Sunday, October 17, 2010

کایا کلپ

اپنی بچی کے ساتھ یو ٹیوب پہ قومی نغمات کو چھانتے پھٹکتے, میں ایک گانے کی ویڈیو پہ پہنچی۔ آپ میں سے بیشترلوگ اس گانے سے واقف ہونگے۔ میں نے اپنے طور پہ کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ گانا انیس سو ستاون میں پاکستان کی فلم بیداری میں شامل تھا۔ آئیے یہ گانا دیکھتے ہیں۔



یہ گانا سنتے سنتے مجھے خیال آیا کہ ایک ایسا گانا ہندوستان کے حوالے سے بھی تھا۔ اسے بھی سننا چاہئیے۔ میں نے ذرا اور چھان پھٹک کی تو یہ گانا بھی مل گیا۔ یہ ہے فلم جگریتی کا گانا۔ اور یہ فلم انیس سو چون میں بنائ گئ۔



ذہن میں سوال آیا کہ ایک میوزک، ایک جیسی شاعری دو مختلف ملکوں کے لئے، دو مختلف تحرکات کے گانے کیوں ہیں؟ کیا کسی پاکستانی نے اس وقت کاپی کیا تھا۔
دونوں گانوں کے تبصرے پڑھتے ہوئے ایک تبصرہ ملا۔ جس میں مبصر نے معلومات دیں کہ دونوں فلموں کو ایک ہی شخص نے پروڈیوس کیا جس کا نام سید رضوی تھا۔ انہوں نے ہندی فلم انیس سو باون میں رتن کمار کے نام سے بنائ۔ بعد میں پاکستان منتقل ہو جانے پہ انہوں نے یہ فلم دوبارہ بنائ سید رضوی کے نام سے۔ اس پاکستانی فلم کا نام بیداری تھا۔
دونوں گانوں کو سنیں۔ اگر اس مبصر کی بات صحیح ہے اور یہ ایک ہی شخص  کی پروڈیوس کی ہوئ فلم ہے تواسے کہتے ہیں کایا کلپ یا قلب ماہیت۔

9 comments:

  1. سید رضوی نہیں نذیر رضوی ہو ایسا نام ہے جنہوں نے دونوں فلموں میں کام کیا جگریتی و بیداری میں، پرودیوسر تو الگ الگ تھے دونوں فلموں کے۔ نذیر رضوی کا فلمی نام رتن کمار تھا شاید۔
    ویسے آپ اُس دہائی میں ذرا اردو شاعر و شاعری یا ادب کا مطالعہ کریں ایسے گانوں کے علاوہ بھی کافی کچھ دونوں طرف کاپی پیسٹ ملے گا :(
    ترجمے یا ماحول کی تبدیلی کے بعد

    ReplyDelete
  2. شناخت بدلتی ہے تو تفاخر بدلتا ہے۔

    ReplyDelete
  3. کبھی کبھی اتفاق سے بڑی اہم معلومات حاصل ہوجاتی ہیں.. اگر یہ سچ ہے تو یہ واقعی کایا پلٹ ہی ہے...

    ReplyDelete
  4. شعیب صفدر صاحب، یہاں بات نقالی کی نہیں ہے۔ انڈین فلموں میں اگر کوئ اچغا سین ہو، یا فلم کا مرکزی پلاٹ اچھا ہو، یا ڈائیلاگ اچھے ہوں حتی کہ موسیقی دلفیب ہو تو مجھے ہمیشہ گمان گذرتا ہے کہ انہوں نے کسی ہالی وڈ کی فلم، کسی فرنگی ادیب، یا مغرب کے کسی تخلیق کار سے اٹھائ ہوگی۔

    میری اس سلسلے میں معلومات اان گانوں کے ساتھ دی گئ معلومات یا ان پہ موجود مبصرین کی معلومات ہیں جس کی وضاحت میں نے اپنی تحریر میں کر دی ہے۔ مبصر کے مطابق اس فلم کے رائٹر، ہدایتکار اور پروڈیوسر ایک صاحب رتن کمار تھے۔ یہ انکا ہندی نام تھا۔ انکا اصل نام سید نذیر رضوی ہو سکتا ہے کہ سید رضوی غالب امکان ہے کہ مکمل نام نہیں ہو سکتا۔
    مکی صاحب، دونوں گانے سامنے ہیں۔ ایکدوسرے سے بالکل الگ ۔ ایک گانے میں مرہٹے قوم کے بہادر جوان ہیں جنہوں نے مغلون جیسے حملہ آوروں سے ٹکر لی۔ دوسرے میں بہادر جوان سرحد اور پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں اور محمد بن قاسم کا حملہ پسندیدگی کی علامت ہے۔

    ReplyDelete
  5. نیشنلزم سے انفلیٹ کرنے کی باتیں اور وہ بھی وقت کی ریکوائرمنٹ کے حساب سے ۔

    ReplyDelete
  6. اسرار الحقOctober 18, 2010 at 10:01 PM

    I have added more to the list to complete the record and comparison:
    ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے- بیداری
    http://www.youtube.com/watch?v=qC2pR3QL9Eo
    ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے- جگرتی
    http://www.youtube.com/watch?v=cGP0RTDbX4Y&feature=related
    یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران - بیداری

    http://www.youtube.com/watch?v=IdpH69irLfk&feature=related
    دے دی ہمیں آزادی بنا - جگرتی
    http://www.youtube.com/watch?v=w999fBZs8MY&feature=fvw
    آو بچوں سیر کرائیں تم کو - بیداری
    http://www.youtube.com/watch?v=zc_aqd2ZIA0&feature=related
    آو بچوں تمہیں دکھائیں - جگرتی
    http://www.youtube.com/watch?v=4E09twioyfs&feature=related

    چلو چلیں ماں - بیداری
    http://www.youtube.com/watch?v=MaaZuR-IYQU&feature=related
    چلو چلیں ماں - جگرتی
    http://www.youtube.com/watch?v=4BjkbX_3N-o&feature=related

    ReplyDelete
  7. ایسی باتوں کی ڈیٹیلز میں جانا انسانوں کے درمیان جائز تفریق کیلئے نقصان دہ ہو سکتا ہے جی ۔

    ReplyDelete
  8. جاہل اور سنکی، کچھ باتوں کو سرسری طور پہ لینا انسانوں کے درمیان، زیادہ نقصاندہ ہو سکتا ہے جی۔

    اسرار الحق صاحب، ان مزید ریفرنسز کے لئے شکریہ۔ غالباً یہ فلم اس پہلی فلم کی مکمل کاپی ہو گی بس قلب ماہیت سے گذری ہوگی۔

    ReplyDelete
  9. وہ کہتے ہیں نا جو چلتا ہے وہ بکتا ہے،
    اور جو بکتا ہے وہی بنتا ہے!!!!!

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ