Showing posts with label انڈیا. Show all posts
Showing posts with label انڈیا. Show all posts

Monday, October 1, 2012

ڈنگ ڈونگ

ہر اچھا اور برا وقت گذر جاتا ہے کل کا دن بھی گذر گیا۔ ایک اور چبھتی ہوئ یاد۔ فیس بک پہ اب تک اسکی  چبھن باقی ہے۔ جب بھی ہم روائیتی حریف کے سامنے ہوتے ہیں دنیا کو لگ پتہ جاتا ہے کہ آج  کیا ہونے والا ہے۔ کسی زمانے میں شیر کی آ٘د کا پتہ رن کے کانپنے سے چلتا تھا۔ کس شیر کی ٘آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے اب یہ کام میڈیا انجام دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب روڈ پہ سے گذری تو حیران تھی کہ اتنا چھوٹا شامیانہ لگا کر اور اتنی ساری کرسیاں بچھا کر کس تقریب کا اہتمام ہو رہا ہے۔ نوجوان اب بھی ایم کیو ایم کے اتنے دیوانے ہیں۔ واپسی پہ معمہ حل ہوا،  شامیانے کا سائز اسکرین کے سائز جتنا تھا اور کرسیاں ہی کیا لوگ اسکے چاروں طرف کھڑے تھے۔ 
گھر واپس آکر دیکھا کہ لاءونج کا صوفہ ٹی وی سے ایک نامعقول فاصلے پہ رکھا ہوا ہے اور آگے پیر ٹکانے کے اسٹول رکھے ہوئے ہیں۔ آنکھیں جمی ہیں، میچ چل رہا ہے۔
مجھے تو ٹی ٹوئینٹی میچ  کرکٹ کا ساشے پیکٹ لگتا ہے۔ آخر اسکے لئے گیارہ کھلاڑیوں کی کیا ضرورت ہے؟ یعنی رومال بنانے کے لئے پورا تھان لیں۔ یہ اسی صورت نظر انداز کیا جا سکتا ہے جب فیس بک اور ٹوئٹر بھی ساتھ ساتھ رواں دواں ہوں۔ 
فیس بک سے اندازہ ہوا کہ میچ میں پاکستان کی ہار کا منظر ابھرتے ہوئے ہی کچھ کمزور دل حضرات ٹی وی کے آگے سے اٹھ گئے۔ کچھ نے جائے نماز سنبھالی لیکن میچ کے اختتام پہ کچھ دہرئیے والے کلمات کہتے پائے گئے۔ پاکستانی کھلاڑیوں کو سوچنا چاہئیے کہ انکی وجہ سے کچھ لوگ دعا اور رب دونوں سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ جسکا عذاب انکے سر پہ ہوگا۔ کچھ خواتین رونے لگ گئیں اور کچھ کے بچوں کی شامت آئ یعنی طویلے کی بلا بندر کے سر۔ اس دلچسپ صورت حال کی عکاسی کے لئے میں نے کچھ اسٹیٹس چوری کئے ہیں۔ حاضر ہیں۔
Feel like giving two chammats to the team

Kia game on hai? I didnot feel do :(

کوئ بات نہیں، بچہ سمجھ کر جیت دے دی، اگلی باری میں دیکھنا۔
پس ثابت ہوا کہ ٹُلّر ہر واری نہیں چل سکدا۔

اور جیسا کہ میں میچ شروع ہونے سے پہلے کہہ چکا تھا نتیجہ وہی نکلا
 
Chalo toss hu, jeetay or match tum! Baat baraber hoi :)
 
Lo Ji,
Pakistan har gaya.
Allah Hafiz
To boost the performance levels for time being, Pakistani team must presume for time being that they are working in a 3 hour long commercial
Prepare yourself for this song.

Tum Jeeto yaan haaroo
sunooooo
humain tum say piyar ha
 
Shahid Afridi didn't work, lets send Shakeel Afridi with polio drops, and then a drone attack + seal operation on top of that. All over!
 
اس سے بڑی زیادتی اور کیا ہوگی فراز 
ہم جیتیں تو وارم اپ، وہ جیتیں تو سپر 8 

کس عقیدت سے آئوٹ ھوتے ھیں

واہ وا واہ

کس عقیدت سے آئوٹ ھوتے ھیں
ھار جانا ثواب ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ھو جیسے

کیا رحمان ملک پاک بھارت میچ کا سودا کرنے گیا؟ رقم بٹورنے کا اچھا موقع سمجھتے ہوے؟
پاکستانی ٹیم کو کسی کوچ کی نہیں، بلکہ ایک اچھے سائیکیٹریسٹ کی ضرورت ہے۔
اور قارئِن، اس دھلائ سے فارغ ہو کر لوگ ایک دفعہ پھر خداکی طرف رجوع کرتے ہیں۔ کیوں؟ یہ نہیں معلوم۔
I am watching Madni Tv now !!!
میری دلچسپی تو کرکٹ میں اس وقت سے ختم ہو گئ ہے جب سے پاکستان میں کرکٹ کرپشن اپنے عروج پہ پہنچا۔ لیکن اس دفعہ جس چیز کی وجہ سے مجھے بار بار اسکرین کو دیکھنا پڑا۔ وہ ڈنگ ڈونگ کا اشتہار ہے۔ میرے بچپن سے یہ اب میری بیٹی کے بچپن تک آپہنچا۔ جب اشتہار اختتام پہ پہنچتا ہے تو بلی چوہوں کی پٹائ لگانے کے بعد اپنا ڈنگ ڈونگ ببل کا ذخیرہ لیتی ہے اور وہی سونگ گاتی ہے۔ میں سوچتی تھی کہ یہ نہیں پتہ چلتا کہ کون سا سونگ گاتی ہے؟ کچھ عرصے بعد ایک خیال آیا کہ یہ ڈنگ ڈونگ گاتی ہے۔ اب بھی یقین نہیں کہ یہ خِال درست تھا یا غلط۔
 اس میچ کے دوران ڈنگ ڈونگ ببل کا اشتہار پاکستان کی مختلف زبانوں میں آتا رہا۔
اور میں ہر دفعہ کمپیوٹر اسکرین سے نظریں پھیر سنتی کہ یہ اب کون سی علاقائ زبان ہے اور اس میں کیا الفاظ استعمال ہوءے ہیں۔ لیکن کل سے پہلے شاید ہی کبھی شک ہوا ہو کہ یہ اشتہار یا تو یہودیوں نے بنایا ہے یا پھر را کے ایجنٹوں نے۔ ایک مبصر کا کہنا تھا کہ ہر کھلاڑی کے آءوٹ ہونے پہ یہ اشتہار آیا اور بلی خوشی سے ناچتی پھری۔ بعض حقائق بڑی دیر سے پتہ چلتے ہیں۔


اب پھر ایک سوال ذہن میں ہے۔ اگر بلی نے چوہوں کی پٹائ لگائ اور ڈنگ ڈونگ لے کر اس نے پھر وہی سونگ گایا۔ تو اس دفعہ اس نے کون سا سونگ گایا؟ جواب منتخب کریں۔
۱
ڈنگ ڈونگ
۲
تم جیتو یا ہارو
سنو
ہمیں تم سے پیار ہے
۳
لخ لعنت

Wednesday, April 11, 2012

زندہ رشوت، مردہ بخشش

ہمارے 'محبوب صدر' نے  جب بن بلائے مہمان کے طور پہ بھارت جانے کا قصد کیا تو  دشمنوں نے جو اللہ کے کرم سے انکے کم نہیں، جس میں انکی شکل کا کم اور عقل کا حصہ زیادہ نظر آتا ہے۔  ان پہ الزام لگایا کہ وہ بھارت سے کوئ خفیہ ڈیل کرنے جا رہے ہیں۔
اگرچہ انہوں نے بار بار کہا کہ انکے اس دورے کا مقصد اجمیر شریف کی زیارت کے علاوہ کچھ نہیں ، جہاں وہ اپنی بیگم کی منت پوری کریں گے۔ ارے جناب، تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں اور یہ سیاستداں بھینگے کی۔ جس طرف کی دکھاتے ہیں اس طرف مقصود نہیں ہوتا۔ 
 ڈرانے والے تو انہیں کئ بار ڈرا چکے ہیں کہ مرنے والوں کا اتنا تذکرہ اچھا شگن نہیں۔ اگر مرنے والے نے بھی انہیں اس شدت سے یاد کیا تو  اس ملک کا، پیپلز پارٹی کا اور ننھے بلاول کا کیا ہوگا۔ لیکن  زرداری صاحب  بھی اپنے نام کے ایک ہی ہیں۔ ایک دفعہ ٹھان لی تو بس انڈیا جا کر ہی دم لیا۔ یہی نہیں جتنا لمبا دورہ مقصود تھا اتنا ہی رکھا اس میں وطن میں سو سے زائد فوجیوں کی سیاچن حادثے میں ہلاکت بھی رخنہ نہ ڈال سکی۔ وہ جانتے ہیں موت کا ایک دن مقرر ہے اور اجمیر شریف وہی جاتا ہے جسکا بلاوا آتا ہے۔
اسکی وجہ کچھ دل جلے یہ بتاتے ہیں کہ اب انکے مسائل کا حل نہ سپریم کورٹ کے پاس ہے نہ سوئس بینکوں کے پاس ، اب اگر انکے مسائل کا حل کسی عالم گوگیا پاشا کے پاس ہی ہے۔  بڑے لوگوں کی باتیں بڑی۔ اگر انکو کوئ بتا دے کہ آپ کسی کار کے حادثے میں کریں گے تو وہ دعا کریں گے کہ لیموزین جیسے ماڈل کی نئ کار ہو۔
اس لئے ملکی روحانی باباءوں کو انہوں نے بنظر حقارت  بھی نہ دیکھا۔  حتی کہ ہمارے ملک میں جہاں مزاروں اور مجاوروں کی کمی نہیں۔ وہ خود ایک سیاسی خاندان کے مجاور ہیں، انکے وزیر اعظم ایک روحانی خاندان کے مجاور۔ ہر دو خاندان کی سیاسی اور روحانی طاقت اتنی زیادہ ہے کہ مخالفین ایڑی چوٹی کا زور لگا دینے کے باوجود انکی شہرت میں کوئ کمی نہ لا سکے۔ مزاروں کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ زندہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
خیر، اس سب کے باوجود قرعہ ءفال اجمیر والوں کے نام کیوں نکلی؟
 محبوب صدر کا کہنا ہے کہ بیوی کی منت پوری کرنے آئے ہیں۔ ایک ایسے نازک وقت میں جب کہ ملک کا ملک انکے ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے وہ پرائے دیس میں کیوں فاختائیں اڑا رہے ہیں اسکا جواب تو خلیل خاں ہی دے سکتے ہیں یا وہ۔ فی الوقت تو ان کے ہم وطن ااس ایک کروڑ ڈالر یعنی تقریباً نوے کروڑ کی رقم پہ طعنہ زن ہیں جو انہوں نے اجمیر کے مزار کے نام کی ہے۔ اگر یہ رقم وہ وطن میں ان زندہ لوگوں کے نام کر دیتے جن پہ دن بہ دن انکی ناکام طرز حکومت کی وجہ سے زندگی کے دروازے بند ہو رہے ہیں تو شاید انہیں اجمیر شریف جانے کی ضرورت پیش نہ ہوتی جو زندہ لوگوں کے دلوں میں رہتے ہیں انہیں مُردوں سے مدد نہیں چاہئیے ہوتی ۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مرنے کے بعد انہیں پاکستان میں شاید دو گز زمین نہ ملے، اس لئے اپنے لئے اجمیر میں بعد از مرگ زمین ان پیسوں کے عیوض بک کرائ ہے۔ تاکہ اس مجاور کا مزار وہاں بنے۔  ارے نہیں صاحب،  زمین نے کوئ گناہ ثواب کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا۔ سبھی اس کے کنوئیں میں جاتے ہیں۔ خاک وہیں پہنچتی ہے جہاں کا خمیر ہوتا ہے۔ کیا چشتی صاحب انکی ہمراہی قبول فرمائیں گے؟
یہ اجمیر والے بزرگ معین الدین چشتی  جو ہیں انہوں نے کاہے کو انہیں بلاوا بھیجا  اسکا بھی اندازہ نہیں۔  لوگوں کا اندازہ ہے کہ اللہ والوں کی بھی شاناں ہوتی ہیں۔ جسے نواز دیں۔ بس ایسی ہی باتوں سے اللہ والوں سے دل ہٹ سا جاتا ہے۔ خیر ایک معتقد نے بتایا کہ کچھ دنوں کے لئے ملک کو نحوست سے پاک کرنے کے لئے چشتی صاحب نے ایسا کیا باقی دنوں کے لئے کیوں نہیں کیا، ان مخصوص دنوں میں کیا بات تھی؟
کیا اجمیر کے مزار میں قیام پذیر چشتی صاحب، زرداری صاحب کا یہ دان قبول کر لیں گے یا انکے منہ پہ دے ماریں گے۔ اسکا نتیجہ بھی وقت ہی بتائے گا۔
ابھی یہ نہیں معلوم کہ زرداری صاحب نے یہ پیسے اپنی ذاتی جیب سے دئیے ہیں یا ہمارے ٹیکس سے۔ اگر ہمارے ٹیکس سے دئیے ہیں تو کم از کم مجھے احتجاج کا حق حاصل ہے۔ میں نے انہیں ٹیکس کی صورت میں یہ رقم اس مقصد کے لئے نہیں دی تھی۔
ہمارے شہزادے بلاول بھی والد صاحب کے ہمراہ تھے۔ سنا ہے کہ وہاں کے شہزادے راہول گاندھی کو انہوں نے اپنی سلطنت آنے کی دعوت دی ہے۔ انہیں آنا بھی چاہئیے یہ دیکھنے کے لئے ہم پاکستانی کتنے بڑے دل کے مالک ہیں کہ اپنے بچے مار کر دوسروں کے مزاروں پہ چڑھاوے چڑھاتے ہیں اس لئے کہ ہم منت کی صورت میں کئے جانے والے وعدے سے نہیں پھر سکتے۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ووٹ کی صورت میں کئے گئے وعدے اوراعلی عہدے پہ لئے گئے حلف کی ہماری نظر میں کوئ اہمیت نہیں ہوتی۔
 بس یونہی خیال آرہا ہے، سیاست میں تصوف تو ہوتی ہے کیا تصوف میں سیاست ہوتی ہے؟ کیا معین الدین چشتی صاحب رشوت لیتے ہیں؟
  

Tuesday, December 6, 2011

وینا ملک ہائے ہائے

اظہار بھی مشکل ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے
مجبور ہیں اف اللہ، چپ رہ بھی نہیں سکتے
ویسے تو خاموشی سنا ہے ہزار بلائیں ٹالتی ہیں۔ لیکن یہ محاورہ خاصہ پرانا ہو گیا ہے۔ جدید لغت کہتی ہے،  سب کہہ دو۔ لیکن ہوا یہ کہ وینا ملک کے موجودہ سنسنی خیز انداز پہ عوام ایک گوماگوں حالت میں ہیں۔ سب دیکھ سکتے ہیں اور دیکھ رہے ہیں لبوں میں انگلیاں دبائے پرسب کہہ نہیں سکتے اور کہنے کو اتنا کچھ ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کس کھوہ میں جا کر نکالیں۔  حسین جب  دکھ دیتے ہیں تو ایسے جان لیوا دکھ دیتے ہیں جنہیں کبھی رو کر اور کبھی ہنس کر سہنا پڑتا ہے۔
یہ سب باتیں تو ڈھکے چھپے انداز میں تقریباً سبھی کے پاس پہنچ چکی ہیں کہ وینا ملک کو تحریک انصاف میں شامل ہوجانا چاہئیے کہ انہوں نے اپنے تمام اثاثے ظاہر کر دئیے ہیں۔
کچھ لوگوں نے عدالت عالیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وینا ملک کی شہریت کینسل کی جائے اس پہ کچھ اور لوگوں نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ عدالت عالیہ کو وینا ملک کو عدالت میں بلا کر اس بات کی تصدیق چند مفتیوں کے سامنے کرنی چاہئیے کہ آیا وہ انکی تصویر ہے بھی یا نہیں۔
ادھر عمران خان بار بار عندیہ دے رہے ہیں کہ وہ اپنے اثاثے ظاہر کریں گے اور چند دانا کہہ رہے ہیں کہ
ظاہر وہ سب کریں پر نہ خدا کرے کہ یوں
یہ تصویر ایک عجیب معمہ سی بن گئ ہے. حالانکہ اسے ان تصویروں کے خانے میں رکھا جا سکتا تھا جو ناصح کا منہ بند کرنے کے لئے پیش کی جاتی ہیں۔
یا تنگ نہ کر ناصح ناداں مجھے اتنا
یا چل کر دکھا دے دہن ایسا، کمر ایسی
پر ایسا کیوں ہے کہ مجھ ایسے اوسط روایت پسند پاکستانی کو جسے اسے دیکھ کر منہ چھپانا چاہئیے  اسے دیکھ کر ہنسی  آنے لگتی ہے۔ کیا یہ تصویر پہ موجود الفاظ آئ ایس آئ کا کمال ہے۔

آخر اس پہ آئ ایس آئ کیوں لکھا گیا ہے؟

کیا اسکا مطلب ہے ایسے آئ ہے؟
کیا میمو گیٹ اسکینڈل کی طرح وینا ملک کی اس کھُلی تصویر میں کوئ پوشیدہ پیغام چھپا ہوا ہے۔ اس تصویر کا حقانی کون بنے گا؟
کیا ہماری محبوب آئ ایس آئ اتنی ترغیب دینے والی ادا رکھتی ہے؟
کیا آئ ایس آئ اپنے حسن کی داد پانے کو کچھ بھی کر سکتی ہے؟
کیا آئ ایس آئ اتنی دلیر اور جراءت مند ہے؟
کیا آئ ایس آئ کی پروڈکٹس اتنی دل لبھانے والی ہوتی ہیں کہ دوسرے اپنے اوپر قابو نہیں رکھ سکتے؟
کیا آئ ایس آئ استعمال کرنے والے اوسان خطا کرنے والی قوت حاصل کر لیتے ہیں؟
یا اسکا مطلب ہے کہ ہشیار باش آئ ایس آئ کی اس نئ پروڈکٹ سے بچ کر دکھائیں؟

 وینا ملک نے پہلے کہا کہ آئ ایس آئ کا نام تو یونہی دل پشوری کے لئے لکھا گیا تھا کیونکہ انڈیا میں کسی کو چھینک بھی آجائے تو وہ آئ ایس آئ کا نام لیتا ہے۔ لیکن اپنے تازہ ترین بیان میں وہ اس سے پھر گئیں۔ ایسے ہی جیسے مرتے وقت آنکھیں پھر جاتی ہیں۔ زمانے بھر کے حسینوں میں کچھ ادائیں کتنی مشترکہ ہوتی ہیں۔ اس لئے آرٹ مشترکہ وراثت کہلاتا ہے۔
  دنیا میں پچاس ادارے ایسے ہیں جنکا نام آئ ایس آئ ہے۔ انکا کہنا اب یہ ہے۔ یہ پٹی غالباً انکے وکیل نے پڑھائ ہے۔ حالانکہ وہ شرما کر یہ بھی کہہ سکتی تھیں کہ یہ اتفاق ہی ہے کہ میرے محبوب کے نام کا مخفف بھی آئ ایس آئ ہے مگر ایک تو اس سے انکی پبلک ڈیمانڈ میں کمی آجاتی۔ دوسرا یہ کہ تصویر کا تعلق اب تک کبیر شرما سے ہی جوڑا گیا ہے شرم سے نہیں۔  شرم، شرما اور اس تصویر کو اکٹھا کرنے سے فریم خاصہ ٹیڑھا ہو جاتا ہے۔ نیوڈ آرٹ کو سراہنے کے لئے شرم ایک بے جا چیز ہے۔ جس نے کی شرم اسکے پھوٹے کرم۔ 
سنتے ہیں کہ وزیر داخلہ رحمن ملک کو اس بارے میں تحقیات کا حکم ہے۔ تحقیقات شروع کرنے سے پہلے انہوں نے یقین دلایا کہ انہوں نے یہ تصویر نہیں دیکھی ہے اور 'اگر' وینا ملک کی کوئ ایسی تصویر موجود ہے تو انکے خلاف کارروائ ہو گی، 'سخت کارروائ'۔ یہ دھمکی انکے منہ سے بالکل وہی تائثر دے رہی ہے جو امریکہ کو دھمکی دیتے وقت معلوم ہوتا ہے۔
میں صرف یہ جاننا چاہتی ہوں کہ تحقیق کی وجہ سے رحمن ملک صاحب کو یہ تصویر دیکھنا پڑے گی۔ اسکا گناہ کس کے سر جائے گا؟
یہ نہیں معلوم کہ تحقیق کس بات کی کریں گے۔ اس کی کہ تصویر اصلی ہے یا نقلی؟ یا یہ کہ اسے توہین آئ ایس آئ کہا جائے کہ توہین حُسن؟
وینا ملک اس سے پہلے بھی ایسے صدمے دے کر خود کمال مہارت سے اپنے آنسو بہا اور دوسروں کے پونچھ چکی ہیں۔ چال چلن کہتا ہے کہ اگر وہ میدان سیاست میں صدق دل سے قدم رکھ دیں توعمران خان کے چھکے چھڑا دیں گی۔ آخر ان دونوں میں فرق ہی کیا ہے۔ وہ آ کے بیٹھے ہیں میکدے میں، وہ اٹھ کےآئے ہیں میکدے سے اور دونوں پہ ہی آئ ایس آئ کی چھاپ ہے۔ بس چند ندامتی آنسو ، سر پہ دوپٹہ، امریکہ کے خلاف نعرے وینا ملک ہائے ہائے کو وینا ملک آئے آئے میں تبدیل کر دے گا۔
  اب صرف یہی دلچسپ بات نہیں کہ اس دفعہ وہ کیسے اس سے جان چھڑاتی ہیں بلکہ یہ بھی کہ تخلیق کار کیسے اس ہائ اینٹرٹیمنٹ کو استعمال کر پاتے ہیں۔ کیونکہ اس راہ میں نکتہ ء تخلیق کچھ زیادہ واضح مقامات پیچ و خم سے گذر کر آ رہا ہے۔ ایسے میں تخلیقی الجھن یہ ہے کہ اس خطرناک چلمن کے کتنے قریب ہوں جو صاف دکھے بھی نہیں اور کچھ چھپے بھی نہیں مزید یہ کہ تخلیق کار کا دین و دل اپنی جگہ قائیم رہیں۔ 
پاکستانی زبان و بیان میں ایک نئ علامت بن کر ابھرنے والی اداکارہ کی ایک پچھلی ایک یاد۔
   
 


Monday, October 10, 2011

اف جوئیں۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکول جانے والوں بچوں کے والدین کے جہاں دیگر مسائل ہوتے ہیں وہاں سب سے خوفناک ، دل دھڑکا دینے والی وجہ  جس سے انہیں اور انکے بچوں دونوں کو سخت شرمندگی ہوتی ہے وہ سر کی جوئیں ہیں۔


ویسے تو جوئیں ساری دنیا میں لوگوں کے ہوتی ہیں لیکن گرم ممالک کی آب و ہوا انہیں خوب راس آتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ گھریلو سطح پہ جتنی چاہے احتیاط کی جائے ایسا ہو ہی جاتا ہے کہ ہم کسی دن دیکھتے ہیں کہ ہمارا بچہ بری طرح سے اپنا سر کھجا رہا ہے۔ یہ ایک اہم علامت ہے کہ سر میں جوءووں نے جگہ بنا لی ہے۔ اگر اب بھی نظر انداز کریں تو یہ جوئیں گرمی کی وجہ سے کسی دن سر کے اوپر مٹر گشت کرتی نظر آئیں گی۔ اور ہلکی سی ہوا بھی بالوں میں چپکے انکے  سفید انڈوں کی ایسی نمائیش کرے گی کہ لوگ گھبرا کر آپکے بچے کو خود سے دور کر دیں گے۔
یہاں کراچی میں کچھ پرائیویٹ اسکولوں نے یہ پالیسی بنا لی ہے کہ سر میں جوءووں کی موجودگی کے شک کی بناء پہ اسی وقت بچے کو گھر واپس بھیج دیتے ہیں۔ جو نہ صرف بے جا سختی ہے، بلکہ بچے کی سبکی اور دیگر بچوں کی طرف سے اسکی چھیڑ کا باعث بن جاتی ہے۔
یہاں میں فی الوقت ان اسکولوں کے تذکرے میں نہیں جانا چاہتی جو کہ اس قسم کے قوانین کا نفاذ کر کے یہ تائثر دینا چاہتے ہیں کہ انکا اسکول ڈسپلن اور قواعد کے لحاظ سے کس قدر بہترین ہے۔ انسانی قدر و قیمت بھی کوئ چیز ہے۔ لیکن یہ ضرور کہنا چاہونگی کہ کسی اسکول انتظامیہ کو یہ حق نہیں ہونا چاہئیے کہ وہ محض اس وجہ سے بچے کو کلاس سے نکال کر گھر واپس بھیج دیں۔ بچہ بہرحال وہاں تعلیم کے لئے ہے اور اس طرح سے اسکی تدریس کا جو نقصان ہوتا ہے اسکی ذمہ داری اسکول پہ عائد ہوتی ہے اور محکمہ ء تعلیم کو اس سلسلے میں نوٹس لینا چاہئیے کہ وہ کون سی اہم وجوہات ہو سکتی ہیں جنکی بناء پہ ایک اسکول اپنے کسی صحت مند طالب علم کو کمرہ ءجماعت میں بیٹھنے سے روک دے۔
جوئیں، کسی کی جمالیاتی حس کو ناگوار گذر سکتی ہیں، صفائ پسند طبیعت کو بری لگ سکتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ مچھر،  یا کچھ اور حشرات کی طرح کوئ بیماری نہیں پھیلاتیں۔
اگر اسکول انتظامیہ چاہے تو وہ پہلے سے احتیاطی تدابیر کروا سکتی ہیں مثلاً وہ والدین کو یہ نوٹس بھیج سکتی ہے کہ  ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران بچے کے سر کو کسی جوئیں مار شیمپو سے دھویا جائے اور گیلے بالوں میں باریک کنگھی پھیری جائے۔ اس طرح سے اگر کوئ جوں اتفاقاً چڑھ جائے تو وہ نکل جائے گی۔  پوری جماعت ایکدن اس طرح کے عمل سے گذرے گی تو جوءوں کے پھلنے کے امکانات خاصے کم ہو جائیں گے۔
بچیوں کے لئے یہ لازمی کیا جائے کہ اگر انکے بال بڑے ہیں تو وہ انہیں باندھ کر رکھیں اس طرح بندھے ہوئے بالوں سے جوءوں کی منتقلی مشکل ہو جاتی ہے۔ بچوں کو آپس میں سر جوڑ کر بیٹھنے سے منع کریں۔
والدین کو بتایا جائے کہ ہفتے کے آخری دن جو کہ پاکستان کے زیادہ تر اسکولوں میں جمعہ کا دن ہوتا ہے بچوں کی صفائ کے سلسلے میں معائنہ ہوگا۔ اس طرح ان پہ دباءو رہے گا کہ وہ اپنے بچوں کی صفائ کا خیال رکھیں۔ یہ نوٹس انہیں تعلیمی سال شروع ہونے کے ساتھ ہی دیا جائے نہ کہ معائنہ ہونے سے ایک دن پہلے۔
بچوں کو وقتاً فوقتاً جسمانی صفائ کے متعلق بتانے کے لئے استاد کو اہتمام کرنا چاہئیے۔

اسکولوں سے ہٹ کر والدین اکثر پریشان نظر آتے ہیں کہ وہ  جوءوں سے نجات پانے کے لئے کیا کریں؟

اس سلسلے میں، میں نے انٹر نیٹ سے مدد لی ۔ مزید یہ کہ اس میں میرے ذاتی تجربات بھی شامل ہیں کیونکہ میں خود ایک بچی کی ماں ہوں۔ اس لئے امید ہے کہ یہ طریقے کارآمد ہونگے۔
شیمپو سے؛
سب سے پہلے یہ واضح کر دوں کہ ایک دفعہ جوئیں سر میں داخل ہو جائیں تو ماں کو بڑی محنت کرنی پڑتی ہے کیونکہ جوئیں مارنے والے شیمپو چاہے وہ کتنا ہی دعوی کریں کہ لیکھوں اور جوءوں سے مکمل نجات وہ مکمل صفائ نہیں کرتے۔
جوئیں مارنے والے شیمپو میں عموماً میلاتھائیاون، کیڑے مار دوا ایک مخصوص مقدار میں شامل ہوتی ہے۔ تاکہ وہ سر کے بالوں یا جلد کو زیادہ نقصان نہ پہنچائے۔ یہ دوا لیکھوں یعنی جوءوں کے انڈوں کا خاتمہ نہیں کرتی۔ جوءوں کا خاتمہ بھی صرف چھتیس فی صد تک کرتی ہے۔ بعض جوءوں میں ان دواءوں کے لئے مزاحمت بھی ہوتی ہے اور وہ اس سے نہیں مرتیں۔ اگر مر جائیں تو کچھ عرصہ بعد باقی رہ جانے والے انڈوں سے نئ جوئیں پیدا ہوجاتی ہیں اور ایک دفعہ پھر بچہ سر کھجا رہا ہوگا۔
اسلئے جوئیں مارنے کے لئے کوئ بھی طریقہ استعمال کریں ایک روائیتی طریقہ ہر صورت استعمال کرنا پڑے گا اور وہ ہے باریک کنگھی کا استعمال۔

یہ باریک کنگھی ذرا دیکھ بھال کر لیں عام پلاسٹک کی کنگھیاں جو نرم دانتوں کی ہوتی ہیں اور دانتوں کے درمیان فاصلہ زیادہ ہوتا ہے آپکا مسئلہ حل نہیں کریں گی۔ دانتوں کے درمیان کم سے کم فاصلہ ہونا چاہئیے اور پلاسٹک کو سخت ہونا چاہئیے۔ پلاسٹک کے علاوہ، یہ کنگھیاں لکڑی اور دھات کی بھی مل جاتی ہیں۔ مسلسل استعمال سے دانتوں کے درمیان فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے انہیں پھینک کر دوسری لے لیں۔ یہاں کراچی میں انڈیئن باریک کنگھیاں مل جاتی ہیں یہ پاکستانی کنگھی سے مہنگی ہوتی ہیں مگر کام میں بہت بہتر ہوتی ہے۔ 
اگرچہ میں پاکستانی مصنوعات کو ترجیح دیتی ہوں لیکن اس نکتے پہ انڈیئن کنگھی ہی لینا پسند کرتی ہوں۔ اس کنگھی کے سلسلے میں ایک بات اور بتادوں کے جب بھی دور دراز کے سفر کو نکلیں اپنے سامان میں یہ کنگھی رکھنا مت بھولیں۔
اب طریقہ ء استعمال دیکھ لیں۔ بچے کو نہلانے سے پہلے بالوں میں ہلکا سا تیل لگا کر کنگھا کر کے بال اچھی طرح سلجھا لیں۔ اب شیمپو کو  بالوں میں لگا لیں۔ بالوں کو سر کے آگے نہ لٹکائیں۔ بلکہ جس طرح آپ نے کنگھا کیا تھا اسی سمت رہنے دیں۔ دی ہوئ ہدایات کے مطابق اتنی دیر رہنے دیں۔ اب اسی طرح بالوں کو پریشان کئے بغیرپیچھے کی سمت رکھے ہوئے بالوں کو نرمی سے پانی سے دھو ڈالیں۔ اب دوبارہ بالوں میں پہلے موٹا کنگھا یا برش پھیر کر انہیں سلجھا لیں۔ اگر آپ نے ان ہدایات پہ عل کیا تو بال بہت زیادہ الجھے ہوئے نہیں ہونگے۔
جب بال خوب اچھی طرح سلجھ جائیں اور کنگھے کو ان میں چلنے میں ذرا دشواری نہ ہو تو سر کےحصے کر لیجئیے اور ہر سمت سےباریک کنگھی کوسر کی جلد سے لے کر بالوں کے آخری سرے تک  پھیرتے چلے جائیں۔ ہر دفعہ کنگھی پھیرنے کے بعد اسے اچھی طرح اپنے سنک پہ جھٹک لیں تاکہ اگر دانتوں کے درمیان کوئ جوں پھنس گئ ہو تو وہ نکل جائے۔ یہ عمل تین سے چار بار کریں، کانوں کے اوپری حصے کی طرف خاص طور پہ کہ جوئیں زیادہ تر یہاں پہ یا گدی کے پاس جمع ہو جاتی ہیں۔
شیمپو دو تین دن کے وقفے سے استعمال کریں لیکن کنگھی آپ ہر روز نہلانے کے دوران پھیر سکتی ہیں۔ بچہ لازمی طور پہ چیخے چلائیں گا۔ لیکن اپنا دل کڑا رکھیں۔ بعد میں ہیئر ڈرائیر کی گرم ہوا سے بال خشک کر لیجئیے۔ یہ گرم ہوا امید ہے بچ جانے والی جوءوں کا کاتمہ کر دے گی مگر اسے اتنا زیادہ استعمال نہ کریں کے بالوں کو مردہ ہی کر دے۔ ایک خاص فاصلے پہ رکھ کر استعمال کیجئیے۔
قدرتی طریقہ؛
جو لوگ بالوں کے معاملے میں حساس ہیں وہ پوچھتے ہیں شیمپو کے علاوہ کوئ قدرتی طریقہ نہیں۔ بالکل ہے۔  ہمارے ملک میں کچھ لوگ تارا میرا کا تیل استعمال کرتے ہیں۔ باہر کے ممالک میں ٹی ٹری آئل یا اس میں زیتون کا تیل ملا کر استعمال کیا جاتا ہے۔ مجھے ان طریقوں کی افادیت کے متعلق نہیں پتہ۔
لیکن تیل کے علاوہ بھی طریقے ہیں۔
عام شیمپو سے بال شیمپو کرنے کے بعد بالوں میں تھوڑا سا منہ صاف کرنے والا لسٹرین جروں سے سارے بالوں میں لگا لیں چند منٹ لگا رہنے دیں بالوں کو ہلکے سے پانی سے دھوئیں اور باریک کنگھی پھیر لیں۔ لسٹرین سے جوئیں نیم بے ہوش ہو جاتی ہیں۔
ایک اور طریقہ ہے میونیز بالوں میں اچھی طرح لگا کر چھوڑ دیں۔ جی وہی میونیز جو کھانوں میں استعمال کرتے ہیں۔اس سے بھی جوئیں گھٹن کا شکار ہو جاتی ہیں۔ لیکن  میونیز کو صاف کرنے کے لئے بالوں کو اچھی طرح شیمپو کرنا پڑے گا۔  گیلے بالوں میں باریک کنگھی پھیرنا مت بھولیں۔
اگر بال روکھے ہیں تو شیمپو کرنے کے بعد بالوں کے سرے پہ کنڈیشنر لگا لیں ۔ یاد رکھیں کنڈیشنر کو کبھی بھی بالوں کی جڑوں میں نہ لگائیں۔ نہ وہ شیمپو استعمال کریں جن میں کنڈیشنر بھی ہوتا ہے۔ کنڈیشنر آپکے بالوں کی جڑوں کو کمزور کرتا ہے۔
ایک دفعہ یہ یقین ہونے کے بعد کہ اب بالوں میں جوئیں نہیں رہیں۔ آرام سے نہ بیٹھ جائیں دس دن کے بعد دوبارہ اس عمل کو دوہرائیں اور کنگھی کو چیک کریں اگر اس میں کوئ جُوں آتی ہے تو اسے پھر دوہرائیں تاکہ اسکے دئے ہوئے انڈوں سے جو نئ جوئیں بنی ہیں وہ نکل جائیں۔ ایک جوں روزانہ دس انڈے دے سکتی ہے۔  انڈے سے جوئیں نکلنے میں تقریباً ایک ہفتہ اور ان جوءوں کو انڈے دینے کے قابل بننے میں دس دن لگتے ہیں۔ 
بچے کے سر میں جوئیں ہونے کا مطلب یہ کہ گھر کے ہر فرد کو جوئیں ہو سکتی ہیں۔ احتیاظاً گھر کے سب افراد اس عمل کو کریں۔ تاکہ ایک دفعہ سارا گھر صاف ہو جائے ورنہ پھر کسی شخص کی جوئیں نا پسندیدہ پھیلاءو کا باعث بن جائیں گی۔  اسکے لئے آپکو گھر والوں کو مطلع کرنا پڑے گا کہ گھر پہ کس طرح کا حملہ ہو چکا ہے۔
یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ بری اطلاع دینا آسان کام نہیں۔ لیکن  زندگی میں مسائل کم رکھنے کے لئے اس سے مفر ممکن نہیں۔ اب آپکے سر میں کھجلی شروع ہو چکی ہے تو سب سے پہلے ایک باریک کنگھی خریدئیے، وہی دشمنوں کی بنی ہوئ۔
 :)
 Malathion
Antilice shampoo

Wednesday, March 30, 2011

جائز دعائیں

کھیل اپنے اختتام پہ پہنچا۔  اگرچہ بظاہر ہر کھیل کا بنیادی اصول یہ لگتا ہے کہ جو جیتا وہی سکندر۔ لیکن کھیلوں کے مقابلے کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ فتح یا شکست  جس راستے  سے کسی فریق تک پہنچتی ہے اسکی بھی اتنی ہی اہمیت ہوتی ہے۔  شاندار کھیل، حریفوں کے داءو پیچ اور فتح یا شکست کو وقار سے سہنا یہ سب چیزیں بھی تو شائقین کو اپنی گرفت میں رکھتی ہیں۔ بہر حال کسی ایک کو جیتنا ہوتا ہے اور دوسرا شکست سے ہمکنار ہوتا ہے۔
سچ پوچھیں ، میں ان لوگوں میں شامل تھی جو کہ یہ توقع نہیں رکھتے تھے کہ پاکستانی ٹیم سیمی فائنل تک پہنچ پائے گی۔ ایک ٹیم جو چند مہینے پہلے بد ترین بحران سے گذری۔ جس کے کھلاڑیوں پہ جوئے اور میچ فکسنگ کے مقدمات چل رہے ہوں۔ وہ اگر یہ پرفارمنس بھی دے تو بڑی بات ہے۔
کرکٹ وہ کھیل ہے جو انفرادی صلاحیتوں سے نہیں بلکہ ٹیم اسپرٹ کے ساتھ کھیلا جاتا ہے۔ کیا ہمارا اپنے کھلاڑیوں سے یہ توقع رکھنا جائز ہے کہ وہ ایک بحران سے گذرنے کے بعد چند مہینوں میں اپنے اندر اتنی یگانگت، ایک دوسرے پہ اعتماد ، ایکدوسرے کی صلاحیتوں سے آگہی پیدا کر لیں گے، وہ ہم آہنگی پیدا کر لیں  کہ ورلڈ کپ جیسے اعصابی تناءو والے مقابلے میں ہر قسم کا دباءو جھیل جائیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔  چاہے اس کے لئے سترہ کروڑ لوگ دعا کریں۔ خدا کی سنت یہ نہیں کہ ساری دنیا کے لوگ یہ دعا کریں کہ سارس کی ہاتھی کی طرح سونڈ نکل آئے تو وہ انکا اپنے اوپر یقین برقرار رکھنے کے لئے ایسا کرے۔ یہ دعا جائز نہیں۔

چلیں میں نے فائنل کے لئے دو ٹیمیں منتخب کی تھیں۔ سری لنکا اور نیوزی لینڈ۔ نیوزی لینڈ تو نکل گئ۔ سری لنکا کے بارے میں کیا خیال ہے؟
 

Sunday, March 27, 2011

آگے سے ہٹ جا


جس شدت سے پاکستانی تیس مارچ کے منتظر ہیں۔ میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ پاکستان کم از کم تیس مارچ تک اپنی سالمیت کی جنگ پہ کوئ سودا نہیں کرے گا۔ اوراس دوران آپکو شاید ہی یہ جملہ سننے کو ملے کہ پاکستان بس اب ٹوٹنے ہی والا ہے۔
مختلف کاروبار حیات ماند پڑ گئے ہیں۔ اور شاعر کہتا ہے
عشق کچھ پڑ گیا ہے ٹھنڈا سا
آج کل امتحان ہے پیارے
سن رہے ہیں کہ سیمی فائنل والے دن آدھی چھٹی ہوگی۔ اور یہ بھی کہ اس دن لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔ اتنی خوش خبریوں کے بعد ہماری ایک بزرگ خاتون کا کہنا ہے کہ پاکستان کو سیمی فائنل جیت جانا چاہئیے۔ کیوں؟ کیونکہ، انہوں نے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا،  پھر فائنل والے دن بھی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔
اسکی وجہ تیس مارچ کو دو ازلی دشمنوں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والا میچ ہے جو کانٹے کا ہو یا نہ ہو کانٹوں پہ ضرور ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے میچ کی دو اہم خصوصیات ہیں۔
اول ہارجانے کے بعد  افسوس ہوتا ہے کہ ہمارا ہاتھ ایٹم بم چلانے والے بٹن پہ کیوں نہیں۔ جیت جانے کے بعد بھی یہی افسوس ہوتا ہے۔ دوم میچ سے پہلے، دوران اور ہار جیت کے بعد، جہادی روح  جوانوں میں بیدار رہتی ہے۔ بغیر کسی زائد خرچے کے۔
اب کھیل میں دو ہی چیزیں ہو سکتی ہیں یا تو ہم جیتیں گے۔ اور ہر پاکستانی فتح کے نشے میں چور گانا گائے گا ہم ہیں پاکستانی ہم تو جیتیں گے۔ آگے سے ہٹ جا۔ یا پھر میرے منہ میں خاک ہم ہار جائیں گے تو اسکے بعد میں تو را کا ایجنٹ قرار ہی پاءونگی لیکن شاہد آفریدی تیرا کیا ہوگا میرے پٹھان۔  گو طالبان نے ابھی تک کرکٹ کو غیر اسلامی نہیں قرار دیا۔ لیکن اسلامی یا غیر اسلامی ہر دو صورت میں وہ سینے پہ بم باندھ کر پھرنے والے ہیں۔
جنوبی ایشیا میں اور بالخصوص پاکستان میں ورلڈ کپ  کا مقابلہ ایک مرض کی صورت پھیل جاتا ہے سو جو اس کھیل میں دلچسپی نہیں لینے کا دعوی کرتے وہ بھی اسکور پوچھتے نظر آتے ہیں۔ اس حالت میں مریض خود سے، رشتے داروں سے، دوستوں سے حتی کہ محبوب سے بھی شرط لگانے کو تیار رہتا ہے۔
یہ ایک وائرل مرض ہے اپنا سائیکل ختم ہونے پہ ختم ہو جاتا ہے لیکن اختتام کے بعد صورت زیادہ سنگین ہو جاتی ہے اور اکثر مریض واہی تباہی بکنے لگتے ہیں۔

کچھ بیانات کی پیشن گوئ ہم بھی کر رہے ہیں۔
غیرت مند پاکستانیوں نے ہندوءوں کو انکی سر زمین پہ شکست دے دی۔
اللہ نے مسلمانوں کو ہندءووں کی سر زمین پہ سرخ رو کیا۔
سترہ کروڑ عوام کی دعائیں رنگ لائیں۔ 
دودھ پینے والے گوشت کھانے والوں سے کیسے جیت سکتے ہیں۔
جیت کی صورت میں انڈینز کو اسلامی انتہا پسندوں  کے  حملوں کا ڈر تھا۔
سٹے باز کھلاڑیوں کو نکالنے کے بعد ٹیم اپنی فارم میں واپس۔
سینے پُھلا دئیے ہمارے شیروں نے۔
ریمنڈ ڈیوس کی رہائ کی ڈیل میں پاکستان کو جتانا شامل تھا۔
بمبئ کے مسلمان انڈر ورلڈ ڈان داءود ابرہیم نے میچ کو مسلمانوں کے حق میں فکس کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
زرداری نے میچ پہ پیسے لگائے تھےکیسے ہار سکتے تھے ۔
 اس تاریخی فتح کے موقع پہ ہمیں عافیہ صدیقی اور انکے بچوں کو نہیں بھولنا چاہئیے۔ عافیہ تیری عظمت کو سلام۔
بلوچستان اور وزیرستان میں امن کے لئے کرکٹ کے میدان قائم کئیے جائیں۔
انقلاب آوے ہی آوے، عمران خان تم جیو ہزاروں سال۔

ہارنے کی صورت میں زیادہ مزے کے ڈائیلاگ ہونگے۔
یہ کھلاڑی ہیں ہی ,**********۔ ان ستاروں کی جگہ پہ مناسب الفاظ کے لئے ہمارے کچھ بلاگرز یا مبصرین مدد کر سکتے ہیں۔
پیسے کھائے ہیں۔ کس نے؟ پچاس فی صد لوگ، کھلاڑیوں نے۔ پچاس فی صد لوگ زرداری نے یا حکومت نے۔
بال ٹھاکرے کی دہشت ہو گئ تھی ہمارے کھلاڑیوں پہ،  یہ سٹے باز چوہے ہیں۔
جب تک اسلامی شریعت نافذ نہیں ہوگی، سترہ کروڑ دعاءووں میں کوئ اثر نہیں ہوگا۔ ہم اسی طرح ہندءووں سے ، عیسائیوں سے یہودیوں سے شکست کھاتے رہیں گے۔
اس میں سی آئ اے والوں کا ہاتھ ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کو سینتالیس دن تک جیل میں رکھا اس کا انتقام لیا ہے۔
اس میں را اور موساد کے ایجنٹ شامل ہیں۔
وینا ملک کا انتقام ہے، اس نے انڈیئینز بُکیز سے ملی بھگت کر کے قوم سے انتقام لیا ہے۔ اسکے خلاف کارروائ کی جائے۔
ہارپ ٹیکنالوجی کی مدد سے پچ کا موڈ تبدیل کر دیا گیا، جب پاکستان کھیلا اس وقت ہوا میں نمی  بڑھا دی گئ یا گھٹا دی گئ۔
کھلاڑیوں کو ہپنا ٹائز کر دیا گیا۔
کھلاڑیوں پہ یا کھیل کے میدان پہ جادو کیا گیا تھا۔ میں نے خود دیکھا کہ ہندو کھلاڑی کچھ بد بدا رہے تھے۔ ہندو تو ویسے بھی جادو ٹونے میں کمال رکھتے ہیں۔ جادو برحق ہے۔
طالبان کو چاہئیے کہ اب کرکٹ کے میدانوں کو اڑانا شروع کر دیں۔
موہالی کے میدان میں رکھا ہی اس لئے گیا تھا کہ پاکستانیوں کا جیتنا محال ہو جائے۔
امریکہ کا ہاتھ ہے، امریکہ اگلا ورلڈ کپ اپنے یہاں رکھنا چاہتا ہے۔
بے غیرت پاکستانیوں، تمہیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بد دعا لگی ہے۔ تم کیا ورلڈ کپ جیتوگے۔
انقلاب، آوے ہی آوے۔
ایسی منحوس قوم کیا انقلاب لائے گی پہلے اپنی کرکٹ میں توانقلاب لے آئے۔ انکی تو یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انکی تو وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹوئٹر پہ کچھ اس طرح کی ٹوئٹس ہونگیں۔
ہندوءوں پہ لعنت ہو
مسلمانوں پہ لعنت ہو
حکومت پہ لعنت ہو
زرداری پہ لعنت ہو
لعنت سے رسول اللہ نے منع فرمایا۔
جماعتیوں پہ لعنت ہو
لبرلز پہ لعنت ہو
آج دو قومی نظریہ ثابت ہو گیا۔
آج دو قومی نظریہ موہالی کے میدان میں دفن ہو گیا۔

سو قارئین، پاکستانیوں کی خوبی یہ ہے کہ خدا پرست ہی نہیں خدائ خصوصیات بھی رکھتے ہیں یعنی
ہو گئے خوش تو فرشتوں سے کرائے سجدے
آگئے طیش میں تو فردوس میں رہنے نہ دیا

میرے مبصرین کہیں گے۔
مسلمانوں کی اس عظیم فتح پہ تو آپ جیسے لبرلز کو بڑا صدمہ ہوا ہوگا۔
امن کی آشا والے دیکھ لیں ہندءووں نے ہمیں ہرا کر دم لیا۔ کیا جذبہ ء خیر سگالی کے لئے ہار نہیں سکتے تھے۔
کیمسٹری کے چار فارمولے یاد کرنے والوں کو کیا پتہ، کہ ہارپ ٹیکنالوجی موسم تو موسم، انسانی ذہن کو بھی تبدیل کر سکتی ہیں۔ ان لنکس کو اور پڑھو، ہا ہا ہا۔
پاکستان کے بال ٹھاکرے کا تذکرہ نہیں کیا میڈم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابے بولتا کیوں نہیں، پاکستان کا بال ٹھاکرے کون ہے
اپنے شہر کے غنڈوں سے پوچھو۔ 
کس کے پی پی پی، ایم کیو ایم یا اے این پی۔
وہ جو بھتہ لیتے ہیں
اور وہ جو اغواء برائے تاوان کرتے ہیں
تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو۔
بکتے ہو، اپنے صوبے کے دہشت گردوں کو دیکھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تعصب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اردو بلاگستان کی دنیا میں
یہ ڈفر صاحب کے بلاگ پہ ایک نظم ملی ہے یہ ایک سچے انقلابی شاعر سلیم فاروقی نے لکھی ہے۔ انکی وصیت ہے کہ جو اسے پڑھے وہ اسے اپنے بلاگ کی زینت ضرور بنائے ورنہ اس پہ عذاب ہوگا۔ وما علینا الاالبلاغ۔
جب بیانات اس نوعیت پہ پہنچ جائیں تو سمجھ لیجئیے کہ  مریض کو افاقہ ہے۔ اب آپ اپنے روزمرہ کے کام بلا جھجھک جاری رکھ سکتے ہیں۔

ادھر اطلاعات ہیں کہ شہر میں گولیوں کے دام بڑھ گئے ہیں اور لوگ انہیں ذخیرہ کرنے میں مصروف ہیں۔ اب اگر پاکستان جیت جاتا ہے تو نقار خانے میں طوطیوں کا کیا کام۔ طوطیوں کو ٹوئٹر، فیس بک اور بلاگز استعمال کرنا پڑیں گے۔ اور اگر نہیں جیتا تو اگلے چند دن ٹارگٹ کلنگ میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ  متوقع ہے۔  کچھ لوگوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔ خوف کی وجہ سے گھر میں رہنا ہوگا۔ ٹوئٹر، فیس بک اور بلاگز استعمال کرنا پڑے گا۔ یوں ثابت ہوگا کہ یہ سب ایجادات امت  مسلمہ یعنی پاکستانیوں کے خلاف سازش ہیں۔
۔
۔
۔
۔
اچھا اس ساری واہی تباہی کو ایک طرف رکھیں میں سوچ رہی تھی ورلڈ کپ کون جیتے گا۔ میرے خیال سے سری لنکا یا نیوزی لینڈ۔ کیا کہا پاکستان کیوں نہیں؟ تو پھر لگا لیں ایک شرط۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Friday, February 18, 2011

ساحل کے ساتھ-۲

کوسٹل ہائ وے پہ کچھ دور چلنے کے بعد پہلی رینجرز کی چوکی پڑی۔ یہاں گاڑی کا نمبر, اپنا نام اور منزل مقصود  درج کروانا پڑتا ہے۔  گاڑی رکی ہوئ تھی اور قریب کھڑے سپاہی سے مشعل نے تعلقات بنانے کی کوشش کی۔ وہ بھی نزدیک آگیا پھر مجھ سے کہنے لگا میری بھی اتنی بڑی ایک بیٹی ہے۔  پوچھا کہاں سے تعلق ہے جواب ملا راولپنڈی سے۔ 
یہاں مجھے نصیحت کر دی گئ تھی کہ کسی بھی ایسی سیکیوریٹی کی جگہ یا اس سے تعلق رکھنے والے شخص کی تصویر بالکل نہیں بنانا۔ سو میں مشعل اور سپاہی کی باتیں سنتی رہی۔ وہ شاید اپنی پنڈی میں رہنے والی بیٹی سے باتیں کر رہا تھا۔
ہمیں دن کے کھانے کے لئے ارماڑہ پہ رکنا تھا۔ امیدتھی کہ دوپہر ڈیڑھ دو بجے تک پہنچ جائیں گے۔ راستے میں کنڈ ملیر کے خوبصورت ساحل کو چھونے کے لئیے رکے۔

پھر یہ کہ راستے میں جو پٹھان کے ہوٹل ملتے ہیں ان میں یا تو بیت الخلاء نہیں ہوتا یا قابل استعمال نہیں ہوتا۔
اس سلسلے میں خواتین کے حیاتیاتی نظام کے متعلق وہی نظریات ہیں جو مریخ کے رہائیشیوں کے زہرہ کے رہنے والوں کے متعلق ہونگے۔
انگریزی شاعر، بائرن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ نوالہ حلق میں ڈالنے، چبانے اور حلق سے اتارنے کو اس قدر غیر نفیس فعل سمجھتا تھا کہ کسی عورت کو کچھ بھی کھاتے دیکھ نہ سکتا تھا۔ جو کھاتے نہ دیکھ سکتا ہو وہ یہی سوچتا ہو گا کہ بیت الخلاء کی خواتین کو کیا ضرورت۔
لیکن چونکہ قدرت ان نظریات پہ یقین نہیں رکھتی تو ہم سب نے ان سے فراغت کے لئے بھی راستے کے ٹیلے چنے۔
ارماڑہ کے ساحل پہ پچھلے ایک سال میں ایک پٹھان کا ہوٹل بن گیا ہے جو عام طور پہ پاکستان میں ہائ ویز کے کنارے ہوتے ہیں۔ میں نے گاڑی سے کھانے کا سامان اور پانی لیا، مشعل ہاتھ پکڑا اور اندر کی طرف چلی۔ ایک بارہ تیرہ سالہ پٹھان بچہ دوڑتا ہوا آیا۔ اور ایک طرف اشارہ کر کے کہنے لگا۔ لیڈیز ادھر اے۔ میں نے اسے دیکھا، پھر  اپنے ہاتھ میں کھانے کے سامان کو اور پھر پیچھے گاڑی کو بند کرنے والے صاحب کو۔ نہیں ہم سب یہاں میز پہ کھائیں گے۔ میں نے ہوٹل کے مرکزی ہال کی طرف اشارہ کیا۔ جہاں کرسیاں اور میزیں  بھی موجود تھیں اور فرشی دسترخوان بھی بچھا ہوا تھا۔
جتنی دیر میں صاحب ہاتھ دھو کر فارغ ہوتے میں نے ہوٹل کے اطراف کا جائزہ لیا۔ سامنے ایک چھوٹی سی کمرہ نما جگہ پہ لکھا تھا چپل منہ ہے۔ میں نے اسے ڈی کوڈ کرنے کی کوشش کی یہ کیسا محاورہ ہے۔ کس کا منہ چپل ہے۔ پھر اس میں جھانک کر دیکھا۔ یہ ایک وضو خانہ تھا اور لکھنے والے نے شاید چپل  پہن کر اندر جانا منع ہے لکھنے کی کوشش کی تھی۔


ارماڑہ، گوادر اور کراچی کے  تقریباً وسط میں ہے۔  یہاں سے پسنی تقریباً دو گھنٹے اور وہاں سے گوادر ڈیڑھ گھنٹے۔ یوں تین بجے جب ہم گاڑی میں سوار ہوئے تو تقریباً ساڑھے تین گھنٹے کا سفر باقی تھا۔
گاڑی سو میل کی رفتار سے سیدھے ہموار روڈ پہ دوڑے جا رہی تھی۔ گاڑی چلانے والے صاحب جیسے ٹرانس کی حالت میں بیٹھے تھے یا مراقبہ کر رہے تھے۔ میں اگرمخاطب کرتی تو صاف لگتا کہ  کسی دور دراز کے خلائ سیارے سے جواب آ رہا ہے۔ ہونٹوں پہ وہی مسکراہٹ جو گوتم بدھ کو نروان کے بعد حاصل ہوئ اور انہیں شاید اپنی پیدائیش پہ۔  

دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈیا نے ۱۹۷۴ میں جو پہلا ایٹمی دھماکا کیا تھا وہ بھی اسمائیلنگ بدّھا کہلاتا ہے۔ معلوم نہیں بدھا اس دھماکے پہ عالم برزخ میں مسکرائے یا تلملائے۔  یا مغل اعظم کا یہ گانا دیکھتے رہے کہ تمہاری دنیا سے جا رہے ہیں اٹھو ہمارا سلام لے لو۔


لیکن اس ساری تپسیا میں کہیں سے اپسرا مانیکا آ گئیں۔ رشی کا دھیان توڑنے کے واسطے۔  اور آواز آئ۔ اوہ یار۔ کیا ہوا؟  گاڑی سائیڈ پہ کرنے دیں۔ شاید شافٹ ٹوٹ گئ ہے یا کلچ پلیٹ۔ گاڑی ایک سآئیڈ میں ہو گئ۔ گیئر فری ہو گیا ہے اور اب گاڑی نہیں چل سکتی۔ ہم کراچی سے تقریبا سوا چار سو کلو میٹر کے فاصلے پہ گوادر سے تقریباً سوا دو سو کلومیٹر دور تھے۔ قسمت کی خوبی دیکھئیے، ٹوٹی کہاں کمند۔
اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ میں خاصی رجائیت پسند ہوں۔ سر پہ ہاتھ مارنے کے بجائے مجھے خیال آیا کہ شکر ہے کنڈ ملیر کے علاقے میں یہ نہیں ہوا ورنہ پہاڑی پیچ و خم  اور ڈھلانوں میں پھنس جاتے اوربڑا برا ہوتا۔ ابھی تو گوادر تک میدانی علاقہ ہے۔
اب جو آپشنزتھے ان میں سے ایک یہ کہ گاڑی کو  ٹو کرنے والا مل جائے تو کراچی تک کھینچ کر لے جائ جائے ۔ یہ نا ممکن تھا پچھلا سارا رستہ پہاڑی چڑہائیوں اترائیوں کا تھا اور یہ فاصلہ نہ صرف زیادہ بلکہ رسکی بھی تھا ۔  سوا چار سو کلو میٹرکا فاصلہ کوئ کھینچنے پہ راضی نہیں ہو گا۔  گوادر تک بھی کوئ کیسے ٹو کر سکتا ہے۔ گاڑی اتنی بڑی ہے۔ اسے کوئ ٹرک ہی کھینچ سکتا ہے۔
 ویرانے میں گفتگو شروع ہوئ۔ اچھا ایک بات تو طے ہے۔ ہمیں کراچی واپس جانا ہے تاکہ آپ اور مشعل کم از کم آرام سے ہو جائیں۔ گاڑی کو یہی چھوڑنا پڑے گا۔ وہاں سے میکینک لے کر واپس آتے ہیں۔
کراچی واپس کیسے جائیں گے۔ گوادر سے چلنے والی بس رات  نو بجے سے پہلے نہیں نکلے گی اور یہاں  بارہ بجے تک پہنچے گی۔
اس وقت شام کے چار بج رہے ہیں۔ اس ویرانے میں کسی گاڑی سے لفٹ لینی پڑے گی۔ لیکن اس سے پہلے تمام قیمتی اور ضروری سامان دو بیگز میں کر لیا جائے۔ باقی سب گاڑی میں چھوڑنا پڑے گا۔
 ہم نئ صورت حال کے لئے تیار ہونے لگے۔ مشعل کو بڑا صدمہ ہوگا وہ اس وقت سو رہی تھی۔ میں نے سوچا۔ آجکل گوادر میں کاروباری سرگرمیاں ایک دم ماند پڑ گئ ہیں اس لئے روڈ پہ کافی دیر بعد کوئ گاڑی نظر آتی تھی۔ پتہ نہیں اب کیسے کوئ گاڑی کراچی کے لئے ملے گی۔
سامان کو دوبارہ ترتیب کر کے فارغ ہوئے تھے کہ قریب سے آٹے کی بوریوں سے لدا ایک مقامی طرز کا ٹرک گذرا۔ ڈرائیور نے ہاتھ ہلا کر خیریت دریافت کی۔ یہ تو خود اتنا لدا ہوا ہے یہ ہمیں کیا گودار تک کھینچ کر لے جائے گا۔ میں نے سوچا۔ اور مزید سوچا۔ اگر ہم گوادر پہنچ جائیں تو گاڑی ایک محفوط مقام پہ ہوگی اور ہم تناءو سے آزاد۔ مگر کیسے؟
 توقع کے بر خلاف ٹرک آگے جا کر رک گیا۔ تین افراد باہر آئے۔ صورت حال جان کر انہوں نے پسنی تک ٹو کرنے کی پیش کش کر دی۔ پسنی میں رینجرز کی چوکی ہے وہاں چھوڑیں گے تو گاڑی زیادہ محفوظ رہے گی۔ اور ہم وہاں سے کراچی کے لئے روانہ ہو جائیں گے۔ ایک امید باندھ کر گاڑی  کو ٹرک کے ساتھ رشتہ ء ضرورت  کی ڈور سے باندھ دیا گیا۔ ہوا اتنی تیز تھی کے گاڑی کا بونٹ اڑا جا رہا تھا۔ بہر حال ٹرک کے پیچھے بہت سوں کی تصوراتی مثالی مسلمان خاتون کی طرح گاڑی چل پڑی۔

 اسٹیئرنگ سختی سے پکڑے، گاڑی اور ٹرک کے درمیان تنی رسی پہ آنکھیں جمائے صاحب سے میں نے ایک ماہر ٹی وی اینکر کی طرح پوچھا، کہاں آپ سو میل کی رفتار سے اڑے جا رہے تھے اور ا ب آپکو زیادہ سے زیادہ چالیس کی رفتار سے رینگنا پڑ رہا ہے۔ خرگوش سے کچھوے کی اس کایا کلپ پہ آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں ؟ اس ظالمانہ سوال پہ انہوں نے ایک نگاہ صحیح انداز ، یعنی مار سوٹئ ایہہ والے انداز سے دیکھا اور منہ پھیر لیا۔
یوسف اسکو کہوں، اور کچھ نہ کہے، خیر ہوئ
گر بگڑ بیٹھےتو میں لائق تعزیر بھی تھا

جاری ہے۔

Friday, January 21, 2011

تشدد

دیکھیں آپکو یہ نہیں کہنا چاہئیے کہ مارنا پیٹنا اچھا نہیں ہے۔   فرض کریں کہ آپ خواتین پہ ہونے والے تشدد کا تذکرہ کرتی ہیں تو اکثریت اسے ریجیکٹ کر دے گی کہ یہ ہمارے یہاں نہیں ہوتا۔ یا ہم نے تو کبھی کسی کو کرتے نہیں دیکھا۔ کوئ آپکو صحیح جواب نہیں دے گا۔ آپ اسی خیال کو ذرا اور طریقے سے کر سکتی ہیں۔ مثلا کیسے؟ میں نے اپنی آنکھیں اس روشن چہرے والی لڑکی کے چہرے پہ جمائیں۔ جو ایم بی بی ایس کرنے کے بعد فل برائیٹ کے اسکالر شپ پہ امریکہ روانہ ہوئ اور وہاں سے سوشل ہیلتھ سائینس پر ڈگری لے کر لوٹی۔ اور اب پاکستان کے دیہاتوں اور شہروں میں اس حوالے سے مختلف پروجیکٹس پہ کام کر رہی ہے۔ مثلاً آپ ان سے پوچھیں کہ تشدد کیا ہوتا ہے؟
 آپ میری بات سمجھ رہی ہیں ناں۔
 میں خاموشی سے اسکی باتیں سنتی رہی۔ وہ لوگ جو نئ وسعتیں دیکھ کر لوٹتے ہیں انکی باتیں خاموشی سے سننی  چاہئیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہماری پرانی سرحدیں نئ وسعتوں سے مل پائیں۔
تشدد کیا ہوتا ہے؟ یہ ہے آج کا سوال۔
 میں نے آج کل میں ایک کتاب پڑھی۔ یہ کتاب ابھی حال ہی میں کراچی میں منعقدہ، کتاب میلہ سے لی تھی۔ میں نے اسے خالد جاوید کا ناول سمجھ کر لیا لیکن یہ انکے افسانوں کا مجموعہ نکلا۔ خالد جاوید ایک ہندوستانی ادیب ہیں۔ انکے دو افسانے میں نے پہلے پڑھے تھے اور ان سے کافی متائثر ہوئ۔ مجموعہ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ خالد جاوید موت  کے  کہانی کار ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریبا ہر کہانی میں موت کو مختلف انداز سے زندگی سے جوڑا ہے۔ 
مگر یہاں انکی ایک کہانی 'روح میں دانت کا درد' کے چند اقتباسات حاضر ہیں۔ کہانی میں سے اقتباسات کو الگ کرنا خاصہ بے رحمی کا کام ہے، یعنی یہ بھی ایک تشدد ہے۔  یہ اقتباسات ہمارے موضوع تشدد سے تعلق رکھتے ہیں۔

ہم نفرت کر سکتے ہیں، ہم کسی کو بھی نفرت کا موضوع بنا سکتے ہیں۔ یہ تشدد ہے۔ دانتوں کا کیڑا اندر ہی اندر نہ جانے کون سی سرنگ بنا رہا تھا۔ ایک منہ سے دوسرے منہ تک بدبودار آندہیاں چل رہی تھیں۔ انکے آلودہ جھکڑوں میں کیا کیا  نہ مٹ جائ گا۔ مگر زندہ رہنے کے لئے نفرت کو برداشت کرنا پڑے گا۔

اگر تشدد ہی ہر مسئلے کا حل تھا تو سڑی ہوئ داڑھ نکلوا کر پھینک دینے سے زیادہ اسے سینت سینت کر پیوند لگا لگا کر رکھنا زیادہ معنی خیز تشدد تھا۔
 
یقیناً یہ سب جاہلانہ تھا۔ جہالت، بد ذوقی، نا سمجھی اور بد دماغی، یہ سب کتنی حقیر اور نظر انداز کر دینے کے قابل چیزیں تھیں۔ مگر جب یہ چیزیں تمہاری زندگی میں منظم طریقے سے داخل ہوتی ہیں اور باقاعدگی سے اپنے وجود کا احساس دلاتی ہوئ تمہارے کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑی ہو جاتی ہیں تب تشدد اور نفرت کی یہ قسم پیدا ہوتی۔ خطرناک، چالاک اور ٹچا تشدد جو اپنی طرف اٹھی ہوئ ایک خشمگیں آنکھ کا بدلہ بھی دوسرے سے چہرے پر دعا پڑھوا کر لیتا ہے۔
انفرادی اور اجتماعی تشدد الگ الگ  شے نہیں ہیں۔

کبھی کبھی وہ اپنے مرے ہوءوں سے مدد مانگتا۔ اور یقیناً یہ بھی تشدد ہے۔ دنیا جہاں سے ماوراء ان پاک روحوں کو دوبارہ گھسیٹ کر کھینچ کر دنیا میں لانا ان سے دنیا کے کاموں کی مدد لینا انکی روحوں کو شدید کرب اور چڑچڑاہٹ میں مبتلا کر دینے کے علاوہ اور کیا تھا ؟ یہ تشدد کا حصار تھا جو اپنی ماہیت میں دنیا کے رنگ و ریشے میں سما گیا تھا۔

Wednesday, January 12, 2011

ایک کتاب اور کچھ اقتباسات-۴

 گذشتہ سے پیوستہ

قاہرہ کو دیکھ کر مایوسی ہوئ۔ میں نے اس کے متعلق سن رکھا تھا کہ دنیا کے بہترین شہروں میں سے ایک شہر ہے لیکن ہندوستان کے اچھے قسم کے  شہروں سے کسی طرح بہتر نہیں پایا۔ فرانسیسی بازار اس کا بہترین حصہ  ہے اور گھنا آباد ہے، شہر کا باقی حصہ پرانا، ٹوٹا پھوٹا اور گندہ تھا۔ نائب السلطنت کی شاہی عمارتیں مصریوں کے نزدیک بہترین عمارتوں میں ہوں تو ہوں مگر میری نظر میں ایسی نہیں ہیں۔ شاہان مغلیہ کی بنائ ہوئ دہلی، آگرہ، اور دیگر مقامات کی عمارتوں کے مقابلے میں بہت گھٹیا ہیں۔ انکی شان و شوکت انکے خوبصورت نقشے اور قابل تعریف تناسب اس زمانے کے بڑے بڑے ماہرین تعمیر کو بھی حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ نائیبین سلطنت کے مقبرے ، قلعہ کے اندر نائب السلطنت کا محل اور مسجد ، خود قلعہ اور شہر کا محل بہت شاندار عمارتیں ہیں۔ مسجد خاص طور سے خوبصورت ہے۔ اس کے نقش و نگار بہت عمدہ ہیں۔
سفر کرتے ہوئے اسکندریہ پہنچے۔ کرایہ پر خچر چلانے والے لڑکوں کی سینہ زوری سے بہت لطف اٹھایا۔ میرے دو دوست اول باہر نکلے اور دو لڑکوں کو اشارہ سے بلایا مگر انکے آس پاس اتنے جمع ہو گئے  کہ ان کے لئے کسی خچر پر بھی سوار ہونا مشکل ہو گیا۔ ہر لڑکا قریب کے خچر کو ہٹا کر اپنا خچر بڑھا لاتا۔ ممکن سے ممکن  جو افراتفری ہو سکتی تھی وہ تھی۔ لڑکے الٹی سیدھی انگریزی میں خچروں کی تعریف کرتے 'میرا خچر  انگریزی جانتا ہے۔' 'میرا خچر انگریز سر پٹ بھگاتا ہے'، 'خچر دلکی چال چلتا ہے' ، 'ہندوستانی جانتا ہے'۔

سلطان کی مملکت کے اس حصے کو دیکھ کر  سلطنت کی ترقی کے بارے میں ہمارے اعتماد میں اتنا ہی اضافہ ہوا جتنا عرب کو دیکھ کر کم ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ سر زمین عرب کو مقدس سمجھنے اور اس کے تقدس کو لا دینی اثرات سے محفوظ رکھنے کے علاوہ اس ملک سے اچھی آمدنی کی بھی امید نہیں۔ غالباً اسی وجہ سے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ شریف اور مقامی سردار اپنے اسلاف کے طور طریق پر حکومت کرنے کے لئے آزاد  چھوڑ دئیے گئے ہیں۔ مختلف خانوادے یا قبائل اب سے دس صدی قبل کے حقوق سے مستفید ہو رہے ہیں۔


جاری ہے

Tuesday, January 11, 2011

ایک کتاب اور کچھ اقتباسات-۳


جدہ میں؛
 جس طریقے سے مسافروں کے سامان کی جانچ پڑتال کی گئ وہ ذلت آمیز اور شرمناک تھا۔ سرکاری ملازم لوہے کی سلاخیں ہاتھوں میں لئیے گھومتے تھے اور ہر مقفل صندوق کو توڑ ڈالتے تھے۔ ہر بنڈل کی جانچ کرتے اور سامان پر من مانا محصول لگاتے۔ بعض صورتوں میں تو کُل کا کُل سامان نکال پھینکا۔ اگر ایک ہی قسم کی دس چیزیں تھی تو ان میں سے ایک خود لے لی اور باقی واپس کر دیں۔ اگر مختلف چیزیں ہوتیں تو ہر چیز پر ایک خاص رقم دینی پڑتی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان  کے پاس محصول لگانے کا کوئ قاعدہ قانون نہ تھا بلکہ بلا تفریق لوٹ مار کا اندھا دھند نظام تھا۔ بھڑک دار ، خوشنما اور گہرے رنگ کی چیزوں پر بھاری محصول لگاتے۔ اپنی جہالت کی وجہ سے جو چیز ظاہر میں زیادہ خوش نما ہوتی اسے زیادہ قیمتی سمجھتے۔ صندوقوں اور پلندوں کی چیزوں کو الٹ پلٹ کے کے ادھر ادھر پھینک دیتے۔ یہ کام اتنی بری طرح کرتے کہ لوگوں کو غصہ آجاتا۔ سامان کو قرینے سے لگا کر دوبارہ باندھنے اور بند کرنے میں کافی وقت لگتا اور خاصی محنت کرنی پڑتی۔

شریف مکہ نے دس اچھی طرح مسلح شتر سوار ہمارے خرچ پر عنایت فرمائے۔ نائب الشریف کے بھی چار پانچ قوی الجثہ اور مضبوط غلام ساتھ تھے۔ نواب صاحب کے ملازموں میں سے بہت سوں کے پاس ہتھیار تھے۔ چونکہ ہمارے قافلہ کی شہرت عام ہو گئ تھی اس لئے اور بھی کچھ آدمی جو مدینہ جانا چایتے تھے شریک قافلہ ہو گئے۔ ان میں تین ایسی حیثیت کے آدمی تھے کہ ہر ایک کو دس سواروں کا حفاظتی دستہ شریف مکہ نے دیا تھا۔ اس طرح انہوں نے تیس خوب مسلح اور اچھے شتر سوار عنایت فرمائے۔ اب ہماری ایک مضبوط جماعت ہو گئ جو لٹیروں کا اچھی طرح مقابلہ کر سکتی تھی۔
شریف محسن نے یہ نائب الشریف کا نام ہے، جو ہماری  حفاظت کے ذمے دار تھے، مندرجہ بالا تدابیر کے علاوہ حفاظت کے ایک اور ذریعے سے، جو اتفاق سے راستہ میں مل گیا تھا فائدہ اٹھانا مناسب سمجھا۔
اس وقت مکہ میں ایک شخص تھا جس کا لقب 'شیخ الحرامی' تھا اور وہ ڈاکوءوں اور چوروں کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہ شخص لٹیرے قبائل کے شریر ترین قبیلے سے تعلق رکھتا ہے اور اسکا اثر اتنا زیادہ ہے کہ قافلہ میں محض اسکی موجودگی ، حملے سے حفاظت کی ضامن ہوگی۔ یہ عمر رسیدہ آدمی تھا اور گھٹیا قسم کے کپڑے پہنے تھا۔ اسکی شرکت قافلے کی حفاظت کے ذریعوں میں ایک اہم اضافہ تھا

مجھے اس بات کابڑا احساس ہے کہ بدو لٹیروں کے قبائل ، عرب کے لئے مصیبت بنے ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سلطان انکی وحشیانہ عادات کو دبانے اور انکو صحیح راہ پہ لانے کے لئے کوئ قدم نہیں اٹھائیں گے۔ کیونکہ انہیں قابل احترام خیال کیا جاتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ایک مختصر سی مسلح فوج بلا کسی دقت کے انکو ٹھیک کر سکتی ہے۔ یہ امر باعث افسوس ہے کہ ملک کے تجارتی اور زراعتی وسائل کو ان پر اور سلطان کے عقیدت مندانہ مذہبی جذبے پر قربان کیا جا رہا ہے۔ اگر ان قبائل کو زندگی کا صحیح راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا جائے تو ملک کے تجارتی اور زرعی مرکز بن جانے میں کوئ رکاوٹ نہ ہو جس سے عام طور پر ساری دنیا کو اور خاص طور سے اس ملک کی اچھی اور امن پسند رعایا کو بہت فائدے پہنچیں۔

Monday, January 10, 2011

ایک کتاب اور کچھ اقتباسات-۲


اگلے دن دوپہر کو نائب الشریف، دس بہت بد شکل، بد ہیئت آدمی جنکی صورت پر بدمعاشی ٹپکتی تھی میرے پاس لائے۔ یہ آدمی پرانے کمبل یا پرانے قالین کے ٹکروں کے ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنے تھا۔ انکے پاس توڑے دار بندوقیں اور خنجر تھے۔ اس اس ہیئت میں خطرناک غنڈے معلوم ہوتے تھے۔ مجھے انکے لٹیرے ہونے میں ذرا شک نہ تھا۔ میں سمجھا کہ نائب الشریف نے انہیں واردات کرتے ہوئے پکڑا ہے اور ہمیں دکھانے کے لئے لائے ہیں۔ میں نے ان سے اپنے شبہے کی تصدیق چاہی، انہوں نے خدا کی قسم کھا کر کہا کہ میرا شبہ غلط ہے یہ لٹیرے نہیں اسکے بر عکس اونچی حیثیت کے آدمی ہیں۔

میں نے ان سے پھر پوچھا کہ کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ ان میں کے سب لٹیرے اور خونی نہیں ہیں؟ تو انہوں نے خدا اور رسول کی قسم کھا کر کہا کہ میرا شبہ غلط ہے، یہ وہ حفاظتی دستہ ہے جسے محترم شریف مکہ نے بھیجا ہے۔ انکو حکم ہے کہ آپ کی ہر طرح کی خدمت انجام دیں۔ یہ ابھی مکہ سے آئے ہیں اور اونتوں کے چارے کے لئے دام مانگتے ہیں

مجھے اپنی غلطی پہ تعجب ہوا ، انکی ڈاکوءوں ایسی ہیئت پر۔ حقیقت یہ ہے کہ میرے بہت سے ساتھی انہیں ڈاکو سمجھ کر گھبرا گئے۔

مکے سے مدینہ جاتے ہوئے؛
کبھی کبھی ریگستان کے نیم وحشی، ننگی پہاڑیوں پہ کھڑے یا گھومتے نظر آجاتے۔ مجھے تعجب ہوتا تھا کہ ایسے ملک میں جہاں پتھروں اور ریت کے ٹیلوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہ لوگ اپنے نیم سیر اونٹوں اور بھیڑوں کے لئے چارہ کہاں سے حاصل کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ ریگستان کے یہ سپوت ان سر سبز مقامات کو جانتے ہیں جہاں انکے جانوروں کے لئے تازہ پانی اور ہریالی مل سکتی ہے۔ کبھی یہ بد نصیب پڑاءو اٹھ جانے کے بعد آتے اور جو بچی کھچی چیزیں ہم پھینک دیتے انہیں بین لیتے، خواہ حلال کئے ہوئے جانوروں کے فضلات ہوتے یا ہڈیاں اور چھیچھڑے یا روٹی اور سبزی کے ٹکڑے۔ میں نے دیکھا کہ جو کچھ ملتا اسے اٹھا لیتے اور ایسے شوق سے کھاتے کہ معلوم ہوتا کہ مہینوں سے انکے منہ میں کوئ چیز نہیں گئ۔ حقیقت میں یہ ریگستان کے مہتر تھے اور وہی کام کرتے جو گدھ مردہ جانوروں کو کھا کر کرتے ہیں۔

گھٹنوں تک لنگوٹی کے سوا انکے جسم پہ کوئ کپڑا نہ ہوتا، عورتیں بھی یہی پہنتی تھیں البتہ اسکے علاوہ سینے کو سہارا دینے کے لئےایک دوسرا چیتھڑا سینہ پر بھی باندھ لیتیں۔ یہ دھجّی اسی کام کے لئے باندھی جاتی تھی۔ انکے لباس کا جُز نہ تھی۔ انکے سر کے بال گرد میں اٹے اور الجھے ہوئے ہونگے۔ ایسے بال بجائے آرائیش اور سنگھار کے انکے لئے وبال ہوتے ہونگے۔ انکو سر پر جمائے رکھنے کے لئے کیچڑ تھوپ لیتیں یا کپڑے کی دھجّی سے باندھ لیتیں۔ یہ دھجّی کہاں اور کس طرح حاصل کرتیں یہ نہیں بتایا جا سکتا۔

یہ نیم وحشی جو اس خوفناک ملک کے ریگستانی علاقے میں آباد ہیں،حبشی نسل کے معلوم ہوتے ہیں۔ جو کسی طرح عرب میں آ کر آباد ہو گئے ہیں۔ انکی زبان بدءووں سے مختلف ہے۔ بدو خالص عربی بولتے ہیں اور نسبتاً ان سے زیادہ شریف ، خوش رو اور صاف رنگ کے ہیں۔

Sunday, January 9, 2011

ایک کتاب اور کچھ اقتباسات

ایک سو اڑتیس سالہ پرانی کتاب کا ایک اردو ترجمہ ہاتھ لگا۔  ایک سو اٹھاَئیس صفحات پہ مبنی  بالشت بھر کی اس کتاب کا انگریزی نام ہے۔
Pilgrimage to the Caaba  and Charing Cross

اسکا نام اردو میں روداد سفر حج اور زیارت لندن رکھا گیا ہے۔ یہ کتاب انگریزی سے اردو میں ترجمہ ہوئ۔ کتاب کے مصنف حافظ احمد احسن صاحب ہیں اور اسکا اردو ترجمہ جناب مصطفی علی مارہروی نے کیا۔ کتاب کی اشاعت لندن کی ڈبلیو ایچ ایلن اینڈ کمپنی نے کی۔اردو ترجمہ، ورثہ والوں نے شائع کیا ہے۔
 مصنف ٹونک ریاست کے نواب کے معتمد و معاون تھے۔ قتل کے ایک مقد مے میں پھنسا کر نواب صاحب کو ریاست کی حکمرانی سے محروم کیا گیا۔ جلا وطن ہوئے۔ بعد ازاں انگریز حکومت سے اجازت حاصل کر کے حج کے سفر پہ روانہ ہوئے۔ نواب صاحب تو وطن لوٹ آئے لیکن مصنف حج کے بعد لندن  کے لئے روانہ ہوئے۔ تاکہ اپنے نواب صاحب پہ ہونےوالے ظلم کے خلاف توجہ انگریز حکومت کوتوجہ دلا سکیں۔ کتاب کاشروع کا حصہ اس سازش کے متعلق ہے جس کے ذریعے نواب صاحب کو ریاست سے محروم کیا گیا۔ مقدموں میں پھنسانا اور قانون سے اپنی مرضی کے فوائد حاصل کرنا، طاقت کے کھیل میں ایسی سازشیں ہمیشہ بروئے کاررہی ہیں۔
اٹھارہ سو ستّتر میں یہ سفراختیار کیا گیا۔ کتاب میں سے کچھ دلچسپ اقتباسات حاضر ہیں۔

سمندر کے عجائبات کا حال کانوں میں پڑا ہوا تھا۔ میرے دل و دماغ ان سے اتنے متائثر ہو چکے تھے کہ باوجود اپنی تکلیف کے جنکا نقشہ کھینچنے کی کوشش بے کار ہے۔ میں مسلسل اپنے چاروں طرف دیکھتا رہا کہ شاید سمندر کے دیوزاد اور عجیب و غریب شکل و صورت کی چیزیں نظر آجائیں۔ مجھے یقین دلایا گیا تھا کہ سمندر ایسی چیزوں سے آباد ہیں۔ مگر مجھے پردار مچھلیوں کے علاوہ کوئ عجیب چیز نظر نہیں آئ۔ یہ مچھلیاں اسی عرض البلد میں پائ جاتی ہیں اور ٹکریاں بنا کر سمندر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ اڑتی دکھائ دیتی ہیں۔ انکی پرواز عام طور پہ سے بیس فٹ کے قریب ہوتی ہے۔ میں نے  ایک ایسی زندہ چیز بھی دیکھی جو سمندر میںپورے کھلے ہوئے گلاب کے پھول کی مانند ہوتی ہے۔ مگر جب نکالی گئ تو سفید رنگ کی نیم شفاف گودے دار چیز تھی۔ 

فوج ایک ترک افسر کے زیر کمان ہے جو مکہ کا پاشا کہلاتا ہے۔ انتظامی اور عدالتی امور شریف مکہ کے ہاتھ میں ہیں۔ شریف، سلطان ترکی کے مقرر کردہ مکہ کے والی اور حاکم ہیں۔ ان کا نام عبداللہ ہے۔ انتہائ مہذب، شائیستہ اور وجیہہ آدمی ہیں۔ عرب کے تمام بدو انکا احترام کرتے ہیں۔ اور انکے حکم کے سامنے سر جھکاتے ہیں اپنا سردار اور مذہبی پیشوا سمجھتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کو عرب کا والی کہا جا سکتا ہے۔
مکہ کو پانی ایک نہر سے ملتا ہے۔ یہ نہر بغداد کے مشہور خلیفہ ہارون رشید کی بیوی زبیدہ نے بنوائ تھی۔ انہی کے نام موسوم ہے۔ یہاں کے آدمی ریشمی اور اونی بھڑکدار کپڑے پہننے کے شوقین ہیں۔ کپڑا فرانس اور انگلستان  سے آتا ہے۔ مگر یہاں کے نا واقف لوگ قسطنطنیہ کا سمجھتے ہیں۔ کپڑے پر ملک اور کارخانہ کے نام کے باوجود انہیں یقین نہیں آتا کہ دوسرے ملکوں کا بنا ہوا ہے۔
اور قارئین اسکے ساتھ ہی لائیٹ چلی گئ۔ باقی اقتباسات بعد میں۔

جاری ہے۔ 

Tuesday, December 28, 2010

سر سید، تبیین الکلام اور علی گڑھ


سر سید اپنی نو عمری سے یہ دیکھ رہے تھے کہ عیسائ مشنری کے علماء ہندوستان میں پھیلے ہوئے ہیں اور مسلمانوں سے مناظرہ اور مباحثہ کرتے پھرتے ہیں۔ مسلمان علماء بھی ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اسکی وجہ سے ایک جانب تو لوگ ان مشنریز کے زیر اثر آنے سے بچ گئے تھے مگر دوسری جانب یہ فریقین کے درمیان تلخی کا باعث بنتا تھا۔ جبکہ سر سید اپنے فہم پہ سمجھتے تھے کہ ان دونوں فرقوں کے عقائد میں فرق زیادہ نہیں ہے۔ جتنےدونوں طرف کے مولویوں نے بنا رکھے ہیں۔
اس پہ انہیں خیال آیا کہ ایسی کتاب لکھنی چاہئیے جس سے پتہ چلے کہ بائبل اورقرآن دونوں آسمانی کتابیں بہت سے معاملات میں ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان علماء جو کہ تحریف کی وجہ سے بائبل کو سراسر غلط سمجھتے ہیں اور عیسائ علماء جو قرآن کو سرے سے آسمانی کتاب تسلیم کرنے کو تیار نہیں  ان میں اس گمراہی کی اصلاح ہونی چاہئیے۔
اسے لکھنے کے لئے سرسید نے تفصیلی طور پہ بائبل کا مطالعہ کیا، عبرانی زبان سے واقفیت پیدا کی۔ تاکہ اسے اصل زبان میں پڑھ کر معلوم کریں کہ عیسائیوں نے کہاں کہاں تحریف کی ہے۔
عیسائ تین خداءووں کے قائل ہیں جبکہ بائبل میں تثلیث کا تذکرہ نہیں ملتا۔ اسی طرح مسلمان نسخ آیت قرآنی کے قائل ہیں لیکن سر سید نےنے اپنی کتاب تبین الکلام اور خطبات احمدیہ میں ثابت کیا کہ قرآن حکیم کی کوئ آیت منسوخ نہیں ہوئ۔
بہر حال عیسائیت اور اسلام کے تعلق پہ انہوں نے کتاب تبیین الکلام لکھی۔ اس بارے میں مسلمانوں اورعیسائیوں دونوں میں شبہات اٹھے۔ سر آرنلڈ کے خط کے جواب میں سر سید لکھتے ہیں کہ

بایں ہمہ مجھ کو یقین ہے کہ میری زندگی میں عام مسلمانوں کی گالیوں اور نفرت سے مجھے نجات نہ ملے گی۔ عیسائ بھی میری تفسیر سے خوش نہیں ہو سکتے کہ جس طرح میں انجیل کی تعلیم کو صحیح اور درست سمجھتا ہوں اسی طرح تثلیث کے مسئلے کا قائل نہیں اس لئے کہ میں انجیل میں کہیں اسکی تائید یا وجود نہیں پاتا ہوں۔
مجھ کو یقین ہے کہ  مذہب اسلام صحیح ہے اور اسکی صحت اور وجود دونوں انجیل سے ثابت ہیں۔ اس لئے مجھے کچھ پرواہ نہیں کہ کسی گروہ کے لوگوں کو خواہ وہ مسلمان ہوں یا عیسائ خوش کروں۔ میں حق پہ ہوں اور اس خدا کو خوش کرنا چاہتا ہوں جس کے روبرو سب کو ایک دن جانا ہے۔ البتہ یہ میری خواہش رہی ہے کہ مسلمان اور عیسائیوں میں محبت پیدا ہو کیونکہ قرآن مجید کے موافق اگر کوئ فرقہ ہمارا دوست ہو سکتا ہے تو وہ عیسائ ہیں۔

وقت کے دھارے سے گذرتے ہوئے سر سید احمد خان کو یہ احساس ہوا کہ جب تک ہندوستان میں علم کی روشنی نہیں پھیلتی انکے ترقی کرنے کی امید نہیں کی جا سکتی۔ ادھر علوم جدیدہ، کے خزانے انگریزی میں دستیاب تھے۔ مسلمان انگریز سے نفرت کرتے تھے اور انگریزی سیکھنے کی طرف مائل نہ تھے۔ جبکہ ہندو بھی صرف اسی قدر انگریزی سیکھنے میں دلچسپی رکھتے تھے جو ملازمت کے حصول کو آسان بنادے۔
ان علوم کی طرف توجہ دلانے کی غرض سے سر سید نے یہ تجویز پیش کی کہ ایک سائینٹیفک سوسائیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ جس کا اہم کام، اہم علمی و سائینسی کتابوں کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرا کے انکی اشاعت ہو۔
اس طرح سے ۱۸۶۳ میں غازی پور، جہاں سر سید بغرض ملازمت موجود تھے، میں یہ سوسائٹی وجود میں آئ۔ اس وقت کے وزیر ہند کو اسکا پیٹرن بنایا گیا، پنجاب اور یوپی کے گورنر اسکے وائس پیٹرن بنے۔ ملک بھر سے رئیس اور علم دوست لوگوں کو اسکا ممبر بنایا گیا۔
سر سید اگرچہ اس سوسائیٹی کے روح رواں تھے مگر انہوں نے خود کو اسکا سیکریٹری کہلوانا پسند کیا۔ 
اس سلسلے میں انہوں نے مختلف شہروں کا دورہ کیا تاکہ اسے متعارف کرایا جا سکے۔
 انہی بنیادوں پہ انہوں نے غازی پور میں ایک مدرسہ بھی قائم کیا۔اسکی تعمیر کے لئے چندہ اکٹھا کیا گیا اور اسّی ہزارروپے کی لاگت سے ایک شاندار عمارت تعمیر کی گئ۔ اس مدرسے کا موجودہ نام وکٹوریہ ہائ اسکول ہے۔ ۱۸۶۴ میں سر سید کا تبادلہ غازی پور سے علی گڑھ ہو گیا۔
علی گڑھ جاتے ہوئے وہ سائینٹیفک سوسائیٹی کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ اور علیگڑھ میں علاقے کے رئیسوں سے چندہ اکٹھا کر کے  اسکے لئےایک عالی شان عمارت تعمیر کروائ۔
اس انسٹیٹیوٹ میں ہر ماہ علمی اجلاس اور مذاکرے ہوتے۔ مختلف موضوعات پہ لیکچر کا اہتمام کیا جاتا۔ سائینسی آلات کی مدد سے مختلف سائینسی علوم کی وضاحت اور تشریح کی جاتی۔ بہت سی کتابوں کے تراجم ہوئے۔ مفید اور علمی کتابوں کی ایک لائبریری قائم کی گئ۔
حالی لکھتے ہیں کہ رئیسہ ء بھوپال نواب سکندر بیگم نے سر سید کی خدمات کے اعتراف میں ایک قیمتی انگوٹھی بطور تحفہ بھجوائ جسے سرسید نے ایک ہزارروپے میں بیچ کر ساری رقم انسٹیٹیوٹ کے فنڈ میں جمع کروادی۔ سر سید نے تبیین الکلام کی طباعت کے لئےآٹھ ہزار روپے اس زمانے کے لحاظ سے  کثیر رقم خرچ کر کے اپنا پریس خریدا تھا۔ وہ بھی اس انسٹیٹیوٹ کے حوالے کیا اور یوں سوسائیٹی کی کتابیں، اخبار، رسالے اور اطلاع نامے اسی پریس سے چھپنے لگے۔
اس ادارے کے دارالمطالعہ میں لندن اور ہندوستان کے اطراف و جوانب کے اٹھارہ انگریزی اور چھبیس اردو اخبارات و رسائل آیا کرتے تھے جو اس وقت کے لحاظ سے ایک خاصی بڑی تعداد تھی۔ یوں اسکی روشنی ملک کے طول و عرض میں اہل بصیرت تک پہنچنے لگی۔

جاری ہے 

Thursday, December 2, 2010

منی بدنام ہوئ----استغفراللہ

اکثر ایسی میلز یا فیس بک پہ ویڈیوز ملتی ہیں۔ جنکا مقصد تو بظاہر یہ لگتا ہے کہ لوگوں کے اندر یہ احساس پیدا کیا جائے کہ وہ مذہبی طور پہ کتنے نکمے ہیں۔ اور ان سے اس سلسلے میں کیا کیا کوتاہیاں ہوتی ہیں۔ لیکن پتہ نہیں کیوں مجھے یہ بہت مسخرہ پن لگتا ہے کہ ایک طرف وینا ملک ٹھمکے لگاتیں سلمان خان سے داد و تحسین وصول کررہی ہیں اور پس منظر میں حمد سے ملتی جلتی چیز سنائ دے رہی ہے۔ اس تمام ویڈیو کو دیکھنے کے بعد کیا ایک عام شخص مذہبی غیرت کھا کر اس تمام مواد کو واہیات کہہ کراٹھ جاتا ہے یا  استغفراللہ کہہ کر ہل من مزید کہتا ہے۔ ایسی ایک ویڈیو میں نے فیس بک پہ دیکھی۔ ابتداً تو صرف شروع کے کلپس دیکھ کر چھوڑ دی کہ بے کار کا قصہ ہے۔ لیکن  عوام الناس کو اپنی بلّو کے لئے لائن لگاتے ہوئے  ساتھ ساتھ  وینا ملک  پہ غیرت کھاتے دیکھا تو سوچا دیکھیں تو وینا ملک کرنٹ پاکستانی سینسیشن، آخر کیا چیز ہے۔ جس پہ منی بد نام ہو رہی، اور ہر کس و ناکس استغفراللہ  بھی پڑھ رہا ہے اور اسی دلجمعی سے وینا ملک کی ویڈیوز یو ٹیوب پہ جمع ہوئ جا رہی ہیں۔ جنہیں لاکھوں کی تعداد میں دیکھا بھی جا رہا ہے۔ 
ایک ایسی ویڈیو حاضر ہے۔ کیا استغفراللہ کہہ دینے سے یا ان کلپس کے پیچھے حمد نما شاعری لگانے سے انہیں دیکھنا جائز ہو جاتا ہے۔ 

 

Monday, November 8, 2010

اوپن ہارٹ

میری ایک محقق دوست جرمنی سے واپس آئیں تو ان سے ملاقات ہوئ۔  باتوں باتوں میں وہاں کے قصے چھڑے تو بتانے لگیں کہ جب میں نے اپنی جرمن پروفیسر کو بتایا کہ ہمارے ساتھ جو میرے کولیگ موجود ہیں انکی اوپن ہارٹ سرجری ہو چکی ہے۔ تو وہ پوچھنے لگیں کہ کہاں ہوئ تھی۔ میں نے بتایا پاکستان میں۔ ایکدم کندھے اچکا کر کچھ حقارت سے کہنے لگیں کہ کیا پاکستان میں ڈاکٹرز اوپن ہارٹ سرجری کر لیتے ہیں اور وہاں ہوتی ہے۔ اس سے میری دوست کے دل کو دکھ پہنچا۔ جرمن مغرور اور اکھڑ ہوتے ہیں۔ یہ اکثر سننے میں آتا ہے۔ لیکن جب کوئ آپکے سامنے آپکے وطن کا تذکرہ حقارت سے کرے تو رنج تو ہوتا ہے۔
 ان کا یہ طرز عمل شاہد انکی لا علمی پہ مبنی تھا۔ جب لوگ اپنے آپ میں گم ہو جائیں تو اکثر وہ اپنے علم سے نہیں بلکہ لا علمی سے دوسروں کا دل دکھاتے ہیں یا انکے لئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پہلی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو پچھلے کچھ سالوں سے معاشی بحران کا سامنا ہے جسکے نتیجے میں وہ اپنے باشندوں کو بنیادی سہولیات مناسب طور پہ نہیں دے پا رہے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ اسکی وجہ سے بے روزگاری کی شرح میں انتہائ اضافہ ہوا ہے اور یوں لوگوں کو اب ویسی آسانیاں میسر نہیں جیسی پہلے تھیں۔ بعض ممالک میں گورنمنٹ کے ہسپتالوں میں تین تین سال تک کی لمبی لائن لگی ہوئ ہے۔
یوں دنیا کے وہ ممالک جو سستی طبی سہولیات اور بہتر نتائج دے سکتے ہیں۔ وہ پہلی دنیا کے عوام کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔  انڈیا میں تو یہ باقاعدہ ایک صنعت کی حیثیت اختیار کر گئ ہے۔ ٹیسٹ ٹیوب بے بی پیدا کرنا ہو، سر پہ مصنوعی بال لگوانے ہیں، دانتوں کا نیا سیٹ بنوانا ہے، گردوں کی پیوند کاری کروانی ہے ۔ لوگ اب ان ملکوں کا رخ کرتے ہیں۔ انڈیا میں تو یہ ایک صنعت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ آنے والا اپنے ساتھ ڈالرز لے کر آتا ہے۔ وہ جب اسے روپوں میں تبدیل کرتا ہے تو اسے زیادہ پیسے حاصل ہوتے ہیں۔ لوگ سیر تفریح کرتے ہیں، اپنا کام کرواتے ہیں، ایک نئ جگہ سے آشنائ حاصل کرتے ہیں اور خوش خوش اپنے ملک واپس جاتے ہیں۔ یہ کہلاتی ہے طبی سیاحت۔ اس سارے کے بعد بھی انکا کل خرچہ، انکے ملک میں ہونے والے خرچے سے خاصہ کم ہوتا ہے۔
انڈیا میں ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے لئے رضاکار بھی بآسانی مل جاتے ہیں۔ غریب عوام اپنے اعضاء بیچنے کے لئے تیار ہے۔ ادھر پاکستان میں۔ لاہور میں بآسانی گردے مل جاتے ہیں۔ اور شہر میں یہ کاروبار ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں بہت سرگرمی سے چل رہا ہے۔ میں خود ایسے لوگوں سے مل چکی ہوں جو پاکستان سر پہ بال لگوانے یا دانتوں کے علاج کے لئے آئے تھے۔
انڈیا کے علاوہ اس خطے میں تھائ لینڈ بھی کام کر رہا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ صنعت پھلنے پھولنے کے امکانات ہیں اورکئ ڈاکٹرز اس سمت میں کام بھی کر رہے ہیں۔  اگرچہ  ہم مہنگائ کی وجہ سے مختلف سہولیات کو اپنے سے دور ہوتا محسوس کر رہے ہیں کہ ہم روپوں میں کما کر روپوں میں خرچ کرتے ہیں۔ لیکن یہ ان لوگوں کو سستی لگتی ہے جو ڈالرز لے کر ان جگہوں کا رخ کرتے ہیں۔  یہ تو آپ جانتے ہی ہونگے کہ آجکل ایک ڈالر، پاکستانی تقریباً چھیاسی روپوں کا بن رہا ہے۔ میں جس اسپیشلسٹ کی آٹھ سو روپے فیس سن کر سوچ میں پڑ جاتی ہوں وہ ڈالر میں دس ڈالر سے بھی کم ہوتی ہے۔ پہلی دنیا کے بازاروں میں دس ڈالر میں اچھے سیب شاید آٹھ دس آجائیں مگر ایک اچھا ڈاکٹر نہیں ملے گا۔
آپکو لگا کہ ان جرمن یونیورسٹی پروفیسر کو ہمارے خطے کے بارے میں کچھ کم آگاہی نہیں۔ بلکہ شاید وہ اپنے ہی خطے کے ان لوگوں کے بارے میں بھی واقف نہیں جو نیرنگی ء زمانہ سے نبرد آزما ہونے کے لئے ہر ممکن طریقہ کام لا رہے ہیں۔ لیجئیے انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ انڈیا کے انڈر ورلڈ ڈان داءود ابراہیم کی اوپن ہارٹ سرجری بھی کراچی میں ہوئ، آپس کی بات ہے ہمیں بھی اسی لنک سے پتہ چلا۔ 
اب یہ بتائیے کہ ایکدوسرے سے آگاہ رہنے کے لئے دنیا کے لوگوں کو کیا کرنا چاہئیے۔ایک  بات تو میں بتا دیتی ہوں۔ اپنے دلوں کو اوپن کر لیجئیے، اس سے پہلے کہ اوپن ہارٹ سرجری کی باری آئے۔ باقی اب آپکی باری ہے۔

Friday, October 29, 2010

اسباب بغاوت ہند اور لائل محمڈنز آف انڈیا-۲


ہنگامے کے دنوں میں کچھ مسلمان علماء نے ایسے مضامین اور رسالے لکھے جن میں عیسائیوں کو نصاری کہا گیا تھا۔ انگریز حاکموں نے اسکا برا مانا۔ انہوں نے سمجھا کہ جیسے یہودی حقارت میں حضرت عیسی کو ناصری کہتے ہیں اسی طرح مسلمان لکھنے والوں نے عیسائیوں کی توہین کی ہے اور یہ لوگ دل سے مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ انگریزوں کا رد عمل اس سلسلے میں اتنا شدید تھا کہ انہوں نے بعض ایسے علماء اور مصنفین کو پھانسی دے دی۔ سر سید نے فوری طور پہ ایک رسالہ نصاری لفظ کی تحقیق پہ لکھا اور یہ ثابت کیا کہ مسلمانوں نے جو عیسائیوں کو نصاری لکھا ہے تو اسکی مشتق ناصری نہیں بلکہ نصر ہے۔ یہ قرآن سے بھی ثابت ہے۔ قرآن میں کہیں ناصرہ کے قریہ کا تذکرہ نہیں آیا۔ بلکہ حضرت عیسی اور انکے حواریوں کے نصاری ہونے کا بیان اس طرح آیا ہے کہ حضرت عیسی نے کہا من انصاری الی اللہ تو حواریوں نے کہا نحن انصاراللہ۔ سورہ مائدہ میں ارشاد ربانی ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو پائے گا اہل کتاب میں سب سے زیادہ مسلمانوں کا دوست انکو جنکا قول ہے کہ ہم نصاری ہیں انہوں نے اس مضون کا ترجمہ انگریزی میں کروایا اور سب انگریز حاکموں کو اسکی نقل بھیجی۔ یہ مضمون اردو ااور انگریزی اخبارات میں بھی چھپوایا۔ اس مضمون کی اشاعت کے بعد لفظ نصاری کا قصہ ختم ہوا اور اس بناء پہ مسلمانوں کو سزائیں دینے کا سلسلہ بند ہوا۔



اسی وقت انگریز اور ہندو مصنفین نے بھی تحاریر کا سلسلہ شروع کیا ہوا تھا اور ان میں سے اکثر کا مءوقف یہ تھا کہ مسلمان مذہباً عیسائیوں کے دشمن ہیں انکا مذہب انہیں عیسائیوں کے خلاف جہاد کرنے کی تعلیم دیتا ہے بلکہ عیسائیوں کے خلاف جہاد ان پہ مذہباً فرض ہے۔ وہ انگریزی حکومت کے خیر خواہ ہو ہی نہیں سکتے۔ یہ پروپیگینڈہ انتہائ زہریلا تھا اور اس سے مسلمانوں کا ہندوستان میں بطور مسلمان رہنا مشکل نظر آرہا تھا۔ یہ تباہی بالکل سامنے تھی اور واضح ہوتی جارہی تھی۔ سر سید ان الزامات کا اثر زائل کرنے کمر بستہ ہوئے۔ انہوں نے رسائل کا ایک سلسلہ شروع کیا جس کا نام لائل محمڈنز آف انڈیا رکھا۔ اس میں پہلے تو انہوں نے دلائل سے ثابت کیا کہ مذہب کی رو سے ہندوستان کی تمام اقوام میں صرف مسلمان ہی ایسی قوم جو انگریزوں کی وفادار ہو سکتی ہے
قرآن اور احادیث کا حوالہ دیا کہ جسطرح مسلمان اپنے رسول پہ ایمان رکھتے ہیں اسی طرح وہ حضرت عیسی اور بائبل پہ یقین رکھتے ہیں. اسلام کسی ایسے گروہ یا جماعت کے خلاف جہاد کی اجازت نہیں دیتا جو انکے مذہبی فرائض کی ادائیگی میں مخل نہ ہو۔ پھر سر سید نے ہندوستان بھر سے ایسے مسلمانوں کے کوائف اکٹھا کئے جو ہنگامے کے دنوں میں انہی کی طرح انگریزوں سے خیر خواہی اور ہمدردی کا رویہ رکھا اور انکی حفاظت کے لئے اپنی اور اپنے گھر والوں کی جانوں کی قربانی دی۔
انگریزوں کا ایک عام عقیدہ اس وقت یہ تھا کہ اسلام اور تہذیب و شائیستگی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ سر سید نے دلیلیں اور مستند حوالے اکٹھے کرکے یہ ثابت کیا کہ اسلام اور صرف اسلام ہی سب سے بڑھ کر تہذیب و شائیستگی، خوش اخلاقی اور دوسروں سے ہمدردی کا سبق دیتا ہے۔

یہ رسالے ظاہر ہے مسلمانوں کی طرفداری میں لکھے گئے تھے اس لئے سر سید لکھتے ہیں کہ۔
ہاں یہ بات تو مجبوری کی ہے کہ میری پیدائیش ہندوستان میں ہوئ اور میں بلاشبہ مسلمان ہوں اور مسلمانوں کا ذکر خیر اس کتاب میں لکھتا ہوں۔

سر سید کی ہمہ گیر اور مختلف النوع قومی جد وجہد کے لئے مولانا صلاح الدین احمد اپنے تبصرے میں لکھتے ہیں
ایک معرکہ ء عظیم ہے جس کے مختلف محاذوں پہ بیک وقت یورش جاری ہے اور دفاع بھی۔ اور بڈھا سپہ سالار ایک ہاتھ میں دوربین اور دوسرے میں شمشیر عمل لئے ہر مورچے پر مثل برق پہنچتا اور مثال ابر گرجتا ہے۔

جاری ہے

Tuesday, October 19, 2010

سر سید اور اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی-۱

سر سید کو بجنور میں بطور صدر امین دو سال چار ماہ گذرے تھے کہ دس مئ اٹھارہ سو ستاون کو یکایک وہ خوں ریز لڑائ شروع ہوئ جسے انگریزوں نے بغاوت اور غدر کا نام دیا اور مسلمان مورخین نے جنگ آزادی کا۔ ہنگامے کی وجوہات ایسی تھیں کہ اس میں ہندو اور مسلمان دونوں انگریز حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ مسلمانوں کی نفرت زیادہ شدید تھی۔ مقامی لوگ بے قابو ہو کر ان انگریز مردوں اور بچوں کو بھی موت کے گھاٹ اتارنے لگے جو انگریزی فوج کا حصہ نہ تھے اور جن کا جنگ سے تعلق نہ تھا۔ اس طرح کے تقریباً بیس گھرانے بجنور میں تھے۔ سر سید نے انکی حفاظت کی ٹھان لی۔ بجنور کے کلکٹر مسٹر شیکسپیئر کی متفکر بیگم سے سر سید نے کہا کہ
جب تک ہم زندہ ہیں آپکو گھبرانا نہیں چاہئیے۔ جب آپ دیکھیں کہ میری لاش کوٹھی کے باہر پڑی ہے اس وقت گھبرانے میں مضآئقہ نہیں۔
اس مصیبت میں انہوں نے کئ راتیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ جاگ کر  ، اور مسلح پہرہ دیتے ہوئے گذاریں۔ایک دن جب سب کا باغیوں کے ہاتھوں مارا جانے کا پورا یقین تھا۔ سر سید تنہا اس جماعت کے پاس گئے اور نواب محمود خان جو انکا سرغنہ تھا اس سے  کی اور کہا کہ چند انگریزوں کے مارے جانے سے کیا ہاتھ آئے گا۔ بہتر ہے کہ انہیں صحیح و سالم یہاں سے جانے دو۔ اور تم ملک کے مالک بن جاءو۔
سر سید ان دنوں کا احوال لککھتے ہیں کہ
مجھ سے اگر کچھ اچھی خدمت یا وفاداری گورننٹ کی ہوئ تو وہ بالکل میں نے اپنے مذہب کی پیروی میں کی۔ میں نے جو کچھ کیا اپنے خدا اور رسول کی اطاعت کی۔
نواب محمود خان بجنور پہ قابض ہو گیا۔ لیکن اس سے پہلے انگریز خاندانوں کو بحفاظت نکالا جا چکا تھا۔ اس نے سر سید کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا جس پہ اس نے انہیں انکی سرکاری رہائیش گاہ سے نکال دیا۔ سر سید یہاں سے کسی طرح جان بچا کر نکلے اور میرٹھ پہنچے تو پاس چھ پیسے اور پہنے ہوئے پھٹ کرتے کے سوا کچھ نہ تھا۔ پانچ ماہ تک سر سید میرٹھ میں رہے اتنے میں دہلی سے خبریں آئیں کہ انگریزی فوج نے شہر پہ قبضہ کر لیا۔ مسلمانوں کو بے دریغ مارا جا رہا ہے۔ سر سید کے ماموں اور ماموں زاد بھائ مارے گئے۔ انکے انتہائ عزیز دوست امام بخش صہبائ گولی کا نشانہ بن گئے۔ خود سرسید کا گھر لوٹ لیا گیا۔
انکی بوڑھی والدہ نے گھر سے بھاگ کر اپنی ایک پرانی جاننے والی عورت زیبن کے گھر میں پناہ لی۔ جسکی دیکھ بھال وہ کیا کرتی تھیں۔ سر سید جب مہینوں بعد اپنی والدہ سے ملے تو انہیں دیکھتےہی والدہ نے کہا۔ تم کیوں یہاں چلے آئے یہاں تو لوگوں کو مارے ڈالتے ہیں۔ تم جاءو۔ ہم پہ جو گذرے گی گذر جائے گی۔ سر سید نے انہیں تسلی دی کہ وہ قلعے کے انگریزوں سے مل کر آرہے ہیں۔ اور انکے پاس حاکموں کی چٹھیاں ہیں۔ معلوم ہوا کہ دو دن سے پانی نہیں پیا۔ تو پانی کی تلاش میں نکلے۔ قلعے سے پانی لے کر دوبارہ وہاں پہنچے تو راستے میں زیبن ملی۔ وہ سڑک پہ بیٹھی ہوئ تھی۔ اور پاس مٹی کا آب خورہ اور صراحی تھی۔ وہ پانی کی تلاش میں نکلی تھی۔ ہاتھ سے اشارہ کر کے گھر کی طرف کہا کہ بیوی یعنی والدہ پیاسی ہیں۔ سر سید نے انہیں پانی پلایا اور پھردوڑے ہوئے گھر گئے۔ وہاں خالہ اور والدہ کو پانی دیا۔ گھر سے باہر سواری کا انتظام کرنے نکلے تو دیکھا کہ زیبن مری پڑی ہے۔ آخر سرکاری ڈاک لے جانے والی شکرم میں اپنی والدہ اور خالہ کو لے کر میرٹھ آئے۔
وہاں چند روز بیماری کے بعد انکی والدہ کا انتقال ہو گیا۔

Sunday, October 17, 2010

کایا کلپ

اپنی بچی کے ساتھ یو ٹیوب پہ قومی نغمات کو چھانتے پھٹکتے, میں ایک گانے کی ویڈیو پہ پہنچی۔ آپ میں سے بیشترلوگ اس گانے سے واقف ہونگے۔ میں نے اپنے طور پہ کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ گانا انیس سو ستاون میں پاکستان کی فلم بیداری میں شامل تھا۔ آئیے یہ گانا دیکھتے ہیں۔



یہ گانا سنتے سنتے مجھے خیال آیا کہ ایک ایسا گانا ہندوستان کے حوالے سے بھی تھا۔ اسے بھی سننا چاہئیے۔ میں نے ذرا اور چھان پھٹک کی تو یہ گانا بھی مل گیا۔ یہ ہے فلم جگریتی کا گانا۔ اور یہ فلم انیس سو چون میں بنائ گئ۔



ذہن میں سوال آیا کہ ایک میوزک، ایک جیسی شاعری دو مختلف ملکوں کے لئے، دو مختلف تحرکات کے گانے کیوں ہیں؟ کیا کسی پاکستانی نے اس وقت کاپی کیا تھا۔
دونوں گانوں کے تبصرے پڑھتے ہوئے ایک تبصرہ ملا۔ جس میں مبصر نے معلومات دیں کہ دونوں فلموں کو ایک ہی شخص نے پروڈیوس کیا جس کا نام سید رضوی تھا۔ انہوں نے ہندی فلم انیس سو باون میں رتن کمار کے نام سے بنائ۔ بعد میں پاکستان منتقل ہو جانے پہ انہوں نے یہ فلم دوبارہ بنائ سید رضوی کے نام سے۔ اس پاکستانی فلم کا نام بیداری تھا۔
دونوں گانوں کو سنیں۔ اگر اس مبصر کی بات صحیح ہے اور یہ ایک ہی شخص  کی پروڈیوس کی ہوئ فلم ہے تواسے کہتے ہیں کایا کلپ یا قلب ماہیت۔

Monday, September 20, 2010

سر سید سے پہلے

 مشعل کے داد جی کی طبیعت اچھی نہیں۔ اس لئے کچھ تحریر کرنے کا  موڈ نہ ہوا۔ خدا انہیں صحت دے اور ہمارے گھر کی رونق بحال ہو۔ 
تو میں سر سید کی کہانی جاری رکھتی ہوں۔ سر سید پہ مزید تذکرے سے پہلے ہندوستان میں چلنے والی ایک اور تحریک کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ ہندوستان میں ایک عرصے تک حکمرانی تو مسلمانوں کی رہی تھی۔ مگر ہندو انکی رعیت کا ایک بڑا حصہ تھے۔ زوال آیا تو دونوں اسکا شکار ہوئے۔  اٹھارہویں صدی کے ہندوستان میں ذہنی پستی دونوں قوموں پہ طاری تھی۔ لیکن جب انگریزوں کی یلغار نے زور پکڑ لیا تو ہندءووں نے بھانپ لیا کہ کہ اب اس سیلاب کے آگے بند باندھنا مشکل ہےچنانچہ انہوں نے اپنے دفاع کے لئے پسپائ اختیار کی ایک طرف تو انہوں نے اپنے پرانے حکمرانوں یعنی مسلمانوں کی گرتی ہوئ دیواروں کو مزید دھکا دیا اور انگریزوں کا ساتھ دینے پہ آمادہ ہو گئے  اور دوسرےاپنے  سماج کو سدھارنے کے لئے نئ روشنی کو قبول کرنے پہ آمادہ ہو گئے اور ہندوستان میں ایسے اداروں کے قیام کے لئے سر گرم عمل ہوئے جن سے قدامت کے اندھیروں کو مٹایا جا سکے۔ اسکے نتیجے میں برہمو سماج تحریک نے جنم لیا اسکا مقصد ہندو مذہب میں مناسب تبدیلی سے سیاسی بہبود اور سماجی فلاح کی راہ ہموار کرنا تھا۔

تحریک کا جغرافیائ مرکز بنگال اور اس سے مسلکہ علاقہ رہا۔ اس تحریک  کے بانی اونچی ذات کے معزز برہمن ہندو راجہ رام موہن رائے تھے وہ سترہ سو چوہتر میں پیدا ہوئے۔ ان میں قدامت اور جدیدیت کا امتزاج موجود تھا۔ انکا خاندان پانچ پشتوں سے صوبہ ء بنگال میں مغلوں کے ساتھ تعلقات میں رہ چکا تھا۔ وہ ہندوستانی فلسفے کے عالم، سنسکرت، فارسی اور عربی کے ماہر اور ہندءووں اور مسلمانوں کے مشترکہ کلچر کی پیداوار تھے انہوں نے بت پرستی پہ براہ راست اعتراض کیا اور ستی کی رسم کو ممنوع قرار دینے کے لئے اس تحریک کو عملی طور پہ استعمال کیا۔ ستی ہندوءووں کی وہ رسم ہے جس میں بیوی کو اپنے مرے ہوئے شوہر کی لاش کے ساتھ زندہ جل کر مرنا ہوتا تھا۔ سن اٹھارہ سو تہتر میں جب لارڈ ایمبسٹ نے علوم شرقیہ کے فروغ کا منصوبہ بنایا تو انہوں نے اسکی مخالفت کی  کہ یہ وہ علوم ہیں جو یہاں دو ہزار سال پہلے سے رائج ہیں اسکے بر عکس انہوں نے ایک ایسے کالج کی تشکیل پر زور دیا  جس میں یوروپ کے تعلیم یافتہ اور قابل استاد مغربی علوم مثلاً طبیعیات، کیمیا، اور اناٹومی وغیرہ کی تعلیم دیں۔ انکی اس درخواست کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوئ لیکن انکے نئے خیالات کے بیج برگ و ثمر دینے لگے۔ اس تحریک کی اصلاحی کوششوں میں اسکی تعلیمی سرگرمیوں کو اہمیت دی گئ۔ قدامت پسندی کو رفع کرنے کے لئے مغربی سائینس اور انگریزی زبان کی تلقین کی گئ۔
راجہ رام موہن رائے اوائل عمری میں انگریزی اقتدار سے نفرت پہ مائل تھے. پلاسی کی جنگ میں انگریزوں کی کامیابی، انکے آبائ مقام سے ڈورئیے اور ململ کی صنعت کی تباہی، مفلس عوام کی زبوں حالی اور بنگال میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی لوٹ مار نے انہیں انگریزی حکومت سے نفرت پہ مائل کر دیا تھا۔  تاہم جب انہیں احساس ہوا کہ ہندوستان کے زوال کے اسباب اندرون ملک موجود ہیں تو انہوں نے نئے علوم کی ترویج کے لئے انگریزوں سے مفاہمت پیدا کی۔
انہوں نے اپنے خیالات کی ترویج  اور اشاعت کے لئے اور نئے تصورات کے فروغ کے لئے بنگالی زبان کا پہلا اخبار نکالا اور اس میں ہندوستانی نکتہ نظر پیش کیا۔ یہ اخبار اتنا موئثر ثابت ہوا کہ لارڈ منرو نے  اسکے خلاف اپنے شبہات کا اظہار کیا۔
اگر ساری رعایا ہماری ہم وطن ہوتی تو میں اخباروں کی انتہائ آزادی کو ترجیح دیتا۔ مگر چونکہ وہ ہمارے وطن نہیں اس لئے اس سے زیادہ خطرناک اور کوئ چیز نہِں۔
اسکے علاوہ انہوں نے ایک فارسی اخبار بھی نکالا ۔  اس طرح انہوں انگریز قوم کو مشرق کی عظمت، تہذیب، اور روحانیات سے آگاہی بخشی۔
اس تحریک نے ہندوستان کی مفلسی اور غلامی کو دور کرنے کے لئے مثبت کردار انجام دیا ۔   تحریک میں صرف وہ لوگ شامل ہو سکتے تھے جو خدائے واحد پہ یقین رکھتے ہوں اور بت پرستی سے نفرت کرتے ہوں۔ راجہ رام موہن رائے، اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ راسخ الاعتقاد ہندءووں کی شدید مخالفت کے باوجود اس تحریک نے صرف دو سال کے عرصے میں قدیم ہندو مت سے الگ ہو کر برہمو فرقے کی صورت اختیار کر لی۔ راجہ رام موہن رائے کا  انتقال اٹھارہ سو تینتیس میں ہوا۔
راسخ العقیدہ ہندو اس تحریک کے شدید مخالفین میں سے تھے۔ اسکے رد عمل میں آریہ سماج تحریک پیدا ہوئ جو ہندو مذہب کے احیاء کی تحریک تھی۔ یہ شاید ایک قدرتی رد عمل تھا۔ تمام مذاہب کو اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ جدیدیت کے مقابلے میں قدامت پسندی کے اس رجحان نے ہندوستانی قومیت کا جذبہ پیدا کیا۔ اور یوں جتنا انگریز حکومت اپنا تسلط مضبوط کرتی گئ اتنا ہی ہندو قدیم مذہب کے احیاء میں سنجیدگی اختیار کرتے گئے اس تحریک نے تدبر کے بجائے جبر اور عقل کے بجائے جوش کو استعمال کیا۔
برہمو سماج کی تحریک اگرچہ کہ بنگال تک ہی محدود رہی لیکن اس  نے ہندءووں کو مسلمانوں سے  سبقت لے جانے کا موقع فراہم کیا۔ کیونکہ مسلمانوں میں اس وقت تک اس چیز کا احساس ہی پیدا نہ ہو سکا تھا کہ وہ کیا عظیم نقصان ہے جس سے وہ دو چار ہونے جا رہے ہیں اور اگر کسی سطح پہ یہ عالم مایوسی میں موجود بھی تھا تو انکو یہ معلوم نہ تھا کہ اس سے بچاءو اور دفاع کس طرح ممکن ہے۔

ماخذ؛
اردو ادب کی تحریکیں، مصنف ڈاکٹر انور سدید، پبلشر انجمن ترقی اردو پاکستان۔

Tuesday, July 20, 2010

آشنائیاں کیا کیا

بنگلہ دیش کبھی پاکستان کا ہی حصہ تھا۔ اور آزادی کی جدو جہد دونوں حصوں کے لئے کی گئ اور دونوں ممالک کے لوگوں نے تاریخی طور پہ حصہ لیا۔ لیکن حالات ایسے رہے کہ مشرقی پاکستان انیس سو اکہتر میں بنگلہ دیش بن گیا۔ اور اس واقعے پہ مسرور اس وقت کی بھارتی رہ نما اندرا گاندھی نے اس دن کہا کہ آج کے دن نظریہ ء پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا گیا ہے۔
اسی بنگلہ دیش سے موصول حالیہ دو خبریں پاکستانی منظر نامے کے لئے اہم ہیں۔
پہلی خبر سیاسی پس منظر رکھتی ہے۔

مولانا مودودی صاحب کی تمام تصنیفات پہ بنگلہ دیش میں پابندی لگا دی گئ ہے۔

اور تقریباً چوبیس ہزار لائبریریوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ انکی کتابیں ہٹادیں۔
وجہ یہ بتائ گئ ہے کہ انکی تصنیفات عسکریت پسندی اور دہشت گردی کی ترویج کرتی ہیں۔ اور یہ کہ انکے نظرئیے پہ چلنے والی جماعت حصول اقتدار کے لئے اسلام کا نام استعمال کرتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لئے یہ لنک  دیکھ سکتے ہیں۔
یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ بنگلہ دیش بننے کے بعد نئے ملک نے اپنے آئین کو سیکولر رکھا کہ ملک میں غیر مسلموں کی خاصی بڑی تعداد موجود ہے۔ لیکن نئ مملکت بننے کے چالیس سال بعد اس پابندی کی کیا ضرورت آ پڑی؟ پچھلےپندرہ بیس سالوں میں بنگلہ دیش میں بھی انتہا پسندی میں خاصہ اضافہ ہوا ہے۔ اسکی وجہ؟
ایک اور اہم سوال، کیا اس قسم کی پابندیاں بنیادی حقائق کو تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں؟
دوسری خبر، معاشرتی حالات سے متعلق ہے۔ اور وہ ہے بنگلہ دیش میں خواتین کو جنسی بنیاد پہ ہراساں کرنے کے واقعات میں شدت۔ اسکی وجہ سے خواتین میں خودکشی کا رجحان بہت زیادہ  بڑھا ہے اور نہ صرف نو عمر لڑکیاں بلکہ انکے والدین بھی بدنامی کے خوف سے ایسا کرنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس سال اب تک بائیس لڑکیاں اس سلسلے میں خودکشی کر چکی ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق اسی طرح کے واقعے میں ایک ٹین ایجر لڑکی کو پٹرول ڈال کر آگ لگا دی گئ۔ کیونکہ اس نے آگ لگانےنے والے کے بھیجے گئےشادی کے رشتے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ لڑکی مر گئ یہ کہہ کر کہ اسے اس حالت تک پہنچانے والے کو ہر ممکن سزا دی جائے۔ یہ خبر ہم میں سے بیشتر  کو سنی سنی سی لگے گی۔ صرف پٹرول کو تیزاب سے بدلنے کی ضرورت ہے۔

ایک خاتون وکیل کے بقول اس طرز عمل نے ہمارے لئے بے پناہ مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ ایک طرف یہ جارحانہ رویہ ہے اور دوسری طرف ان حالات میں والدین اور معاشرہ لڑکیوں میں ہی خامیاں نکالتا ہے اور انہیں مزید دباءو میں رکھتا ہے۔ مثلاً ہنسی کیوں تھیں۔ سر جھکا کر کیوں نہیں چلتیں،   مردوں کے جارحانہ ردعمل  کی وجہ خواتین کی لاپرواہی ہوتی ہے۔  یہ بھی آپکو سنا سنا سا لگے گا۔
ہمارے ساتھ آزادی حاصل کرنے والے تیسرے ملک کے حالات بھی اس سے مختلف نہیں۔
بھارتی فلموں کی آزاد روی سے الگ دہلی جیسے دارالحکومت میں کوئ خاتون رات کو آٹھ بجے کے بعد تنہا نہیں نکل سکتی۔ یہ بات میں نے ایک محفل میں ایک ایسی خاتون سے سنی جو کسی پروجیکٹ کے سلسلے میں دہلی گئ تھیں۔
ان حالات کو جان کر مجھے تو کراچی ایکدم جنت لگتا یے جہاں خواتین کی اکثریت تعلیمی اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے وابستہ ہے روزانہ خواتین لاکھوں کی تعداد میں اپنے گھروں سے نکلتی ہیں اور اکثر بس اسٹاپس پہ خواتن تنہا کھڑے نظر آتی ہیں۔ اورعمومی طور پہ ایک ایسی ہراساں کر دینے والی صورت نہیں کہ ابا ، بھائ اور شوہر کے حفاظتی حصار کے بغیر کچھ نہ کیا سکے۔
لیکن بنگلہ دیش میں ہونے والے یہ واقعات ہمیں کیوں سنے سنے سے لگتے ہیں؟