دیکھئیے عشاق پاتے ہیں بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
یہ ہے وہ افواہ جو ہر سال جنوری کے آغاز پہ ہم سنتے ہیں۔ اور عشاق پہ نظر گاڑ کر ایسے بیٹھ جاتے ہیں جیسے عشاق بتوں پہ۔ اس لئے نہیں کہ دیکھیئے عشاق پاتے ہیں بتوں سے کیا فیض بلکہ اس لئے کہ برہمن کا کہا بالکل غلط ثابت ہو جائے۔ اور ہم پھر جپھیاں ڈال کر کہیں، چیٹر، یو آر آ چیٹر۔
لیکن افسوس یہ سب شیطانی ارمان دل کے دل میں ہی رہ گئے اور عشاق نے سجا دکھا کر کھبا دے مارا۔ یہ تو آپ جان چکے ہونگے کہ ہمارے محبوب صدر نے ایک دفعہ پھر عشق کے گھوڑے پہ سواری کی ، اسے قابو کیا اور سرخ رو ہوئے اور یہ سب اس طرح کیا کہ دائیں ہاتھ سے انگوٹھی پہنانے کی خبر بائیں ہاتھ کو نہ ہوئ۔ لوگوں کو کچھ اندازہ اس وقت ہوا جب ہماری خاتون اول کی سیکیوریٹی کے لئے صدر صاحب نے صدر اوبامہ سے درخواست کی۔
اک برہمن نے اسکی پیشنگوئ کئ ماہ پہلے کر دی تھی۔ ہمارے شیطانی چرخے کو لگتا ہے کہ یہ برہمن اس قسم کی پیشنگوئیاں، واقعہ پیش آنے کے بعد اور عوام الناس کے کانوں میں پڑنے سے پہلے کرتا ہے تاکہ تیل اور تیل کی دھار دیکھنے میں آسانی رہے۔ اگر تیل کی دھار نظر میں رکھیں تو اپنا تیل کم نکلتا ہے۔
ہمیں کیا کسی بھی مسلمان پاکستانی کو انکی دوسری شادی پہ کوئ اعتراض نہیں۔ایک پاکستانی مسلمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے شرعی کام تو کیا۔ ایک اور کا کہنا ہے کہ اگر وہ بے نظیر کی زندگی میں ہی یہ ہمت کر ڈالتے تو بھی یہ شرعی ہی ہوتا۔ اس سے میرا مقصد، یہ کہنا نہیں کہ یہ شادی نہیں ہو سکتی۔ یہ شادی ہو چکی ہے اورپہلے سے مصروف تجزیہ نگاروں کو جو تحریر اسکوئر، مصر اور لاہور سے ریمنڈ ڈیوس کے ریمانڈ کی خبروں میں سے خبریں نکال رہے تھے، پتہ چلا کہ انکی آنکھوں کے سامنے سے ہاتھی نکل گیا اور خبر نہ ہوئ۔
خیر، اہل پاکستان کے لئے یہ ایک خوشخبری ہے جو مدت بعد ملی۔ بالآخر زرداری صاحب نے امریکہ کا داماد بن کر دکھا دیا۔ خاتون اول، سیاسیات میں برطانیہ سے پی ایچ ڈی کر چکی ہیں۔ امریکہ میں بطور فزیشن کام کرتی ہیں۔ امریکن شہریت کی حامل یہ خاتون، بحیرہ ء روم کے ساحلوں پہ واقع کسی ملک سے تعلق رکھتی ہیں لوگوں کا کہنا ہے کہ بحیرہ ء روم کا یہ علاقہ کراچی کے جیل روڈ پہ واقع ہے۔ یوروپ اور امریکہ میں جائدادوں کی مالک ہیں۔ خوش شکل ہیں اور لگتا ہے کہ خوش امید بھی۔ لوگ سوچ رہے ہیں کہ یہ شادی سیاست کی وجہ سے ہوئ ہے یا محبت یا دولت کی وجہ سے۔
اب اندازے لگانے والے اندازے لگاتے رہیں۔ کچھ لوگوں کو اس بات کا افسوس ہے کہ شادی دبئ میں ہونے کی وجہ سے اس موقع پہ ہونے والے صدقے کے بکرے اور دیگر جانور و طیور بھی اسی ملک میں گئے جو پہلے سے اتنا امیر ہے۔ اب کم از کم زرداری صاحب کو شادی کا باقاعدہ اعلان کر کے دعوت ولیمہ دینی چاہئیے۔ کہ اہل وطن بھی پلاءو کی خوشبو سونگھ سکیں۔ بم کے بجائے بھنگڑے کی بات کر سکیں اور نوحوں کے بجائے جئے بنڑے گا سکیں۔
آخر آصف علی زرداری کی دوسری شادی میں ہمیں اتنی دلچسپی کیوں ہو گئ۔ بات یہ ہے کہ نیٹ پہ سرچ کرتے ہوئے جب ہم ایک لنک پہ پہنچے تو یہ ہمیں تنویر زمانی کے فیس بک پیج پہ لے گیا اور وہاں ہمیں یہ پتہ چلا کہ زمانی بیگم پیپلز پارٹی کے لئے آب حیات بن کر آئ ہیں۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر زمانی کی شکل میں ایک بار پھر پارٹی کو قدرت نے بے نظیر سے نوازا ہے اور وہ دن دور نہیں جب تنویر زمانی ملک کی وزیر اعظم ہونگیں۔
پھر ان لوگوں کا کیا ہوگا جنہوں نے بلاول ہمارا وزیر اعظم کے نعرے لگانے کی پریکٹس بھی کر لی تھی۔ نہیں ، نہیں یہ نہیں ہو سکتا۔ آپ بتائیے فرزند زمین ہمارے شہزادے بلاول زرداری بھٹو کے مقابلے میں دختر رُوم یہ مقابلہ جیت سکتی ہیں؟
-
-
-
شاعر کہتا ہے کہ
بتائیں ہم کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا
پلاءو کھائیں گے احباب، فاتحہ ہوگا
اس کے پہلے مصرعے میں تصحیح کی گنجائش ہے۔ جو چاہے کرے۔ لیکن نجانے کیوں مجھے اس وقت یہ شعر یاد آ رہا ہے کہ
غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دیوانہ مر گیا آخر کو ویرانے پہ کیا گذری



![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)
