
اسکے ساتھ ہی ایک طبقاتی تقسیم نے جنم لیا۔ طبقاتی تقسیم اگرچہ آریاءووں کی آمد سے پہلے موجود تھی۔ لیکن نئ پیدا ہونے والی تقسیم خالص نسلی اثرات کے تحفظ کا نتیجہ تھی۔ کیونکہ ساتھ رہنے سے سفید فام آریاءووں کو سیاہ فام مقامی باشندوں سے اختلاط کا اندیشہ تھا۔۔ چنانچہ مذہبی فرائض کی انجام دہی برہمنوں کو ملی، ملک کی حفاظت کشتریوں کے ہاتھ آئ، عوام ویش کہلائے اور کاروباری امور انکے حوالے ہوئے۔ سب سے نیچ ذات شودر تھے۔ جنکا کام برتر طبقات کی خدمت سر انجام دینا تھا۔ آریاءووں نے اس ساری تقسیم کو اس طرح منظم کیا کہ خود برہمن کا منصب سنبھال لیا اور اس طرح سےمذہبی امور کے ذریعے معاشرے کی رہ نمائ جیسا مضبوط ادارہ انکے پاس آگیا۔۔یہ تقسیم اتنے مضبوط اثرات رکھتی تھی کہ بر صغیر پاک و ہند میں وطن، نسل، ذات، مذہب، اورپیشے کے لحاظ سے چھوٹی چھوٹی اکائیاں آج بھی موجود ہیں۔
آریاءووں نے اپنی داخلی جذبات کا اطہار اپنشدوں میں کیا۔ رگ وید انکی تصنیف کردہ مذہبی کتاب ہے۔ انہوں نے فنا و بقا کے تصورات کو اہمیت دی۔ اس میں حقیقت اولی کی وحدت کی بات کی گئ۔ چنانچہ روح کو اہمیت دی گئ اور فرد کو جسم سے بلند ہونے کا سبق دیا گیا۔ یوں صورت حال یہ بنی کہ اعلی سطح پہ آریائ اثرات اور زیریں سطح پہ دراوڑی اثرات سرگرم ہونے لگے۔ اور دو مزاج سامنے آئے۔ آریائ اور دراوڑی مزاج۔
اس عہد کی دو کتابیں جو کہ ہندو دیو مالا میں شامل ہیں رامائن اور مہا بھارت ہیں۔ رامائن میں رام ، سیتا اور راون کے کرداروں سے کہانی بنی گئ۔ اور اس میں ہندو فلسفے کے بنیادی عناصر مثلاً نظریہ ء وحدت اور تیاگ وغیرہ بھی سما گئے۔ رام ایک اعلی ذات سے تعلق رکھنے والافرد ہے اور شمالی ہندوستان میں اسکی حکومت قائم ہے۔ وہ مزاجاً آریہ ہے۔ اسکے بر عکس راون راکشس ہے، برا ہے، اور جنوب سے تعلق رکھتا ہے۔ یوں شمالی ہندوستان آریہ کے مزاج میں آگیا
جبکہ جنوبی ہندوستان میں دراوڑی تہذیب کے آثار آگئے۔ چنانچہ راون کا سیتا کو اغوا کرنا دراصل دراوڑوں کا آریہ سماج کے خلاف ایک رد عمل بھی ہے۔
آریا اپنے ساتھ جو زبان لائے تھے اس نے سنسکرت کو جنم دیا۔ جبکہ دراوڑی زبان کے اثرات جنوب کی زبان میں نظر آتے ہیں جیسے تامل، تیلگو، کناڈا، بروہی، ملیالم زبانیں۔ اس تہذیب سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر لوگ پاکستان ، بنگلہ دیش، افغانستان، ایران سری لنکا، اور انڈیا میں پائے جاتے ہیں۔
دراوڑی اور آریائ تضاد کا کا نتیجہ برصغیر کے مذہبی تصورات میں بھی تبدیلی لایا۔ دراوڑ کثرت کی طرف مائل تھے اور آریاءووں نے وحدت کی طرف توجہ دلائ۔ دراوڑ اپنی زمین سے جڑے رہنا پسند کرتے تھے جبکہ آریہ آزاد ہونے کے آرزومند تھے۔ چنانچہ برصغیر میں چلنے والی تحریکوں کے پیچھے اس نفسیات نے بھی کام کیا۔
دراوڑی تہذیب نے خود کو اونچی پرواز پر مائل کرنے کے بجائے اپنے اندر سمٹ جانے کی تلقین کی اور سماجی رسوم قیود کا پختہ نظام قائم کیا۔ برصغیر میں برہمنیت کو فروغ انکے اس رد عمل کی وجہ سےبھی ملا۔
جاری ہے
جاری ہے
حوالہ جات؛
اردو ادب کی تحریکیں، مصنف ڈاکٹر انور سدید، انجمن ترقی اردو پاکستان۔




![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)
