Showing posts with label عمران خان. Show all posts
Showing posts with label عمران خان. Show all posts

Monday, July 30, 2012

و تعز من تشاء؟

عزت ہمارے خطے میں ایک بہت اہم لفظ ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جو کسی بھی معمولی سی بات پہ خطرے میں پڑجاتی ہے اور اگر اسے خطرے میں نہیں پڑنا ہو تو آپ کروڑوں کی کرپشن کر ڈالیں یا منافقت کے جتنے چاہیں لبادے اوڑھ ڈالیں معاشرے میں آپکی عزت کو کوئ نقصان نہیں پہنچتا۔ 
مثلاً پسند کی شادی جسے عام طور سے محبت کی شادی سے ملا دیا جاتا ہے اس سے والدین کی عزت خاک میں مل جاتی ہے۔ شادی بیاہ پہ اگر خواتین قیمتی کپڑے نہ پہنیں تو مرد کی عزت کم ہونے کا اندیشہ دامنگیر ہوتا ہے۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین کی عزت زیادہ خطرے میں رہتی ہے۔ یوں اگر کوئ خاتون بچاءو بچاءو چیخے تو پہلا خیال بھی یہی آتا ہے کہ عزت خطرے میں ہے چاہے وہ چوہے یا چھپکلی کو دیکھ کر چیخ رہی ہو۔
ایک زمانے میں لاچار مرد اپنی عزت بچانے کے لئے پگڑی اتار کر واسطے دیا کرتا تھا۔ خواتین کی عزت دوپٹے کے ساتھ وابستہ تھی اور گبرو مرد اس دوپٹے کی حفاظت کے لئے جان لٹا دیتے تھے۔  دوپٹہ تو اسکارف میں تبدیل ہو گیا لیکن پگڑی سرے سے نا پید ہو گئ۔
ذرا سانس لے کر وضاحت کر دوں کہ یہ تحریر  دوپٹے اور پگڑی  کے بالترتیب ارتقاء اور عنقا ہو جانے کے متعلق نہیں۔ کیونکہ یہاں سے پگڑی کے نایاب ہوجانے کی وجوہات پہ غور کے بجائے دوپٹے اور اسکارف کے تقدس پہ بات جا سکتی ہے۔ جس پہ نہ صرف پہلے بھی سیر حاصل بحث ہو چکی ہے بلکہ مزید سیر کے لئے آئندہ الگ سے بحث ہو سکتی ہے۔
بات ہے عزت کی۔ عزت کیا چیز ہے؟
میں اسکی کوئ جامع تعریف کرنے سے معذور ہوں۔ لیکن لوگوں کو یہ کہتے اکثر سنتی ہوں کہ یہ اسکی دین ہے جسے پروردگار دے۔ یعنی خدا ہی عزت دینے والا ہے حالانکہ خدا کا دعوی ہے کہ وہی ذلت دینے والا بھی ہے لیکن اکثر عناصر اسکا سہرا اپنے سر پہ باندھنا پسند کرتے ہیں تاکہ کچھ لوگ عزت بچانے کے چکر میں ان کے قابو میں رہیں۔ 
عزت پہ شعراء اکرام نے بہت کم لکھا ہے لیکن ذلت کو خوب موضوع بحث بنایا ہے۔ حالانکہ دونوں ہم قافیہ الفاظ ہیں۔  
اب کوئ اس پہ کیا دلیل کرے
جس کو چاہے خدا ذلیل کرے
 عزت کی تعریف کرنا کیوں مشکل ہے؟ اسکی بنیادی وجہ اس کے دعوے دار ہیں۔
اس لئے ایٹم بم کا دھماکا کرنے کے بعد بھی ہم سنتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں اس عزت سے نوازا۔ ادھر ایک ڈیرے دار طوائف بھی اپنے لباس کی نوک پلک درست کرتے ہوئے ایک ادا سے کہتی ہے کہ بس آج جو بھی مرتبہ ہےعزت ہے وہ خدا کی عطا ہے۔ دونوں ہی اپنی جگہ درست ہیں اگر ہم اس پہ یقین رکھتے ہیں کہ سبھی کچھ خدا کا دیا ہوا ہے سبھی راحتیں، سبھی کلفتیں۔
لیکن پھر بھی ہم اس طوائف کی بات پہ ہنستے ہیں اور اس سیاستداں کی بات پہ فخر سے سینہ پھلا لیتے ہیں۔
اسکی وجہ شاید یہ ہے کہ عزت کا تعلق عام طور پہ معاشرے میں موجود اچھائ اور برائ کے معیار سے بڑا تعلق رکھتا ہے۔ طوائف کا پیشہ، نیچ  سمجھا جاتا ہے اس لئے وہ اپنے پیشے میں جتنی بھی کامیابی حاصل کرے۔ چاہے لوگ اسکی ایک جھلک کے لئے اپنا دین اور ایمان لٹا دینے کو تیار ہوں۔ اسکے ابرو کے اشارے پہ عاشق پہاڑ تو کیا آسمان کو زیر کر لے لیکن جب بھی وہ یہ کہے گی کہ یہ سب عزت خدا کی دی ہوئ ہے تو ہم  ہنستے ہیں۔
اسکے بر عکس، ہم ایک ایسا ہتھیار بنا لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو چشم زدن میں انسانوں کی ایک بڑی آبادی کو ختم کر سکتا ہے تو ہمیں انتہائ فخر اس لئے محسوس ہوتا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اب ہم دشمن پہ سبقت حاصل کر لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور میدان جنگ میں وہ ہمیں آسانی سے ہرا نہیں سکتا۔ چونکہ ہم ہار نہیں سکتے اس لئے ہم عزت دار ہونگے۔ جس شخص نے یہ حاصل کرنے میں ہماری مدد کی وہ بھی ہماری عزت کا مستحق ہے۔ وہ شخص بھی یہی کہے گا کہ یہ عزت خدا کی دی ہوئ ہے ۔ ہم اسکا احترام کرتے ہیں۔ ہم اسکی بات کو سچ جانتے ہیں۔
عزت کے دعوے دار اور عزت کے پرستار دونوں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ اہمیت اس نکتے کی ہے جس پہ عزت کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔
 گاءوں کے چوپال میں درد بھری آواز میں ماہیا گانے والا میراثی کہلاتا ہے اس کا سماجی مرتبہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ لیکن جب آواز کا یہ جادو نورجہاں جنگ کے گیتوں میں دکھاتی ہے تو ملکہ ء ترنم کا خطاب پاتی ہے۔ کس میں ہمت کے انہیں میراثن کہہ دے۔   
عزت کے بارے میں آج جاننے کی خواہش اس وقت سوا ہو گئ جب ایک جگہ پڑھا کہ ڈاکٹرعامر لیاقت کو جب خدا نے عزت دی ہے لوگ اسکی بات سنتے ہیں ، لوگوں پہ اسکی بات کا اثر ہوتا ہے تو دوسرے لوگ اسے برا کیوں کہتے ہیں؟  لوگ کیوں چاہتے ہیں کہ انہیں رمضان میں تبلیغ کے عمل سے روک دیا جائے۔ نہ صرف ان صاحب نے لکھا بلکہ دیگر صاحبان نے اسے شیئر بھی کیا۔
آج پھر میں نے سوچا کہ خدا کی دی ہوئ عزت کیا چیز ہوتی ہے؟  اگر ایسا ہے تو زرداری سے بےزاری کیوں؟ ان کی عزت بھی خدا کی دی ہوئ ہے۔ اس عقیدے کے مطابق یہ مرتبہ انہیں محض لوگوں کے ووٹ سے حاصل نہیں ہوا۔  لوگوں کے ایک بڑے حلقے میں انکا اثر ہے۔ لوگ انکی بات سنتے ہیں ان پہ اثر ہوتا ہے۔ یہی بات الطاف حسین، نواز شریف، عمران خان حتی کہ ملا عمر اور اوبامہ کے متعلق بھی کہی جا سکتی ہے۔ اور چونکہ ان سب کو ملی ہوئ عزت کو خداکی دین سمجھنا چاہئیے تو ہمیں انکی عزت بھی کرنی چاہئیے اور انکے متعلق برا نہیں کہنا چاہئیے۔
کیا ہمیں اس بات کی فکر کرنی چاہئیے کہ یہ سب لوگ جس چیز کی تبلیغ کرتے ہیں اسکے لئے عملی طور پہ کچھ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں یا نہیں؟  یا آسان الفاظ میں جب خدا کسی کو عزت اور مرتبہ دے دے اور لوگوں پہ اس کا اثر قائم ہو جائے تو کیا اسکے خلاف آواز بلند کرنا خدا کے خلاف جانا ہوتا ہے؟
  

Thursday, December 22, 2011

عوامی سونامی

کوئ کہتا ہے کہ جیسے عوام ہوتے ہیں ویسے ہی حکمراں ان پہ نافذ ہوتے ہیں کچھ کا ارشاد ہے کہ جیسے حکمراں ہوں عوام بھی ویسے ہی ہو جاتے ہیں۔
اب ایک تازہ خبر ہاتھ لگی ہے۔ جس سے ہم کچھ اس قابل ہوئے ہیں کہ ان دو میں سے ایک قول کو قول صحیح قرار دیں۔ ہوا یوں کہ قصور یہ پنجاب کے ایک شہر کا نام ہے کسی کا قصور نہیں۔  یہاں تحریک انصاف کا جلسہ آج منعقد ہوا۔ جس میں تحریک انصاف کے انصاف کے مطابق عوام کو بھی بیٹھنے کے لئے کرسیاں فراہم کی جاتی ہیں۔
عوام کو کرسیوں پہ بٹھانے کے لئے  پہلے کبھی کسی نے کیوں نہیں سوچا۔ یہ ہم نے بارہا سوچا۔ اسکا اندازہ آج  ہوا جب جلسے کے اختتام پہ عوام کرسیاں لے کر فرار ہو گئے۔


ہم نے قصور کے عوام سے دریافت کیا کہ انہوں نے ایسا قصور کیوں کیا؟ لوگ عاشقی میں عزت سادات گنواتے ہیں انہوں نے محض کرسی کے لئے یہ بدنامی مول لی۔  ایک بڑی اکثریت نے اس کا الزام ایک نامعلوم قلندر پہ ڈالا۔
کرسی، کرسی کر گئ سب کو قلندر کی یہ بات 
تو اگر اسکی نہیں لیتا نہ لے اپنی تو لے
نا معلوم قلندر کا اتا پتہ معلوم کرنے کی کوشش ہم نہیں کر رہے فائدہ کیا ہم بھی دانا ہیں حضرت۔
کچھ نے کہا ہم نے تو نشانی کے طور پہ یہ کرسیاں محفوظ کر لی ہیں۔ جب وہ اپنی کرسی سنبھالیں گے تو انہیں دکھا کر ہم کہیں گے کہ کبھی ہمارے اور آپکے درمیان کرسی کا تعلق تھا۔ وہ تعلق جو تعلق سے بڑھ کر تھا۔ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔
کچھ ان کرسیوں کو تفصیلی طور پہ خود  چیک کرنا چاہتے تھے کہ ان پہ کس جگہ آئ ایس آئ کی چھاپ لگی ہوئ ہے۔ تاکہ سند حاصل ہو جائے۔ وہ قتل تو کرتے ہیں تو لیکن لوگوں کو اندازے لگانے کے مواقع کے ساتھ۔ یقین سے وہ خود بھی نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے کیا ہے۔
کچھ نےسوال کیا  کہ کرسی میں ایسی کیا کشش ہوتی ہے کہ سب کرسی کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں۔ ان میں سے کچھ نے بتایا کہ کئ گھنٹے ہو گئے کرسی  لے کر دوڑ رہے ہیں لیکن ابھی تک قلبی اور جیبی کیفیت جوں کی توں ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ بیچ ڈالیں، سنا ہے آٹھ سو روپے کی ہے ایک کرسی۔  جیبی کیفیت ضرور تبدیل ہو جائے گی، سنا ہے کہ قلب کی کیفیت کا جیب کی کیفیت سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔
کرسی کی درگت اور تحریک انصاف کے تعلق پہ شاعری میں نئ اصلاحات سامنے آرہی ہیں۔  ایک شاعر نے کہا ہے کہ
لوٹا، کرسی اور طوفان
عمران خان، عمران خان
 کراچی میں کچھ لوگوں کو دلچسپی  ہے یہ جاننے سے کہ کیا جلسوں کی کرسیوں کی انشورنس کروائ جاتی ہے۔ اگر نہیں کروائ جاتی تو کرسی فراہم کرنے والوں کا کیا ہوگا۔ انکو اطلاع ہو کہ جلسے کے لئے کرسیاں قصوری صاحب نے خرید کر فراہم کی تھی۔ گھوڑے کے منہ سے خبر لانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ انہوں نے اپنی متوقع حکومت میں اپنی متوقع کرسی کا صدقہ نکال کر خریدی تھیں، ایک کروڑ ساٹھ ہزار کا صدقہ، اندازہ کریں کہ اصل کرسی کی قیمت کیا وصولی جائے گی۔
عمران خان کہہ رہے ہیں کہ قصور سے اب اس سونامی کا رخ کراچی کی طرف ہے۔  سوال پوچھنے والے پوچھ رہے ہیں کون سی سونامی، کرسیوں کی سونامی۔ یہ اس قوم میں اب سوال کرنے کی عادت جڑ پکڑ رہی ہے جو ایک صحیح شگن نہیں بالخصوص سیاست کے لئے۔
یہاں ہمارے شہر کراچی میں پچیس دسمبر کو جلسے کے انعقاد کے لئے ہر کرسی پہ آیت الکرسی پڑھی جا رہی ہے تاکہ وہ محفوظ رہیں۔ اندیشہ ہے کہ جلسہ شروع ہونے سے پہلے اس سلسلے میں ایک اجتماعی دعا بھی کروائ جائے گی۔
ادھر شہر کی فرنیچر مارکیٹ والے پہلے خوش تھے دھڑا دھڑ، ادھر ادھر سے کرسیاں منگا کر اسٹاک جمع کر رہے تھے۔ کرسیوں کی مارکیٹ میں اضافے کا امکان تھا۔ بس ایک مرد کراچی، قصوری صاحب جیسا ڈھونڈھا جا رہا تھا۔ لیکن قصور کے عوامی جوش و خروش کو دیکھ کر انکا جوش و خروش ٹھنڈا پڑ گیا ہے۔ وسوسہ ہے کہ کہیں منتظمین کا ارادہ نہ بدل گیا ہو۔ سواب نہیں معلوم کہ کراچی میں جلسے کے عوام دری پہ بیٹھے گی یا پھر کرسی ملے گی۔
عوامی سطح پہ کرسیوں کی اس چھینا جھپٹی نے ایک بات ثابت کر دی کہ جیسے حکمراں ہوں عوام بھی ویسے ہی ہو جاتے ہیں۔ آپ بتائیے صحیح ہے یا غلط؟

Thursday, November 17, 2011

لبیک یا کپتان

ضیاء الحق کے دور میں جلا وطنی اختیار کرنے والی پیپلز پارٹی کی رہنما خاتون جب انیس سو اٹھّاسی میں وطن واپس آرہی تھیں تو پاکستان میں یہ نعرہ گونج رہا تھا۔ بے نظیر آئے گی انقلاب لائے گی۔ جس وقت بے نظیر نے لاہور ائیر پورٹ پہ قدم رکھا۔ لوگوں کی ایک کثیر تعداد موجود تھی جو نعرہ لگا رہی تھی۔ بے نظیر آئ ہے انقلاب لائ ہے۔ بے نظیر آئیں، دو دفعہ حکمرانی پہ فائز ہوئیں، اور اس دنیا سے چلی بھی گئیں۔ انقلاب نہ آنا تھا نہ آیا۔ نعرے لگوانے والے اپنا اپنا حصہ لے کر الگ ہوئے اور نعرہ لگانے والے پھر ایک کنارے بیٹھ گئے کہ کب انکی ضرورت دوبارہ پڑتی ہے۔
وطن عزیز میں ایک دفعہ پھر اسی قسم کے نعروں کا زور ہے۔ اس دفعہ انقلاب کے ان نعروں کے لئے عمران خان کا نام تجویز کیا گیا ہے۔ اسکی وجوہات پہ بھی لوگوں کلو غور کرنا چاہئیے۔ لیکن جب دعوت دیا ہوا, انقلاب سر پہ کھڑا ہو تو ان باتوں کا ہوش کہاں رہتا ہے۔
عمران خان کے لاہور میں ہونے والے جلسے کے بعد انکے حامیوں نے اور اس نادیدہ ہاتھ کے کھلاڑیوں نے جو اقتدار کا ہما اپنے پاس رکھتا ہے انکی تحریک کو اگر وہ کوئ ہے  تحریک پاکستان سے اور انکی شخصیت کو قائد اعظم اور بھٹو سے تشبیہہ دینا شروع کر دی ہے۔
ابھی بھی خیر ہے کہ اسے دنیا کی سب سے بڑی انقلابی تحریک ، تحریک اسلام سے نہیں ملایا گیا۔ 'آ رینکنگ آف دی موسٹ انفلوئینشل پرسن ان دا ہسٹری' کو ترتیب دیتے ہئے جب مائیکل ہارٹ رسول اللہ کو پہلا نمبر دیتا ہے تو وہ انہیں نبی کی حیثیت س نہیں ایک انسان کی حیثیت سے دیکھتا۔ دنیا کے سو اہم با اثر افراد میں شامل ہمارے نبی، اپنے پیروکاروں کے لئے کوئ مثال نہ بن سکے۔ کیونکہ انکی ذہانت، ، بصیرت ، انتظامی صلاحیتیں سب ماورائ طاقت کے سامنے ماند پڑ گئیں۔ انکی ذات عقیدت کے غلاف میں ایسی لپیٹی گئ کہ اب انکا پیروکار انکے لئے کسی کی جان تو لے سکتا ہے۔ لیکن انکی تحریک کی فلاسفی کو سمجھنے کو تیار نہیں۔
اس متنازعہ موضوع کو ہم ایک طرف رکھتے ہیں۔
اور صرف یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس وقت جن شخصیات اور تحاریک کا تذکرہ جوش و خروش سے لیا جا رہا ہے کیا وہ اتنی کامیاب رہیں۔ کہ ہم امید کریں کہ انکی طرز پہ جو تحاریک چلائ جائیں گی وہ بھی کامیابی سے ہمکنار ہونگیں۔
تحریک پاکستان کا مقصد، کیا مسلمانوں کے لئے محض ایک علیحدہ ریاست بنانا تھا یا مسلمانوں کی ایک ایسی فلاحی ریاست بنانا مقصود تھا جہاں ملک کا ہر شہری اپنے بنیادی حقوق برابری کی بنیاد پہ حاصل کر سکے۔ اگر محض ریاست بنانا مقصد تھا تو یہ تحریک پاکستان کے قیام کے ساتھ ختم ہو جانی چاہئیے تھی۔ لیکن یہ بات صحیح نہ ہوگی کیونکہ تحریک کے دوران عوام سے کچھ وعدے بھی کئیے گئے تھے۔ جن پہ پاکستان بننے کے بعد ، انکی سمت میں کام کرنے سے ہی عمل ہو سکتا تھا۔
جس طرح میں عمران خان کی لاہور والی تقریر میں تاریخی اعلانات کا انتظار کرتی رہی مگر تقریر ختم ہو جانے کے بعد بھی وہ سامنے نہ آسکے۔ اسی طرح قیام پاکستان کے فوراً بعد قوم نے بھی مسلم لیگی رہنماءووں بالخصوص قائد اعظم سے تاریخی اعلانات کی توقع رکھی ہو گی مگر وہ سامنے نہ آسکے۔ انہوں نے اس تاریخی موقع پہ اگر کچھ کہا تو قوم اب اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
یہ بھی قائد اعظم کی بد قسمتی یا ناکامی ہے کہ انہیں بانی ء پاکستان کا خطاب تو دیا جاتا ہے لیکن انکی شخصیت کے اکثر پہلو نہ صرف عوام سے چھپائے جاتے ہیں بلکہ انکے ارشادات تک کو حذف کا جاتا ہے۔   کیا مصطفی کمال پاشا اتا ترک کے ساتھ ترک ایسا ہی کرتے ہیں۔ قائد اعظم بحیثیت بانی ء پاکستان ، پاکستانیوں کے خیال و فکر پہ اتنا رسوخ بھی نہیں رکھتے جتنا کہ گاندھی، ہندوستانیوں پہ رکھتے ہیں۔  
کیا قائد اعظم ایک ناکام سیاستداں یا ایک ناکام حاکم یا ایک ناکام رہ نماء  اعلی ثابت ہوئے؟
تقسیم ہندوستان کے فوراً بعد جواہر لال نہرو کی سربراہی میں ہندوستان میں زمینداری نظام ختم کرنے کا انقلابی فیصلہ کیا گیا۔  ہم کسی بھی ایسے فیصلے سے محروم رہے۔ کیونکہ لیگی رہنماءووں کا مقصد پاکستان کا حصول ہر قیمت پہ  تھا انہوں نے مذہبی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے مذہب کو استعمال کیا، پھر مغربی پاکستان میں زمینداری نظام بہت مضبوط تھا سو انہوں نے جاگیرداروں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ان سے بھی ڈیل کی، ادھر نارتھ انڈیا کے لوگ جو سب سے زیادہ بے تاب تھے ان کے نوابوں کو بھی ایک آسرا دیا۔ بھان متی کے کنبے میں عملی اقدامات کے لئے گنجائش ہی نہیں بچی تھی۔
وہ بس شدت سےایک علیحدہ ملک چاہتے تھے مگر انکے پاس اس ملک کو چلانے کے لئے کوئ حکمت عملی پہلے سے موجود نہ تھی۔ انہیں یہ تک معلوم نہ تھا کہ جب پاکستان وجود میں آجائے گا تو انہیں سویت بلاک کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا ہونگے یا امریکن مفادات کو دیکھنا ہوگا۔
کیا قائد اعظم ایک کامیاب رہنما رہے؟
کیا جو وعدہ انہوں نے کیا اسے پورا کر دکھایا؟ 
نہیں۔ سوائے یہ کہ حکومت سازی کا حق مسلمانوں کے چند گروہوں کے پاس آگیا، ہندوستانی عام مسلمان ۔ پاکستانی عام مسلمان کہلایا، وہ کسی انقلابی تبدیلی سے نا آشنا رہا۔
اب پاکستان کی دوسری کرشماتی شخصیت پہ بات کرتے ہیں جن سے عمران خان کو ملایا جا رہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو، ایک ذہین تعلیم یافتہ انسان جو عمران خان کے بر عکس سیاست کے ایوانوں میں خاصی جدو جہد کے بعد مقام اعلی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ وہ بنیادی طور پہ سوشلسٹ نظریات سے متائثر تھے اس لئے انہوں نے ملک کے رجحان کو دیکھتے ہوئے اسلامی سوشلزم کا نعرہ بلند کیا۔
لیکن جب انہیں لگا کہ اقتدار کا ہما انکے سر پہ بیٹھنے کے بجائے کہیں اور کا رخ کر رہا ہے تو انہوں نے صبر سے کام لینے کے بجائے، ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ بلند کیا۔
اسٹیبلشمنٹ نے انکا ساتھ دیا۔ یہ وہ اسٹیبلشمنٹ تھی جومغربی پاکستان کی حکمرانی چاہتی تھی۔ کیوں؟ اسکی وجوہات روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ دیگر اور حقائق کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ شاید اس بات کے لئے راضی نہ تھی کہ  معمولی جسامت اور شکل و صورت کے بنگالی ان پہ حکومت کریں۔
یہ در حقیقت تاریخی جھوٹ ہے کہ بھٹو کی تحریک انقلابی تحریک تھی اور اسے عوامی پذیرائ حاصل تھی۔ کیونکہ جمہوری قواعد میں عوامی پذیرائ مجیب الرحمن کو حاصل تھی۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ نے اسکا ساتھ نہ دیا۔ بنگالی الگ ہو گئے۔
بنگالیوں نے الگ ہونے کے بعد سیکولر بنگلہ دیش کی بنیاد رکھی۔ آج انکی کرنسی کی قیمت ہم سے زیادہ ہے۔ اسکے باوجود کہ وہ ہر کچھ عرصے بعد سیلاب جیسی قدرتی آفت کا شکار ہوتے ہیں۔ پستہ قد، کم صورت بنگالی اپنا استحکام حاصل کرنے میں
کامیاب ہوئے۔
بھٹو کو مغربی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل تھی، سو بنگلہ دیش بننے کے بعد ان سب کو کسی انکوائری کے سامنے حاضر ہونے اور اس سارے واقعے کے وقوع پذیر ہونے کی وجوہات معلوم کرنےکے بجائے انہیں حکومت کرنے کا حق دیا گیا۔
کیا بھٹو ایک کامیاب سیاستداں تھے؟ 
انہوں نے جو نعرہ دیا کیا اسے پورا کر دکھایا؟ 
انہوں نےاسلامی سوشلزم اور روٹی کپڑا مکان کا نعرہ دیا۔ وہ اسے پورا نہیں کر پائے۔ پاکستان کسی بھی انقلابی تبدیلی سے نا آشنا رہا۔ مغربی پاکستان کے جذبے ٹھنڈے ہوئے اور بھٹو اپنے انجام سے دوچار ہوئے۔
پاکستان میں ایک اور تحریک چلی جس نے زبردست عوامی حمایت حاصل کی۔ اور اس نے کراچی شہر کا مزاج ہی بدل دیا۔ لوگوں نے دیوانہ وار اسکے لئے کام کیا۔ وہ ایم کیو ایم کی تحریک تھی۔ لیکن یہ تحریک بھی اسٹیبلشمنٹ کا شکار ہوئ۔ اور اس سے جو امیدیں وابستہ تھیں وہ اب تک پوری نہ ہو سکیں۔
اب انقلاب کا نعرہ ایک دفعہ پھر۔ 
عمران خان کی حالیہ تقریر میں  وہی وعدے اور وہی دعوے جوقیام پاکستان سے اب تک دوہرائے گئے ہیں اسکے علاوہ کیا تھا۔
چند اہم نکات جو مجھے یاد آرہے ہیں۔
ہم پولیس کو غیر سیاسی کریں گے کیسے؟ کیا آپ پاکستانی مزاج سے تعصب کا باہر نکال دیں گے۔  جو کراچی میں لوگ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کے مزاج میں بھی ہے۔ 
مجھے یاد ہے کہ  اسّی کی دہائ میں کراچی کے لوگوں کا شدید مطالبہ تھا کہ پولیس مقامی ہونی چاہئیے۔ اور پنجاب سے پولیس بھرتی کا سلسلہ بند ہونا چاہئیے کیا ایسا ممکن ہوا۔ کیا یہ مذاق نہیں تھا کہ کراچی شہر کی پولیس میں بڑی تعداد پنجاب سے ہو۔ کرپشن کی ایک بڑی وجہ تو یہی بنتی ہے کہ پولیس مقامی نہ ہو۔
دوسرا اہم نکتہ اس تقریر کا، خواتین کی تعلیم ایمرجینسی بنیادوں پہ عام کی جائے گی۔  اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہیں انکا شرعی حق دیا جائے گا۔
یہ شریعت کے مسائل اسی وقت کھڑے کئے جاتے ہیں جب نیت میں کھوٹ ہو۔ ایک تعلیمیافتہ عورت کے معاشی استحکام کا آپ بندو بست کریں گے یا پاکستانی علماء کی شریعت کے مطابق انہیں ایمرجینسی میں تعلیم دینے کے بعدگھرتک محدود کریں گے۔ کیا ملازمت پیشہ خواتین کے بچوں کی دیکھ بھال کے لئے ریاستی سطح پہ ادارے قائم کریں گے۔ کیا ایک تعلیم یافتہ عورت کو فیصلہ سازی میں شامل کریں گے یا پھر جنوبی ایشیائ اسلامی شریعت کے مطابق اسے مرد کا تابعدار بنائیں گے؟ کیا ایک عورت کا اپنی پسند کے مرد سے شادی کا اختیار دیں گے یا پھر وہی ولی اور کفو والا مسئلہ چلے گا؟  سو یہ کہنا کہ شرعی حقوق دیں گے یہ کافی مشکوک  بیان ہے۔
سب سے اہم بیان جس پہ انہوں نے زور دیا اور جو انکے مطابق غریب دیہات کے مسائل کی جڑ ہے وہ پٹواری نظام ہے اسے وہ تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
لیکن اصل مسئلہ جسکی طرف سے وہ تجاہل عارفانہ برت رہے ہیں وہ وہی زمینداری نظام ہے جسکے خلاف قاءد اعظم نے بھی بر وقت فیصلہ کرنے سے گریز کیا۔ جب تک کوئ شخص اس نظام کے خلاف نہیں کھڑا ہوگا اسکے انقلاب کا ہر نعرہ جھوٹا ہوگا۔ اس نظام کی جڑیں ہلائے بغیر غریب کی فلاح کی بات کرنا یونہی ہے جیسے کینسر کے مریض کو درد کم کرنے والی دواءووں پہ رکھنا۔ درد کم کرنے کی یہ دوائیں شوکت خانم کینسر ہسپتال کے لئے کام کر سکتی ہیں لیکن پاکستان کے لئے نہیں۔
یہ نہیں معلوم کہ ہمارے ملک میں جواہر لال نہرو کون بنے گا۔
دوسری طرف ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان اسی اسٹیبلشمنٹ کا ڈالا ہوا دانہ ہیں جو وہ عوام کو سراب کے پیچھے دوڑانے کے لئے ڈالا کرتی ہے۔ ورنہ عمران خان کے جلسے میں نہ انکے لئے شاہی کرسی ہوتی اور نہ مجمعے کے لئے کرسیاں۔ تبدیلی کے سیلاب کی باتیں سنہری کرسیوں پہ بیٹھ کر نہیں کی جاتیں اور نہ اشرافیہ کے لاڈلوں کے ساتھ۔ اور نہ ہی کوئ ایسی جماعت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے جس میں  ملکی انٹیلیجنس کے نمائندے شامل ہو رہے ہوں۔ کیونکہ اب تک ہم نے یہ نہیں سنا کہ عمران خان کوئ ایسی روحانی طاقت رکھتے ہیں کہ جو انکی جماعت میں شامل ہو جائے اسکی قلبی حالت چشم زدن میں بدل جاتی ہے۔ ابھی تک کسی نے یا شیخ یا عمران کا نعرہ مار کر دھمال نہیں ڈالا۔ کیونکہ جاننے والے جانتے ہیں کہ یا شیخ کون ہے۔
 اسٹیبلشمنٹ ایسا کیوں کرتی ہے کہ جب عوام حد سے زیادہ تبدیلی کی خواہش کرنے لگتے ہیں وہ انکے سامنے اپنی پسند کے ایک شخص کو کھڑا کر دیتی ہے؟
جواب بالکل سادہ ہے وہ یہ چاہتے ہیں کہ رند کے رند رہیں اور ہاتھ سے جنت بھی نہ جائے۔ انکے مفادات کو ٹھیس بھی نہ پہنچے اور لوگ بھی کچھ عرصے کے لئے مطمئن ہو جائیں کہ ہو رہے گا کچھ نہ کچھ۔ بس اسی نکتے پہ کامیابی سے پچھلے باسٹھ سال سے پاکستان کو چلایا گیا ہے۔
تاریخ کہتی ہے کہ انقلاب کسی کے مفادات کی نگرانی نہیں کرتا۔جو مفادات کی حفاظت کرے وہ چالاکی تو ہو سکتی ہے انقلاب نہیں۔ انقلاب جب آتا ہے تو کمزور طاقتور بن جاتا ہے ، غریب، کو مالداروں کے مال تک رسائ ہوتی ہے۔ انقلاب جب آتا ہے تو ساری دنیا کو عجم یعنی گونگا کہنے والے عرب اسی دنیا کا علم ہر ذریعے سے جمع کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اپنے آپکو کم سمجھتے ہیں جبھی تو اکٹھا کرتے ہیں۔ 
انقلاب کے لئے، کیا عمران خان، جواہر لال نہرو بننے کو تیار ہیں اور پاکستان میں زمینی اصلاحات کریں گے۔ پٹواری نظام کے بجائے کیا وہ کسان کی حق ملکیت کو تسلیم کروائیں گے۔ کیا وہ کمزوروں کے داتا بنیں گے، دیوتا بنیں گے  یا کمزوروں کو طاقتور بنائیں گے تاکہ انکی رسائ اپنے حصے کے مال میں تو ہو۔ اگر نہیں تو ایک دفعہ پھر چہرے بدل کر نظام کو بدلنے کی کوششیں عوام کو مبارک ہوں۔ ہم آپکو لبّیک کہتے ہیں یا کپتان۔ لبّیک یا کپتان۔

Sunday, October 30, 2011

کرائے کے ٹٹّو

ہمارے ملک میں جیسے ریلیوں کا وبائ مرض پھوٹ پڑا ہے۔ جمعے کے با برکت  دن جناب نواز شریف نے اس سلسلے میں پہلی علامت ظاہر کی۔ یہ با برکت دن منتخب کرنے کی وجہ سے صاحبان کشف نے انکی اگلی منزل جدہ بتائ ہے۔  سبحان اللہ۔
آج عمران خان  ریلیز کا چالیس سالہ ریکارڈ توڑنا چاہتے ہیں ویسے تو اللہ میاں نے انہیں چاندی کا چمچ منہ میں دے کر پیدا کیا ہے اور نزاکت نازنینوں کے بنانے سے نہیں بنتی، خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آہی جاتی ہے۔ ایسے ہی بادشاہ بننے کی خواہش بھی کسی جگر رکھنے والے شخص کے ذہن میں ہی پیدا ہو سکتی ہے۔ ہمارے ہر دلعزیز شہزادے پہ اس وقت بادشاہت کا نور اترا ہوا ہے۔ ایسا نور جس میں لوگ ان سے یہ تک پوچھنے سے قاصر ہیں کہ زمام اقتدار سنبھالنے کے بعد آپ کریں گے کیا۔ آپکے منصوبوں کی کچھ تفصیل۔ واللہ علیم و خبیر۔
ادھر الطاف حسین جنہیں ذوالفقار مرزا کے ڈنڈے سے جناب صدر نے ایسا سُدھایا ہے کہ وہ انکے لئے ہر خدمت انجام دینے کو تیار ہیں چاہے انکا ووٹ بینک اسکے خلاف ہو۔ ان کو بھی بر وقت یہ خیال باور کرایا گیا کہ انکی فی الفور 'حکمت عملی' کیا ہونی چاہئیے۔یہ دونوں ریلیز جمہوریت یعنی صدر صاحب کے خلاف سازش ہیں اس لئے ایک ضد ریلی کا بند وبست انکی طرف سے بھی ہے جس میں انہوں نے دینی جماعتوں سے بھی شرکت کی دعوت کی ہے۔ نیکی کے کاموں میں باہم ہو جاءو۔
دینی جماعتیں ابھی ممتاز قادری غازی کو رہا کرانے کی ریلیوں میں مصروف ہیں۔ انکی ریلی کا موضوع ہمیشہ کی طرح ایک ہی ہے نفاذ شریعت۔ یہ جملہ اتنا پر اثر ہے کہ ڈنگی کے مچھر ہوں یا سیلاب، وال اسٹڑیٹ پہ قبضہ ہو یا شعیب ملک کی شادی ہر جگہ کام کرتا ہے۔  اطیعواللہ و اطیعوالرسول۔
ہر ریلی کے مریض کے منہ سے ایک ہی آواز برآمد ہو رہی ہے 'ہاکستان بچاءو۔ جبکہ پاکستان آہستہ آہستہ بدبدا رہا ہے مجھے میرے دوستوں سے بچاءو۔ 
ریلیوں کے جراثیم کس نے پھیلائے ہیں؟ اسکا کیا تدارک ہے؟ اسکا کون سا مریض بچے گا؟ بچ جانے والا مریض ہمارے کسی کام کا ہوگا یا اپنے ڈاکٹر کے اشارے پہ ناچے گا؟
ان تمام سوالوں کے جواب جاننے کے لئے، ایک چالیس روزہ چلّہ کاٹنے کی ضرورت ہے جسکے لئے ایک سنسان جگہ کی چاہئِے۔ اٹھارہ کروڑ آبادی والے ملک میں یہ جگہ کہاں ملے گی۔ اگر لوگوں کے ذہن سے کوئ جگہ اتری ہوئ ہے تو اس پہ، سیلاب، ڈنگی کے مچھر،  مجاہدین یا بیرونی طاقتوں کا قبضہ ہے؟ ہم کیا کریں، کیا ہم بھی کوئ ریلی نکالیں؟ 
ہم عوام کے پاس ریلیاں نکالنے کے ہزار بہانے ہیں مگر ہر دفعہ روپے کا مسئلہ سامنے آجاتا ہے۔ 
جو طاقتیں ان ریلیوں کو منعقد کرانے میں دلچسپی لے رہی ہیں ان سے صرف اتنا کہنا  ہے کہ ہم بھی پڑے ہیں راہوں میں۔ اجی ، آزما کر تو دیکھئیے ہم بھی جاندار ڈائیلاگز بول سکتے ہیں، آپکی ڈگڈگی پہ آئیٹم رقص پیش کر سکتے ہیں۔ ریلی کیا ریلہ لا سکتے ہیں۔ خدا گواہ ہے ہم بھی قرآن پہ ہاتھ رکھ کر قسم کھا سکتے ہیں کہ کبھی ایک روپئیے کی بھی کرپشن نہیں کی۔ اگر کی تو مرے پہ سو درے۔ ہم بھی پاکستان کو بچانا چاہتے ہیں اگرچہ کہ اب تک اپنا مال، جان، عزت، گھر، شرافت، علم اور دوسری بے شمار اشیاء بچانے میں ناکام رہے ہیں لیکن ہمیں یقین ہے کہ ہم پاکستان بچانے میں کامیاب ہونگے۔ انشاءللہ۔
گو کہ ہمیں اکثر یہ بھی خیال آتا ہے کہ ہم کون سا پاکستان بچائیں گے وہ جو قائد اعظم نے بنایا، وہ جو انیس سو اکہتر میں دو ٹکڑے ہوا پھر بھی پاکستان کہلایا، وہ جس نے ایک فلاحی ریاست بننے کے بجائے جہاد کو اپنی معیشت بنایا۔ سر، آپ تو جانتے ہیں کہ یاد ماضی عذاب ہوتا ہے اور اسکا حل حافظہ چھین لینے میں ہی ہے جس میں سنا ہے کہ آپ ماہر ہیں۔
 
یقین کریں عزت مآب، ان سب کرائے کے ٹٹءووں سے ہم کہیں بہتر ٹٹو ثابت ہونگے۔ ہم تعداد میں زیادہ ہیں تو کیا اتنے ہی بے ضرر ہیں جتنی درخت کی چڑیاں یا آنگن کی گئیاں۔ جہاں باندھ دیں گے بندھ جائیں گے اور جدھر کو اڑا دیں اڑ جائیں گے۔ بخدا ہمیں دانہ پانی، ایک چھوٹا سا آسمان اور صحن کے کھونٹے کے علاوہ بس ایک چیز اور چاہئیے۔ آپکے ان چہیتے ٹٹءووں کے لئے ایک اصطبل اتنی دور جہاں سے یہ ہمیں نظر نہ آسکیں۔ و تعز من تشاء تزلّ من تشاء۔