اب قوم پہ عذاب کی پیشن گوئیاں پورا ہونے کا وقت لگتا ہے آ ہی پہنچا ہے۔ عبدالقادر حسن صاحب ہمارے سینیئر صحافی ہیں۔ انکی سب سے اچھی بات جو مجھے پسند ہے کہ انہوں نے ہر اچھے اور برے وقت میں شریف برادران سے وفاداری نبھائ۔
ابھی کچھ دنوں پہلے انہوں نے ٹرانسپیرینسی انٹر نیشنل کے مرتب کردہ نتائج پہ ایک کالم لکھا۔ جس میں پاکستان کے صوبوں پہ مہربانی کرتےہوئے انکی بھی گریڈنگ کی گئ اور پنجاب کو سب سے کم کرپشن کا حامل صوبہ قرار دیا گیا۔ جناب عبدالقادر حسن صاحب نے اس بات پہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے صوبے میں کم کرپشن کا باعث پنجاب کے نیک نیت حکمرانوں کو لکھا۔
ابھی میں سوچ ہی رہی تھی کہ اپنے 'پنجاب کے رہنے والے بھائیوں' سے دریافت کروں کہ کیا نیک حکومت کے مزے لوٹ رہے ہیں آپ اکیلے ہی اکیلے اور ہمیں خبر بھی نہیں۔ رشوت کا خاتمہ ہو چکا ہو گا، مجرمین سب جیلوں میں ہونگے، ملزمین پہ قانون کے حساب سے مقدمے چل رہے ہونگے، امیر اور غریب سب ایک جگہ سے خریداری کر رہے ہونگے۔ کیا سہانی زندگی اس زمین پہ آپکو حاصل ہے ۔
لیکن میں تو سوچتی ہی رہ گئ، انہوں نے اپنے تازہ کالم میں آنے والی قدرتی آفات پہ روشن خیالوں اور لبرلزکے اس خیال پہ دو حرف بھیجے کہ یہ سب قدرتی توازن خراب ہونے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ بحیثیت ایک 'پاکستانی لبرل' میں تو یہ بھی سوچتی ہوں کہ ان قدرتی عوامل کے عدم توازن کی وجہ سے وہ علاقے زیادہ تباہی کا شکار ہوتے ہیں جہاں پسماندگی اور غربت زیادہ ہو۔ لیکن ایک بزرگ، جہاندیدہ صحافی جب یہ بات کہہ رہے ہیں تو میں نے بھی اپنے اس شیطانی خیال سے رجوع کیا۔ لیکن رجوع کرنے کے بعد جب آگے پڑھتی ہوں تو آخر میں وہ لکھتے ہیں کہ
یاد کریں کہ قوم پہ آفات کا یہ بے رحم سلسلہ کیا اس سانحے کے بعد شروع نہیں ہوا جب لال مسجد کی بچیوں پہ ٹینک چڑھا دئیے گئے۔
نظریہ ٹھونسنا کسے کہتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ کیسے ہوتی ہے برین واشنگ شاید ایسے۔ کیونکہ میں اپنے دماغ کو پہلے سے کافی ستھرا پاتی ہوں۔
اگرچہ کہ یہ خیال بھی آتا ہے کہ دنیا کا کوئ بھی شخص جب ظلم کا شکار ہوتا ہے تو چیختا ہے، چاہے وہ خودکش حملہ آور کے بم سے پھٹ کر مرے، طیارے کے پھٹنے سے مرے، زنا بالجبر کا شکار ہو رہا ہو، سڑک پہ برہنہ پھرایا جا رہا ہو، تین تین دن کچھ کھانے کو نہ ملے اور خود کشی کرنے جا رہا ہو، اپنے آزاد پیدا ہونے کے حق کو حاصل کرنے کے بجائے کسی زمیندار کی ذاتی جیل میں پڑا ہو، اپنی زندگی بھر کی پونجی لٹیروں کو حوالے کرنے کے بعد اب اپنے بچوں کو اور اپنے آپکو دینے کے لئے کچھ نہ رہا ہو، اکلوتی اولاد سر راہ چلتی ہوئ گولی سے مرے، صحن میں کھڑے بچے دو منشیات کے مافیا کے درمیان فائرنگ کی زد میں آکر مر جائیں، ایک مختلف مذہب یا زبان یا ثقافت رکھنے کی وجہ سے مارے جائیں۔ یہ واقعات پچھلی کئ دہائیوں سے تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ مجھے یقین ہے ان میں سے ہر ایک اپنے اس غیر متوقع، اندوہناک انجام سے پہلے ضرور چیختا ہوگا، مدد، مدد، مجھ پہ ظلم ہورہا ہے، بچاءو۔
کیا دنیا میں عذاب صرف ان مظلومین کی وجہ سے آتا ہے جو قرآن کی تلاوت کرتے ہیں یا ہر مظلوم کی آہ عرش تک پہنچتی ہے اسے ہلا دیتی ہے اور باریابی پاتی ہے۔
پھر یاد آتا ہے کہ پاکستان کی تاریخ کا دل ہلا دینے والا زلزلہ سانحہ ء لال مسجد سے دو سال قبل آیا تھا۔ لیکن، چونکہ یہ سانحہ انکے اخذ کردہ نتیجے سے نہیں ملتا اس لئے اسکا تذکرہ یہاں بے کار ہے۔
اب میں میں اپنی اس رائے سے رجوع کر رہی ہوں کہ یہ سیلاب کی مصیبت قدرتی تبدیلیوں کی طرف ایک اشارہ ہے۔ اور میں اس رائے کی طرف بڑھ رہی ہوں کہ یہ دراصل اللہ کا ایک عذاب ہے جو اس قوم پہ نازل ہو رہا ہے۔ لیکن ایک خیال جو میرے قدم پکڑے لیتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر یہ عذاب ہے کیونکہ اب زیادہ تر لوگ یہی کہہ رہے ہیں تو آخر یہ عذاب سب سے زیادہ خیبرپختونخواہ میں کیوں ہو رہے ہیں۔ اپنی پہلے والی حالت میں تو میں یہی کہتی کہ چونکہ غربت اور پسماندگی ہر طرح کی چاہے وہ معاشی ہو، تعلیمی ہو یا معاشرتی سب سے زیادہ ان علاقوں میں ہے تو قدرتی عوامل کی وجہ آنے والی مصیبت ،عذاب بن گئ ہے۔ لیکن نہیں، میں تو اب اسی سوچ پہ ہوں کہ یہ عذاب ہے۔ لیکن یہ کیسا عذاب ہے جو ان علاقوں کو زیادہ متائثر کر رہا ہے جہاں زیادہ دینی مزاج کے حامل لوگ رہتے ہیں، وہ پچھلی کئ دہائیوں سے جہاد جیسے عظیم مقصد کے پیچھے اپنی جانیں بھی قربان کر رہے ہیں ۔ ایسا کیوں ہے کہ وہی لوگ اس تباہی کا سب سے زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔
اب اسے کیا سمجھا جائے، عذاب، یا قدرتی عمل، نامناسب منصوبہ بندی اور پسماندگی کا گٹھ جوڑ۔

![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)
