Showing posts with label سیلاب. Show all posts
Showing posts with label سیلاب. Show all posts

Thursday, October 13, 2011

حجاب، جزاک اللہ

جب ہم نے کینیڈا کےحسین شہر کیوبک سٹی میں سیاحوں کی رہنمائ کرنے والے ادارے سے معلوم کیا کہ  شہر میں جاری میلے کی کیا نوعیت ہے اور ہمیں کیا کرنا چاہئیے تو اس نے بتایا کہ میلہ شہر کے پرانے حصے میں ہو رہا ہے۔ کیوبک سٹی کی مشہور آبشار پہ آج رات سالانہ آتشبازی کا خوبصورت مظاہرہ ہونے والا ہے لیکن گاڑی پارک کرنے کے لئے آپکو وہاں کم از کم ڈیڑھ گھنٹہ پہلے پہنچنا ہوگا۔ اسکے علاوہ پرانے شہر میں آج ایک سرکس بھی ہو رہا ہے ہر سال ہوتا ہے اور یہ نہ صرف مفت ہوتا ہے بلکہ بہت شاندار۔
ہم نے آتشبازی پہ سرکس کو ترجیح دی، اسکی وجہ پھر کسی تحریر میں۔ ہم وقت سے آدھ گھنٹہ پہلے وہاں موجود تھے۔ لوگوں کا ایک جم غفیر۔ جہاں تک نظر اٹھائیں لوگ نظر آرہے تھے۔ اسکا انتظام ایک فلائ اوور کے نیچے کیا گیا تھا۔ ہر عمر کے عورت مرد اور بچے موجود۔
میں ایک پاکستانی خاتون دھڑکتے دل کے ساتھ وہاں موجود کہ یا الہی کہاں پھنس گئے۔ عورتوں کے لئے کوئ الگ انتظام نہیں۔ سب لوگ کھڑے ہیں، بیٹھنے کی بھی جگہ نہیں۔
مگر پھر غور کیا، میرے اردگرد کوئ بھی عورت ہراساں نہیں تھی۔ ہر طرح کی سیاح عورتیں، مقامی فرانسیسی نسل کی حسین عورتیں، مختصر ترین کپڑوں میں اوراٹھارہویں صدی کے طویل عریض کپڑوں میں۔ سب خوش، بے فکر۔ پھر میرا دل کیوں دھڑک رہا تھا کہ ابھی کوئ چلتے چلتے ہاتھ نہ مار دے، چٹکی نہ لے لے، کوئ فحش بات کہتا ہوا نہ گذر جائے اور نہیں تو یہ ہی نہ کہہ ڈالے کہ دوپٹہ سر سے اوڑھو۔
شو شروع ہونے سے پہلے گھپ اندھیرا کر دیا گیا اب صرف سرکس والوں کی روشنیاں دائرے میں گھوم رہی تھیں۔ لیکن سب لوگ اب بھی مطمئن، میرے علاوہ کوئ بھی بے چین نہ تھا۔ اوہ خدا، اندھیرا، اتنے مرد و عورت ایک جگہ پہ۔ آخر یہاں آنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ ایک گھنٹے بعد یہ واقعی شاندار سرکس ختم ہوا۔ سوائے جانوروں کی پرفارمنس کے اس میں سب کچھ تھا اور پرفارمرز کی شاندار پرفارمنس وہ بھی مفت۔ کوئ نا خوشگوار واقعہ پیش نہ آیا کوئ عورت کسی مرد کو ڈانٹتی پھٹکارتی نظر نہ آئ اور نہ خواتین نےخود بخود اپنا ایک الگ گروہ قائم کیا۔ ہلکی سی روشنی ہوئ۔
اب یقیناً نکلتے ہوئے دھکے لگیں گے۔ یا اللہ اب کیا ہوگا۔ اس ہجوم میں تو میرے ساتھی بھی نجانے کہاں گم ہو گئے، میرے ہمراہ نہیں۔ میں ہجوم کے ساتھ اپنی بچی کے اسٹرولر کو آہستہ آہستہ دھکا دیتی، محتاط انداز میں باہر روڈ پہ نکل آئ۔ درحقیقت کچھ بھی نہ ہوا۔ کوئ عورت گھبرائ ہوئ، سراسمیہ نہ تھی۔ دس منٹ بعد وہ جگہ ایسے صاف تھی جیسے یہاں کچھ  ہوا ہی نہ تھا۔ لیکن شاید خوف پاکستانی عورت کے اندر گوندھ دیا جاتا ہے۔
اسکے کچھ عرصے بعد میں پاکستان روانہ ہوئ۔ جہاز میں میری پڑوسی خاتون ، اپنے تین بچوں  اور شوہر کے ساتھ پشاور جا رہی تھیں۔ لگ بھگ پینتالیس کی پر کشش خاتون۔ ریشم کے نفیس کپڑوں اور گلے میں شیفون کا دوپٹہ ڈالے ہوئے۔ سفیدی مائل ہاتھوں پہ عنابی نیل پالش لگی ہوئ۔ بال تراشے ہوئے۔ کینیڈا میں گذشتہ دس سال سے مقیم، روزانہ اپنے بچوں کو خود ہائ وے کی پندرہ منٹ ڈرائیو کر کے اسکول پہنچانے والی خاتون۔ وہ تین سال بعد اپنی بیمار والدہ کو دیکھنے جا رہی تھیں۔  انہیں ایک دن اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں رکنا تھا اور پھر وہاں سے پشاور روانگی تھی۔
پائلٹ نے اعلان کیا کہ آئیندہ دس منٹ میں ہم اسلام آباد ائیر پورٹ پہ اترنے والے ہیں۔ انہوں نے اپنا ہینڈ بیگ کھولا شیفون کا دوپٹہ لپیٹ کر اس میں رکھا اور ایک بڑی سی چادر نکال  کر اسے اچھی طرح اپنے گرد لپیٹ لیا۔
کفار کے مردوں کے درمیان گلے میں دوپٹہ ڈال کر پھرنے والی خاتون نے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک بڑی سی چادر نکال لی۔  حالانکہ ہمارے ملک میں سرکاری طور پہ اسکی کوئ پابندی نہیں۔ اور اسلام آباد ملک کا دارالخلافہ بھی ایسی کوئ ثقافت نہیں رکھتا۔
میں کراچی ایئر پورٹ پہ اترتی ہوں۔  میں نوٹ کرتی ہوں کہ اکثرمردوں کی نظریں خواتین کا بڑی دور تک تعاقب کرتی ہیں۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ اسکارف لئے ہوئے ہیں یا جینز شرٹ میں ہیں۔ میری بچی بھاگ کر اپنے باپ سے لپٹ جاتی ہیں۔ میرے شوہر مجھ سے ہاتھ ملاتے ہیں اور میرا ماتھا چومتے ہیں۔ لوگ اس منظر میں بھی بڑی دلچسپی لیتے ہیں۔ میں ہمیشہ اس پہ خجل ہو جاتی ہوں۔ حالانکہ وہ اسی طرح اپنی ماں اور بہنوں کا بھی استقبال کرتے ہیں۔ کیونکہ انکی زندگی کا بیشتر حصہ پاکستان سے باہر گذرا ہے۔
شہر میں داخل ہوتی ہوں۔  روڈ پہ بڑے بڑے بینرز لہرا رہے ہیں۔ عالمی یوم حجاب، چار ستمبر۔ اسکے چند دن بعد جب ملک میں عافیہ ڈے منایا جا رہا تھا۔ کراچی سے محض چند سومیل کے فاصلے پہ لاکھوں افراد سیلاب کے پانی میں گھرے ہوئے تھے۔ سیلاب جس نے انکی عورتوں کو گھر کی چار دیواری سے باہر لا کھڑا کیا تھا۔ کھلے آسمان کے نیچے پانی سے پناہ تلاش کرتی عورتیں، اپنی بقاء کی جنگ لڑتے ہوئے پاکستانی عوام سے حجاب کی نہیں کھانے کی طلبگار ہیں۔ یاد رہے یہ وہ ملک ہے جہاں پچھلے سال بھی سیلاب آیا تھا اور اگلے سال بھی آنے کی توقع ہے۔ اب وہی عالمی یوم حجاب منانے والے عوام سے اس آفت کے شکار لوگوں کے لئے صدقہ خیرات مانگ رہے تھے۔ انہوں نے پچھلے سال بھی مانگا اور امید ہے اگلے سال بھی مانگیں گے۔
ادھر نیٹ کی دنیا میں مختلف فورمز پہ مرد حضرات اس بات پہ اتنے متفکر نہیں کہ آخر سیلاب جیسی قدرتی آفات سے لڑنے کے لئے بھیک مانگنے، لوگوں کو بھیک کا عادی بنانے  اور بھیک بانٹنے کے بجائے کوئ باوقار منصوبہ بندی کی جائے۔ مردوں کی ایک بڑی تعداد جن ویڈیوز اور تصویروں کو ایکدوسرے سے شیئر کررہی ہے، پسندیدگی کے لئے کلک کر رہی ہے، جزاک اللہ کے نعرے بلند کر رہی ہے وہ خواتین کے حجاب کے متعلق ہے۔ مردوں کا یہ جوش و خروش دیکھ کر حیرانی بھی ہوتی ہے، ہنسی بھی آتی ہے اور تشویش بھی ہوتی ہے۔ کہتے ہیں جب روم جل رہا تھا تو نیرو بیٹھا بانسری بجا رہا تھا۔ کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔


 

ایک ایسی ہی ویڈیو پہ جس میں یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئ تھی کہ جینز اور شرٹ میں ملبوس خواتین کی مرد عزت نہیں کرتے بلکہ اسکارف اور عبایہ پہننے والی خواتین کی عزت کرتے ہیں اور اس طرح حجاب کرنے والی خواتین مردانہ دسترس سے محفوظ ہوتی ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ مغربی معاشرے میں جہاں خواتین مختصر ترین کپڑوں میں پھر رہی ہوتی ہیں  وہاں کے مرد ایسی نظریں جمائے نہیں بیٹھے ہوتے ہیں جیسی ہمارے یہاں اچھے خاصے کپڑے پہنے ہوئے خاتون پہ بیٹھے ہوتے ہیں۔ جواب ملتا ہے اس لئے کہ وہاں  مرد اتنی پھیلی ہوئ فحاشی کی وجہ سے اسکے عادی ہو گئے ہیں۔ میں نے وہاں یہ جواب دینے سے گریز کیا کہ پھر کیا حرج ہے کہ یہاں  بھی مردوں کو عادی بنانے کے لئے فحاشی پھیلا دی جائے۔ تاکہ وہ کچھ دوسرے مسائل پہ بھی یکسو ہو کر توجہ کر سکیں۔
خواتین کی بے حیائ اور حجاب کے ان نعروں پہ تقاریر لکھنے والے مرد حضرات اکثر سب کے سب مغرب کی عورت کی تصویریں دیتے ہیں اور انکے معاشرے کا رونا روتے ہیں مگر یہی مرد حضرات اپنے ملک کی عورت کی تصاویر دیکھنے سے محروم رہتے ہیں۔ اور مسلسل اس عالم تبلیغ میں یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں دنیا کی بے حیا ترین خواتین پائ جاتی ہیں اور دنیا کے سب سے زیادہ غیرت مند مرد۔ ایک ناقابل یقین، مگر کلنگ کامبینیشن۔
یہ سب چیزیں تو اب روز کے قصے ہیں۔ مجھے کچھ عرصہ پہلے ایک جرمن سے اپنی گفگتو یاد آتی ہے یہ اس وقت کی بات ہے جب میں دنیا کے حقائق سے ناآشنا ایک ٹین ایجر ہی تھی اور میں نے اس سے بڑے فخر سے کہا تھا ہمارے یہاں عورت کو عزت حاصل کرنے کے لئے اپنی صلاحیت اور علم کا زور نہیں دکھانا ہوتا اسے عزت ملتی ہے کیونکہ وہ ایک عورت ہے۔ مجھے لگا تھا کہ اس نے حیرانی سے میری بات سنی۔ مگر اب احساس ہوتا ہے اس نے سوچا ہوگا، اونہہ کنوئیں کے مینڈک۔
حقیقت یہ ہے کہ اس پاکستان میں عورت کو صرف دوپٹے، اسکارف اور عبایہ کی وجہ سے عزت ملتی ہے۔ اگر ایک عورت رات کو محفل شراب میں مصروف رہے لیکن صبح اپنے سر پہ دوپٹہ جما کر نکلے تو اس سے زیادہ قابل عزت عورت کوئ اور نہیں وہ بھی نہیں  جو آپکے بچوں کا علاج کرتی ہو، انہیں تعلیم دیتی ہو آپکے مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہو بس دوپٹہ سر پہ نہ لیتی ہو۔ یہی وجہ ہے ہماری پارلیمنٹ میں موجود خواتین ارکان کی اکثریت ملکی مسائل پہ کام کرنے کے بجائے ہمہ وقت اپنے دوپٹے صحیح  کرتی نظر آتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب پنجاب کی ایک تعلیمی درسگاہ میں نقاب پوش مرد لوہے کے  سرئیے لے کر اندر گھس جاتے ہیں تو قابل تشویش بات ان مردوں کا اندر گھس کر ان بچیوں کو ہراساں کرنا نہیں ہوتا بلکہ اس خبر پہ پنجاب کے رہنے مرد کا یہ تبصرہ ہوتا ہے کہ کیا ہوا اگر کچھ مردوں نے بے حیائ روکنے کے لئے یہ حرکت کر ڈالی۔
ویسے یہ بھی بڑا عجیب مشاہدہ ہے کہ خواتین کے حجاب کے سلسلے میں جس صوبے کے لوگ سب سے زیادہ چست نظر آتے ہیں وہ پاکستان کا صوبہ  پنجاب ہے۔
آئیے آج میں آپکو حقیقی پاکستانی خواتین کی تصویریں بھی دکھاتی ہوں۔ جنہیں دیکھنے سے حجاب کی مہم میں پیش پیش افراد شاید محروم ہیں۔ انہیں دیکھیئے اور بتائیے کہ کیا اس ملک کی عورت کو عالمی یوم حجاب کی ضرورت ہے۔ کیا اسے یہ چاہئیے کہ فرزند زمین حجاب کی ویڈیوز کو شیئر کریں ، فارورڈ کریں اور ان پہ جزاک اللہ کہیں۔
















Friday, September 30, 2011

وہ دیکھو

کبھی کبھی موضوعات میں قرعہ اندازی کرنی پڑتی ہے۔ آج تین موضوع ذہن میں تھے۔ لیکن فال آل پارٹیز کانفرنس کے نام نکلی۔ ایک شاعر نے کہا تھا کہ اسکا چہرہ ہے کہ حافظ کی بیاض، ایسے چہرے سے کوئ فال نکالی جائے۔  سو جس کانفرنس میں ہماری پیاری وزیر خارجہ حنا ربانی کھر موجود ہوں۔ اسی سے کوئ فال نکالنی چاہئیے تھی۔  سب منتظر بھی رہے۔ سنتے ہیں کہ چھ گھنٹے سے زائد کا ٹائم لگا اس فال کو نکالنے میں۔
اسکی وجہ باخبر ذرائع کے مطابق یہ تھی کہ تقریباً ساٹھ رکنی اس کانفرنس میں جب بھی کوئ فال نکالی جاتی۔ اس پہ مندوبین کا متفق ہونا مشکل ہوتا۔ اس میں ہمارے فارسی شاعرحافظ صاحب یا حنا ربانی کھر کا کوئ قصور نہیں، نہ ہی شرکاء کا۔ اصل میں خستہ حال بیاض کا پرنٹ صحیح نہ تھا۔ جیسے ہی صفحہ پلٹو،ٹوٹنے لگتا۔ ارادہ انہیں جہنم رسید کرنے کا، صفحہ دیوان کا۔ اس لئے یہ دقّت پیدا ہوئ۔
اب جو فال نکلی ہے اسکا مطلب بھی لوگ ایکدوسرے سے پوچھتے پھر رہے ہیں۔ حافظ صاحب تو آکر بتانے سے رہے۔ یہ الگ بات کہ کوئ روحانی شخصیت ان سے یہ راز اگلوا لے۔  مردوں کو بلانے کے روحانی طریقے بھی ہوتے ہیں جس میں وہ خاموشی سے اٹھ آتے ہیں ہمیشہ گڑا مردہ کھود کر نہیں نکالتے۔ شرط یہ ہوتی ہے کہ مردے کو واپس بھیجنے کا وظیفہ بھی آنا چاہئیے۔ توقع ہے کہ یا تو ہمارے امریکی مہربان یہ وظیفہ جانتے ہونگے یا پھر ہمارے سالار۔ واپس کس کا مردہ جائے گا، وہی جو آیا تھا۔ آپ سمجھے حافظ صاحب کا، نہیں انکا صرف دیوان کام کا ہے۔
حافظ صاحب کو مرے ہوئے سات سو سال ہو رہے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ انہیں اپنا دیوان اب یاد بھی ہوگا کہ نہیں۔ ہو سکتا ہے وہ یہ سن کر ہی بھونچکا رہ جائیں کہ حسین چہروں کو چھوڑ کر لوگ انکے دیوان سے یہ کام لیتے ہیں۔ حافظ صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں رکتی ہوں، ہم دراصل آل پارٹیز کانفرنس پہ بات کر رہے تھے۔ یہ حافظ صاحب خدا جانے کیوں آگئے۔
قوم کو اس کانفرنس سے بڑی امیدیں تھیں۔ خود ہم بھی کچن کی چھریاں تیز کر کے بیٹھے تھے۔ جبکہ ادھر لاکھوں سیلاب زدگان کہہ رہے تھے کہ ان چھریوں کی میخیں بنوا لو جن میں ہمارے خیمے گڑ جائیں گے۔ لیکن ہم نے کہا نہیں۔ ہم اس موقع پہ فوج کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ اور سارا دن اقبال اور فیض کو حفظ کرتے رہے۔ جنگ کے دنوں میں قوم کے عظیم سپوت سامنے آتے ہیں اور امن کے دنوں میں بدترین۔ اگر عظیم بننے کا ایک موقعہ ہاتھ لگ رہا ہے تو بہتی گنگا میں ہاتھ کیوں نہ ڈالیں۔
ادھر  دائیں بازو والے بھی نعرہ ء تکبیر کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔ مرگ انبوہ جشنے دارد۔ سنا ہے پرنٹنگ پریس میں کفار سے جنگ کے نعرے تک پرنٹ ہو چکے تھے کہ اس دفعہ تو ہوا ہی ہوا۔ ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق۔


لیکن کانفرنس ختم ہو گئ۔ اب سب ایکدوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ کانفرنس کی متفقہ قرارداد کا مطلب کیا ہے؟ آیا اس سے امریکہ خوفزدہ ہوگا یا نہیں۔  اپنا اپنا ہوتا  ہے۔ کیا طالبان کو منایا جارہا ہے یا امریکہ کو۔  یہ کیا بات ہوئ، کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ۔ اگر امریکہ سے جنگ نہ کی تو پھر کیا جیا۔ خوشحال پاکستانی کیسے جنگ لڑنے کی ہمت کر سکتے ہیں، فوج کو بس اتنا ہی ڈرامہ مقصود تھا، اب ڈالرز صراط مستقیم پہ چلیں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔
کوئ میری رائے جاننا چاہتا ہے۔ غالب کہہ گئے ہیں کہ آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں۔ اور میر کی تقلید میں یہ کہنے کو دل چاہتا ہے کہ پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے، جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے۔ شعر کی تشریح سے پہلے سارے استعارے سمجھنا ضروری ہیں۔ اس میں باغ سے غالباً امریکہ  مراد ہے اور گل سے کون ہے۔ یہ مجھے نہیں معلوم۔ یوں تشریح کا سبق تو بند ہوا۔
  گھر کے ایک  پرانے کیسٹ پلیئر سے بچ رہ جانے والی واحد کیسٹ بر آمد ہوئ۔ لگا کر دیکھا تو بج بھی رہی تھی۔ رفیع کے گانے ہیں۔ ایک پرانا گانا بھی ہے۔ کچھ گانے جب بھی بجتے ہیں انکی آب و تاب میں کمی نہیں آتی۔ تال ایسا میل کرتا ہے کہ ہر زمانے کے لئے زندہ، ہر نسل کے لئے کار آمد۔ بعض سیاسی گانے بھی یہی تاثیر رکھتے ہیں۔ جب بجتے ہیں نئ امید اور پرانے نتائج لاتے ہیں۔ یہ گانا انکی نذر جو اعلان جنگ کے منتظر رہے۔


 

Wednesday, June 15, 2011

ایک لیڈی ڈاکٹر کی ڈائری

احمد فراز نے کہا تھا کہ کیوں مانگ رہے ہو کسی بارش کی دعائیں، تم اپنے شکستہ در و دیوار تو دیکھو۔
جس طرح بارش کا پانی مکان میں موجود ہر کمزوری کو عیاں کر دیتا ہے اور چھپانے کو کچھ باقی نہیں بچتا۔ اسی طرح پچھلے سال سیلاب نے ہماری معاشرتی اور معاشی ہر کمزوری کو سامنے لا کھڑا کیا۔ اسی میں سے ایک دیہی خواتین کی حالت زار ہے۔
دیہی خواتین جنہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انکی اپنی عمر کتنی ہے، وہ کتنے بچے پیدا کر چکی ہیں، ابھی کتنے اور پیدا ہونگے،  اگر حاملہ ہیں تو کتنا عرصہ گذر چکا ہے، اکثر اوقات اپنے بچوں کی تعداد سے بھی نا واقف ہوتی ہیں، نہیں جانتیں کہ انکے بچوں کی عمر کتنی ہے، انہیں اور انکے بچوں کو اگلے وقت کھانا ملے گا یا نہیں۔ سارا سارا دن انکے بچے جانوروں کے بچوں کی طرح کس کس گلی کی مٹی میں رلتے ہیں۔ یہ سب وہ نہیں جانتی، اور اس لئے وہ پاکستان کی قابل فخر روائیتی خواتین ہیں۔
اگر شہر کی کوئ عورت خواتین کے مسائل پہ بات کرنا چاہتی ہے تو یقیناً مغربیت پھیلانا چاہتی ہے۔ مغرب کی آزادی ء نسواں کی تحریک سے متائثر ہوگی اس لئے کہ افسردہ ترین بات یہ ہے کہ مغرب کے ذریعے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں کون سی کمزوری کس سطح تک ہے۔ کیونکہ نہ ہم اپنے معاشرے سے آگاہ ہونا چاہتے ہیں۔ کوئ زبردستی ہمیں یہ سب سنا دے تو  نہ ہم انہیں تسلیم کرنا چاہتے ہیں ، نہ انہیں اپنے معاشرے کے لئے برا سمجھتے ہیں، نہ ان میں تبدیلی کے خواہشمند ہیں۔ 
سو میرے جیسی عام عورت جو نہ کسی این جی او سے تعلق رکھتی ہے نہ طبقہ ء اشرافیہ سے، اسے بھی یہ  کہنے سے بھی گریز نہیں کرتے کہ خود تو ایک بچہ پیدا کرتی ہے باقی ملک کی عورتوں کے لئے چاہتی ہے کہ ایک بھی بچہ نہ پیدا کرے، مردوں سے نفرت کرتی ہے۔ جبکہ وہ اس بات سے ناواقف ہوں کہ میرا ایک بچہ کیوں ہے۔ اب ان ذہنوں کا کیا کیا جائے؟ یہ بات بھی حیران کن ہے کہ جیسے ہی ایک خاتون، خواتین کو پیش آنے والے مسائل کا تذکرہ کرتی ہے ایک خاص طبقے کے مرد اس سے یہ معنی کیسے اخذ کر لیتے ہیں کہ اس خاتون کو مردوں سے نفرت ہے۔
یہ سب تبصرے ان  عام مردوں کے ہوتے ہیں جو غیرت مند ہوتے ہیں اسے بے حس پڑھا جائے۔
جو با شعور ہوتے ہیں اسے با سرور پڑھا جائے۔
جو روایت پسند ہوتے ہیں اسے اذیت پسند پڑھا جائے۔
جو مذہب پرست ہوتے ہیں اسے مذہب کش پڑھا جائے۔
جو معاشرے کا استحکام چاہتے ہیں اسے انکی انا کا استحکام پڑھا جائے۔
مگر یہ سب پڑھنے سے پہلے ایک  لیڈی ڈاکٹر کی ڈائری کے چند اوراق ضرور پڑھئیے جو انہوں نے سیلاب زدہ علاقے میں لوگوں کو طبی امداد فراہم کرتے ہوئے لکھے۔
ڈاکٹر نگہت شاہ کی اس تحریر کا ترجمہ ڈاکٹر آصف فرخی نے کیا ہے۔ عنوان اس کا ہے خیر پور ریلیف کیمپ۔ شائع ہوا ہے دنیا زاد کے مجموعے، 'جل دھارا' میں۔ پبلشر ہیں  اسکے شہر زاد۔
یہ اسکین شدہ صفحات ہیں۔ بہتر طور پہ دیکھنے کے لئے ان صفحات کو کلک کریں۔


Friday, August 27, 2010

حکمران یا نظام

یہ میرے گھر کا ٹی وی لاءونج ہے, ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جانے کے لئے یہاں سے گذرنا پڑتا ہے۔ میری بچی کے کھلونے اور سائیکلیں بھی یہاں پڑی رہتی ہیں۔  اکثر جب میں گذرتی ہوں تو آپکو بھی ساتھ شریک کر لیتی ہوں۔ یہ سماء ٹی وی کی جیسمین  منظور ہیں جو اس وقت بلوچستان ڈیرہ مراد جمالی ، میں سیلاب کے متائثرین کے ساتھ موجود ہیں۔ جی یہ وہی علاقہ ہے جو سیلاب کے پانی سے اس لئے متائثر ہوا کہ سندھ کے زمینداروں نے اپنے علاقے میں آنے والے سیلابی پانی کا رخ اس طرف موڑ دیا۔ جیسمین میرے گھر میں کچھ لوگوں کو بہت پسند ہے یہ قصہ پھر کبھی سہی۔

جیسمین ایک دیہاتی عورت کو پرسہ دیکر فارغ ہوئ

تھی کہ میں نے اس پروگرام کو دیکھنا شروع کیا۔ اسکے دو بچے مر گئے  اور وہ اپنے خاندان سمیت کھانے کے انتظار میں ان چارپائیوں کے ساتھ بیٹھی ہے جہاں سے بچوں کی میتیں روانہ ہوئ ہونگیں۔ جیسمین انہیں دلاسہ دیتی ہے کھانا ملے گا سب کو ملے گا۔ مجمع تنبو یعنی ٹینٹ کے نہ ہونے کی شکایت کر رہا ہے۔ جیسمین ان سے بھی کہتی ہے سب ملے گا۔ ابھی ہم یہاں سے جا کر بات کرتے ہیں آپ سب لوگوں کو سب ملے گا کھانا بھی اور تنبو بھی۔  وہاں سے نکل کر وہ میرے جیسے ناظرین کو بتاتی ہے کہ اس وقت یہاں فوج کے جوانوں کے علاوہ کوئ شخص انکی مدد کے لئے موجود نہیں ہے۔
لیکن یہ کیا، اسکے پیچھے ایک امدادی کیمپ نظر آرہا ہے۔ اس پہ ایک بڑا سا بینر لگا ہے کہ یہ کیمپ جماعت اسلامی کی طرف سے لگایا گیا ہے۔ جیسمین، جماعت والوں کے تنبو کے اندر پہنچتی ہے تنبو یعنی شامیانے کے اندر ایک ڈنڈے کے ساتھ ایک بکری بندھی ہوئ ہے خالی زمین پہ دو تین دیہاتی بیٹھے ہوئے ہیں اور کچھ نہیں ہے۔ یہ امدادی کیمپ اندر سے بالکل خالی، پارٹی کا کوئ کارکن تک موجود نہیں ، امداد کا تو تذکرہ ہی کیا۔ جیسمین اس سے آگے بڑھتی ہے۔ یہ ایک اور شامیانہ لگا ہے جس پہ عمران خان کی ایک بڑی سی اسٹائلیش تصویر موجود ہے نیچے انکی پارٹی کا نام موجود ہے۔ تحریک انصاف۔ ابھی چند دن پہلے انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں  سنہری چمکدار کرسیوں پہ بیٹھےم پیچھے لاکھوں روپے سے پرنٹ کئے ہوئے بڑے سے بینر جس پہ سیلاب زدگان کی قد آدم تصویریں موجود ہیں انکی موجودگی میں  اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کہا تھا کہ ہمیں امداد کی رقم دیں۔ ہم آپکو ایک ایک پائ کا حساب دیں گے۔ یہ شامیانہ بھی اندر سے خالی پڑا ہے۔ اور یہ کہہ رہا ہے کہ عمران خان اس شامیانے کے پیسوں کا حساب دو۔
اس سے آگے ایک اور شامیانہ لگا ہے۔ اس میں تو لال دریاں بھی بچھی ہیں اور ایک اسٹیج بھی بنا ہے۔ یہ ایک میڈیکل ریلیف کیمپ ہے یہ بھی اندر سے بالکل خالی پڑا ہے۔ یہ پاکستان اسلامک کلچر والوں کی طرف سے لگایا گیا ہے۔ جتنی دیر میں جیسمین اپنی بے زاری کو پوری طرح ظاہر کرتی ہوئ اس میڈیکل کیمپ کی حالت دکھاتی ہے ایک داڑھی والے صاحب بھاگے بھاگے پہنچتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دراصل دو بجے کیمپ کی چھٹی ہوجاتی ہے اس لئے یہ اس وقت آپکوخالی ملا۔ مجمع جو جیسمین کے ساتھ ہے بتاتا ہے کہ یہ صبح سے اسی طرح خالی ہے۔ سیلاب زدگان کے لئے قائم کیمپ میں وقت کی پابندی شاید سب سے زیادہ ہوگی۔

تین کیمپ اور تینوں خالی، باقی وہاں اور کوئ نہیں۔ فوج کا ایک ہیلی کاپٹر مصروف بہ عمل ہے۔ جیسمین وہاں سے اپنے ناظرین کو خدا حافظ کہہ کر نکل آئ۔

میں بھی جیسمین کے ساتھ اس منظر سے رخصت ہوئ۔ پیچھے رہ گئے متائثرین۔ ایسے وقت میں انکا خدا پہ یقین رکھنا بہت ضروری ہے۔ خدا نے ہی یہ عذاب بھیجا ہے ان پہ تاکہ اس نظام کی کمزوری ان پہ عیاں نہ ہو جسکے وہ پروردہ ہیں۔ اور وہ یہ سمجھتے رہیں کہ یہ سب اللہ سائیں کی مرضی ہے۔ اور اب خدا ہی باقی رہ گیا ہے کہ وہ اس زندگی کو ان پہ آسان کرے اور مخیر افراد  خدا کے ڈر سے اپنے مال کا صدقہ انہیں عطا فرمائیں۔۔
ان لوگوں کو خدا پہ چھوڑتے ہوئے میں واپس آ کر اردو سیارہ کو چیک کرتی ہوں پتہ چلا کہ جیو ٹی وی پہ کامران خان کا کہنا ہے پاکستان کے سو فی صد عوام کو نظام کی پرواہ نہیں  بلکہ وہ ایک مسلمان حکمران چاہتے ہیں جو خود اسلامی تعلیمات پہ عمل کرے اور ملک کو اسلامی تعلیمات کے مطابق چلائے اور اسکے حساب سے انکا خیال رکھے۔

لیکن معزز قارئین، جیسا کہ ابھی آپ نے میرے ساتھ، جیسمین منظور کے ساتھ

ایک علاقے کے متائثرین کو دیکھا۔ تو آپ کو پتہ چلا ہوگا کہ یہ بھی پاکستان کے عوام ہیں اور انہیں کیا چاہئیے؟

جو لوگ انہیں امداد پہنچا رہے ہیں انکے بارے میں انہیں کوئ فکر نہیں کہ وہ شراب پیتا ہے یا زنا کرتا ہے یا اسکے گھر کی عورتیں بے پردہ پھرتی ہیں، یہ امداد حق حلال کے پیسوں کی ہے یا حرام سے کمائے گئے روپے کا صدقہ ہے، یہ امداد ہندو، عیسائ یا یہودی بھیج رہے ہیں یا کوئ راسخ العقیدہ مسلمان، یہ ہمارے دشمن ملک بھیج رہے ہیں یا دوست، دہشت گرد یا امن پسند، طالبان یا لبرل۔ انہیں بس ایک ایسا نظام چاہئیے جس میں انہیں سیلاب کے بعد کھانا اور بے گھری سے بچنےکے لئے کچھ نہیں ایک تنبو تو ملے۔

یہ  پاکستان کے سو فی صد عوام میں شامل نہیں ہیں۔  یہ کبھی بھی پاکستان کے عوام میں نہیں گنے جاتے۔ کیونکہ یہ اپنی گنتی کا حق اپنے کسی انسانی رب کے حوالے کر چکے ہیں۔ انکی گنتی امداد کے حصول کے وقت یا سیاسی چالوں کے وقت صحیح سے ہوگی۔ بہر حال باقی سب جو گنتی جانتے ہیں یہ سمجھ  کے کہ یہ اپنے نظریات کو چمکانے کا سنہرا وقت ہے یہی وقت ہے  لوگوں کواللہ نامی دیوتا کے غیض و غضب سے عذاب سےڈرانے کا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام اسکے بجائے کسی اور نظریہ حکومت میں پناہ تلاش کرنے لگیں۔ اپنی اپنی دوکانیں لگائے بیٹھے ہیں۔ آئیے صاحبان، ڈھونڈھتے ہیں ایک حکمران جو ہو اصل مسلمان، جو کرے وہ سرداری دور ہوگی ہر بیماری، جو نہیں سنوگے ہماری بات، تو نازل ہونگے ایسے ہی عذاب۔  یہ اصل مسلمان حکمران انکے پاس چھپا ہوا ہے، جب سب تائب ہو جائیں گے تو وہ باہر آئے گا۔
جو مصیبت جھیل رہے ہیں وہ توبہ کی نمازوں میں کھڑے ہونے کے بجائے، کھانے اور تنبو کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ یا اپنے اپنے بیمار بچوں کی دواءووں کے انتظار میں ہیں ان میں اتنی ہمت بھی نہیں کہ ڈوبتی نبضوں پہ اپنا ہاتھ ہی رکھ دیں۔ ان میں سے بیشتر کو صحیح سے نماز بھی نہیں پڑھنی آتی۔ بس یہ کہنا آتا ہے کہ مالک ہے اللہ سائیں  اور پیر سائیں ۔ 
جو اس مصیبت سے دور ہیں وہ ایکدوسرے کو توبہ اور استغفار کی نصیحتیں کر رہے ہیں۔ جو ایکدوسرے سے جلے ہوئے ہیں وہ ایکدوسرے کو بد دعائیں دے رہے ہیں خدا تمہیں بھی ایسی مصیبت سے دو چار کرے۔ حالانکہ بات تو اتنی ہے کہ ہوئے تم دوست جسکے اسکا دشمن آسماں کیوں ہو۔ 
اب بات یہ ہے کہ سائینسداں کہہ رہے ہیں کہ دنیا بھر میں موسمی حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ اگررررررر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم اس سیلاب سے بچ نکلے تو بہت ممکن ہے کہ اگلے سال پھر یہ سیلاب حاضر ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ دو،  تین، چار سال بعد پورے ملک کو قحط سالی بھگتنی پڑ جائے۔ اگلی دفعہ کیا کریں گے؟ حکمران تبدیل کریں گے یا نظام؟

Tuesday, August 17, 2010

جمود سے باہر

اٹھائیس جولائ کو سیلاب آنے کی پہلی اطلاع آئ۔ اور گذشتہ تین ہفتوں میں پاکستان کی اب تک کی تاریخ کے اس شدید سیلاب نےہمارے حکمرانوں کی بے حسی کے نئے باب رقم کر دئیے۔
ٹی وی پہ وزیر اعظم جیلانی ڈی آئ خان کے ایک اور جعلی کیمپ پر بذریعہ جہاز پہنچے۔ ایک بیان دیا اور پھر جہاز میں نڈھال ہو کر سیٹ پہ پڑے تھے کہ ٹی وی کے ایک اینکر پرسن نے انہیں جا لیا۔ وہ اس طرح سیٹ پہ نیم لیٹی حالت میں اسکے سوالوں کا نیم مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیتے رہے۔ اس سوال پہ کہ سیلاب کے بعد لوگوں کی بحالی کا کیا پروگرام ذہن میں ہے انہوں نے اپنے اسی مجاورانہ اطمینان سے جواب دیا۔ پہلے اس مرحلے سے تو نکلیں۔ یہ ہیں ہمارے سیلاب زدہ ملک کے مطمئن راضی بہ تقدیر، وزیر اعظم۔
زلزلہ آنے کے بعد مجھے یاد ہے کہ مشرف نے قوم سے خطاب کیا تھا۔ وہ تقریر خاصی پر جوش تھی۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ قوموں کی تاریخ میں ایسے حادثات ایک نئ تبدیلی کا باعث بن جاتے ہیں۔ اس میں انہوں نے حکومت کے اس وقت تک کئے گئے امدادیاقدامات بتائے اور آئیندہ کا لائحہ عمل واضح کیا  اور میسر پیسوں کے بارے میں بتایا۔ یہ الگ کہانی کے آگے کیا ہوا۔ لیکن اس چیز نے سراسمیہ قوم کے اندر ایک جذبہ تو پیدا کیا تھا۔ رضاکاروں کی ایک بڑی تعداد وہاں پہنچی۔ لوگوں نے مسائل کے مختلف حل تجویز کئے، وغیرہ وغیرہ۔ معاشی حالات اس وقت کافی اچھے تھے لوگوں نے دل کھول کر امدادی کاموں میں حصہ لیا۔
لیکن آج دیکھیں۔ اس وقت جب عوام مہنگائ کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں ہر نیا دن چیزوں کے نرخ میں اضافے کی ہوشربا خبر لاتا ہے۔ ہم سنتے ہیں کہ زرداری صاحب کا فرانس میں محل ہے جو کسی زمانے میں انگلینڈ کے بادشاہ نے اپنی ملکہ کے لئے خریدا تھا۔ انکا کہنا ہے کہ یہ محل تو دراصل انکے والد صاحب نے اسّی کی دھائ میں خریدا تھا۔ البتہ یہ نہیں بتایا کہ اس وقت انکے والد گرامی کراچی کا بمبینو سینما کسی کے ساتھ شراکت میں چلا کر اتنی بڑی رقم کیسے اکٹھا کر پائے کہ اس سے قوم کے موجودہ نوجوانوں میں کم از کم پیسہ کمانے کی لگن تو پیدا ہوجاتی۔
ایک ایسی حکومت جسکے سربراہ اعلی سے لیکر ہر ہر نمائیندے کے بارے میں کرپشن کی کہانیاں زبان زد عام ہوں۔ انہیں کوئ شخص اپنا پیٹ کاٹ کر امدادی رقوم کیوں دے گا۔ اس لئے کہ آج سے دو سال بعد ان کے دنیا کے کسی امیر ترین ملک میں محل کی خبر سنے۔
حکومتی مشینری اس قدر نا اہل ہے کہ ان تین ہفتوں میں ان لوگوں کو قوم کو جذبہ دینے کے لئے الفاظ بھی نہ مل سکے۔ سندھ میں سیلابی پانی سے بیراجوں کو بچانے کے لئے بند توڑنے کے مسئلے پہ پارٹی کے درمیان پھوٹ پڑ گئ۔ ہر ایک چاہ رہا تھا کہ اسکا علاقہ بچ جائے۔ نتیجۃً جب خورشید شاہ، ممبر سندھ اسمبلی اپنے علاقے میں پہنچے تو لوگوں نے انکی گاڑی پہ پتھراءو کر دیا۔ ادھر وزیر خاتون حنا ربانی کھر جب اپنے علاقے پہنچیں تو انکے ساتھ بھی یہی سلوک ہوا۔
مولانا فضل الرحمن سیلاب کے ایک ہفتے بعد سعودی عرب عمرے کے لئے روانہ ہوگئے۔ انکے انتخابی حلقے میں اس وقت آٹھ لاکھ افراد متائثرین میں شامل ہیں۔ انکے گھر اور مدرسے کو بچانے کی خاطر کہا جاتا ہے کہ وہاں سے گذرنے والی سڑک نہیں توڑی گئ اور سیلاب نے دوسرے علاقوں کو شدید متائثر کیا۔  
یہ وہ جمہوریت ہے جسکے لئے ہم پچھلے دو سال سے سن رہے ہیں کہ بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر ہوتی ہے۔ ایک حکومت جسے لوگ ووٹ تو دیتے ہیں خدا جانے کیسے لیکن اسے اپنے نوٹ کی قدر کا صحیح حقدار نہیں سمجھتے۔
نوبت یہ ہے کہ اقوام متحدہ بھی ممبر ممالک کو  پاکستان کو قابل ذکر امداد دینے پہ راضی نہ کر سکی۔ ایک اندازہ، پاکستان کی کرپشن اور دہشت گردی کی وجہ سے مشہوری۔ 
اپوزیشن لیڈر نواز شریف نے کہہ دیا ہے کہ پاکستان اپنے پیروں پہ کھڑا ہونے کے قابل ہے ہمیں بین الاقوامی امداد نہیں چاہئیے۔ وزیر اعظم نے کہا ہمیں ہر امداد کی ضرورت ہے جو ہماری مدد کرے گا وہی ہمارا دوست ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن کے ترجمان وزیر مولانا عطا الرحمن کے مطابق مولانا فضل الرحمن عمرہ ادا کرنے کے ساتھ سعودی حکومت اور خیراتی داروں سے پیسے جمع کرنے بھی گئے ہیں۔
عوام کی بڑی تعداد اپنے جاننے والے سماجی خدمت انجام دینے والے لوگوں سے رابطہ کر رہی ہے تاکہ انکی مدد مناسب حقدار تک پہنچے۔ عام لوگ اپنے طور پہ امداد جمع کر کے پہنچانے کا بند و بست کر رہے ہیں۔، وہ حکومت پہ، سیاسی رہنماءووں پہ کوئ اعتماد نہیں رکھتے۔ لوگ اپنے جاننے والوں کو باہر سے فنڈ جمع کر کے بھیج رہے ہیں مگر حکومت کو نہیں دینا چاہتے۔
   لیکن جہاں متائثرین کی تعداد دو کروڑ ہو وہاں یہ انفرادی کوششیں اتنی زیادہ نتیجہ خیز کیسے ثابت ہو سکتی ہیں۔  بلدیاتی نظام اس وقت مدد کر سکتا تھا لیکن سیاسی طاقتوں نے اسےاپنے پیسہ بٹورنے کے راستے میں ایک رکاوٹ سمجھا اور اسے ختم کر دیا۔ کسی نے اس قدم کے خلاف آواز تک نہ اٹھائ۔ 
جب تک حکومت اس میں دلچسپی نہ لے یہ عوامی منتشر کوششیں کیسے اتنے سنگین حادثے کو قابو میں لا سکتی ہیں۔  حکومتی ذرائع ان انفردای کوششوں سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ انکے پاس پورا انفرا اسٹرکچر ہوتا ہے، وسائل اور افرادی قوت ہوتی ہے۔ 
 ایسے ہی کراچی سے سندھ کے سیلابی علاقوں کی مدد کے لئے جانے والے  ٹرکس متائثرین تک پہنچنے سے پہلے راستے میں لوٹ لئے گئے۔ ادھر چار سدہ سے آنے  والے ایک دوست نے بتایا کہ امداد کی تقسیم صحیح طور پہ نہ ہونے سے ایسی ہی لوٹ مار ہو رہی ہے۔ حالات کا فائدہ اٹھا کر ڈاکو بھی سرگرم عمل ہو گئے ہیں۔ یہاں سندھ میں بھی ایسے واقعات کی بازگشت سنائ دے رہی ہے۔ آج ہی متائثرین کے ایک کیمپ میں امدادی سامان کی تقسیم کے وقت وہ بھگد ڑ مچی کہ پولیس کو شدید لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ ٹی وی ہی کی ایک خبر کے مطابق ایک اور جگہ،  ہجوم میں مچ جانےوالی بھگدڑ کو قابو میں لانے کے لئے کی جانے والی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

یہ ہے ایک دھندلی سی تصویر حالات کی۔ ایک ایسی قوم کی جو ایک مضبوط مرکز نہیں رکھتی، ایک منتشر قوم جسے سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ وہ اس مصیبت میں کس کی طرف منہ اٹھا کر دیکھے۔ اس سب افراتفری سے کیسے باہر نکلیں، کون حالات سنبھالے، بے گھر لوگوں کو دوبارہ آباد کرنے میں کون مدد کرے، زمینوں کو شاداب کرنے کے وسائل کیسے ملیں۔ کون لوگ سر جوڑ کر بیٹھیں گے اور ایک لائحہ ء عمل بنائیں گے جس پہ تمام قوم کو یقین اور بھروسہ ہوگا۔ ایک لا وارث اور تنہا ہونے کا احساس،  جو حالات پہ طاری ہے۔
 ان حالات میں کوئ اس انتشار کے درمیان ذرا بھی اتحاد کی علامت بنا ہوا ہے تو وہ پاک افواج ہیں۔ لیکن افواج کی تربیت تحفظ کے لئے ہوتی ہے۔ ملک کی ترقی کی منصوبہ سازی کرنا، عوام کو ایک بہتر زندگی گذارنے کی سہولیات دینا ان میں ایک کامیاب قوم ہونے کا جذبہ پیدا کرنا یہ انکا کام نہیں۔ 
کتنی عجیب بات ہے کہ ہر دفعہ جمہوریت اپنی آزمائیش کے وقت ناکام ہوجاتی ہے۔ اس لئے کہ یہ جمہوریت، جمہور کے لئے نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ معاشرے کے اعلی طبقات کو احساس طاقت دیتی ہے اور بس۔ اس تمام پس منظر میں لگتا  ہے کہ ہمیں متحد رہنے کے لئے ایک نئے سیاسی اور سماجی نظام کی ضرورت ہے۔ شاید وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے کئ دہائیوں کے جمود سے باہر نکلیں۔ اور عوام اور خواص کی تعریف کو بدل ڈالیں، بھیڑ بکریوں کی طرح زندگی گذارنے والوں کو اپنے انسان ہونے کا احساس بیدار کرنا ہوگا۔ یہ سیلاب شاید ایک نئ مضبوط تبدیلی سے قوم کو روشناس کرانے کا موقع ہے، ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔

Saturday, July 31, 2010

قدرتی عذاب یا قدرتی عمل

ایک دفعہ پھر ہم قدرتی آفات کی زد میں ہیں اور ملک کا بڑا حصہ  شدید بارشوں اور سیلاب سے متائثر ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد جاں بحق ،  متعدد لوگ لاپتہ ہیں اور ہزاروں بے گھر۔ لیکن ایک دفعہ پھر ہم یہ سوچتے ہیں کہ یہ اللہ کا عذاب ہے ہمارے اوپر، آزمائش یا قدرتی عوامل کی پرواہ نہ کرنے کی سزا۔
اگر یہ اللہ کا عذاب ہے اور ہمارے سیاہ کرتوتوں کی سزا ہے تو کیا وجہ ہے صرف غریب غرباء ہی اسکا شکار بن رہے ہیں۔ ہمارے طبقہ ء اشرافیہ کے تمام لوگ زندگی کی تمام نعمتوں سے بہرہ مند ہوتے اپنے آرام دہ ، سہولتوں سے آرستہ محلوں میں سٹیلائٹ ٹی وی پہ کوئ دل بہلانے والا پروگرام دیکھ رہے ہونگے۔ جبکہ نوشہرہ فیروز شہر ڈوب رہا ہے۔ اور اسکے غریب اور مسکین لوگ شاید سارے سارے دن بھوکے رہ کر اپنے لئے جائے پناہ تلاش کر رہے ہونگے۔ اقبال  اپنی نظم شکوہ  میں کہتے ہیں کہ برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پہ۔  اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تو پچانوے فی صد مسلمان ہیں ۔ لیکن یہاں بھی برق گرتی ہے اور برق ہمیشہ بے آسرا، کمزور لوگوں پہ گرتی ہے۔
کون زیادہ گنہگار ہے۔ شاید غریب ہونا سب سے بڑا گناہ ہے۔ لیکن کیا یہ پھر یہ خدا کی نا انصافی نہیں کہ وہ غریب پیدا کرے، غریب رکھے اور غریب ہی  کی پکڑکرے۔
اس لئے میں تو اس خیال کو خاطر میں نہیں لاتی۔
یہ سوچ لینا آسان ہے کہ یہ آزمائش ہے۔ لیکن پھر سوچ وہیں جاتی ہے کہ ایسی آزمائش کا سامنا معاشرے کے کمزور طبقے کو ہی کیوں کرنا پڑتا ہے اور وہ لوگ جو پہلے سے اللہ کی طرف سے نوازے ہوئے ہیں انہیں کیوں خدا محفوظ رکھتا ہے اور انکی آزمائش نہیں لیتا۔ بلکہ مزید نوازے جاتا ہے۔
اس لئے یہ چیز بھی عقل میں نہیں آپاتی۔ در حقیقت، جس وقت تک ہم اس چیز پہ یقین رکھتے ہیں کہ خدا کسی پہ اسکی قوت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا اس وقت تک ہمیں اس چیز پہ یقین آ نہیں سکتا۔
کیا یہ تباہ کاریاں، قدرتی عوامل کا نتیجہ ہیں؟
ساری دنیا میں موسموں میں تبدیلی کو عمل آتا محسوس ہو رہا ہے۔ تحقیق دانوں کے نزدیک اسکی وجہ گرین ہاءوس ایفیکٹ بھی ہو سکتا ہے کہ اسکے نتیجے میں زمین پہلے کی نسبت گرم ہو رہی ہے۔ زمین پہ موجود برف کا ذخیرہ اس گرمی سے گھل رہا ہے۔ فضا میں پانی کی مقدار زیادہ ہو رہی ہے۔ سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ بارشیں پہلے سے زیادہ ہو رہی ہیں اور امکان ہے کہ اب بارشیں زیادہ سے زیادہ ہوتی چلی جائیں گی۔
یعنی دنیا میں بیشتر ممالک کو جلد یا بدیر سیلاب کا سامنا کرنا پڑے گا اور اسکے بعد خشک سالی کا۔ کارخانہ ء قدرت کا ایک نظام اور کاز اینڈ ایفیکٹ کا نظام بھی خدا نے مقرر کیا ہوا ہے۔  خدا نے یہ مقرر کیا ہوا ہے کہ اگر آپ سرد موسم میں اپنے بدن کو گرم نہیں رکھتے تو آپکو سردی لگے گی اور آپ بیمار ہونگے۔ اس صورت میں بیماری خدا کا عذاب نہیں بلکہ کاز اینڈ ایفیکٹ کے کھاتے میں جائے گی۔
گرین ہاءوس ایفیکٹ کو کم کیا جا سکتا ہے؟
جی ہاں اسے کم کیا جا سکتا ہے اسکے لئے دنیا کے تمام ممالک کو ان گیسوں کی مقدار کو کنٹرول کرنا پڑےے گا جو اس ایفیکٹ کو بڑھانے کی ذمہ دار ہیں۔ دنیا کے غریب ممالک کو متحد ہو کر دنیا کے امیر ممالک پہ دباءو ڈالنا ہوگا کہ وہ اپنی ترقی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ان مضر گیسوں کی مقدار کو کم کرنے میں انکا ساتھ دیں۔
ہم اس سے کیسے نمٹیں؟
ہمیں سیلاب کی پیشگی اطلاع کو موءثر بنانا ہوگا۔ ہمیں اپنے عوام کی تربیت کرنی ہوگی کہ وہ اپنے گھر کیسے بنائیں تاکہ سیلاب کے نتیجے میں انہیں کم سے کم نقصان پہنچے۔ سیلاب آنے کی صورت میں وہ کس طرح جانی نقصان کو کم سے کم رکھ سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ محلے کی سطح پہ کیا احتیاط کی جا سکتی ہے۔ سیلاب کے بعد وبائ امراض کا اندیشہ رہہتا ہے اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ ان سب کے لئے میڈیا کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔
حکومتی سطح پہ اس سے نمٹنے کے لئے ماہرین کی ایک ٹیم موجود ہونی چاہئیے۔ خاص طور پہ ان علاقوں میں جو سیلاب کے لئے رسکی ہیں۔ ان ماہرین میں اس علاقے کے لوگ بھی شامل ہونے چاہئیں تاکہ علاقے کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے میں دشواری نہ ہو۔
یہ ایک دستاویز کا لنک ہے۔ چاہیں تو آپ میں سے کوئ اسکے اہم نکات کا ترجمہ کر کے اپنے بلاگ پہ ڈالدے۔ یا پھر ایک دو روز میں، میں ہی وقت نکالتی ہوں۔

Thursday, July 29, 2010

اسلام آباد فضائ حادثہ

آج کے دن تک آپ میں سے بیشتر لوگ یہ اندوہناک خبر سن چکے ہونگے کہ ائیر بلو کے جہاز کے کریش ہونے کی وجہ سے اس پہ سوار تمام ایک سو باون لوگ ہم سے جدا ہو گئے۔ وہ لوگ جو اپنے مستقبل کے منصوبے بناتے ہوئے اپنے پیاروں کو خدا حافظ کہہ کر گئے۔ پھر کبھی  لوٹ کر نہ  آئیں گے۔
میں نے پورے دن میں تین دفعہ ٹی وی دیکھنے کی کوشش کی۔ اور ہر دفعہ پانچ منٹ بعد بند کر دیا۔ اس طرح اندوہناک عالم میں مرنے والوں کے خاندانوں کا غم اپنا ہی لگ رہا  ہے مگر میں اس خبر کی خریدار نہیں بننا چاہتی۔ 
جہاز پہاڑ کی چوٹی سے ٹکرایا اور پاش پاش ہو گیا۔ اس پہاڑی علاقے میں لوگوں کی باقیات بکھر گئیں جہاں عام طریقے سے پہنچنا مشکل تھا۔ مددگاروں کو اس جگہ تک پہنچنے کے لئے ایک راستہ بنانا پڑا کہ پہلے سے کوئ راستہ اس پہاڑی پیچیدہ علاقے میں موجود نہ تھا۔ بارش کی وجہ سے پھسلن شدید تھی اورمدد کا پہنچنا مزید مشکل ہو گیا۔
 میڈیا کے وارے نیارے ہو گئے۔ بہت دنوں بعد ایسی خبر ملی جس میں لوگوں کی دلچسپی ہوتی کہ باقی خبروں کہ ہم عادی ہو گئے ہیں۔وارے نیارے کیوں؟  ایک منہ چرانے والی حقیقت یہ بھی ہے کہ عام لوگوں کو ایسے منظر اپنی طرف کھینچ کر رکھتے ہیں جس میں لوگ رو رہے ہوں، تڑپ رہے ہوں، بے بس نظر آرہے ہوں۔
اگر کاروباری نظر سے دیکھا جائے تو بہت دنوں بعد کسی خود کش حملے کے بجائے کسی اور ذریعے سے اتنے بہت سے لوگ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سو میڈیا نے حسب کاروبار اس پہ سارا دن خرچ کر دیا۔ ایک ہی فوٹیج کو بار بار دکھانا، بربادی اور اندوہناکی کو اس جگہ سے دکھانا جہاں سے وہ زیادہ ہولناک لگیں۔ غمزدہ خاندانوں کے گھر پہنچ کر انکے رشتے داروں سے تاءثرات لینے کی کوشش میں سبقت حاصل کرنے میں لگے رہنا۔ حالانکہ ابھی تو انہوں نے مرنے والے کو دیکھا بھی نہیں ہوگا اور شاید ابھی تو وہ یقین کرنے کے مراحل سے گذر رہے ہونگے کہ ایسا ہوا بھی ہے۔ لاشیں نہیں دکھا سکتے تو کیا  شناختی کارڈ تودکھا سکتے ہیں۔ چینلز کے درمیان شناختی کارڈ کی تعداد کا مقابلہ۔
 اس افراتفری میں کسی مددگار کے منہ سے جو نکلا اسے خبر بنا کر نشر کر دیا۔ ایک چینل پہ دی جانے والی خبر کہ ایک خاتون زندہ بچ  گئیں غلط ثابت ہوئ۔ کسی چینل نے فوراً ہی یہ قیاس ظاہر کیا کہ طیارہ نو فلائ زون میں اڑ رہا تھا۔ یعنی حادثہ راکٹ کے لگنے سے بھی ہو سکتا ہے۔ یہ خبر بھی غلط نکلی کیونکہ  جہاز رن وے پہ جگہ نہ ہونے کے باعث فضا میں چکر کاٹ رہا تھا۔  ویسے بھی ایئر پورٹ سے اتنے قریب نو فلائ زون کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ دونوں خبریں تو میں نے دیکھیں۔
ایک بلاگ پہ یہ قیاس تک ظاہر کیا گیا کہ جعلی ڈگریوں کے سلسلے سے توجہ ہٹانے کے لئے شاید یہ حادثہ کیا گیا۔ حادثے ساری دنیا میں ہوتے ہیں اصل بات یہ معلوم کرنا ہوتی ہے کہ  اس میں انسانی لا پرواہی تھی یا کوئ ٹیکنیکل خرابی۔ 
 ایسے حادثوں کے فوراً بعد جن اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں مدد کا فوری طور پہ جائے حادثہ تک پہنچنا  اور جہاز میں موجود لوگوں کے بارے میں آگاہ ہونا۔ تاکہ انکے رشتے داراور دوستوں  کومعلوم ہو کہ متعلقہ شخص جہاز میں تھا یا نہیں۔
اس سلسلے میں میڈیا کو کچھ باتوں کا پابند ہونا چاہئیے۔ مثلاً مرنے والوں کی تعداد کا جب تک تصدیق نہ ہوجائے اپنے طور پہ اعلان نہ کریں۔ ایک شدید زخمی بے ہوش شخص اور مردہ جسم کے درمیان ایک اخباری رپورٹر دور سے دیکھ کر کیسے رائے دے سکتا ہے۔ یہ تو ایک ڈاکٹر ہی بتا سکتا ہے۔ اپنی سنسنی خیز خبروں کو کم از کم ایک دن کے لئے تو معطل رکھیں تاکہ وہ جو اس اندوہناک حادثے سے گذرے ہیں وہ اس چیز کو تسلیم کرنے کے قابل ہو سکیں۔ ہم لاکھ کہیں کہ انکا غم ہمارا غم ہے یہ محض الفاظ ہی رہیں گے کہ جو اس سے گذرتا ہے وہی جانتا ہے اور صبر بھی آتے آتے ہی آتا ہے۔ اس قسم کی خبروں کے دوہرانے کی تعداد اور انکے درمیان وقفے کو بھی مقرر کیا جانا چاہئیے۔ ایک ہی فوٹیج، ایک ہی رپورٹ کو اتنی دفعہ دکھایا جاتا ہے کہ سنجیدہ ترین بات کی بھی اہمیت نہیں رہتی۔ یوں ایک اندوہناک حادثہ بھی زندگی کا روزمرہ بن جاتا ہے۔
اسکے علاوہ ایک ہی خبر کو مرکز توجہ بنا لینا کہاں تک درست ہے۔
 پشاور میں  بارشوں  اورسیلابی ریلوں میں کل سے اب تک ایک سو دس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مگر اس سے آگے ہم نہیں جانتے کہ یہ کون لوگ ہیں انکے اہل خانہ پہ کیا گذری۔ ایسا کیا ہوا کہ اتنے لوگ سیلابی ریلے کا شکار ہوئے۔ کیا سیلابی ریلے سے بچاءو کی کوئ صورت ہے عوام اپنے آپکو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں اور کیسے اپنے پیاروں کو بچا سکتے ہیں۔  پچھلے ہفتے بلوچستان میں سیلابی ریلوں میں پچاس سے زیادہ افراد مر گئے،متعدد لا پتہ ہو گئے اور ہزاروں بے گھر۔ بچ جانے والےلوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے۔ آخر اس میں انسانی زندگی کا نقصان بھی تو نقصان ہے اور اتنا ہی ہولناک ہے۔ میڈیا کسی خبر کو ترجیحات دینے میں کیا چیزیں سامنے رکھتا ہے؟
کل ہی کے دن کراچی میں ایک گھر کے گر جانے کی وجہ سے ایک ہی خاندان کےسات لوگ جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں مر گئے۔ معلوم نہیں کہ اس طرح کے دھچکے سے گذرنے کے بعد باقی بچ جانے والے لوگ کس حالت میں ہیں۔ یہ نہیں معلوم کہ وہ لوگ اب تک اس مخدوش عمارت میں کیسے رہ رہے تھے ۔ اس حادثے سے کیسے بچا جا سکتا تھا۔ معلومات زیرو۔  ہر سال بارش میں ایک ایسی خبر ضرور آتی ہے۔ جس سے مناسب اقدامت کے ذریعے بچا جا سکتا ہے۔  اسی طرح کراچی میں حالیہ بارشوں میں دو افراد بجلی کا کرنٹ لگنے سے مر گئے۔ ہر موسم برسات میں ایسا بھی ضرور ہوتا ہے۔
یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ میڈیا کن لوگوں کے مرنے کو اہمیت دیتا ہے اور کن لوگوں کے اہل خانہ کے پیچھے بھاگنے سے انکی قیمت صحیح سے وصول ہوتی ہے؟
لوگ میڈیا کو بے حس قرار دیتے ہیں۔ لیکن یہ ہم سب کا مجموعی رویہ ہے۔ میڈیا یہ سب چیزیں جنہیں بیچ رہا ہے وہ ہم ہیں۔ ہم ہیں اسکے خریدار۔