سائنس اور تجربات سے تنگ آجانے والے لوگ چاہیں تو یہ پیرا نہ پڑھیں۔تو ایک دفعہ یوں ہوا کہ ایک سائنسداں تھا۔ وہ ایک مینڈک پر تجربہ کر رہا تھا۔ اس نے مینڈک کی ایک ٹانگ کاٹی، اسے میز پہ رکھا اور میز پہ ایک زور کا ہاتھ مارا اور کہا اچھل۔ مینڈک اچھلا اور دھپ سے میز پر بیٹھ گیا۔ اگلے مرحلے میں
اس نے دوسری ٹانگ کاٹی اور دوبارہ اسے میز پہ رکھا اور زور سے میز پہ ہاتھ مارتے ہوئے کہا اچھل۔ مینڈک موصوف پہلے کے مقابلے میں تھوڑا کم اچھلے اور پھر میز پہ آرہے۔ اس سائنسداں نے باری باری چاروں ٹانگوں کے ساتھ ایسا ہی کیا اور اخیر میں جب انہوں نے مینڈک کو اچھلنے کا حکم دیا تو اس نے اپنی جگہ سے جنبش بھی نہ کی۔آپ میں سے بیشتر کو اندازہ ہوگیا ہوگاکہ ایسا کیوں ہوا۔ اس سائنسدان کو بھی اندازہ ہوا۔ اس نے اپنی نوٹ بک نکالی اور اس پر ان تجربات کا نتیجہ لکھا جو کچھ یوں تھا کہ اگر مینڈک کی چاروں ٹانگیں کاٹ دی جائِں تو اسے کچھ سنائ نہیں دیتا۔
خدامزید مینڈکوں کو ایسے سائنسدانوں سے بچائے۔ یہ میں ان لوگوں کی تسلی کے لئے کہہ رہی ہوں جو سائنس اور اس کی سفاکیت پہ اب تک افسردہ ہونگے۔ کچھ ایسے نتائج ہم بھی اخذ کرتے ہیں جیسے پسند کی شادیوں کی وجہ سے طلاق کا تناسب بڑھ گیا ہے۔یہ اکثر ان لوگوں کا اخذ کیا ہوا نتیجہ ہوتا ہے جو اس سلسلے کے خلاف ہیں۔ اب اگر میں اپنے اطراف میں ہونے والی پسند کی شادیوں پہ نظر ڈالوں اور ان کی خوشحال زندگیوں پہ رشک کرتے ہوئے یہ بیان دوں کہ کہ طلاق کا تناسب اس لئے بڑھ گیا ہے کہ اب تک زیادہ تر شادیاں والدین کی مرضی سے ہوتی ہیں اور فریقین اسے غلط ثابت کرنے کے لئے معاملات کو اس مقام تک لیجاتے ہیں یعنی طلاق لینا اور دینا چاہتے ہیں تو یہ میری کوتاہ نظری ہو گی ۔یعنی یہ بات بھی کچھ ایسی صحیح نہ ہوگی۔
اس بات پہ مزید آگے بڑھنے سے پہلے میں یہ ضرور چاہوں گی کہ آپ اپنے نزدیک اتوار کا جنگ اور ڈان کا اشتہارات کا اخبار رکھ لیں۔ جنگ اخبار کے سلسلے میں آپ کو فیصلہ کرنا مشکل ہوگا کہ اخبار اور اشتہار کے درمیان حد بندی کہاں ہوتی ہے تو اس سلسلے میں مزید اشارے دیدوں کہ ضرورت رشتہ کا اشتہار والا اخبار لے لیں۔اور اس میں ضرورت رشتہ کے وہ اشتہار پڑھئیے گا جوکسی میرج بیورو کی طرف سے نہیں بلکہ لڑکے یا لڑکی کے والدین کی طرف سے ہوتے ہیں۔
لڑکے کے سلسلے میں اکثر اشتہارات میں یہ مطالبہ ہو گا کہ لڑکی بہت خوبصورت، لمبی، دبلی، پتلی اور واقعی گوری ہو۔ یا لکھا ہوگا کہ واقعی خوبصورت ہو۔۔ اس کےعلاوہ کم عمر، تعلیم یافتہ اور اچھے مختصر گھرانوں سے تعلق ہو۔ مختصر گھرانوں سے مراد لڑکی کے بہن بھائ زیادہ نہ ہوں۔ اور اگر اکلوتی ہو تو کیا بات ہے نہیں تو اس کے نام کوئ زمین جائیداد ہو یا بزنس میں سپورٹ کر سکتے ہوں۔
دوسری طرف ایک آیئڈیل لڑکے میں کیا خصوصیات ہونی چاہئیں ان کا اندازہ بھی ان کو پڑھ کر ہو سکتا ہے۔ ان کو میں ترجیح کے لحاظ سے ایسے لکھ سکتی ہوں۔
تنخواہ، چھ، سات ہندسوں میں ہو۔
کسی باہر ملک، یعنی امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، انگلینڈ یا کسی بھی فرسٹ ورلڈ دنیا کی شہریت ہو۔
کوئ پیشہ ورانہ ڈگری ہو۔
اور اگر یہ سب چیزیں نہ بھی ہوں اور وہ صرف ہماری بیٹی سے شادی کرنے کے لئیے تیار ہو تو ہم دیکھیں گے کہ ہم اس کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔ ہم صرف دیکھیں گے نہیں بلکہ جو بھی مال مصالحہ خرچ کر سکتے ہیں ضرور کریں گے۔
ان دونوں فہرستوں میں ہم دیکھیں گے کہ ایسی کسی بات کا مطالبہ نہیں کیا گیا جو ایک کامیاب شادی شدہ زندگی کے لئے چاہئیے ہوتی ہے۔ یہاں یہ بات سمجھ لینا ضروری ہے کہ اس باب میں بھی کامیابی کے اصول اور ضابط سب کے لئے یکساں نہیں ہوتے۔ اگرکسی لڑکی کی شادی ایک ایسے گھرانے میں ہوئ ہو جہاں پیسے کی ریل پیل ہو تو وہاں کسی کو اس بات کی فکر نہیں ہوگی کہ آپ پلاءو کتنا شاندار بناتی ہیں اس کے لئے ان کے پاس ایک باورچی ہوگا۔ البتہ سب یہ ضرور دیکھیں گے کہ آپ بات چیت کسطرح کرتی ہیں اور سماجی تعلقات کس طرح نبھاتی ہیں۔ اسی طرح اگر آپ کےجیون ساتھی نے اپنی زندگی خود تعمیر کی اور وہ ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ اسے آپ کا بچت کرنا، کھانا پکانا، سلائ کرنا یہ سب چیزیں خاصا سمجھداری کا کام لگے۔ اسی طرح اگرآپکی جیون ساتھی ایک گھریلو خاتون ہوں تو شاید وہ آپکی انکے حسن یا کھانے یا بہتر طور پہ گھر سنبھالنے کی تعریفوں سے خوش ہو جائیں۔ لیکن اگر آپکی بیگم خود بھی جاب کرتی ہیں تو پھر انہیں آپ کا گھریلو امور میں ہاتھ بٹانا، مل بیٹھ کر بجٹ بنانا بہت اچھا لگے۔ لیکن ان سارے امور میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ظاہری خصوصیات کا اثر کچھ دنوں کے لئے ہی ہوتا ہے۔ اور باہمی ہم آہنگی کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے۔
چونکہ بیشتر شادی کے یہ اشتہارات والدین کی طرف سے ہیں تو یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ والدین کتنی ذمہ داری سے اپنا یہ فرض نبھا رہے ہیں۔ اب کوئ ایک ہزار لڑکیاں دیکھنے کے بعد انہیں ایک صحیح لڑکی مل جاتی ہے تو شادی کے ایک مہینے بعد وہی صحیح لڑکی ایک دم غلط ہوتی ہے۔ توبہ، بات کرنے کی تمیز نہیں اسے تو، انڈہ تک ابالنا نہیں آتا، کیا ڈگری کو لیکر چاٹے گا ہمارا بیٹا، اپنے بستر کی چادر تک ٹھیک کرنے کی تو فیق نہیں ہوتی۔ ہر وقت بیوٹی پارلر کے چکر، اےتنا پیسہ برباد کرتی ہیں، لگتا ہے ماں باپ نے کوئ تمیز نہیں سکھائ۔ لڑکے کے سلسلے میں یہ سننے کو ملے گا کہ ہماری بیٹی کا کوئ خیال نہیں کرتا، بہت مذہبی ہیں یا بہت آزاد خیال، کنجوس ہے یا فضول خرچ اسی طرح کی دیگر باتیں۔ اب اگر ان سے کوئ پلٹ کر پوچھے کہ دیکھتے وقت تو آپ نےیہ سب نہیں دیکھا تھااس وقت آپ کی ترجیحات کچھ اور تھیں۔ خریدتے وقت آپ کو ٹماٹر چاہئیے تھے اور اب آپ اس میں آلو کی خصوصیات تلاش کر رہی ہیں۔ یعنی غالب کی زبان میں عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا۔ دنیا کی بنیادی سائنس جس میں کوئ اختلاف نہیں یہ کہتی ہے کہ ٹماٹر ہمیشہ ٹماٹر رہے گا اور آلو ہمیشہ آلو۔۔
جس چیز کی بنیاد ہی غلط ہو وہ کیسے مضبوطی کی طرف جا سکتی ہے۔ نتیجتاً وہی ماں با بہن بھائ جو کچھ عرصے پہلے تک رشتہ کرانے میں تندہی سے مصروف ہوتے ہیں۔ وہی اب دونون فریقین کے اوپر زورآزمائ کرنے سے لگ جاتے ہیں۔ یہ بات آپ نے بھی اکثر لڑکوں کے والدین کو کہتے سنی ہے کہ ہمارے لڑکے کو لڑکیوں کی کوئ کمی نہیں۔ ابھی چھوڑ دے تو چار اور مل جائیں گی جبکہ لڑکیوں کے والدین بس یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری لڑکی ہم پہ بوجھ نہیں یا یہ کہ وہ خود اپنا بوجھ اٹھا سکتی ہے۔
پسند کی شادیاں بھی اسی صورت میں ناکام ہوجاتی ہیں جب آپ ٹماٹر پسند کرکے اسے آلو بننے پہ مجبور کریں ۔ دوسری اہم وجہ ہمارے معاشرے میں پسند کی شادیوں کو نا پسند کرنا ہے۔ اسے عام طور پہ لڑکیوں کی بے حیائ سے وابستہ کیا جاتا ہے حالانکہ رسول اللہ کے زمانے میں بھی خواتین اورمردحضرات اپنےپسند کے مرد اور خواتین کو اپنا رشتہ بھیجا کرتے تھے۔ لیکن خدا جانے کیوں اب ہمارے یہاں اس کے لئے اتنے سنگین الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ جہاں خواتین کا اپنی پسند کے متعلق کچھ کہنا نری بے حیائ ہے وہاں جیسے ہی کوئ لڑکا اپنے والدین کے سامنے یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ فلاں لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ اب چاہے اس لڑکی کو خود بھی نہ پتہ ہو کہ وہ موصوف ایسا چاہتے ہیں۔ لڑکے کے گھر میں ایک ناگواری پھیل جاتی ہے۔ اور کئ صورتوں میں تو میں نے یہ دیکھا کہ لڑکے کی والدہ اور بہنیں فوری طور پہ ایک عدد لڑکی کی تلاش میں نکل کھڑی ہوتی ہیں کہ کسی صورت اس لڑکی سے شادی نہ ہوجائے۔ وجہ پوچھیں کیوں؟ انتہائ تگ و دو کے بعد جو جواب نکلے گا وہ کچھ اس طرح سے ہو گا کہ شادی سے پہلے اگر ان کا بیٹا اسےکے لئے انکی مرضی کے خلاف جانے کو تیار ہے تو شادی کے بعد تو انکے بالکل قابو میں نہیں رہے گا۔ ایک تو یہ لفظ قابو ، قابو میں ہی نہیں آتا اور زندگی بے قابو ہوجاتی ہے۔
یہاں پسند کی شادیوں سے میری مراد مغربی انداز کی کورٹ شپ نہیں ہے۔ نہ ہی میری مراد ٹین ایجرز کےانفیچوایشن سےہے۔ جو وہ اپنے زمانے کے فلمی ہیرو اور ہیروئن سے متائثر ہو کر کرتے ہیں۔
بلکہ یہ وہ پسندیدگی ہے جس میں ہم اپنے ارد گرد کےماحول میں کسی شخص کو زندگی بسر کرتے دیکھتے ہیں اور اس کے انداز اور شخصیت کو اپنے لئے پسندیدہ پاتے ہیں۔ اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں اسکے ساتھ زندگی گذارنے میں آسانی ہو گی۔
طلاق کی شرح کے بڑھنے کا تعلق اپنی یا والدین کی پسند سے شادی کرنے سے نہیں ہے بلکہ جیسا کہ من حیث القوم ہم زندگی کے ہر شعبے میں یہ کرتے ہیں کہ ہماری ضرورت تو کچھ اور ہوتی ہے لیکن بھیڑچال یا لالچ میں لیتے کچھ اور ہیں، اسی میں مضمر ہے کچھ صورت خرابی کی۔۔ جب نیت میں فتور ہو تو تعلق میں برکت کیسے ہو سکتی ہے۔

![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)
