Showing posts with label لال مسجد. Show all posts
Showing posts with label لال مسجد. Show all posts

Saturday, August 7, 2010

عذاب کا خواب

اب قوم پہ عذاب کی پیشن گوئیاں پورا ہونے کا وقت لگتا ہے آ ہی پہنچا ہے۔ عبدالقادر حسن صاحب ہمارے سینیئر صحافی ہیں۔ انکی سب سے اچھی بات جو مجھے  پسند ہے کہ انہوں نے ہر اچھے اور برے وقت میں شریف برادران سے وفاداری نبھائ۔
ابھی کچھ دنوں پہلے انہوں نے ٹرانسپیرینسی انٹر نیشنل کے مرتب کردہ نتائج پہ ایک کالم لکھا۔ جس میں پاکستان کے صوبوں پہ مہربانی کرتےہوئے انکی بھی گریڈنگ کی گئ اور پنجاب کو سب سے کم کرپشن کا حامل صوبہ قرار دیا گیا۔ جناب عبدالقادر حسن صاحب نے اس بات پہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے صوبے میں کم کرپشن کا باعث پنجاب کے نیک نیت حکمرانوں کو لکھا۔ 
ابھی میں سوچ ہی رہی تھی کہ اپنے 'پنجاب کے رہنے والے بھائیوں' سے دریافت کروں کہ کیا نیک حکومت کے مزے لوٹ رہے ہیں آپ اکیلے ہی اکیلے اور ہمیں خبر بھی نہیں۔ رشوت کا خاتمہ ہو چکا ہو گا، مجرمین سب جیلوں میں ہونگے، ملزمین پہ قانون کے حساب سے مقدمے چل رہے ہونگے، امیر اور غریب سب ایک جگہ سے خریداری کر رہے ہونگے۔ کیا سہانی زندگی اس زمین پہ آپکو حاصل ہے ۔
لیکن میں تو سوچتی ہی رہ گئ، انہوں نے اپنے تازہ کالم میں آنے والی قدرتی آفات پہ روشن خیالوں  اور لبرلزکے اس خیال پہ دو حرف بھیجے کہ یہ سب قدرتی توازن خراب ہونے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔  بحیثیت ایک 'پاکستانی لبرل' میں تو یہ بھی سوچتی ہوں کہ ان قدرتی عوامل کے عدم توازن کی وجہ سے وہ علاقے زیادہ تباہی کا شکار ہوتے ہیں جہاں پسماندگی اور غربت زیادہ ہو۔ لیکن ایک بزرگ، جہاندیدہ صحافی جب یہ بات کہہ رہے ہیں تو میں نے بھی اپنے اس شیطانی خیال سے رجوع کیا۔ لیکن رجوع کرنے کے بعد جب آگے پڑھتی ہوں تو آخر میں وہ لکھتے ہیں کہ

یاد کریں کہ قوم پہ آفات کا یہ بے رحم سلسلہ کیا اس سانحے کے بعد شروع نہیں ہوا جب لال مسجد کی بچیوں پہ ٹینک چڑھا دئیے گئے۔

نظریہ ٹھونسنا کسے کہتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ کیسے ہوتی ہے برین واشنگ شاید ایسے۔ کیونکہ میں اپنے دماغ کو پہلے سے کافی ستھرا پاتی ہوں۔
اگرچہ کہ یہ خیال بھی آتا ہے کہ  دنیا کا کوئ بھی شخص جب ظلم کا شکار ہوتا ہے تو چیختا ہے، چاہے وہ خودکش حملہ آور کے بم سے پھٹ کر مرے، طیارے کے پھٹنے سے مرے، زنا بالجبر کا شکار ہو رہا ہو، سڑک پہ برہنہ پھرایا جا رہا ہو، تین تین دن کچھ کھانے کو نہ ملے اور خود کشی کرنے جا رہا ہو، اپنے آزاد پیدا ہونے کے حق کو حاصل کرنے کے بجائے کسی زمیندار کی ذاتی جیل میں پڑا ہو، اپنی زندگی بھر کی پونجی لٹیروں کو حوالے کرنے کے بعد اب اپنے بچوں کو اور اپنے آپکو دینے کے لئے کچھ نہ رہا ہو، اکلوتی اولاد سر راہ چلتی ہوئ گولی سے مرے، صحن میں کھڑے بچے دو منشیات کے مافیا کے درمیان فائرنگ کی زد میں آکر مر جائیں، ایک مختلف مذہب یا زبان یا ثقافت رکھنے کی وجہ سے مارے جائیں۔ یہ واقعات پچھلی کئ دہائیوں سے تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ مجھے یقین ہے ان میں سے ہر ایک اپنے اس غیر متوقع، اندوہناک انجام سے پہلے ضرور چیختا ہوگا، مدد، مدد، مجھ پہ ظلم ہورہا ہے، بچاءو۔
 کیا دنیا میں عذاب صرف ان مظلومین کی وجہ سے آتا ہے جو قرآن کی تلاوت کرتے ہیں یا ہر مظلوم کی آہ عرش تک پہنچتی ہے اسے ہلا دیتی ہے اور باریابی پاتی ہے۔
پھر یاد آتا ہے کہ پاکستان کی تاریخ کا دل ہلا دینے والا زلزلہ سانحہ ء لال مسجد سے دو سال قبل آیا تھا۔ لیکن، چونکہ یہ سانحہ انکے اخذ کردہ نتیجے سے نہیں ملتا اس لئے اسکا تذکرہ یہاں بے کار ہے۔
اب میں میں اپنی اس رائے سے رجوع کر رہی ہوں کہ یہ سیلاب کی مصیبت قدرتی تبدیلیوں کی طرف ایک اشارہ ہے۔ اور میں اس رائے کی طرف بڑھ رہی ہوں کہ یہ دراصل اللہ کا ایک عذاب ہے جو اس قوم پہ نازل ہو رہا ہے۔ لیکن ایک خیال جو میرے قدم پکڑے لیتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر یہ عذاب ہے کیونکہ اب زیادہ تر لوگ یہی کہہ رہے ہیں تو آخر یہ عذاب سب سے زیادہ خیبرپختونخواہ میں کیوں ہو رہے ہیں۔ اپنی پہلے والی حالت میں تو میں یہی کہتی کہ چونکہ غربت اور پسماندگی ہر طرح کی چاہے وہ معاشی ہو، تعلیمی ہو یا معاشرتی سب سے زیادہ ان علاقوں میں ہے تو قدرتی عوامل کی وجہ آنے والی مصیبت ،عذاب بن گئ  ہے۔ لیکن نہیں، میں تو اب اسی سوچ پہ ہوں کہ یہ عذاب ہے۔ لیکن یہ کیسا عذاب ہے جو ان علاقوں کو زیادہ متائثر کر رہا ہے جہاں زیادہ دینی مزاج کے حامل لوگ رہتے ہیں، وہ پچھلی کئ دہائیوں سے جہاد جیسے عظیم مقصد کے پیچھے اپنی جانیں بھی قربان کر رہے ہیں ۔ ایسا کیوں ہے کہ وہی لوگ اس تباہی کا سب سے زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ 
اب اسے کیا سمجھا جائے، عذاب، یا قدرتی عمل، نامناسب منصوبہ بندی اور پسماندگی کا گٹھ جوڑ۔

Wednesday, July 14, 2010

ورنہ

پنجاب اسمبلی میں میڈیا کے خلاف قرار داد پاس ہوئ جس میں میڈیا کی مذمت کی گئ۔  پنجاب جو ہمارے ملک کی آبادی کا ساٹھ فی صد ہے۔ اس ساٹھ فی صد آبادی کے اقتدار میں موجود نمائندوں نے میڈیا کے روئیے کی مذمت کی ہے۔
کیوں؟ 
اس کی نمایاں وجوہات میں یہ کہ میڈیا نے جعلی ڈگریوں کے ضمن میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔  میڈیا ، حکومت مخالف سرگرمیوں میں مصروف ہے جس سے جمہوریت کو خطرہ ہے۔ یہ جعلی ڈگریوں اور جمہوریت والا مسئلہ چونکہ عام لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتا اور نہ یہ انکا 'روزمرہ' ہے۔ تو اس میں عوام کو بھی شامل رکھنے کے لئے ایک وجہ اور بیان کی گئ ہے وہ پارلیمنٹ کی خواتین کے حوالے سے میڈیا میں ایک فضول  ویڈیو کی تشہیر، جو میں نے ابھی تک نہیں دیکھی۔
یہ اس پنجاب اسمبلی کی قرارداد مذمت ہے جس نے ایک آمر کی حکومت کو گرانے کے لئے میڈیا کی پیٹھ ٹھونکی۔ جس نے لال مسجد کو ایک سانحے میں تبدیل کرنے کے لئے میڈیا کو شاباش کہا۔ اور جس نے انتہا پسند گروہوں کو عوامی ہیرو بنانے میں میڈیا کے تعاون خیر پہ انہیں بھی جنت میں اپنے ساتھیوں میں شامل کہا ہوگا۔
آج پنجاب ، جبکہ سیاسی ماحول کے حساب سے ایک گرم صورت حال میں ہے۔ جناب نواز شریف اور شہباز شریف پہ الزام ہے کہ وہ انتہا پسند گروپوں کی حمایت حاصل کرنے اور انہیں تحفظ دینے میں سرگرم عمل ہیں۔   یہی نہیں بلکہ جھوٹی جعلی ڈگریوں کے بل بوتے پہ سیاسی طاقت حاصل کرنے والے، ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے دعوے دار اور معاشرے کو عدل اور انصاف کی صبح نو کا پیغام دینے والے ہیں۔ یقیناً، میڈیا کو اس چیز کو بے نقاب کرنے اور اس پہ شور وغوغا کرنے پہ، مذمت کا سامنا کرنا چاہئیے۔ 
کیوں؟
اس لئے کہ اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس جمہوریت کو جس کے نتیجے میں ہماری اسمبلیوں میں، ملک کے امیر ترین اشخاص اپنے غلیظ ترین ذہنوں کے ساتھ ہمارے مستقبل کا سہارا لے کراسکی لگامیں تھامتے ہیں۔ جب کہ انہیں  یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارا مستقبل انکے مستقبل سے کتنا الگ ہے۔ کیونکہ وہ اس خزانے پہ جسے ہمارے مستقبل کے تحفظ پہ خرچ ہونا چاہئیے۔ اپنی اور اپنی نسل کے مستقبل کی بقا کے  لئے وقف سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس ملک کے عوام کا فرض ہے کہ وہ اس اقتدار کے مسند پہ براجمان گروہ کی حفاظت کے لئے اپنے مسائل بھول جائے اور اپنے وسائل ان پہ نچھاور کرتا رہے۔ جسکے نتیجے میں، نسل در نسل بادشاہی خاندان جنم لیتے ہیں۔ چند شاہی خاندان آپس میں حکومتی طاقت کو مل بانٹ کر استعمال کرنے کے عمل کو جمہوریت کا نام دیتے ہیں۔ اور جب انکی یہ پول پٹی کھلنے لگتی ہے تو لازماً اس سے اس جمہوریت کو نقصان پہنچتا ہے۔ ہر وہ عمل جس سے انکے اثر و رسوخ کو ذرہ برابر بھی نقصان پہنچے، وہ جمہوریت کی راہ میں حائل ہے۔
وہ تمام لوگ جو اس ملک میں عوام کی حاکمیت اعلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ جو سمجھتے ہیں کہ  جمہوریت اسکا نام ہے کہ عوام کی حکومت، عوام کے لئے عوام کے ذریعے سے۔  وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا اس طرح طاقت کے سہارے پہ میڈیا سنسر ہونا چاہئیے؟ کیا کسی کو یہ حق ہونا چاہئیے کہ جب تک اسکے مفادات کے حق میں کوئ چیز جا رہی ہو تو وہ ہر غلط اور صحیح چیز کی حمایت کرتا رہے اور جب اسے اسی طرز عمل سے نقصان پہنچنے لگے تو وہ قرار داد مذمت پاس کرے؟ کیا ہمیں ایک ایسی جمہوریت کی حفاظت کی تگ و دو میں لگا رہنا چاہئیے جو تمام مجرمین کو، جھوٹے اور کرپٹ لوگوں ، نظام کو محض با اثر لوگوں کی بقاء اور انکی نسلوں کی فلاح کے لئے استعمال کرنے والوں کو تحفظ دینے کے لئے قوانین بناتا رہے؟
مجھ سے پوچھیں، جوتے پڑنے چاہئیے انہیں۔ ان سب کو۔ اور انہیں ان اسمبلیوں سے گندے انڈوں کی طرح نکال کر باہر پھینک دینا چاہئیے۔  انہیں وہاں ہم نے اپنے بچوں کا مستقبل بہتر بنانے کے لئے، اپنے مسائل کے حل کے لئے بھیجا ہے اور یہ ہمارا بنیادی حق ہونا چاہئیے کہ وہ اگر ہم سے جھوٹ بولتے ہیں، وہ اپنے ذاتی مفادات کو ہمارے مفادات پہ ترجیح دیتے ہیں، وہ حکومتی مصارف کو ادا کرنے کے لئے ہمارے ٹیکس کی صورت میں جمع کردہ چندے کو اپنی اور اپنے خاندانوں کی عیاشی پہ خرچ کر کے ہمیں دن بہ دن حقیر فقیر بنا کر ہمارا مذاق اڑانے پہ تلے ہوئے ہیں تو ہم اپنی طاقت استعمال کر سکتے ہیں۔ ہم ان سے کہہ سکتے ہیں۔ اب بہت ہو گیا، اب دفع ہو جاءو ہمیشہ کے لئے۔ جان چھوڑو ہماری، ورنہ-----------۔  


Friday, June 12, 2009

آوارگی کا عذاب

یورپ میں ۱۴۸۴ سے ۱۷۵۰ کے درمیان کم از کم ایک لاکھ عورتوں اور دیگر ذرائع کے دعوے سے دو لاکھ عورتوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ان عورتوں کو مارنے سے پہلے چڑیل ثابت کیا جاتا تھا۔ ان عورتوں کی کثیر تعداد بوڑھی اور غریب عورتیں ہوتی تھیں۔ چڑیلوں کی کچھ نشانیاں مقرر کر لی گئ تھیں جیسے چہرے پہ تل یا مسہ یا کسی اور قسم کا نشان حتی کہ کیڑے کے کاٹے کا نشان بھی اس میں شمار تھا۔ اس کے ساتھ اگر ان کے پاس بلی موجود ہو توپھر کیا کہنا۔ اس سلسلے میں ایک شخص جس کا ذکر خاصہ کیا جاتا ہے اس کا نام میتھیو ہوپ کنس تھا ، پیشے کے حساب سے ایک ناکام وکیل۔چڑیلوں کو مارنے میں بہت کامیاب رہا اور ایک ایکدن میں انیس چڑیلوں کی حیات کا چراغ گل کیا۔ اسے وہاں کے مذہبی حلقوں کی حمایت حاصل تھی اور اس کے بدلے میں اسے مختلف ریاستی حاکموں کی طرف سے کثیر رقم ملی۔ تاریخ میں اس کا نام'چڑیل کھوجی جنرل' کے طور پہ مشہور ہے۔ یورپ میں مظالم کا یہ سلسلہ اس وقت بتدریج ختم ہوا جب لوگوں کے اندر علم کی روشنی پھیلی اور انہوں نے توجیہی علم کی طرف توجہ کی یعنی علم کی بنیاد الفاظ کیوں اور کیسے بنے۔

آج مجھے یہ کہانی اس مضمون کو پڑھ کر یاد آئ۔ جو میں نے اردو سیارہ پہ دیکھا۔صاحب مضمون نے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئیے پہلے مذہبی جذبات کو استعمال کیا ہے اور اسکے بعد انہوں نے مضمون کے اخیر میں این جی اوز سے وابستہ خواتین کونہ صرف آوارہ مزاج بلکہ ان کوملک کی موجودہ صورت حال کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ میرا کسی این جی او سے چاہے وہ مردانہ ہو یا زنانہ کوئ تعلق نہیں۔ لیکن میں صاحب تحریر سے اس بات کی وضاحت ضرور چاہوں گی کہ جب خدا نے اس ملک کو مردوں کو ان کی آوارگی پہ کوئ سزا نہیں دی تو میں اپنے اسی خدا سے اس چیز کی توقع نہیں رکھتی کہ وہ اتنی نا انصافی کریگا کہ این جی اوز کی چند درجن خواتین کی وجہ سے اس ملک کو اس حشر تک پہنچا دے۔

خدا اتناجانبدار نہیں ہو سکتا کہ ملک کی دیگر عورتوں اوربچوں کے ساتھ چاہے جس طرح کا بھی سلوک روا رکھا جائے مگر اگر کسی کی آواز پہ وہ لبیک کہے تو وہ صرف جامعہ حفصہ کی خواتین اور بچے ہوں۔ اگر وہ حفصہ کی خواتین اور بچوں کا خدا ہے تو وہ اس دھرتی اور اس کرہء ارض پہ بسنے والے ہر شخص کا خدا ہے۔

مقام حیرت ہے کہ چند عورتیں اپنی آوارگی سے ملک کو اس حشر تک پہنچا سکتی ہیں۔ وہ ملک جہاں کہ حکمرانوں کی اکثریت بنیادی اخلاق کی کجی کا شکار رہی ہو۔ اور جو معاشرہ مردوں کا معاشرہ کہلاتا ہو۔ جہاں کے قوانین مردوں کی اکثریت اپنے مفادات دیکھ کر بناتی ہو۔ جس ملک کا یہ عالم ہو کہ الیکشن کے وقت اس ملک کی تمام بڑی جماعتیں جن میں مسلم لیگ، تمام مذہبی پارٹیاں، جناب عمران خان کی تحریک انصاف اور کچھ اور جماعتیں جن کے نام میرے ذہن سے محو پورہے ہیں ملکر ایک معاہدے پہ دستخط فرماتے ہیں کہ ہمارے ان حلقوں سے کوئ خاتون ووٹ نہیں ڈالے گی۔ جی جناب جہاں خواتین کو اس قدر اختیارات حاصل ہوں وہاں خدا کا عذاب عورتوں کی وجہ سے نہیں آئے گا تو کہاں آئے گا۔

لال مسجد آپریشن سے پہلے اسلام آباد میں ایک خاتون کو فحاشی کا اڈا چلانے کے جرم میں لال مسجد کے خدائ فوجدار ا پکڑ کر لے گئے اور کچھ دنوں تک اسے اپنی تحویل میں بھی رکھا۔ جب تک ان سے یہ وعدہ نہ لے لیا کہ تم یہ دھندہ نہیں کروگی انہیں نہیں چھوڑا گیا۔ انہوں نے بھی اپنی جان چھڑانے کے لئیے یہ وعدہ کر لیا ہو گا۔ درپردہ تو انہیں معلوم ہو گا کہ ہوتا کیا ہے۔

اب اگر آپ میں سے کوئ صاحب یا صاحبہ ہمت رکھتے ہوں تو ڈیٹا جمع کریں ۔ فحاشی کے ان اڈوں پہ، عورتوں کے ان بازاروں میں روزانہ کتنے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ مرد جاتے ہیں انکی عمر کیا ہوتی ہے اور وہ کن خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ سارے حساب کتاب کے بعد انہیں پتہ چلے گا کہ پاکستانی مردوں کی کل آبادی کا خاصہ بڑا حصہ ان سے مستفید ہوتا ہے اور انہی شماریات سے اندازہ ہو گا کہ پاکستان کی عورتوں کی کل آبادی کا ایک بہت چھوٹا سا حصہ اس پیشے سے باوجوہ وابستہ ہے جبکہ پاکستانی مرد محض عیاشی کے لئیے ان جگہوں کا رخ کرتے ہیں۔ یا ان خواتین کو اپنے پاس بلاتےہیں۔ معاشیات کا ایک بالکل بنیادی اور سادہ سا اصول ہے اور وہ یہ کہ جب تک ڈیمانڈ ہے سپلائ رہے گی۔ اگر اپ اس سارے خطے کی خواتین کو بالکل پاکباز بنا دیں تب بھی یہ مرد باہر سے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئیے کسی اور کو لے آئیں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ صوبہء سرحد جہاں سے آج مذہب کے احیاء کی تحریکیں پیش کی جا رہی ہیں یہاں پاکستان میں سب سے زیادہ ہم جنس پرستی عام تھی اور ہے۔ یہ چیز وہاں اسٹیٹس سمبل یعنی خوشحالی کی علامت سمجھی جاتی ہے ۔ معاشی طور پہ مستحکم مرد کے پاس کچھ نو عمر لڑکے ضرور ہوتے ہیں۔ آج تک اس صوبے کے اندر رائج اس عادت قبیح کا آپ کبھی کسی مذہبی جماعت سے تذکرہ بھی نہیں سنیں گے۔ حالانکہ یہ وہ چیز ہے جس پہ خدا نے ایک قوم پہ اپنا عذاب نازل کیا۔مگر ایک صوبے میں یہ برائ عام ہونے کے باوجود وہاں کوئ عذاب نہ آیا۔عذاب آیا تو ان عورتوں کی وجہ سے۔

تو آج تک کبھی ان مردوں کے خلاف کوئ موءثر کارروائ نہ ہو سکی۔ در حقیقت پوچھا جائے کہ آوارگی کی کیا تعریف ہے تو اس کی کوئ ڈھنگ کی تعریف بھی نہ پیش کی جاسکے گی۔ سوائے خواتین کے اوپر تنقید کرنے کے۔ اس لئیے نہیں کہ کوئ تعریف ہے نہیں بلکہ اس لئیے کہ پھر اس نظام کو اس کرپٹ نظام کو کون بچائے گا۔ مرد ایکدوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ آخر انہیں ہی اس نظام کو چلانا ہے۔

یہ ایک تبصرہ نگارہیں ایک بلاک پہ فرماتے ہیں کہ یہ رافضی عورتوں کی کوکھ ہی ایسی ہے۔ میر جعفر اور میر صادق کو ہی جنم دیں گی۔ اس مرد محترم کو یہ نہیں معلوم کہ زمین کیسی بھی ہو پھل میں خصوصیات بیج کی آتی ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عوتوں کے معاملے میں ہم دن بہ دن کہاں جارہے ہیں۔

لال مسجد والوں نے اپنے وجود کو جب سہارا دینا چاہا تو انہوں نے بھی چند عورتوں کو پکڑ لیا۔ نام نہاد مذہبی تنظیمیں جب اپنی اجارہ داری کو طاہر کرنا چاہتی ہیں تو خواتین کو ہی ہر برائ کی جڑ بنا دیا جاتا ہے یا انکی حیثیت انسان سے بھی کمتر ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اقبال ایک جگہ کہتے ہیں کہ
ہند کے شاعروصورتگر و افسانہ نویس
آہ بیچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار

اگر اس دور میں زندہ ہوتے تو ضرور ہمارے مذہبی حلقوں کو بھی اس فہرست میں شامل کرتے۔ جس جنونیت کے ساتَھ اب وہ اس راستے پہ گامزن ہیں۔ اس سے لگتا ہے کہ کوئ دن جاتا ہے کہ یہاں پر بھی کوئ میتھیو ہوپ کنس برآمد ہوجائیں گے۔

مغربی معاشرے میں لا دینیت کی تحریک نے ایکدم سے جڑ نہیں پکڑ لی تھی بلکہ ان جیسے عوامل نے لوگوں کے دلوں میں وہاں مذہب کے لئیے نفرت پیدا کی۔ وہاں پہ بھی ایک وقت میں یہی عالم تھا کہ عورتوں کو حقیر، اور ہر برائ کی جڑ سمجھا جاتا تھا۔ ماشاللہ سے ہم بھی انکے نقش قدم پہ جا رہے ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ ہم ہر اس چیز کو اپنا لیتے ہیں جسے برتنے کے بعد وہ بےکار کہہ کر پھینک دیتے ہیں۔

ایک حدیث جس کا میں ان تمام اصحاب کو حوالہ دینا چاہونگی وہ یہ ہے کہ
جس نے ایک انسان کی زندگی بچائ اس نے ساری انسانیت کو بچا لیا اور جس نے ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا تو گویا اس نے ساری انسانیت کو قتل کیا۔
اگر ان آوارہ مزاج عورتوں میں کوئ ایک کسی ایک انسانی جان کو بچا لیتی ہے تو اس نے سارے انسانوں کو بچا لیا۔ اور اگر آپ مذہب کو استعمال کرتے ہوئے کسی ایک بے گناہ کی جان لیتے ہیں تو آپ نے سارے انسانوں کو قتل کردیا۔
آپ نے اپنے معاشرے کے اندر اتنی ناہمواریاں کیسے پنپنے دی ہیں کہ ان عورتوں کو آپ کے درمیان جمنے کا موقع ملا۔ کبھی اس بات پہ بھی غور فرمائیں گے۔ یا ہر وقت خدا کی پھٹکار سے ہی نوازتے رہیں گے۔

میں سمجھتی ہوں ایسے تمام اصحاب کی سختی سے مذمت کرنی چاہئیے۔ آپ کسی کے طرز عمل پہ انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے اعمال کو چھان پھٹک کر دیکھ لیں۔ تاریخ کا خوب مطالعہ کریں۔ ذہن اور نظرکی تنگی جہاں لے جاتی ہے۔ ہم سب الحمد للہ وہیں جا رہے ہیں۔

ریفرنس؛

متعلقہ مراسلہ، منیر اے طاہر کے بلاگ پہ موجود ہے

یورپ میں چڑیلیں ۱

یورپ میں چڑیلیں ۲

یورپ میں چڑیلیں ۳