Sunday, March 6, 2011

ساحل کے ساتھ-۶

صبح میکینک واپس چلا گیا۔ ہم نے طے کیا کہ آج بدھ ہے جمعے کی صبح ہم بھی نکل جائیں گے بس سے۔ گاڑی یہیں چھوڑ دیں گے۔ کم از کم گھر میں کھڑی ہے۔ یہاں ایک صاحب دیکھ بھال کے لئے موجود ہیں۔ یوں اس مسئلے کا ایک عارضی حل نکل آیا۔ تھوڑا وقت ملا تو ہم ایک دفعہ پھر پہاڑ کے اس طرف چکر لگا آئے۔ واپس آ کر کھانے کے بعد کا پلان یہ بنا کہ میں اور مشعل محلے کے ایک دو گھروں کا چکر لگا لیں۔

ایک اور خوبصورت منظر ساحل، سمندر اور افق کے پہاڑ اور ایک ڈولتی ناءو
ایک گھر سے ایک دن صبح کا ناشتہ اور رات کا کھانا آیا تھا۔ وہاں نہ جانا تو بد اخلاقی ہوگی۔ شام کو چار بجے ہم دونوں نکلے۔ ایک مقامی صاحب سے مدد چاہی۔ قصبہ، یونہی اٹکل پچو انداز میں بنا ہوا ہے۔ گلی وغیرہ کا تصور بالکل خام حالت میں ہے پانچ  ہزار سال پرانے موئن جو داڑو کا جو نقشہ بیان کیا جاتا ہے وہ اس سے بہتر ہوگا۔ اب بھی دوبارہ اس گھر میں جانا چاہوں تو کسی کی مدد درکار ہوگی۔
گھر میں داخل ہوئ تو بکری کے پیشاب کی بدبو نے استقبال کیا۔ چھوٹے سے گھر میں تین کمرے اور انکے آگے برآمدہ تھا۔بالکل چھوٹے سے کچے صحن میں چار پانچ بکریاں بندھی ہوئیں تھیں۔ خوشحالی کی ایک نشانی۔ یہ ایک خوشحال گھر تھا جہاں علیحدہ سے باورچی خانے موجودتھا۔
ہم میزبان کے کمرے میں داخل ہوئے جو بیک وقت خوابگاہ اور ڈرائینگ روم اور ٹی وی کے کمرے کے طور پہ بھی استعمال ہوتا ہوگا۔ بہر حال یہاں ایسے گھر بھی موجود ہیں جہاں ایک ہی کمرے میں پندرہ لوگ سوتے ہیں۔ خواتین بچے، بوڑھے، شادی شدہ، غیر شادی شدہ سب۔
تین بچیاں تیرہ چودہ سال کی عمر کی بیٹھی ہوئیں تھیں اور تین خواتین۔ میرے گھر میں داخل ہوتے ہی دو اور خواتین آگئیں۔ ایک عورت کشیدہ کاری میں مصروف تھی اور باقی سب خوش گپیوں میں انکے درمیان میں حقہ موجود تھا۔ جس سے وہ سب باری باری کش لے رہی تھیں۔ یوں حقہ محفل میں گردش میں تھا۔ ان میں سے کسی کو اردو نہیں آتی تھی۔ ان بچیوں کو آتی تھی مگر انہیں بولنے میں بہت ہچکچاہٹ تھی۔
دس منٹ بھی نہ گذرے ہونگے کہ ایک اورعورت ایک بے حد اسمارٹ برقعے میں اندر داخل ہوئ۔ یہ نازنین تھی ہماری مترجم۔ پانچ سال پہلے جب میری اس سے ملاقات ہوئ تھی تو وہ پندرہ سال کی ہوگی۔ پانچ جماعتیں پڑھنے کے بعد شادی ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔تم نے پڑھنا کیوں چھوڑ دیا۔ میں نےاس سے پوچھا۔ ابا نے کہا بس اتنا کافی ہے۔ تو تم نے ابا سے یہ کیوں نہیں کہا کہ میں آگے پڑھونگی اور الیکشن میں کھڑے ہو کر زبیدہ جلال کی طرح اسمبلی میں لیڈر بنونگی۔  تھپڑ مارے گا، ابا۔ اس نے ہتھیلی کو کھڑآ کر کے تھپڑ کی شدت بیان کرنے کی کوشش کی تھی۔  بلوچی اسٹائل میں سیدھا، کھڑا جواب۔ وہ زبیدہ جلال کو سخت نا پسند کرتا ہے۔ کیوں؟ وہ کہتا ہے عورت کو یہ سب نہیں کرنا چاہئیے۔ اچھا میں خاموش ہو گئ تھی۔
آج وہی نازنین میرے سامنے موجود تھی شادی کو تین سال ہو گئے۔ بچہ نہیں ہے کوئ۔ کیسے ہوگا، میں اپنے شوہر کے پاس بہت کم رہی ہوں۔ وہ مسقط میں ہوتا ہے اسکا سارا خاندان مسقط میں ہے۔
یہ بھی دلچسپ تھا کہ باوجود اسکے کہ وہاں چھوٹی عمر کی بچیاں بھی موجود تھیں۔ انہیں کسی بھی طرح کی گفتگو کرنے میں کچھ مسئلہ نہ تھا۔ انکا یہ تصور نہ تھا کہ یہ باتیں بچوں کے سامنے کرنے کی نہیں۔ 
ہمم، مگر شادی اس نے گوادر میں کی۔ میں نے اس سے کرید کی۔  ہاں کہتا ہے رشتے دار تو سب ادھر ہے۔
گوادر، ایک لمبے عرصے تک عمان کے زیر تسلط رہا۔ انیس سو اٹھاون میں حکومت پاکستان نے بعوض تیس لاکھ امریکن ڈالر اسے عمان سے خریدا۔  اس وجہ سے یہاں کے طرز بودو باش پہ عربی ثقافت کا اثر ہے۔ اکثر لوگوں کے عزیز اقارب مسقط میں ہیں۔ اور آنا جانا رہتا ہے۔
 تمہارے شوہر نے تمہیں اب تک مسقط نہیں بلایا؟ ویزہ نہیں دے رہے وہ لوگ۔ میرے شوہر کو بڑا غصہ ہے۔ ویسے میں دو دفعہ وہاں گئ ہوں۔ دو تین مہینوں کے لئے۔  عربی ایسے ہی ہوتے ہیں۔ میں نے اس سے ہمدردی کی۔ فون آتا ہے اس کا؟ ہاں دن میں کئ دفعہ۔ اس نے کئ دفعہ پہ زور دیا۔ اچھا،  میں تو سمجھتی تھی کہ بلوچی مرد بہت کم رومینٹک ہوتے ہیں۔ لو،  اس نے بلوچی میں ایک عورت کو میری بات کا ترجمہ کر کے بتایا، اور ہنسنے لگی۔ پاکستان میں جتنی قومیتیں بستی ہیں ان میں سب سے زیادہ رومینٹک بلوچی مرد ہوتے ہیں، نازنین نے دعوی کیا۔ مجھے نجانے کیوں لگا کہ یہ دعوی، شماریات کے ان نتائج کی طرح تھا جو موقع پہ ہی بنائے جاتے ہیں۔ نازنین شاید یہ کہہ رہی تھی کہ بلوچی عورت بڑی حساس ہوتی ہے۔ مگر عورتیں تو سبھی بڑی حساس ہوتی ہیں۔ جب ہی تو خداوند نے تخلیق کی ذمہ داری انہیں دی۔
اچھا، میں نے اسے مزید چھیڑا۔ تو تمہارارومینٹک شوہر تمہیں دن میں کتنی دفعہ آئ لو یو کہتا ہے؟ کوئ گنتی نہیں۔ اس نے ہاتھ اٹھا کرجھٹکا۔ اسکے ہاتھ کی جنبش میں ایک فخر تھا۔ دن میں کتنی دفعہ لکھ کر ایس ایم ایس کرتا ہےاور رات کو جب فون پہ بات کرتا ہے تو دس دفعہ کہتا ہے۔ میں ہنس رہی تھی۔ باقی لڑکیاں اور عورتیں بھی صرف آئ لو یو سمجھ کر مسکرا رہی تھیں۔ انہیں آئ لو یو سمجھ میں آرہا تھا۔
میں نے رفیق بلوچ کی بیوی کی طرف اشارہ کیا اچھا اس سے پوچھ کر بتاءو اسکا شوہر کہتا ہے اسے آئ لو یو۔  اس نے بلوچی میں اس سے پوچھا اور پھر کہنے لگی اسکا شوہر کیوں کہے گا۔ آئ لو یو۔
کیا مطلب، تمہارا شوہر کیوں کہتا ہے؟ میرا شوہر اس لئے کہتا ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ آئ لو یو کا کیا جواب ہے۔
سچ پوچھیں تو مجھے گفتگو اب ایک فلسفے کی طرف جاتی ہوئ لگی فلسفہ ء رومانس۔ آئ لو یو کا کیا جواب ہوتا ہے۔ میں نے اپنے دماغ کو ٹٹولا۔
آپ بھی سوچیں۔
یہاں میں اس کہانی کو ذرا سسپنس میں رکھنے کے لئیے کچھ ادھر ادھر کی اطلاعات ڈالتی ہوں۔ مثلاً نازنین کا برقعہ۔ وہ دبلی پتلی لمبی لڑکی تھی۔ جسکے نین نقش تو تھے ہی خوب کٹیلے، لیکن ان سب پہ اس کا انداز گفتگوبھاری تھا۔ جس میں ایک بانکپن اور غرور تھا۔ ایسا غرور جو الجھنے کی دعوت دیتا ہے۔ اور جب الجھ جائیں تو مزہ آنے لگتا ہے۔ 
ہاں تو اس کا برقعہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ برقعہ، اس فیوڈل نظام میں اعلی طبقے کی خواتین کی نشانی ہے۔ یہاں جتنے اعلی خاندان سے تعلق، اتنا ہی خواتین پردے میں ہونگیں۔ اسلام سے پہلے بھی برقعہ موجود تھا مگر صرف طبقہ ء اشرافیہ یعنی دولتمند گھرانوں کی خواتین پہنتی تھیں۔ نچلے طبقے کی خواتین اسکا استعمال نہیں کرتی تھیں۔ یوں انسانوں کی خوشحالی انکی خواتین کے رہنے سہنےسے پتہ چل جاتی تھی اب بھی بیشتر اوقات خواتین سے ہی مردوں کی کمانے کی استطاعت پتہ چلتی ہے۔
خیر اسکا برقعہ بڑا اسٹائلش تھا۔
کالے رنگ کا خوبصورت فال کا کپڑا، جو جسم کی تراش کے حساب سے اوپر سے فٹنگ میں تھا اور نیچے سے گھیردار، تنگ آستینیں جن پہ فیروزی ستاروں اور ریشم کا نفیس کام کیا ہوا تھا۔ اسکے اسکارف کے ایک سرے پہ بھی وہی کام بنا ہو تھا۔ جو منہ سے لپٹنے کے بعد گردن پہ پھیل جاتا۔ اور جس میں سے اسکی قاتل سرمہ لگی ہوئ آنکھیں جھانکتی رہتیں۔
 میں نے اس سے پوچھا، کیا یہ برقعہ تم نے کراچی سے لیا ہے۔ جواب ملا نہیں مسقط سے۔ اوہ لگ رہا ہے۔ کراچی میں، میں نے کبھی اتنا خوبصورت برقعہ نہیں دیکھا۔ میں نے اسے سراہا۔
خیر ہم کہاں تھے، آئ لو یو کے جواب پہ۔ سو میں نے اس سے پوچھا کہ آئ لو یو کا کیا جواب ہوتا ہے؟ سر پہ ہاتھ رکھ کر اس نے ایک بے نیازی سے اسے جھٹکا پھر بلوچی حسینہ  مسکرائ اور ایک ادا سے منہ پھیر کر بولی۔ آئ لو یو کا جواب ہوتا ہے آئ لو یو ٹو۔
مار ڈالا۔
وہ تیرہ چودہ سالہ بچیاں دوپٹے میں منہ گھسا کر ہنسنے لگیں ان میں سے ایک نے جلدی سے حقے کی نے تھامی اور زور زور سے دو تین کش لے ڈالے۔
تمہیں تو بڑی انگریزی آتی ہے۔ میں لاجواب ہو گئ۔ تمہیں کیسے پتہ چلا کہ آئ لو یو کا جواب آئ لو یو ٹو ہوتا ہے۔ کہنے لگی، جہاں سے اردو سیکھی ہے وہیں سے اس کا جواب بھی پتہ چلا۔ یعنی انڈین  ڈراموں سے؟ ہاں وہیں سے۔ اس نے بلوچی لہجے میں ہاں پہ زور دیا۔ یہ رفیق کی بیوی بالکل ٹی وی نہیں دیکھتی، نہ اسے اردو آتی ہے اور نہ آئ لو یو کا جواب۔
زندگی کے اس لمحے تک، میں اسٹار پلس کے ڈراموں میں کبھی کوئ مثبت پہلو نہیں نکال سکی تھی۔ لیکن اس دن میں نے تسلیم کیا کہ ان ڈراموں میں ایک خوبی تو ہے اور وہ یہ کہ تمدن کی دنیا سے دور رہنے والے بھی ایک دوسرے کو آئ لو یو کہہ سکتے ہیں۔ غیرت میں عورت کے  قتل  پہ فخر کرنے والے بھی محبت کے اس ظاہری اظہار کی سمجھ رکھنے لگے ہیں اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنے ساتھی کو پیار بھری کوئ بات کہنی چاہئیے۔ یہ تبدیلی کتنی غیر محسوس طریقے سے آئ ہے، کتنی آہستگی سے کہ بہت سارے لوگوں کو اسکی خبر بھی نہ ہو سکی۔ شاید آئ لو یو اور آئ لو یو ٹو کہنے والے بھی اپنی اس تبدیلی سے نا آشنا ہیں۔
۔
۔
۔
خیال آیا کہ کیا میں اپنے مرد قارئین سے صرف یہ پوچھ سکتی ہوں کہ انہوں نے اپنی قریبی خواتین کو جس میں انکی مائیں ، بہنیں، بیویاں اور بیٹیاں اور دیگر رشے دار  خواتین شامل ہیں، انکو آخری دفعہ کب کہا کہ وہ ان سے محبت کرتے ہیں؟

جاری ہے

17 comments:

  1. میری آنکھوں میں نمی آگئی، کیوں؟
    میں نہیں جانتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بس اتنا کہوں گا مار ڈالا

    ReplyDelete
  2. میں تو اس معاملے میں بہت تابعدار ہوں جی۔
    میں تو اپنی استانیوں کو بھی آئی لو یو بول ڈالتا ہوں۔

    ReplyDelete
  3. Do baten hein. 1) Jess elaqay ka ap zikr kar rahi hein vahan gairat kay naam par qatl saloun me bhe nahi hotay. 2) mohabbat kay ezzahar ka wahid tareeka i love kehna he nahi hy. [ Zubaan e Yaar e Man Turki o Man Turki nami danam ]

    ReplyDelete
  4. مجھے آپ کی تحریر کی یہ قسط بہت پسند آئ
    آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اپنی بیوی کو اکثر کہتا رہتا ہوں
    شاہد

    ReplyDelete
  5. عثمان،
    :)
    آئ لو یو، تابعداری کا نہیں دلداری کا اظہار ہے۔ چھوٹا سا عملی تجربہ کر لیں۔ آپنی ماں سے چار گز دور کھڑے ہو کر ، ہاتھ باندھ کر کہیں ماں مجھے آپ سے بڑی محبت ہے۔ اور پھر یہی بات انکے پیر دباتے ہوئے یا گلے میں بانہیں ڈال کر کہیں، پھر یہی بات صرف ہاتھ پکڑ کر کہیں، یہی بات ایک تحفے کے ساتھ کہیں۔ اسی بات میں یہ جملہ بھی شامل کر لیں۔ آپ کتنی خوبصورت ہیں ، میں بڑی بے وقوفیاں کرتا ہوں۔
    ہر لمحہ جب آپ دلداری کے مختلف مراحل سے گذرتے جاتے ہیں ایک نئ مسحور کن صورت حال سامنے آتی ہے۔ تابعدار تو شیطان بھی بڑا تھا، مگر اسے دلداری نہیں آتی تھی۔ ورنہ آدم تو آدم، گدھے کو بھی سجدہ کر لیتا۔
    گمنام صاحب، علاقے سے میری مراد وہ مخصوص گلی نہیں جہاں نازنین رہتی ہے بلکہ وہ چقافتہ ماحول ہے جہاں سے تعلق رکھنے والا ممبر اسمبلی غیرت میں قتل کو اپنی روایت کہتا ہے اور جہاں تین خواتین کو زندہ دفن کر دینے کا معاملہ کچھ زیادہ نہیں شاید سال بھر پرانا ہے۔
    میں نے کسی جگہ بھی ہرگز یہ نہیں کہا کہ آئ لو یو ہی محبت کے اظہار کا طریقہ ہے۔ جس طرح محبوب کے مترادف درجن بھر الفاظ ہیں اور اگر آپ الفاظ کے لفظی معنوں سے نکل جائیں تو ہر مثبت چیز محبوب ہو سکتی ہے اسی طرح محبت کے لفظی اظہار کے بھی بہت سارے الفاظ ہیں جیسے اردو میں، میں آپ سے محبت کرتا ہوں، بس یہ کہ اس وقت رائج الوقت زبان یہی چل رہی ہے۔

    ReplyDelete
  6. جو طریقے آپ نے بتائے ہیں ..گلے میں بازو حمائل کرکے یا ہاتھ پکڑ کے ..تو یہ یا تو والدہ پر آزمائے جا سکتے ہیں یا زوجہ پر۔ سوال یہ ہے کہ کیا اُستانی کے لئے بھی یہی نسخہ کارگر ہے؟ اگر نہیں تو پھر تابعداری ہی واحد حربہ ہے۔
    دراصل دیسی اور پردیسی اُستانیوں میں کافی فرق ہے۔ ادھر جب نووارد تھے تو ایک پوپٹ استانی پر فریفتہ ہو گئے۔ آخر کچھ دوستوں کے ساتھ ہمت کی اور کرسمس کے موقع پر ایک پوپٹ سے کارڈ پر اپنے نرم گرم جذبات کا اظہار کرکے تحفے سمیت ان کے میل باکس میں ڈالدیا۔ اگلے دن ہچکچاتے ہوئے کلاس میں پہنچے تو ایک پارٹی کا اہتمام تھا۔
    اُدھر گورنمنٹ کالج لاہور کی بھی سن لیں۔ اُن دنوں ایک خان بہادر نے ایک استانی کو پھول دینے کی جسارت کر ڈالی۔ محترمہ تو فی الفور لیکچر ادھورا چھوڑ کر باہر چلی گئیں۔ سننے میں آیا کہ خان بہادر صاحب ہفتہ بھر ڈین اور ڈسپلن کمیٹی کے سامنے اپنی شرافت کے حق میں صفائیاں دیتے رہے۔
    اب ادھر بندہ کیا کرے؟
    سیانے کا فرمان ہے کہ پاکستانی اُستانی کے معاملے میں تابعداری ہی ٹھیک ہے۔ یا پھر آگے بڑھنے سے پہلے اجازت طلب کرو۔


    ای کارڈ چلے گا جی؟
    :)

    ReplyDelete
  7. عثمان،
    :)
    کینیڈیئن استانی کو دوستوں کے ساتھ ہمت باندھ کر تحفے سمیت میل کریں گے تو پارٹی ہی ملے گی۔ یہاں استانی صاحبہ کا کیا قصور، وہ بے چاری کسی سے راستے کا پتہ بھی دریافت فرما لیں تو لوگ جواب دینے کے بعد کوئ انڈین گانا گنگنانے لگیں گے۔ اب ڈسپلن قائم رکھنے کے لئے ایسی صورت بن ہی جاتی ہے۔
    ایک اٹھارہ انیس سالہ خاتون بس اسٹاپ پہ تنہا کھڑی ہوں اور ایک اجنبی شخص آ کر کہے کہ کیا آپکی منگنی ہو چکی ہے تو یہ اس لڑکی کے لئے پوپٹ صورت حال نہیں بلکہ خاصی سراسمیہ کر دینے والی بات بن جاتی ہے۔ کیونکہ اس بے چاری کو یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اسے اس شخص کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہئیے کہ اسکی حفاظت داءو پہ نہ لگے۔
    اسکے علاوہ ماحول اور ایکسپوژر ، انسان کو خاصہ خود اعتماد کردیتا ہے۔ میں جب کالج اسٹوڈنٹ تھی تو کسی کا گھورنا ہی خاصہ پریشان کن ہوتا تھا، جب ماسٹرز کر رہے تھے تو شرارتی دوستوں کے گروپ کے ساتھ، یونیورسٹی کی حدوں کے اندر کسی لڑکے کو ہوٹ کرنے میں کوئ برائ نظر نہیں آتی تھی۔ یہ حرکت باہر کسی راہ چلتے شخص کے ساتھ نہیں کر سکتے تھے۔ اس حساب سے کراچی یونیورسٹی بڑی پیاری جگہ ہے۔ جب پی ایچ ڈی کر رہی تھی تو کراچی سے باہر سے آئے ہوئے کسی بندے سے یہ پوچھنے میں کوئ حرج نہیں لگتا تھا کہ کیا آپکی منگی ہو گئ ہے۔ اس سوال پہ بیشتر بندے لال ٹماٹر ہو جاتے تھے۔ اور جب یہ پوچھا جاتا کہ بابو آپ اتنا لال کیوں ہو رہے ہیں۔ منگنی کا ہی پوچھا ہے کسی کا رشتہ تو نہیں دیا تو وہ اور لال ہو جاتے۔
    اس وقت سنتے تھے کہ کراچی کی لڑکیاں بڑی بے شرم ہوتی ہیں۔ آپ بتائیے کسی سے یہ پوچھنا کہ آپکی منگنی ہو گئ ہے کیا؟ کیوں بے شرمی ہے جبکہ خاتون محترم کا ارادہ نہ انہیں پروپوز کرنے کا ہو نہ ہی ان سے افیئر چلانے کا۔ ٹماٹر اور قورمے کا کیا جوڑ۔
    اللہ توبہ۔
    ای کارڈ، بہترین آپشن ہے۔ استانی جی کا دل چاہے تو دیکھیں نہیں تو ڈیلیٹ کر دیں۔ دل چاہے تو جواب دیں ورنہ لعنت بھیج کر بلاک کر دیں۔ کوئ ڈسپن ایکشن نہیں لیا جا سکتا کہہ دیجئیے گا کہ یہ تو میرے چھ سالہ بھانجے کا کام ہے وہ ابھی بچپن سے ہی ایسا ہے۔ غلطی سے میرا اکاءونٹ کھلا رہ گیا تھا۔ وغیرہ وغیرہ۔
    ایک دفعہ پھر، تابعداری نہیں دلداری۔ دلداری کے جو میں نے طریقے بتائے ہیں یہ روائیتی ہیں اور فوری طور پہ یہی یاد آ سکے۔ زیادہ بہتر طریقوں پہ ایک پوسٹ لکھی جا سکتی ہے۔ بلکہ کئ۔ سو ہر کسی کو دعوت عام ہے۔ چاہے تو آزمودہ طریقے بتائے یا نظریاتی۔
    :)
    جہاں تک میرا سوال ہے تو ہم تو دلداری ء واعظ کو باقی ہیں۔ واعظ ہماری اور ہم واعظ کی دیکھ ریکھ کرتے ہیں۔ یوں بزم جہاں میں رونق کے اسباب میسررہتے ہیں۔

    ReplyDelete
  8. السلام علیکم۔
    سب سے پہلے تو معذرت کہ کچھ پڑھے بغیر ہی تبصرہ کر رہا ہوں۔ دراصل بہت طویل عرصے سے میرے ذہن میں ایک سوال تھا جو پوچھنے آیا ہوں۔
    یہ تو آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ باریک برقی سرکٹس، جیسے کمپیوٹر اور موبائل فون وغیرہ میں استعمال ہوتے ہیں، کی بازیافتگی (ریسائیکلنگ) ایک انتہائی مشکل کام ہے۔ تو کیا آپ ایک مضمون کی صورت میں بتا سکتی ہیں کہ اس سلسلے میں کیا کیا مشکلات پیش آتی ہیں اور ان کا حل کیسے کیا جاتا ہے؟
    اگر مضمون کو بلاگ پر منتقل کرنے میں کوئی تکنیکی مشکل درپیش ہو، مثلاً مساواتیں لکھنا وغیرہ، تو میں ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہوں۔

    ReplyDelete
  9. محمد سعد صاحب، میں نیچرل پروڈکٹ کیمسٹ ہوں۔ الیکٹریکل اننجینیئر نہیں۔ اگر اس سلسلے میں کوئ مضمون چاہے کتنا ہی مختصر ہو، آپکے پاس ہو تو بھیج دیجئیے۔ میں دیکھ کر بتا سکتی ہوں کہ آیا میں اس پہ کچھ لکھ سکتی ہوں یا نہیں۔

    ReplyDelete
  10. Another great article. I like that you are very honest and direct to the point.
    Shop Towel

    ReplyDelete
  11. چلیں ابھی میں نے نیٹ پہ چیک کیا ۔ کیا آپکی مراد ای ریسائیکلنگ ہے؟

    ReplyDelete
  12. جی ہاں، ای ریسائکلنگ کی ہی بات کر رہا ہوں۔ برقی انجنئیرنگ سے تو اس کا اتنا زیادہ تعلق نہیں ہوگا جتنا کیمیا سے ہے۔ تبھی آپ سے پوچھا۔

    ReplyDelete
  13. خصوصاً یہ نکتہ کہ ان میں سے سب سے زیادہ نقصان دہ عناصر و مرکبات کیسے الگ یا ختم کیے جاتے ہیں یا جا سکتے ہیں۔

    ReplyDelete
  14. very pleased to find this site.I wanted to thank you for this great read!!



    Web Design

    ReplyDelete
  15. Still waiting for the e-recycling post

    ReplyDelete
  16. سعد صاحب، یہی نہیں دو ساءینسی تحاریر بھی ایڈیٹنگ کے لئے پڑی ہوئ ہیں۔ باری آئے گی۔ موڈ تو بننے دیں۔

    ReplyDelete
  17. اوپر والا تبصرہ میرا تو نہیں البتہ انتظار میں بھی کر رہا ہوں۔ اور یہ جان کر خوشی ہوئی کہ دو تحاریر آنے والی ہیں۔ شکریہ ویری مچ۔

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ