Showing posts with label ساحل. Show all posts
Showing posts with label ساحل. Show all posts

Saturday, November 19, 2011

مہمان کچھوے

 کیا آپ کراچی کی ایک اہم خوبی سے واقف ہیں جو آپ نہیں جانتے مگر کچھوے جانتے ہیں؟
دنیا کے بڑے شہروں میں کراچی کو ایک امتیازی حیثیت یہ بھی حاصل ہے کہ اسکے ساحل کو سبز سمندری کچھوے انڈے دینے کے لئے پسند کرتے ہیں۔
یہ کچھوے تیزی سے ختم ہوتی ہوئ حیاتیاتی نسل میں شامل ہیں۔ عالمی تحفظ حاصل ہونے کے بعد انہیں بچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اور وہ ساحل جہاں یہ انڈے دیتے ہیں وہاں انکے انڈوں اور نکلنے والے بچوں کو بچانے کا معقول انتظام کیا جاتا ہے۔
کراچی کے سینڈز پٹ کے ساحل پہ ایک ایسی ہی حفاظتی حیات گاہ موجود ہے۔
یہاں مجھے چھ سال پہلےدسمبر کی ایک سردرات جانے کا اتفاق ہوا۔ ساحل پہ رات کو دو بجے ہم یہ دیکھنے کے لئے موجود تھے کہ انڈوں سے کچھووں کے بچے کیسے نکلتے ہی سمندر کی طرف دوڑ لگاتے ہیں اور کیسے مادہ کچھوا انڈے دیتی ہے۔ تین بچوں کو مٹی کے ایک گڑھے سے سمندر کی طرف جاتےدوڑ لگاتے دیکھا۔ یہ اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ بآسانی آپکی ہتھیلی پہ سماجائیں۔
ایک کچھوا انڈے دینے کی تکلیف میں مبتلا ایک ریت کا گڑھا بنائے اسکے سرے پہ بیٹھا تھا۔ ان مناظر کو دیکھنے کے بعد دسمبر کی سمندری سرد ہواءووں کی چھیڑ چھاڑ ذرا بری نہ لگ رہی تھی۔
جی ہاں، یہ کچھوے اتنی ہی بڑی تعداد میں یہاں کا رخ کرتے ہیں کہ نومبر اور ددسمبر کی راتوں میں آپ بھی وہاں جانے کا منصوبہ بنا سکتے ہیں۔ ان مہینوں میں یہ یہاں آتے ہیں انڈے دینے اور پھر چند دن بعد ساحل انکے بچوں سے بھرا ہوتا ہے کہ ہر مادہ تقریباً سو انڈے دیتی ہے۔  امید ہے کہ آپکو کوئ نہ کوئ کچھوے کی سرگرمی دیکھنے کو مل جائے گی۔ جیسا کہ ہمیں کل ایک بار پھر حاصل ہوئ۔
کل شام کو خبر ملی کہ ایک اسکول کے بچے رات کو وہاں پہنچ رہے ہیں اور ہم اور مشعل چاہیں تو قسرت کی اس فیاضہ سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ آتا ہو تو ہاتھ سے جانے نہ دیجیئو۔ ہم نے فوراً ہاں کہا۔
ہم اور مقامی اسکول کے یہ بچے تقریباً سوا آٹھ بجے تک سینڈز پٹ کی ایک ہٹ میں اکٹھا ہوئے۔ بچوں کو انکی ٹیچرز نے پہلے بٹھا کر کھانا کھلایا۔ ہم مشعل کو پہلے ہی کھلا چکے تھے۔ پھر نگراں وائلڈ لائف کے آفیسر نے بچوں کو مصروف رکھنے کے لئے سوالوں جواب کئے۔ بچوں کی عمر یہی کوئ آٹھ نو سال کے درمیان تھی۔ اس دوران انکا آدمی ساحل پہ یہ پتہ لگا آیا کہ کوئ کچھوا کہاں موجود ہے۔ سمندر جب ہائ ٹائڈ پہ ہو تو کچھووں کو ساحل تک پہنچنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس لئے توقع ہوتی ہے کہ ہائ ٹائڈ کے وقت وہ ضرور ساحل کا رخ کریں گے۔

لکھنے کے شوقین ہر جگہ قلم کاغذ پکڑ لیتے,

پاکستان کے سمندر میں دو طرح کے سمندری کچھوے پائے جاتے ہیں ایک اولیو ریڈلی کچھوے اور دوسرے سمندر سبز کچھوے۔  اولیو ریڈلی کچھوے چھوٹے ہوتے ہیں، یعنی محض چالیس کلو گرام کے۔ انکا رنگ اولیو یعنی  گہرے زیتون کے رنگ کا ہوتا ہے ان پہ دھاریاں ہوتی ہیں اور انکی موجودگی کو ریڈلی نامی سائینسداں نے معلوم کیا۔
سبز کچھوے بڑے ہوتے ہیں اوسط وزن تقریباً ایک سو پچاس کلوگرام کے لگ بھگ ہوتا ہے۔ انکا رنگ سرمئ ہوتا ہے۔ پھر یہ سبز کچھوے کیوں کہلاتے ہیں؟
اس لئے کہ انکے جسم میں پائ جانے والی چربی خوبصورت سبز رنگ کی ہوتی ہے۔ اسکا یہ رنگ خیال کیا جاتا ہے کہ سمندری پودے کھانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ سبز کچھوا سمندری پودے اور کائ وغیرہ کھاتا ہے۔
یہ سمندری کچھوے زمینی کچھووں سے مختلف ہوتے ہیں کہ انکے ہاتھ پاءووں کی جگہ تیرنے میں مدد دینے کے لئے چپو سے ہوتے ہیں انہیں فلپرز کہتے ہیں۔ زمینی کچھووں کی طرح سندری کچھوے نہ اپنا سر اپنے خول کے اندر کر سکتے ہیں نہ فلپرز اور نہ دم۔ اس لئے انہیں شارک اور ڈولفنز بڑے آرام سے شکار کر سکتی ہیں۔ یہ سمندری جال میں پھنس کر ہلاک ہو سکتے ہیں یا ٹرالرز اور بوٹس کے نیچے کا بلیڈ انہیں ختم کر سکتا ہے۔
کچھووں کا خول انکی پسلیوں سے بنا ہوتا ہے اور کارٹونز فلموں کی طرح کچھوے اپنا خول چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتے۔ یہ اچھا تیر سکتے ہیں لیکن ساحل کی ریت پہ انہیں چلنے کے لئے بڑی محنت کرنا پڑتی ہے اور ہر دو تین گز کے فاصلے پہ رک کرسکون کی سانس لینی پڑتی ہیں۔
سمندر میں بھی سانس لینے کے لئے ان کچھووں کو سمندر کی سطح پہ آنا پڑتا ہے۔ گوادر میں سمندر کی سطح پہ آنے والے کچھووں کو میں نے دیکھا کہ وہ کیسے سطح پہ ڈول رہے ہوتے ہیں۔
چونکہ مادہ کچھوا ہی انڈے دیتے ہیں اس لئے مادہ کچھوا ہی ساحل پہ آتی ہے۔ نر کچھوا کبھی ساحل نہیں دیکھ پاتا اس لحاظ سے مادہ کچھوے کا علم نر کچھوے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن انکے یہاں معلومات عامہ کے امتحانات ہی نہیں ہوتے ہی نہیں ہوتے اس لئے مادہ کچھوا اسکا فائدہ نہیں اٹھا پاتی۔
کہتے ہیں کہ مادہ کچھوہ جس جگہ انڈے دے ، دوبارہ انڈے دینے کے لئے اسی ساحل کا رخ کرتی ہے۔ جب یہ ان ساحلوں پہ پہنچتی ہیں تو وائلڈ لائف کے لوگ انکے فلپرز پہ ایک ٹیگ پیوست کر دیتے ہیں۔ یہ ٹیگ نہ صرف انکی پہچان کے لئے کار آمد ہوتا ہے بلکہ اس کی وجہ سے سمندر میں انکی موجودگی بھی معلوم کی جا سکتی ہے۔
یہ کچھوے آخر کیوں اتنی تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ اسکی وجہ انسان اور اسکی سرگرمیاں ہیں۔ اول تو بعض ممالک میں کچھووں کے بچوں کا سوپ بہت پسند کیا جاتا ہے۔ اور یہ ایک قیمتی خوراک ہوتی ہے۔ کود کچھووں کے گوشت کی بڑی مانگ ہے۔ ہمارے ساحل پہ انہیں پکڑنے کی ممانعت ہے لیکن اطلاع ہے کہ ساحل سے چند میل کے فاصلے پہ ٹرالر انہیں پکڑتے ہیں اور ٹرالر کے اندر ہی انکا گوشت علیحدہ کر کے کیماڑی پہنچا دیا جاتا ہے جہاں پر پھر انہیں کوئ نہیں پوچھتا۔
دوسرا یہ کہ ساحل پہ موجود کتے بلیاں یا تو انکے انڈوں کو کھالیتے ہیں یا پھر نکلنے والے بچوں کا شکار کرتے ہیں۔  ساحل پہ موجود کچرے میں پھنس کر بھی بعض اوقات یہ بچے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ادھر سمندر میں پہنچ جانے والے بچے بھی ایک خاص عمر تک پہنچ کر اپنے شکاریوں سے محفوظ رہ پاتے ہیں۔ یوں ہزار بچوں میں سے ایک ہی بچ پاتا ہے جو بلوغت تک پہنچے۔
کچھوے کی آمد کی اطلاع کے ساتھ ہی بچوں نے لائن بنائ۔ انکی ٹیچرز ان پہ عقابی نظریں رکھے ہوئے تھیں کہ رات کی تاریکی میں کوئ بچہ ادھر ادھر نہ ہو جائے۔ کچھوے روشنی اور شور  سے بھاگتے ہیں۔ اس لئے اتنے بچوں کی موجودگی کے باوجود کامیاب خاموشی برقرار رہی۔


تھوڑا سا فاصلہ طے کر کے ہم وہاں پہنچے۔ سمندر سے اس جگہ تک کچھوے کے رگڑ کر آنے والے نشانات کا راستہ موجود تھا۔  کچھوا اپنا گڑھا بنانے میں مصروف تھا۔ ویڈیو اور کیمرے کی لائیٹس سے گھبرا گیا۔ ادھر وائلڈ لائف والوں نے اسے پکڑ لیا کہ اسے ٹیگ کر لیا جائے۔
بچوں کی چیخیں نکل گئیں۔ مشعل  تیزی سے مشاق فوٹوگرافر کی طرح تصاویر لینے میں مصروف ہو گئ۔ ادھر اسکول کی ٹیچرز انتہائ تشویشناک حالت میں بچوں کو کچھوے سے دور رکھنے کی کوشش میں مصروف تھیں۔ جبکہ کچھوا ایک بے ضرر اور شرمیلا جانور ہے۔



وائلڈ لائف کے عملے نے کچھوے کو قابو کر کے چیک کیا کہ وہ ٹیگ ہوا ہے یا نہیں۔ ٹیگ نہ پاکر انہوں نے اسکے فلپر میں ایک دھاتی ٹیگ پیوست کیا ، اسکی لمبائ نوٹ کی، اکتالیس اعشاریہ تین پانچ۔ پھر اسے آزاد چھوڑ دیا۔
ٹیگ کرنے کے لئے ہشیار


   اس ہنگامے سے گھبرا کر خلوت پسند کچھوے نے انڈے دینے کا ارادہ ترک کیا اور سمندر کی راہ لی۔ جب وہ اپنے کھودے ہوئے گڑھے سے باہر کی طرف چلا تو بچوں اور انکی ٹیچرز نے جلدی سے دور تک اسکے لئے راستہ صاف کر دیا۔ اور لائن بنا کر خود بھی واپسی کے سفر پہ روانہ ہو گئے کہ اس وقت رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ ہم اسکے پیچھے پیچھے چل پڑے۔ کچھوے نے بیچ میں دو مرتبہ رک لگا کہ اپنے فیصلے پہ نظر ثانی کرنے کاسوچا لیکن چونکہ دستاویزی فلم بنانے والا عملہ اسکے ساتھ ساتھ تھا اس لئے یہ  سوچ بھی عملی جامہ نہ پہن سکی۔ پھر وہ آگے بڑھ کر سمندر کی تاریکی میں گم ہو گیا اور ہم روشنیاں بُجھا کر شہر کی تاریکی میں۔
توقع ہے کہ وہ پھر لوٹ کر آئے گا۔ لیکن اپنے ان معصوم اور شرمیلے مہمانوں کے لئے ہمیں اپنے ساحل صاف رکھنے ہونگے۔ اور ان لوگوں پہ کڑی نظر رکھنی ہوگی جو اپنے تھوڑے سے فائدے کے لئے  ان نایاب جانوروں کی نسل کے لئے خطرہ بن رہے ہیں۔

کبھی الوداع نہ کہنا

Tuesday, February 22, 2011

ساحل کے ساتھ-۳


شام کے سوا چھ بج رہے تھے جب ہم پسنی سے کوئ بیس کلو میٹر کے فاصلے پہ شادی کور کی چیک پوسٹ پہ پہنچے۔  ٹرک ایل طرف رکا تو تھوڑے ہچکولے کھا کر گاڑی بھی رک گئ۔  ٹرک ڈرائیور نے معلومات درج کروائیں۔ ہماری گاڑی کی حالت تو سب پہ ظاہر تھی۔  تقریباً دو گھنٹے  ٹرک کے ساتھ رینگتے ہوئے ہم نے سوچا کہ ٹرک والوں سے بات کی جائے ہو سکتا ہے وہ ہمیں گوادر تک لے جانے پہ راضی ہو جائیں۔ وہ بھی تو گوادر جا رہے ہیں۔ بس یہ کہ انہیں پسنی میں زیادہ دیر کے لئے نہ رکنا ہو۔ 
سو وہ گاڑی سے اتر کر ان سے باتیں کرنے لگے۔ مجھے اس وقت ڈوبتے سورج کا منظر بے حد اچھا لگا اور میں نے سب بھول کر سوچا کہ اگر فلش آف کر کے لوں تو شاید بالکل ایسا ہی آجائے جیسا نظر آ رہا ہے۔ پہلی تصویر لی۔ اتنی دیر میں وہ واپس آ کر بیٹھے۔ گاڑی کے چلنے تک میں نے ایک اور تصویر لی۔ اور جب گاڑی اسٹارٹ ہو کر چلی ہی تھی کہ پیچھے سے سیٹیوں کی آواز آنے لگی۔
ٹرک اور گاڑی ایک دھچکے سے رکے۔ ایک سپاہی ہماری طرف تیزی سے دوڑتا ہوا آیا۔ آپکی گاڑی سے تصویر لی گئ ہے۔ جی میں گڑ بڑا گئ۔ دیکھے بغیر بھی جان سکتی ہوں کہ پڑوسی مجھے کن نظروں سے گھور رہے ہونگے۔
خیر، میں نے سپاہی محترم سے کہا کہ میں سورج کی تصویر بنا رہی تھی چاہیں تو آپ دیکھ سکتے ہیں۔ اسکے ساتھ ہی میں نے کیمرہ انکی طرف بڑھا دیا۔ اس نے کیمرہ نہیں لیا۔ بس میرے چہرے پہ ایک لحظہ نظر جمائے رہا۔ پھر کہنے لگا کسی یونیفارم والے کی تصویر تو نہیں لی۔ جی نہیں۔ ٹھیک ہے پھر آپ جا سکتے ہیں۔ 'دیکھا آپ سے کہا بھی تھا کہ چیک پوسٹ کی تصویر نہیں لینی ہے۔  شریف آدمی تھا چھوڑ دیا۔ ورنہ خوب درگت بناتے ہیں'۔ 'میں نے چیک پوسٹ کی لی بھی کہاں تھی۔ اسے میری معصومیت کے اعتماد پہ یقین تھا اس لئے چھوڑ دیا'۔ سچ پوچھیں تو کیمرہ بچ جانے پہ میں نے بھی دل میں شکر ادا کیا۔

لاکھ کوشش کی مگر نکل کر ہی رہے،،گھر سےیوسف، خلد سے آدم ، تیری محفل سے ہم

راستے میں ایک جگہ ہمارے محسنین چائے پینے کے لئے رکے اور بالآخر  رات کو گیارہ بجے گوادر سے بیس بائیس میل دورآباد ہماری منزل، مضافاتی آبادی کے باہر ٹرک رک گیا۔  ڈرائیور نے اتر کر آگے جانے والے راستے کا معائینہ کیا اور پھر معذرت کرلی۔ اندر آبادی میں  نہیں جا سکتے۔ روڈ مکمل نہیں بنا ہوا اور ٹرک کے پھنس جانے کا اندیشہ ہے ورنہ ہم ضرور آپکو گھر تک پہنچا کر گوادر جاتا۔
 ہم تو راستے بھر ویسے ہی انکے احسان پہ حیران ہوتے  چلے آرہے تھے۔ اس ویرانے میں سوا دو سو کلومیٹر تک ایک لوڈڈ رینج روور کو کھینچ کر لے جانے کا  احسان اگر دنیا میں کوئ کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے تو وہ شاید ایک بلوچ کا حوصلہ ہی ہو سکتا ہے۔ اس ٹرک میں موجود تینوں افراد بلوچ تھے۔  بلوچ اپنی مہمانداری کے لئے مشہور ہیں اور اپنی وسعت قلب کے لئے بھی۔ پھر آخر ایسا کیوں کہ اس صوبے کے اندر ان لوگوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جائے جو بلوچ نہیں لیکن جو وہاں انکے ساتھ حیات کی سختیوں میں شریک ہونے کے لئے موجود ہیں؟
روڈ کے کنارے کھڑے کھڑے، تھوڑی دیر میں ایک گاڑی نظر آئ۔  سوار بلوچ نے کہا میں آگے ایک کام سے جا رہا ہوں اگر آپ دس منٹ انتظار کر لیں تو واپسی میں میری گاڑی میں جا سکتے ہیں۔ سامان تو ہم پہلے ہی سیٹ کر چکے تھے۔ جتنی دیر ہم وہاں اس کا انتظار کرتے رہے۔ جو بھی گاڑی وہاں سے گذری اس نے ہماری خیریت دریافت کی۔ حسب وعدہ وہ شخص آگیا۔ سردی اتنی نہیں تھی جتنی ہوا تیز چل رہی تھی۔ ضروری سامان  ساتھ لیا اور اس میں بیٹھ گئے۔ گھر وہاں سے  ڈیڑھ دو کلو میٹر سے زیادہ دور نہیں تھا۔
 گھر پہنچ گئے۔ شاید ایک سال کے بعد کھلا تھا۔ ہر چیز پہ  مٹی کی موٹی تہہ جمی تھی۔
مشعل بھی اٹھ چکی تھی۔ اسے جھاڑو دینا اور ڈسٹنگ کرنا بے حد پسند ہے۔ مستقبل میں وہ ماسی بن کر قوم کی خدمت کرنے میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں۔ ہر جگہ اتنی مٹی جمع دیکھ کر انکے دل کی کلی کھل گئ۔ اور اس وقت جبکہ ہم پلان بنا رہے تھے کہ رات کے اس وقت، اتنی تھکی ہوئ حالت میں ہم کیا کیا کر سکتے ہیں وہ بار بار یاد دہانی کرا رہی تھیں کہ وہ اب بڑی اور سمجھدار ہو چکی ہیں اور ہمارے شانہ بشانہ کام کرنے کو تیار ہیں۔ والدین کو اندازہ ہو سکتا ہے کہ  ایک چار سالہ بچے کی ان رضاکارانہ خدمات کو کتنی سختی سے ٹھکرانا پڑتا ہے۔ یوں کام گھٹنے کے بجائے اور بڑھ جاتا ہے۔ 
بہرحال بیڈ روم کی صفائ، صاحب نے سنبھالی، کچن کی میں نے تاکہ کھانا گرم کر کے پیٹ پوجا کی جائے۔  حیات میں شریک ہونا  شاید اسی کو کہتے ہیں۔ مشعل دونوں جگہوں کے درمیان دوڑتی رہیں تاکہ جہاں موقع ملے وہ گھس جائیں اور بزور قوت اپنا حق صفائ حاصل کریں۔ ہماری قسمت کی کمزوری کہ انہیں کہیں سے ایک گندہ کپڑا اور ٹوٹی ہوئ جھاڑو بھی مل گئ تھی۔
صبح کے لئے پروگرام یہ بنا کہ کراچی میکینک کو فون کر کے پہلی بس سے یہاں آنے کو کہا جائے۔ کیونکہ گوادر میں کوئ اچھا مکینک  ملنا ممکن نہیں۔ پھر گاڑی کو گھر کے گیراج تک لانے کا بندو بست ہو۔ پھرگھر کی اچھی طرح صفائ کی جائے۔
اس واضح منصوبے کے بعد ہم نے اپنے اوپر سے دن بھر کی گرد جھاڑی اور ہر اندیشے سے بے نیاز ہو کر بستر پہ پڑ گئے۔ گھر سے چار پانچ گز کی دوری پہ سمندر کی لہریں، ساحل سے راز ونیاز میں مشغول تھیں۔ کہتے ہیں
رات بھر کوئ نہ سوئے تو سنےشور فغاں
چاند کو درد سناتا ہے سمندر اپنا
لیکن ایک لمبے دن کے بعد رات کے ایک بجے تھکن نے ہر جذبہ ء  تجسس کو بھی سلا دیا  تھا یہ ممکن نہ تھا کہ کسی کا درد سننے کے لئے ہم جاگتے رہیں۔ سو اسے لوری سمجھ کر گہرری نیند کے مزے لئے۔


صبح گاڑی گھر تک کیسے پہنچی؟ اس کے لئے وہاں زیرتعمیر جیٹی کا شکریہ کہ اسکی وجہ سے ایک ٹریکٹر مل گیا جو مقامی بلوچوں کی مدد سے اسے کھینچ کر گھر تک لے آیا۔


اب میکینک کا انتظار تھا۔ جو اسی رات تین بجے  آنے والی بس سے پہنچ رہا تھا۔ یہ اس کا گوادر کا پہلا سفر تھا۔ اور وہ خاصہ پُر جوش تھا۔ یوں جیسے کراچی میں کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرنے والے کو تھائ لینڈ جانے کا پیغام ملے۔

جاری ہے

Tuesday, February 1, 2011

فرنچ بیچ پہ پاکستانی

سمندر ہمیشہ یکساں حالت میں نہیں رہتا۔ کبھی اسکا پانی ساحل پہ دور تک پھیل جاتا ہے اور کبھی اس طرح سمٹتا ہے کہ اسکے اندر موجود چٹانیں اور ان پہ موجود سمندری مخلوقات ظاہرہو جاتی ہیں۔ یہ عمل دن میں دو بار ہوتا ہے اور اسے سمندر کا مد و جذر  کہتے ہیں۔
جب سمندر جذر کی حالت میں ہو یعنی پانی سمٹ کر پیچھے چلا جائے تو تحقیق دانوں کو بہت کچھ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔  چٹانوں کے کونے کھدروں میں ٹہرا پانی ان میں پھنسی چھوٹی چھوٹی مچھلیاں اور سمندری گھونگھے اور سیپ، سمندری پودے۔
ایک ایسے ہی وقت ہمارا گروپ سمندر کی ان چٹانوں سے سمندری پودوں کو ادھیڑنے میں مصروف تھا تاکہ ان پہ تحقیق کر کے انسانوں کے لئے کار آمد مرکبات نکالے جا سکیں۔
کچھ لوگ کام میں اور کچھ آرام کی حالت میں تھے۔ جب ہمارا آرام کا وقت آیا تو ہم ساحل کے ساتھ ریت کے محل بنانے اور ایک دوسرے کے ساتھ چھیڑ خانیوں میں مصروف ہو گئے۔ کسی نے  ساحل کے ایک طرف انگلی اٹھا کر کہا وہ اس طرف فرنچ بیچ ہے۔ وہاں عام لوگوں کا جانا منع ہے۔ وہاں بڑی اچھی ہٹس ہیں اور بڑا اچھا ویو۔ میں نے اس طرف دیکھا اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو گئ۔
عام آدمی کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہئیے اسی میں اسکی بقاء ہے۔
جب دنیا میں بہت اچھے سمندری ویوز دیکھ چکے جن میں گوادر کا سحر انگیز سمندری ویو بھی شامل ہے تو ابھی گذشتہ دنوں پیغام ملا کہ آپ چاہیں تو فرنچ بیچ پہ ایک پورا دن بلکہ رات بھی گذار سکتی ہیں۔
رات کی تجویز کو تو بچوں کی زیادہ تعداد کی وجہ سے نظر انداز کر دیا۔ البتہ دن گذارنے کے لئے وہاں روانہ ہوئے۔ فرنچ بیچ ساحل کے اس حصے کا نام ہے جو اس قطار میں شامل ہے جہاں ہاکس بے اور پیرا ڈائز پوائینٹ  موجود ہیں۔
یہاں ایک گاءوں ہے جس کی زمین پہ یہ ہٹس شہر کی اشرافیہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ خوبصورت ہٹس کے ساتھ بہت سارے پام، ناریل، اور کھجور کے درخت موجود ہیں۔ ساحل کی خوبی یہ ہے کہ سمندر کی ریت اور چٹانیں  ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ کراچی کے سی ویو پہ صرف ریت ہے۔ پھر یہ کہ وہ کافی عوامی جگہ ہے۔ جبکہ یہاں بغیر کسی مداخلت کے خاندان کے ساتھ دن گذارنے کی سہولت موجود تھی۔
یہاں کے ساحل کی ایک خوبی اور بھی ہے، کراچی کے باقی ساحلوں سے غروب آفتاب کا نظارہ کیا جا سکتا ہے طلوع آفتاب کا نہیں۔ جبکہ اس ساحل سے طلوع آفتاب کا منظر دکھائ دیتا ہے غروب کا نہیں۔
:)
شاید اسی لئے اشرافیہ کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔ تمام دن، ادھر ادھر گھومتے کچھ تصاویر اکٹھی کیں۔ آپ کے لئے بھی حاضر ہیں۔

بچوں کا جمع کیا ہوا ہرمٹ کریبز کا خزانہ



ساحل کی گیلی ریت فنکاری کے نمونے دکھانے کے لئے اچھی جگہ اور بچوں کے لئے ایک قدرتی سلیٹ
خوبصورت ناریل کے درخت

ائے محتسب نہ پھینک ارے محتسب نہ پھینک، ظالم، شراب ہے ارے ظالم شراب ہے 

ہاتھ دھو لیں کھانے کا وقت ہوا چاہتا ہے

 توانائ بچائیے، کباب اور شیر مال ایک ساتھ گرم کریں






ایک سالگرہ بھی منائ گئ
 کتوں نے بھی موقع سے فائدہ اٹھایا اور تصویری سیشن میں ادائیں دکھائیں۔ یوں معلوم ہوا کہ کتے میں بھی عصری آگہی موجود ہے۔