Showing posts with label جمہوریت. Show all posts
Showing posts with label جمہوریت. Show all posts

Monday, June 27, 2011

ایسے کیوں؟

آج کا دن کوئ پوسٹ لکھنے کا ارادہ نہیں تھا۔ اگلے سات آٹھ دن کے لئے مصروفیات کا تناسب کچھ نکل آیا ہے کہ بلاگ کی طرف زیادہ نظر نہ ہو پائے۔ بہر حال، اطلاع ملی کہ مکی صاحب نے اپنے بلاگ کو سیارہ سے الگ کرنے کی درخواست کی ہے۔ کیوں کی ہے ، یہ وہ بہتر جانتے ہونگے۔ لیکن میں اپنی ذاتی حیثیت میں انکے اس فعل سے مطمئن نہیں۔
کوئ آئیڈیئل معاشرہ وہ نہیں ہوتا جہاں سب ایک جیسی سوچ رکھتے ہوں۔ ایک مقولہ ہے کہ جہاں سب ایک جیسی سوچ رکھتے ہوں وہاں کسی کے پاس کرنے کو کچھ خاص نہیں ہوتا۔ دنیا میں وہی معاشرے ترقی کی طرف جاتے ہیں اور مثبت  طرز زندگی کی طرف گامزن ہوتے ہیں جہاں تنوع ہوتا ہے۔ انسانوں کا، بنیادی فکرات کا اور بنیادی اعمال و کردار کا۔
اگر ایک خاص سوچ کسی معاشرے پہ طاری کر دی جائے تو ایک شدت پسندی کو جنم دیتی ہے۔  اس شدت پسندی کو قابو میں رکھنے کے لئے اسکی مخالف قوت کا موجود رہنا ضروری ہے اور معاشرے کی ایک قوت کو مہمیز رکھنے کے لئے دوسری  مخالف قوت کو حاضر رہنا چاہئیے۔
جمہوریت کی ساری خوبی یہی ہے کہ معاشرے کے ہر طبقے کو آواز اٹھانے کی اجازت ہوتی ہے جو آمریت یا مارشل لاء میں نہیں ہوتی۔
اگر آج ہمارے ملک میں عدم برداشت کا رویہ اپنے عروج پہ ہے تو اسکی جڑیں ضیاء الحق کی اس گیارہ سالہ حکومت میں ملتی ہیں جب پاکستان کے بد ترین مارشل لاء میں ایک نظرئیے کو پروان چڑھانے کے لئے تمام ریاستی وسائل بروئے کار لائے گئے۔ اسکے نتیجے میں دوسرا مخالف گروہ ختم کر دیا گیا یا خاموش کرا دیا گیا۔ اور اب یہ عالم ہے کہ نہ لوگوں میں علم ہے، نہ برداشت، ترقی تو دور۔ ترقی اور فلاحی ریاست ایک مبہم خواب کے سوا کچھ نہیں۔ ہم معاشی اور معاشرتی سطح پہ دن بہ دن تنزلی کا شکار ہیں۔
ہم مسلسل آمریت کے زیر سایہ رہنے سے مزاجاً خود بھی آمر ہو چکے ہیں۔ رہی سہی کسر، متعارف کرائے گئے جذبہ جہاد نے پوری کی اور اب ہماری اکثریت میں یہ اہلیت ہے کہ وہ ظلم میں ہٹلر اور چنگیز خاں کو بھی مات دے دے۔
ہماری ایک پوری نسل نہیں جانتی کہ اسکے باہر کی دنیا میں کیا ہوتا ہے، اس دنیا میں کیسی کیسی ثقافتیں، مذاہب موجود ہیں۔ اور اسی دنیا میں کیسے کیسے ممالک ہیں جہاں مختلف النوع مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں مگر سکھ چین کے ساتھ، زندگی میں آگے کی سمت چلے جا رہے ہیں۔
عدم برداشت کا رویہ آخر کیسے ختم ہوگا؟ ایسے کہ لوگوں کو اپنے مخالف کی بات سننے کی عادت پڑے۔ ایسے کہ انہیں معلوم ہو کہ وہ کوئ پھنّے خان نہیں ہیں۔ دنیا میں عظیم لوگ انکے مذہب، فرقے، ذات ، برادری، نسل اور لسان سے الگ ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔ وہ سب اسی دنیا کے دسترخوان سے اپنا روزی روزگار حاصل کرتے ہیں۔ ایسے کہ انہیں معلوم ہو کہ وہ خود کتنے حقیر ہو چکے ہیں۔ جس سوچ پہ انہوں نے اپنے آپکو کھڑا کیا ہے وہ حضرت سلیمان کی وہ دیمک کھائ ہوئ لاٹھی بن چکی ہے۔ کہ جب گرے گی تو پتہ چلے گا کہ وہ مر چکے ہیں۔
بلاگستان کی اکثریت، اس پاکستانی نسل سے تعلق رکھتی ہے جو خود کچھ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ سوائے دوسروں پہ کیچڑ اچھالنے کہ وہ بھی مذہب کے نام پہ۔ دیکھنے کو انکی زندگیاں بھی ان مسائل سے بھری پڑی ہوئ ہیں جن سے ایک عام پاکستانی دوچار ہے۔ مگر اسے حل کرنے کی طرف تو دور انکا تذکرہ تک کرنے میں انکی دلچسپی نہیں۔ ان کا غم اگر ہے تو یہ کہ ہمارے ملک میں ہم جنس پرست کیا کیر رہے ہیں؟ یہ ہم جنس پرستی ایک علاقے کی ثقافت کا سینکڑوں برس سے حصہ ہے مگر اس پہ روشن خیال کا نام لے کر ماتم کرنے میں ایک عجیب مزہ آتا ہے۔ یہ نہیں جانتے کہ اس علاقے میں خواتین کو حقیر بنائے جانے سے ہم جنس پرستی کے مسئلے نے وہاں شدت پکڑی ہے۔
یہی لوگ ، یہ نہیں جاننا نہیں چاہتے کہ پاکستان کی عورتوں کی ایک بڑی تعداد اوسٹیو پوریسس کی وجہ معذوری کا شکار ہو رہی ہے ، بچے پولیو کی وجہ سے معذور ہو رہے ہیں۔ دنیا کے تقریباً دو سو ممالک میں پاکستان ان آخری ممالک میں شامل ہے جہاں مرنے والوں بچوں کی تعداد سب زیادہ ہے۔ یہ سوچ کر انہیں اپنے اوپر شرمندگی نہیں ہوتی کہ پاکستان کے ایک دیہات میں ایک عورت اپنی چھاتی کا زخم چھپائے چھپائے پھرتی رہی، شرم کی وجہ سے حتی کہ اسکی چھاتی کینسر کی وجہ سے پھٹ گئ ۔ تشویشناک بات یہ نہیں ہے کہ ایک پچاس سالہ عورت کو اسکے دس سال کے بچے کے سامنے برہنہ گلیوں میں پھرایا گیا۔ انکے نزدیک انکے ملک کی اہم اور تشویشناک خبر یہ نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ کسی جگہ  منافقوں کے پیدا کردہ نام نہاد مجاہدین کو متوقع تباہی پھیلانے میں متوقع کامیابی کیوں حاصل نہیں ہو پائ۔
ہم جنس پرستی کیا ہے؟ قدرتی طریقوں سے منہ موڑ کر ایسی طرز کو اختیار کرنا، جس میں نسل انسانی کو کوئ فائدہ نہیں۔ جس سے نسل انسانی آگے  نہیں بڑھتی۔ ایک ایسی بے سمت عیاشی جس سے بدلے میں کوئ مثبت چیز نہیں بر آمد ہوتی۔
فدائیوں اور نام نہاد مجاہدین کی فتح کی دعائیں مانگنا بھی فکراً ہم جنس پرستی سے الگ چیز نہیں۔ قدرتی طرز زندگی سے انحراف۔ ایسے عمل کا حصہ بننا جس میں نسل انسانی کی ہماری پاکستانی نسل کی بقاء نہیں تباہی ہے۔
یہ ہے ہماری موجودہ نسل کی اکثریت جو اس وقت اس بلاگستان کا حصہ ہے۔
اس عالم میں اگر کوئ اس روش سے ہٹ کر بات کہنا چاہ رہا ہے تو اسے اختیار ملنا چاہئیے۔ اسے اپنا اختیار استعمال کرنا چاہئیے۔ ہم سب کی تربیت ہونی چاہئیے کہ ہم ایکدوسرے کی غلط ترین بات کو سنیں ، اسے برداشت کریں۔ اس پہ سوچیں اور ہمیں نہیں پسند تو تو آگے بڑھ جائیں۔ ہمیں اب لوگوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کو دبانے سے روکنے کی کوشش میں حصہ ڈالنا پڑے گا۔ اس لئے نہیں کہ ہم بعیّنہ وہی خیالات رکھتے ہیں جیسے کہ وہ رکھتے ہیں بلکہ اس لئے کہ ہم ایک متوازن معاشرے کے طور پہ پنپ سکیں۔
توازن، کسی ایک قوت کے حاوی ہونے میں نہیں۔ توازن تمام قوتوں کے ایک ساتھ موجود رہنے سے پتہ چلتا ہے۔ کم از کم کائینات اپنے مظاہر میں یہی کہتی نظر آتی ہے۔




تو مکی صاحب ، میں تو نہیں سمجھتی کہ آپکو بلاگستان سے علیحدہ ہونے کی ضرورت ہے۔    باقی کچھ لوگوں کا یہاں رد عمل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ برصغیر میں اسلام محمد بن قاسم لے کر آیا کیا انکی اس غلط فہمی کی تصحیح ضروری نہیں ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ محمود غزنوی ایک عظیم مسلمان فاتح تھا۔ کیاانکی اس غلط فہمی کی تصحیح ضروری نہیں کہ وہ ایک بہترین جنگجو تھا۔ اور بس۔ 
وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اگر ایک اسلامی ملک بن گیا تو یہاں عورتیں جسم فروشی نہیں کریں گی، لوگ ہم جنس پرست نہیں ہونگے، شراب نہیں پی جائے گی، زنا نہیں ہوگا، جھوٹ نہیں ہوگا،  چوری نہیں ہوگی۔ امن وامان ہوگا، شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پئیں گے۔ یہاں سے وہاں تک صرف  مسلمان پائیں گے وہ بھی کسی ایک فرقے کے۔  فرقہ واریت پہ جنگ ختم ہو جائے گی۔
وہ سمجھتے ہیں کہ اگر لوگوں کے گروہ خدا کا انکار کریں تو اس سے انکا ایمان خطرے میں پڑ جائے گا۔ حالانکہ انکاا کرنے والے بھی ہزاروں سال سے موجود ہیں اور ایمان والے بھی اپنے ایمان پہ جمے ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب، کمزوری انکے ایمان میں ہے یا مضبوطی انکار کرنے والے کے بیان میں۔ اسکا ایک اور مطلب ہے کیونکہ وہ اپنے ایمان کا دفاع کرنے سے آگاہ نہیں اس لئے انہیں انکار کرنے والے سے ڈر لگتا ہے۔ اسکی ایک اور وجہ ہے وہ اپنے ایمان میں کشش نہیں پیدا کرتے بلکہ ہیبت پیدا کرتے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ ہیبت سے دل مسحور کئے جا سکتے ہیں۔
کیا انہِیں اس چیز پہ مجبور نہ کیا جائے کہ اصل کتابوں کی طرف رجوع کرو۔ اور اپنے ایمان کو مضبوط۔ جو ایمان ایسے ہر کس و ناکس کے بیان پہ ڈول جائے اسے سپلیمنٹس کی بے حد ضرورت ہے۔ اسے یہ معلوم ہونے کی بے حد ضرورت ہے کہ وہ کیوں کمزور ہے اور اسے کیسے مضبوط ہونا ہے۔ اسے معلوم ہونا چاہئیے کہ انکار کرنے والا کیا دلائل رکھتا ہے جسکی بناء پہ وہ اسے، مضبوط ایمان والے کو چت کر دیتا ہے۔ اور مضبوط ایمان کا دعوی کرنے والے یہ کہنے کے علاوہ کچھ نہیں کہہ پاتے کہ اپنا علاج کرائیے۔ حالانکہ  انہیں دوسروں کو یہ مشورہ دینے کی نہیں اپنے علاج کی آپ ضرورت ہے۔ اور انکا علاج اپنے دین سے خود آگہی حاصل کرنے میں ہے جو وہ نہیں کر پاتے اور نہ کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ دین اس سلسلے میں خاصہ کڑا ہے۔
کیا انہیں یہ نہیں بتایا جائے کہ جب تک معاشرے میں انصاف نہیں ہوگا اور معاشی خوشحالی نہیں ہوگی ان میں سے کوئ چیز ختم نہیں ہوگی اور نہ کوئ نئ مثبت چیز جنم لے گی۔  سوائے اسکے کہ ہم منافقین کے گروہ در گروہ تخلیق کریں۔
انہیں معلوم ہونا چاہئیے کہ جب تک انسان زندہ ہے، ان کے خیالات اور زندگی سے انکے مطالبات ایک دوسرے سے الگ رہیں گے۔ یہی اس دنیا کا حسن ہے، آزمائیش ہے،اور مقصود۔
جب ہی  کائینات میں تین قوتیں بر سر پیکار نظر آتی ہیں۔ خدا ، انسان اور شیطان۔ اگر ان میں سے صرف ایک قوت بچ جائے تو کائینات میں نہ نمو ہوگا نہ استحکام۔

Wednesday, April 13, 2011

الم نشرح

ایم کیو ایم  کے پنجاب میں جلسہ کرنے کے بارے میں مختلف قیاسات جاری تھے۔ میں اتوار بازار میں سبزی لے رہی تھی جب دو دوکانداروں کو جوش و خروش سے اس پہ  بات کرتے سنا کہ آج دیکھو پنجاب میں کیا ہوتا ہے۔ دماغ پہ زور ڈالا ، پنجاب میں ایسا کیا ہونے جا رہا ہے جس سے کراچی کے سبزی فروشوں کو دلچسپی ہو۔
جلسہ ہو گیا۔ اس بارے میں بھی مختلف خیالات ہیں۔ کچھ کے نزدیک ناکام تھا اور کچھ اسے کامیاب کہتے ہیں۔ ناکام کہنے والوں کے نزدیک اس میں لوگوں کی تعداد اتنی نہ تھی اور کامیاب کہنے والوں کے نزدیک اس جلسے سے ایم کیو ایم نے اپنی آواز تو پنجاب تک پہنچا دی ہے اور دوسرا یہ کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک کی دیگر سیاسی جماعتیں اپنے علاقوں میں محدود ہوتی جارہی ہیں اور وفاق کی ترجمانی کرنے کے بجائے لسانی طبقوں کی نمائمندگی کرتی ہوئ نظر آتی ہیں۔ یہ ایک مثبت قدم ہے کہ ایم کیو ایم اپنی جنم بھومی سے نکل کر دوسرے علاقوں میں بھی قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے دلچسپ امر یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے دوسری سیاسی جماعتوں کے بر عکس  لسانی سیاست سے آغاز کیا تھا۔
میں اس جلسے کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں کچھ کہنا نہیں چاہتی اور نہ ہی میں ایم کیو ایم کی اس حالیہ سرگرمی میں کوئ خاص دلچسپی رکھتی ہوں ۔ لیکن بحیثیت ایک  پاکستانی میں یہ ضرور جاننا چاہتی ہوں کہ ایم کیو ایم نے اپنے اس جلسے میں ایسی کون سی کشش  اپنے نئے متوقع ووٹروں کے لئے رکھی ہے جس سے وہ اپنے پرانے نظام کے پرانے گھاگ اور لسانی طور پہ قریب رہ نماءووں کو چھوڑ کر انکے پیچھے ہو لیں۔
سیاسی پارٹیاں ایسی کشش اپنے منشور کے ذریعے پیش کرتی ہیں۔
 پارٹی مینیفیسٹو یا منشور ایک بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جس کی بد قسمتی سے ہمارے یہاں کوئ شناخت نہیں۔ ہماری سیاست، پارٹی منشور کے گرد گھومنے کے بجائے شخصیات کے گرد گھومتی ہے۔ سیاست کی اس طرز کی بناء پہ ہم جمہوریت کی اصل روح سے اب تک دور ہیں اور اس چلن پہ ہمیشہ دور رہیں گے۔
عوام کے ذہن کو چند رہ نماءووں کی شخصیت کا اسیر بنا لیا جاتا ہے اور اسکے بعد عوام کے  لئے ہر دروازہ بند اور رہنماءووں کے لئے ہر دروازہ کھلتا جاتا ہے۔
پاکستانی سیاست میں یہ چلن شاید ذوالفقار علی بھٹو کی 'شہادت' کے بعد زیادہ واضح طور پہ شروع ہوا۔ اس سے پہلے تحریک پاکستان میں قائد اعظم کی شخصیت  مرکز بنی رہی۔ قیام پاکستان کے وقت ہمارے پاس واضح طور پہ ایک منصوبہ موجود نہ تھا کہ نئ مملکت کس طرح کام کرے گی۔ قائد اعظم موجود تھے۔  نئ مملکت کے قیام کے تقریباً تیرہ ماہ بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور اسکے ساتھ ہی ہمارا شیرازہ بکھرگیا۔
آج کے پاکستان میں ہم اس بات سے واقف نہیں کہ مختلف پارٹیز کے منشور کیا ہیں۔ لیکن ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اس پارٹی کا کون سا شخص وہ طوطا ہے جس میں پارٹی کی جان ہے۔
یہ پیپلز پارٹی ہے۔ اسکے سربراہ زرداری ہیں جو سب پہ بھاری ہیں۔ انکا پلہ بھاری ہے کیونکہ خوش قسمتی یا بد قسمتی سے جسکا فیصلہ ہم آسانی سے نہیں کر سکتے انکے پچھلے تمام بڑے رہنما شہید ہو چکے ہیں۔ ان شہید رہنماءووں کے مزار پہ نئ سیاسی امنگیں رکھنے والے آشیرباد کے لئے حاضریاں دیتے ہیں۔ عوام اپنے ازلی مسائل کے حل کے لئے ان مزاروں پہ حاضر ہوتے ہیں شاید انہیں یاد دلاتے ہیں کہ کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔ میرا اندازہ تو کہتا ہے کہ مردہ لوگ اپنے جسم کے ساتھ اپنی یادداشت بھی بھلا دیتے ہیں۔ لیکن اس بات کے لئے میرے پاس  کوئ ثبوت نہیں۔ وہ شاید یہ بھی یاد دلانا چاہتے ہیں کہ  جو مسائل اپنی زندگی میں حل نہیں کر سکے اسکے لئے اب آپکے پاس وقت ہوگا اب ذرا کوشش کر لیں۔ اس سے بہرحال ایک بات ثابت ہوتی ہے، عوام موت کے بعد کی زندگی پہ یقین رکھتے ہیں جبکہ رہ نما نہیں رکھتے۔
یہ مسلم لیگ ہے، اسکے اتنے ٹکڑے ہیں اوریہاں، وہاں، جہاں، تہاں گرے ہوئے ہیں کہ انہیں بھی شخصیات کی وجہ سے پہچانا جاسکتا ہے منشور کی وجہ سے نہیں۔ یہ مسلم لیگ نون ہے اسے پہلے ابا جی چلایا کرتے تھے آجکل سعودی حکومت کے تعاون سے چل رہی ہے۔ خوف خدا کوٹ کوٹ کر بھر دیا گیا ہے اس لئے پنجاب کی مڈل کلاس جو کہ مذہبی رجحان زیادہ رکھتی ہے انکی طرف مائل ہے۔ رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماعات کی برکت سے یہ جماعت اب تک پاکستان میں جمہوریت کا عمل سازگار رکھنے کی کوششوں میں سرگرداں فرینڈلی اپوزیشن کا کردار بحسن و خوبی ادا کر رہی ہے یہ جماعت  اپنے دو شریف بھائیوں کے اتحاد کا اعلی نمونہ پیش کرتی ہے۔ اس لئے ان سے امیدیں لگانے میں اتحاد پاکستان کی امید نظر آتی  ہے۔
یہ مسلم لیگ قاف ہے۔ پہلے اسے مشرف کی جماعت سمجھا جاتا تھا۔ پھر مشرف کو اڑنگا لگا کر گرانے والی جماعت سمجھا گیا، پھرقاتل لیگ کے نام سے مشہور ہوئ۔ آجکل نہ تین میں ہے نہ تیرہ میں۔ اسکی پہچان الہی خاندان کے دو سپوت ہیں۔ مشاہد حسین صاحب نے بڑی کوشش کی کہ انکا نام بھی ہوجائے، لیکن انکی گوری رنگت اور اچھے خاصے نین نقش کے باوجود دلہن وہی جو پیا من بھائے۔ ہر کسی کو خدا ایسی سحر انگیز شخصیت نہیں دیتا کہ لوگوں کا دماغ ماءوف ہو جائے۔ یہ امتحان بھی کسی کسی کا ہوتا ہے۔
یہ مسلم لیگ فنکشنل ہے، اسکے اس نام کی وجہ شاید پیر پگارا صاحب کی ذات ہے۔ اسّی سال کی عمر میں انکے سب سے چھوٹے جڑواں بچوں کی عمریں شاید پانچ چھ سال ہیں اس لئے اس کا نام فنکشنل رکھا گیا ہے۔ اپنے مریدوں کو جب زیارت کا موقع دیتے ہیں تو دیدار کا ٹیکس لیتے ہیں۔ مرید تحفوں سے لدے پھدے آتے ہیں اور دعاءووں سے سر سبز جاتے ہیں۔ اپنے بنیادی مسائل کو وہ پیر صاحب کی کرامت سے خدا کا لکھا سمجھ کر آسانی سے جھیل جاتے ہیں۔ جبکہ پیر صاحب نئے تعلقات استوار کرتے ہیں۔ مرید پیج پگارا کے نعرے لگاتے ہیں۔
یہ اے این پی ہے۔ کسی زمانے میں بائیں بازو کی سیاست کرنے والوں میں شامل تھی آج اسمگلرز اور مافیا کے مفاد کی نگرانی کرتی ہے۔  انکے پاس باچہ خان کی یادوں کے سوا کچھ نہیں بچا۔ سب اسمگلرز اور مافیا سمیٹ لے گئے۔ افسوس، باچہ خان شہید نہ ہوئے۔ اب انکی تصویر کسی رقّت آمیز نعرے کے بغیر استعمال ہوتی ہے۔
یہ تحریک انصاف ہے، سنا ہے کہ پنجاب کے نوجوانوں میں مقبول ہونے والی جماعت ہے۔ اگرچہ کہ اسکے لیڈر پنجاب یونیورسٹی میں پنجاب کے نوجوانوں کے ہاتھوں دھوکے سے پٹ گئے۔ لیکن  پھر بھی اپنی والدہ کی یاد میں بنائے جانے والے ہسپتال کو کامیابی سے چلانے اور کرکٹ میں پاکستان کو ایک دفعہ ورلڈ کپ دلانے کے احسان میں ان سے یہ مضبوط امید کی جاتی ہے کہ وہ پاکستان کی سیاست کا بھی نقشہ بدل دیں گے۔ انکا منشور تو دور انکی جماعت کے کسی اور عہدے دار سے بھی ہم واقف نہیں۔ عمران خان کی سحر انگیز شخصیت نے کسی اور کو سامنے آنے کا موقع ہی نہیں دیا۔
یہ ایم کیو ایم ہے، کراچی میں مڈل کلاس کی نمائیندہ جماعت۔ یہ پہلے مہاجر قومی مومنٹ تھی۔ اسکے وجود میں آنے کی وجہ یہ تھی کہ اس مملکت خداداد  کے جتنے بھی فرزند زمین تھے وہ وقتاً فوقتاً اپنی اپنی باری پہ یہ کہہ چکے تھے اور کہتے ہیں  کہ یہ ہم تھے جنہوں نے ان مہاجروں کو پاکستان میں جگہ دی، پناہ دی، احسان کیا۔ ان سب کو یہ یاد دلانے کے لئے کہ پاکستان اپنے وجود میں آنے سے پہلے ہندوستان تھا۔ اور اسے پاکستان بنانے کے لئے ایک لمبی جنگ لڑی گئ۔ ان علاقوں میں جہاں پاکستان نہیں بنا۔ تو اس بھولی بسری یادداشت کا ایک حصہ اس جماعت کی شکل میں آگیا۔  جب اسلحے، دنگے فساد اور طاقت میں یہ جماعت پاکستان کے دیگر فرزند زمین کے برابر آ گئ تو اب یہ چکر شروع ہوا کہ یہ تو لسانی جماعت ہے اور ہم تو سیاست کے ڈگری ہولڈرز۔  ایک دفعہ پھر اس جماعت کے مہاجروں نے قربانی دی اور اسکا نام متحدہ رکھنے پہ متحد ہو گئے۔ مسئلہ اب بھی حل نہیں ہوا۔ فریقین کے درمیان اب جھگڑا اس بات کا اٹھ کھڑا ہوا کہ نشانہ کس کا اچھا ہے۔ استاد کا یا شاگرد کا۔
اس جماعت کے اس نعرے سے مجھے بالکل تکلیف نہیں ہوتی کہ جفا کروگے، جفا کریں گے، وفا کروگے، وفا کریں گے، ہم آدمی ہیں تمہارے جیسے جو تم کروگے وہ ہم کریں گے۔ کیونکہ سماجی سائینسدانوں کا یہ کہنا ہے کہ انسان سماجی جانور ہے۔  لیکن جب میں یہ نعرہ دیکھتی ہوں کہ ہم کو منزل نہیں رہنما چاہئیے۔ تو پھر یہ کہنے کو دل چاہتا ہے کہ اتنے وزن  کا نہیں چاہئیے۔ بات میں وزن ہونا چاہئیے، لیڈر میں نہیں۔ دوسرے یہ کہ جب تقریر کرے تو یہ فرق واضح ہونا چاہئیے کہ کوئ شیعہ ذاکر وعظ کر رہا ہے یا پاکستان میں انقلاب کی بات ہورہی ہے۔ تقریر کے درمیان دو جملوں میں اتنا لمبا وقفہ ہوتا ہے کہ لوگ کہتے ہیں قدرتی ضرورت سے فارغ ہونے گئے تھے۔ مجھے امید ہونے لگتی ہے اگلے جملے تک انقلاب برپا ہو چکا ہوگا۔ اس لئے فوراً رفو چکر ہو جاتی ہوں۔ ہمیشہ اگلے دن کے اخبار سے تقریر کا متن پتہ چلتا ہے۔  یوں دستک انقلاب، صرف الطاف پہ میں راضی نہیں۔ خیر،  آجکل انہیں بھی نعرہ انقلاب لگانے سے فرصت نہیں۔ انقلاب کیسے آئے گا اسکی کیا ترجیحات ہونگیں ، اس سے ہم لا علم ہیں۔
اچھا، یہ پاکستان کی مذہبی جماعتیں ہیں، ان کی خوشش قسمتی یہ ہے کہ انہیں منشور بنانے کی قطعاً کوئ ضرورت نہیں انکا منشور صرف اسلام ہے۔ بجلی کی کمی ہو، تعلیم کا بحران ہو، بے روزگاری ہو،، عوام کے لئے کسی صحت پالیسی کی عدم موجودگی، فضائ آلودگی، سیلاب و زلزلہ، پاکستانی خواتین کی بڑھتی ہوئ فحاشی، پاکستانی مردوں کا لمحہ ء فکر و پریشانی،    پاکستانی خواتین کا کاروکاری میں مرنا ہو  یا ایک بڑی تعداد کا چھاتی کے کینسر سے مرنا ہر مسئلے کا ایک جواب۔ الحمد للہ ہم نے ماضی میں بھی، ماشاللہ سے حال میں بھی اور انشاءاللہ مستقبل میں بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے، کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے کہ صرف اسلام ہمارے تمام مسائل کا حل ہے۔ الحمد للہ، غیرت مند مسلمان ہمارے ساتھ ہیں۔
خوش قسمتی سے یا بد قسمتی سے وطن عزیز میں صرف طالبان ایسے ہیں جن کے منشور سے ہمیں آگہی حاصل ہے یعنی ہم تو دھماکے سے مر جائیں گے صنم تجھ کو بھی نہ چھوڑیں گے۔ یہ وہ ہیں جس پہ مرتے ہیں اسے مار رکھتے ہیں۔ انکی اس ادا پہ ایک طبقہ نثار ہے۔ لیکن ایک دفعہ پھر خوش قسمتی سے یا بد قسمتی سے طالبان اس سیاسی عمل پہ یقین نہیں رکھتے جسکے لئے منشور کی ضرورت پڑے۔
یہ سب باتیں آپکو پہلے سے پتہ ہونگیں۔ اپنے اپنے رجحان کے باعث کچھ کم ، کچھ زیادہ۔ لیکن اس مختصر جائزے کے بعد یہ اندازہ لگانے میں مشکل نہیں ہوتی کہ پاکستانی عوام کے بھولپن کی وجہ سے شخصیات کا تسلط قائم ہے اور اس طرح وہ چیز جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کوئ سیاسی پارٹی عوام کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لئے کیا اسٹرٹجی اپنانا چاہتی ہے اسکی طرف جانے سے ان پارٹیز کی بچت ہو جاتی ہے۔
 ایسے ہی آج خیال آیا کہ کہ پارٹیز تو منشور بتانے سے قاصر ہیں کیوں نہ ہم عوام ہی ایک منشور ترتیب دے ڈالیں اور انکے حضور پیش کریں کہ جناب سوئیمبر رچانے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ ہمیں کیا چاہئیے۔ اس لئے شروع کرتے ہیں خدا کے با برکت نام سے۔  ایک دو تین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Saturday, May 1, 2010

خاص آدمی-۲

تاریخ میں دو قسم کی شخصیات کو عظیم ہونے کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ ایک وہ تاریخی شخصیات جنکے بارے میں مءورخ واقعات کی چھان بین کر کے انکے کارناموں کو بیان کرتا ہے۔ اس میں مبالغہ، تعصب، اور خوشامد شامل ہو سکتے ہیں۔ مگر چونکہ واقعات تاریخی ہوتے ہیں تو غیر جانبدار مءورخ کے لئے بھی موقع ہوتا ہے کہ انکی خامیوں اور کمزوریوں کو بھی صحیح روپ میں پیش کر سکے۔
 دوسری دیو مالائ شخصیات ہوتی ہیں۔ یہ وہ خاکے ہیں جو عوام کے ذہن میں ہوتے ہیں۔ جب وہ اپنے حالات میں موجودہ حکمرانوں سے اپنے مسائل کا حل نہیں پاتے تو اس ہیرو کو تراشتے ہیں۔ ان دیومالائ شخصیات میں بہادری، شجاعت ، ذہانت و فیاضی کی خوبیاں ہوتی ہیں۔ اس طرح یہ ایک طرف خدا کے پسندیدہ بندے اور دوسری طرف عوام کے نجات دہندہ بن جاتے ہیں۔ ان جذبات سے فائدہ اٹھا کر وقتاً فوقتاً کچھ لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کی نجات کے لئے آئے ہیں۔ 
جو فلسفی اور مءورخ تاریخ میں افراد کی اہمیت کو مانتے ہیں۔ ان کے یہاں جمہور اور جمہوریت سے دشمنی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ یہ ہر اس نظام کے خلاف ہوتے ہیں جہاں اقتدار خاص آدمی کے دائرے سے نکل کر عوام کے ہاتھ میں چلا جائے۔ انکے نزدیک تخیلقی اقلیت ہی ذہن و شعور کی مالک ہوتی ہے اس لئے یہ مساوات، برابری ، آزادی اور ارادہ ء اجتماعی کے خلاف ہوتے ہیں
تاریخ میں شخصیات اور افراد کے تاریخ ساز کردار کی اہمیت کا اثر یہ ہوا کہ عوام میں اور معاشرے کی اکثریت میں خود اعتمادی کا جذبہ ختم ہو گیا، اور جب بھی معاشرہ بحرانوں سے دو چار ہوا یا مسائل پیدا ہوئے تو وہ اسکی توقع کرتے رہے کہ کوئ شخصیت پیدا ہوگی اور انکے مسئلے حل کر دے گی۔ نسلیں اسی موہوم امید پہ زندگیاں قربان کر دیتی ہیں کہ کوئ آئے گا اور انہیں تمام مظالم سے نجات دلا کر دنیا میں امن و انصاف قائم کر دے گا۔ اس نظریہ نے عوام کی قوت، طاقت اور عمل کو ختم کر کے انہیں ظلم کو خاموشی سے سہنا سکھایا اور اسی کے سہارے ہر آمر اور ظالم نے کامیابی سے حکمرانی کی۔
تاریخ میں اگر شخصیتوں کو عقیدت سے دیکھا جائے تو وہ تاریخ نہیں مذہب ہے۔ پھر وہ شخصیت تاریخ کے دائرے سے نکل کر معجزے، کرامات اور مافوق الفطرت باتوں سے منسوب ہو جاتی ہے۔ جس سے اسکی عظمت کم ہوتی ہے۔ اس لئے مشہور مفکر ریناں نے کہا کہ اب اگر دنیا کا ایمان حضرت عیسی پر سے اٹھے گا تو محض ان معجزوں کی وجہ سے کہ جنکی وجہ سے ابتدا میں لوگ ان پہ ایمان لائے۔
تاریخ میں شخصیتوں کی اہمیت ہے لیکن تنہا شخصیتیں تاریخ ساز نہیں ہوتیں۔ حالات انکو بنانے میں اور انکے افکار و نظریات کی تشکیل میں حصہ لیتے ہیں اور پھر یہ شخصیات حالات کو بناتی ہیں اور معاشرے کی تعمیر کرنے میں سرگرم عمل ہوتی ہیں۔


حوالہ؛
کتاب، تاریخ اور فلسفہ ء تاریخ، مصنف ڈاکٹر مبارک علی، پبلشر فکشن ہاءوس، لاہور۔
خاص آدمی

Monday, April 26, 2010

او کون لوگ ہو تسی

اٹھارہویں ترمیم کے نتیجے میں حاصل ہونے والی شادمانی اب عدلیہ کے دروازے پہ دستک دے رہی ہے۔ اگرچہ کہ میرا اور آپکا اس ساری ترمیم سے کیا تعلق،  اسکے نتیجے میں صدر کے اختیارات وزیر اعظم کو حاصل ہوئے، صوبہ ء سرحد کو ایک متنازعہ نام حاصل ہوا، سیاسی پارٹیز میں جماعتی الیکشن ختم کر دئیے گئے کہ ہر وقت الیکشن کی تسیح گھمانے کے بجائے کچھ اور جوڑ توڑ بھی ہونی چاہئیے اور سیاسی جماعتیں تو ویسے بھی جسکی بھینس ہیں انہی کے حوالے ہونی چائیں۔ اس طرح سے ایک خاندان ایک جماعت کو سنبھالے رہتا ہے تو زیادہ احساس ذمہ داری پیدا ہوتا ہے اور قوم کے رہ نماءووں کو ماں کی کوکھ میں ہی مناسب نعرے سننے کو ملتے ہیں جن سے انکے اندر مسائل کے حل کے لئے ایک ماورائ قوت نمو کرتی ہے۔ یہ چیز عوام میں سے ہر کس و ناکس کو نہیں مل سکتی۔
آئین میں سے جنرل ضیا کا نام نکال دیا گیا۔ اگرچہ مجھ جیسے عوامی جہلاء کی سمجھ میں خاک نہ آیا کہ اس سے مجھے لاحق مسائل کیسے حل ہونگے، مجھے تو اس ترمیم کے نتیجے میں ہی پتہ چلا کہ انکا نام آئین کا حصہ تھا۔ چلیں آئین کے اندر کیسے کیسے سقم کتنی عرق ریزی سے نکالے گئے۔ اسکے لئے ہمارے پارلیمانی اراکین اس بات کے مستحق ہیں کہ انکی پیٹھ تھپتھپائ جائے۔
 کرائے میں اضافے کے خلاف، میری بات تو بس کا کنڈیکٹر بھی سننے کو تیار نہیں۔ وہ ضیا ء الحق کو نہیں جانتا ابھی پچیس سال کا ہے اور اسکی گھٹی میں تازہ دشمنی مشرف کے نام کی ہے۔ اسے حیرت ہے کہ مشرف کا نام آئین میں سے کیوں نہیں نکالا گیا۔
یہی نہیں، بلکہ آئین میں تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے کی جو پابندی مشرف کے وقت میں ڈالی گئ تھی وہ بھی ہٹا دی گئ۔ اسکے نتیجے میں ہم اور ہمارے بعد آنیوالی نسلیں بھی تین چار لوگوں کے درمیان بندر بانٹ دیکھتے رہیں گے۔ لیکن اس سے جمہوریت کی فلم کی کاسٹ محدود رہے گی جس سے زیادہ پیچیدگیاں نہیں پیدا ہونگیں اور یوں جمہوریت کو استحکام حاصل رہے گا۔
کسی سیاسی پارٹی کا سربراہ منتخب اسمبلی کے وزیر اعظم کو معطل کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے اس سے بڑھ کر جمہوریت کی فتح کیا ہو سکتی ہے۔ یقیناً جمہوریت بہتر انتقام ہے خاص طور پہ ان سے جو اپنے ووٹوں سےمنتخب کروا کے لاتے ہیں۔
 اسی طرح کی مزید ترمیمات سے پُر مسودہ صدرصاحب کے حضور اسمبلی اور سینیٹ سے گذر کر پیش ہوا اور اس پہ انہوں نے دستخط کر کے اپنا نام امر کر لیا۔
 پھر اسکے بعد پاکستان کا ایک اور اہم مسئلہ بے نظیر کی شہادت کا معمہ حل کرنا تھا۔ گو کہ اس سے پہلے ہونے والے کسی بھی سیاسی قتل کو معلوم نہ کیا جاسکا اسکی وجہ شاید  مقول کےورثاء کو حکومتی عہدہ نہ ملنا ہو۔  لیکن اس دفعہ یہ ہماری منتخب جمہوری حکومت کا ایک اہم ٹاسک تھا، ورنہ اسکی عوامی شہرت مشکوک ہو جاتی کہ انہوں نے اپنی عوامی انتخابی مہم اسی نعرے پہ جیتی تھی۔ ایک وجہ یہ بھی بتائ گئ  کہ چونکہ صدر صاحب کو قاتلوں کے نام پہلے سے معلوم تھے تو انہوں نے اسے ایک پرچی پہ لکھ کر چھپا دیا اور اقوام متحدہ کی ٹیم سے کہا کہ بوجھو تو جانیں۔ اقوام متحدہ کی ٹیم کو شروع میں پتہ نہیں تھا کہ یہ ایک کھیل ہے۔ پس انہوں نے کچھ ایسی رپورٹ بنادی کہ اس میں وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کو بھی مشتبہ قرار دے دیا۔ رپورٹ تیار ہو جانے کے بعد مزید پندرہ دن تک اس رپورٹ کو روک کر رکھا گیا کہ ایسی عقل سے پیدل ٹیم کو کچھ سمجھا بجھا لیں کہ یہ ایک کھیل تھا۔ لیکن انہیں یقین نہیں آیا کہ ساٹھ ملین ڈالر یعنی تقریباً پچاس کروڑ پاکستانی روپے صرف کھیل کے کیسے ہو سکتے ہیں۔ 
اب چونکہ حکومت یہ ارادہ پہلے ہی کر چکی تھی  کہ اس سب کے بعد مشرف کو واپس پاکستان لاءو پھانسی دلاءو جیسے عوام کے خون کو گرم کر دینے والے نعرے لگانے ہیں جس سے انکی توجہ اپنے پیٹ سے مشرف کی گردن کی طرف ہو جائے گی۔ اس لئے اقوام متحدہ کی ٹیم کی ہٹ دھرمی کے باوجود اسکرپٹ میں کوئ تبدیلی نہیں کی گئ۔ رحمن ملک ابھی بھی اپنے عہدے پہ موجود ہیں البتہ حکومت نے اس فلم میں مزید دلچسپی پیدا کرنے کے لئے کہا ہے کہ وہ مشرف پہ مقدمہ چلانے میں ذرا تاءمل نہیں کرے گی۔
آگے کیا ہوگا، کیا حکومت مشرف کو واپس لائے گی ؟، وفاقی وزیر داخلہ ترقی کر کے کس عہدے پہ پہنچیں گے؟ بی بی کی روح سے کیا گیا وعدہ کیا پورا ہوگا؟ باقی روحوں سے کئے گئے وعدے کون پورا کرےگا؟ زندہ عوام سے کئے گئے وعدوں کی باری کب آئے گی؟ اسکے لئے ہم ایک نیا بلاگ کھولنے والے ہیں جہاں ستاروں کی روشنی میں تبادلہ ء خیال ہوگا۔
ادھر اٹھارویں ترمیم پہ عدالتی چارہ جوئ نامی متوقع موڑ آ چکا  ہے۔ اپوزیشن جماعت مسلم لیگ نون نے کہا ہے کہ عدلیہ کو اپنا احترام برقرار رکھنا ہے تو اس ترمیم کو چیلینج کرنےوالے مقدمات کو نہ لیاجائے۔ ادھر بے نظیر کے قاتلوں کو پھانسی لگاءو سیریل بھی روانی سے چل پڑی ہے۔ اور عوام اسٹارپلس کے ساس بھی کبھی بہو تھی قسم کے ڈرامے چھوڑ کر پنڈولم کی طرح سر ہلا کر کبھی ایک فلم کے پرومو کو اور کبھی دوسری فلم کے پرومو کو دیکھتے ہیں۔

لیکن ابھی کہانی میں صحیح سے ٹوئسٹ نہیں آیا۔

اب ان دو عظیم مسائل کے ممکنہ حل اور باکس آفس پہ کامیابی کے بعد کیا بچا ہے، جسے حل کیا جائے۔ سیاسی لیڈران جپھیاں ڈالے ابھی اس بات پہ سوچ بچار کر ہی رہے تھے  کہ کسی منچلے نے کہہ دیا کہ بجلی کی کمی ہو چلی ہے، چلیں منہ کا ذائقہ بدلنے کو اسے بھی دیکھ لیں۔ ورنہ ایسا نہ ہو کہ بھری کریال میں غلیلہ لگے، کیونکہ عوام کے پاس اب غلیل کے علاوہ کیا ہے۔ 
سرکار نے وہیں بیٹھے  بیٹھے اپنے نائ سے جاسوسی کروائ اور پھر فوری طور پہ یہ فیصلے کر ڈالے کہ مارکیٹ روزانہ آٹھ بجے بند ہوگی، گھڑیاں آگے کردو، ہفتے کی دو چھٹیاں کر دو۔ اب کسی  نے اپنے اخروٹ کو توڑتے ہوئے کہا کہ عوام کہہ رہے ہیں کہ نئے بجلی گھر بنائے جائیں ورنہ ہم جو بچا تھا وہ لٹانے کے لئے آئے ہیں پرفارم کر کے دکھائیں گے۔ اطلاع ہے کہ انہوں نے اس اخروٹ کی گری کھاتے ہوئے عبرت کے لئے ایک اور اخروٹ دیوار پہ دے مارا، انکے خانساماں نے فوراً معاملات کو سنبھالا کہ ایک تو نئے بجلی گھر نامی ڈش کو پکنے میں وقت لگے گا کہ اسے اتنی محنت اور وقت چاہئیے جتنا کہ حلیم یا پائے کو پکنے میں چاہئیے ہوتا ہے اور  پھر یہ نہیں معلوم کہ مناسب کمیشن کس کے حصے میں چلا جائے۔  دوسرا کرائے کے بجلی گھر  نامی ڈش کے غذائ فوائد زیادہ ہیں اور یہ سرکار کی صحت اور جیب دونوں پہ اچھا اثر ڈالتی ہے کہ اسکے نتیجے میں کمیشن کی چٹپٹی چٹنی زیادہ ملتی ہے اور فوراً ملے گی۔

اس کہانی میں عوام بھی موجود ہیں،  ایک منظر میں عوام جلاءو گھیراءو کر رہے ہیں کہہ رہے ہیں کہ

بجلی کے بڑے چوروں کو پکڑیں۔ لیکن لگتا ہے کہ عوام  نہیں جانتے کہ  سیاں بنے کوتوال تو ڈر کاہے کا محاورہ کیوں وجود میں آیا ہے۔ ویسے بھی جب عوام خود بہتی گنگا کو اپنے ووٹوں سے چوروں کی جیب میں ڈال رہے ہیں تو کون کافر اس میں ہاتھ دھونے سے انکار کرے گا۔
یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر عوام ایسا کیوں خیال کرتے ہیں، وہ کیوں یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں خواص نہ رہیں سب عوام بن جائیں۔  ایک تو ذرا اپنی طرف دیکھیں جیسے کرتوت ویسے سپوت۔ اور کہیں صرف عوام سے بھی کوئ ملک چلا ہے۔ او کون لوگ ہو تسی۔

حوالہ؛
بجلی کی چوری

Tuesday, March 23, 2010

اقتدار کی جنگ

میں اور میری بیٹی جب بھی غسلخانے کا رخ کرتے ہیں تو میری صاحبزادی بہت اچھلتی کودتی اندر جاتی ہیں۔ نہانے اور پھر اس بہانے پانی بہانے کی خوشی انکے روئیں روئیں سے ٹپکتی ہیں۔ لیکن ہم دونوں کو اندر گئے کچھ ہی لمحے گذرتے ہیں کہ ایک افراتفری اور ہڑبونگ کی آوازیں بلند ہوتی ہیں۔ باہر والوں کو یوں لگتا ہے کہ اندر ایک شیر اور ہاتھی کو بند کر دیا گیا ہے۔
ایک دن میری رشتے دار خاتون نے اسکی وجہ پوچھنے کی ہمت کر ڈالی۔ انہوں نے سوچا کہ ویسے تو یہ مارتی پیٹتی  دکھائ نہیں دیتیں لیکن غسلخانے میں ضرور  جا کر دن بھر کے چماٹ رسید کرتی ہونگی۔ آخر مہمانوں کے سامنے بھرم بھی تو رکھنا ہوتا ہے۔ 
تو انہوں نے اپنے لہجے میں ایک تجاہل عارفانہ پیدا کرتے ہوئے کہا۔ یہ تم دونوں آخر اندر کیا کرتی ہو کہ پورا گھر ہل جاتا ہے۔ میں نے انہیں انتہائ تحمل سے جواب دیا۔ کچھ ایسا خاص نہیں کرتے۔ اقتدار کی جنگ میں اتنا شور شرابہ تو ہوتا ہی ہے۔ ایکدم سنجیدہ ہوئیں اور کہنے لگیں کیا مطلب غسل خانے کے اندر کونسی اقتدار کی جنگ ہو سکتی ہے۔ میں نے  ان سے کہا کہ اگر عقابی روح سینوں میں بیدار ہو تو غسل خانے کے اندر کیا مردہ خانے کے اندر بھی شور شرابہ ہو سکتا ہے۔
کہنے لگیں، چلو اچھا اب باتیں نہ بناءو۔ میں تو بالکل دہل کر رہ جاتی ہوں۔ تم دونوں اندر اتنا چنگھاڑتی ہو۔ آخر غسل خانے میں کس چیز پہ جھگڑا ہوتا ہے۔ میں انکی طرف مڑی اور کہا آپکو یقین نہیں آرہا یہ اقتدار کی جنگ ہوتی ہے۔ جب ہم نہانے کے لئے اندر داخل ہوتے ہیں تو آپکو پتہ ہے سب سے اہم چیز پانی ہوتا ہے۔ وہ اللہ کا شکر ہے کہ ابھی تک وافر مقدار میں دستیاب ہے۔ دوسری اہم چیز اسکا منبع ہے۔ چونکہ لیڈ پوزیشن میری ہے تو ہینڈ شاور میرے ہاتھ میں ہوتا ہے  یہ صورتحال میری صاحبزادی کے حق میں نہیں جاتی کیونکہ اس طرح وہ اسے حسب منشاء استعمال نہیں کر پاتیں۔ وہ اسکے لئے جنگ کرتی ہیں اور میں اسے ہر قیمت پہ اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہوں اس طرح میری رٹ قائم ہوتی ہے۔   اگر ایسا نہ ہو تو پورا ٹینک پانی خرچ ہونے کے بعد ہمارے غسل خانے کی ہر چیز غسل کر لے گی سوائے انکے کیونکہ اس عمل کے دوران انہیں خود نہانے کی فرصت نہیں ملے گی۔ تو یہ اقتدار کی جنگ اس پورے عمل کے دوران چلتی ہے اور پچھلے دو سال چار مہینے سے ایسے ہی چل رہی ہے۔ پہلے میں خود  بھی ساری بھیگ جاتی تھی اب میں نے اپنے بچاءو کے طریقے ڈھونڈھ لئے ہیں۔
ارے تم لوگوں سے تو اب ایک بچہ قابو میں نہیں آتا۔ ہم سے پوچھودس دس بچے پیدا کئے اور اکیلے پالے پوسے-------------------------۔  سوچتی ہوں کہ اگر ماضی کی روایات کو جاری رکھتے ہوئے دو ہینڈ شاور ایکدن اپنی بیٹی کی پیٹھ پہ رسید کر دوں تو معاملہ اسی دن نبٹ ہو جائے گا۔ لیکن یہ تو بادشاہت کے زمانے کا طریقہ ہے۔ کیا جمہوری دور میں ایسا ممکن ہے۔ 
میں وہاں سے فوراً اٹھتی ہوں، اس سے پہلے کہ میری بیٹی پانی میں شرابور، میرے بستر پہ چڑھ کر اچھل کود مچائیں اور مجھے انکو کپڑے پہانے کے لئیے  بیڈ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک منتیں سماجتیں کرنی پڑیں صورتحال میرے قابو میں رہنی چاہئیے۔ آپکو معلوم ہے اقتدار کی اس جنگ میں وقت کی بھی بڑی اہمیت ہے۔