Showing posts with label فیض احمد فیض. Show all posts
Showing posts with label فیض احمد فیض. Show all posts

Sunday, January 3, 2010

کئ لائینیں

ایک مختصر ہلکا پھکا سا جملہ بہت سے پریشان چہروں پر مسکراہٹ بکھیر سکتا ہے تو کیوں نہ پھر مسکراتے چہروں کا اضافہ کیا جائے اس دنیا میں جہاں سے آج یا کل بالآخر چلے جانا ہے ۔

یہ جملہ پڑھ کر مجھے اچانک فیض کی یہ نظم یاد آگئ۔ جسکا عنوان ہے 'مرے ہمدم، مرے دوست'۔
لیجئیے پڑھئیے۔


گر مجھے اسکا یقیں ہو مرے ہمدم، مرے دوست
گر مجھے اسکا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکن
تیری آنکھوں کی اداسی، ترے سینے کی جلن
میری دلجوئ، مرے پیار سے مٹ جائے گی
گر مرا حرف تسلی وہ دوا ہو جس سے
جی اٹھے پھر ترا اجڑا ہوا بے نور دماغ
تیری پیشانی سے دھل جائیں یہ تذلیل کے داغ
تیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائے

گر مجھے اسکا یقیں ہو مرے ہمدم، مرے دوست
روز وشب، شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوں
میں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے، شیریں
آبشاروں کے، بہاروں کے، چمن زاروں کے گیت
آمد صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیت
تجھ سے میں حسن ومحبت کی حکایات کہوں
کیسے مغرور حسیناءوں کے برفاب سے جسم
گرم ہاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ہیں
کیسے اک چہرے کے ٹہرے ہوئے مانوس نقوش
دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیں
کس طرح عارض محبوب کا شفاف بلور
یک بیک بادہء احمر سے دہک جاتا ہے
کیسے گلچیں کے لئے جھکتی ہے خود شاخ گلاب
کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہے
یونہی گاتا رہوں، گاتا رہوں تیری خاطر
گیت بنتا رہوں، بیٹھا رہوں تیری خاطر

پر میرے گیت ترے دکھ کا مداوا تو نہیں
نغمہ جراح نہیں، مونس وغمخوار سہی
گیت نشتر تو نہیں، مرہم آزار سہی
تیرے آزار کا چارہ نہیں، نشتر کے سوا
اور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیں
اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں
ہاں مگر تیرے سوا، تیرے سوا، تیرے سوا


دست صبا سے ایک انتخاب۔  

Tuesday, June 16, 2009

ن م راشد کی نظم اندھا کباڑی

ن میم راشد یا راجہ نذر محمد راشد نے اردو نثری نظم کا مزاج تبدیل کر کے اسے عالمی ادب میں روشناس کرادیا۔ ن میم راشد اور فیض ہم عصر شاعر ہیں۔ ناقدین کی نظر میں راشد کا مقام فیض سے بڑھ کر ہے۔ لیکن شہرت کی دیوی فیض پر مہربان ہوئ۔ راشد کی بے شمار نظمیں دل میں کھب جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہاں حاضر ہے۔ اسے ضیا محی الدین نے کمال کاتحت اللفظ میں پڑھا ہے۔ ویسے راز کی بات ہے اتنا برا میں بھی نہیں پڑھتی بس کچھ یہ ہے کہ سب کہیں گے۔ 'ارے ضیا محی الدین کی نقل اتاری ہے'۔

اندھا کباڑی


شہر کے گوشوں میں ہیں بکھرے ہوئے
پا شکستہ سر بریدہ خواب
جن سے شہر والے بےخبر
گھومتا ہوں شہر کے گوشوں میں روزوشب
کہ ان کو جمع کر لوں
دل کی بھٹی میں تپاءوں
جس سے چھٹ جائے پرانا میل
ان کےدست و پا پھر سے ابھر آئیں
چمک اٹھیں لب ورخسار و گردن
جیسے نو آرستہ دولھوں کے دل کی حسرتیں
پھر سے ان خوابوں کو سمت رہ ملے

'خواب لے لو خواب'۔
صبح ہوتے چوک پہ جا کر لگاتا ہوں صدا۔
خواب اصلی ہیں کہ نقلی؟'۔
یوں پرکھتے ہیں کہ جیسے ان سے بڑھ کر
خوابداں کوئ نہ ہو
خواب گر میں بھی نہیں
صورت گر ثانی ہوں بس۔۔
ہاں مگر میری معیشت کا سہارا خواب ہیں

شام ہوجاتی ہے
میں پھر سے لگاتا ہوں صدا۔۔۔
'مفت لے لو مفت، یہ سونے کے خواب'۔۔۔۔۔۔۔
'مفت سن کر اور ڈر جاتے ہیں لوگ
اور چپکے سے سرک جاتے ہیں لوگ۔۔
'دیکھنا یہ مفت کہتا ہے
کوئ دھوکا نہ ہو؟
ایسا کوئ شعبدہ پنہاں نہ ہو؟
گھر پہنچ کر ٹوٹ جائیں
یا پگھل جائیں یہ خواب؟
بھک سے اڑ جائیں کہیں
یا ہم پہ کوئ سحر کر ڈالیں یہ خواب۔۔
جی نہیں کس کام کے؟
ایسے کباڑی کہ یہ خواب
ایسے نابینا کباڑی کے یہ خواب'؟
رات ہو جاتی ہے
خوابوں کے پلندے سر پہ رکھ کر
منہ بسورے لوٹتا ہوں رات بھر پھر بڑ بڑاتا ہوں
'یہ لے لو خواب'۔۔۔
اور لے لو مجھ سے ان کے دام بھی
خواب لے لو، خواب۔۔۔۔
میرے خواب۔۔۔
خواب۔۔۔۔۔میرے خواب۔۔۔۔۔۔۔
خواا، اب۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کے داااام بھی ی ی ی۔'۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ریفرنس؛

ن میم راشد ایک تعارف

ن میم راشد کی کچھ اور نظمیں

ن میم راشد ایک تعارف ۲