Showing posts with label بلوچی. Show all posts
Showing posts with label بلوچی. Show all posts

Monday, November 14, 2011

دس ڈالر میں

ابھی ڈھونڈھ ہی رہی تھی تمہیں یہ نظر ہماری
کہ تم آگئے اچانک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زندگی میں محبوب سے لے کر بس تک پہ یہ بات صادق آسکتی ہے۔ لیکن ہمارے ساتھ یوں ہوا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹہریں پہلے یہ بتادوں کہ قصہ کیا چل رہا تھا۔
ہم گوادر ہی میں تھےرات کو واپسی کے سامان کو صبح کے سفر کے لئے پیک کر کے نادر بلوچ کے یہاں پہنچ گئے کہ ان  کی بھاوج کے یہاں اس دن صبح ایک نئے بچے کی آمد ہوئ تھی۔ خیال تھا کہ انہیں مبارکباد دے کر ، کراچی واپسی کے لئے خدا حافظ کہہ دیں۔
نادر کی بیوی ،خدیجہ بڑے تپاک سے ملی۔  میں نے اسے بتایا کہ اسکا بیٹا بڑا شیطان ہے پچھلی دفعہ اس نے مجھے کیکڑوں کی لڑائ دکھائ تھی۔ اور کیکڑے کے بچے کندھے پہ رکھ کر پھر رہا تھا۔ 'ہاں یہ بہت شیطان ہے۔ اب اسکو گوادر کے سب سے مہنگے اسکول میں داخل کرا دیا ہے۔ فیس اسکا بہت زیادہ ہے۔  نادر کی آمدنی تو زیادہ نہیں کبھی کام ہوتا ہے کبھی نہیں ہوتا۔ میرے بھائ نے کہا کہ وہ اسکا اسکول کا خرچہ اٹھائے گا'۔ 
بڑا اسکول کہتے وقت اسکے چہرے پہ بڑا فخر تھا۔  اسکا بیٹا اویس، دوڑا دوڑا گیا اور اپنی کتابیں کاپیاں اٹھا لایا مجھے دکھانے کے لئے۔ میں نے انہیں بڑے شوق سے دیکھا۔ وہ مونٹیسوری کی لگ رہی تھیں۔  اسے تھوڑا بہت لکھنا آگیا تھا۔ میں نے پوچھا کون سی کلاس میں پڑھتے ہو۔ اپنے ٹوٹے پھوٹے دانتوں والی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔ 'ایڈوانس میں، ایڈوانس میں'، اسکی مراد شاید مونٹیسوری کا آخری سال تھا۔
اس لمحے اچانک مجھے خیال آیا کہ میری ایک  نو عمر پاکستانی نژاد کینیڈیئن دوست نے چند ماہ پہلے مجھ سے کہا تھا کہ وہ پاکستان میں ایک بچے کا تعلیمی خرچہ اٹھانا چاہتی ہے ، کیا میں کسی مستحق بچے کی تلاش میں مدد کر سکتی ہوں۔ میں اس وقت سے ایک بچے کو ڈھونڈھ رہی تھی جو پڑھنے لکھنے میں واقعی دلچسپی رکھتا ہو۔ اور اسکی تعلیم کی راہ میں صرف پیسے کی کمی حائل ہو۔
گھر میں آنے والی ماسیوں کے بچوں کو میں نے اس لسٹ سے نکال دیا تھا کہ ان میں سے کچھ مقامی اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ انکے والدین مار مار کر بھیجتے ہیں مگر یہ پڑھ کر نہیں دیتے۔
سو، میں نے خدیجہ سے پوچھا کہ اسکی بیٹی کون سے اسکول میں پڑھتی ہے۔ کہنے لگی یہیں سُر بندر کے گورنمنٹ اسکول میں۔ اس اسکول کے متعلق مجھے اندازہ تھا کہ انتہائ بے کار ہے ۔ متعدد لڑکیاں یہاں سے دوسری تیسری پڑھ کر چھوڑ چکی ہیں۔ اور انہیں دس تک گنتی بھی نہیں آتی۔اس لئے میں نے اس سے کہا تم عائیشہ کو بھی کیوں نہیں بحریہ ماڈل اسکول میں داخل کرا دیتیں۔
'عنیقہ، اسکی فیس بہت زیادہ ہے، چار ہزار داخلہ فیس ہے'۔ اس نے ذرا منہ پھیلا کر کہا تاکہ مجھے اندازہ ہو کہ کتنی زیادہ ہے۔ چھ سو روپے مہینے کے ہیں' اس دفعہ اس نے چھ سو پہ زور دیا اور  مزید کہا صرف وردی آٹھ سو روپے کی ہے'۔ نادر تو اتنا نہیں کر سکتا'۔  میں خاموش بیٹھی رہی۔ 
یہاں کراچی میں ایسے اسکول ہیں جنکی ماہانہ فیس پچیس ہزار روپے ہے۔ اور ایسے اسکول تو عام ہیں جہاں داخلہ فیس پچاس ہزار سے زائد ہے۔ کیا خدیجہ جیسوں کو معلوم ہے کہ جتنی انکی ماہانہ آمدنی نہیں پاکستان کے کچھ علاقوں میں اتنی ایک بچے کے اسکول کی فیس ہوتی ہے۔
ویسے اچھا ہی ہے اسے معلوم نہیں۔ ورنہ یہ صدمہ شاید اسے زندگی کے سکھ سے دور  کر دے۔
چلو عائشہ کی فیس کا بند و بست ہم کر دیتے ہیں۔ میں نے اس سے کہا۔ 'نئیں نئیں، عنیقہ، تکلیف نہ کرو۔'۔ 'مجھے کوئ تکلیف نہیں ، مجھ سے کسی نے کراچی میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کو پڑھانا چاہتا ہے۔  پیسے وہ دے گا۔ میں نہیں۔  اس لئے مجھے کوئ تکلیف نہیں پہنچ رہی۔ ' نئیں پھر بھی تم ایسا نہ کرو'۔ دیکھو اگر تم نہیں لوگی تو کوئ اور لے لے گا۔ تم چاہتی ہو کہ تمہاری بیٹی ایک اچھے اسکول میں  پڑھے تو موقعے سے فائدہ اٹھا لو۔ یقین رکھو، نہ یہ پیسے میرے ہیں ، نہ میں یہ کسی سے مانگ رہی ہوں اور نہ مجھے اس میں کوئ تکلیف ہے'۔ تھوڑی پس و پیش  کے بعد وہ خاموش ہو گئ۔ خاموشی نیم رضامندی ہوتی ہے۔ اٹھتے وقت میں نے نادر سے بات کی کہ وہ عائشہ کو بھی اسی اسکول میں داخل کرا دے۔ داخلہ فیس اور تین مہینے کی فیس اسکے ہاتھ میں رکھی اور نصیحت کی کہ اسکول کارڈ اور ٹیسٹ رپورٹس سنبھال کر رکھے کہ جو شخص پیسے دے گا وہ انہیں دیکھنا چاہتا ہے۔
میں چلنے لگی تو نادر نے ہاتھ مصافحے کے لئے آگے بڑھا دیا۔ اسکے انداز میں تشکر نمایاں تھا۔ میں جو غیر مردوں سے ہاتھ ملانے سے گریز کرتی ہوں۔ اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیتی ہوں۔ میرے اندر احساس ندامت تھا کہ اس سارے سلسلے میں میرا عملی حصہ نہ ہونے کے برابر ہے پھر بھی انہیں اپنا احسان مند بنا رہی ہوں۔
گھر واپس آکر میں نے سوچا کہ ڈالرز میں داخلہ فیس تقریباً پچاس ڈالر بنتی ہے اور ماہانہ فیس میں  اگر دیگر خرچے بھی ڈال لیں تو دس ڈالر بنتے ہیں۔ میری دوست نے کہا تھا کہ وہ پچاس ڈالرتک مہینے کے اس مد میں دے سکتی ہے۔ اتنے پیسوں میں تو ایک اور بچے کا خرچ نکل سکتا ہے۔ کیونکہ مجھے نادر کی بھانجی کا بھی خیال آیا جو عائشہ کی ہم عمر ہے۔ اسکا باپ اسکی ماں کو بھائ کے پاس چھوڑ گیا ہے نہ طلاق نہ خرچہ۔
کراچی آکر میں نے اپنی دوست کو ای میل کی۔ وہ فوراً تیار ہو گئ۔ اس طرح دو بچیوں کے لئے ایک بہتر اسکول کا بند و بست ہو گیا۔ 
آپ میں سے بیشتر نہیں جانتے ہونگے کہ کینیڈا میں ایک وقت کا اوسط معیار کا کھانا  دس ڈالر میں مل جاتا ہے۔  درحقیقت کراچی کے بہترین ہوٹل میں بھی ایک وقت کا اچھا کھانا اتنے پیسوں میں مل جاتا ہے۔ صرف دس ڈالر میں، میں محسن کی قطار میں اور اگلا احسان مندی کی قطار میں۔
کسی  کے ایک وقت کا کھانا ، کسی دوسرے کے پورے مہینے کے اسکول کا خرچہ۔ قدرت کا مذاق ہے یا انسانوں کا؟

Friday, November 11, 2011

گوادر میں بقر عید

انسان فطرتاً تغیر پسند ہے اسی فطرت کی وجہ سے جنت سے بے دخلی پسند کی اور زمین جیسی پست جگہ کو اپنے تخیل کی اڑان کے لئے مناسب پایا۔ اقبال نے اسی زمین سے خدا سے یہ مکالمہ کیا کہ
تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا ، نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی، وہاں جینے کی پابندی
وائے افسوس اقبال کی اس آزاد روی کو زمانہ شناس لوگوں نے زنداں کا رخ دکھایا۔ اگر انسان کو اتنی ہی آزادی مل جائے کہ وہ کسی دل پسند موقع سے مستفید ہو لے تو وہ خوش قسمت کہلائے گا۔ سو میں ہوں۔
بقر عید سے محض چار دن پہلے مجھے اطلاع ملی کہ چاہوں تو عید کراچی سے باہر منا سکتی ہوں۔ کتنے باہر؟ یہی کوئ سات سو کلو میٹر۔ موسم کیسا ہوگا وہاں؟ بدلتے موسم کو ذہن میں رکھا۔ جواب ملا ایسا ہی جیسا کراچی کا ہے اور یہی نہیں کراچی جیسا سمندر بھی ملے گا۔ را عقلمند اشارہ کافی است۔ بھئ صاف کیوں نہی کہہ دیتے کہ آئیں چلیں اس دفعہ عید گوادر میں مناتے ہیں۔ ہم بھی یہ کہتے ہیں ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں،اس دفعہ عید ذرا مختلف انداز میں۔
تو جناب، جمعہ کے مبارک دن ہم اپنے جمع جتھہ سامان کے ساتھ کوسٹل ہائ وے پہ رواں دواں تھے۔ شہر سے نکلے تو سڑک پہ اسکول کی بسوں کا رش تو تھا ہی لیکن سوزوکیاں بھی چلتی نظر آئیں جن میں جانور جا رہے تھے۔ یعنی بکرا منڈی رات بھر کھلی رہی جبھی صبح ساڑھے سات بجے لوگ خریداری کر کے لوٹ رہے ہیں۔ شہر کے مکینوں کا یہ فخر بے جا نہیں کہ یہ شہر کبھی نہیں سوتا۔
جانور اندر لوگ باہر

اہل ہوس کے ہزار رستے ہوں مگر گودار جانے کا زمینی رستہ بس ایک ہی ہے اور وہ ہے کوسٹل ہائ وے۔ اس ہائ وے تک کراچی سے پہنچنے کے لئے آر سی ڈی ہائ وے سے ہو کر گذرنا پڑتا ہے۔ اور آر سی ڈی ہائ وے کا رستہ حب شہر سے نکلتا ہے۔ یوں کراچی، حب، وندر سےہوتے ہوئے جب اوتھل پہنچتے ہیں تو کوسٹل ہائ وے شروع ہوتی ہے۔ یہاں تک پہنچنے میں تقریباً پونے دو گھنٹے لگتے ہیں۔
حب شہر سے نکل کر جب سومیانی کے قریب تھے تو خانہ بدوشوں کی بستیاں نظر آئیں۔ جنکے پاس مٹی کے بڑے بڑے الٹے پیالےسے بنے ہوئے تھے۔ ان پیالوں میں لکڑی کو بند کر کے جلاتے ہیں تاکہ کوئلہ بنے۔ کوئلے کی اس تہوار میں بڑی مانگ ہوتی ہے کہ ہر گھر میں کچھ نہ کچھ بار بی کیو ہوتا ہے۔ میں نے انکی تصویریں بنائیں اس نصیحت کے ساتھ کہ خواتین کی نہ بنائیے گا۔ قبائلی اس پہ بڑا ناراض ہوتے ہیں۔ معلوم ہے، بھئ معلوم ہے۔ تو بھی پاکستان ہے میں بھی پاکستان ہوں۔

کوئلے کی تیاری


رستے میں دو جگہ رکے۔ ایک ہنگول دریا کے مقام پہ مگر مچھ دیکھنے کے لئے جو وہاں نہیں ملے۔ نومبر میں جبکہ ٹھنڈ ابھی ساحلی پٹی پہ شروع نہیں ہوئ۔ مگر مچھ کا دوپہر تک وہاں موجود ہونا ویسے بھی مشکل ہی تھا۔


پہاڑ کی تہہ میں خراماں دریائے ہنگول

آگے ہم ماکولا کے قریب پیٹ پوجا کے لئے رکے۔ سالن ہمارے پاس موجود تھا۔ پانی کی بوتلیں بھی حاضر تھیں بس روٹی چاہئیے تھی وہ گرما گرم مل گئ وہاں موجود ایک جھونپڑا ہوٹل سے۔ جنت کے عوض دانہ ء گندم برا سودا نہیں، میں نے زمین پہ پھیلی چٹائ پہ اپنے پاءوں پھیلاتے سوچا۔
شام کو چھ بجے ہم گوادر کی مضافاتی بستی سر بندر میں اپنا سامان گاڑی سے اتار رہے تھے۔ ابھی سامان اتار کر فارغ ہوئے کہ لوڈ شیڈنگ کے اوقات شروع ہو گئَے۔  اوپر پانی کی ٹینکی میں پانی نہیں، گھر مہینوں سے بند پڑا ہوا۔ ہمارے پاس اسکے علاوہ کوئ چارہ نہیں کہ صبر سے لائٹ آنے کا انتظار کریں۔ لائٹ اس علاقے میں پانچ سال پہلے ہی آئ ہے۔ اس چھوٹے سے قصبے میں ابھی لوگ اسکے اتنے عادی نہیں کہ اس کے یوں چلے جانے پہ خفا ہو کر کہیں کہ یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے، ساتھ چل موج ہوا ہو جیسے۔
چھت کا رخ کیا۔  گھر سمندر کے بالکل کنارے ، کشتیاں دور تک سمندر کے پانی میں ٹہری ہوئیں۔ اگر اقبال ہوتے تو کہتے کہ اودے اودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے، سرخ سرخ قمقمے قطار اندر قطار۔ یہ جلتے بجھتے قمقمے ان کشتیوں پہ سمندر میں شکار کے وقت مختلف اشاروں کی زبان کے طور پہ استعمال ہوتے ہیں لیکن اس وقت انہوں نے سمندر اور لوڈ شیڈنگ کی تاریکی میں ایک سماں باندھ  دیا تھا۔ اوپر آسمان  پہ آلودگی نہ ہونے کی وجہ سے ستارے جیسے ہنس رہے تھے۔ ٹمٹماتے، جھلملاتے، نزاکت سے کانپتے اترا رہے تھے۔ ایسی سحر انگیز اترتی رات صرف سُر بندر کے حصے میں ہی آ سکتی ہے۔
دو گھنٹے بعد لائٹ نے درشن کرائے۔ ہم نے یوں پرنام کیا کہ فوراً دوڑ کر پانی کی موٹر آن کی۔ سب نے مل کر جلدی جلدی صفائ شروع کی  تاکہ رات کو سونے کا انتظام ہو سکے۔ پڑوسی نے بھی مدد کی۔ رات کا کھانا انکے یہاں سے آپہنچا۔ حالانکہ کہا بھی تھا کہ ہم کراچی سے دو وقت کا کھانا ساتھ لے کر چلے ہیں۔ لیکن بلوچ اپنی روایت سے مجبور۔
اگلے دن تفصیلی طور پہ صفائ کر کے تمام چیزیں اپنے مقامات پہ پہنچائیں۔ کھانے پینے کے چکر سے فارغ ہوئے۔ بکرے کا دیدار ہوا۔ جو کہ میزبان ہمارے لئے لے چکے تھے۔ یہاں قربانی کے لئے بکرے کا رواج ہے جبکہ کراچی میں گائے پہ زیادہ لوگوں کا دل آتا ہے۔ یہ تو پہاڑی بکرا ہے، میں نے اپنے ساتھی سے کہا۔ 'لوگ کہتے ہیں کہ پہاڑی بکرے کا گوشت سخت ہوتا ہے اور اس میں ہلکی سی بد بو ہوتی ہے'۔ اب اس وقت تو یہی ہے۔ یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ کم عمر ہے اسکا گوشت نرم ہوگا۔ 'چلیں یہی سہی۔ ہمیں تو قربانی کی رسم نبھانی ہے ، میں یونہی ایک خیال بتا رہی تھی'۔
مشعل کو پہلے ہی نادر بلوچ نے ڈرا دیا تھا کہ بکرا بڑا خطرناک ہے ٹکر مارتا ہے اس سے دور رہنا۔ مشعل نے بکرے کے تیور دیکھے تو بالکل اسکے قریب جانے سے انکار کر دیا۔ میں نے اسے سمجھانے کی کوشش بھی کہ بیٹا  پہاڑی بکرا اس برج کی علامت ہے جس سے تم اور تمہاری اماں دونوں تعلق رکھتے ہیں۔
شام کو محلے کی خواتین آگئیں۔ انکی بیشتر تعداد کو اردو بالکل نہیں آتی۔ میری ترجمان نازنین تو اپنے شوہر کے پاس مسقط جا چلی گئ۔ لیکن دو ایسی لڑکیاں نکل آئیں جو ٹوٹی پھوٹی اردو بول سکتی تھیں۔ بس وہ دونوں بے چاری ترجمہ کرتی رہیں۔ بلوچی زبان پہ فارسی کا اثر ہے ویسے بھی اردو کی بہن زبان ہے۔ اس لئے کہیں نہ کہیں میں بھی بلوچی پکڑ ہی لیتی۔ اس سے وہ خواتین بڑی متائثر ہوئیں کہ تھوڑی بہت بلوچی مجھے آتی ہے۔
میں ان کے لئے کچھ تحائف لے کر گئ تھی جس سے وہ بڑی خوش ہوئیں۔ چلتے چلتے کہنے لگیں کہ تم عید پہ مہندی لگاتی۔ ہاں، میں نے گردن ہلائ۔ کیا مہندی یہاں ملتی ہے۔ جواب ملا مہندی یہاں ملتی، دس روپے کی ٹیوب ملتی۔ کل ہم لائے گی اور تمہیں اور مشعل کو لگائے گی۔
پتہ نہیں کیا چیز ہوگی اور یہ کیا لگائے گی۔ میں نے دل میں سوچا۔ اگلے دن دوپہر میں ہم گوادر شہر کی طرف چلے گئے۔ وہاں سنگھار پہاڑی کے ساحل کی طرف اترے اور سورج ڈوبنے کا نظارہ کیا۔ ایک خوبصورت اور پر سکون ساحل جو سورج ڈوبنے کے وقت ہر طرف سے جلنے لگا۔ ساحل سے اس آگ کی لپٹیں آسمان کے مرکز کی طرف پہنچے جا رہی تھیں۔ آگ اور پانی کا یہ ملن چاند ایک طرف کھڑا دیکھ رہا تھا۔ سورج اور چاند کا بیک وقت ایسا طلوع اور غروب بھی بس گوادر میں ہی نظر آ سکتا ہے۔ بعض لوگوں کو اپنی خوبیوں اور خوش قسمتی  کا اندازہ نہیں ہوتا اور بعض جگہوں کو بھی۔


غروب آفتاب کے وقت طلوع مہتاب


رات دس بجے جب کھانا کھا کر سُر بندر واپس پہنچے اور میں ابھی سوئ ہوئ مشعل کو سونے کے کپڑوں میں ڈال رہی تھی کہ وہ لوگ مہندی لے کر پہنچ گئیں۔
اوہ، مشعل تو سو گئ۔ اب مجھے ہی اپنے ہاتھوں میں ان سے نقش و نگار بنوانے پڑیں گے۔ وہ اتنے شوق سے آئیں ہیں کیسے منع کر دوں۔ گھر والے میرا المیہ جان کر مسکرا رہے تھے۔ میرا ہاتھ، ہاتھ میں لے کر اس نے مہندی کی کون جیسا کہ ہم کراچی میں کہتے ہیں جب چلانی شروع کی تو خاصہ اچھا ڈیزائین بنا ڈالا۔ یہ تم نے کہاں سے سیکھا؟ میں نے پوچھا۔  اسکول سے۔ اس نے سر جھکائے جھکائے بتایا۔  بڑا اچھا اسکول ہے۔ پڑھنا لکھنا چاہے سکھائے نہ سکھائے مہندی لگانا سکھا دی۔ ہنسنے لگیں۔ کیا میں عید کے کپڑے لائ ہوں اس نے پوچھا۔ ہاں، ہاں سب لائ ہوں اور چوڑیاں بھی؟ ہاں چوڑیاں بھی۔
مشعل کی مہندی رکھ کر وہ چلی گئیں۔
میں عید کی نماز والوں کے کپڑے استری کرنے لگی۔ اور مشعل کے کپڑوں تک اس قدر نیند آ رہی تھی کہ میں نے سوچا کہ صبح اٹھ کر کر لونگی۔
بستر پہ لیٹی تو مسلسل لوگوں کے کچھ زور سے پڑھنے کی آواز آرہی تھی۔ یہ ذکری ہیں۔ گوادر میں مسلمانوں کے دو فرقے پائے جاتے ہیں ایک نمازی اور دوسرے ذکری۔ نمازی نماز پڑھتے ہیں اور ذکری نماز نہیں پڑھتے صرف ذکر کرتے ہیں۔ جس جگہ وہ ذکر کرتے ہیں وہ ذکر خانہ کہلاتی ہے۔ جو کہ ہمارے گھر سے خاصی قریب تھی۔ اس لحاظ سے گوادر میں بڑی مذہبی رواداری پائ جاتی ہے۔
لیکن اپنی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے امید کی جاتی ہے کہ یہ مذہبی ہم آہنگی بس کچھ اور سالوں کی بات ہے وجہ یہ کہ اس دفعہ میں نے وہاں ایک بہت بڑا بورڈ دیکھا جس پہ لکھا تھا تبلیغی اجتماع گاہ اور اس پہ ایک تیر کا نشان بنا ہوا تھا۔ یعنی مقام کی نشان دہی۔ کافی ساری کشتیوں پہ اس دفعہ میں نے جماعت اسلامی کے جھنڈے دیکھے۔ آج سے آٹھ سال پہلے جب میں گوادر گئ تو وہاں کوئ بڑا مدرسہ نہیں تھا لیکن اب وہاں ایک بہت بڑا دارالعلوم ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کتنے وقت میں گودار کی دیواروں پہ ذکری کافر، نمازی کافر، سنی کافر اور شیعہ کافر جیسے نعرے وجود میں آتے ہیں ابھی تو وہاں، ہندءووں کے ایجنٹوں کے نام ،  پاکستان مردہ باد اور پاکستان زندہ باد جیسے نعروں کی اکثریت ہے۔



بہر حال ذکری  ساری رات ذکر کرنے کے بعد، فجر سے پہلے قربانی کے فریضے سے فارغ ہو جاتے ہیں۔
صبح لوگ قصبے کی عید گاہ میں نماز عید کے لئے جمع ہوئے۔  لائوڈ اسپیکر کا انتظام خاصہ خراب تھا۔ کچھ کو آواز پہنچی اور کچھ نمازیوں کو آواز نہیں پہنچی۔ نماز کی ادائیگی میں مسئلہ ہوا اور نماز کے اختتام پہ کچھ نمازیوں نے مطالبہ کیا کہ دوبارہ نماز پڑھائ جائے یعنی لوٹائ جائے۔ یوں نماز دوبارہ پڑھی گئ۔
یہاں ہمارے ساتھ کیا ہوا کہ آٹھ بجے ہم نے سوچا کہ مشعل ابھی سو رہی ہے اسکے کپڑے استری کر لئیے جائیں۔ لیکن یہ کیا؟ عین اسی وقت لائٹ چلی گئ۔ کوئ بات نہیں ایک دو گھنٹے میں اجائے گی۔ دل کو تسلی دی۔  مگر وہ نہ آئ۔ حتی کہ بارہ بجے دو پہربکرا قربان ہو گیا۔ میں نے احتیاطاً مشعل کے لئے دو زرق برق کپڑے رکھ لئیے تھے جو اس وقت کام آ گئے۔
بکرے کے حصے کیسے بنوانے ہیں آپکو؟ سوال آیا۔  کیسے حصے؟ میں نے دریافت کیا۔'یہاں کا طریقہ یہ ہے کہ سارے گوشت کے تین حصے کر دئیے جاتے ہیں ایک غریبوں اور ہمسایوں کا دوسرا رشتہ داروں کا اور تیسرا اپنے لئے'۔ مزید تفصیل حاصل ہوئ۔  اچھا کراچی میں تو قصائ بس گوشت بنانے کا کام کرتا ہے۔ خیر ہم وہی کریں گے جو یہاں رائج ہے۔ جب روم میں ہو تو وہی کرو جو رومی کرتے ہیں۔
سارے گوشت کو اچھی طرح ملا دیا گیا پھر اسکے برابر کے حصے لگے، اس میں سے غریبوں کا حصہ کر کے وہاں موجود لوگوں نے اسے بھیجنے کے لئےخود ہی حصے بنا کر بھیج بھی دئیے۔ چلیں جی اس ذمہ داری کی بھی چھٹی ہوئ۔  گوادر میں غربت زیادہ ہے۔ لیکن، اچھی بات یہ ہے کہ سمندر کے کنارے ہونے کی وجہ سے کوئ بھوکا نہیں مرتا کہ سمندر سب کو کھانا تو دیتا ہے۔ لیکن مچھلی کے علاوہ کھانے کی دیگر اشیاء عام انسان کی پہنچ سے باہر ہیں۔ دیگر جانوروں کا گوشت ایک عیاشی ہے۔ قربانی بہت کم لوگوں نے کی۔ اس لئے جانوروں کی وہ چہل پہل نہیں تھی جو کراچی میں نظر آتی ہے۔
بکرے کے سری پائے پھینک دئیے گئے اور اوجھڑی کو اسی وقت سامنے سمندر میں لے جا کر دھو کر صاف کر لیا گیا۔ رات کو جب میں نے رخسار سے پوچھا کہ آج کیا پکایا تو جواب ملا اوجھڑی۔ مجھے ایک جھٹکا لگا۔ کراچی میں اوجھڑی پھینک دی جاتی ہے۔ البتہ سری پائے بنوا کر رکھ لیتے ہیں۔ اوجھڑی کی وجہ سے شہر میں آلائیشیں پھیل جاتی ہیں۔ مگر یہاں سب نے پہلے دن اوجھڑی پکائ۔ کہنے لگی نادر بلوچ سے کہا تھا کہ آپکو اوجھڑی کا سالن دے دے۔ لیکن کہنے لگا کہ عنیقہ کہاں اوجھڑی کھائے گی۔
میں ہنسنے لگی۔ میں اوجھڑی کھاتی ہوں۔ اچھی طرح پکی ہو تو بڑے مزے کی ہوتی ہے لیکن عید والے دن، ذبح کئے ہوئے جانور میں اتنا کچھ ہوتا ہے کہ ہم لوگ اوجھڑی بالکل نہیں کھاتے۔ جب بھی کھاتے ہیں خرید کر پکاتے ہیں۔ بعد میں، میں نے اپنی اور انکی اس ادا پہ غور کیا تو خیال آیا  اسکی وجہ شاید اسکی صفائ کی پیچیدگی ہے۔ سمندر ہمارے پاس ہے لیکن ایک تو بڑی دور ہے دوسرا پونے دو کروڑ آبادی کے لوگ اگر اسے عید پہ اوجھڑی دھونے کے لئے استعمال کریں تو سوچ لیں کیا ہوگا۔
اپنے حصے میں آنے والے گوشت پہ سے چربی اچھی طرح صاف کی۔ یوں اس گوشت میں مزید ڈیڑھ دو کلو کی کمی واقع ہو گئ۔ نادر سے ڈرتے ڈرتے بات کی کہ کہیں اسے برا نہ لگے کہ وہ اگر چاہے تو یہ چربی لے سکتا ہے ورنہ ہم اسے پھینک ہی دیں گے۔ چربی کا یہ ڈھیر وہ بخوشی لے گیا۔
سارا دن گھر محلے بچوں سے بھرا رہا یا خواتین وقفے وقفے آتی رہیں۔ بچوں کے لئے تو گھر کے لیونگ روم میں موجود چھ ضرب چار فٹ کا جھولا سب سے بڑی کشش تھا۔ ایک وقت میں آٹھ دس بچے اس پہ لدے مزے لے رہے ہوتے۔ خواتین کے لئے شاید صوفے میں بڑی کشش تھی۔ وہ ایک دن میں دو دو بار آتیں۔ شام تک بچوں کے اس ہنگامے کی وجہ سے تھکن ہو گئ۔ اگرچہ اس دن میں نے ایک بلوچی لفظ سیکھا۔ بورو، مطلب باہر جاءو۔

عید گاہ کی طرف لوگوں کی روانگی





مشعل بچوں کے اس ہجوم میں کہیں غائب تھی۔ کبھی کبھی مجھے اسکی شکستہ بلوچی جملوں کی آوازیں آتیں۔ وہ زبان سیکھنے کے معاملے میں کافی تیز ہے۔ محض دو دن میں بلوچی لہجہ اور جملے سیکھ لئے تھے۔ جہاں الفاظ نہیں آتے وہاں لہجے سے کام چلاتی۔
آنے والی مہمان خواتین کے آگے جب میں نے دودھ سویاں رکھیں تو وہ اسے کھاتے ہوئے بادام کی ہوائیاں نکال کر ایک طرف رکھنے لگیں مجھے اندازہ ہوا کہ وہ اس بات سے واقف نہیں کہ بادام بھی کوئ چیز ہوتی ہے۔ 
لائیٹ اب تک لا پتہ تھی۔ معلوم یہ ہوا کہ پی ایم ٹی اڑ چکا ہے۔ واپڈا والوں سے بات ہوئ ہے وہ اس پہ کام کر رہے ہیں رات تک آئے گی۔ رات مطلب، گیارہ بجے آئ۔ کبھی آپ نے نوٹ کیا کہ صحیح وقت کے بجائے رات، صبح،  دوپہر کہہ لیا جائے تو ذمہ داریوں کے تناءو سے کیسے نجات مل جاتی ہے۔
رات کے لئے میں نے پلاءو بنانے کے پروجیکٹ پہ کام شروع کیا۔ گوشت کا قورمہ تیار کر لیا اور چاول ابالنے کی باری آئ تو پتہ چلا کہ سلنڈر میں گیس ختم ہو گئ ہے۔ اسے کہتے ہیں غربت میں آٹا گیلا۔ عید کی چھٹی گیس کہاں سے ملے گی۔ یہ ایک الگ کہانی کہ پلاءو کس طرح اپنی منزل کو پہنچا۔ بہر حال ہم نے اسے کھایا بھی اور پڑوسیوں کو بھی دیا۔ اور ہاں نہ گوشت میں بُو تھی اور نہ ہی یہ سخت تھا۔ مزے سے گھنٹہ بھر میں گل گیا۔
بجلی رات کو شکر ہے کہ گیارہ بجے آگئ۔ یوں گوشت  ریفریجریٹر میں گیا۔
رات کو بارہ بجے جب ہم بستر پہ ڈھیر ہوئے تو ذکری ورد کی آوازیں ایک بار پھر آ رہی تھیں۔ یہ شاید تین راتوں تک جاری رہے۔ میں نے سوچا۔  سارا دن کے ہنگامے میں پتہ ہی نہ چلا کہ ہم ایک تہوار پر اپنے شہر، گھر اور رشتے داروں سے دور ایک اجنبی جگہ پر ہیں۔ انسان اگر مختلف کاموں میں شدید مصروف ہو تو ایسے خیالات کیسے راستہ پائیں۔ خالی ذہن چاہے افراد کے ہوں یا قوم کے شیطان کا گھر ہی بنتے ہیں۔


گوادر کے متلعق مزید تحاریر پڑھنے کے لئے اس لنک پہ جائیں۔

Sunday, April 3, 2011

ساحل کے ساتھ-۱۰

گذشتہ سے پیوستہ

یہ ایک ڈائیوو کی ائیر کنڈیشنڈ اور باہر سے خاصی بہتر نظر آنے والی بس تھی مگر اندر داخل ہوتے ہی ایک شدید گھٹن کا احساس ہوا۔ کوئ ایک خاتون نظر نہ آرہی تھی۔ سیٹ تک پہنچنے کے لئے جو قدم بڑھائے تو معلوم ہوا کہ درمیانی راستے سے لیکر بس کے پچھلے حصے میں سامان ٹھنسا پڑا ہے۔ حالانکہ بس کے نچلے حصے میں جگہ تھی  لیکن معلوم ہوا کہ وہاں گنجائش ختم ہو گئ ہے۔آخر گوادر میں ایسا کیا ملتا ہے۔
گھٹن کے احساس کی وجہ بس میں کپڑوں کی زیادہ موجودگی تھی۔ کھڑکیوں پہ پڑے لال رنگ کے مصنوعی ریشم کے موٹے پردے جن پہ اسی کپڑے کی چوڑی چوڑی جھالریں لٹک رہی تھیں۔ بس کی چھت پہ بھی یہی کپڑا منڈھا ہوا تھا۔ کھڑکیوں کے درمیانی وقفے پہ مصنوعی لال بڑے بڑے پھولوں کے گچھے آویزاں۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد خوب گھیر داربلوچی کپڑوں میں ملبوس انکے سربڑے بڑے پگڑسے سجے۔
سامان پہ سے چھلانگ لگنے کی مہارت دکھاتے ہوئے، میں نے بیٹھتے ہی اپنی کھڑکیوں کے پردوں کو جہاں تک ممکن تھا سمیٹ دیا۔ باہر گھپ اندہیرا تھا مگر پھر بھی نجانے کیوں ایک تسلی سی ہو گئ۔ میں باہرمحسوس ہونے والی  وسعت کو بس میں شامل سمجھ رہی تھی۔
مجھے اپنا ترکی کا سفر یاد آیا۔ پندرہ دن میں ہم نے چھ شہر دیکھے۔ رات بھر ایسی ہی بسوں میں سفر کرتے تھے اور دن میں تفریح۔ لکن ان بسوں میں اندر سامان کے نام پہ صرف بیک پیک ہوتا تھا۔ ایک مناسب ہوائ سفر کی اکانومی کلاس کا مزہ۔ دوران سفر چائے یا جوس اور بسکٹس یا مونگ پھلیاں تواضع میں شامل ہوتیں۔ ان بسوں کی سب سے بڑی خوبی وقت کی پابندی تھی۔ ترکی کا سیاحوں کا پسندیدہ مقام ہونے میں ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا بڑا حصہ ہے۔
بس چل پڑی تو لوگوں نے شور مچانا شروع کیا۔ فلم لگاءو، اوئے فلم لگاءو۔ فلم کا شاید انتظام نہ تھا اس لئے موسیقی مہیا کی گئ۔ اور اس کا آغاز بلوچی موسیقی سے ہوا۔
ہم، ہمراہ لائے کھانے سے فارغ ہوئے۔ مشعل سو گئ انکے ابا  بھی آنکھیں موند کر پڑ گئے۔ میں ان بد قسمتوں میں سے ہوں جن کا دوران سفر سونا محال ہوتا ہے۔ اور جب منی اتنے زور وشور سے بد نام ہو رہی ہو تو کون کافر سو سکتا ہے۔ یوں بلوچی گانوں کے بعد انڈین گانوں کی باری آئ۔ بس میں سب جیسے نشے میں دھت تھے۔

اے شمع ، تیری عمر طبیعی ہے ایک رات
ہنس کر گذار یا اسے رو کر گذار دے
یہ سائکل جاری تھا۔ کچھ بلوچی اور کچھ انڈیئن گانے ہر دو کے درمیان، منی کی بدنامی کا سریلا، بھڑکیلا اور رسیلا بیان۔ بلوچی اور انڈیئن، دونوں ہی گانے عشق مجازی کے شیرے میں ڈوبے ہوئے۔ لیکن دونوں میں ایک فرق تھا۔ بلوچی گانوں میں گانے والی ایک بھی عورت نہ تھی۔ جبکہ انڈیئن گانے عورت اور مرد دونوں کی آوازوں میں تھے۔ یہ فرق شاید غیرت کے فرق کی وجہ سے تھا۔
تقریباً پون گھنٹے کے بعد بس  پہلی رینجرز کی چوکی پہ رکی۔  کنڈیکٹر نے نعرہ مارا سب اپنے بیگز لے کر نیچے اتر جاءو۔ بس میں سے ایکسرے مشین نظر آرہی تھی۔ میں نے سوچا اتنے سامان سے لدی گاڑی میں سے ہر ایک شخص اپنا سامان چیک کرائے گا تو کم ازکم دو گھنٹے یہیں خرچ ہو جائیں گے۔ پھر مشعل کے بابا کو دو ہینڈ کیری اور ایک بڑا بیگ چیک کروانا ہو گا بڑا مسئلہ ہو جائے گا۔  بے چارے سامان ہی ڈھوتے رہیں گے۔
لیکن لگا کسی نے کنڈیکٹر کی بات نہیں سنی۔ دو تین دفعہ اس نے اور کہا۔ سب یونہی گل محمد بنے پڑے رہے۔ زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔ پھر رینجرز کا ایک آدمی اندر آیا، ایک ٹارچ کی بے قابو روشنی ادھر ادھر پھینکی۔ بیگ چیک کراءو اوئے سب۔ چھ سات لوگوں  رضاکارانہ طور پہ اٹھے۔ ان میں ہمارے صاحب بھی شامل تھے۔ ہمارے سامنے جو دس بارہ لوگ بیٹھے تھے وہ اپنے جثّے سے ایجنسیز کے لوگ رہے تھے وہ اسی طرح پڑے رہے۔ سب نے اپنے ساتھ ایک ایک بیگ لیا۔ دس منٹ میں سب واپس آگئے۔ مردم پورے۔ بس دوبارہ چل پڑی۔ کیا ایکسرے مشین سے گذارا تھا۔ نہیں ، ایسا کچھ نہیں ہوا۔
پاکستان زندہ باد۔
گوادر ساحلی شہر ہونے کی بناء پہ اسمگلروں کا پسندیدہ مقام ہے۔ اٹھارویں صدی میں سمندری سچے موتیوں کے قزاق تھے۔ اور اکیسویں صدی میں اسمگلرز۔ جب تک کوسٹل ہائ وے نہی بنی تھی۔ کراچی تک پہنچنا آسان نہ تھا۔ ایران سے سرحد ملی ہوئ ہے۔  ویزے کی ضرورت نہیں۔  یوں گوادر ڈسٹرکٹ میں ایران کی مصنوعات چھائ ہوئ تھیں۔ چاہے وہ چائے پینے کے معمولی کپ ہوں، کھانے کا تیل ہو یا گاڑیوں کا تیل۔ بہت سارے گوادریوں کی شادیاں بھی ایران میں ہوئ ہیں۔  
پٹرولیئم مصنوعات ایران سے اسمگل ہو کر آتی تھیں اب بھی آتی ہیں البتہ دیگر ضروریات زندگی میں اب پاکستانی اشیاء آ گئ ہیں۔ گوادر میں تین چار سال پہلے ایک سپر مارکیٹ بھی کھل گئ ہے۔
دو ہزار تین میں جب میں گوادر پہنچی تو گوادر میں پٹرول کی قیمت کراچی کے مقابلے میں تقریبا آدھی تھی۔ پہلے یہ اسمگل شدہ تیل ٹرالرز کے ذرہعے پہنچایا جاتا تھا، پھر ہائ وے بننے کے بعد گوادر سے پٹرول اسمگل ہو کر بسوں وغیرہ کے ذریعے کراچی آتا رہا۔
لیکن ہوا یہ کہ کراچی پہنچانے کے لئے عام طور پہ انہی بسوں کے خفیہ خانوں میں پٹرول موجود ہوتا تھا۔  جب کئ دفعہ ایسا ہوا کہ پٹرول کی ٹنکیاں زیادہ گرمی کی وجہ سے پھٹ گئیں  اور ائیر کنڈیشنڈ بس ہونے کی وجہ سے پوری پوری بسوں کو آگ لگ گئ۔ تو پٹرول کی اسمگلنگ میں کمی آئ۔ پھر یہ کہ ایران اور پاکستان مین پٹرول کی قیمتوں میں قابل منافع فرق نہیں رہا۔ لیکن ابھی بھی ڈیزل کی اسمگلنگ جاری ہے۔  ایرانی مصنوعات کا معیار بھی گھٹیا ہوتا ہے۔ گاڑی میں مسائل پیدا کرتا ہے۔
گوادر کے مقامی لوگوں کا کاروبار یا تو مچھلیوں سے متعلق ہے یا اسمگلنگ سے متعلق۔  مشرف دور میں گوادر میں ریئل اسٹیٹ کا کاروبار عروج پہ تھا۔ سنتے ہیں کہ باہر سے لوگ بوریوں میں پیسے بھر کر لاتے تھے۔ زمین خریدنے کے لئے۔ جس جگہ میں نے مٹی کے بنے ہوئے چند مکانات دیکھے تھے۔ محض دوتین سالوں میں وہاں ایسے گھر کھڑے ہو گئے جو کراچی میں ڈیفینس کے علاقے میں نظر آتے ہیں۔ اعلی برانڈ کی کاریں حتی کہ عام لوگوں کے پاس سیٹیلائیٹ فون ہوا کرتے تھے۔ لوگوں کی بہتات کی وجہ سے پرل کانٹی نینٹل نے ایک خوبصورت عمارت بھی اپنے ہوٹل کے لئے بنائ۔ لیکن حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے۔ اب وہاں سناٹا ہے۔ بلبل نے آشیاں چمن سے اٹھا لیا،اسکی بلا سے بوم بسے یا ہُما رہے۔

لوگ ایک دفعہ پھر اسمگلنگ کی طرف متوجہ ہوئے۔ مہینے میں ایک لانچ تین چار چکر لگا لے تو چار پانچ لاکھ روپے بن جاتے ہیں۔ جس بس میں ہم جا رہے تھے اسکے متعلق بھی اطلاع تھی کہ اس میں ڈیزل جا رہا ہے۔ ڈیزل کے علاوہ، شراب کی بھی اسمگلنگ ہوتی ہے۔ یہاں سر عام پینا کوئ برائ نہیں۔
رات کو ڈھائ بجے ارمارہ پہنچے۔ بس کے بیشتر لوگ حوائج سے فارغ ہونے کے لئے اتر گئے۔ میں بھی اتر گئ۔  ایک  دفعہ پھر ایک لڑکا دوڑتا ہوا آیا۔ لیڈیز ادھر ہے۔ میں اسکے ساتھ گئ۔ ہوٹل کے پچھواڑے میں ایک کمرہ جس میں کوئ کھڑکی نہ تھی صرف ایک دروازہ تھا۔ اور فرش پہ چٹائیاں پڑی تھیں۔ یہ کیا ہے۔ کھانے کا کمرہ عورتوں کے لئے۔ میں نے اس سے کہا کہ لیڈیز کا واش روم کہاں ہے۔ وہ میری بات  پہ کچھ حیران سے ہو گیا۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ اسے واش روم کے ہونے پہ تعجب تھا یا لیڈیز کے واش روم کے ہونے پہ تعجب تھا۔
 میں اسے حیرانگی میں چھوڑ کر واپس ہونے لگی تو تاحد نظر پھیلے ہوئے اندھیرے اور ویرانے میں مجھے ایک بہت عجیب سا احساس ہوا۔ جہاں روشنی کی حد ختم ہو رہی تھی اور اندھیرے کا راج شروع ہو رہا تھا وہاں  ایک کے بعد ایک ، دور تک گٹھریاں سی رکھی ہوئ تھیں۔ لیکن غور سے دیکھنے کے بعد میں نے اپنا سر جھٹکا یہ گٹھریاں نہیں ایکدم زندہ سلامت انسان تھے۔ ہر غیرت سے بھرپور انسان بھی  چند حیاتیاتی عوامل سے جان نہیں چھڑا سکتا۔  مجھے قدرت اللہ شہاب کی کتاب شہاب نامہ میں ان کا سکھوں کے متعلق بیان یاد آگیا۔
بس میں واپس آکر مجھے خیال آیا کہ مشعل کو اٹھا کر اسے بھی فارغ کرا لینا چاہئیے۔ مبادا رستے میں انہیں ضرورت محسوس ہو تو بس رکوانے میں بڑی مشکل ہو جائے گی۔ انکے جوتے تلاش کرنے کے لئے سیٹ کے نیچے ہاتھ مارا تو ایک عجیب سا پھل میرے ہاتھ میں آگیا۔ سخت اور روئیں دار۔ یہ کیا ہو سکتا ہے۔ میں نے اسے روشنی میں نکال کر دیکھا۔ یہ کیوی فروٹ تھا۔ ایران میں پیدا ہوتا ہے اور کراچی میں سو روپے سے زائد صرف ایک پھل ملتا ہے۔ اس کا سائز ایک مرغی کے انڈے کے برابر ہوتا ہے۔ اب جو میں نے روشنی لے کر نیچے جھانکا تو متعدد سیٹوں کے نیچے اسکے کریٹ موجود تھے۔
سب لوگ واپس آئے۔ مردم پورے کا نعرہ بلند ہوا اور بس روانہ۔
اگلی چوکی صبح چار بجے کے وقت ملی۔ جیسے ہی بس رکی۔ رینجرز کے ایک صاحب اندر داخل ہوئے۔ ڈرائیور سے کہنے لگے کتنے ہزار لٹر ڈیزل جا رہا ہے۔ سر جی جتنے میں یہ بس چل جائے۔ میں بس کے ڈیزل کی بات نہیں کر رہا انکی کر رہا ہوں جو تم چوری سے  لے کر جاتے ہو۔ اس نے ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں کہا۔ 'نہیں جناب اور تو کوئ ڈیزل نہیں ہے'۔ 'سب پتہ ہے مجھے'۔ ڈرائیور خاموش ہو گیا۔   پھر وہ اسی طنطنے میں آگے بڑھا۔ ایک آواز آئ۔ میں میجر ہوں اور یہ دس نوجوان میرے ساتھ ہیں۔ ایک ہاتھ بڑھا اس میں ایک کارڈ تھا۔ دیکھنے والے نے اسے ایک نظر دیکھا۔ سلیوٹ مارا۔ آگے آکر سب کے چہروں پہ ایک لائٹ ڈالی اور بس سے اتر گیا۔ 
اسکے بعد ایک اور چوکی،  اب ہم حب کی حدود میں داخل ہوگئے تھے۔ لوگوں نے فجر کی نکلتی ہوئ نماز پڑھی۔ کیونکہ روشنی پھیل چکی تھی۔ اسکے آدھ گھنٹے بعد ٹھیک آٹھ بجے ہم کراچی کے مضافات میں واقع یوسف گوٹھ کے بسوں کے اڈے پہ موجود تھے۔ اس سفر میں ہمیں گیارہ گھنٹے لگے جس کے متعلق دعوی بس پر لکھا تھا کہ سات گھنٹے لے گا۔
کہتے ہیں پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھنا چاہئیے پتھر کے ہو جاتے ہیں۔ مگر ایسا کوہ قاف میں ہی ہوتا ہے۔ شادمند دل پلٹ کر پیچھے ضرور دیکھتا ہے یہ کہنے کو کہ

سیر کی، خوب پھرے، پھول چنے، شاد رہے
باغباں جاتے ہیں ہم، گلشن تیرا آباد رہے
مشعل اٹھ چکی تھی۔ اس نے زندگی میں پہلی دفعہ دیکھا کہ دور دور تک رنگ برنگی خالی بسوں کی لائینیں لگی ہوئ ہیں۔  کہنے لگی۔ ماما کیا ہم یہاں سے صرف ایک بس لے سکتے ہیں وہ پنک والی، وہ مجھے پسند آرہی ہے۔ نہیں میرے بچے یہ کھلونے نہیں ہیں۔ ماما نے ایک روکھا سا جواب دیا۔
اڈے پہ ٹیکسیوں اور رکشوں کی بھر مار تھی۔ اور اترتے ہی وہ نقشہ بنا کہ، اٹھا جو مینا بدست ساقی، رہی نہ پھر تاب ضبط باقی، تمام  مے کش  پکار اٹھے، یہاں سے پہلے، یہاں سے پہلے۔
ہم نے اپنی جیب ٹٹولی اور  ایک زمانہ ء قدیم کی کالی پیلی ٹیکسی نما کھٹارے میں اپنا سامان رکھنا شروع کیا۔ اور مشعل گنگنانے لگی، منّی  ڈارلنگ تیرے لئے۔ ہائیں میں نے اسے  دیکھا ، یہ تو رات بھر سوتی رہی تھی۔

ختم شد