Sunday, January 3, 2010

کئ لائینیں

ایک مختصر ہلکا پھکا سا جملہ بہت سے پریشان چہروں پر مسکراہٹ بکھیر سکتا ہے تو کیوں نہ پھر مسکراتے چہروں کا اضافہ کیا جائے اس دنیا میں جہاں سے آج یا کل بالآخر چلے جانا ہے ۔

یہ جملہ پڑھ کر مجھے اچانک فیض کی یہ نظم یاد آگئ۔ جسکا عنوان ہے 'مرے ہمدم، مرے دوست'۔
لیجئیے پڑھئیے۔


گر مجھے اسکا یقیں ہو مرے ہمدم، مرے دوست
گر مجھے اسکا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکن
تیری آنکھوں کی اداسی، ترے سینے کی جلن
میری دلجوئ، مرے پیار سے مٹ جائے گی
گر مرا حرف تسلی وہ دوا ہو جس سے
جی اٹھے پھر ترا اجڑا ہوا بے نور دماغ
تیری پیشانی سے دھل جائیں یہ تذلیل کے داغ
تیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائے

گر مجھے اسکا یقیں ہو مرے ہمدم، مرے دوست
روز وشب، شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوں
میں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے، شیریں
آبشاروں کے، بہاروں کے، چمن زاروں کے گیت
آمد صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیت
تجھ سے میں حسن ومحبت کی حکایات کہوں
کیسے مغرور حسیناءوں کے برفاب سے جسم
گرم ہاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ہیں
کیسے اک چہرے کے ٹہرے ہوئے مانوس نقوش
دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیں
کس طرح عارض محبوب کا شفاف بلور
یک بیک بادہء احمر سے دہک جاتا ہے
کیسے گلچیں کے لئے جھکتی ہے خود شاخ گلاب
کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہے
یونہی گاتا رہوں، گاتا رہوں تیری خاطر
گیت بنتا رہوں، بیٹھا رہوں تیری خاطر

پر میرے گیت ترے دکھ کا مداوا تو نہیں
نغمہ جراح نہیں، مونس وغمخوار سہی
گیت نشتر تو نہیں، مرہم آزار سہی
تیرے آزار کا چارہ نہیں، نشتر کے سوا
اور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیں
اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں
ہاں مگر تیرے سوا، تیرے سوا، تیرے سوا


دست صبا سے ایک انتخاب۔  

3 comments:

  1. بہت خوب کہا فیض صاحب نے ۔ان کی شاعری کی تہ میں وطن سے محبت کا جو جذبہ پنہاں ہے اس کے اظہار کا حق انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے ادا کر دیا ۔ بہت عرصے بعد یہ غزل دوبارہ پڑھی تو دل خوش ہوگیا

    ReplyDelete
  2. فیض صاحب کی کیا بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آپ کے انتخاب کے بھی کیا کہنے

    ReplyDelete
  3. فیض صاحب ایسے جیسے ہر لفظ اپنے پر بیتا کر لکھا کرتے تھے۔ کتنا درست کہا کہ "تیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا"۔ سبحان اللہ۔

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ کسی اور بلاگ پہ کئے گئے تبصرے اگر یہاں تحریر کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے تو انتظار کریں اور جب اس سے ملتا جلتا موضوع یہاں نظر آئے تو ضرور لکھیں۔ غیر متعلقہ تحاریر کے ساتھ یہ تبصرے اپنی اہمیت نہیں رکھتے۔
والدین کا دیا نام پسند نہیں تو کسی اور نام سے تبصرہ کر دیں۔ اگر نام رکھنے میں دشواری ہو تو مدد کے لئے پکارئیے۔ ہم حاضر ہیں۔
جو لوگ فحش الفاظ استعمال کئے بغیر اپنا مدعا نہیں بیان کر سکتے انہیں انتظار کرنے کی ضرورت نہیں انکا ایسا تبصرہ یہاں کبھی نہیں آئے گا۔ شکریہ