Showing posts with label مسلمانوں کی قسمیں، اقبال، افغانستان. Show all posts
Showing posts with label مسلمانوں کی قسمیں، اقبال، افغانستان. Show all posts

Friday, November 20, 2009

مشغلہ یا ضرورت

ہمارے ایک ساتھی نے حال ہی میں اپنے بلاگ پہ سکیولرازم کے بارے میں اپنے کالم ہم سب کے علم میں لانے کے لئیے دیا۔ جس پہ میرے تبصرے پہ انہیں اعتراض بھی ہے۔ اسکا ایک واضح جواب لکھنے میں خاصہ وقت لگتا اور ہجوں کی غلطیاں بھی ہوتیں۔ اس سے بچنے کے لئیے میں نے اسے یہاں لکھنا بہتر سمجھا۔ چونکہ ان کے موضوع میں خاصے سارے نکات ہیں اس لئیے میں ان پہ الگ الگ بات کرنا چاہونگی۔تاکہ یہ فوکس رہے۔
اس سلسلے میں، میں سب سے پہلے مسلمانوں کی ان اقسام کا تذکرہ کرنا چاہونگی جو کہ آجکل تواتر سے پیش کی جا رہی ہیں۔ آئیے پہلے ایک نظر ان پہ ڈال لیں۔ کیونکہ اپنی زندگی کی ایک لمبے عرصے تک میں مسلمانوں کے  بنیادی دو گروہ ہی سمجھتی تھیں یعنی شیعہ اور سنی۔ آگہی کے راستے پہ سفر کرتے ہوئے پتہ چلا کہ یہ تفریق یہیں ختم نہیں ہوجاتی بلکہ فقہ کی بنیاد پہ اسکی مزید تقسیم بھی ہوتی ہے۔ یہی نہیں اگر اسلام کے ابتدائ شاید پچاس سالوں کو نکال دیں تو حکومت اور اقتدار کو حاصل کرنے کے لئیے جتنی تحاریک چلائ گئیں انکے بھی کچھ نہ کچھ نام رکھے گئے تھے۔ جنکی تفصیلات تاریخ کی کتابوں میں بند ہیں۔

میں اپنے تئیں یہ سمجھتی رہی کہ حالات اس نہج پہ آگئیے ہیں کہ اب جو شخص مسلمان نہیں ہوگا وہ کافر ہوگا۔ لیکن نہیں جناب اس معاملے میں بھی تخلیقی جواہر رکھنے والوں نے خوب خلاقی دکھائ۔ یہاں میں کچھ حوالے دینا چاہونگی۔ یہ میرے ذہن میں رہ گَ اور میں انہیں انکے اصل ذرائع سے ڈھونڈ کر نکال بھی سکی۔ یہ نام جو محض اس لئے وجود میں آتے ہیں کہ کوئ اور شخص ہم سے مختلف خیال رکھتا ہے۔

تو عرض کررہا تھا کہ نائن الیون کے بعد مذہبی رحجان رکھنے والوں کی طرف سے معذرت خواہانہ رویہ اپنایا گیا ہے ۔ مجھے کبھی شرمندگی نہیں ہوئی۔ میں ملا ہوں لیکن مسجد کا پیش امام یا مدرسہ کا فارغ و تحصیل مولوی نہیں ۔ اقبال کا ملا ہوں اگر چہ میں افغانی ملا ہوں لیکن میں اپنے اپنے آپ کو عالمگیر ملا سمجھتا ہوں۔

http://talkhaabau.wordpress.com/

میں اپنے آپ کو اسلام پسند کہتا ہوں لیکن میری نیٹ یا بلاگ سے شروع ہوئی دوستی ان لوگوں کے ساتھ بھی ہیں جن کو آپ ان درجوں میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔ اسلام پسند، سیاسی اسلام کے حامی ، مذہبی رجحان رکھنے والے ، وہ جو اپنے آپ کو ماڈریٹس کہتے ہیں ، وہ جو لبرلز ہیں ، سوشلسٹ نظریات کے حامل ‘ مذہب مخالف اور دہریے وغیرہ۔ کئی دہریوں سے میری بہت گہری دوستی ہے۔

http://www.abushamil.com/tag-tag3/#comments

ہم کیونکہ آپ کی نظر میں “قدامت پسند” ہیں اس لیے ہمارے دلائل ہمیشہ “بودے” ہی ہوں گے۔

http://www.abushamil.com/secularism-shahnawaz/

باعمل مسلمان ایک گالی بنتا جا رہا ہے۔ لوگ اسے دیکھ کر ایک دم ڈر جاتے ہیں کہ کہیں وہ خودکش بمبار ہی نہ ہو۔ ماڈریٹ یعنی بے عمل مسلمان ہر جگہ آزادی سے گھوم پھر سکتا ہے مگر باریش مسلمان کی آزادی صلب ہوتی جا رہی ہے۔

http://www.mypakistan.com/?p=3692

آپ جیسے روشن خیالوں کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی آپ کے ساتھ نہیں ہے تو وہ یقینا طالبان کے ساتھ ہے اور یہ شدت پسندی نہیں شاید۔۔۔۔

http://anqasha.blogspot.com/2009/10/blog-post_27.html#comments

وہ سیکولر مسلمانوں سے کہتا ہے کہ تم مسلمان کیوں ہو اور وہ جو صرف مسلمان ہیں ان سے کہتا ہے کہ تم سیکولر کیوں نہیں ہوجاتے,

 http://www.abushamil.com/secularism-shahnawaz/ 


یہ حوالے صرف اردو بلاگنگ دنیا سے لئے گئے ہیں۔ انہیں تخلیق کرنے والے کوئ ایک نام ایجاد کرتے ہیں اور پھر بڑے فخر سے اسکی ضد بنا کر اس میں اپنا نام ڈالتے ہیں اور اسی غرور کے ساتھ سوچتے ہیں کہ یہ تھی وہ خدمت دین کی جو دین ان سے چاہ رہا ہے۔ میں تو سمجھتی ہوں کہ میں بھی اس سلسلے میں کچھ کام کروں اور الفاظ کی ایک فہرست تیار کروں تاکہ میرے ان ساتھیوں کو سنجیدگی کے ساتھ کچھ اور سوچنے کا وقت بھی ملے نہ صرف یہ بلکہ میں ذاتی طور پہ انہیں بہترین مسلمان اور مثالی مسلمان بھی قرار دینے پہ ہرگز کسی قسم کا تامل نہ کروں اس سےانہیں اپنے اس اعزاز سے کسی بھی وقت محروم ہونے کا نہ صرف خدشہ نہ رہےگا۔ بلکہ یہ احساس بھی انکے دل کو گرماتا رہے کہ انکی برتری تسلیم کر لی گئ ہے۔
لیکن کیا وقت کی آوز یہی ہے کہ ہم ایکدوسرے کی ایمانی حالتوں پہ دلیلیں دیتے رہیں؟