Showing posts with label تھائ لینڈ. Show all posts
Showing posts with label تھائ لینڈ. Show all posts

Monday, July 25, 2011

سیاح بلائیں

بنکاک میں ہم دو دن کے لئے تھے۔  یہاں میری دلچسپی جس چیز میں سب سے زیادہ تھی۔ وہ یہاں سے کچھ فاصلے پہ موجودتیرتا ہوا بازار تھا۔ جسے فلوٹنگ مارکیٹ کہتے ہیں۔ صبح ہمیں سات بجے ہوٹل سے نکلنا تھا۔  رات جب ہم سونے کی تیاری کر رہے تھے تو اچانک  کھانے کے بعد مشعل کو الٹی ہو گئ۔   وہ کچھ سست تھی لیکن باقی سب ٹھیک لگ رہا تھا۔ ڈھائ سال کا بچہ سفر سے تھک گیا ہوگا۔
صبح جب ہم گاڑی میں سوار ہونے لگے تو میں نے سوچا کہ  میں اور مشعل رک جاتے ہیں باقی لوگ چلے جائیں۔ لیکن سب کہنے لگے کہ اس میں کرنا کچھ نہیں ہے۔ گاری ایئر کنڈیشنڈ ہے وہ بالکل لیٹ کر جا سکتی ہے۔ اور وہاں بوٹ میں بیٹھے رہنا ہوگا۔ دو پہر تک واپس ہوٹل میں ہونگے۔ سو،  احتیاطاً او آر ایس، الٹی کی دوا اور گلوکوز  اپنے بیک پیک میں ڈالا اور چل دئیے۔
ہمیں وہاں پہنچنے میں دو گھنٹے لگے۔ گاڑی سے اتر کر ایک بوٹ میں بیٹھ گئے۔ یہ ایک نہر ہے جسکے دونوں اطراف گھر موجود ہیں۔ ان گھروں کے درمیان آمدو رفت کشتیوں سے ہوتی ہے۔ اسی پہ ذرا آگے بڑھیں تو کشتیوں میں لوگ دوکانیں سجائے نظر آتے ہیں۔  کسی زمانے میں یہاں واقعی اصلی مارکیٹ موجد تھی وقت کے ساتھ وہ ختم ہو گئ۔ کشتیوں میں یہ دوکانیں دراصل سیاحوں کی کشش کے لئے دوبارہ سجائ گئ ہیں۔ ان سے مقامی باشندوں کودلچسپی نہیں۔
بہر حال، ہم کشتیوں کی اس مارکیٹ سے گذر رہے تھے۔ گرمی خاصی بڑھ چلی تھی۔ ہم نے اپنی اپنی چھتریاں کھول رکھی تھیں۔ اس تیرتی ہوئ مارکیٹ سے گذرتے ہوئے کنارے پہ موجود ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں چائے پینے کا خیال آیا۔ اسی کے ساتھ ایک دوکان تھی جس میں بچوں کے کھلونے اور دیگر اشیاء موجود تھیں۔ میں مشعل کو وہ دکھانے لے گئ۔ چند ایک چیزیں لے کر میں اسکی ادائیگی کی لائن میں تھی کہ میرے ساتھ کھڑی مشعل زمین پہ بیٹھی اورایکدم بے ہوش ہو گئ۔  میں نے جلدی سے جھک کر اسے سیدھا کیا، سر کو جھکایا پھر جلدی سے بیگ سے گلوکوز نکال کر اسکے منہ میں ٹھونسا اور پانی کے قطرے ڈالنے لگی۔
ادھر سے مشعل کے بابا دوڑتے ہوئے آئے اور دوسری طرف ایک تھائ خاتون جلدی سے بھاگتی ہوئ آئ۔ اور کہنے لگی تمہیں ایمبولینس چاہئیے۔ وہ سامنے کھڑی ہے۔ ہم دونوں نے اسے اٹھایا اور ایمبولینس کی طرف دوڑ لگائ۔ یہ دراصل ایک کار تھی۔ ایسی دو کاریں اور یہاں موجود تھیں۔ ایمبولینس میں ڈالتے ہی ڈرائیور نے سائرن آن کیا اور ہم ہسپتال کی طرف روانہ ہوئے۔ ہسپتال پہنچنے میں ہمیں دس منٹ سے بھی کم وقت لگا۔ فوراً ہمیں ایمرجینسی میں لے جایا گیا۔ اس وقت تک مشعل تھوڑی بہتر حالت میں تھی۔ مگر چہرہ اترا ہوا تھا۔
یہ ایمرجینسی سیکشن ایسا تھا، جیسا کہ کراچی کے کسی بہترین پرائیویٹ ہسپتال کا ایمرجینسی یونٹ ہوتا ہے۔ ہر بیڈ کے ساتھ مشینیں اور آلات تھے۔ ماحول صاف ستھرا، نرسیں موجود۔ وہاں انہوں نے اسے ایک بیڈ پہ لٹایا، چیک کیا اور اسے او پی ڈی میں بچوں کے ڈاکٹر کے پاس بھیج دیا۔
یہ حصہ الگ تھا۔ ہم ایمرجینسی یونٹ سے باہر نکلے اور او پی ڈی کی طرف بڑھے۔ پیچھے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا۔ اس نے اپنے ہاتھ میں لی ہوئ چھتری کھولی اور ہمارے سروں پہ سایہ کئے ہوئے او پی ڈی تک لے گیا۔ او پی ڈی کے حصے میں ایئر کنڈیشنڈ کی ٹھنڈک موجود تھی۔ نرسز گلابی یونیفارمز میں موجود تھیں۔ ریسیپشن کے حصے میں تین خواتین اور ایک مرد موجود تھے۔ تینوں خواتین نے اسمارٹ سا گلابی روائیتی تھائ لباس پہنا ہوا تھا۔ اس اسمارٹ لباس کے ساتھ انکے گلوں میں موتیوں کی ایک لڑی اور کانوں میں ہلکے آویزے تھے۔ اپنی روائیتی نرم تھآئ زبان میں انہوں نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ مشعل کی فائل تیار کی۔ ڈاکٹر کا نام دیا۔ اور ہمیں ساتھ موجود ہسپتال کے گائڈ کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس بھیج دیا۔ یہاں لوگ تمیز سے بینچ پہ بیٹھے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔
دو لوگوں کے بعد ہمیں اندر بلا لیا گیا۔ گلابی یونیفارم اور سفید گاءون میں دلکش مسکراہٹ والی ڈاکٹر نے چیک کیا تمام معلومات لیں اور ہمیں بتایا کہ یہ وائرل انفیکشن ہے۔ ہو سکتا ہے شام تک بخار اور دست بھی آجائیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ کوئ اینٹی بائیوٹک نہیں دی جارہی ہے۔ دودھ بند کر دیں۔ نرم غذا کے ساتھ او آر ایس اور الٹی کی دوا دیتے رہیں۔ اگر بخار ہو جائے تو یہ دوا الگ سے ہے۔ اسی وقت شروع کرادیں۔
دوا ہسپتال کی فارمیسی سے ملی۔  دوا مفت تھی۔ یہ ایک پرائیویٹ ہسپتال نہیں بلکہ گورنمنٹ ہسپتال تھا۔ ہم ہسپتال سے نکلے تو گویا مسمرائِزڈ حالت میں تھے۔
تھائ لینڈ کی سب سے بڑی صنعت سیاحت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس سیاحت کی فروغ میں یہاں پیشہ ور خواتین کی آسان  دستیابی اور شراب کی آزادی شامل ہے۔
لیکن اس واقعے سے ایک شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ سیاحت صرف خواتین اور شراب کے سہارے نہیں چل سکتی۔  ایک خاندان جو بچوں کے ساتھ موجود ہو اسکے لئے پیشہ ورخواتین کی دستیابی کیا اہمیت رکھتی ہے۔ آپ نے پڑھا کہ ہسپتال میں ہمارے ساتھ کیسا وی آئ پی سلوک ہوا۔ اسکی وجہ یہ  تھی کہ ہم انکا ذریعہ ء روزگار تھے۔ ذریعہ ء روزگار کی عزت نہ کی جائے تو انسان خود عزت سے محروم ہو جاتا ہے۔
میں دوبارہ اگر تھائ لینڈ جانا چاہوں تو اب مجھے بالکل عار نہ ہوگا۔ وجہ سستی رہائیش، سستا کھانا، سستی اور آسان ٹرانسپورٹ، صحت کے کسی بھی ایمرجینسی مسئلے سے نبٹنے کے لئے ڈاکٹر اور ہسپتال فوراً موجود، عام لوگ معاون و مددگار۔ اور سب سے بڑھکر رات کو بارہ بجے میں اور میری ساتھی خاتون ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہیں بغیر کسی خوف کے۔ راستہ بھول جانے سے کوئ اندیشے لا حق نہیں ہوئے۔ یہ احساس نہیں تھا کہ ابھی کوئ ہاتھ سے پرس چھین کر فرار ہو جائے گا۔ اسلحے کے زور پہ ہر چیز سے محروم ہو جائیں گے۔ اگر خاتون ہیں تو آتے جاتے لوگ دھکے یا ہاتھ ماریں گے، سیٹیاں بجائیں گے، زبان پھیریں گے یا آنکھ ماریں گے، ہجوم والی جگہوں پہ بم پھٹنے کا خیال نہیں۔ احساس تحفظ کے
بغیرسیاحت میں کوئ کشش نہیں پیدا ہو سکتی۔
اپنے ملک کو سیاحت کے لئے مناسب مقام بنانے کا مطلب یہ ہے کہ آپکے ملک میں وہ تمام چیزیں جو آپکوبے حد خوبصورت لگتی ہیں، جنکی تاریخی یا روائیتی اہمیت ہے، جن سے قدرت نے صرف آپکو نوازا ہے انہیں دوسرے ممالک کے باشندوں کے ساتھ شیئر کریں۔ اس شیئرنگ کے  نتیجے میں وہ آپکے ملک میں رہتے ہیں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے خریداری کرتے ہیں، کھاتے پیتے ہیں اور جو چیزیں یہاں پسند آتی ہیں وہ یہاں سے خرید کر لے جاتے ہیں۔ ان تمام مراحل پہ وہ پیسے ادا کرتے ہیں۔ اس طرح یہ سیاح  ملک میں پیسہ لے کر آتے ہییں۔ سیاحت کے نتیجے میں مختلف روزگار بھی جنم لیتے ہیں۔ مثلاً سیاح اپنے ساتھ آپکے ملک کی کوئ نہ کوئ نشانی لےجانا چاہتے ہیں یا گھر والوں کے لئے تحفے لے جانا چاہتے ہیں۔ اس طرح سے ان چیزوں کی پیداوار بڑھانا پڑتی ہے۔
 اب اس ملک کی ذہانت  ہے کہ کسطرح اس سیاح سے یہ پیسے خرچ کرواتے ہیں اور کیسے اسے واپس جا کر اس ملک کے لئے مزید سیاح یعنی مزید کاروبار لانے پہ سوچنے پہ مجبور کرتے ہیں۔
خیر سیاحت کے نکتے سے عام سے سوالات ہیں جو آپ چاہیں تو صرف سوچتے رہیں یا چاہیں تو انکا اظہار کریں۔ پاکستان میں وہ کون سی جگہیں ہیں جنہیں آپ سیاحوں کے لئے پر کشش سمجھتے ہیں یا انہیں پر کشش بنایا جا سکتا ہے۔ وہ کون سی پروڈکٹس ہیں جو آپ  سمجھتے ہیں سیاح آپکے ملک سے خریدنا پسند کریں گے۔ 

Tuesday, February 22, 2011

ساحل کے ساتھ-۳


شام کے سوا چھ بج رہے تھے جب ہم پسنی سے کوئ بیس کلو میٹر کے فاصلے پہ شادی کور کی چیک پوسٹ پہ پہنچے۔  ٹرک ایل طرف رکا تو تھوڑے ہچکولے کھا کر گاڑی بھی رک گئ۔  ٹرک ڈرائیور نے معلومات درج کروائیں۔ ہماری گاڑی کی حالت تو سب پہ ظاہر تھی۔  تقریباً دو گھنٹے  ٹرک کے ساتھ رینگتے ہوئے ہم نے سوچا کہ ٹرک والوں سے بات کی جائے ہو سکتا ہے وہ ہمیں گوادر تک لے جانے پہ راضی ہو جائیں۔ وہ بھی تو گوادر جا رہے ہیں۔ بس یہ کہ انہیں پسنی میں زیادہ دیر کے لئے نہ رکنا ہو۔ 
سو وہ گاڑی سے اتر کر ان سے باتیں کرنے لگے۔ مجھے اس وقت ڈوبتے سورج کا منظر بے حد اچھا لگا اور میں نے سب بھول کر سوچا کہ اگر فلش آف کر کے لوں تو شاید بالکل ایسا ہی آجائے جیسا نظر آ رہا ہے۔ پہلی تصویر لی۔ اتنی دیر میں وہ واپس آ کر بیٹھے۔ گاڑی کے چلنے تک میں نے ایک اور تصویر لی۔ اور جب گاڑی اسٹارٹ ہو کر چلی ہی تھی کہ پیچھے سے سیٹیوں کی آواز آنے لگی۔
ٹرک اور گاڑی ایک دھچکے سے رکے۔ ایک سپاہی ہماری طرف تیزی سے دوڑتا ہوا آیا۔ آپکی گاڑی سے تصویر لی گئ ہے۔ جی میں گڑ بڑا گئ۔ دیکھے بغیر بھی جان سکتی ہوں کہ پڑوسی مجھے کن نظروں سے گھور رہے ہونگے۔
خیر، میں نے سپاہی محترم سے کہا کہ میں سورج کی تصویر بنا رہی تھی چاہیں تو آپ دیکھ سکتے ہیں۔ اسکے ساتھ ہی میں نے کیمرہ انکی طرف بڑھا دیا۔ اس نے کیمرہ نہیں لیا۔ بس میرے چہرے پہ ایک لحظہ نظر جمائے رہا۔ پھر کہنے لگا کسی یونیفارم والے کی تصویر تو نہیں لی۔ جی نہیں۔ ٹھیک ہے پھر آپ جا سکتے ہیں۔ 'دیکھا آپ سے کہا بھی تھا کہ چیک پوسٹ کی تصویر نہیں لینی ہے۔  شریف آدمی تھا چھوڑ دیا۔ ورنہ خوب درگت بناتے ہیں'۔ 'میں نے چیک پوسٹ کی لی بھی کہاں تھی۔ اسے میری معصومیت کے اعتماد پہ یقین تھا اس لئے چھوڑ دیا'۔ سچ پوچھیں تو کیمرہ بچ جانے پہ میں نے بھی دل میں شکر ادا کیا۔

لاکھ کوشش کی مگر نکل کر ہی رہے،،گھر سےیوسف، خلد سے آدم ، تیری محفل سے ہم

راستے میں ایک جگہ ہمارے محسنین چائے پینے کے لئے رکے اور بالآخر  رات کو گیارہ بجے گوادر سے بیس بائیس میل دورآباد ہماری منزل، مضافاتی آبادی کے باہر ٹرک رک گیا۔  ڈرائیور نے اتر کر آگے جانے والے راستے کا معائینہ کیا اور پھر معذرت کرلی۔ اندر آبادی میں  نہیں جا سکتے۔ روڈ مکمل نہیں بنا ہوا اور ٹرک کے پھنس جانے کا اندیشہ ہے ورنہ ہم ضرور آپکو گھر تک پہنچا کر گوادر جاتا۔
 ہم تو راستے بھر ویسے ہی انکے احسان پہ حیران ہوتے  چلے آرہے تھے۔ اس ویرانے میں سوا دو سو کلومیٹر تک ایک لوڈڈ رینج روور کو کھینچ کر لے جانے کا  احسان اگر دنیا میں کوئ کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے تو وہ شاید ایک بلوچ کا حوصلہ ہی ہو سکتا ہے۔ اس ٹرک میں موجود تینوں افراد بلوچ تھے۔  بلوچ اپنی مہمانداری کے لئے مشہور ہیں اور اپنی وسعت قلب کے لئے بھی۔ پھر آخر ایسا کیوں کہ اس صوبے کے اندر ان لوگوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جائے جو بلوچ نہیں لیکن جو وہاں انکے ساتھ حیات کی سختیوں میں شریک ہونے کے لئے موجود ہیں؟
روڈ کے کنارے کھڑے کھڑے، تھوڑی دیر میں ایک گاڑی نظر آئ۔  سوار بلوچ نے کہا میں آگے ایک کام سے جا رہا ہوں اگر آپ دس منٹ انتظار کر لیں تو واپسی میں میری گاڑی میں جا سکتے ہیں۔ سامان تو ہم پہلے ہی سیٹ کر چکے تھے۔ جتنی دیر ہم وہاں اس کا انتظار کرتے رہے۔ جو بھی گاڑی وہاں سے گذری اس نے ہماری خیریت دریافت کی۔ حسب وعدہ وہ شخص آگیا۔ سردی اتنی نہیں تھی جتنی ہوا تیز چل رہی تھی۔ ضروری سامان  ساتھ لیا اور اس میں بیٹھ گئے۔ گھر وہاں سے  ڈیڑھ دو کلو میٹر سے زیادہ دور نہیں تھا۔
 گھر پہنچ گئے۔ شاید ایک سال کے بعد کھلا تھا۔ ہر چیز پہ  مٹی کی موٹی تہہ جمی تھی۔
مشعل بھی اٹھ چکی تھی۔ اسے جھاڑو دینا اور ڈسٹنگ کرنا بے حد پسند ہے۔ مستقبل میں وہ ماسی بن کر قوم کی خدمت کرنے میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں۔ ہر جگہ اتنی مٹی جمع دیکھ کر انکے دل کی کلی کھل گئ۔ اور اس وقت جبکہ ہم پلان بنا رہے تھے کہ رات کے اس وقت، اتنی تھکی ہوئ حالت میں ہم کیا کیا کر سکتے ہیں وہ بار بار یاد دہانی کرا رہی تھیں کہ وہ اب بڑی اور سمجھدار ہو چکی ہیں اور ہمارے شانہ بشانہ کام کرنے کو تیار ہیں۔ والدین کو اندازہ ہو سکتا ہے کہ  ایک چار سالہ بچے کی ان رضاکارانہ خدمات کو کتنی سختی سے ٹھکرانا پڑتا ہے۔ یوں کام گھٹنے کے بجائے اور بڑھ جاتا ہے۔ 
بہرحال بیڈ روم کی صفائ، صاحب نے سنبھالی، کچن کی میں نے تاکہ کھانا گرم کر کے پیٹ پوجا کی جائے۔  حیات میں شریک ہونا  شاید اسی کو کہتے ہیں۔ مشعل دونوں جگہوں کے درمیان دوڑتی رہیں تاکہ جہاں موقع ملے وہ گھس جائیں اور بزور قوت اپنا حق صفائ حاصل کریں۔ ہماری قسمت کی کمزوری کہ انہیں کہیں سے ایک گندہ کپڑا اور ٹوٹی ہوئ جھاڑو بھی مل گئ تھی۔
صبح کے لئے پروگرام یہ بنا کہ کراچی میکینک کو فون کر کے پہلی بس سے یہاں آنے کو کہا جائے۔ کیونکہ گوادر میں کوئ اچھا مکینک  ملنا ممکن نہیں۔ پھر گاڑی کو گھر کے گیراج تک لانے کا بندو بست ہو۔ پھرگھر کی اچھی طرح صفائ کی جائے۔
اس واضح منصوبے کے بعد ہم نے اپنے اوپر سے دن بھر کی گرد جھاڑی اور ہر اندیشے سے بے نیاز ہو کر بستر پہ پڑ گئے۔ گھر سے چار پانچ گز کی دوری پہ سمندر کی لہریں، ساحل سے راز ونیاز میں مشغول تھیں۔ کہتے ہیں
رات بھر کوئ نہ سوئے تو سنےشور فغاں
چاند کو درد سناتا ہے سمندر اپنا
لیکن ایک لمبے دن کے بعد رات کے ایک بجے تھکن نے ہر جذبہ ء  تجسس کو بھی سلا دیا  تھا یہ ممکن نہ تھا کہ کسی کا درد سننے کے لئے ہم جاگتے رہیں۔ سو اسے لوری سمجھ کر گہرری نیند کے مزے لئے۔


صبح گاڑی گھر تک کیسے پہنچی؟ اس کے لئے وہاں زیرتعمیر جیٹی کا شکریہ کہ اسکی وجہ سے ایک ٹریکٹر مل گیا جو مقامی بلوچوں کی مدد سے اسے کھینچ کر گھر تک لے آیا۔


اب میکینک کا انتظار تھا۔ جو اسی رات تین بجے  آنے والی بس سے پہنچ رہا تھا۔ یہ اس کا گوادر کا پہلا سفر تھا۔ اور وہ خاصہ پُر جوش تھا۔ یوں جیسے کراچی میں کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرنے والے کو تھائ لینڈ جانے کا پیغام ملے۔

جاری ہے

Sunday, November 21, 2010

نو سے پانچ

میں اپنی ایک عزیزہ سے ملنے انکے گھر رات کو نو بجے پہنچی پتہ چلا کہ ابھی تک آفس سے واپسی نہیں ہوئ۔ وہ ایک سوفٹ ویئر انجینیئر ہیں اور ایک سوفٹ ویئر ہاءوس میں کام کرتی ہیں۔ رات کو دس بجے انکی واپسی ہوئ۔ لیکن آفس ٹائم ختم نہیں ہوا تھا کہ اب وہ گھر میں رات کو دیر تک بیٹھ کر کام کریں گی۔ وہ بتانے لگیں کہ اگر چار گھنٹے کی بھی نیند مل جائے تو عیاشی سمجھی جاتی ہےاور یہ انکا روز کا معمول ہے۔ اسکی وجہ سے صحت پہ جو اثرات ہیں وہ الگ ہیں۔ آپ تصور کر سکتی ہیں کہ جو شخص میرے ما تحت کام کرتا ہے وہ آفس چھ بجے چھوڑدیتا ہے اور اسکی تنخواہ مجھ سے بیس ہزار روپے زیادہ ہے۔ انہوں نے جھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔ در حقیت میرے ماتحت پانچ لڑکے کام کرتے ہیں۔اور وہ سب شام کو چھ بجے کے بعد نہ صرف کام کرنے کو تیار نہیں ہوتے بلکہ کام کا معیار ایسا ہوتا ہے کہ مجھے ہی اسے بھگتنا پڑتا ہے۔ لوگ بڑے بڑے ادروں سے پڑھ کر آرہے ہیں بڑے مطالبات ہیں انکے مگر کام کے نام پہ ایک چھوٹے سے مسئلے سے نہیں نبٹ سکتے ایک پریزینٹیشن کا کہہ و جان نکل جاتی ہے انکی اور یہ سب میرے ہم عمر لوگ ہیں۔ میں ٹیم لیڈر ہوں اور نتیجے میں کام کا سارا لوڈ میرے اوپر پڑ جاتا ہے۔
 میری ایک اور دوست جو کہ کسی اور سوفٹ ویئر ہاءوس میں کام کرتی ہیں انکی کہانی بھی یہی کہ رات کو نو دس بجے گھر سے واپسی ہوتی اور صبح ساڑھے سات بجے تک گھر سے نکل جاتی ہیں۔ یہ بتاءو تمہاری اب شادی ہونے والی ہے تب یہ سب کیسے چلے گا۔ میں نے پوچھا۔ ایسے ہی چلتا ہے۔ جو شادی شدہ کولیگز ہیں وہ بھی تقریباً اسی وقت تک جا پاتی ہیں۔ 
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کی جاب کا کوئ تصور نہیں رہا۔ سوائے سرکاری داروں کے تمام غیر سرکاری ادارے اپنے تنخواہ دار طبقے کا خون چوس لینا چاہتے ہیں۔ مقررہ وقت سے الگ رک کر زیادہ کام کرنے والوں کے لئے یعنی اوور ٹآئم کا کوئ تصور نہیں اور یوں اب زائد کام، زائد تنخواہ کا کوئ تصور نہیں رہا۔ ان کام کرنے والوں کے کوئ بنیادی حقوق نام کی چیز نہیں۔
حتی کہ میڈیا سے تعلق رکھنے والے لوگ جو معاشرے کی زبوں حالی کا رونا روتے نہیں تھکتے۔معاشرے کو کرپشن سے پاک کرنے کا عزم دوہراتے ہیں، نا انصافیوں کو دور کرنے کی باتیں کرتے ہیں  وہ خود بھی ان سوفٹ ویئر ہاءوسز کو چلا رہے ہیں مگر انکے یہاں کام کرنے والوں کے ایسے کسی حق کا خیال نہ کرنا انکی شخصی دوہریت کو ظاہر کرتا ہے جو ماشااللہ ہمارے معاشرے میں کثرت سے پائ  جاتی ہیں۔ چار لوگوں کے سامنے بیٹھ کر اخلاقی تقاریر کرنے میں کسے مزہ نہیں آتا۔ عملی طور پہ وہ انہی اخلاقی اصولوں کا مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں۔


خاص طور پہ جب وہ خواتین کو اتنے طویل وقت کے لئے روک رکھتے ہیں تو کیا انہیں خیال ہوتا ہے کہ یہ عورت ایک ماں بھی ہے، اسے اپنی گھریلو ذمہ داریاں بھی دیکھنا ہونگیں اور دیکھنا چاہئییں۔ گھر کسی معاشرے کی اکائ ہوتا ہے۔ اس اکائ کی ساخت کو محفوظ اور بہتر بنانے کے لئے ہمارے یہاں کیا ہو رہا ہے۔ جواب یہ ہے کہ کچھ نہیں۔ خواتین کو ملازمت میں ترجیح دی جاتی ہے اس لئے کہ وہ خاموشی سے گدھے گھوڑے کی طرح کام کرتی رہیں گی۔ ادھر خواتین کے لئے سب سے زیادہ اہمیت نوکری اور تنخواہ ہی کی نہیں ہوتی بلکہ ادارے میں اگر انہیں ماحول محفوظ لگے تو وہ جاب سوئچ کرنے سے گریز کرتی ہیں کہ اگلی جگہ خدا جانے کیسا ماحول ملے یوں وہ رسک لینے سے گھبراتی ہیں۔ دوسری طرف ہماری خواتین کو پیشہ ورانہ میدان میں داخل ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گذرا تو وہ اپنی حق تلفی کے سلسلے میں بلکہ کسی بھی سلسلے میں زبان کھولنے سے گھبراتی ہیں۔ یوں کام کا ایک غیر ضروری بوجھ اٹھاتی ہیں اور دب کر بھی رہتی ہیں۔ تیسری طرف جب سے عالمی مارکیٹ میں کساد بازاری کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ آجر، اپنے اجیروں کی تعداد کو کم سے کم رکھتے ہوئے اتنا ہی کام کروانا چاہ رہے ہیں۔تاکہ انکا سرمایہ زیادہ خرچ نہ ہو اور منافع کی شرح برقرار رہے یوں انکی اس ڈریکولا والے انداز کے خلاف بولنا اپنی نوکری سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہے۔
کیا ترقی یافتہ ممالک میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ مجھے آسٹریلیا میں کچھ وقت گذارنے کا موقع ملا اور یہ دیکھ کر حیرانی ہوئ کہ تقریباً تمام مارکیٹ سات بجے شام کو بند ہوجاتی ہے۔ آفس کے اوقات صبح نو سے پانچ۔ کبھی ہی ایسا موقع ہوتا ہے کہ دیر تک رکنا پڑے۔ ہفتے میں دو دن کی چھٹی۔ جس میں ایک خاندان کے تمام لوگ سیر و تفریح کا پروگرام بناتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے یہ سب کچھ کیوں۔ اس لئے کہ خاندان کو ایک ساتھ وقت گذارنے کا موقع ملے اور اس طرح معاشرے کی اکائ یعنی ایک خاندان مطمئن اور توازن سے بھر پور زندگی گذارے۔
میری وہی عزیزہ، ابھی چند مہینے پہلے  امیگریشن کے بعد کینیڈا چلی گئیں۔ ایک چیز سے خوش ہیں کہ  وہ شام کو چھ بجے اپنے گھر میں ہوتی ہیں، کھانا بناتی ہیں، ٹی وی دیکھتی ہیں۔ رات کا کھاناہم سب مل کر کھاتے ہیں۔ یہاں زندگی بہت ریلیکس ہے۔ ہر ہفتے کو ہم کہیں نہ کہیں گھومنے جاتے ہیں۔
حتی کہ تھائ لینڈ جیسے ملک میں جو کہ ترقی یافتہ ممالک مِں شامل نہیں اور شہروں میں شاید ہر عورت کام کرتی ہوگی۔ اس بات پہ توجہ دی جاتی ہے کہ خواتین اپنے آپکو آفس میں ہی نہ خرچ کر ڈالیں بلکہ اپنے گھر کے لئے بھی خود کو بچا کر رکھیں۔
ہمارے یہاں ایسا کوئ تصور نہیں۔ کوئ ایسی دستاویز جس میں کام کرنے کے زیادہ سے زیادہ اوقات بیان کئے گئے ہوں۔ کسی کو اس بات کی چنداں فکر نہیں کہ ملازمت پیشہ خواتین  کے مسائل کی طرف بھی نظر کرے۔ ظاہر ہے جہاں بات روٹی کے گرد ہی گھوم رہی ہو وہاں اس قسم کے مسائل میں کس کو دلچسپی ہو سکتی۔ اور خواتین کے مسائل کو تو کسی گنتی میں ہی نہیں رکھا جاتا، زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیا جائے گا کہ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ خواتین کام نہ کریں انہیں گھر کی ملکہ بن کر رہنا چاہئیے۔ یہ انکا کام نہیں۔ حالانکہ ملازمت پیشہ خواتین کا بڑا حصہ اپنے خاندان کی معاشی کمزوریوں کی بناء پہ کام کرنے پہ مجبور ہوتا ہے۔مگر یہ سب کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ جب روٹی نہیں خرید پاتے تو کیک خریدنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی۔ جب زراعت کا زمانہ تھا عورت گھر کی کھیتی باڑی میں اپنے حصے کا کام کرتی تھی اور برابر سے کرتی تھی۔ اب انڈسٹریئل زمانہ ہے اس میں بھی کسی کے لئے رعایت نہیں اور سب کو کام کرنا پڑتا ہے۔
کس کو فکر کہ ایک کام کرنے والے پہ کام کا کتنا بوجھ ڈالا جا سکتا ہے۔  ان  پریشان لوگوں کا کوئ پر سان حال نہیں اور نہ شاید کوئ اسکا احساس کرتا ہے۔  حکومتی عناصر اور ہمارے پالیسی ساز ذہن معاشرے کے استحکام کے لئے پالیسیاں بنانا کب شروع کریں گے۔جس طرح معاشرے میں اور ظلم اور زیادتیوں کو قبول کر کے بس زندہ رہنے کی رسم نبھانے کی عادت ڈال لی گئ ہے وہیں اس ظلم کے خلاف بھی کوئ آواز اٹھانے والا نہیں ۔

Monday, November 8, 2010

اوپن ہارٹ

میری ایک محقق دوست جرمنی سے واپس آئیں تو ان سے ملاقات ہوئ۔  باتوں باتوں میں وہاں کے قصے چھڑے تو بتانے لگیں کہ جب میں نے اپنی جرمن پروفیسر کو بتایا کہ ہمارے ساتھ جو میرے کولیگ موجود ہیں انکی اوپن ہارٹ سرجری ہو چکی ہے۔ تو وہ پوچھنے لگیں کہ کہاں ہوئ تھی۔ میں نے بتایا پاکستان میں۔ ایکدم کندھے اچکا کر کچھ حقارت سے کہنے لگیں کہ کیا پاکستان میں ڈاکٹرز اوپن ہارٹ سرجری کر لیتے ہیں اور وہاں ہوتی ہے۔ اس سے میری دوست کے دل کو دکھ پہنچا۔ جرمن مغرور اور اکھڑ ہوتے ہیں۔ یہ اکثر سننے میں آتا ہے۔ لیکن جب کوئ آپکے سامنے آپکے وطن کا تذکرہ حقارت سے کرے تو رنج تو ہوتا ہے۔
 ان کا یہ طرز عمل شاہد انکی لا علمی پہ مبنی تھا۔ جب لوگ اپنے آپ میں گم ہو جائیں تو اکثر وہ اپنے علم سے نہیں بلکہ لا علمی سے دوسروں کا دل دکھاتے ہیں یا انکے لئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پہلی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو پچھلے کچھ سالوں سے معاشی بحران کا سامنا ہے جسکے نتیجے میں وہ اپنے باشندوں کو بنیادی سہولیات مناسب طور پہ نہیں دے پا رہے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ اسکی وجہ سے بے روزگاری کی شرح میں انتہائ اضافہ ہوا ہے اور یوں لوگوں کو اب ویسی آسانیاں میسر نہیں جیسی پہلے تھیں۔ بعض ممالک میں گورنمنٹ کے ہسپتالوں میں تین تین سال تک کی لمبی لائن لگی ہوئ ہے۔
یوں دنیا کے وہ ممالک جو سستی طبی سہولیات اور بہتر نتائج دے سکتے ہیں۔ وہ پہلی دنیا کے عوام کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔  انڈیا میں تو یہ باقاعدہ ایک صنعت کی حیثیت اختیار کر گئ ہے۔ ٹیسٹ ٹیوب بے بی پیدا کرنا ہو، سر پہ مصنوعی بال لگوانے ہیں، دانتوں کا نیا سیٹ بنوانا ہے، گردوں کی پیوند کاری کروانی ہے ۔ لوگ اب ان ملکوں کا رخ کرتے ہیں۔ انڈیا میں تو یہ ایک صنعت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ آنے والا اپنے ساتھ ڈالرز لے کر آتا ہے۔ وہ جب اسے روپوں میں تبدیل کرتا ہے تو اسے زیادہ پیسے حاصل ہوتے ہیں۔ لوگ سیر تفریح کرتے ہیں، اپنا کام کرواتے ہیں، ایک نئ جگہ سے آشنائ حاصل کرتے ہیں اور خوش خوش اپنے ملک واپس جاتے ہیں۔ یہ کہلاتی ہے طبی سیاحت۔ اس سارے کے بعد بھی انکا کل خرچہ، انکے ملک میں ہونے والے خرچے سے خاصہ کم ہوتا ہے۔
انڈیا میں ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے لئے رضاکار بھی بآسانی مل جاتے ہیں۔ غریب عوام اپنے اعضاء بیچنے کے لئے تیار ہے۔ ادھر پاکستان میں۔ لاہور میں بآسانی گردے مل جاتے ہیں۔ اور شہر میں یہ کاروبار ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں بہت سرگرمی سے چل رہا ہے۔ میں خود ایسے لوگوں سے مل چکی ہوں جو پاکستان سر پہ بال لگوانے یا دانتوں کے علاج کے لئے آئے تھے۔
انڈیا کے علاوہ اس خطے میں تھائ لینڈ بھی کام کر رہا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ صنعت پھلنے پھولنے کے امکانات ہیں اورکئ ڈاکٹرز اس سمت میں کام بھی کر رہے ہیں۔  اگرچہ  ہم مہنگائ کی وجہ سے مختلف سہولیات کو اپنے سے دور ہوتا محسوس کر رہے ہیں کہ ہم روپوں میں کما کر روپوں میں خرچ کرتے ہیں۔ لیکن یہ ان لوگوں کو سستی لگتی ہے جو ڈالرز لے کر ان جگہوں کا رخ کرتے ہیں۔  یہ تو آپ جانتے ہی ہونگے کہ آجکل ایک ڈالر، پاکستانی تقریباً چھیاسی روپوں کا بن رہا ہے۔ میں جس اسپیشلسٹ کی آٹھ سو روپے فیس سن کر سوچ میں پڑ جاتی ہوں وہ ڈالر میں دس ڈالر سے بھی کم ہوتی ہے۔ پہلی دنیا کے بازاروں میں دس ڈالر میں اچھے سیب شاید آٹھ دس آجائیں مگر ایک اچھا ڈاکٹر نہیں ملے گا۔
آپکو لگا کہ ان جرمن یونیورسٹی پروفیسر کو ہمارے خطے کے بارے میں کچھ کم آگاہی نہیں۔ بلکہ شاید وہ اپنے ہی خطے کے ان لوگوں کے بارے میں بھی واقف نہیں جو نیرنگی ء زمانہ سے نبرد آزما ہونے کے لئے ہر ممکن طریقہ کام لا رہے ہیں۔ لیجئیے انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ انڈیا کے انڈر ورلڈ ڈان داءود ابراہیم کی اوپن ہارٹ سرجری بھی کراچی میں ہوئ، آپس کی بات ہے ہمیں بھی اسی لنک سے پتہ چلا۔ 
اب یہ بتائیے کہ ایکدوسرے سے آگاہ رہنے کے لئے دنیا کے لوگوں کو کیا کرنا چاہئیے۔ایک  بات تو میں بتا دیتی ہوں۔ اپنے دلوں کو اوپن کر لیجئیے، اس سے پہلے کہ اوپن ہارٹ سرجری کی باری آئے۔ باقی اب آپکی باری ہے۔

Friday, July 16, 2010

طاقت

میں بنکاک ایئر پورٹ پہ جب اتری تووہاں سے تھائ لینڈ کے شہر پھوکٹ جانے والی پرواز میں ابھی چار گھنٹے باقی تھے۔ میرے ساتھ ایک پاکستانی دوست فیملی بھی تھی۔ ہم ایئر پورٹ پہ ونڈو شاپنگ کرنے لگے۔ یعنی چیزیں دیکھ  دیکھ کر انکی تصوراتی خریداری سے دل بہلانا۔ چاہے جیب میں دھیلا نہ ہو۔ میرا دل تو دنیا کی بیشتر چیزوں سے اسی طرح بہل کر بھر گیا۔ ہم ٹہلتے ہوئے ایک دوکان میں داخل ہوئے جہاں سچے موتیوں کے زیورات تھے۔ لیکن ہمارے ساتھ موجود خاتون جو میری والدہ کی عمر کی ہونگیں۔ انکی نظریں، سیلز پرسن کے چہرے سے چپک گئیں۔ پھر وہ سرگوشی میں بولیں۔ ائے کیسا ملک ہے۔ یہاں ہیجڑے بھی کام کرتے ہیں۔ انکے لہجے میں ایک کراہیت تھی۔ تو کیا ہوا، اچھی بات ہے کچھ تو کرتے ہیں ہمارے یہاں کی طرح جسم فروشی اور بھیک مانگنے کا کام تو نہیں کرتے۔ یہ دوسرا جملہ میں نے دل میں سوچا۔  بآواز بلند کہتی تو لبرل ہونے کا طعنہ ملتا۔
پھوکٹ میں ایکدن ہمیں اتنا وقت ملا کہ پھوکٹ کے نزدیک واقع پی پی آئلینڈ کا بوٹ ٹرپ لے لیا۔ یہ ٹرپ بہت زیادہ مزے کا تھا۔ لیکن ہماری بڑی خاتون جیسے ہی بوٹ میں داخل ہوئیں ایک دفعہ پھر جھٹکے سے دو چار ہوئیں کہ ٹرپ کا گائڈ یا لیڈر ایک ہیجڑا تھا۔ وہ اسی طرح وقفے وقفے سے ناز ا ادا دکحا کر اور کبھی سنجیدہ ہو کر ہم سب کی توجہ اپنی طرف رکھے رہا۔


جب ہم سب سمندر میں مچھلیوں کو کھانا کھلاتے سینکڑوں مچھلیوں کو اچھلتے کودتے دیکھ رہے تھے ہماری بزرگ خاتون اس گائڈ کے اوپر نظر رکھی بیٹھی رہیں۔ جب ہم سمندر میں آڑی ترچھی اسنارکلنگ  کی کوششیں کر رہے تھے اور مشعل یہ ثابت کرنے کے لئے کہ وہ کتنی اچھی تیراک ہیں اپنے دونوں ہاتھوں کو جوڑتیں اور سمندر میں چھلانگ لگانے سے قبل ہم سب کوڈانٹ کر توجہ چاہتیں ہماری بزرگ خاتون  ریتیلے ساحل پہ پڑے ہجوم میں اس گائڈ کو تلاش کر رہی ہوتیں۔ 
حتی کہ پاکستان  واپس آکر بھی انہیں یاد آتا رہا کہ تھائ لینڈ کتنا عجیب ملک ہے وہاں ہیجڑے بھی کام کرتے ہیں۔
چار دن پہلے میں اپنے گھر کے نزدیک لگنے والے بچت بازار گئ۔ یہ ہفتے میں تین دن لگتا ہے اور میں یہاں سے پورے ہفتے کی سبزیاں اور پھل لے لیتی ہوں۔ یہاں افغانی بچے پھرتے رہتے ہیں جنکی عمریں پانچ سال سے لیکر چودہ پندرہ سال تک ہوتی ہیں۔ چھوٹے بچے پلاسٹک کی تھیلیاں بیچتے ہیں اور ذرا بڑے بچے سامان بھی اٹھا لیتے ہیں۔ غربت کی سطح اتنی بڑھ چکی ہے کہ جب میں ان میں سے کسی مناسب عمر کے بچے کوسامان اٹھانے میں مدد کے لئے ڈھونڈھ رہی ہوتی ہوں تو چھ سات سال کے بچے بھی سامان اٹھانے کے لئے منتیں کر رہے ہوتے ہیں۔
بہر حال ، ایک بچے نےمجھے ڈھونڈ لیا کہ ہر ہفتے جاتی ہوں۔ اور باقی بچوں کو مجھ سے دور کر دیا۔
خریداری کے بعد جب میں اسکے ساتھ سامان رکھنے میں مصروف تھی تو وہاں پہ ایک ہیجڑا آگیا۔ اور پیسے مانگنے لگا۔ بازار میں آجکل ایسے چار پانچ ہیجڑے پھرتے رہتے ہیں۔ پھر اس نے اپنا سبق شروع کر دیا۔ اللہ تیرے صاحب کو اور دے۔ خدا تجھے چاند سا بیٹا دے۔ اللہ تیری خوشیوں کو قائم رکھے۔ ہم غریبوں کو ہمارا حق دیتی جا۔ میں نے معاف کرنے کا کہا اور خاموشی سے سنی ان سنی کر کے اس بچے کے ساتھ مصروف رہی۔ پھر وہ کہنے لگا کہ روپے دو روپے دینے میں تمہاری دولت کم نہیں ہو جائے گی۔ ہماری تو زندگی ہی تم لوگوں کی خیرات سے ہے۔ تب میں نے اس سے کہا کہ  کیوں ہے تمہاری زندگی ہماری خیرات سے۔ اس بچے کو دیکھا تم نے بمشکل دس گیارہ سال کا ہے میرے ساتھ سامان اٹھا کر بازار سے گاڑی تک اٹھا کر لایا ہے۔ آخر تم میں اس سے زیادہ طاقت ہے۔ تم کیوں نہیں سامان اٹھانے کا کام شروع کر دیتے۔ میں اس بچے کو پچیس روپے دیتی ہوں۔ وہی تمہیں دے دونگی۔ ارے میں اپنی چھوٹی بہن کے صدقے، ہم ہیجڑوں میں کہاں طاقت ہوتی ہے۔ یہی تو رونا ہے کہ ہم میں طاقت نہیں ہوتی۔ خدا نے تو ہمیں خالی ہی پیدا کر دیا ہے۔
مجھے تھائ لینڈ کا سیلزمین یاد آگیا جب وہ مجھے اپنے لمبے سنہرے کئے ہوئے بالوں سے ڈھکی گردن پہ سچےموتیوں کی مالا سجا کر دکھا رہا تھا۔ یا وہ گائڈ جو ہنس ہنس کر پورا دن ہمیں مصروف رکھے رہا۔ ان لوگوں میں کہاں سے طاقت آتی ہے۔

نوٹ؛ ان تصویروں میں، میں کہیں نہیں ہوں، البتہ یہ تصاویر میرے کیمرے کی ہیں۔

Friday, January 8, 2010

یہودی کا بیت الخلاء

ان لوگوں سے معذرت کے ساتھ جو یہودیوں سے سخت نفرت کرتے ہیں۔ میں کیا کروں، مراقبے کی یہ جگہ میں نے  تھائ لینڈ کے شہر پھوکٹ میں ایک یہودی کے ریسٹورنٹ میں دیکھی۔ اور یہ تصویر اپنے بیان کی صحت کو ثابت کرنے کے لئیے دے رہی ہوں۔



میرے اپنے گھر میں کچھ لوگ کتابیں اور اخبار لیکر اس راہ پہ روانہ ہوتے ہیں۔ اور اکثر غسل خانہ میں تولیے کے ہینگر پہ اخبار ٹنگا ملتا ہے۔ شاید ایسے لوگوں کی ہڑک کو مد نظر رکھتے ہوئے اس ریسٹورنٹ کے مالک نے اسے ایک نئ جدت کے ساتھ سجایا ہے۔ جب میں نے یہ دروازہ کھولا تو اندر کی طرف جانیوالے تنگ راستے کی دیواروں پہ قد آدم تصویروں کے چسپاں پرنٹ دیکھ کر ششدر رہ گئ۔  آگے چلکر ان میں سے کچھ  شخصیات کے اقوال بھی ساتھ لکھے نظر آئے۔ خود پڑھے اور ان میں سے کچھ آپکے لئیے جمع کر لئیے۔ واضح رہے کہ اس میں کچھ توبہ شکن تصاویر بھی شامل ہونے سے رہ گئیں۔ مثلاً الزبتھ ٹیلر کی مسکراتی اور میڈونا کی جھلملاتی تصاویر وغیرہ۔

یہ لینن صاحب ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ چند لوگوں کو نہیں مار سکتے تو انقلاب کس لئیے بھئ۔ لینن کو کچھ قدرتی پیچیدگیوں کی وجہ سے ہمارے سیاستدانوں سے سیکھنے کا موقع نہیں ملا۔ وہ تو بغیر انقلاب کے بھی چند لوگوں کو مارنا خاطر میں نہیں لاتے۔
یہ آسکر وائلڈ صاحب ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ہم بہت ساری چیزیں پھینکنا چاہتے ہیں مگر اس لئیے نہیں پھینکتے کہ کوئ اور نہ انہیں اٹھا لے۔ یہ پڑھ کر مجھے وہ ادیب یاد آگئے جو بہت کچھ لکھنا چاہتے ہیں مگر نہیں لکھتے کہ کوئ اور انہیں سرقہ نہ کر لے۔ اور یوں بہت ساری تحریروں کا بوجھ اپنے دل پہ لئیے رخصت ہوجاتے ہیں۔
یہ صاحب، تصویر میں آنے سے رہ گئے ہیں بہر حال انکا مقولہ ہے کہ سب سے بڑا گناہ دوسروں کو خوش کرنے کے لئیے خود کو بگاڑنا ہے۔ پڑھنے میں تو کچھ بہت گہری بات لگ رہی ہے لیکن کوئ مثال  اگر ذہن میں آرہی ہے تو اسکا کوئ نہ کوئ تعلق ہماری خارجہ پالیسی سے جا ملتا ہے۔ جس سے موضوع کے متنازع ہوجانے کا اندیشہ ہے۔
یہ شاید عام پاکستانیوں کے موجودہ حالات کے بارے میں کہا گیا ہے۔کل کے بارے میں پریشان نہ ہوں وہ بہرحال آ کر رہے گا۔ آج کے بارے میں پریشان ہوں۔ یہ اگر بغیر سوچے سمجھے آجائے تو بڑا لمبا ہو جاتا ہے اور پھر کل نہیں آپاتا۔

ہر عظیم آدمی کچھ نہ کچھ کہہ کر جاتا ہے۔ آئنسٹائن نے بھی فرمایا۔ دو چیزوں کی کوئ حد نہیں ہے۔ پہلی چیز کائنات ہے اور دوسری چیز حماقت۔ اور پھر انہوں نے مزید فرمایا۔ مجھے پہلی چیز کے بارے میں  پھر بھی شبہ ہے۔ بادی النظر میں یہ لگتا ہے کہ جیسے اس وقت سارے طبیعیات داں کائنات کا مطالعہ اسی لئیے اتنی باریک بینی سے کر رہے ہیں کہ دوسری چیز کو صحیح ثابت کیا جا سکے۔

اس مقولے کے مطابق ہر انسان کے اندر دو بھیڑئیے رہتے ہیں۔ ایک اچھا ہے اور دوسرا برا۔ ان میں سے جیتتا وہی ہے جسے آپ کھانا کھلاتے ہیں۔ لیکن کہیں ضیا الحق قاسمی کی طرح یہ نہ ہو کہ میں شکار ہوں کسی اور کا، مجھے مارتا کوئ اور ہے،،، مجھے جس نے بکری بنا دیا وہ تو بھیڑیا کوئ اور ہے۔
اس بادبانی کشتی کے ساتھ یہ نصیحت ہے کہ اگرآپکو یہ نہیں معلوم کہ کہاں جانا ہے تو بہترین ہوا بھی آپکی کچھ مدد نہیں کر سکتی۔ شاید اسی کو سن کر سید ضمیر جعفری نے کہا کہ   ساگر کے سر شناس اگر ناخدا نہ ہوں،،بنتے ہیں کشتیوں کے کفن بادبان میں۔ واہ
 
امن کی ثالثی کرنیوالا مگرمچھ کو یہ سوچ کر کھلاتا ہے کہ مگر مچھ اسے سب سے آخر میں کھائے گا۔ اس پہ مجھے ایک شبہ ہے کہ بعض اوقات امن کی ثالثی کرنےوالے جسے مگر مچھ سمجھ کر کھلا رہے ہوتے ہیں وہ اصل میں کوئ سیل ہوتی ہے اور مگر مچھ کسی وقت اچانک پیچھے سے یہ کہکر حملہ کر دیتا ہے کہ مجھے کیوں نہیں کھلایا۔


زندگی میں اس چیز کی اہمیت نہیں ہوتی کہ آپ کتنی زور سے گھونسا مارتے ہیں۔ بلکہ اس چیز کی اہمیت ہوتی ہے کہ آپ کتنی تیزی سے ٹکڑے سمیٹ کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اس میں ، میں صرف یہ جمع کرنا چاہتی ہوں کہ  کتنی جلدی اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، مزید گھونسے مارنے کے لئیے۔ اسکی اہمیت ہوتی ہے چندا۔
یہ جو نیچے تصویر آرہی ہے۔ یہ تو بنیادی طور پہ آپ سب کے تبصرے کے لئیے چھوڑ دی ہے۔ بس نجانے کیوں غالب کا یہ شعر یاد آگیا۔

شوق، ہر رنگ رقیب سرو ساماں نکلا
قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

 

نوٹ؛ ان تمام تبصروں سے آپکا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اختلاف کی  صورت میں اپنا کوئ تبصرہ جمع کرائیے۔ آپکے نام کے ساتھ اس پوسٹ میں ڈال دیا جائےگا۔

تبصرہ، ریاض شاہد؛
رہے صاحب نقش ونگار تو وہ غالبا تصویر یار آئینہ دل کی بجائے اس جگہ زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں اور مقاصد کے علاوہ اس کا مقصد شاید یہ بھی ہو کہ اگر جنگ یا کسی حادثے میں بازو کٹ کر گم ہو جائے تو جس صاحب کو ملے اسے اس کی محبوبہ تک پہنچانے میں آسانی رہے ۔

Tuesday, June 9, 2009

لاگ اور لگاءو

تھائ لینڈ میں میری دلچسپی تھائ کھانوں کی وجہ سےیا ان کے شاہی نظام حکومت کی وجہ سے رہی تھی۔ بادشاہوں سے ہمارا لگاءو شاید اس وجہ سے بھی ہوتا ہے کہ ہم برصغیر پاک و ہند کے رہنے والے جنہیں اب لوگ جنوبی ایشیائ کہنے لگے ہیں۔ بچپن میں جب کہانیاں سنتے ہیں تو وہ اکثر اس طرح شروع ہوتی ہیں کہ ایک تھا بادشاہ۔ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ۔ جیسے جیسے شعور کی منازل طے کیں تو اس بات کو ہضم کرنے میں بڑا ٹائم لگا کہ کہانی بادشاہ کے بغیر بھی شروع ہو سکتی ہے۔

ہاں تو جب میں نے تھائ ائر لائن کی پرواز نمبر فلاں فلاں پہ قدم رکھا تو سب سے پہلے ان کی ائر ہوسٹس اور انکی یونیفارم پہ فدا ہوئ۔ پھر ان کی سروس پہ۔ تھائ لینڈ کے شہر پھوکٹ پہنچنے کے بعد اندازہ ہوا کہ تھائ کسقدر صفائ پسند اور معمولی چیزوں میں سے بھی تزئین کی جدت نکالنے والے لوگ ہیں ۔ یہاں کی روزانہ بارش خوبصورت آرکڈ کے پھولوں کے لئیے بہت سازگار ہے جن کے گملے ہر جگہ ٹنگے ہوئے نظر آتے ہیں۔اتنی بارش کے باوجودشہر اانتہائ صاف ۔دھلی دھلائ سڑکیں، ہر طرف سبزہ اور ہاتھیوں کے ہر طرح کے مجسموں کے ساتھ زندہ ہاتھی چہل قدمی کرتے نظر آجاتے ہیں۔ سمندر سے گھرا، سیاحوں کو خوش آمدید کہتا یہ شہر مجھے بےحد پسند آیا۔

لیکن جس چیز سے تکلیف ہوئ۔ وہ ان کی اپنی زبان تھائ سے محبت ہے۔ کسی سپر اسٹور میں چلے جائیں یا مقامی جمعہ بازاروں میں ہر چیز پر تھائ لکھی ہوتی ہے۔ اپنی ضرورت کی چیز چھٹی حس کو استعمال کر کے، چیز کی شکل صورت دیکھ کر، یا کہیں کہیں انگریزی میں لکھے چند الفاظ کی مدد سے ہی خریدی جا سکتی ہے۔ اور پھر بھی شک رہتا ہے کہ یہ وہی ہے جو ہمیں چاہئیے تھا۔تھائیوں کو فخر ہے کہ وہ کبھی کسی کے غلام نہیں رہے۔ اس لئے وہ بغیر انگریزی استعمال کئے ہم سے زیادہ تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔

اس سفر کے دوران ایک دفعہ ہم ایک ریسٹورنٹ میں کھانے کے لئے بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے مینو پہ کافی تفصیلی غور وخوض کے بعد پائن ایپل رائس آڈر کئے۔ تھائ لینڈ میں ، میں تھائ کھانوں سے اتنا لظف اندوز نہ ہو سکی کیونکہ اب آپ کو حلال اور حرام بھی دیکھنا پڑ جاتا ہے حلال کھانے آسانی کے ساتھ بوٹنگ کے دوران مل سکتے ہیں کیونکہ سمندر سے منسلکہ کاروبار پہ مسلمان چھائے ہوئے ہیں۔
خیر، سب لوگوں کا کھانا آگیا۔ مگرمیرے چاول غیر حاضر۔جب سب اپنا ایک تہائ کھانا کھا چکے تو ویٹر میرے پاس آیا ۔ اسکی ٹوٹی پھوٹی تھائ آمیز انگریزی سے میں نے اندازہ لگایا کہ وہ کہ رہا کہ فرائیڈ رائس نہیں ہیں۔ میں نے اس سے کہا کہ میں نے پائن ایپل رائس منگوائے تھے فرائیڈ رائس نہیں۔ اس نے پھر کچھ کہنے کی کوشش کی اور اب کی بار مجھے صرف پائن ایپل کے کچھ سمجھ نہ آیا۔ اور میں نےاندازے سے اسے او کے کہہ دیا۔ اب پھر انتظار کی گھڑیاں شروع ہوئیں۔ سب لوگ اپنے کھانے کے اختتام پہ پہنچنے والے تھے اور میں سوچ ہی رہی تھی کہ اپنا آڈر کینسل کروادوں کہ وہ ویٹر ایک بڑی سی ٹرے میں ایک پائن ایپل لے آیا اور لا کر بڑے سلیقے سے میرے سامنے رکھدی۔ میں بالکل حیران ہوگئ تو گویا اتنے انتطار کی کلفت اٹھانے کے بعد مجھے یہ انناس کھانے کو ملے گا۔ اور یہ موصوف شاید مجھ سے فرما رہے تھے کہ چاول تو ہیں نہیں پائن ایپل البتہ موجود ہے۔ میں نے جھنجھلا کر کہا یہ کیا ہے، مجھے کھانا چاہئے۔ اب پھر ایک عجیب سی زبان، جس سے میں نے یہ معنی اخذ کئے کہ آپ نے یہی تو منگوایا تھا۔ میرے ساتھی نے کہا۔ اب آپ اسے اپنےہوٹل لے چلیں اور رستے میں کچھ اور کھا لیجئیے گا۔ 'کیا مطلب میں اس ریسٹورنٹ میں یہ انناس خریدنے آئ تھی اتنا مہنگا انناس۔ میں اسے کہیں نہیں لے جا رہی '۔ پھر میں نے اس ویٹر سے کہاں براہ مہربانی اےسے لے جائیں مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ اب وہ کچھ گومگوں حالت میں کھڑا تھا۔ یہ سارا منظر ہمارا تھائ ڈرائیور ذرا فاصلے سے دیکھ رہا تھا۔ وہ میرے پاس آیا کہ کیا ہوا ہے۔ قصہ مختصر اس کی انگریزی بھی اتنی اچھی نہ تھی لیکن اس ویٹر سے بہتر تھی۔

ان دونوں نے اس موضوع پر تھائ میں تبادلہء خیال کیا کہ ان خاتون کو یعنی مجھے کیا مسئلہ ہے۔ اس تفصیلی گفت و شنید کے بعد ویٹر آگے بڑھا اور اس نے اس انناس کو ہاتھ لگایا۔ انناس کا اوپری حصہ ہٹا اندر اس کے خا لی حصے میں پائن ایپل فرائیڈ رائس بھرے ہوئے تھے۔ اور ان پہ چھ جمبو جھینگے رکھے ہوئے تھے۔میرا منہ کھلا اور پھر بند ہوگیا۔ ویٹر اپنے حصے کی معذرت وصول کرنے کے بعد مسکراتا سینے پہ ہاتھ رکھے رخصت ہو گیا۔ چاول بے حد مزیدار تھے۔ لیکن میں اس دن، سارا دن ان کی مہارت کی داد دیتی رہی اور شرمندہ ہوتی رہی۔ کتنی مہارت سے انناس جیسے مشکل پھل کو کاٹا تھا کہ ذرا نہ پتہ چل رہا تھا کہ یہ کٹا ہوا انناس ہے۔ غالب نےصحیح کہا ہے،

لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاءو
جب کچھ بھی نہ ہو تو دھوکا کھائیں کیا

ریفرنس؛

پھوکٹ، تھائ لینڈ