال کی مرمت میں لگے تھے، کچھ کشتیوں کے بیرونی پیندے کی رگڑ کر صفائ ہو رہی تھی۔  بچے کھیل رہے تھے۔ گرمیاں ہوتی تو یہ بچے سمندر میں تیراکی کے کمالات دکھاتے۔ اسکے لئے انہیں کسی تربیت کی ضرورت نہیں۔ مچھلی کے جائے کو تیرنا کون سکھائے۔ موسم ٹھنڈا ہو چلا تھا۔ آسمان پہ بادل آگئے تھے میں نے سوچا آج بھی مشعل کا تیراکی کا پروگرام نہیں ہو سکے گا۔ پانی ٹھنڈا ہے۔
بچوں کے تخیل کی پرواز کی حد نہیں ہوتی،  خاص طور پہ بات اگر کھیل کی ہو تو ایجاد تمنا کی منزل سر نگوں ہونے میں کیا دیر لگتی ہے۔
کنچے کھیلنا زیادہ دلچسپ ہوتا ہے یا انہیں دیکھنا

ساحل پہ کھیلنے والے بچے ہمارے نزدیک آگئے۔ تب میں نے دیکھا کہ ان میں سے دو کے پاس کیکڑے کے بچے ہیں۔ جو یہاں بکثرت پائے جاتے ہیں۔

لوٹائڈ میں جب سمندر اپنے اندر موجود چٹانوں کو بے پردہ کر دیتا ہے تویہ چٹانوں پہ  آرام کرتے نظرآتے ہیں۔ ساحل پہ  کیکڑے اتنی تیزی سے کھدائ کرتے ہیں اور ریت کی ڈھیریاں بنا کر چھوڑ دیتے ہیں۔ بعض ساحلوں پہ اس قدر زیادہ ہوتے ہیں کہ ساحل ریت کی ان ڈھیریوں سے اور انکے درمیان بنی باریک لکیروں سے ڈھک جاتا ہے۔


دونوں بچوں نے اپنی انگلیوں میں ان کیکڑوں کو پکڑا اور مجھے کیکڑوں کی لڑائ دکھائ۔ لڑائ کیا تھی انکے بازو ایکدوسرے میں پھنس گئے تھے۔ پھر فرمائشی پروگرام پہ میں نے اس لڑائ کی تصویریں بنائیں۔

ایک دوسرے میں الجھے ہوئے کیکڑے اب حرکت کرنے سے معذور ہیں۔ یہ منظر کس کی یاد دلاتا ہے؟
اس ویڈیو میں بھی کیکڑوں کی ایک لڑائ ہے۔


بچوں کے ساتھ ہم نے ساحل پہ ریس لگائ پھر گیلی ریت پہ دائرے بنانے کی کوشش کی۔ جو خاصی کامیاب رہی۔ مقامی بچوں کو بھی یہ کھیل پسند آیا۔ سو ان تمام اٹھکھیلیوں کے بعد  بچوں کے انٹرویو کی باری آئ۔ یہ بچے بہت ٹوٹی پھوٹی اردو بول سکتے تھے۔ کچھ بچے اسکول بھی جاتے ہیں ۔ ان میں سے ایک پہلی اور دوسرا تیسری میں پڑھتا تھا۔ پہلی والا بچہ بارہ تک گنتی پڑھ سکتا تھا اور تیسری والا اٹھارہ تک۔ بہت بڑا فرق ہے مگر کہاں؟
تمہارا نام کیا ہے؟ میں نے ایک بچے سے پوچھا۔ میرا نام جیوا ہے۔ دوسرے بچے نے کہا جیوا اسکا نقلی نام ہے اصلی نام ہےمراد۔ اچھا اسکا نام تو تم نے مجھے بتا دیا۔ تمہارا نام کیا ہے۔ میرا نام اسامہ ہے۔ اس نے اسکے ساتھ ایک قلابازی کھائ۔ اور تمہارا نقلی نام کیا ہے؟ مجھے ذرا دلچسپی محسوس ہوئ۔ میرا نقلی نام ہے مشرف۔  وہ منہ کھول کے ہنسا۔ جس میں کچھ دانتوں کی جگہ خالی تھی اور کچھ نئے دانت جھانک رہے تھے۔ میں بھی دل کھول کے ہنسی۔ قسمت کی ستم ظریفی یا لوگوں کا حس مزاح؟
اسامہ عرف مشرف اپنے کیکڑے کے ساتھ


دیکھی نہیں ہے تونے کبھی زندگی کی لہر،،اچھا تو جا عدم کی صراحی اٹھا کے لا
 ہم گھر واپس آئے۔ حسب توقع مشعل کا سوئمنگ پروگرام کینسل ہو گیا۔ کھانے کے بعد تھوڑی دیر چھت پہ ہلکی دھوپ اور خوبصورت ویو سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ دوپہر ڈھلنے کا وقت آیا تو میں نے سوچا کہ سویوں کے پیکٹ ویسے ہی رکھے ہیں۔ ابھی پکا کر کچھ محلے میں بھجوا دیتی ہوں کچھ ہم شام کی چائے پہ کھا لیتے ہیں۔ رات کو مشعل کے سونے کے بعد سامان باندھنا شروع کریں گے۔ اگلی صبح ہمیں روانہ ہونا تھا۔
ابھی میں سویاں بھون ہی رہی تھی کہ پڑوسی بلوچ آگئے۔ یہ لوگ باتیں کر رہے تھے۔ اور میں انکی باتیں سن رہی تھی۔ معلوم ہوا کہ گوادر میں کل سے دو دن کی ہڑتال ہے۔ 
کیوں؟ تین مہینے پہلے دو لوگوں کو گوادر سےایجنیسی والوں نے اٹھایا تھا اور آج انکی لاشیں ملی ہیں۔ لوگ غصے میں ہیں۔
ایجنسی والوں نے کیوں اٹھایا؟ اٹھائے جانے سے ہفتہ بھر پہلے مرنے والوں نے گوادر میں ایک جلسے میں تقریریں کی تھیں۔
تقریروں میں کیا کہا؟ وہی باتیں جو قوم کو جوش میں دلانے کے لئے کی جاتی ہیں۔ احساس دلانے کے لئے کہ انکے ساتھ کیا زیادتی ہوتی ہے۔
مرنے والے گوادر سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ گوادر میں جب بھی ہنگامہ ہوتا ہے باہر سے لوگ آکر کرتے ہیں ہم تو مچھیرے ہیں ہم تو خود ان سے عاجز ہے۔ پہلے ہمارے علاقے میں بالکل کوئ ہنگامہ نہیں ہوتا تھا۔ اب یہ باہر والا آکر سب بند کرا دیتا ہے۔ روز ہڑتال، روز سب بند۔ ہم کہاں سے کھائے گا۔
یہ باہر کے لوگ کون ہیں؟ یہ بھی بلوچی ہیں مگر ان کا تعلق اوپر کے علاقے سے ہے۔ 
ابھی چند مہینے پہلے ایک مہاجر لڑکے کو گولی مارا۔ وہ بچپن سے یہاں رہ رہا تھا۔  بلوچی سیٹھ کو اپنا ابو کہتا تھا۔ ادھر لوگوں نے اسکو بڑا سمجھایا کہ واپس جاءو ابھی حالات صحیح نہیں ہے۔ جب صحیح ہو تو واپس آنا۔ مگر بڑا اڑیل، کہنے لگا بس یہیں رہے گا۔  اب یہاں سے مر کر جائے گا۔ مہروں میں گولی لگی۔ وہ بلوچی سیٹھ اسے لے کر کراچی گیا۔ بچ گیا پر اب معذور ہے۔ بستر سے اٹھ نہیں سکتا۔ اس کا بڑا افسوس ہوتا ہے۔

کب تم بھٹکے، کیوں تم بھٹکے، کس کس کو سمجھاءوگے
اتنی دور تو آ پہنچے ہو اور کہاں تک جاءوگے

جاری ہے

Sunday, March 13, 2011

ساحل کے ساتھ-۷

گذشتہ سے پیوستہ

جب نازنین مجھے آئ لو یو کا جواب بتا چکی تو اس نے ایک زیر لب مسکراہٹ کے ساتھ محفل میں بے قرار حقے کو اپنے سامنے کیا۔ اسکی نے کواپنے دوپٹے کے آنچل سے صاف کیا۔  اور اپنے ہونٹوں میں دبا لیا۔ پروین شاکر نے کہا تھا کہ
پلکوں سے اسکے پونچھ دوں، میں آج کی تھکن
کل کے سفر میں آج کی گرد سفر نہ جائے
یقیناً یہ کام بھی انہوں نے اپنے دوپٹے سے کیا ہوگا۔
دوپٹے کے یوں تو ہزاروں استعما ل ہیں لیکن  برصغیر میں دوپٹہ بڑا رومانوی کردار رکھتا ہے۔ شاعری ہو، سیاست ہو یا مذہب ہر جگہ دوپٹے کی بڑی جگہ ہے۔



دوپٹہ قاتل چیز ہی نہیں بلکہ اسکی خاطر قتل تک ہو جاتے ہیں۔  یوں تھر کے صحرا میں منہ پہ دوپٹے کا ایک لمبا گھونگھٹ کاڑھے سر پہ پانی کی گگری بلکہ اوپر تلے  دو تین گگریاں رکھے کیٹ واک کی حسیناءووں کو مات دیتیں، پیروں تلے دھنسنے والی ریت پہ مورنی کی طرح چلنے والی سخت جان خواتین ہوں یا شہروں میں دوپٹے کو اپنی آرائیش کا ایک حصہ بنانے والی خواتین۔  ہر ایک دوپٹے سے  قابو کرنا جانتی ہے۔ 
نازنین نے اسکے ساتھ ہی ایک گہرا کش لے کر دھواں چھوڑ دیا۔ یہ دائرے میں گھومتا دھواں جب میرے سامنے کی فضا میں پھیلا تو سچ کہوں کہ میرا بڑی شدت سے دل چاہا کہ میں خود ایک ایسا تجربہ کر کے دیکھوں۔ لیکن مجھے معلوم تھا کہ اس قصبے میں کوئ ہسپتال اور ڈسپینسری نہیں۔ چکرا کر گرنے کی صورت میں باقی لوگوں کو بڑی پریشانی ہوگی۔ اس تجربے کی خواہش کا گلا گھونٹ کر میں نے اس سے کہا۔  اس میں تمباکو ہے ناں؟ اس میں ، اس نے ایک دفعہ پھر بے نیازی سے دھواں چھوڑا۔ اس میں تمباکو، چرس، افیون، اور پتہ نہیں کون کون سے زہر ہوتے ہیں۔ ہم اسے گُڑاکو کہتے ہیں۔
برا ہوتا ہے صحت کے لئے۔ میں نے ناصح بننے کی کوشش کی۔ یہ تو مجھے پتہ تھا کہ نازنین، میرے دل میں نہیں جھانک سکتی۔ سو ناصح بننے کا کردار اخلاقی اعتبار سے سب سے اعلی ، آسان  اور متائثر کن کردار، میں نے ادا کرنے میں ذرا حرج نہیں سمجھا۔
معلوم ہوا کہ اسکا شوہر بھی یہی کہتا ہے۔ مگر وہ کہتا ہے کہ بچے کے لئے اچھا نہیں ہے۔ میں کہتی ہوں جب بچہ ہوگا تو چھوڑ دونگی، اس نے حقے کو ذرا صحیح پوزیشن پہ لاتے ہوئے اس میں اپنا بیان جمع کیا۔ مگر نازنین، میں نے دخل دیا۔ بچے کی پیدائیش کے بعد نہیں بلکہ  اس وقت جب بچہ ماں کے جسم میں زندگی کا آغاز کرتا ہے اس وقت سے یہ اسکے لئے زیادہ برا ہوتا ہے۔ دھواں کچھ دیر کے لئے اسکے منہ میں بند ہو گیا۔ اس نے میرے چہرے پہ آنکھیں روکیں اور جیسے اسے سمجھ میں آگیا کہ اب کیسے مجھے چت کرنا ہے۔ مسکرائ اور گویا ہوئ، مگر مجھے اچھی طرح پتہ ہے ابھی میرے کو کوئ بچہ نہیں ہے۔
میں نے ہار ماننے کی اداکاری کی۔
اچھا، تم لوگ کتنی عمر سے حقہ پینا شروع کرتے ہو۔ ایک دفعہ پھر نازنین ہنسی۔ اس نے میری بات کا ترجمہ کیا۔ باقی لوگ مسکرائے کچھ تبادلہ ء خیال ہوا۔ پھر وہ ایک لڑکی کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگی۔ اس نے تو ایک سال کی عمر سے پینا شروع کیا تھا۔ ہمارے یہاں، اس کی کوئ عمرنہیں۔
ایک گھریلو حقہ
 بس مجھے خیال آیا کہ یہی نازنین، کراچی میں جینز اور بغیر آستین کی شرٹ پہنے یہی کام کر رہی ہو تو لوگوں کا ایک گروہ اسے روشن خیالی کے کھاتے میں ڈال کر یہ کہے گا کہ یہ ہے وہ آزادی جو شہر کی روشن خیال عورتیں، مغرب سے مرعوب ہمارے لوگ ہماری عورتوں کے لئے چاہتے ہیں۔ ہماری عورتیں سر عام سگریٹ پیئیں اور دھواں اڑا کر خوش ہوں۔ لیکن یہاں اس مقام پہ یہ ایک روایت ہے، رواج ہے، شغل ہے۔ کوئ برائ نہیں، کوئ مسئلہ نہیں، کوئ روشن خیالی نہیں۔
غذا کا معیاری نہ ہونا، اور تمباکو نوشی شاید وہ چیزیں ہیں جنکی وجہ سے یہ عورتیں اپنی اصل عمر سے کہیں بڑی لگ رہی تھیں۔ اپنی تمام تر کشش کے باوجود، نازنین کا چہرہ اس شادابی سے محروم تھا جو ایک اکیس بائیس سال کی صحت مند لڑکی کے چہرے سے پھوٹتی ہے۔
وہیں رفیق کی بہن بیٹھی تھی۔ جسکا شوہر چار سال پہلے اسے بھائ کے پاس چھوڑ کر چوتھی شادی کر چکا ہے۔ اسکی پہلی دو بیویاں مر چکی ہیں۔  تیسری بیوی، اسکی بہن کا سب سے چھوٹا بیٹا، ایک سال کا ہے۔ چار سال میں اسکے تین اور بچے ہوئے ہیں۔ اس کا مجازی خدا، سال میں ایک دفعہ آکر یہ فریضہ پورا کرتا ہے۔ بچے، رفیق پال رہا ہے۔ یہ ہے وہ بے اختیار مثالی عورت، جس کے مٹنے کے تصور سے روایت پسندوں کو ٹھنڈے پسینے آجاتے ہیں۔
ان لوگوں نے اپنے ہاتھ کے کڑھے ہوئے دوچ دکھائے۔ ان میں سے ایک کی قیمت دس ، پندرہ ہزار ہے، مجھے بتایا گیا۔  یقیناً ہوگی، ان پہ ہاتھ سے باریک کشیدہ کاری ہوئ تھی اور لاتعداد چھوٹے چھوٹے شیشے چمک رہے تھے۔ نازنین کہنے لگی شادی پہ ایسے تیس جوڑے دئیے جاتے ہیں۔ اور سونا بھی ۔ کتنا سونا دیتے ہیں؟ لڑکے کی ماں دیتی ہے، تیس تولے۔ تمہارے یہاں شادی پہ لڑکی کو کیا ملتا ہے؟ اس نے بڑی آن بان سے ان جوڑوں کو تہہ کرتے ہوئے مجھ سے دریافت کیا ۔ 
ہم، میں نے ایک گہری سانس لی۔ ہمارے یہاں، شادی پہ لین دین لڑکی والوں کے لئےبڑی مشکل چیز ہے۔ لڑکی کی ماں صرف لڑکی کو نہیں بلکہ دولہا، اسکے گھر والوں، اسکی بھابیوں اور بہنوئیوں کو بھی کپڑے دیتی ہے، جہیز دیتی ہے، لڑکی کو سونا دیتی ہے، شادی والے دن باراتیوں کو کھانا دیتی ہے۔ یہ سن کر وہ سناٹے میں آگئ ۔ ماتھے پہ بل ڈال کر کہنے لگی۔ یہ سب کچھ لڑکی کی ماں کرتی ہے تو پھر لڑکے کی ماں  کیا کرتی ہے؟ وہ ، جو انکی حیثیت ہوتی ہے وہ کرتے ہیں، حیثیت ہوتی ہے توسونا دیتے ہیں  ورنہ نہیں دیتے، کپڑے دیتے ہیں لیکن انکی تعداد لڑکی والوں سے کم ہی ہوتی ہے، ولیمہ کرتے ہیں، اور نخرے کرتے ہیں۔ نخرہ سمجھتی ہو تم، میں نے اسے پھر چھیڑا۔
ایک بات جو مجھے جان کر حیرت ہوئ، وہاں خواتین کا ضبط تولید کے طریقوں میں دلچسپی تھی۔ بچے انہیں چار سے زیادہ نہیں چاہئیں۔ مختلف خواتین نے اس سلسلے میں جو مدد لی اسکے نتائج سے وہ مطمئن نہیں۔ ایک عورت نے کہا، دیکھو میں کتنی موٹی ہو گئ ہوں۔ ان گولیوں کی وجہ سے۔ بہر حال، اس چھوٹے سے قصبے کی ان بند خواتین کا بچوں کی تعداد کے سلسلے میں فکرمند ہونا بھی ایک تبدیلی ہی ہے۔ 
رفیق کی بیوی اور نازنین نے اذان کے ساتھ اٹھ کر عصر کی نماز پڑھی۔ میں نے انہیں مطلع کیا کہ میں رخسانہ اور طیبہ کے گھر جانا چاہتی ہوں۔ کیا وہ میرے ہمراہ ہونگیں۔ نازنین تو میرا ساتھ دینے کو فوراً تیار ہوگئی۔ رفیق کی بیوی کچھ سوچنے لگی۔ میں نے پوچھا کیا تمہارا اس سے جھگڑا ہے۔  مترجم نے بتایا کہ وہ کہہ رہی ہے ایسی کوئ بات نہیں،  ہم انکے یہاں بس کسی تقریب میں جاتے ہیں۔ خیر پھر وہ بھی چلنے کو تیار ہو گئ۔
لیکن نازنین کہنے لگی پہلے میری امی سے تو مل کر جاءو۔ وہ یہیں قریب میں رہتی ہے۔ جب تک میرا ویزہ نہیں آتا۔ میں اسی کے پاس رہونگی۔
ہم اٹھ کھڑے ہوئے۔ تمہارے پاس کوئ چادر نہیں ہے؟ نازنین نے پوچھا۔ نہیں۔ تم جب کراچی سے آتی ہو تو سفر کے دوران بھی چادر نہیں لیتیں؟ نہیں، میں اپنی گاڑی سے آتی ہوں یا جہاز سے، اسکی ضرورت نہیں سمجھتی۔ پھر میں نے اپنے سوتی سوٹ کے دوپٹے کو پھیلا کر اسے دکھایا۔ یہ ڈھائ گز کا دوپٹہ کافی نہیں، وہاں کراچی میں تو بعض خواتین دوپٹہ بھی نہیں اوڑھتیں۔ ہاں ، ہاں میں جانتی ہوں نازنین نے جلدی سے کہا۔ ادھر مسقط میں بھی عورتیں فراکیں بھی پہنتی ہیں اور چھوٹے چھوٹے کپڑے پہنتی ہیں۔ مجھے ساڑھی بہت پسند ہے میں نے ادھر مسقط میں ساڑھی پہنی تھی، میں وہاں شلوار قمیض بھی پہنتی ہوں۔ مگر یہاں ابا کہتا ہے کہ بلوچی کپڑا پہنو۔ یہ سب سے اچھا ہوتا ہے۔ تمہیں اچھا نہیں لگتا ہمارا لباس۔ میری آواز ابھری، بہت اچھا ہے لیکن بات یہ ہے  اور یوں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہانی مختصر۔ ہم رخسانہ کے گھر پہنچے، اور مجھے سمجھ میں آیا کہ رخسانہ، سماجی حیثیت میں ان سے خاصی کم ہے اس لئے شاید انکا آپس میں زیادہ میل جول نہیں ہوگا۔
رخسانہ کے گھر کی کھانا پکانے کی جگہ
 مہمانداری کی پہلی نشانی حقہ سامنے لایا گیا۔ دونوں خواتین نے اس حقے کی نے  پہ اپنا دوپٹہ لپیٹ کر پیا ایک اور امتیازی رویہ۔ مزید تواضع ہوئ، اورنج شربت کے چار گلاس اور ایک پلیٹ  بھر کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چھالیہ سپاری۔ میں نے معذرت کرتے ہوئے اسے پانی کی بوتل دکھائ۔ میں اسکے علاوہ کوئ اور پانی پیءونگی تو بیمار پڑ جائونگی۔ یہاں تو کوئ ڈاکٹر بھی نہیں۔ اس لئے شربت نہیں پی سکتی۔ نازنین نے میرے اس مسئلے کو سمجھا اور گردن ہلا کر کہا۔ ادھر میری بہن  مسقط سے آتی ہے تو وہ بھی یہ پانی نہیں پیتی۔ بوتل کا پیتی ہے۔ 
دیکھیں، بالکل معمولی تعلیم اور ایک ذرا باہر کی دنیا دیکھنے سے اسکی شعوری پہنچ کتنی بدل گئ تھی۔ میں نے سوچا۔
 رخصت ہونے لگے  تو پلیٹ  میں بھری سپاریاں دونوں مہمان خواتین نے آپس میں بانٹ لیں۔ اور ہم باہر نکل آئے۔ جہاں مشعل ایک گوادری بچی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے، بچوں کے ایک جلوس کی قیادت کر رہی تھی۔  اس جلوس کو باریک مٹی کی دھول نے اپنی لپیٹ میں لیا ہو تھا۔ ہمارا مستقبل، تمام نفرتوں سے، طبقاتی فرق سے بے نیاز آزادی کے مزے لوٹ رہا تھا۔

 بچے اس نامعلوم ابدیت سے جب یہاں آتے ہیں تو خالی ہوتے ہیں اور ابدیت کا مظہر ہوتے ہیں۔ دنیا انہیں محدودیت سے آگاہ کراتی ہے۔ وتایو فقیر نے کہا کہ دوزخ میں کوئ آگ نہیں ہم اپنے حصے کی آگ اپنے ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ دنیا میں یہ آگ کہاں سے آتی ہے؟
رات سب کاموں سے فارغ ہو کر، کمپیوٹر پہ تصاویر لوڈ کرتے ہوئے، میں نے سمندر کی آواز کو دل لگا کر سنا۔ ہمارے اور اس آواز کے درمیان صرف ایک رات کا ساتھ اور تھا۔ رات جوتاریکی کی علامت ہے در حقیقت اپنے اندر خدائ خوبی رکھتی ہے۔ یہ ہر فرق کو اندھیرے کی شفقت سے مٹا کراپنے دامن میں پناہ دیتی ہے ہررنگ  مٹ جاتا ہے اور صرف حدیں باقی رہ جاتی ہیں۔ شاید اس لئے رب کائنات نے رات کی عبادت میں خود کو چھپا دیا۔ تاریک رات، دن سے کہیں زیادہ عظیم ہے۔ یہ ہمیں روشنی کی اہمیت سمجھاتی ہے، یہ ہمیں دعا کے انداز سکھاتی ہے، ملاقات کے آداب بتاتی ہے، یہ بے سکونی کو سکون سمجھاتی ہے اور سکون کو شورش، یہ راز رکھنا بتاتی ہے اور راز کھوجنا بھی، یہ پگھلنا سکھاتی اور پگھلانا بھی ۔
مجھ کو پانا ہے تو ہر لمحہ مجھے طلب نہ کر
رات کے پچھلے پہر مانگ دعا ہوں میں بھی

جاری ہے

Sunday, March 6, 2011

ساحل کے ساتھ-۶

صبح میکینک واپس چلا گیا۔ ہم نے طے کیا کہ آج بدھ ہے جمعے کی صبح ہم بھی نکل جائیں گے بس سے۔ گاڑی یہیں چھوڑ دیں گے۔ کم از کم گھر میں کھڑی ہے۔ یہاں ایک صاحب دیکھ بھال کے لئے موجود ہیں۔ یوں اس مسئلے کا ایک عارضی حل نکل آیا۔ تھوڑا وقت ملا تو ہم ایک دفعہ پھر پہاڑ کے اس طرف چکر لگا آئے۔ واپس آ کر کھانے کے بعد کا پلان یہ بنا کہ میں اور مشعل محلے کے ایک دو گھروں کا چکر لگا لیں۔

ایک اور خوبصورت منظر ساحل، سمندر اور افق کے پہاڑ اور ایک ڈولتی ناءو
ایک گھر سے ایک دن صبح کا ناشتہ اور رات کا کھانا آیا تھا۔ وہاں نہ جانا تو بد اخلاقی ہوگی۔ شام کو چار بجے ہم دونوں نکلے۔ ایک مقامی صاحب سے مدد چاہی۔ قصبہ، یونہی اٹکل پچو انداز میں بنا ہوا ہے۔ گلی وغیرہ کا تصور بالکل خام حالت میں ہے پانچ  ہزار سال پرانے موئن جو داڑو کا جو نقشہ بیان کیا جاتا ہے وہ اس سے بہتر ہوگا۔ اب بھی دوبارہ اس گھر میں جانا چاہوں تو کسی کی مدد درکار ہوگی۔
گھر میں داخل ہوئ تو بکری کے پیشاب کی بدبو نے استقبال کیا۔ چھوٹے سے گھر میں تین کمرے اور انکے آگے برآمدہ تھا۔بالکل چھوٹے سے کچے صحن میں چار پانچ بکریاں بندھی ہوئیں تھیں۔ خوشحالی کی ایک نشانی۔ یہ ایک خوشحال گھر تھا جہاں علیحدہ سے باورچی خانے موجودتھا۔
ہم میزبان کے کمرے میں داخل ہوئے جو بیک وقت خوابگاہ اور ڈرائینگ روم اور ٹی وی کے کمرے کے طور پہ بھی استعمال ہوتا ہوگا۔ بہر حال یہاں ایسے گھر بھی موجود ہیں جہاں ایک ہی کمرے میں پندرہ لوگ سوتے ہیں۔ خواتین بچے، بوڑھے، شادی شدہ، غیر شادی شدہ سب۔
تین بچیاں تیرہ چودہ سال کی عمر کی بیٹھی ہوئیں تھیں اور تین خواتین۔ میرے گھر میں داخل ہوتے ہی دو اور خواتین آگئیں۔ ایک عورت کشیدہ کاری میں مصروف تھی اور باقی سب خوش گپیوں میں انکے درمیان میں حقہ موجود تھا۔ جس سے وہ سب باری باری کش لے رہی تھیں۔ یوں حقہ محفل میں گردش میں تھا۔ ان میں سے کسی کو اردو نہیں آتی تھی۔ ان بچیوں کو آتی تھی مگر انہیں بولنے میں بہت ہچکچاہٹ تھی۔
دس منٹ بھی نہ گذرے ہونگے کہ ایک اورعورت ایک بے حد اسمارٹ برقعے میں اندر داخل ہوئ۔ یہ نازنین تھی ہماری مترجم۔ پانچ سال پہلے جب میری اس سے ملاقات ہوئ تھی تو وہ پندرہ سال کی ہوگی۔ پانچ جماعتیں پڑھنے کے بعد شادی ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔تم نے پڑھنا کیوں چھوڑ دیا۔ میں نےاس سے پوچھا۔ ابا نے کہا بس اتنا کافی ہے۔ تو تم نے ابا سے یہ کیوں نہیں کہا کہ میں آگے پڑھونگی اور الیکشن میں کھڑے ہو کر زبیدہ جلال کی طرح اسمبلی میں لیڈر بنونگی۔  تھپڑ مارے گا، ابا۔ اس نے ہتھیلی کو کھڑآ کر کے تھپڑ کی شدت بیان کرنے کی کوشش کی تھی۔  بلوچی اسٹائل میں سیدھا، کھڑا جواب۔ وہ زبیدہ جلال کو سخت نا پسند کرتا ہے۔ کیوں؟ وہ کہتا ہے عورت کو یہ سب نہیں کرنا چاہئیے۔ اچھا میں خاموش ہو گئ تھی۔
آج وہی نازنین میرے سامنے موجود تھی شادی کو تین سال ہو گئے۔ بچہ نہیں ہے کوئ۔ کیسے ہوگا، میں اپنے شوہر کے پاس بہت کم رہی ہوں۔ وہ مسقط میں ہوتا ہے اسکا سارا خاندان مسقط میں ہے۔
یہ بھی دلچسپ تھا کہ باوجود اسکے کہ وہاں چھوٹی عمر کی بچیاں بھی موجود تھیں۔ انہیں کسی بھی طرح کی گفتگو کرنے میں کچھ مسئلہ نہ تھا۔ انکا یہ تصور نہ تھا کہ یہ باتیں بچوں کے سامنے کرنے کی نہیں۔ 
ہمم، مگر شادی اس نے گوادر میں کی۔ میں نے اس سے کرید کی۔  ہاں کہتا ہے رشتے دار تو سب ادھر ہے۔
گوادر، ایک لمبے عرصے تک عمان کے زیر تسلط رہا۔ انیس سو اٹھاون میں حکومت پاکستان نے بعوض تیس لاکھ امریکن ڈالر اسے عمان سے خریدا۔  اس وجہ سے یہاں کے طرز بودو باش پہ عربی ثقافت کا اثر ہے۔ اکثر لوگوں کے عزیز اقارب مسقط میں ہیں۔ اور آنا جانا رہتا ہے۔
 تمہارے شوہر نے تمہیں اب تک مسقط نہیں بلایا؟ ویزہ نہیں دے رہے وہ لوگ۔ میرے شوہر کو بڑا غصہ ہے۔ ویسے میں دو دفعہ وہاں گئ ہوں۔ دو تین مہینوں کے لئے۔  عربی ایسے ہی ہوتے ہیں۔ میں نے اس سے ہمدردی کی۔ فون آتا ہے اس کا؟ ہاں دن میں کئ دفعہ۔ اس نے کئ دفعہ پہ زور دیا۔ اچھا،  میں تو سمجھتی تھی کہ بلوچی مرد بہت کم رومینٹک ہوتے ہیں۔ لو،  اس نے بلوچی میں ایک عورت کو میری بات کا ترجمہ کر کے بتایا، اور ہنسنے لگی۔ پاکستان میں جتنی قومیتیں بستی ہیں ان میں سب سے زیادہ رومینٹک بلوچی مرد ہوتے ہیں، نازنین نے دعوی کیا۔ مجھے نجانے کیوں لگا کہ یہ دعوی، شماریات کے ان نتائج کی طرح تھا جو موقع پہ ہی بنائے جاتے ہیں۔ نازنین شاید یہ کہہ رہی تھی کہ بلوچی عورت بڑی حساس ہوتی ہے۔ مگر عورتیں تو سبھی بڑی حساس ہوتی ہیں۔ جب ہی تو خداوند نے تخلیق کی ذمہ داری انہیں دی۔
اچھا، میں نے اسے مزید چھیڑا۔ تو تمہارارومینٹک شوہر تمہیں دن میں کتنی دفعہ آئ لو یو کہتا ہے؟ کوئ گنتی نہیں۔ اس نے ہاتھ اٹھا کرجھٹکا۔ اسکے ہاتھ کی جنبش میں ایک فخر تھا۔ دن میں کتنی دفعہ لکھ کر ایس ایم ایس کرتا ہےاور رات کو جب فون پہ بات کرتا ہے تو دس دفعہ کہتا ہے۔ میں ہنس رہی تھی۔ باقی لڑکیاں اور عورتیں بھی صرف آئ لو یو سمجھ کر مسکرا رہی تھیں۔ انہیں آئ لو یو سمجھ میں آرہا تھا۔
میں نے رفیق بلوچ کی بیوی کی طرف اشارہ کیا اچھا اس سے پوچھ کر بتاءو اسکا شوہر کہتا ہے اسے آئ لو یو۔  اس نے بلوچی میں اس سے پوچھا اور پھر کہنے لگی اسکا شوہر کیوں کہے گا۔ آئ لو یو۔
کیا مطلب، تمہارا شوہر کیوں کہتا ہے؟ میرا شوہر اس لئے کہتا ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ آئ لو یو کا کیا جواب ہے۔
سچ پوچھیں تو مجھے گفتگو اب ایک فلسفے کی طرف جاتی ہوئ لگی فلسفہ ء رومانس۔ آئ لو یو کا کیا جواب ہوتا ہے۔ میں نے اپنے دماغ کو ٹٹولا۔
آپ بھی سوچیں۔
یہاں میں اس کہانی کو ذرا سسپنس میں رکھنے کے لئیے کچھ ادھر ادھر کی اطلاعات ڈالتی ہوں۔ مثلاً نازنین کا برقعہ۔ وہ دبلی پتلی لمبی لڑکی تھی۔ جسکے نین نقش تو تھے ہی خوب کٹیلے، لیکن ان سب پہ اس کا انداز گفتگوبھاری تھا۔ جس میں ایک بانکپن اور غرور تھا۔ ایسا غرور جو الجھنے کی دعوت دیتا ہے۔ اور جب الجھ جائیں تو مزہ آنے لگتا ہے۔ 
ہاں تو اس کا برقعہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ برقعہ، اس فیوڈل نظام میں اعلی طبقے کی خواتین کی نشانی ہے۔ یہاں جتنے اعلی خاندان سے تعلق، اتنا ہی خواتین پردے میں ہونگیں۔ اسلام سے پہلے بھی برقعہ موجود تھا مگر صرف طبقہ ء اشرافیہ یعنی دولتمند گھرانوں کی خواتین پہنتی تھیں۔ نچلے طبقے کی خواتین اسکا استعمال نہیں کرتی تھیں۔ یوں انسانوں کی خوشحالی انکی خواتین کے رہنے سہنےسے پتہ چل جاتی تھی اب بھی بیشتر اوقات خواتین سے ہی مردوں کی کمانے کی استطاعت پتہ چلتی ہے۔
خیر اسکا برقعہ بڑا اسٹائلش تھا۔
کالے رنگ کا خوبصورت فال کا کپڑا، جو جسم کی تراش کے حساب سے اوپر سے فٹنگ میں تھا اور نیچے سے گھیردار، تنگ آستینیں جن پہ فیروزی ستاروں اور ریشم کا نفیس کام کیا ہوا تھا۔ اسکے اسکارف کے ایک سرے پہ بھی وہی کام بنا ہو تھا۔ جو منہ سے لپٹنے کے بعد گردن پہ پھیل جاتا۔ اور جس میں سے اسکی قاتل سرمہ لگی ہوئ آنکھیں جھانکتی رہتیں۔
 میں نے اس سے پوچھا، کیا یہ برقعہ تم نے کراچی سے لیا ہے۔ جواب ملا نہیں مسقط سے۔ اوہ لگ رہا ہے۔ کراچی میں، میں نے کبھی اتنا خوبصورت برقعہ نہیں دیکھا۔ میں نے اسے سراہا۔
خیر ہم کہاں تھے، آئ لو یو کے جواب پہ۔ سو میں نے اس سے پوچھا کہ آئ لو یو کا کیا جواب ہوتا ہے؟ سر پہ ہاتھ رکھ کر اس نے ایک بے نیازی سے اسے جھٹکا پھر بلوچی حسینہ  مسکرائ اور ایک ادا سے منہ پھیر کر بولی۔ آئ لو یو کا جواب ہوتا ہے آئ لو یو ٹو۔
مار ڈالا۔
وہ تیرہ چودہ سالہ بچیاں دوپٹے میں منہ گھسا کر ہنسنے لگیں ان میں سے ایک نے جلدی سے حقے کی نے تھامی اور زور زور سے دو تین کش لے ڈالے۔
تمہیں تو بڑی انگریزی آتی ہے۔ میں لاجواب ہو گئ۔ تمہیں کیسے پتہ چلا کہ آئ لو یو کا جواب آئ لو یو ٹو ہوتا ہے۔ کہنے لگی، جہاں سے اردو سیکھی ہے وہیں سے اس کا جواب بھی پتہ چلا۔ یعنی انڈین  ڈراموں سے؟ ہاں وہیں سے۔ اس نے بلوچی لہجے میں ہاں پہ زور دیا۔ یہ رفیق کی بیوی بالکل ٹی وی نہیں دیکھتی، نہ اسے اردو آتی ہے اور نہ آئ لو یو کا جواب۔
زندگی کے اس لمحے تک، میں اسٹار پلس کے ڈراموں میں کبھی کوئ مثبت پہلو نہیں نکال سکی تھی۔ لیکن اس دن میں نے تسلیم کیا کہ ان ڈراموں میں ایک خوبی تو ہے اور وہ یہ کہ تمدن کی دنیا سے دور رہنے والے بھی ایک دوسرے کو آئ لو یو کہہ سکتے ہیں۔ غیرت میں عورت کے  قتل  پہ فخر کرنے والے بھی محبت کے اس ظاہری اظہار کی سمجھ رکھنے لگے ہیں اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنے ساتھی کو پیار بھری کوئ بات کہنی چاہئیے۔ یہ تبدیلی کتنی غیر محسوس طریقے سے آئ ہے، کتنی آہستگی سے کہ بہت سارے لوگوں کو اسکی خبر بھی نہ ہو سکی۔ شاید آئ لو یو اور آئ لو یو ٹو کہنے والے بھی اپنی اس تبدیلی سے نا آشنا ہیں۔
۔
۔
۔
خیال آیا کہ کیا میں اپنے مرد قارئین سے صرف یہ پوچھ سکتی ہوں کہ انہوں نے اپنی قریبی خواتین کو جس میں انکی مائیں ، بہنیں، بیویاں اور بیٹیاں اور دیگر رشے دار  خواتین شامل ہیں، انکو آخری دفعہ کب کہا کہ وہ ان سے محبت کرتے ہیں؟

جاری ہے

Friday, March 4, 2011

ساحل کے ساتھ-۵


اندھیرا پھیل چلا تھا جب میں مشعل کو رات کا کھانا کھلا کر فارغ ہوئ۔ پتہ چلا کہ محلے سے دو خواتین ملنے کے لئے آئ ہیں۔ عبایہ پہنے ہوئے جب وہ اندر آئیں تو مجھے لگا کہ ان میں سے ایک سے پہلے مل چکی ہوں۔ طیبہ، یہی نام ہے ناں تمہارا۔ میں نے ان میں سے ایک سے کہا۔ وہ ایکدم مسکرائ۔ میں سمجھی  تم مجھے بھول گئ۔ ارے نہیں، میں اتنے عرصے بعد یہاں آئ ہوں تم اتنی بڑی ہو گئیں۔
طیبہ، اپنی بڑی بہن اور چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ آئ تھی۔ اسکی عمر یہی کوئ چودہ پندرہ سال ہوگی۔ اسکی بڑی بہن اس سے کوئ دو تین سال بڑی تھی۔ نام تھا اس کا فرض کریں کہ رخسانہ۔
تم لوگوں کو اردو کیسے آتی ہے؟  ڈارمے دیکھتے ہیں اور فلمیں کیبل پہ۔ اس سے آئی ہے۔ کیبل یہاں کوئ چار سال پہلے آیا ہے۔ اور چار سال کے حساب اردو فرسٹ کلاس۔  جو چینلز یہاں آتے ہیں وہ زیادہ تر انڈین یا ایرانی ہیں۔ ایرانی اس لئے کہ گوادر سے ایرانی سرحد زیادہ دور نہیں۔ اور انڈین کس لئے، یہ نہ معلوم یا معلوم؟  پاکستانی چند چینلز آتے ہیں ان میں سے ایک دو خبروں کے ہیں۔ ڈرامے کا کوئ چینل نہیں ہے۔ لازماً ان لوگوں کی اردو پہ ہندی کا اثر ہے۔ جب ہی ایک بچے نے مجھ سے پوچھا کیا تم پتنی ہو؟ 
جتنی دیر وہ میرے پاس بیٹھی رہی۔ رخسانہ اپنی دوچ ، خواتین کا خاص بلوچی لباس،  کی جیب میں سے موبائل نکال کر دیکھتی رہی۔  یہ مجھے پتہ چل گیا کہ تم ہو بڑی مالدار، موبائل فون ہے تمہارے پاس۔ میں نے اسے چھیڑا۔ لیکن یہ بتاءو، جب  تمہیں پڑھنا نہیں آتا تو تم کیسے موبائل کو چیک کرتی ہو۔ ہنسنے لگی۔
ہلکے پھلکے مذاق کے بعد میں نے گفتگو کو قائم رکھنے کو پوچھا ، تو تم لوگ تین بہنیں چار بھائ ہو۔ نہیں ہم چار بہنیں اور چار بھائ تھے۔ بڑی بہن  مر گئ۔
میں خاموش ہو گئ۔ اچھا کیسے مر گئ۔ وہ اسکی شادی ہو گئ تھی۔ وہ پھر خاموش ہو گئ۔ ہمم، بچے کی پیدائش کے سلسلے میں مر گئ۔ نہیں اسے میرے گھر والوں نے زہر دے دیا تھا۔ اس نے اتنے سادہ اورعام لہجے میں کہا زہردے دیا تھا، جیسے گھر میں کسی چوہے کے مرنے مارنے کا تذکرہ ہو،  میں دنگ رہ گئ۔ ایک سال پہلے وہ مری۔ اندازاً اٹھارہ انیس سال کی ہوگی۔
مگر تمہارے گھر والوں نے اسے زہر کیوں دیا؟  وہ اسے اپنا شوہر پسند نہیں تھا۔ اس نے کچھ سوچ کر کہا۔ کیوں؟ وہ اس سے بہت بڑا تھا۔ پہلے بھی اسکی دو شادیاں ہوئیں تھیں۔ وہ اسکی تیسری بیوی تھی۔
تمہیں کیسے پتہ گھر والوں نے اسے زہر دیا تھا؟ یہاں سب کو یہ بات پتہ ہے۔ وہ ہمارے گھر رہنے آئ ہوئ تھی۔ بس ایک دن مر گئ۔
غیرت بڑی چیز ہے جناب۔ اسکے آگے ایک اٹھارہ انیس سال کی لڑکی کیا اوقات ہے۔ اسی صوبے کے ممبرقومی اسمبلی نے ایک دفعہ کہا تھا کہ غیرت پہ قتل ہماری روایت ہے۔ اور اس بات سے ہم سب اچھی طرح واقف ہیں کہ خواتین کے سلسلے میں روایت توڑی نہیں جا سکتی اور جو جہاں ہے وہاں سے وہ حتی المقدور حصہ لیتا ہے۔ جو عملی طور سے نہیں کر پاتے وہ زبان سے کرتے ہیں۔
بلوچ بغاوت کرنا چاہتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ کس کے خلاف بغاوت کرنی چاہئیے اور یوں کچھ روحیں شب انتظار کے مختصر ہونے کے انتظار میں برزخ میں ہیں۔
میں نے بات بدلنے کو کہا۔ تم دونوں کی منگنی ہو گئ کیا۔ دونوں شرما گئیں، نہیں ابھی تو نہیں۔ اچھا یہ بتاءو تمہارے یہاں لڑکی کو کیسے پسند کرتے ہیں۔ نہیں، ہمارے یہاں پسند کی شادی نہیں ہوتی رخسانہ نے فوراً میری بات کاٹی۔ مجھے معلوم ہے تمہارے یہاں ایسے نہیں ہوتا۔ میں پسند کی شادی کا نہیں کہہ رہی یہ پوچھ رہی ہوں کہ ایک لڑکی کو لڑکے والدین جب دیکھتے ہیں تو وہ کس چیز کو پسند کرتے ہیں۔ شکل صورت، ابا کا کام یا اسکی پڑھائ۔ کیسے انہیں کوئ لڑکی پسند آتی ہے۔
طیبہ کی بڑی بہن نے پہلے سوچا اور پھر بڑے مدبرانہ انداز میں کہنے لگی۔ ہمارے یہاں اس لڑکی کو پسند کرتے ہیں جو عزت میں زیادہ ہو۔ کون عزت میں زیادہ ہوتی ہے؟  میں نے پھر سوال داغا۔ جواب، وہ جسے گھر کے سارے کام آتے ہوں، کڑھائ سلائ آتی ہو، جانوروں کو دیکھ لیتی ہو۔
اس پہ میں نے طیبہ سے کہا، طیبہ تمہارا کیا ہوگا۔ تمہاری شکل تو اچھی ہے لیکن عزت تو تمہاری بڑی بہن کی زیادہ ہے اسے سب کام آتے ہیں اور تمہیں صرف جھاڑو دینا آتی ہے۔ اسکی شادی تو ہو جائے گی تم کیا کروگی۔ میں نے اسکی طرف دیکھ کر سوالیہ انداز میں بھنوئیں اچکائیں۔ جواباً اس نے بھی اپنی بھنوئیں شرارت میں ہلائیں۔  ہاں میں کیا کرونگی، مجھے تو صرف جھاڑو دینا آتی ہے۔
جب چلنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئیں تو اصرار کیا کہ ہمارے گھر بھی ضرور آنا۔ چلتے چلتے، بڑے شوق سے کمرے کے درمیان لٹکے ہوئے جھولے کی طرف دیکھنے لگیں۔ بیٹھنا چاہو تو بیٹھ جاءو۔ ادھر محلّے کے اور بچے بھی اس جھولے میں بیٹھنے کے لئے آتے ہیں۔ مجھے بھی پسند ہے۔
ٹوٹ جائے گا؟ نہیں ٹوٹے گا۔ یہ لوہے کی زنجیر بڑی مضبوط ہے۔ میں نے زنجیر کو ہلایا۔  میں، مشعل اور اسکے ابّا تینوں ایک ساتھ اس جھولے پہ لیٹ جاتے ہیں نہیں ٹوٹتا۔ میں نے حوصلہ دینے کو کہا۔ نہیں، انہوں نے پھر سوچا اور انکار کر دیا شاید شرم مانع تھی۔  پھر کمرے کے دروازے سے باہر نکلتے نکلتے یک لخت طیبہ پلٹی اور آ کر جھولے پہ بیٹھ گئ۔ بچپن اتنی آسانی سے ہاتھ ہلا کراور دامن جھاڑ کر رخصت نہیں ہوتا اور بعض لوگوں  سے کبھی نہیں۔  
پتہ چلا کہ شافٹ یہاں صحیح نہیں ہو سکتی اور فیصلہ یہ کیا ہے کہ کراچی سے نئ لا کر لگائیں۔ اب ہمیں واپسی کا پروگرام سیٹ کرنا تھا۔ مکینک صبح کی بس سے واپس جا رہا تھا۔ گاڑی کے بغیر ہم بھی یہاں کچھ کرنے کے قابل نہیں۔ کراچی کی طرح یہاں ٹرانسپورٹ کی سہولت نہیں۔
رات کو کھانے کی میز پہ مکینک صاحب بھی موجود تھے۔ معلوم ہوا کہ گوادر میں لوگوں نے انہیں بلوچ ماننے سے انکار کردیا۔  کیسا بلوچ ہے، نہ شراب پیتا ہے، نہ  افیون چرس لیتا ہے نہ گٹکا کھاتا ہے ۔  چھالیہ بھی نہیں کھاتا۔ تو بلوچی نہیں ہو سکتا۔ مکینک شرماتا ہوا کہہ رہا تھا کہ ادھر کراچی میں بھی لوگ کہتا ہے کہ تم کیسے مکینک ہو کسی قسم کا نشہ نہیں کرتے۔
مجھے چین یاد آگیا۔ چین سے تجارت میں جیتنے کے جذبے میں انگریزوں نے چینیوں کو افیون کی لت لگائ۔ چین نے دو جنگیں لڑیں جو افیون کی جنگیں کہلاتی ہیں۔ ہانگ کانگ کے جزیرے سے ہاتھ دھونا پڑا۔ یوں ایک پوری صدی چین ذلت اور شرمندگی کے نشے میں دھت رہا۔ انیس سو گیارہ میں شہنشاہیت کے خاتمے کے ساتھ چین ری پبلک بنا۔ مزید سیاسی اصلاحات ہوئیں۔ ماءو زے تنگ کی سخت پالیسیز سامنے آئیں۔ اور افیون کے نشے میں دھت قوم  جاگی اور ایسی جاگی کہ آج بھی خاموشی سے دنیا کی عظیم قوم بننے سے لگی ہوئ ہے۔
جاری ہے