Showing posts with label مشرف. Show all posts
Showing posts with label مشرف. Show all posts

Sunday, July 15, 2012

دروازہ پچکاں

بلوچستان میں معدنیات کی ایک کان پہ جانے کا اتفاق ہوا تو بہت ساری دلچسپ باتوں کا اندازہ ہوا۔  بلوچستان کا زیادہ تر علاقہ پہاڑوں پہ مشتمل ہے وہ بھی بنجر پہاڑ۔ ان پہاڑوں کو دیکھ کر خیال کیا جا سکتا ہے کہ یہ کسی زمانے میں سمندر کے پانی سے ڈھکے ہوئے تھے اور جب یہ پانی غائب ہوا تو سمندر میں پوشیدہ یہ پہاڑ ظاہر ہو گئے۔ یہ کام ہزاروں سال پہلے ہوا ہوگا۔ اب یہ بظاہر بنجر پہاڑ، اپنےاندر خزانوں کو چھپائے ہوئے ہیں۔ یہ خزانے  پر اسرار تو نہیں  لیکن لگتا ہے کہ ان پہ کسی آسیب کا سایہ ہے۔ یہ آسیب ان خزانوں کو باہر آنے نہیں دیتا ، دروازہ بند رکھتا ہے اور اسکا پہرہ دار ہے۔


ہمارے بلوچ ساتھی نے ہمیں معلومات دیں کہ اس علاقے میں لوہا، تانبا، بیریئم اور دیگر دھاتوں کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ ہم نے جب انٹر نیٹ کی طرف توجہ کی تو پتہ چلا کہ لوہا، تانبا، کرومیئم، بیرائٹ، فلورائیٹ اور مختلف طرح کے سنگ مر مر ہی نہیں سونا بھی یہاں سے نکالا جاتا ہے۔
   سونا جیسی زمین نہیں بلکہ سونے کی کانیں بھی بلوچستان میں موجود ہیں۔ یہ سونا ایک چینی کمپنی نکال رہی ہے۔ سونا،  تانبے کے ذخائر کے ساتھ عام طور سے ملتا ہے۔ سونے اور تانبے کے یہ ذخائر، ریکو ڈک جوکہ ایک چھوٹآ سا قصبہ ہے چاغی ڈسٹرکٹ ، بلوچستان میں پائے جاتے ہیں۔
 ہم جس علاقے میں موجود تھے یہ بیلہ کے قریب ہے۔ یہاں سے ماربل کی بڑی مقدار نکالی جا رہی ہے۔ ہمارے بلوچ ساتھی نے جن کا نام ہم انیس بلوچ فرض کر لیتے ہیں ہمیں بتایا کہ وہ علاقے جو سمندر کے ساتھ ہیں وہاں عام طور پہ ماربل نہیں ہوتا ، جو ہوتا ہے وہ اچھے معیار کا نہیں ہوتا۔ سمندر کا پانی اسے خراب کر دیتا ہے۔ ادھر بیلہ کی طرف اس کے بقول زیر زمین قدرتی گیس پائ جاتی ہے جو کہ زیادہ تر ماربل کی چٹانوں کو پھاڑ دیتی ہے۔ جس سے ماربل کا معیار اچھا نہیں رہتا۔
چٹان کی پھٹی ہوئ تہیں

انیس نے ہمیں مزید بتایا کہ ماربل کی  کانوں سے پیداوار اتنی اچھی حاصل نہیں ہو پاتی کیونکہ ہمارے پاس ماربل کی کان کنی کے لئے جدید مشینیں موجود نہیں ہیں۔ عام طور پہ چٹانوں کو توڑنے کے لئے ڈائینامائیٹ استعمال ہوتا ہے جس سے چٹان تباہ ہو جاتی ہے اور بڑے سائز کا پتھر نہیں ملتا۔ انیس بلوچ کا کہنا تھا کہ تقریباً پچھتر فی صد پیداوار تباہ ہوجاتی ہے جبکہ باہر کے ممالک میں یہ تناسب نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔
مشینیں کیوں نہیں ہیں، جبکہ بلوچستان کو قدرتی وسائل سے مالا مال زمین سمجھا جاتا ہے۔ انیس کا کہنا تھا کہ حکومت زراعت کے لئے قرضہ دیتی ہے لیکن معدنیات کے لئے نہیں۔ لوگ اپنے طور پہ کام کرتے ہیں اور یہ بھاری بھرکم مشینیں نہیں خریدسکتے۔
حکومت کیوں ایسے قوانین نہیں بناتی کہ معدنیات کے لئے بھی قرضہ فراہم کیا جائے۔ اس پہ انیس بلوچ نے ہنستے ہوئے کہا یہ حکومت کہاں ہے یہ تو قبضہ گروپ ہے۔ ابھی ادھر زہری کی جو کانیں ہیں ، زرداری کی کوشش ہے کہ اس پہ اس کا قبضہ ہوجائے۔
یہ تو تھے ایک بلوچ کے خیالات۔ میرے خیال سے تو سرداری نظام ہر چیز پہ حاوی ہے۔ یہ کانیں سردار کی مرضی کے بغیر کوئ استعمال نہیں کر سکتا۔ 
سارا دن پہاڑ پہ ایک گرم دن اس طرح گذارا کہ لو چل رہی تھی اور ہم چٹائیوں سے بنے ایک شیڈ کے نیچے چٹائیوں پہ بیٹھے ہوئے تھے۔ کان پہ زیادہ تر مزدور پٹھان اور انتظامیہ سرائکی اور بلوچ تھی۔
دن کے تین بجے تک اس بات کے قوی امکان پیدا ہو چلے تھے کہ ہمیں لو لگ جائے گی۔ تب ہمارے میزبان ہمیں قریب واقع ایک چشمے پہ لے گئے۔ یہ جگہ درختوں سے گھری ہوئ تھی۔ زمین سے مختلف سمتوں سے پانی رس رس کر جمع ہورہا تھا اور اس نے ایک نالے کی شکل اختیار کر لی تھی۔ یہ چشمہ چند گز کا فاصلہ طے کرنے کے بعد زمین میں غائب ہو رہا تھا۔
چشمے کا پانی یہاں زمین میں غائب ہو رہا ہے

 صاف ستھرے اس پانی کو ہم نے پینے کی بھی جراءت کی۔ اگرچہ اس میں کائ کی مہک شامل تھی اور اسکے ارد گرد بن جانے والے جوہڑوں میں مینڈک بھی موجود تھے۔  لوگوں نے بالخصوص بچوں نے اس میں اشنان کرنے کی سعی بھی کی۔ اپنی اس کوشش میں وہ اس حد تک کامیاب رہے کہ پانی میں پاءوں پھیلا کر لیٹ گئے۔ اشنان اس لئے کہ غسل میں میرا خیال ہے زیادہ پانی خرچ ہوتا ہے۔


اگر کائ کی مہک نہ ہو تو اس پانی کا کاروبار بھی کیا جا سکتا ہے۔ میں نے سوچا۔ ماں کے دودھ جیسا خالص پانی، ایک بلوچ محاورہ ہے۔ بلوچستان میں پینے کا پانی اہمیت رکھتا ہے کہ یہاں میٹھے پانی کا کال ہے۔
بہر حال پہاڑوں پہ بادل گرجنے کی ہلکی سی آواز آئ تو ہم نے اپنا ڈیرہ سمیٹا کہ ان علاقوں میں سیلابی پانی انتہائ تیزرفتاری سے کسی بھی وقت دھاوا بول سکتا ہے اور اس میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ کسی گاڑی کو اپنے ہمراہ لے جائے۔ ابھی ہم کچے میں ہی تھے موبائل فون بجا۔ اطلاع ملی کہ اس کان پہ بارش ہو گئ جہاں ہم ابھی ایک گھنٹہ پہلے موجود تھے۔  موسم بہتر ہو چلا تھا۔
وہاں سے واپسی پہ ایک گاءوں کے نزدیک ایک ہوائ چکی دیکھی یعنی ونڈ مل جسکے ساتھ عورتیں کپڑے دھو رہی تھیں۔ معلوم ہوا کہ مشرف کے دور میں یہ پن چکی یہاں لگائ گئ تھی۔ جسکی مدد سے کنویں سے پانی نکالا جاتا ہے۔
 انیس بلوچ کے خیال میں مشرف کی پالیسی معدنیات کے حوالے سے اچھی تھیں۔ اس کے دور میں اس سمت میں کام بھی ہوا لیکن اب کوئ پرسان حال نہیں۔
 اوتھل کے قریب جب ہم ایک دوکان سے پانی لے رہے تھے ایک عورت گاڑی کے نزدیک آکر بھیک مانگنے لگی۔ یہ ایک سرائکی عورت لگ رہی تھی۔ وہیں پہ ایک صاحب دوکان پہ کھڑے باتیں کر رہے تھے خالص کارخانے دار دہلوی انداز میں۔
اور گاڑی میں مشعل، دیگر بلوچی بچوں کو بتا رہی تھی کہ اسے بلوچی آتی ہے۔ پھر اس نے ایک جملہ بول کر دکھایا بلوچی لب و لہجے میں۔ دروازہ پچکاں۔ ہمارے ساتھیوں نے اسے داد دی اور ان میں سے کسی نے پوچھا، تمہیں اسکے مطلب پتہ ہیں۔ اس نے کہا، ہاں دروازہ کھول دو۔
بلوچستان کی  بھی اس وقت یہی آواز ہے، دروازہ پچکاں۔ دروازہ کھول دو ترقی کی طرف، آگہی کی طرف۔

Wednesday, June 24, 2009

کریلہ اور کترینہ کیف


آج میں ایسا کچھ نہیں لکھ رہی جس میں کوئ مقصد ہو سوائے کچھ لوگوں کی دل پشوری کے۔ خاص طور پر انکے لئے جو کریلہ کھانا سخت نا پسند کرتے ہیں۔ کریلہ پکانے کی یہ تر کیب اگرچہ ایک ماہر امور خانہ داری خاتون سے متائثر ہو کر بنائ گئ ہے۔ جی، یہ وہی خاتون ہیں جو ٹی وی پہ کھانا پکانے کا پروگرام کرتے ہوئے اپنی جوانی کی تصویر اپنے کچن میں لگا کر رکھتی ہیں۔


گھبرا ئیے نہیں، اگر آپ میں سے کچھ لوگ عین عالم شباب میں بھی بڑھاپے کی تصویر نظر

آتے ہیں۔ تو ان پر واضح ہو کہ اس تر کیب کے لئے جوانی کی تصویر کچھ ضروری نہیں۔ دل چاہ رہا ہو تو کسی اور کی جوانی کی تصویر لگا لیں۔ اور اگر کوئ نہ ملے تو پھر ظالمانہ حد تک خوبصورت لگنے والی خاتون کی تصویر لگا لیں۔ سنا ہے آجکل یہ اعزاز کترینہ کیف کو ملو ہوا ہے۔ لیکن میں یہ بھی آپکی پسند
پہ چھوڑتی ہوں۔ جو بھی ظالمانہ حد تک خوبصورت لگتا ہو چاہے زرداری ہی کیوں نہ ہو ۔
اس سے اس ڈش کے ذائقے پر کوئ فرق نہیں پڑے گا۔

ہماری یہ خاتون ہر ڈش کے اندر کہیں نا کہیں چکن ضرور استعمال کرتی ہیں۔ اگر وہ زردہ بناتی ہیں
تو بھی کسی نہ کسی ککڑ کا آس پاس ہونا ضروری ہوتا ہے۔ تاکہ اس کی ککڑوں کوں اس میں
وقفے وقفے سے شامل ہوتی رہے۔ اور دسترخوان پہ بیٹھ کر آپ یہ کہہ سکیں کہ گھٹ گئ مرغی، بڑھ گیا سالن۔ وجہ صاف ظاہر ہے پانی سے۔ یہاں میں آپ کو مرغیوں کے بھاءو، اور ہمارے محبوب صدر
کےبیرونی دوروں کے حوالے سے کوئ تعلق نہیں بتانا چاہ رہی۔ ایسا اگر کوئ کرتا ہے تو
وہ اپنی صوابدید پہ کر رہا ہے۔ میرا اس سے کوئ تعلق نہیں ہے۔

اب اگر آپ عاجز آ کر اس پوسٹ کو بند کرنا چاہ رہے ہیں تو بتا دوں کہ ابھی کچھ الفاظ کے بعد آپ کی خدمت میں کریلہ پکانے کی ایک ایسی ترکیب پیش کی جارہی ہے۔جو ملک کے کچھ غیر متوقع سائنسدانوں نے چوری چھپے سوچی۔ فنڈز کی کمی کی بناء پر اس کو فوری طور پر آزمایا نہیں گیا۔ لیکن جب تک فنڈز ملنا شروع ہوئے یعنی ان میں سے کچھ لوگوں کی شادی ہو گئ تو پتہ یہ چلا کہ نئ اینٹریز کریلوں کو ارتقاء کے راستے میں پیدا ہونے والی کڑواہٹ سمجھتے ہیں اور اسے دیکھنے کے بھی روادار نہیں چہ جائیکہ پکانے کے۔ اس سے آپ یہ نہ سمجھیں کہ اب میں آپ سے کریلوں کی فلا ح و بہبود کے لئے چندہ مانگنے والی ہوں۔ اس سے مقصود صرف اتنا تھا کہ آپ کو پتہ رہے کہ یہ ترکیب اتنی نادر ہے ابھی تک آزمائ بھی نہیں گئ۔ اور اس کے جملہ حقوق بالکل محفوظ نہیں ہیں۔اب آپ مجھے گالیاں دینے والے ہونگے یہ مرحلہ اس ڈش کے لئے بہت ضروری ہے۔ اس سے جو ذائقہ پیدا ہوگا وہی اس کا راز ہے۔

سو،اب میں وہ کرنے جا رہی ہوں جس کے لئے اقبال اپنی زندگی میں اور میری پیدائش سے قبل ہی مجھے لعن طعن کر کے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا اور میں نے سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی اس بات کو انتہائ خنداں پیشانی سے سنا۔

تو نے یہ کیا غضب کیا، اس کو بھی فاش کردیا
یہ ہی تو ایک راز تھا سینہء کائنات میں

تو جناب اس ترکیب کے لئے آپ کو چاہئےایک مرگی یعنی چکن، کہیں مرغی مت لے لیجئے گا۔ ورنہ ساری محنت اکارت جائے گی۔ مزید چیزوں میں ایک مکھن کی ٹکیہ اور ایک کنور کیوب۔ مکھن جتنا زیادہ ہو اتنا اچھا ہے۔ اس کے زیادہ استعمال سے طبقہء اشرافیہ سے آپکے اٹوٹ رشتوں کا پتہ چلتا ہے۔ نہیں نہیں اس کا مشرف سے کوئ تعلق نہیں۔ نہ ہی آپکے چوکیدار اشرف سے۔ کیا کہا، کریلہ کہاں ہے۔ اوہ ہاں ، ایک عدد کریلہ بھی لے لیں۔ اگر نہیں ملے تو تصویر سے بھی کام چلے گا لیکن کریلے کی۔ ظالمانہ حد تک خوبصورت لگنے والی خاتون کی تصویر آپ کے لئے ہے۔ مر گی یا مکھن کو اس سے کوئ دلچسپی نہیں۔ اور صحیح بات تو یہ ہے کہ ان خاتون کو بھی اس سے کوئ دلچسپی نہیں اور ان تینوں کا نام ایک ساتھ ایک جملے میں لینے پر آپ کے خلاف ہتک حسن کا دعوی بھی دائر کیا جا سکتا ہے۔ ڈرئیے نہیں حسین کافی خود بیں و خود آرا ہوتے ہیں اور انہیں پڑھنے کی فرصت نہیں ہوتی پھر بھی حیران کن طور پہ وہ پڑھاتے اچھا ہیں۔

اب ہم واپس چکن کی طرف آتے ہیں۔اگر آپ نے ذبح کی ہوئ مرگی لی ہے تو وہ اب تک اپنی جگہ پر ہوگی ورنہ دوسری صورت میں آپ کو ایک عدد اور چاہئیے ہوگی۔ مرگی، کترینہ نہیں۔ وہ صرف ایک ہے اور بھاگ جانے کی صورت میں آپ کو اسکا ککھ بھی نہیں ملے گا۔ اچھا اب کریلے کو اچھی طرح دھولیں۔ چھیلیں خوب اچھی طرح اور پھر دھوئیں۔ اب اس کریلے کو مرگی کے پیٹ کے اندر رکھ دیں۔ زندہ نہیں ذبح کی ہوئ اور صاف کی ہوئ۔ زندہ کے پیٹ میں اس کا انڈہ ہو گا جس سے اور مرگیاں بنیں گی اور آلائیشیں اندر سے صاف نہ کی جائیں تو کچھ لوگوں کو زیادہ کیا بالکل مزہ نہیں آتا۔ ویسے یہ آپکی پسند پہ ہے۔۔ اب اس کے ساتھ تھوڑا سا مکھن اور کنور کی ٹکیہ بھی رکھدیں۔ مرگی کے باہر اچھی طرح مکھن لگائیں۔ یہاں تک کہ سارا مکھن ختم یعنی خلاص ہو جائے۔ ورنہ یہ بچا ہوا مکھن کسی اور کے لگانے کے کام آئیگا۔ اور مرگئیوں کو یہ بات کچھ خاص پسند نہیں۔

اب اسے دھیمی آنچ پہ ایک منٹ پکائیں۔ اگر اس سلسلے میں اسٹاپ واچ استعمال کریں تو بہتر ہے۔ ورنہ ساٹھ تک گنتی گن لینا کافی ہے۔ اب ڈھکن کھولیں اور کریلے کو نکال کر باہر پھینک دیں۔ اس کی ساری غذائیت مرگی میں منتقل ہو چکی ہے۔ اب اس کی ضرورت نہیں۔ مرگی کو مکھن میں اچھی طرح تل لیں۔ اس مرحلے پہ آپ کو چلو بھر پانی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ لاہور میں رہائش پذیر بھاگ کر نہر سے لے آئیں۔ کراچی والے سرکاری نل کی ہوا پہ گذارا کریں۔ سمندر کے پانی میں نمک زیادہ ہوتا ہے اس سے مرگی کا بلڈ پریشر ہائ ہوسکتا ہے۔ خیال رہےاس پانی میں آپ کو ڈوبنا نہیں ہے اور نہ ہی کسی کترینہ کو پلانا ہے وہ منرل واٹر پیتی ہے۔ اس سے صرف تلنے کے دوران مرگی کو چھینٹا دینا ہے۔ اس طرح آپ کو پتہ چلے گاکہ یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے۔ اگلے مرحلے میں جتنے مصالحہ جات کے نام آپ کو آتے ہیں اس میں ڈالدیں۔ کلچہ نان کے ساتھ جو موجاں ہونگیں۔ وہ تو آپ اور نان ہی جان سکتے ہیں۔ کیا کہا کریلے کا کیا ہوا۔ کریلوں کی فکر کرنے کی کوئ ضرورت نہیں۔ یہ تعصب کہلاتا ہے۔ انہیں اپنی بقاء کی جنگ خود لڑنے دیں۔ ورنہ پڑا سڑنے دیں۔ اہل پنجاب کی وضاحت کے لئیے سڑنے کے معنی یہاں بمطابق اردو ہیں۔ مزید معلومات کے لئے اگر ناگوار خاطر نہ گذرے تو کسی کراچی والے سے پوچھ لیں۔ زیادہ دل نہ جلائیے گا۔ یہی تو ایک چیز ہے سینہء کائنات میں۔

نوٹ: کریلوں کی بقاء کی فکر میں گھلنے والے اس مضمون کی کاپی کرواکے جہاں دل چاہے بھجوا دیں۔ وہ یعنی کریلے ارتقاء کے عمل میں کہیں بھی کوئ رخنہ پیدا کرنے کے قابل نہیں۔

ریفرنس؛


Thursday, June 11, 2009

میں نہ مانوں

میں پاکستان سے باہر چند پاکستانی خواتین کے ساتھ بیٹھی خوش گپیوں میں مصروف تھی کہ کسی نے ٹکڑا لگایا۔' یار پاکستانی لڑکیاں بہت میک اپ کرتی ہیں۔ معلوم ہے ان کے کمروں میں جا کر دیکھو تو ڈریسنگ ٹیبل پہ طرح طرح کا سامان بھرا پڑا ہوتا ہے اسکے باوجود پاکستانی اپنے آپ کو غریب کہتے ہیں۔' وہاں موجود ہر ذی روح نے اس کی تائید کی، سوائے میرے۔ کتنی پاکستانی لڑکیوں کے پاس اپنے ذاتی کمرے اور ان میں ڈریسنگ ٹیبل موجود ہوتا ہے چہ جائیکہ بھانت بھانت کا میک اپ کا سامان۔ ہم اس خطے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں ایک کمرے میں پانچ چھے لوگ سوتے ہیں۔لوگوں کے پورے گھر ایک کمرے پہ مشتمل ہوتے ہیں۔ کراچی یونیورسٹی کی حد تک میں نے یہ دیکھا کہ نوے فی صد لڑکے اور لڑکیاں شام کو ٹیوشن پڑھاتے ہیں۔ جواب ملا لیکن یونیورسٹی کی نوے فیصد لڑکیاں لپ اسٹک لگاتی ہیں۔ اتنی ٹیوشن پڑھا کہ چھ مہینے میں سو روپے کی ایک لپ اسٹک لگا لینا نہ کوئ عیاشی ہےاور نہ وہ اس جملے کی حقدار ٹھیرتی ہیں۔یہ تو بس ایک شوق ہے۔ کوئ اور زندگی میں تبدیلی نہیں لا سکتے چلو لپ اسٹک لگا لی۔ یہاں میں یہ وضاحت کردوں کہ اپنی اسٹوڈنٹ لائف میں اور اب بھی، میں کبھی لپ اسٹک کی شوقین نہیں رہی لیکن کسی کےایسے بے ضرر شوق کو برا بھی نہیں کہتی۔ خیر تمام تر غربت کے ڈیٹا اور کاسمیٹکس کے استعمال کی شرح کی معاشیات کے ان سب نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ وہ غلط کہہ رہے ہیں۔ اس لئیے کہ وہ سب پاکستانی معاشرے کے اعلی طبقات سے تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے اپنی محدود دنیا کے علاوہ پاکستان کے بیشتر حصے کو نہ دیکھا تھا نہ محسوس کیا تھا۔

اب یہ ایک اور منظر ہے میں اپنے دوستوں کو اندرون سندھ اپنے قیام کے بارے میں بتا رہی تھی۔ 'یار سانگھڑ کے اطراف میں بڑی خوبصورت جھیلیں ہیں۔ اور بعض جو کنول کے پھولوں سے ڈھکی ہوئ ہیں بہت زبردست لگتی ہیں۔' میرے ایک دوست جن کا تعلق سندھ سے نہیں تھا ایکدم بول اٹھے۔ 'دیکھا پھر بھی سندھ والے شور مچاتے ہیں کہ ہمارے لئیے پانی نہیں ہے'۔ میں نے ان کی طرف حیرانی سے دیکھا ۔ ' مگر آپ نے دریائے سندھ کا ڈیلٹا شاید نہیں دیکھا ۔ ایکدم خشک ہے اور اسے صحرائے سندھ کہنا زیادہ مناسب ہے۔ اس میں تو خشک ریت کے ٹیلے جا بجا نظر آتےہیں۔' 'ارے نہیں ابھی مشرف نے اپنی تقریر میں کہا کہ سالانہ کتنا پانی ڈیلٹا سے گر کے ضائع ہوتا ہے۔' مشرف کا مخالف ہونے کے باوجود انہوں نے اس کا حوالہ دیا۔'ہاں میں نے بھی انکی یہ تقریر سنی اور مجھے حیرانی ہے کہ کون انہیں یہ ڈیٹا پیش کرتا ہے اگر وہ ہیلی کاپٹر سے ایک دفعہ ڈیلٹا کا چکر لگا لیں سب لگ پتہ جائے۔ اور جو ان جھیلوں کی میں آپ سے بات کر رہی ہوں ان میں سے بیشتر پانی کی کمی کی وجہ سے نمکین ہو گئ ہیں۔ میرے پاس ان نمکین جھیلوں کی کافی تصویریں موجود ہیں اور آپ کو ضرور دکھاءونگی'۔ مگر انہوں نے میری بات تسلیم نہیں کی وہ ہمیشہ کراچی جہاز سے آتے جاتے رہے اور انہوں نے کبھی دریا کے ڈیلٹا پہ سے گذر کر نہیں دیکھا تھا۔ بس ان کا خیال تھا کہ جو بات انہوں نے اپنے جیسے لوگوں سے سنی ہے وہی صحیح ہے۔

یہاں ایک اور خاتون کا تذکرہ جن سے میری ایک تقریب میں اتفاقاً ملاقات ہو گئ ۔ انہیں معروف انگریزی صحافی ارد شیر کاءوس جی بہت پسند ہیں۔ مجھے بھی ان کی بے باک تحریر پسند ہے۔ تو میں نے ان سے کہا۔'آپ کو معلوم ہے کاءوس جی نے ایک دلچسپ بات کہی اور یہ بات وہی کہہ سکتے تھے ۔ ٹی وی پہ ان کا انٹرویو آرہا تھا اور میزبان بضد تھے کہ وہ بتائیں اگر انہیں وزیر اعظم بنا دیا جائے تو وہ کیا کریں گے۔ انہوں نے جواب دیا۔ میں کیوں بنوں چودہ کروڑ جٹوں کا وزیر اعظم۔' ان خاتون نے اس بیان کو ماننے سے انکار کردیا۔ کیونکہ وہ ان چودہ کروڑ لوگوں میں شامل تھیں اور سمجھتی تھیں کہ وہ کاءوس جی کو پسند کرتی ہے اور وہ اس پسندیدگی کے بدلے میں انکے بارے میں ایسی بات نہیں کہہ سکتے۔ حالانکہ میں بھی ان چودہ کروڑ لوگوں میں شامل تھی مگر مجھے مزہ آیا۔ میں صرف یہ کہہ سکتی تھی کہ آپ کو اس پروگرام کی ریکارڈنگ کہیں سے مل جائے یا آپ خود انہیں میل کرسکتی ہوں تو ضرور ان سے پوچھ لیں۔ میں نے یہ پروگرام اپنے گھر والوں کے ساتھ دیکھا تھا۔ کہیں تو ان سب کی گواہی دلوادوں۔ مگر ادھر وہی بات۔ میں نہ مانوں۔

یہ تو چند چیدہ چیدہ واقعات تھے جو میری یاد داشت میں رہ گئے۔

لیکن ان جیسے واقعات کی یاد تب تازہ ہوئ جب میں نے کچھ حقیقی واقعات کے حوالے اپنی تحریروں میں دئیے اور لوگوں نے کچھ ایسے ہی تبصرے دئیَے ۔ مثلاً پٹھانوںکا خواتین کو ہراس کرنا۔ کہا گیا کیایہ حسن اتفاق ہے کہ آپ کو پٹھان ملتے ہیں۔ اے کاش آپ کو خدا عورت کی حیثیت سے کراچی میں پیدا کرے اور آپ کا گھر یا آفس یا تعلیمی ادارہ ان کی کسی بستی کے آس پاس ہو۔تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ خواتین ان سے اتنا کیوں بدکتی ہیں۔ ورنہ آپ کے لئیے مشکل ہےسمجھنا۔ گھبرائیے نہیں، خدا اپنی سنت کے حساب سے ایسا کریگا نہیں۔ اس لئیے میں بس ہنس دیتی ہوں۔

یہ ایک اور حیران صاحب ہیں انہیں حیرت ہے کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ خاندان میں اتنے لوگ بھی نہ ہو کہ خاندان کے مردوں میں سے دو گواہ نہ نکل سکیں۔ اب میں کیا کروں۔ قسم تو کھا نہیں سکتی کہ جو کچھ کہتی ہوں سچ کہتی ہوں۔اگر آپ سے بھی ڈرنے لگی تو پھر یہ بھی کوئ زندگی ہے۔۔اگر وہ کراچی میں رہائش پذیر ہیں تو مجھ سے رابطہ کریں۔ میں انہیں اس تجاہل عارفانہ سے نکالنا چاہوں گی اور کراچی میں واقع ایسے لا تعداد گھروں میں لیجا ءونگی جہاں گھروں میں آسٹیوپوریسس کی ماری خواتین یا ضعیف جوڑے اکیلے رہتے ہیں۔ اور سارا دن اپنے کمپیوٹر پہ بیٹھے اپنے ہزاروں میل پر موجودبچوں اور پوتا پوتیوں سے چیٹنگ کرتے رہتے ہیں۔ مگر وہ تبصرہ نگار ، خود بھی چونکہ دن رات کمپیوٹر پہ مصروف رہتے ہیں اس لئیے انہیں معلوم نہیں کہ ان کے ارد گرد کیا ہو رہا ہے۔کمپیوٹر اتنی ہی بری چیز ہے۔ اور یہ انٹر نیٹ ایج کا المیہ ہے۔ اس کا بھی کوئ حل نکالنا ہوگا۔

کیا ایسا ممکن نہیں کہ ہم اپنی لا علمی کو کھلے دل سے تسلیم کریں۔ ہر انسان ہر چیز تو نہیں جان سکتا۔ ہہر شخص بہترین مشاہداتی قوت نہیں رکھتا اور جو رکھتے ہیں وہ صحیح نتیجہ نہیں نکال پاتے۔ مگر محض یہ سوچنا کہ نہیں جناب، اگر ہم نے آپ کی بات تسلیم کر لی تو ہم آپ کے مقابلے میں کم علامہ ثابت ہو جائیں گے۔ ہم اپنے نظرئیے سے الگ ہوجائِں گے ہمارے وہ ساتھی جن کے ساتھ ہم نے نظریاتی طور پہ ساتھ جینے اور مرنے کی قسمیں کھائیں ہیں ہم ان سے بیوفائ کریں گے۔ یقین جانیں ایسا کچھ نہیں ہوگا کم از کم میرے ساتھ اب تک ایسا نہیں ہوا۔بلکہ آپ حقائق سے زیادہ قریب ہونگے۔اور بہت سارے ایسے لوگوں سے قریب ہونگے جن سے آپ کا نظریاتی اختلاف ہوگا اور پھر اختلاف کی نئ راہیں نکلیں گی۔ زندگی میں کچھ تو نیا ہونا چاہئیے۔

اب میں ایک ایسی پوسٹ لکھنے والی ہوں جس میں ، میں یہ بتاءونگی کہ مجھے کتنی سادہ سادہ باتیں پہلے نہیں معلوم تھی جومیرے ساتھیوں کی وجہ سے میرے علم میں آئیں۔ ان سب کا پیشگی شکریہ۔