Showing posts with label زرداری. Show all posts
Showing posts with label زرداری. Show all posts

Tuesday, October 9, 2012

مفاد سے آگے

شادی کے کارڈز بانٹنا اور شاپنگ ، اس میں اتنی مصروف رہی کہ مجھے یاد ہی نہ رہا کہ آج آسٹریلیا اور پاکستان کا ٹی ٹوئنٹی میچ ہے۔ میں اپنی ساتھی خاتون کو نارتھ ناظم آباد چھوڑنے کے لئے جب فائیو اسٹار کے سگنل پہ پہنچی تو ٹریفک رکا ہوا تھا۔ رات کے سوا دس بج رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ شادیوں کی ٹریفک کا رش ہے۔ کیونکہ اس طرف درجنوں شادی ہالز ایک قطار میں موجود ہیں۔ لیکن سگنل کھل کے ہی نہ دے رہا تھا۔
 پندرہ منٹ بعد مجھے فضا میں پاکستان کے جھنڈَے لہراتے نظر آئے اور کچھ لڑکے ادھر ادھر بھاگتے دکھائ دئیے۔  تھوڑی دیر بعد ہماری گاڑی چوک پہ لڑکوں کے ایک ہجوم کے درمیان، دوسری گاڑیوں کے ساتھ پھنسی ہوئ تھی۔ لڑکوں کی تعداد یہی کوئ ایک ڈیڑھ ہزار ہوگی۔ آتشبازی ہو رہی تھی، لڑکے ہارن بجا رہے تھے۔ صاف لگ رہا تھا کہ انکے ذہن میں کوئ خاص پروگرام نہیں۔ بس ٹریفک کو روک کر انہیں مزہ آرہا تھا۔ اس اثناء میں ایک لڑکے نے عین گاڑی کے سامنے آکر پستول نکالا اور ہوائ فائرنگ شروع کر دی۔ آج بچ جائیں تو بڑی بات ہے۔ میں نے سوچا، اگر ذرا بھی اندازہ ہوتا تو اس طرف کا رخ نہ کرتے۔
چالیس منٹ کے اس ہنگامے میں پھنسے رہنے کے بعد نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ واپسی پہ میں نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ لیکن ایک چیز جس نے میری توجہ لی وہ یہ کہ نوجوانوں کے اس منتشر، چارجڈ لیکن بے مقصد ہجوم میں کسی بھی سیاسی جماعت کا جھنڈا نہیں تھا۔ صرف پاکستان کے تین چار جھنڈے نظر آئے۔ عجیب یوں لگی کہ اس سے پہلے نوجوان کوئ بھی موقع ہو ایم کیو ایم کا جھنڈا لانا فرض عین سمجھتے تھے۔
یہی نہیں اس سے دو دن بعد جب میں عزیز آباد کے قریبی علاقے میں گئ تو وہاں ایک پارک میں لوگوں کا ہجوم ایک بڑی سی اسکرین پہ میچ دیکھ رہا تھا۔ ہر تھوڑی دیر بعد ہجوم نعرے لگاتا اور جھنڈے لہراتا لیکن یہ جھنڈے صرف پاکستان کے جھنڈے تھے۔
کیا کوئ تصور کر سکتا ہے کہ کراچی میں ایسا ہو گا۔ ایسا کیوں ہوا؟
الیکشن ، مستقبل قریب میں متوقع ہیں۔ اس لئے اکثر لوگوں سے اس حوالے سے بات ہوتی ہے۔ کس جماعت کو ووٹ دینا چاہئیے اور کیوں؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سب سیاستداں چور ہیں اس لئے ہم الیکشن والے دن بیلٹ پیپر پر مہر اس طرح لگائیں گے کہ وہ خراب ہو جائے اور کوئ ہماری جگہ جعلی ووٹ نہ ڈال سکے۔
میں نے پوچھا کہ اس سے کیا ہوگا؟ ووٹ کی گنتی ہوگی تو وہ امیدوار جیت جائے گا جسکے سب سے زیادہ ووٹ ہونگے چاہے اسے پانچ سو ووٹ ملیں۔
ایم کو ایم کو اس صورت حال کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے؟
 اس کی وجوہات اتنی واضح ہیں کہ  عقل و خرد سے عاری شخص بھی بتا سکتا ہے۔ ایم کیو ایم کے حامی کو اب ایم کیو ایم اور دیگر سیاسی جماعتوں میں کوئ فرق نظر نہیں آتا۔  سب چور ہیں ، سب اپنی تجوریاں بھرنا چاہتے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت پہ مفاد پرست طبقے کا قبضہ ہے۔ یہ مفاد پرستی، ذاتی مالی مفاد سے جڑی ہے۔  جب ایم کیو ایم کا نام آتا ہے تو بابر غوری جیسے نام آتے ہیں جو پارٹی میں شامل ہوئے تو کیا تھے اور آج انکی جائدادیں امریکہ میں موجود ہیں۔ 
یوں جاگیرداری اور معاشرے کے استحصال کے خلاف آواز اٹھانے والے خود جاگیر داری کے نشے میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اسکی بنیادی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ پاکستان کی ہر دوسری سیاسی جماعت کی طرح، ایم کیو ایم نے بھی اپنے تھنک ٹینک یعنی حلقہ ء دانشوراں کو مضبوط کرنے کے بجائے شخصی سیاست کی راہ اپنا لی۔ یہ سیاست کا اگرچہ ایک آسان راستہ ہے لیکن بھونڈا راستہ ہے اور جمہوری روح سے دورہے۔ مفاد پرست طبقہ ایک شخصیت کو خوش کر کے فائدے اٹھاتا ہے۔ اس طرح سے جمہور کی آواز کہیں دور رہ جاتی ہے۔
تنظیم نے جس شخصیت کومرکزی شخصیت کے طور پہ چنا وہ اس ملک کی سرحدوں میں ایک طویل عرصے سے نہیں آیا۔ انہیں یہاں کے بارے میں جو بھی اطلاع ملتی ہے وہ کسی کے ذریعے سے ملتی ہے انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ مصطفی کمال کے بنائے ہوئے پلوں نے شہر کا نقشہ تبدیل کر کے کیا سے کیا کر دیا ہے۔ اڑتی خبریں ملتی ہیں کہ وہ خود ہوش و خرد سے عاری ہو چکے ہیں۔ اور در حقیقت اس وقت تنظیم کو پاکستانی ایجنسیز چلا رہی ہیں۔
اس وقت تنظیم کو لائق اور عالم افراد کے قحط کا سامنا ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت میں ایسے لوگوں کی شمولیت کو دیکھا جانا چاہئیے جو کہ زندگی کے مختلف میدانوں مِن مہارت رکھتے ہوں تاکہ ہمیں امید ہو کہ افراد کا یہ مجموعہ ہمارے مسائل سے کیسے نبرد آزما ہوگا۔  زیادہ تر افراد جو تنظیم کی سیکولر پالیسی کی وجہ سے اس سے بہتر امیدیں رکھتے تھے اب اس سے دور ہو چکے ہیں۔ اس طرح سے ایم کیو ایم بحیثیئت ایک سیاسی جماعت کراچی کے نوجوانوں کو کوئ مثبت امید ، راستہ اور سرگرمی دینے میں آہستہ آہستہ ناکام ہو رہی ہے۔ اور اسکی یہ ناکامی، نوجوانوں کو دوسری انتہا کی طرف لے جارہی ہے جو کہ مذہبی انتہا پرستی ہے۔
تنظیم کو اس حقیقت کو تسلیم کرکے مثبت سمت میں کام کرنا چاہئیے۔ انہیں اب اس چیز کو بھی تسلیم کرنا چاہئیے کہ محض پیپلز پارٹی سے اچھے تعلقات استوار کر کے یا صدر زرداری کو خوش رکھ کر یہ ممکن ہے کہ وہ آئیندہ الیکشن میں اسمبلی کے اندر اپنا وجود قائم رکھنے میں کامیاب ہو جائیں، ممکن ہے انہیں مالی مفادات مل جائیں لیکن اس سے وہ عوامی سطح پہ اپنی حیثیئت کم کرتے جا رہے ہیں۔
مجھے اپنے سیاستدانوں کی اس کوتاہ اندیشی پہ حیرت ہوتی ہے کہ وہ محض اپنے مالی مفاد کو محفوظ کرتے ہوئے اپنے  زیادہ فائدہ مند مستقبل کی قربانی دینے سے گریز نہیں کرتے۔ حالانکہ اگر وہ اپنے مالی مفاد میں تھوڑی سی کمی لے آئیں اور اسے عوامی فلاح پہ خرچ کریں تو وہ ایک لمبی مدت تک عوامی پذیرائ سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور زیادہ کما سکتے ہیں۔
بہر حال، باقی سب سے قطع نظر ایم کیو ایم کو یہ سمجھ لینا چاہئیے کہ ایسے ملک میں جہاں سیاست پہ جاگیردار کا سب سے بڑا حق ہے اور جہاں یہ جاگیردار، ملک کی مضبوط طاقت یعنی فوج سے بھی مضبوط روابط رکھتا ہے۔ وہاں وہ اپنی بقاء کی جنگ عوام کی حمایت کے بغیر نہیں لڑ سکتی۔ لیاری امن کمیٹی، اسکا سب سے بڑا ثبوت ہے۔  جو منظر پہ اچانک ابھری اور اب کراچی کے امن و امان میں اپنا حصہ رکھتی ہے یعنی جب چاہے اس شہر کا امن ہلا سکتی ہے حالانکہ اسکا اثر لیاری سے آگے نہیں۔ 
سو انہیں عوام کے لئے کام کرنا پڑے گا، انہیں ترجیح دینی ہوگی اور تنظیم کو مفاد پرست طبقے سے ہی نہیں شخصی سیاست سے بھی باہر نکالنا ہوگا۔ انہیں دلجمعی سے ایک حلقہ ء دانشوراں قائم کرنا ہوگا جسے سوچ وبچار کی آزادی دینی ہوگی۔ لیکن  اگر وہ ریاستی قوتوں سے ہڈی لے کر اس سے خوش ہیں تو یاد رکھیں کہ کل وہ باہر ہونگے جبکہ دیگر طاقتیں اسی طرح کھیل میں شامل رہیں گی جیسے وہ پچھلے تریسٹھ سال سے ہیں۔

 

Monday, July 30, 2012

و تعز من تشاء؟

عزت ہمارے خطے میں ایک بہت اہم لفظ ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جو کسی بھی معمولی سی بات پہ خطرے میں پڑجاتی ہے اور اگر اسے خطرے میں نہیں پڑنا ہو تو آپ کروڑوں کی کرپشن کر ڈالیں یا منافقت کے جتنے چاہیں لبادے اوڑھ ڈالیں معاشرے میں آپکی عزت کو کوئ نقصان نہیں پہنچتا۔ 
مثلاً پسند کی شادی جسے عام طور سے محبت کی شادی سے ملا دیا جاتا ہے اس سے والدین کی عزت خاک میں مل جاتی ہے۔ شادی بیاہ پہ اگر خواتین قیمتی کپڑے نہ پہنیں تو مرد کی عزت کم ہونے کا اندیشہ دامنگیر ہوتا ہے۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین کی عزت زیادہ خطرے میں رہتی ہے۔ یوں اگر کوئ خاتون بچاءو بچاءو چیخے تو پہلا خیال بھی یہی آتا ہے کہ عزت خطرے میں ہے چاہے وہ چوہے یا چھپکلی کو دیکھ کر چیخ رہی ہو۔
ایک زمانے میں لاچار مرد اپنی عزت بچانے کے لئے پگڑی اتار کر واسطے دیا کرتا تھا۔ خواتین کی عزت دوپٹے کے ساتھ وابستہ تھی اور گبرو مرد اس دوپٹے کی حفاظت کے لئے جان لٹا دیتے تھے۔  دوپٹہ تو اسکارف میں تبدیل ہو گیا لیکن پگڑی سرے سے نا پید ہو گئ۔
ذرا سانس لے کر وضاحت کر دوں کہ یہ تحریر  دوپٹے اور پگڑی  کے بالترتیب ارتقاء اور عنقا ہو جانے کے متعلق نہیں۔ کیونکہ یہاں سے پگڑی کے نایاب ہوجانے کی وجوہات پہ غور کے بجائے دوپٹے اور اسکارف کے تقدس پہ بات جا سکتی ہے۔ جس پہ نہ صرف پہلے بھی سیر حاصل بحث ہو چکی ہے بلکہ مزید سیر کے لئے آئندہ الگ سے بحث ہو سکتی ہے۔
بات ہے عزت کی۔ عزت کیا چیز ہے؟
میں اسکی کوئ جامع تعریف کرنے سے معذور ہوں۔ لیکن لوگوں کو یہ کہتے اکثر سنتی ہوں کہ یہ اسکی دین ہے جسے پروردگار دے۔ یعنی خدا ہی عزت دینے والا ہے حالانکہ خدا کا دعوی ہے کہ وہی ذلت دینے والا بھی ہے لیکن اکثر عناصر اسکا سہرا اپنے سر پہ باندھنا پسند کرتے ہیں تاکہ کچھ لوگ عزت بچانے کے چکر میں ان کے قابو میں رہیں۔ 
عزت پہ شعراء اکرام نے بہت کم لکھا ہے لیکن ذلت کو خوب موضوع بحث بنایا ہے۔ حالانکہ دونوں ہم قافیہ الفاظ ہیں۔  
اب کوئ اس پہ کیا دلیل کرے
جس کو چاہے خدا ذلیل کرے
 عزت کی تعریف کرنا کیوں مشکل ہے؟ اسکی بنیادی وجہ اس کے دعوے دار ہیں۔
اس لئے ایٹم بم کا دھماکا کرنے کے بعد بھی ہم سنتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں اس عزت سے نوازا۔ ادھر ایک ڈیرے دار طوائف بھی اپنے لباس کی نوک پلک درست کرتے ہوئے ایک ادا سے کہتی ہے کہ بس آج جو بھی مرتبہ ہےعزت ہے وہ خدا کی عطا ہے۔ دونوں ہی اپنی جگہ درست ہیں اگر ہم اس پہ یقین رکھتے ہیں کہ سبھی کچھ خدا کا دیا ہوا ہے سبھی راحتیں، سبھی کلفتیں۔
لیکن پھر بھی ہم اس طوائف کی بات پہ ہنستے ہیں اور اس سیاستداں کی بات پہ فخر سے سینہ پھلا لیتے ہیں۔
اسکی وجہ شاید یہ ہے کہ عزت کا تعلق عام طور پہ معاشرے میں موجود اچھائ اور برائ کے معیار سے بڑا تعلق رکھتا ہے۔ طوائف کا پیشہ، نیچ  سمجھا جاتا ہے اس لئے وہ اپنے پیشے میں جتنی بھی کامیابی حاصل کرے۔ چاہے لوگ اسکی ایک جھلک کے لئے اپنا دین اور ایمان لٹا دینے کو تیار ہوں۔ اسکے ابرو کے اشارے پہ عاشق پہاڑ تو کیا آسمان کو زیر کر لے لیکن جب بھی وہ یہ کہے گی کہ یہ سب عزت خدا کی دی ہوئ ہے تو ہم  ہنستے ہیں۔
اسکے بر عکس، ہم ایک ایسا ہتھیار بنا لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو چشم زدن میں انسانوں کی ایک بڑی آبادی کو ختم کر سکتا ہے تو ہمیں انتہائ فخر اس لئے محسوس ہوتا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اب ہم دشمن پہ سبقت حاصل کر لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور میدان جنگ میں وہ ہمیں آسانی سے ہرا نہیں سکتا۔ چونکہ ہم ہار نہیں سکتے اس لئے ہم عزت دار ہونگے۔ جس شخص نے یہ حاصل کرنے میں ہماری مدد کی وہ بھی ہماری عزت کا مستحق ہے۔ وہ شخص بھی یہی کہے گا کہ یہ عزت خدا کی دی ہوئ ہے ۔ ہم اسکا احترام کرتے ہیں۔ ہم اسکی بات کو سچ جانتے ہیں۔
عزت کے دعوے دار اور عزت کے پرستار دونوں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ اہمیت اس نکتے کی ہے جس پہ عزت کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔
 گاءوں کے چوپال میں درد بھری آواز میں ماہیا گانے والا میراثی کہلاتا ہے اس کا سماجی مرتبہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ لیکن جب آواز کا یہ جادو نورجہاں جنگ کے گیتوں میں دکھاتی ہے تو ملکہ ء ترنم کا خطاب پاتی ہے۔ کس میں ہمت کے انہیں میراثن کہہ دے۔   
عزت کے بارے میں آج جاننے کی خواہش اس وقت سوا ہو گئ جب ایک جگہ پڑھا کہ ڈاکٹرعامر لیاقت کو جب خدا نے عزت دی ہے لوگ اسکی بات سنتے ہیں ، لوگوں پہ اسکی بات کا اثر ہوتا ہے تو دوسرے لوگ اسے برا کیوں کہتے ہیں؟  لوگ کیوں چاہتے ہیں کہ انہیں رمضان میں تبلیغ کے عمل سے روک دیا جائے۔ نہ صرف ان صاحب نے لکھا بلکہ دیگر صاحبان نے اسے شیئر بھی کیا۔
آج پھر میں نے سوچا کہ خدا کی دی ہوئ عزت کیا چیز ہوتی ہے؟  اگر ایسا ہے تو زرداری سے بےزاری کیوں؟ ان کی عزت بھی خدا کی دی ہوئ ہے۔ اس عقیدے کے مطابق یہ مرتبہ انہیں محض لوگوں کے ووٹ سے حاصل نہیں ہوا۔  لوگوں کے ایک بڑے حلقے میں انکا اثر ہے۔ لوگ انکی بات سنتے ہیں ان پہ اثر ہوتا ہے۔ یہی بات الطاف حسین، نواز شریف، عمران خان حتی کہ ملا عمر اور اوبامہ کے متعلق بھی کہی جا سکتی ہے۔ اور چونکہ ان سب کو ملی ہوئ عزت کو خداکی دین سمجھنا چاہئیے تو ہمیں انکی عزت بھی کرنی چاہئیے اور انکے متعلق برا نہیں کہنا چاہئیے۔
کیا ہمیں اس بات کی فکر کرنی چاہئیے کہ یہ سب لوگ جس چیز کی تبلیغ کرتے ہیں اسکے لئے عملی طور پہ کچھ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں یا نہیں؟  یا آسان الفاظ میں جب خدا کسی کو عزت اور مرتبہ دے دے اور لوگوں پہ اس کا اثر قائم ہو جائے تو کیا اسکے خلاف آواز بلند کرنا خدا کے خلاف جانا ہوتا ہے؟
  

Wednesday, January 11, 2012

پیر کی بیوہ

آج کے اخبار میں بڑی دلچسپ خبریں ہیں ۔ پاکستان کے سیاسی حالات ایک دفعہ پھر ،اک نئے موڑ پہ لے آئے ہیں حالات مجھے کی تصویر بن گئے ہیں۔ خیر کوئ بات نہیں، ہم ہر کچھ عرصے بعد اسی طرح نئے اور نازک موڑ پہ کھڑے ہوتے ہیں اب ہمیں ایسے موڑوں پہ کھڑے رہنے کی عادت ہوگئ ہے۔ نہ ہوں تو عجیب سی بے چینی طاری ہو جاتی ہے۔
ڈان اخبار کے پہلے صفحے پہ کورٹ کی طرف سے حکومت کو دئیے گئے نکات کا خلاصہ ہے۔  مجھے سپریم کورٹ کے چھ نکات سے کوئ خاص دلچسپی نہیں۔ سپریم کورٹ کے حالیہ اقدامات یونہی ہیں کہ گرتی ہوئ دیواروں کو ایک دھکا اور دو۔
گیلانی صاحب یا زرداری صاحب اگر عرصہ ء چار سال کے بعد نا اہل قرار پا جائیں تو کیا اور نہ پائیں تو کیا۔  جہاں اتنا برداشت کیا وہاں ایک سال  کیا معنی رکھتا ہے۔ گیلانی صاحب تو ایسے  مجاور ہیں کہ وزیر اعظم ہاءوس سے نکلیں گے تو یادوں کے مزار پہ بیٹھ  کر گل ہائے عقیدت پیش کرنے لگ جائیں گے۔ اس کام کے لئے پہلے انہیں ایوان صدر جانا پڑتا تھا۔ تب انکی  پسندیدہ قوالی میرا کوئ نہیں ہے تیرے سوا کی جگہ، بعد میں کچھ اس طرح ہوگی کہ نصیب آزما چکا، قسمت آزما رہا ہوں، کسی بے وفا کی خاطرمزدا چلا رہا ہوں۔  
اس موقع پہ جہاں انگلی کٹا کر شہیدوں میں شامل ہونے والے ایک ہلچل میں ہیں کہ انکی کٹی انگلی ضائع نہ ہو جائے اور کہیں نہ کہیں انکو بھی پذیرائ مل جائے وہاں اندرون خانہ نئے الیکشن کے فوری انعقاد کے پیش نظر نگراں حکومت میں اپنے مقام کے لئے کوشاں گِدھ پرواز کے لئے تیار ہیں۔ مجھے انکی پروازوں سے بھی دلچسپی نہیں۔ اس سے زیادہ دلچسپی تو مجھے ان گِدھوں سے ہے جو پاکستان اور انڈیا میں اس لئے مر گئے کہ انہوں نے جن جانوروں کا گوشت کھایا تھا وہ ایک ایسی  دوا استعمال کر چکے تھے جو گِدھوں کے کے لئے سم قاتل ثابت ہوئ۔ یہ گوشت انہوں نے حلال ذریعے سے حاصل کیا تھا لیکن پھر بھی راس نہ آیا اور یہ گِدھ تاریک راہوں میں مارے گئے۔ اب شاید نایاب نسل میں شامل ہو جائیں۔
میں ایک انسان ہوں ، جانوروں سے بس اتنی ہی ہمدردی کر سکتی ہوں۔ ویسے بھی ہمدردی زیادہ کروں یا کم، جانوروں کو اس سے فرق نہیں پڑتا۔ وہ شعور کی اس سطح پہ نہیں جہاں اس قسم کے احسانات کو یاد رکھ سکیں۔
میرے لئے سب سے دلچسپ خبر پاکستانی سیاست کے ایک اہم کردار پیر پگارا کے انتقال کی ہے۔ کل نفس ذائقہ الموت۔ ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ انکی عمر نوے سال سے زیادہ تھی دستاویزات کے مطابق صرف تراسی یعنی  ۸۳ سال کے تھے۔ مرنے کے لئے ایک جائز عمر۔  تراسی سال کی عمر میں بیمار شخص کا مرنا کوئ ایسی سنسنی نہیں رکھتا۔ پھر مجھے کیوں اتنی دلچسپی ہو رہی ہے؟
کیا اس لئے کہ مرنے کے بعد مرنے والے کے ساتھ اگلی دنیا میں کیا ہوگا؟ میں اور آپ اندازے ہی لگا سکتے ہیں۔ چاہے ہم نے وہ کتاب ازبر کر لی ہو جس کا عنوان ہے مرنے کے بعد کیا ہوگا۔ یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس لئے مجھے نہیں معلوم کہ وہ اگلی دنیا میں بھی حروں کے سردار ہونگے یا نہیں، وہاں بھٹو کے خلاف کسی چلائ جانے والی مہم کا حصہ ہونگے یا نہیں۔
۔
۔
مجھے دراصل اس لڑکی کے بارے میں جاننے کی بڑی خواہش ہے کہ جس سے پیر صاحب نے چھ سات سال پہلے شادی کی تھی۔ ایک نو عمر، اخباری اطلاعات کے مطابق سترہ اٹھارہ سال کی لڑکی جس نے پیر صاحب کے دو جڑواں بچوں کو بھی جنم دیا۔
اب جبکہ پیر پگارا اس دنیا میں نہیں رہے۔ اس لڑکی کا کیا ہوگا۔ اب اسکی عمر پچیس چھبیس سال ہو گی۔ اس نو عمری میں پیر پگارا کی بیوہ کا اعزاز حاصل کرنے والی لڑکی اب کیا کرے گی؟
کوئ ہے جو مجھے اسکی خبر لادے۔ 
ہائے رباں، میں تجسس سے بے حال ہوں۔


Friday, June 24, 2011

جلوے کا حلوہ

بدلتے وقت کے ساتھ الفاظ اپنے معنی بدل دیتے ہیں ۔ الفاظ ایکسٹرنل یو ایس بی ہوتے ہیں۔ یہ وہ انسانی عضو ہوتے ہیں  جو جسم کے ساتھ جسمانی طور پہ منسلک نہیں ہوتے۔ سو انسان کی ذہنی سوچ کے ساتھ یہ بھی بظاہر وہی ہوتے ہیں مگر معنوں میں وہ نہیں رہتے۔ مگر عطاءالحق قاسمی صاحب شاید اس سے واقف نہیں۔ اس لئے جب صدر زرداری نواز شریف کو مولوی  نواز شریف کہتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ کیونکہ نواز شریف شراب نہیں پیتے، ڈانس نہیں کر سکتے اور خواتین کے ساتھ تعلقات نہیں بناتے اس لئے زرداری نے انہیں مولوی کہا ہوگا۔ عطاء صاحب الفاظوں سے پیچھے رہ گئے۔ در حقیقت عطاء الحق قاسمی صاحب، حرم کا مطلب بھی بھول گئے ہیں۔ حالانکہ یہ اب تک اپنے اصل معنوں کے ساتھ رائج ہے۔
ڈانس تو پپو سالا بھی نہیں کر سکتا ، لیکن وہ مولوی پپو سالا نہیں کہلاتا۔  شراب پینے والے کہتے ہیں کہ بات شراب نہ پینے میں نہیں  بلکہ پی کر نہ لڑکھڑانے میں ہے۔  اب کیا کیا جائے، وہ بن پئیے ہی  بد مست ہاتھی بنے ہوءے ہیں پی لیں تو خدا جانے کیا حشر ڈھا دیں۔ گمان ہے کہ اکثر لوگوں کو گناہ کرنے پہ عذاب ہوتا ہے اور کچھ کو نہ کرنے پہ۔ خواتین کے متعلق میں کچھ نہیں کہتی۔ ایک انگریز خاتون صحافی نے بہت کچھ کہا ہے مگر سب بکواس ہوگی۔ خواتین ایسی باتیں مردوں کی نفرت میں کہتی ہیں۔ خاص طور پہ گوری عورتیں تو پاکستانی مرد رہ نماءووں کی کم آمیزی کا بدلہ اسی طرح لیتی ہیں۔
صدر زرداری نے اپنے تازہ بیان سے قوم کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیا ہے اور لگتا ہے کہ ہر ایک دو تصویریں لے کر بیٹھا ہوا ہے اور مقامات فرق معلوم کر رہا ہے۔ نواز شریف اور مولوی نواز شریف میں۔ حالانکہ آج کل نواز شریف اس حالت میں ہیں کہ مقامات آہ فغاں بآسانی معلوم کئے جا سکتے ہیں۔ مگر یہ تو ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستانی کوئ آسان کام نہیں کرتے۔ اگر قسمت کوئ آسان کام ہمارے اوپر ٹھونس ہی دے تو کوشش کرتے ہیں کہ  اسے پہلے مشکل بنادیا جائے پھر ہم اس سلسلے میں کچھ کریں۔ لوگ بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑاتے ہیں اور اس پہ فخر کرتے ہیں ہم گھوڑوں میں بحر ظلمات نکالتے ہیں ، اور پھر بھی کوئ نعرہ ہائے تحسین بلند نہ کرے تو اسے گھوڑا بلکہ گدھا بنا دیتے ہیں۔
خیر، تازہ ترین سوال یہ ہے کہ صدر زرداری نے مولوی نواز شریف کا لقب انہیں کیوں دیا؟
کیا اس لئے کہ ایک زمانے میں وہ بڑے ہو کر  وزیر اعظم نہیں امیر المومنین بننا چاہتے تھے۔
اس لئے کہ وہ ہمارے مقدس مقامات پہ اتنا عرصہ گذار چکے ہیں اور وہاں انکے اتنے قلبی تعلقات ہیں کہ انہیں اب مولوی نہ کہا جائے تو اس ناہنجار قوم پہ ہتک عزت کا دعوی کر دینا چاہئیے۔
اس لئے کہ  وہ رائے ونڈ جیسے مقدس مقام کے پہلو میں اپنے فارم ہاءوس میں رہتے ہیں۔ اس فارم ہاءوس کو کچھ بد طینت بادشاہ کا محل کہتے ہیں  جبکہ وہ نہییں جانتے کہ فارم ہاءوس پہ تو ٹیکس بھی واجب نہیں ہوتا۔ اور مولوی صاحب کو بالآخر جنت میں جانا ہے تو دنیا میں کیا وہ جنت کا مزہ چکھ نہیں سکتے۔ جبکہ کسی سُرخے شاعر نے یہ مسئلہ بھی کھڑا کر رکھا ہے کہ
آپکو جنت اور مجھے دوزخ عطا ہوگی
بس اتنی سی بات پہ کیا محشر بپا ہوگی
ایسے عقل کے اندھوں کے لئے تو محشر دنیا میں ہی بپا ہونی چاہئیے۔ یہ ہے نئے مولوی صاحبان کا ایجینڈا بمعہ ایک ڈنڈا۔
 اچھا تو کیا اس لئے کہ وہ مرد مومن مرد حق  مولوی ضیاءالحق کی ان سائینسی کوششوں کا کامیاب نتیجہ ہیں جس میں وہ ایک ماں اور ٹیسٹ ٹیوب کے بغیر ایک نظریاتی اولاد پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔انکی اس دانش سے حیران ہو کر بعض ان دیکھی قوتوں کو انکا جہاز فضا میں پھاڑنا پڑا۔ ناکام لوگ ، کامیاب لوگوں کے ساتھ یہی سلوک روا رکھتے ہیں۔
کیا اس لئے کہ وہ اپنے آقائے سیاست کے فلسفے اور باقیات کو کمال صبر اور جراءت سے سنبھالے ہوئے ہیں۔ اور انکی وفاداری کا ثبوت یہ ہے کہ وہ پاکستان کی سالمیت تو کیا خود پاکستان کو کسی خاطر میں نہیں لاتے۔
میں ان پیش کئے گئے نظریوں سے کسی طور مطمئن نہیں۔ بھلا یہ بھی کوئ باتیں ہیں جن پہ کسی کو مولوی کہہ دیا جائے۔ میں تو آج تک مولوی، حلوے وغیرہ سے شغف رکھنے والے اس بے ضرر شخص کو سمجھتی رہی جس سے اگر کوئ خار کھاتا ہے تو وہ بچے جو قرآن ناظرہ کی تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ اماں مولوی صاحب کو حلوہ بنا کر بھیجتی ہیں اور مولوی صاحب ڈنڈے یا پائپ سے بھی پٹائ لگا دیں تو اماں جان فرط عقیدت سے انکے دست و بازو کو دیکھتی ہیں۔ کیا محنت کی ہے میرے بچے پہ۔ ماں صدقے ، ماں واری۔ اور مزید حلوہ نذر کرتی ہیں۔ مولوی صاحب  اپنی سادگی کے باعث حلوے اور عقیدت سے بہلے رہتے تھے۔ ادھر بچے کے سینے میں انتقام کا ایک الاءو روشن رہتا ہے اور حلوے کی محبت۔ یہ روائیتی مولوی صاحب تھے اور یہی روائیتی مولوی صاحب بنانے کا طریقہ۔
مگر اب لگتا ہے امتداد زمانہ سے مولوی کے معنی تبدیل ہو گئے ہیں۔


سو کچھ کا کہنا ہے کہ بچپن میں مولوی صاحب کے ڈنڈے کو زرداری صاحب اب تک نہیں بھولے۔ اور اس کا تعلق کچھ کچھ اڈیپس کمپلیکس سے ملتا ہے۔ فرائڈ کو کیونکہ مولوی صاحب میسر نہیں تھے اس لئے وہ اسکا کوئ مناسب سا نام نہ رکھ پایا۔ مولوی صاحب کا ڈنڈا، طالب علم کی پیٹھ اور اماں جان کا حلوہ وہ بھی مولوی صاحب کے لئے۔ اس مثلث کے کیا اتنے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ اس پہ تو ایک فلم بن سکتی ہے۔
کوئ کہہ رہا تھا کہ مولوی اب ایک شخص نہیں کیفیت کا نام ہے. یہ کچھ خاص لوگوں پہ جن میں خاص جینیاتی ریسپٹر ہوتے ہیں کسی بھی وقت طاری ہو سکتی ہے۔ اس وقت آپکو پتہ چلتا ہے کہ ایسے ویسے لوگ کیسے کیسے ہو گئے۔ یہ عجیب اثر ہے کہ اس کیفیت میں  لوگ ہر قسم کی غیر اسلامی حرکات اور سکنات کے لئے اپنے آپکو آمادہ پاتے ہیں۔  لیکن منہ سے اسلام اسلام ہی نکلتا ہے۔
کچھ اور لوگوں کا خیال ہے کہ مرد مومن اپنے کامیاب تجربے کے بعد اسکے سائینسی رازوں سے کسی مرد ناداں کو مطلع کر گئے تھے۔ وہی والے جنکے متعلق اقبال بہت عرصہ پہلے با خبر کر چکے تھے کہ مرد ناداں پہ کلام نرم و نازک بے اثر۔ لیکن اس وقت بھی ہماری انٹیلیجنس ایجنسیز کے یہی لچھن تھے۔  اقبال نےخفگی میں کہا بھی کہ تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن۔ انٹیلیجنس والوں نے اسے پیش سے پڑھکر سازشوں کے جال بننا شروع کر دئیے۔ اور اپنے پرائے ہر ایک کے لئے بُن ڈالے۔ آجکل اپنے والے ادھیڑنے کی کوششوں میں ہیں۔ سو اسکے بعد  عام لوگوں میں مولوی کیفیت کو ابھارنا اور پھیلانا  نیت اور فتور نیت کے ساتھ جڑ گیا۔ جب جب نیت میں فتور آئے کوئ شخص تب تب مولوی بن جاتا ہے۔ 
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فوج کے خلاف محاذ آرائ کی وجہ سے انہیں یہ عظیم لقب ملا۔ اگرچہ کہ ہمیں اب تشویش ہو چلی ہے کہ ایک تو طالبان کے لئے نرم گرم جذبہ رکھنے پہ ہی نواز شریف کو لوگوں کے طعنے سننے پڑ رہے تھے اور حالت یہ تھی کہ جب سے تونے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے۔ وہاں نواز شریف نے یقیناً کسی بد خواہ کے کہنے پہ فوج سے اڑنگا لے لیا۔ اگر انہوں نے کبھی دھوبی کے کتے کی زندگی دیکھی ہوتی تو اس  مرحلہء سودوزیاں پہ انہیں سمجھنے کی آسانی بہم ہوتی ہے۔  یہ فارم ہاءوس میں رہنے کا نقصان ہے۔
دوسری طرف وہ لوگ جو  طالبان اور فوج کو ایک ہی سکے کے دو رخ سمجھتے رہے اور بیک وقت ان دونوں کی زلف کے اسیر ہیں اور اس وجہ سے نواز شریف کو بھی عزیز رکھتے تھے۔ اب  انکے لئے مرحلہ ء سخت ہے کسے عزیز رکھیں کس کو مستعفی چاہیں۔  
لیکن بات وہیں آکر رک جاتی ہے کہ یہ تمغہ  نواز شریف کو کیوں دیا گیا ہے۔ نورجہاں یا معین اختر کو کیوں نہیں دیا گیا۔
کچھ اور کھوجی، اسکے تانے بانے پنجابی طالبان کی پنجاب حکومت کے ساتھ خوشگوار تعلقات میں دیکھتے ہیں۔ یہ بری بات ہے۔ حاسدی ہی ایسا کر سکتے ہیں و من شرّ حاسد اذا حسد۔ جذبہ ء مفاہمت کو عام کرنے والے لوگوں کو یہ بات کرنا زیبا نہیں۔
کچھ اور لوگ اسکی وجہ مفتی رانا ثناءاللہ کو گردانتے ہیں۔ یعنی طویلے کی بلا بندر کے سر۔ اس پہ رانا ثناء اللہ  صاحب کے عقیدت مند مجھ سے ناراض نہ ہو جائیں میں نے انہیں قطعاً بندر نہیں کہا۔ یہ محاورہ بنانے والے کی نیت کی خرابی ہے۔ وہ ہر مسکین کو بندر سمجھانا چاہتا ہے۔
یہ لوگ کہتے ہیں کہ ایک ایسا مفتی جو لوگوں کے واجب القتل ہونے پہ فتوی دینے کو تیار رہتا ہو۔ اور قتل ہو بھی جاتا ہو تو اس کا گرو تو مولوی ہی کہلائے گا۔ زرداری صاحب، سلمان تاثیر کا غم کھائے بیٹھے تھے اور ابھی رانا ثناء اللہ  کے فتوے اور سلمان تاثیر کے قتل کے مابین گتھیاں سلجھ بھی نہ پائں کہ رانا ثناء اللہ نے اس دفعہ بابر اعون کو بھی واجب القتل قرار دے دیا۔ بابر اعوان صاحب کا نہیں معلوم کس کھوہ میں بیٹھے ہیں البتہ رانا ثناء اللہ سنا ہے مونچھوں کی اصلی گھی سے مالش کراتے ہیں۔ مونچھیں ہوں تو رانا ثناء اللہ جیسی ہوں ورنہ نہ ہوں۔
دیکھا آپ نے حلوہ کھانے والے مولوی صاحب، خدا غارت کرے زمانے کی بد چلنی وغیرہ کو کہ  قتل وغیرہ سے بھی پہچانے جانے لگے ہیں۔ حلوے سے اٹھنے والے مولوی صاحب کا خمیر اب خدائ جلوے کے برابر ہو چکا ہے۔ جسکے بارے میں خدا کہتا ہے کہ تاب نہ لا سکو گے ہمارے جلوے کی۔
عطاء الحق قاسمی صاحب، نے آخر میں صدر زرداری کی اس تقریر کو غیر صدارتی قرار دیا ہے۔ میں اس سے اتفاق کرتی ہوں۔ صدر زرداری کو اسکا حل ، حلوے میں نکالنا چاہئیے تھا جلوے میں نہیں۔ ہو سکتا ہے مولوی صاحب کی یادداشت کام کرنے لگ جاتی۔ لیکن ایسا ہوتا تو عطاء الحق قاسمی جیسا سینیئر قلم کار اور مجھ جیسا نو آموز لکھنے والا  کس چیز کے متعلق لکھتے۔  انہی کے دم سے ہیں آباد یہ قلم کے مے خانے۔ یہ مصرعہ ابھی تخلیق کیا ہے۔ میں اسکا دوسرا مصرعہ جوڑتی ہوں۔ آپ حلوہ  سوچئیے اور قسمت میں ہو تو جلوہ۔

Wednesday, April 27, 2011

رو چھجّو رو

معین اختر اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ سب لوگوں نے اپنے اپنے طور پہ سوگوارانہ جذبات کا اظہار کیا۔ جہاں اکثریت نے یہ کہا کہ پاکستان میں  تفریحی میڈیا ایک بڑے نقصان سے دو چار ہو گیا وہاں یہ بھی سننے میں آیا کہ ایسا کیوں ہے کہ ہمارے درمیان سے ہنسنے ہنسانے والے لوگ اٹھتے جا رہے ہیں۔
 معین اختر کے انتقال  کا ملال اپنی  جگہ لیکن شاعر کہتا ہے کہ عام ہوئ شہر میں دانشوری مرتبہ ء اہل ہنر بھی گیا۔ بالکل یہی صداقت  ہنسے ہنسانے پہ بھی صادق آتی ہے۔ جہاں ہمارے ہنسنے ہنسانے کے ساماں کرنے کو حکومت کی مشینری کا ہر پرزہ 'چالو' ہو ، جہاں حزب اختلاف بھی مزاح کے حقے کو گرم رکھنے میں کوئ کسر نہ چھوڑتی ہو، غنڈے اور بدمعاش بھی مذاق ہی مذاق میں اپنا نشانہ چیک کرتے رہتے ہوں،  وہاں معین اختر کو جینے کے لئے کیوں مجبور کیا جائے۔
خدا حافظ معین اختر، ہم اب زندہ مذاق کے دور میں رہتے ہیں۔
اور جب تک کسی مذاق میں خود ایک فریق کے طور پہ موجود نہ ہوں اس وقت تک قسم لے لیجئیے بھائ میاں ، مزہ نہیں آتا۔ جس نے زندہ مجرا دیکھا ہو اسکے لئے  اسکرین پہ آنے والی منی اور شیلا کی ادائیں کوئ معنی نہیں رکھتیں چاہے وہ  بد نام ہونے اور لٹانے کے لئے کتنا ہی کیوں نہ تیار ہوں۔
آج ہم ، ہمہ وقت چھجو کے چوبارے پہ حاضر، جہاں بھانت بھانت کے بھانڈ اپنی پٹاری کھولے بیٹھے ہیں۔ اس میں سے ایک ناگ نکلتا ہے اور ہمارے آگے جھومنے کے بجائے ہمیں اپنا اسیر کر لیتا ہے اور ہم اسکے آگے جھومتے ہیں۔
  ایک طرف معین اختر ہاف پلیٹ  میں انور مقصود کے نپے تلے ڈائیلاگ بول رہے ہوں اور دوسری طرف فیصل رضا عابدی، زرداری اسکرپٹ کو سامنے رکھ کر بہے جارہے ہوں، کھلے جارہے ہوں، بکھرے جا رہے ہوں کہ ایوان صدر کے عملے کی تعداد ہم کیسے کم کر سکتے ہیں ہم نے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ روزگار انکو انکے گھر کی دہلیز پہ دیں گے۔ کیا انور مقصود اتنا شاندار، رواں اور اوریجینل آئیڈیا لا سکتے ہیں اور اس پہ فیصل رضا عابدی کی پرفارمنس، آپ ہی منصفی سے سوچیں ہم کیوں نہ سیٹیاں بجائیں، ووووں۔


وجود زن سے صرف تصویر کائنات میں ہی رنگ نہیں بلکہ دنیا کا بیشتر مزاح خواتین کے متعلق ہی لکھا گیا ہے۔ اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسے لکھنا آسان ہوتا ہے اور یہ زیادہ چٹپٹا اور دل کھینچ لینے والا ہوتا ہے۔ یہ دیکھیں ایک اور لائیو پرفارمنس۔


   یہ تو تاریخ میں درج ہو گیا کہ وعدے کوئ قرآن اور حدیث ہیں کہ پورے کئے جائیں۔  چلیں ہم بھی مانتے ہیں کہ حدیث اور قرآن کی تو انکی نظر میں اہمیت نہیں جو اسے دن رات دوہراتے ہیں۔ آپ کو کیا ضرورت پڑی کہ آپ اسکی پاسداری کریں۔ لیکن ذرا اس تقریر میں صدر صاحب کے ڈائیلاگز اور انکی پرفارمنس ملاحظہ فرمائیں۔ شاندار۔


بلوچستان کے وزیر اعلی کے اس ڈائیلاگ کا کہ  ڈگری ، ڈگری ہے اصلی ہو یا جعلی۔  اس کا کوئ جواب ڈھونڈھ لائیں۔ اتنا ہٹ ہوا کہ اس پہ بے شمار طرحی ایس ایم ایس بنے۔  اس ویڈیو میں انہی بلوچستان کے وزیر اعلی کی پرفارمنس، لاجواب ہے۔ اور اس سے ہنس ہنس  کر پیٹ میں بل نہ پڑ جائیں تو جو چور کی سزا وہ اسے لوڈ کرنے والے کو۔



ایم کیو ایم نے  پاکستان کو ناجائز اسلحے سے پاک کرنے کا بل اسمبلی میں پیش کیا اور حکومت نے اسے بغیر کسی مخالفت کے اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیج دیا۔  ایک ایسا ملک جہاں عام گھر میں بیٹا  پیدا ہونے کی حیرانی  پہ، کسی خاتون کو شادی کے بعد گھر لے آنے پہ دولہا کے متعلقین کی خوشی سے بد حالی کا اظہار،  حتی کہ نئے  وزیر قانون کا اپنے صوبے میں استقبال،  ہر قسم کے اسلحے کی ہوائ فائرنگ سے ہوتا ہے۔ وہاں یہ بل کیا  معنی رکھتا ہے۔ سوچیں ، ہنسیں اور اس عوامی مظاہرے سے محظوظ ہوں۔

ہمارا یہ نیا مزاح لکھنے والے اور پرفارم کرنے والے لوگ ابھی ایک لمبے عرصے تک زندہ رہیں گے۔ ابھی ہم بہت ہنسیں گے۔ کہتے ہیں جو قوم اپنے اوپر نہیں ہنس سکتی وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ ہم نظر اٹھا کر دیکھتے ہیں ہم اپنے اوپر ہنس ہنس کر تھک چکے ہیں بلکہ بور ہو چکے ہیں۔ لیکن ترقی ہمارے پاس نہیں پھٹکتی۔  بہت سارے اور مقولوں کی طرح یہ بھی غلط ہی لگتا ہے۔ اب ایک چکر رو کر دیکھتے ہیں۔ رو چھجّو رو۔

Friday, February 4, 2011

ایک شادی

دیکھئیے عشاق پاتے ہیں بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
یہ ہے وہ افواہ جو ہر سال جنوری کے آغاز پہ ہم سنتے ہیں۔ اور عشاق پہ نظر گاڑ کر ایسے بیٹھ جاتے ہیں جیسے عشاق بتوں پہ۔ اس لئے نہیں کہ دیکھیئے عشاق پاتے ہیں بتوں سے کیا فیض بلکہ اس لئے کہ برہمن کا کہا بالکل غلط ثابت ہو جائے۔ اور ہم پھر جپھیاں ڈال کر کہیں، چیٹر، یو آر آ چیٹر۔
لیکن افسوس یہ سب شیطانی ارمان دل کے دل میں ہی رہ گئے اور عشاق نے سجا دکھا کر کھبا دے مارا۔ یہ تو آپ جان چکے ہونگے کہ ہمارے محبوب صدر نے ایک دفعہ پھر عشق کے گھوڑے پہ سواری کی ، اسے قابو کیا اور سرخ رو ہوئے  اور یہ سب اس طرح کیا کہ دائیں ہاتھ سے انگوٹھی پہنانے کی خبر بائیں ہاتھ کو نہ ہوئ۔ لوگوں کو کچھ اندازہ اس وقت ہوا جب ہماری خاتون اول کی سیکیوریٹی کے لئے صدر صاحب نے صدر اوبامہ سے درخواست کی۔
اک برہمن نے اسکی پیشنگوئ کئ ماہ پہلے کر دی تھی۔   ہمارے شیطانی چرخے کو لگتا ہے کہ یہ برہمن اس قسم کی پیشنگوئیاں، واقعہ پیش آنے کے بعد اور عوام الناس کے کانوں میں پڑنے سے پہلے کرتا ہے تاکہ تیل اور تیل کی دھار دیکھنے میں آسانی رہے۔ اگر تیل کی دھار  نظر میں رکھیں تو اپنا تیل کم نکلتا ہے۔
ہمیں کیا کسی بھی مسلمان  پاکستانی کو انکی دوسری شادی پہ کوئ اعتراض نہیں۔ایک پاکستانی مسلمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے شرعی کام تو کیا۔ ایک اور کا کہنا ہے کہ اگر وہ بے نظیر کی زندگی میں ہی یہ ہمت کر ڈالتے تو بھی یہ شرعی ہی ہوتا۔ اس سے میرا مقصد، یہ کہنا نہیں کہ یہ شادی نہیں ہو سکتی۔ یہ شادی ہو چکی ہے اورپہلے سے مصروف تجزیہ نگاروں  کو جو تحریر اسکوئر، مصر اور لاہور سے ریمنڈ ڈیوس کے ریمانڈ کی خبروں میں سے خبریں نکال رہے تھے، پتہ چلا کہ انکی آنکھوں کے سامنے سے ہاتھی نکل گیا اور خبر نہ ہوئ۔


خیر، اہل پاکستان کے لئے یہ ایک خوشخبری ہے جو مدت بعد ملی۔ بالآخر زرداری صاحب نے امریکہ کا داماد بن کر دکھا دیا۔ خاتون اول،  سیاسیات میں برطانیہ سے پی ایچ ڈی کر چکی ہیں۔ امریکہ میں بطور فزیشن کام کرتی ہیں۔  امریکن شہریت کی حامل یہ خاتون، بحیرہ ء روم کے ساحلوں پہ واقع کسی ملک سے تعلق رکھتی ہیں لوگوں کا کہنا ہے کہ بحیرہ ء روم کا یہ علاقہ کراچی کے جیل روڈ پہ واقع ہے۔ یوروپ اور امریکہ میں جائدادوں کی مالک ہیں۔ خوش شکل ہیں اور لگتا ہے کہ خوش امید بھی۔ لوگ سوچ رہے ہیں کہ یہ شادی سیاست کی وجہ سے ہوئ ہے یا محبت یا دولت کی وجہ سے۔
اب اندازے لگانے والے اندازے لگاتے رہیں۔ کچھ لوگوں کو اس بات کا افسوس ہے کہ شادی دبئ میں ہونے کی وجہ سے اس موقع پہ ہونے والے صدقے کے بکرے اور دیگر جانور و طیور بھی اسی ملک میں گئے جو پہلے سے اتنا امیر ہے۔ اب کم از کم   زرداری صاحب کو شادی کا باقاعدہ اعلان کر کے دعوت ولیمہ دینی چاہئیے۔ کہ اہل وطن بھی پلاءو کی خوشبو سونگھ سکیں۔ بم کے بجائے بھنگڑے کی بات کر سکیں اور نوحوں کے بجائے جئے بنڑے گا سکیں۔ 
آخر آصف علی زرداری کی دوسری شادی میں ہمیں اتنی دلچسپی کیوں ہو گئ۔ بات یہ ہے کہ نیٹ پہ سرچ کرتے ہوئے جب ہم ایک لنک پہ پہنچے تو یہ ہمیں تنویر زمانی کے فیس بک پیج پہ لے گیا اور وہاں ہمیں یہ پتہ چلا کہ زمانی بیگم پیپلز پارٹی کے لئے آب حیات بن کر آئ ہیں۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر زمانی کی شکل میں ایک بار پھر پارٹی کو قدرت نے بے نظیر سے نوازا ہے اور وہ دن دور نہیں جب تنویر زمانی ملک کی وزیر اعظم ہونگیں۔
 
پھر ان لوگوں کا کیا ہوگا جنہوں نے بلاول ہمارا وزیر اعظم کے نعرے لگانے کی پریکٹس بھی کر لی تھی۔ نہیں ، نہیں یہ نہیں ہو سکتا۔ آپ بتائیے فرزند زمین ہمارے شہزادے  بلاول زرداری بھٹو کے مقابلے میں دختر رُوم یہ مقابلہ جیت سکتی ہیں؟

-
-
-

شاعر کہتا ہے کہ 
بتائیں ہم کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا
پلاءو کھائیں گے احباب، فاتحہ ہوگا
اس کے پہلے مصرعے میں تصحیح کی گنجائش ہے۔ جو چاہے کرے۔ لیکن نجانے کیوں مجھے اس وقت یہ شعر یاد آ رہا ہے کہ
غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دیوانہ مر گیا آخر کو ویرانے پہ کیا گذری

Tuesday, January 4, 2011

جگسا پزل

کچھ لوگ دسمبر اور جنوری کی درمیانی رات کو سال بھر کا جوش نکال کر ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ اب سارا سال بھنگ ملے یا چرس، بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو یا پیٹرول کی قیمت اور بجلی کی قیمت میں کانٹے کا مقابلہ چل پڑے، انکے لئے سب برابر ہے۔ لیکن کچھ لوگ ہرروز کچھ نیا کے چکر میں  نئےسال کی قرار داد بناتے اور پھر سارا سال اس قرارداد کا تعاقب کرتے نظر آتے ہیں۔میں نے بھی کچھ قراردایں بنانے کی کوشش کی مگر آخر میں اللہ مالک ہے کہہ کر اپنی بیٹی کے ساتھ جگسا پزل بنانے بیٹھ گئ۔
جب اپنے غم سے یوں فراغت ہو گئ تو دوسروں کے خیال بھی دل میں آئے، اپنے ایک دوست سے پوچھا کہ ہمارے محبوب صدر نے کیا قرارداد بنائ اپنے لئے۔ کہنے لگے آپکو معلوم نہیں نجومیوں نے اس سال انکی دوسری شادی کی پیشن گوئ کی ہے۔ تو اب انکے پاس ایک نہیں کئ قراردادیں ہونگیں۔  اچھا خدا مسبّب الاسباب ہے  یعنی اس سال اس بہانے ہم خوشی کے شادیانے بجائیں گے۔
ادھررحمان ملک کے بارے میں تو شرطیہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ سورہ اخلاص سمیت چاروں قل ،سورہ فاتحہ، آیۃ الکرسی اور دعائے قنوت   کے حفظ کے کریش کورس پہ لگ جائیں گے۔ مبادا گیلانی صاحب اسی طرح سال کے اخیر میں دستیاب رہے تو کیبنٹ کے اجلاس میں ایکدوسرے کی پھبتی اڑانے کے لئے وہ نشانے پہ نہ آ سکیں۔
لیکن لگتا یوں ہے کہ 'قدرت' کو  گیلانی صاحب کے ہاتھوں انکی یہ توہین پسند نہیں آئ۔ اور صورت حال کچھ اس طرح سامنے آئ کہ گیلانی صاحب کو اخلاص چھوڑ کرجل تو جلال تو آئ بلا کو ٹال تو کی تسبیح گھمانا پڑ رہی ہے۔
سال کے شروع میں پٹرولیئم مصنوعات پہ یکدم نو فیصدی کا اضافہ ،عوام کو اشارہ ہے کہ باقی سال سورہ یس حفظ کر لیں موت کی سختی کم کرتی ہے۔
مذہبی جماعتیں پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کا نعرہ گاتے ہوئے توہین رسالت کے قانون کے زیر زبر پیش کی حفاظت میں لگی رہیں گی یہ انکی بڑی امید اور سہارا ہے۔ اور اگلے کئ سالوں کے لئے 'اہم ملکی معاملات' پہ انکی گرفت مضبوط رکھے گا۔
نواز شریف جمہوریت کی  ریل کو ڈی ریل ہونے سے بچانے میں مصروف رہیں گے انہیں ڈی ساخت پسند نہیں بلکہ اپنے چہرے کی طرح گول' او ' ساخت چاہئیے تاکہ  جمہوریت کی ریل ایک دائرے میں گھومتی رہے ۔
طالبان خاتون کے کامیاب خود کش حملے کے بعد پاکستان میں مردوں کو بچانے میں کامیاب ہو جائیں گے وہ لوگ جو اپنی کم جہیز لانے والی بہوءووں سے نالاں ہیں اور چولہے وغیرہ پھٹنے کا انتظار کرتے ہیں یا وہ لوگ جو اپنی بیٹیوں کو ونی کرنے یا کاروکاری کرنے کے چکر میں رہتے ہیں یا جائداد کے بٹوارے میں پڑنے کے بجائے قرآن سے شادی کروا دیتے ہیں۔  اب طالبان کے مراکز کے آگے لائن بنا کر کھڑے ہونگے۔ لوگوں کے ہجوم میں خواتین کا پھٹنا، بالکل مناسب ہوگا۔ کیونکہ اسکے بعد اعضاء میں وہ تناسب نہیں رہتا جن سے ہارمونز کا کھیل شروع ہو سکے۔
ادھر ایم کیو ایم ، حکومت سے اپنے  نعرہ ء علیحدگی پہ  رقص بسمل  کرے گی ۔   حکومت سے علیحدہ ہونے کے بعد امید ہے کہ انہیں ریہرسل کا زیادہ وقت ملے گا۔ یہ بھی امکان ہے ک ایک پیس کے رد و بدل ، اور کچھ  معلوم و نا معلوم لوگوں کے مقامات بعد از حیات طے کرنے کے بعد حکومت دوبارہ انہیں اپنے اتحادیوں میں شامل کر لے۔
مولانا فضل الرحمن کے متعلق لوگوں نے اڑائ ہے کہ انکی صدر صاحب سے ڈیل ہو گئ ہے۔ وہ وزارت عظمی مانگ رہے تھے۔ بالآخر عظمی پہ معاملہ ٹہر گیا۔
وزارت میں سے عظمی کے نکل جانے کے بعد گیلانی صاحب کیا کریں گے؟  سن رہے ہیں کہ پچھلے ہفتے کا سارا کھڑاگ انہیں لائن حاضر کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ یعنی ذوالفقار مرزا کے سندھ میں ایم کیو ایم مخالف بیانات کا سلسلہ زرداری صاحب کی وفاداری سے جا کر مل رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نجومیوں نے غلطی سے دوسری تبدیلی کو دوسری شادی سمجھ لیا ۔ واللہ اعلم۔ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ ایک زرداری سب پہ بھاری۔
جگسا پزل بھی بناتے بناتے آتا ہے۔ اب آپکی باری ہے۔

Tuesday, August 17, 2010

جمود سے باہر

اٹھائیس جولائ کو سیلاب آنے کی پہلی اطلاع آئ۔ اور گذشتہ تین ہفتوں میں پاکستان کی اب تک کی تاریخ کے اس شدید سیلاب نےہمارے حکمرانوں کی بے حسی کے نئے باب رقم کر دئیے۔
ٹی وی پہ وزیر اعظم جیلانی ڈی آئ خان کے ایک اور جعلی کیمپ پر بذریعہ جہاز پہنچے۔ ایک بیان دیا اور پھر جہاز میں نڈھال ہو کر سیٹ پہ پڑے تھے کہ ٹی وی کے ایک اینکر پرسن نے انہیں جا لیا۔ وہ اس طرح سیٹ پہ نیم لیٹی حالت میں اسکے سوالوں کا نیم مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیتے رہے۔ اس سوال پہ کہ سیلاب کے بعد لوگوں کی بحالی کا کیا پروگرام ذہن میں ہے انہوں نے اپنے اسی مجاورانہ اطمینان سے جواب دیا۔ پہلے اس مرحلے سے تو نکلیں۔ یہ ہیں ہمارے سیلاب زدہ ملک کے مطمئن راضی بہ تقدیر، وزیر اعظم۔
زلزلہ آنے کے بعد مجھے یاد ہے کہ مشرف نے قوم سے خطاب کیا تھا۔ وہ تقریر خاصی پر جوش تھی۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ قوموں کی تاریخ میں ایسے حادثات ایک نئ تبدیلی کا باعث بن جاتے ہیں۔ اس میں انہوں نے حکومت کے اس وقت تک کئے گئے امدادیاقدامات بتائے اور آئیندہ کا لائحہ عمل واضح کیا  اور میسر پیسوں کے بارے میں بتایا۔ یہ الگ کہانی کے آگے کیا ہوا۔ لیکن اس چیز نے سراسمیہ قوم کے اندر ایک جذبہ تو پیدا کیا تھا۔ رضاکاروں کی ایک بڑی تعداد وہاں پہنچی۔ لوگوں نے مسائل کے مختلف حل تجویز کئے، وغیرہ وغیرہ۔ معاشی حالات اس وقت کافی اچھے تھے لوگوں نے دل کھول کر امدادی کاموں میں حصہ لیا۔
لیکن آج دیکھیں۔ اس وقت جب عوام مہنگائ کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں ہر نیا دن چیزوں کے نرخ میں اضافے کی ہوشربا خبر لاتا ہے۔ ہم سنتے ہیں کہ زرداری صاحب کا فرانس میں محل ہے جو کسی زمانے میں انگلینڈ کے بادشاہ نے اپنی ملکہ کے لئے خریدا تھا۔ انکا کہنا ہے کہ یہ محل تو دراصل انکے والد صاحب نے اسّی کی دھائ میں خریدا تھا۔ البتہ یہ نہیں بتایا کہ اس وقت انکے والد گرامی کراچی کا بمبینو سینما کسی کے ساتھ شراکت میں چلا کر اتنی بڑی رقم کیسے اکٹھا کر پائے کہ اس سے قوم کے موجودہ نوجوانوں میں کم از کم پیسہ کمانے کی لگن تو پیدا ہوجاتی۔
ایک ایسی حکومت جسکے سربراہ اعلی سے لیکر ہر ہر نمائیندے کے بارے میں کرپشن کی کہانیاں زبان زد عام ہوں۔ انہیں کوئ شخص اپنا پیٹ کاٹ کر امدادی رقوم کیوں دے گا۔ اس لئے کہ آج سے دو سال بعد ان کے دنیا کے کسی امیر ترین ملک میں محل کی خبر سنے۔
حکومتی مشینری اس قدر نا اہل ہے کہ ان تین ہفتوں میں ان لوگوں کو قوم کو جذبہ دینے کے لئے الفاظ بھی نہ مل سکے۔ سندھ میں سیلابی پانی سے بیراجوں کو بچانے کے لئے بند توڑنے کے مسئلے پہ پارٹی کے درمیان پھوٹ پڑ گئ۔ ہر ایک چاہ رہا تھا کہ اسکا علاقہ بچ جائے۔ نتیجۃً جب خورشید شاہ، ممبر سندھ اسمبلی اپنے علاقے میں پہنچے تو لوگوں نے انکی گاڑی پہ پتھراءو کر دیا۔ ادھر وزیر خاتون حنا ربانی کھر جب اپنے علاقے پہنچیں تو انکے ساتھ بھی یہی سلوک ہوا۔
مولانا فضل الرحمن سیلاب کے ایک ہفتے بعد سعودی عرب عمرے کے لئے روانہ ہوگئے۔ انکے انتخابی حلقے میں اس وقت آٹھ لاکھ افراد متائثرین میں شامل ہیں۔ انکے گھر اور مدرسے کو بچانے کی خاطر کہا جاتا ہے کہ وہاں سے گذرنے والی سڑک نہیں توڑی گئ اور سیلاب نے دوسرے علاقوں کو شدید متائثر کیا۔  
یہ وہ جمہوریت ہے جسکے لئے ہم پچھلے دو سال سے سن رہے ہیں کہ بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر ہوتی ہے۔ ایک حکومت جسے لوگ ووٹ تو دیتے ہیں خدا جانے کیسے لیکن اسے اپنے نوٹ کی قدر کا صحیح حقدار نہیں سمجھتے۔
نوبت یہ ہے کہ اقوام متحدہ بھی ممبر ممالک کو  پاکستان کو قابل ذکر امداد دینے پہ راضی نہ کر سکی۔ ایک اندازہ، پاکستان کی کرپشن اور دہشت گردی کی وجہ سے مشہوری۔ 
اپوزیشن لیڈر نواز شریف نے کہہ دیا ہے کہ پاکستان اپنے پیروں پہ کھڑا ہونے کے قابل ہے ہمیں بین الاقوامی امداد نہیں چاہئیے۔ وزیر اعظم نے کہا ہمیں ہر امداد کی ضرورت ہے جو ہماری مدد کرے گا وہی ہمارا دوست ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن کے ترجمان وزیر مولانا عطا الرحمن کے مطابق مولانا فضل الرحمن عمرہ ادا کرنے کے ساتھ سعودی حکومت اور خیراتی داروں سے پیسے جمع کرنے بھی گئے ہیں۔
عوام کی بڑی تعداد اپنے جاننے والے سماجی خدمت انجام دینے والے لوگوں سے رابطہ کر رہی ہے تاکہ انکی مدد مناسب حقدار تک پہنچے۔ عام لوگ اپنے طور پہ امداد جمع کر کے پہنچانے کا بند و بست کر رہے ہیں۔، وہ حکومت پہ، سیاسی رہنماءووں پہ کوئ اعتماد نہیں رکھتے۔ لوگ اپنے جاننے والوں کو باہر سے فنڈ جمع کر کے بھیج رہے ہیں مگر حکومت کو نہیں دینا چاہتے۔
   لیکن جہاں متائثرین کی تعداد دو کروڑ ہو وہاں یہ انفرادی کوششیں اتنی زیادہ نتیجہ خیز کیسے ثابت ہو سکتی ہیں۔  بلدیاتی نظام اس وقت مدد کر سکتا تھا لیکن سیاسی طاقتوں نے اسےاپنے پیسہ بٹورنے کے راستے میں ایک رکاوٹ سمجھا اور اسے ختم کر دیا۔ کسی نے اس قدم کے خلاف آواز تک نہ اٹھائ۔ 
جب تک حکومت اس میں دلچسپی نہ لے یہ عوامی منتشر کوششیں کیسے اتنے سنگین حادثے کو قابو میں لا سکتی ہیں۔  حکومتی ذرائع ان انفردای کوششوں سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ انکے پاس پورا انفرا اسٹرکچر ہوتا ہے، وسائل اور افرادی قوت ہوتی ہے۔ 
 ایسے ہی کراچی سے سندھ کے سیلابی علاقوں کی مدد کے لئے جانے والے  ٹرکس متائثرین تک پہنچنے سے پہلے راستے میں لوٹ لئے گئے۔ ادھر چار سدہ سے آنے  والے ایک دوست نے بتایا کہ امداد کی تقسیم صحیح طور پہ نہ ہونے سے ایسی ہی لوٹ مار ہو رہی ہے۔ حالات کا فائدہ اٹھا کر ڈاکو بھی سرگرم عمل ہو گئے ہیں۔ یہاں سندھ میں بھی ایسے واقعات کی بازگشت سنائ دے رہی ہے۔ آج ہی متائثرین کے ایک کیمپ میں امدادی سامان کی تقسیم کے وقت وہ بھگد ڑ مچی کہ پولیس کو شدید لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ ٹی وی ہی کی ایک خبر کے مطابق ایک اور جگہ،  ہجوم میں مچ جانےوالی بھگدڑ کو قابو میں لانے کے لئے کی جانے والی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

یہ ہے ایک دھندلی سی تصویر حالات کی۔ ایک ایسی قوم کی جو ایک مضبوط مرکز نہیں رکھتی، ایک منتشر قوم جسے سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ وہ اس مصیبت میں کس کی طرف منہ اٹھا کر دیکھے۔ اس سب افراتفری سے کیسے باہر نکلیں، کون حالات سنبھالے، بے گھر لوگوں کو دوبارہ آباد کرنے میں کون مدد کرے، زمینوں کو شاداب کرنے کے وسائل کیسے ملیں۔ کون لوگ سر جوڑ کر بیٹھیں گے اور ایک لائحہ ء عمل بنائیں گے جس پہ تمام قوم کو یقین اور بھروسہ ہوگا۔ ایک لا وارث اور تنہا ہونے کا احساس،  جو حالات پہ طاری ہے۔
 ان حالات میں کوئ اس انتشار کے درمیان ذرا بھی اتحاد کی علامت بنا ہوا ہے تو وہ پاک افواج ہیں۔ لیکن افواج کی تربیت تحفظ کے لئے ہوتی ہے۔ ملک کی ترقی کی منصوبہ سازی کرنا، عوام کو ایک بہتر زندگی گذارنے کی سہولیات دینا ان میں ایک کامیاب قوم ہونے کا جذبہ پیدا کرنا یہ انکا کام نہیں۔ 
کتنی عجیب بات ہے کہ ہر دفعہ جمہوریت اپنی آزمائیش کے وقت ناکام ہوجاتی ہے۔ اس لئے کہ یہ جمہوریت، جمہور کے لئے نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ معاشرے کے اعلی طبقات کو احساس طاقت دیتی ہے اور بس۔ اس تمام پس منظر میں لگتا  ہے کہ ہمیں متحد رہنے کے لئے ایک نئے سیاسی اور سماجی نظام کی ضرورت ہے۔ شاید وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے کئ دہائیوں کے جمود سے باہر نکلیں۔ اور عوام اور خواص کی تعریف کو بدل ڈالیں، بھیڑ بکریوں کی طرح زندگی گذارنے والوں کو اپنے انسان ہونے کا احساس بیدار کرنا ہوگا۔ یہ سیلاب شاید ایک نئ مضبوط تبدیلی سے قوم کو روشناس کرانے کا موقع ہے، ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔

Wednesday, August 11, 2010

ایک ماں اپنے بیٹے کی زبانی-۱

اگست کا مہینہ شروع ہونے سے قبل میرا مصمم ارادہ تو یہ تھا کہ اس مہینے سرسید پہ جو کچھ لکھنا چاہ رہی ہوں اسے لکھ دوں۔ کہ دستور جو کچھ ہو لیکن موقع اچھا ہے۔ لیکن ایک تو میں سات سمندر پار بمعہ اپنے خاندان کے ہجرت نہیں کر گئ  ہمیشہ کے لئے۔ اور یہ کہہ کر مٹی پاءوں کہ سانوں کی۔ دوسرے یہ کہ تباہ کن سیلاب جیسا کہ زرداری صاحب نے بھی فرمایا بغیر اطلاع کے آ گیا۔ تیسرے یہ کہ کراچی میرا جائے توطن اور متوقع جائے مدفن ہے۔ اس طرح میرا قلم شہر کراچی اور ملک کے درمیان ایک فری الیکٹرون کی طرح حرکت میں آگیا۔  ادھر جو لوگ شہر سے باہر تھے انکا شہر میں آ کر اٹک گیا۔ پھر یہ کہ جوتم پیزار مجھے پسند تونہیں کہ جمہوری طریقہ نہیں، لیکن پھر بھی جمہور اور جوتے کے درمیان چلی جنگ، یہاں بھی جگہ پا گئ کہ یہی رائج الوقت جمہوریت ہے۔
خیر، سر سید احمد خان پہ اردو وکیپیڈیا پہ ایک تفصیلی مضمون موجود ہے۔ تو پھر میرا  دل کیوں چاہ رہا ہے کہ ان پہ لکھوں؟
بات یہ ہے کہ  یہ مضمون  دستاویزی قسم کا ہے۔ اس سے انکے کارنامے تو پتہ چلتے ہیں لیکن بحیثیت ایک زندہ انسان انکی شخصیت محسوس نہیں ہوتی۔
ادھر میں نے انکے حوالے سے کچھ کتابیں دیکھیں، جنکا تذکرہ آگے کسی تحریر میں آئے گا۔ لیکن ایک دن میں نارتھ ناظم آباد کراچی سے گذرتے ہوئے وہاں واقع ایک چھوٹی سی لائبریری میں داخل ہو گئ۔ اسکا نام تیموریہ لائبریری ہے۔ یہاں مجھے ایک چھوٹی سی کتاب ملی جسکا نام ہےسر سید احمد خان، شخصیت اور فن۔ اس کتاب کے مصنف ہیں جمیل یوسف اور اسے اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد نے شاٰئع کیا ہے۔ مجھے یہ کتاب اس حوالے سےخاصی پسند آئ۔
 اس سلسلے کی پہلی تحریر انکی والدہ کے حوالے سے ہے۔
  سر سید کے خاندان ددھیالی خاندان کے دہلی کے مغل خاندان سے روابط تھے۔انکے دادا کو بادشاہ کی طرف سے خطابات اور عہدہء احتساب و قضا دیا گیا۔ انکے والد کو بھی شاہ کی طرف سے یہی خطبات اور منصب پیش کیا گیا۔ مگر اپنی آزاد طبیعت اور درویشی کی وجہ سے انہوں سے اسے قبول کرنے سے معذرت کر لی۔
انکے نانا، خواجہ فرید الدین احمد خان بہادر،  ۱۸۱۵ء میں اکبر شاہ عالم ثانی کے وزیر اعظم رہے۔ اور دبیرا لدولہ امین الملک مصلح جنگ کے خطابات پائے۔ گورنر جنرل ولزلی نے انہیں اپنا وزیر بنا کر ایران بھیجا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی طرف سے منصب وزارت کی پیش کش کو اپنی سب سے بڑی بیٹی عزیزالنساء بیگم  جو کہ سرسید کی والدہ تھیں، انکے مشورے پہ قبول نہ کیا۔
سر سید کی والدہ ماجدہ غیر معمولی سیرت و کردار کی مالک اور بڑی دانشمند خاتون تھیں۔  وہ نہ صرف بڑی راسخ العقیدہ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ صحیح العقیدہ مسلمان تھیں۔ سر سید ااپنی والدہ کے فہم دین کے متعلق لکھتے ہیں
اس زمانہ میں جبکہ میرے مذہبی خیالات اپنی ذاتی تحقیق پر مبنی ہیں اب بھی میں اپنی والدہ کے عقائد میں کوئ ایسا عقیدہ جس پر شرک یا بدعت کا اطلاق ہو سکے نہیں پاتا۔
سرسید کی عظیم شخصیت اور بے مثل سیرت و کردار کی تشکیل و تعمیر میں زیادہ تر انکی والدہ کی تربیت کا حصہ ہے۔ انکے والد میر متقی ایک آزاد منش اور درویش صفت انسان تھے اور زیادہ وقت اپنے مرشد حضرت شاہ غلام علی کی خانقاہ پہ گذارتے اور انکی صحبت میں رہتے تھے۔ گھر کا انتظام و انصرام سر سید کی والدہ کے سپرد تھا۔ 
اپنی والدہ کے بارے میں بتاتے ہیں
جب میں انکو سبق سناتا یا نئے سبق کا مطالعہ انکے پاس بیٹھ کر دیکھتا تو ایک لکڑی جس میں سوت کی گندھی ہوئ تین لڑیں باندھ رکھی تھیں۔ اپنے پاس رکھ لیتیں۔ وہ خفا تو اکثر ہوتی تھیں مگر ان سوت کی لڑوں سے کبھی مجھے مارا نہیں۔
دس گیارہ برس کی عمر میں ایک دفعہ ایک بوڑھے نوکر کو تھپڑ مار دیا، والدہ نے گھر سے نکال دیا۔  نوکرانی نے چپکے سے خالہ کے گھر پہنچا دیا۔ دو دن خالہ کے گھر چھپے رہے تیسرے دن خالہ لیکر والدہ کے پاس گئیں۔ تاکہ قصور معاف کرائیں، انہوں نے نوکر سے معافی مانگنے کی شرط پہلے رکھی۔ ڈیوڑھی میں جا کر نوکر کے آگے ہاتھ جوڑے تو قصور معاف ہوا۔
سر سید کے بڑے بھائ کا جواں عمری میں ہی انتقال ہو گیا تھا۔ مرض الموت میں وہ انکے پاس ہی بیٹھی رہتیں۔ ایک مہینہ اسی حالت میں رہ کر انتقال کر گئے۔ انکی آنکھوں سے آنسو جاری تھے کہ فجر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ وضو کر کے نماز پڑھی اور اشراق تک مصلے پہ بیٹھی رہیں۔ انہی دنوں ایک رشتے دار کی بیٹی کی شادی ہونے والی  تھی۔ شادی میں صرف چار دن رہ گئے تھے کہ یہ حادثہ پیش آگیا۔ لوگوں نے حسب دستور شادی کو ملتوی کرنا چاہا انکی موت کے تین دن بعد وہ انکے گھر گئیں اور کہا میں شادی والے گھر میں آئ ہوں۔ ماتم تین دن سے زیادہ نہیں ہوتا۔ جو خدا کو منظور تھا ہو چکا۔ تم شادی کو ہرگز ملتوی نہ کرو۔

جاری ہے

Sunday, August 8, 2010

ناراض کیوں ہوتے ہو

جیو چینل بند کر دیا گیا اور پی پی کے جیالوں نے اسکے آفس پہ حملہ کیا۔ 
کیوں؟
یہ بتانے کی مجھے ضرورت تو نہیں کہ زرداری صاحب انگلینڈ میں ڈیوڈ کیمرون سے 'کامیاب ملاقات' کے بعد  اپنے حمائتیوں سے کنونشن ہال میں خطاب کر رہے تھے کہ ان پہ ایک ادھیڑ عمر شخص نے جوتے پھینکنے کی کوشش کی۔ واقعے کے فورا بعد،  انکے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اس واقعے کے پیش آنے سے انکار کیا۔ جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات قمرزماں کائرہ نے پہلے اقرار اور پھر انکار کی پالیسی اپنائ۔
بش پر پڑنے والے جوتے نے اتنی مقبولیت حاصل کی کہ اب ہر ناراض شخص یہ کرنے کو تیار نظر آتا ہے۔ اس واقعے کے پیش آنے کے بعد لوگوں کے ہاتھ ایک نئ دلچسپی لگی۔ مغرب جہاں جوتوں کا یہ استعمال پہلے نہ تھا اس سے روشناس ہوا۔ اور نیٹ کی دنیا میں کئ گیمز آئے جن میں جوتوں کو استعمال کیا گیا تھا۔ یہی گیمز اس وقت زرداری صاحب کے لئے بھی آگئے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد پی پی کی ایک خاتون نے سابق وزیر اعلی سندھ ارباب رحیم کو سندھ اسمبلی کی عمارت کے اندر جوتوں سے مارا۔ اسکے بعد، وہ جا کر دبئ میں بیٹھ گئے۔ ایسی روائیتوں کی بنیاد پڑنے کے بعد تو یہی ہونا تھا۔ اس واقعے سے بھی لوگوں نے لطف لیا تھا۔ کل رات ارباب غلام رحیم نے ٹی وی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے اسے مکافات عمل سے تعبیر کیا۔ معلوم نہیں صدر صاحب واپس پاکستان آئیں گے یا وہ بھی دبئ میں رہنا پسند کریں گے۔
تازہ ترین واقعے کے منظر عام پہ آتے ہی پاکستان میں کھلبلی مچ گئ۔ صدر صاحب کا یہ دورہ پہلے ہی حد سے زیادہ تنقید کا شکار رہا، ملک میں اسے عالمی پیمانے پہ پاکستان کی بے عزتی اور صدر صاحب کے بے حسی سے تعبیر کیا جا رہا تھا۔ 
جیو چینل بند کر دیا گیا، کیونکہ انہوں نے جوتا مارنے والے شخص شمیم خان کا انٹرویو حاصل کر لیا تھا۔ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے چیلینج کیا تھا کہ اگر اسکی کوئ فوٹیج موجود ہے تو لائیں۔  کیونکہ ہال کے اندر کسی کو کیمرہ یا موبائل لےجانے کی اجازت نہ تھی۔ لیجئیے جناب شمیم خان نے تو پورا انٹرویو دے دیا۔

You need to install or upgrade Flash Player to view this content, install or upgrade by clicking here.


یہ ہے پاکستان میں جیالوں کے ناراض ہونے کی وجہ۔
ناراض نہ ہو تو عرض کروں، اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔  آج ہم کل تمہاری باری ہے۔ برا ماننے کی ضرورت نہیں، شاید کل آپکی باری آجائے یہ کہنے کی کہ یہ مکافات عمل ہے۔


Tuesday, May 18, 2010

نوید شب

نوید سحر تو نئے دن ، نئ امنگوں، نئے توقعات اور نئی زندگی کا پیغام  ہوتی ہیں۔ مگر جو نویدیں آدھی رات کو ملیں۔ ان سے کیا ملتا ہے؟
آدھی رات کو اطلاع ملی کہ رحمان ملک صاحب کو کورٹ کے ذریعے جو سزا ملی تھی وہ صدر صاحب کے ایک دستخط سے معاف ہو گئ۔ 
صبح ناشتے کی میز پہ بس سوالات اور آدھی باتوں کا سلسلہ جاری رہا۔  کسی نے پوچھا، یہ امریکہ کو پاکستان کا صدر بنانے کے لئے زرداری کے علاوہ کوئ نہیں ملتا؟
پھر سوال اٹھا، یوسف رضا گیلانی چالاک ہے کہ بے وقوف؟
 ایک اور فرد نے انتہائ فلسفیانہ انداز میں کہا۔ یوسف رضا گیلانی بے نظیر کے دور میں اسمبلی کے اسپیکر تھے۔ جب وہاں سے فارغ ہوئے تو چھ سال کے لئے جیل چلے گئے۔ آجکل وزیر اعظم ہیں جب یہاں سے فارغ ہونگے تو کیا ہوگا؟
پوچھا یہ وزیر داخلہ کے بجائے گیلانی صاحب کو کیوں یاد کیا جارہا ہے۔ اس لئے کہ انہوں ے صدر کو تجویز دی کہ رحمان ملک کو معاف کر دیا جائے۔ زرداری صاحب بالکل بے قصور ہیں۔ اس طرح سے ہم خطا اپنی سمجھتے تھے، قصور انکا نکل آیا۔
کسی نے کہا کہ رحمان ملک رات کو بہت اترا رہے تھے۔ مجھے خیال آیا کہ غالب نے غالباً کسی ایسے موقع کے لئے کہا تھا کہ
بنا ہے شہ کا مصاحب، پھرے ہے اتراتا
ابھی صرف یہ مصرعہ ہی اپنے رقیب کی شان میں عرض کیا تھا کہ بادشاہ کو خبر ہو گئ۔ دربار بلا کر پوچھا کہ ناہنجار میرے بارے میں کہا یا میرے ممدوح کے بارے میں۔ عقلمند آدمی تھے۔ کہنے لگے حضور یہ تو ایک مصرعہ آپ تک پہنچایا گیا ہے ۔ پورا شعر اس طرح ہے کہ
بنا ہے شہ کا مصاحب ، پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے۔
یہ تو آپ سمجھ گئے ہونگے کہ یہاں 'غالب' سے غالب کی کیا مراد تھی۔
ویسے آپ یہ مت سوچنے لگیں کہ یہاں غالب سے مراد رحمان ملک ہیں۔ یہ فی البدیہہ شعر انہوں نے اپنے شعری رقیب محمد ابراہیم ذوق کی رقابت کے اثر سے بچنے کے لئے کہا تھا۔

Thursday, March 25, 2010

پاکستان ، امریکہ اور استواری ء تعلقات

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ہمیشہ ایک معمے کی صورت رہے ہیں۔ اور عالم یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں۔ لیکن کبھی بھی حالات اس طرح کے نہیں ہو پاتے کہ تمہیں اپنوں سے کب فرصت، ہم اپنے غم سے کب خالی۔ چلو بس ہو چکا ملنا نہ تم خالی نہ ہم خالی۔ 
البتہ عوام کا ایک طبقہ جو یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے تمام مسائل کی جڑ امریکہ کا ہمارے اندر مصروف رہنا ہے وہ کہتے ہیں کہ
خیر اس موقع پہ میں عوام کا تذکرہ کر کے آپکے منہ کا ذائقہ خراب نہیں کرنا چاہتی۔ آخر وہ خوامخواہ ہوتے ہی  کیوں ہیں۔
چلیں پھر خواص کی باتیں کریں۔ ماضی ء قریب میں موجودہ صدر صاحب کے سارا پالن سے ہاتھ ملالینے اور معانقے کرنے کی خواہش  کا اظہار کرنے
پہ ان لوگوں نے وہ ہلہ بولا کہ کچھ تاریخی شاہکار وجود میں آگئے۔

یہ دیکھئے یہ ہے انکے دشمنوں کے تخیل کی پرواز۔ گھٹیا حرکت۔ ایسے ہی کسی موقع پہ شاید چڑ کر غالب نے کہا کہ خواہش کو احمقون نے پرستش دیا قرار۔ کیا پوجتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں۔ میری ہمدردیاں اپنے محبوب صدر کے ساتھ رہیں۔

آج ہم سبکی محبوب امریکن وزیر ہلیری کلینٹن نے اعلی سطح کی امریکن اور پاکستانی اسٹریٹجک میٹنگ کے بعد اسے نئے تعلقات کی استواری کا نیا دن قرار دیاہے۔ نئے تعلقات کی استواری کے اس نئے دن پہ  آپ سب کے تخیل کی بلند پرواز کے لئیے یہ تصویر حاضر ہے۔


نہیں معلوم شاہ محمود قریشی  نے کیا سوچا۔ ہم اگر شاعر ہوتے تو کہتے کہ
اول اول کی محبت کے نشے یاد تو کر
بے پئیے بھی تیرا چہرہ تھا گلستاں جاناں

Saturday, January 30, 2010

زبردست کی بیوی سب کی دادی

صدر پاکستان نے لیاری کی حالت زار کو سامنے رکھتے ہوئے لیاری کے لئیے دو ترقیاتی پروجیکٹس کا اعلان کیا۔ اور ان سب کا باجماعت افتتاح وزیر اعلی ہاءوس میں کیا گیا۔اس بہانے تیسرے پروجیکٹس کے غریبوں کو بھی وزیر اعلی ہاءوس دیکھنے کو مل گیا جو پروجیکٹ کے تحت بننے والی ایک کم لاگت کے مکانوں کی بستی میں اپنے مکان کی ملکیت لینے گئے تھے۔
اب بھولپن میں یہ مت سمجھ لیجئیے گا کہ لیاری وزیر اعلی ہاءوس کے اندر ہے۔ جی نہیں، یہ کراچی شہر کے بیچوں بیچ واقع ہے۔  جب سے پیپلز پارٹی وجود میں آئ اس علاقے نے ہمیشہ انکا ساتھ دیا اور اس سے پارٹی کا مورال اتنا بلند ہے کہ صدر نے جو کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بھی ہیں یہ کہا کہ بلاول کے برتھ سرٹیفیکیٹ پہ جائے پیدائش لیاری لکھا ہونے کی وجہ سے نبیل گبول صاحب  کی سیٹ کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ یعنی یہ پیشن گوئ میں بھی کر سکتی ہوں کہ بلاول وزیر اعظم بننے کے لئیے انتخاب لیاری سے لڑیں گے۔
صدر کے عہدے پہ فائز ہونے کے بعد صدر صاحب کا حس مزاح نازک خیالی کی بلندیوں پہ پہنچ گیا ہے۔ اور یہ کچھ ایسا خلاف معمول بھی نہیں کہ خدا جب حکومت دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے۔ اور صرف نزاکت ہی کیا، نجابت، فصاحت، شرارت اور رذالت سب ہی آجاتی ہیں۔ بس نہیں آتی تو ندامت نہیں آتی۔
تو اسی بے ندامتی کی حالت میں انہوں نے لیاری کے لئیےجن دو پروجیکٹس کا اعلان کیا انکے نام  انکی مرحوم اہلیہ اور پارٹی کی سابق چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کے نام پہ رکھے گئے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ کم لاگت کے مکانوں والی بستی کا نام بھی انہی کے نام پہ رکھا گیا ہے۔
یہاں پہ میں پاکستانی عوام کو ایک بے حد اہم راز سے آگاہ کرنیوالی ہوں اور وہ یہ کہ ان پروجیکٹس پہ خرچ ہونے والی تمام رقم بے نظیر صاحبہ کی ذاتی جائیداد یا صدر صاحب کے سوئس اکاءونٹ کی زکوات سے نہیں بلکہ ان پیسوں سے ہوگی جو عنیقہ ناز سمیت ہر پاکستانی نے ٹیکس کی مد میں حکومت پاکستان کو ادا کئیے۔ یا جو بیرون ملک مالدار ملکوں کو اپنی غریب عوام کی بیچاری حالت کا واسطہ دیکر قرضہ لئیے گئے ہیں اور جنہیں ہم عوام  اپنا خون پسینہ بہا کر اور اپنا پیٹ کاٹ کر ، اپنے بچے بیچ کر اور اپنے بچے مار کر ادا کریں گے۔
  اگر ان پروجیکٹس کو کسی نہ کسی کے نام پہ رکھنا ہی ہے تو اسکے نام پہ رکھیں جو سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے نہ کہ انکے نام پہ جو ہمارے اس چندے میں سے جو ہم ریاست کے امور چلانے کے لئیے دیتے ہیں اور  جسے اب بھتہ کہنا زیادہ مناسب ہے  اپنی تن آسانی کے سامان پیدا کرتے ہیں اور نام اپنا یا اپنے رشتےداروں کا بنا دیتے ہیں۔
اگر بے نظیر عظیم لیڈر تھیں تو پاکستان  ان سے کہیں زیادہ عظیم لیڈروں کو برت چکا ہے اور خود پاکستان ان سے زیادہ عظیم ہے۔ اگر انہوں نے مصائب اٹھائے تو عوام نے ان سے کہیں زیادہ مصائب اٹھائے، اگر وہ ماری گئیں تو قوم اپنی اور اپنے سپوتوں کی قربانی ان سے کہیں زیادہ دے چکی ہے۔ میرا بلکہ ہم سب کا حکومت پاکستان سے مطالبہ ہونا چاہئیے کہ وہ تمام پروجیکٹس جنکا  نام کسی بھی پارٹی لیڈر کے نام پہ  رکھا گیا ہے اگر ان میں انکے ذاتی پیسے خرچ نہیں ہوئے تو انہیں عوام کے نام پہ رکھا جائے یا پاکستان کے نام پہ۔ ان تمام جگہوں اور پروجیکٹس کے نام کو فی الفور تبدیل کیا جانا چاہئیے۔  قانون بنایا جائے کہ جمہوری نظام میں ایسا کرنے کا حق کسی کو نہیں۔  کیونکہ جمہوریت کا مطلب عوام کی حکومت عوام کے لئیے ہے۔

حوالہ؛

Wednesday, June 24, 2009

کریلہ اور کترینہ کیف


آج میں ایسا کچھ نہیں لکھ رہی جس میں کوئ مقصد ہو سوائے کچھ لوگوں کی دل پشوری کے۔ خاص طور پر انکے لئے جو کریلہ کھانا سخت نا پسند کرتے ہیں۔ کریلہ پکانے کی یہ تر کیب اگرچہ ایک ماہر امور خانہ داری خاتون سے متائثر ہو کر بنائ گئ ہے۔ جی، یہ وہی خاتون ہیں جو ٹی وی پہ کھانا پکانے کا پروگرام کرتے ہوئے اپنی جوانی کی تصویر اپنے کچن میں لگا کر رکھتی ہیں۔


گھبرا ئیے نہیں، اگر آپ میں سے کچھ لوگ عین عالم شباب میں بھی بڑھاپے کی تصویر نظر

آتے ہیں۔ تو ان پر واضح ہو کہ اس تر کیب کے لئے جوانی کی تصویر کچھ ضروری نہیں۔ دل چاہ رہا ہو تو کسی اور کی جوانی کی تصویر لگا لیں۔ اور اگر کوئ نہ ملے تو پھر ظالمانہ حد تک خوبصورت لگنے والی خاتون کی تصویر لگا لیں۔ سنا ہے آجکل یہ اعزاز کترینہ کیف کو ملو ہوا ہے۔ لیکن میں یہ بھی آپکی پسند
پہ چھوڑتی ہوں۔ جو بھی ظالمانہ حد تک خوبصورت لگتا ہو چاہے زرداری ہی کیوں نہ ہو ۔
اس سے اس ڈش کے ذائقے پر کوئ فرق نہیں پڑے گا۔

ہماری یہ خاتون ہر ڈش کے اندر کہیں نا کہیں چکن ضرور استعمال کرتی ہیں۔ اگر وہ زردہ بناتی ہیں
تو بھی کسی نہ کسی ککڑ کا آس پاس ہونا ضروری ہوتا ہے۔ تاکہ اس کی ککڑوں کوں اس میں
وقفے وقفے سے شامل ہوتی رہے۔ اور دسترخوان پہ بیٹھ کر آپ یہ کہہ سکیں کہ گھٹ گئ مرغی، بڑھ گیا سالن۔ وجہ صاف ظاہر ہے پانی سے۔ یہاں میں آپ کو مرغیوں کے بھاءو، اور ہمارے محبوب صدر
کےبیرونی دوروں کے حوالے سے کوئ تعلق نہیں بتانا چاہ رہی۔ ایسا اگر کوئ کرتا ہے تو
وہ اپنی صوابدید پہ کر رہا ہے۔ میرا اس سے کوئ تعلق نہیں ہے۔

اب اگر آپ عاجز آ کر اس پوسٹ کو بند کرنا چاہ رہے ہیں تو بتا دوں کہ ابھی کچھ الفاظ کے بعد آپ کی خدمت میں کریلہ پکانے کی ایک ایسی ترکیب پیش کی جارہی ہے۔جو ملک کے کچھ غیر متوقع سائنسدانوں نے چوری چھپے سوچی۔ فنڈز کی کمی کی بناء پر اس کو فوری طور پر آزمایا نہیں گیا۔ لیکن جب تک فنڈز ملنا شروع ہوئے یعنی ان میں سے کچھ لوگوں کی شادی ہو گئ تو پتہ یہ چلا کہ نئ اینٹریز کریلوں کو ارتقاء کے راستے میں پیدا ہونے والی کڑواہٹ سمجھتے ہیں اور اسے دیکھنے کے بھی روادار نہیں چہ جائیکہ پکانے کے۔ اس سے آپ یہ نہ سمجھیں کہ اب میں آپ سے کریلوں کی فلا ح و بہبود کے لئے چندہ مانگنے والی ہوں۔ اس سے مقصود صرف اتنا تھا کہ آپ کو پتہ رہے کہ یہ ترکیب اتنی نادر ہے ابھی تک آزمائ بھی نہیں گئ۔ اور اس کے جملہ حقوق بالکل محفوظ نہیں ہیں۔اب آپ مجھے گالیاں دینے والے ہونگے یہ مرحلہ اس ڈش کے لئے بہت ضروری ہے۔ اس سے جو ذائقہ پیدا ہوگا وہی اس کا راز ہے۔

سو،اب میں وہ کرنے جا رہی ہوں جس کے لئے اقبال اپنی زندگی میں اور میری پیدائش سے قبل ہی مجھے لعن طعن کر کے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا اور میں نے سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی اس بات کو انتہائ خنداں پیشانی سے سنا۔

تو نے یہ کیا غضب کیا، اس کو بھی فاش کردیا
یہ ہی تو ایک راز تھا سینہء کائنات میں

تو جناب اس ترکیب کے لئے آپ کو چاہئےایک مرگی یعنی چکن، کہیں مرغی مت لے لیجئے گا۔ ورنہ ساری محنت اکارت جائے گی۔ مزید چیزوں میں ایک مکھن کی ٹکیہ اور ایک کنور کیوب۔ مکھن جتنا زیادہ ہو اتنا اچھا ہے۔ اس کے زیادہ استعمال سے طبقہء اشرافیہ سے آپکے اٹوٹ رشتوں کا پتہ چلتا ہے۔ نہیں نہیں اس کا مشرف سے کوئ تعلق نہیں۔ نہ ہی آپکے چوکیدار اشرف سے۔ کیا کہا، کریلہ کہاں ہے۔ اوہ ہاں ، ایک عدد کریلہ بھی لے لیں۔ اگر نہیں ملے تو تصویر سے بھی کام چلے گا لیکن کریلے کی۔ ظالمانہ حد تک خوبصورت لگنے والی خاتون کی تصویر آپ کے لئے ہے۔ مر گی یا مکھن کو اس سے کوئ دلچسپی نہیں۔ اور صحیح بات تو یہ ہے کہ ان خاتون کو بھی اس سے کوئ دلچسپی نہیں اور ان تینوں کا نام ایک ساتھ ایک جملے میں لینے پر آپ کے خلاف ہتک حسن کا دعوی بھی دائر کیا جا سکتا ہے۔ ڈرئیے نہیں حسین کافی خود بیں و خود آرا ہوتے ہیں اور انہیں پڑھنے کی فرصت نہیں ہوتی پھر بھی حیران کن طور پہ وہ پڑھاتے اچھا ہیں۔

اب ہم واپس چکن کی طرف آتے ہیں۔اگر آپ نے ذبح کی ہوئ مرگی لی ہے تو وہ اب تک اپنی جگہ پر ہوگی ورنہ دوسری صورت میں آپ کو ایک عدد اور چاہئیے ہوگی۔ مرگی، کترینہ نہیں۔ وہ صرف ایک ہے اور بھاگ جانے کی صورت میں آپ کو اسکا ککھ بھی نہیں ملے گا۔ اچھا اب کریلے کو اچھی طرح دھولیں۔ چھیلیں خوب اچھی طرح اور پھر دھوئیں۔ اب اس کریلے کو مرگی کے پیٹ کے اندر رکھ دیں۔ زندہ نہیں ذبح کی ہوئ اور صاف کی ہوئ۔ زندہ کے پیٹ میں اس کا انڈہ ہو گا جس سے اور مرگیاں بنیں گی اور آلائیشیں اندر سے صاف نہ کی جائیں تو کچھ لوگوں کو زیادہ کیا بالکل مزہ نہیں آتا۔ ویسے یہ آپکی پسند پہ ہے۔۔ اب اس کے ساتھ تھوڑا سا مکھن اور کنور کی ٹکیہ بھی رکھدیں۔ مرگی کے باہر اچھی طرح مکھن لگائیں۔ یہاں تک کہ سارا مکھن ختم یعنی خلاص ہو جائے۔ ورنہ یہ بچا ہوا مکھن کسی اور کے لگانے کے کام آئیگا۔ اور مرگئیوں کو یہ بات کچھ خاص پسند نہیں۔

اب اسے دھیمی آنچ پہ ایک منٹ پکائیں۔ اگر اس سلسلے میں اسٹاپ واچ استعمال کریں تو بہتر ہے۔ ورنہ ساٹھ تک گنتی گن لینا کافی ہے۔ اب ڈھکن کھولیں اور کریلے کو نکال کر باہر پھینک دیں۔ اس کی ساری غذائیت مرگی میں منتقل ہو چکی ہے۔ اب اس کی ضرورت نہیں۔ مرگی کو مکھن میں اچھی طرح تل لیں۔ اس مرحلے پہ آپ کو چلو بھر پانی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ لاہور میں رہائش پذیر بھاگ کر نہر سے لے آئیں۔ کراچی والے سرکاری نل کی ہوا پہ گذارا کریں۔ سمندر کے پانی میں نمک زیادہ ہوتا ہے اس سے مرگی کا بلڈ پریشر ہائ ہوسکتا ہے۔ خیال رہےاس پانی میں آپ کو ڈوبنا نہیں ہے اور نہ ہی کسی کترینہ کو پلانا ہے وہ منرل واٹر پیتی ہے۔ اس سے صرف تلنے کے دوران مرگی کو چھینٹا دینا ہے۔ اس طرح آپ کو پتہ چلے گاکہ یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے۔ اگلے مرحلے میں جتنے مصالحہ جات کے نام آپ کو آتے ہیں اس میں ڈالدیں۔ کلچہ نان کے ساتھ جو موجاں ہونگیں۔ وہ تو آپ اور نان ہی جان سکتے ہیں۔ کیا کہا کریلے کا کیا ہوا۔ کریلوں کی فکر کرنے کی کوئ ضرورت نہیں۔ یہ تعصب کہلاتا ہے۔ انہیں اپنی بقاء کی جنگ خود لڑنے دیں۔ ورنہ پڑا سڑنے دیں۔ اہل پنجاب کی وضاحت کے لئیے سڑنے کے معنی یہاں بمطابق اردو ہیں۔ مزید معلومات کے لئے اگر ناگوار خاطر نہ گذرے تو کسی کراچی والے سے پوچھ لیں۔ زیادہ دل نہ جلائیے گا۔ یہی تو ایک چیز ہے سینہء کائنات میں۔

نوٹ: کریلوں کی بقاء کی فکر میں گھلنے والے اس مضمون کی کاپی کرواکے جہاں دل چاہے بھجوا دیں۔ وہ یعنی کریلے ارتقاء کے عمل میں کہیں بھی کوئ رخنہ پیدا کرنے کے قابل نہیں۔

ریفرنس؛