Showing posts with label محمد. Show all posts
Showing posts with label محمد. Show all posts

Wednesday, April 4, 2012

تقدس سے باہر-۵

 گذشتہ سے پیوستہ

مکہ کو جو عزت حاصل تھی  وہ کعبے کی وجہ سے تھی۔ اور فوٹون سمجھتا ہے کہ  آج بھی انکی عزت اور تقدس کی وجہ وہی ہے۔ ورنہ اس میں غلط کیا ہے کہ

پڑھتا ہوں تو کہتی ہے یہ خالق کی کتاب
ہے مثل ِ یہودی یہ سعودی بھی عذاب
اس قوم کے بارے میں قمر کیا لکھئے
کعبے کی کمائ سے جو پیتی ہو شراب

 قریش کا خاندان اسکی وجہ سے عرب پہ حکومت کرتا تھا۔ اور ہمسائیگان خدا، بلکہ آل اللہ یعنی خاندان الہی کہلاتے تھے۔انکی عزت کی وجہ یہ تھی کہ وہ کعبہ کے مجاور اور کلیہ بردار تھے۔  اس تعلق سے قریش کا کاروبار پھیلتا گیا۔ یہاں تک کے متعدد محکمے اور بڑے بڑے مناصب قائم کئے گئے۔ اسی وجہ سے خاندان بنو امیہ اور بنو ہاشم  ایکدوسرے کے حریف تھے اور اسلام آنے کے بعد بھی مختلف مواقع پہ ان دونوں قبائل کے اس جدی پشتی رجحان کی وجہ سے فساد ہوئے۔
اس پس منظر میں قریش نے دین اسلام کی مخالفت کی اسکی وجوہات کچھ اس طرح سامنے آتی ہیں۔
اسلام انکے آبائ دین کے خلاف تھا۔ تند خو قوموں کا مزاج ہوتا ہے کہ انکی مخالفت زبانی مخالفت نہیں ہوتی۔ اس لئے انہوں نے ہر طرح کا ظلم روا رکھا۔
اس تسلسل میں آگے دیکھیں تو دوسرا سبب یہ تھا کہ مختلف خداءووں اور کعبے پہ ان کے حق ملکیت کا ایک طلسم قائم تھا جس سے قریش کی عظمت، اقتدار اور عالمگیر اثر کا قائم تھا۔ اسلام کے ساتھ اسکے ختم ہونے کا اندیشہ تھا۔  اس لئے جس کو زیادہ نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا اس  نے زیادہ مخالفت کی۔ یہ تو ہم آجکی سیاست میں بھی دیکھتے ہیں۔
ابو لہب رءوسائے قریش میں شامل تھا۔ اسکے علاوہ بھی  اسلام کےنمایاں  دشمنوں میں رءوسائے قریش نمایاں  نظر آتے ہیں۔ان کا خیال تھا کہ نبوت کا منصب اگر کسی کو ملنا ہی ٹہرا تو اسکے حقدار مکہ یا طائف کا کوئ رئیس ہونا چاہئیے تھا۔
اسکے علاوہ ریاست کے منتظم کے ساتھ دولت اور اولاد کا ہونا ضروری ہے۔ یہ خیال کیا جاتا رہا کہ جس شخص کے اولاد نہ ہو اسے آخرت میں برکت نہیں مل سکتی۔  اولاد سے مرد کسی شخص کے لڑکے۔ اس لحاظ سے رسول اللہ دونوں اوصاف سے خالی تھے۔ تو یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ منتظم بن جائیں۔
ایک اور وجہ جو بیان کی جاتی ہے وہ قریش کی عیسائیوں سے بڑی نفرت تھی۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ حبش کا جو بادشاہ کعبے کو ڈھانے آیا تھا وہ عیسائ تھا۔  ادھر اسلام اور نصرانیت میں کافی چیزیں مشترک ہیں اس لئے قریش کو خیال ہوا کہ محمد یہاں عیسائیت قائم کرنا چاہتے ہیں۔
ایک اور سبب خاندانی رقابت تھا۔ عتبہ بن ابی معیط جو آپکا سب سے بڑا دشمن تھا اور جس نے نماز کی حالت میں آپ پہ اونٹ کی اوجھڑی لا کر ڈالی تھی، اموی تھا۔ رسول اللہ کا تعلق بنو ہاشم سے تھا۔ ابو جہل کی ایک تقریر سے اس دشمنی کا پتہ چلتا ہے ایک دفعہ اخنسا بن شریق نے ابو جہل سے رسول اللہ کے بارے میں رائے پوچھی تو اس نے کہا
ہم اور آل بنو ہاشم ہمیشہ حریف رہے۔ انہوں نے مہمانداریاں کیں تو ہم نے بھی کیں، انہوں نے خون بہا دئیے تو ہم نے بھی دئیے۔ انہوں نے فیاضیاں کیں تو ہم نے  ان سے بڑھ کر کیں۔ یہاں تک جب ہم نے انکے کاندھے سے کاندھا ملا دیا تو اب بنو ہاشم پیغمبری کے دعویدار ہیں۔ خدا کی قسم ہم اس پیغمبر پہ ہرگز ایمان نہیں لا سکتے۔
سب سے بڑا سبب یہ بھی تھا کہ رسول اللہ بت پرستی کی برائیوں کے ساتھ انکی کرپشن سے بھی پردہ اٹھاتے جاتے جو انہیں اپنی شہنشاہی کی توہین لگتا۔ مثلاً ابو لہب نے حرم کعبہ کی ملکیت میں سونے کا ایک ہرن تھا اسے نکال کر بیچ ڈالا تھا۔ رءوسائے عرب کی اکثریت جھوٹ بولتی تھی اور یہ دیگر بد اخلاقیوں کا بھی اسی شدت سے شکار تھے۔
کرپشن اور معاشرتی نا انصافی نے معاشرے میں شدید مایوسی پھیلائ ہوئ تھی اور نچلا طبقہ بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہوئے بھی موجود  نہیں تھا۔
ایک سوال یہ بھی اٹحتا ہے کہ آخر قریش نے ابتداء ہی میں رسول اللہ کو ختم کر کے ان سے نجات کیوں نہیں پالی۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ قریش مسلسل جنگوں میں تباہ ہو چکے تھے۔ کیونکہ کوئ بھی لڑائ کسی ایک گروہ تک محدود نہ رہتی نہ ایک نسل تک۔  جب تک اس کا بدلہ نہ لیا جاتا  انتقام کی آگ بجھ نہ پاتی۔ رسول اللہ کے ساتھ ایسا کرنے کی صورت میں پھر ایسی جنگ چھڑ جاتی۔
معاشرہ ویسے ہی غرباء کے لئے سخت تھا۔ رسول اللہ کے اعلان نبوت کے جواب میں ان غرباء اور کمزوروں کی بڑی تعداد نے انکی طرف رخ کیا۔ قریش نے ان پہ سخت مظالم کی انتہا کر دی۔  عالم یہ تھا کہ ابو جہل نے اپنی کنیزحضرت بسینہ کو اتنا مارا کہ انکی آنکھیں جاتی رہیں۔ اسی طرح کے مظالم دیگر غلاموں اور کنیزوں پہ توڑے گئے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے رسول اللہ کا ساتھ نہ چھوڑا۔
فوٹون سوچتا ہے کوئ اپنی آخری امید کا جسے اس پہ یقین ہو، اعتماد ہو کبھی ساتھ نہیں چھوڑتا۔
ان سب حالات کے مطالعے کے بعد فوٹون یہ دیکھتا ہے کہ مجموعی طور پہ عرب کے حالات اس نہج کے تھے ک ان میں کسی مصلح کا اٹھنا ضروری ہو گیا تھا۔ اور اس موقع پہ رسول اللہ نے بڑی حکمت سے اس قوم کو نئ سمت دی۔

جاری ہے
نوٹ؛ اس تحریر کی تیاری میں جس کتاب سے مدد لی گئ ہے وہ مولانا شبلی نعمانی کی  سیرت النبی ہے۔ اسکے پبلشر ہیں الفیصل ناشران و تاجران کتب۔

شبلی نعمانی کی سیرت النبی یہاں سے ڈاءونلوڈ کیجئیے۔
  

Monday, March 5, 2012

تقدس سے باہر-۴



ایک انتہائ پسماندہ اور غریب معاشرے میں رسول اللہ نے جنم لیا۔ دنیا جنہیں محمد کے نام سے جانتی ہے۔ خود انکے ابتدائ حالات خاصے مخدوش رہے۔ انکا تعلق بنو ہاشم کے قبیلے سے تھا جو قریش میں افضل قبیلہ سمجھا جاتا تھا لیکن عبدالمطلب کے انتقال کے بعد انکے حالات بھی بہتر نہ رہے۔
 والد کا انتقال آپکی پیدائش سے پہلے ہو گیا۔ عرب روایات کے تحت آپکی پرورش ماں سے الگ ایک دیہاتی علاقے میں ہوئ۔ چھ سات سال کی عمر میں والدہ کے پاس پہنچے لیکن چند مہینوں کے بعد انکا بھی انتقال ہو گیا۔ دادا نے کفالت سنبھالی لیکن جلد ہی وہ بھی داغ مفارقت دے گئے لیکن اپنے بیٹے ابو طالب کو بھتیجے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری دے گئے۔ عبدالمطلب کے انتقال کے بعد حالات تبدیل ہوئے بنو ہاشم کے رتبے میں کمی آگئ اور حریف خاندان بنو امیہ حاوی آگیا۔
دس بارہ برس کی عمر میں آپ بکریاںچرایا کرتے تھے۔ جو کہ عربوں کا اہم پیشہ تھا۔ تقریباً بارہ برس کی عمر میں اپنے چچا  ابو طالب کے ساتھ تجارت کا سفر کیا۔
اس سفر میں وہ واقعہ پیش آیا جسے مختلف راویوں نے بیان کیا ہے۔ یہ عیسائ راہب بحیرہ سے ملنے کا واقعہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بحیرہ نے آپکی نبوت کی پیشن گوئ کی تھی۔ یوروپین موءرخین کا کہنا ہے کہ یہاں سے محمد نے مذہب کے حقائق و اسرار سیکھے۔ اور ان بنیادی نکات پہ اسلام کی بنیاد رکھی۔ شبلی تو اس واقعے کے پیش ہونے کے بارے میں بھی شک رکھتے ہیں۔
بہر حال یہ بات تو ثابت ہے کہ تجارت کی غرض سے آپ نے کافی ممالک کے دورے کئے اور مختلف طرز معاشرت کا نہ صرف ذاتی تجربہ کیا بلکہ لوگوں سے معلومات بھی لیں۔ فوٹون کے خیال میں  آپ جیسے ذہین شخص نے ان تمام معاشروں  کے تناظر میں اپنے معاشرے کو  دیکھا ہو گا اور یہ اندازلگایا ہوگا کہ انکے معاشرے کی تنزلی کے اسباب کیا ہیں۔
دعوی ء نبوت سے پہلے آپکے معمولات میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر ایک پہاڑی غار میں تنہا وقت گذارنے کا عمل شامل تھا۔ ایک مغربی مءورخ اسے اس  طرح بیان کرتا ہے۔
سفر و حضر میں ہر جگہ محمد کے دل میں ہزاروں سوال پیدا ہوتے تھے۔ میں کیا ہوں؟ یہ غیر متناہی عالم کیا ہے؟ نبوت کیا شے ہے؟ میں کن چیزوں کا اعتقاد کروں؟ کیا کوہ حرا کی چٹانیں، کوہ طور کی سر بفلک چوٹیاں، کھنڈر میدانکسی نے ان سوالوں کا جواب دیا۔ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ گنبد گرداں گردش لیل و نہار، چمکتے ہوئے ستارے، برستے ہوئے بادل کوئ ان سوالوں کا جواب نہیں دے سکا۔
اس ساری فکر کو  ہم اپنے مذہب کے لحاظ سے دیکھیں تو عبادت جیسی چیز تک محدود کر دیتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ نبوت جیسی پر اسرار طاقت اللہ نے آپکو دینے سے پہلے سے عبادت کا عادی بنایا۔ جبکہ فوٹون جیسا غیر مذہبی شخص  اسے انکی دانش سے منسلک کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ انہوں نے اس تمام عرصے میں یکسو ہو کر سوچ و بچار کی کہ وہ اپنی قوم کو اس جہالت اور غربت سے کیسے نکالیں۔
بطور نبی آپ اپنی قوم کو حضرت موسی کی طرح لے کرکسی اور ملک نکل جاتے یا حضرت عیسی کی طرح صرف تبلیغ پر اکتفا کرتے۔ لیکن آپکو عرب کی بہتری کے لئے، عرب میں رہ کر  کام کرنا تھا ااور اسکے لئے تدبراور تدریج کی ضرورت تھی۔
انکے اس تفکر کا نتیجہ یہ نکلا کہ مذہب کا انسان کی نفسیات اور اعمال پہ گہرا اثر ہوتا ہے اور مذہبی نظریات کے ذریعے اسے سدھانا آسان ہوتا ہے۔ خاس طور پہ اگر اسے یہ ترغیب دی جائَ کہ اچھے اعمال کا مرنے کے بعد اچھا ہو گا اور برے اعمال کے نتیجے میں مرنے کے بعد برا نتیجہ ہوگا۔ مرنے کے بعد ایک ابدی زندگی ہے جس میں انسان اپنے اعمال کے نتائج بھگتے گا۔ یہی نہیں بلکہ ایک ایسا مذہب جو کسی ایک نکتے کے گرد گھومتا ہو وہ انسانوں کو زیادہ متحد کر سکتا ہے یوں توحید کا نظریہ، شرک کے نظرئیے پہ حاوی ہوجاتا ہے۔ کئ خداءووں کے بجائے ایک خدا انسانوں کو ایکدوسرے کے قریب کر سکتا ہے۔ شرک کی ہر طرح سے مذمت کی گئ اور توحید کو ہر طریقے سے مضبوط بنانے کے لَئے جدو جہد کی گئ۔ شرک کی مذمت اور توحید کی مضبوطی کے ساتھ ہی عرب کو اس بات کے لئے تیار کیا گیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے پرانے رسم و رواج کی زنجیریں توڑ ڈالے۔ اور مذہب اس سلسلے میں سب سے کڑا امتحان ہوتا ہے۔ اس لئے پہلی کاری ضرب مذہبی نظریات پہ لگی۔
 فوٹون اپنے خیال کی تصدیق کے لئے دیکھتا ہے  کہ جب رسول اللہ اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں تو اس میں جو لوگ ابتداء میں داخل ہوتے ہیں  ان میں ایک امر مشترک تھا کہ وہ قریش کے مناصب اعظم میں سے کوئ منصب نہ رکھتے تھے۔  اس معاشرے کے غریب اور پسے ہوئے لوگ تھے جنکی معاشرے میں کوئ حیثیت نہ تھی۔ مثلا عمار، خباب، ابو فکیہہ، صہیب وغیرہ کو دولت و جاہ کے دربار میں جگہ نہیں مل سکتی تھی۔ اس بناء پہ رسول اللہ کا مذاق اڑایا جاتا کہ یہ ہیں انکے ماننے والے۔ قریش کے رئیس ہنس کر کہتے
یہی وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے ہم لوگوں کو چھوڑ کر احسان کیا ہے۔ سورہ انعام ۱
اہل قریش کے نزدیک انکا افلاس انکی تحقیر کا باعث تھا جبکہ اسی کی وجہ سے وہ حلقہ ء اسلام میں سب سے پہلے داخل ہوئے۔ انکو یہ ڈر نہ تھا کہ اگر اسلام میں داخل ہو گئے تو کوئ منصب جاتا رہے گا۔ ان کے لئے یہ زندگی اور موت کا مسئلہ تھا اگر وہ جیت جاتے تو معاشرے میں انکی حیثت قائم ہوجاتی ورنہ وہ پہلے سے بھی زیادہ کمزور بنا دئیے جاتے۔


جاری ہے ۔

نوٹ؛ اس تحریر کی تیاری میں جن کتب سے مدد لی گئ ہے وہ یہ ہیں۔ مولانا شبلی نعمانی کی کتاب سیرت النبی، اسکے پبلشر ہیں الفیصل ناشران و تاجران کتب اور مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کی الرحیق المختوم جسکے پبلشر ہیں المکتبہ السلفیہ لاہ


شبلی نعمانی کی سیرت النبی یہاں سے ڈاءونلوڈ کیجئیے۔
الرحیق المختوم یہاں سے ڈاءونلوڈ کریں۔۔

Thursday, February 2, 2012

تقدس سے باہر-۲

گذشتہ سے پیوستہ

اس مقام پہ یہ ضروری لگتا ہے کہ ہم اپنے بنیادی کردار کا کوئ نام رکھ لیں۔ فوٹون کیسا ہے؟ فوٹون دراصل روشنی کے وہ یونٹس ہوتے ہیں جن میں وہ سفر کرتی ہے۔  روحانیت کہتی ہے کہ یہ کائینات روشنی سے بنی ہوئ ہے حتی کہ خدا بھی ایک نور ہے۔
سائینس کہتی ہے کہ انسان ان ستاروں سے بنا ہوا ہے جو اربوں سال پہلے ختم ہو چکے ہیں۔ تو یہ روشنی میں بھی ہوں اور آپ بھی۔
فوٹون، عرب کے اس تعارف کے بعد آگے بڑھتا ہے اور یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ رسول اللہ کی بعثت کے وقت عرب میں رائج مذاہب کون سے تھے اور کیا اسلام ان سب سے الگ کوئ اجنبی دین تھا جو آیا اور چھا گیا۔
عرب میں اس وقت مختلف طرح کے مذہاب رائج تھے۔ بعض قوانین فطرت کو سب کچھ سمجھتے تھےبعض خدا کے قائل تھےلیکن قیامت اور جزا و سزا کے انکار کرنے والے، بعض جزا و سزا کے بھی قائل تھے لیکن نبوت سے انکاری۔ قرآن کے الفاظ میں یہ کیسا رسول ہے کہ کھاتا پیتا ہےاور بازار میں چلتا پھرتا ہے۔ انکا خیال تھا کہ اگر کوئ نبی ہو سکتا ہے تو اسے فرشتہ ہونا چاہئیے تمام حاجات انسانی سے مبرّا۔ فوٹون سمجھتا ہے کہ چونکہ انسان نبی کو ایک خدائ نمائندہ سمجھتا ہے اس لئے وہ اسے انسان اور خدا کے مابین کوئ مخلوق ماننا چاہتا ہے۔
اس طرح سے مختلف قبائل تھے جو مختلف ستاروں اور سیاروں کی پرستش کیا کرتے تھے۔مشہور بتوں کے نام تھے۔ لات، عزّی، منات،ودّ، سواع، یغوث، یعوق۔ سب سے بڑا بت 'ہبل' تھا۔ جو کعبے کی چھت پہ نصب تھا۔ قریش لڑائیوں میں اسکی جے پکارتے تھے۔ جیسے آجکل مسلمان لڑائیوں میں اللہ اکبر یا شیعہ یا علی کہتے ہیں۔ فوٹون کو اس نام پہ ہبل ٹیلی اسکوپ یاد آجاتی ہے۔ لیکن وہ اپنے اس خیال کو جھٹک دیتا ہے۔ جدید دنیا کے یہ آلات خدا نہیں ہیں اگرچہ ہبل ٹیلی اسکوپ کائینات کے عظیم راز کھولتی ہے لیکن وہ انسان کی بس ایک مددگار ہے۔ اسکا خدا نہیں۔ انسان اسکے مشاہدے سے اپنے نتائج اخذ کرتا ہے اور یہ مشین اس میں دخل اندازی نہیں کرتی۔ دیکھا جائے تو ہبل کا بت اس سے بھی کم تر تھا۔ مگر انسانی یقین نے اسے خدا بنا رکھا تھا۔
عرب میں اس بت پرستی کا بانی ایک شخص عمرو بن لحئ کو بتایا جاتا ہے۔ وہ حرم کا متولی تھا۔ اس سے پہلے جرہم حرم کے متولی تھے۔ عمرو نے ان سے لڑ کر انہیں نکال باہر کیا۔
خانہ کعبہ کی عرب سیاست اور معاشرے میں بڑی اہمیت تھی۔ جن قبائل کو اسکے انتظام کے لئے مناسب حاصل تھے دراصل اسکی حکومت ہوتی تھی۔ حج کے لئے آنے والے زائرین کی آمد سے علاقے کے لوگوں کو آ٘مدنی ہوتی تھی۔ آج بھی حج کے لئے آنے والے زائرین سعودی عرب کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ اگرچہ بیسویں صدی کے وسط میں تیل کی دریافت نے انکی دولت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ اس وقت اسکے لئے بھی قوانین بنائے ہوئے تھے مثلاً بیرون حرم سے شہر آنے والے اپنا کھانا نہیں لا سکتے تھے۔ کہ اسکا کھانا مذہب کی رو سے درست نہ ہوتا۔ کپڑوں کے لئے یہ کہ  حمس سے کپڑوں کے علاوہ اگر کپڑے نہ ہوں تو طواف برہنہ کرنا پڑتا۔
بہر حال عمرو ایک دفعہ شام گیا وہاں لوگوں کو بتوں کی پوجا ہوتے دیکھی۔ حیران ہوا اور دریافت کیا کہ یہ ماجرا کیا ہے۔ لوگوں نے کہا یہ حاجت روا ہیں، لڑائیوں میں فتح دلاتے ہیں، قحط پڑتا ہے تو پانی برساتے ہیں۔ عمرو حرم کا متولی تھا اور فوٹون کو لگتا ہے کہ خاصہ ذہین بھی اسنے وہاں سے چند بت لئے اور اور کعبے کے آس پاس قائم کئے۔ شاید وہ سمجھتا تھا کہ اس سے کعبے کی اہمیت اور بڑھے گی اور چونکہ وہ کعبے کا متولی ہے اس لئے اسے زیادہ فائدہ ہوگا۔
کعبہ ایک بڑی عبادت گاہ ہونے کی وجہ سے اہمیت رکھتا تھا۔ اسکی اہمیت حضرت ابراہیم سے منسوب ہونے کی وجہ سے بھی تھی۔ وہاں سارے عرب سے قبائل آیا کرتے تھے۔ یہ قبائل جب یہاں حج کو آتے تو واپس جاتے ہوئے حرم کے پتھر اٹھا لیتے۔ ان پتھروں کو با برکت سمجھتے ہوئے ان پہ کعبے میں موجود بتوں کی شکل تراشتے اور انکی عبادت کرتے۔ اس طرح سے بت پرستی یہاں سے نکل کر سارے عرب میں پھیل گئ۔
کیا اللہ اسلام کا متعارف کرایا ہوا معبود  ہے؟
اگرچہ کہ عرب بت پرست تھے۔ لیکن انکے دل سے یہ خیال کبھی نہیں گیا کہ برتر اور عظیم قوت ان سب سے الگ ہے اور وہ ایک ہے۔ تمام مشرک قومیں ایک برتر قوت کا تصور رکھتی ہیں۔ ہندو بھی جسے بھگوان کہتے ہیں وہ کائینات کی سب سے عظیم قوت ہے۔ اس خالق کو وہ اللہ کہتے تھے۔ قرآن انکی اس کیفیت کو اس طرح بیان کرتا ہے
پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ ہی کو خلوص کے ساتھ پکارتے ہیں پھر جب خدا انکو نجات دے کر خشکی کی طرف پہنچا دیتا ہے تو تو شرک کرنے لگتے ہیں [ عنکبوت، ۴]۔
مئورخین کہتے ہیں کہ اللہ جو صفا کے کتبوں میں ہلّہ لکھا ہوا ہے۔ نباتی وہ دیگر باشندگان عرب شمالی کے نام کا ایک جز تھا مثلاً زید اللہی۔۔۔۔۔۔۔۔ نباتی کتبات میں اللہ کا نام ایک علیحدہ معبود کے طور پہ نہیں ملتا۔ لیکن صفا کے کتبات میں ملتا ہے۔ متاخریرین مشرکین مکہ میں اللہ کا نام عام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ کانام جو پہلے مختلف معبودوں کے لئے استعمال ہوتا تھا رفتہ رفتہ بعد کے زمانے میں صرف ایک عظیم معبود  کے لئے بطور علم کے مخصوص ہو گیا۔
فوٹون نے سوچا، ارے یہ کیا اللہ نام کا معبود تو پہلے سے موجود تھا۔
نصرانیت یعنی عیسائیت، یہودیّت اور مجوسیت یہ تینوں مذاہب بھی عرب میں ایک خاصی مدت سے موجود تھے۔ عیسائیت اتنی ترقی کر چکی تھی کہ مکہ میں ایسے لوگ موجود تھے جو عبرانی زبان میں انجیل پڑھ سکتے تھے، مثلاً ورقہ بن نوفل جنہوں نے پہلی وحی کے بعدرسول اللہ کی نبوت کی تصدیق کی۔ متعدد ایسے لوگ تھے جنہوں نے ملک شام جا کر اسکی تعلیم پائ تھی۔ یہودیوں کے متعدد قبائل تھے  حتی کہ یہود نے مدینہ پہ قابو پا لیا تھا۔ تورات کی تعلیم کے لئے متعدد درسگاہیں قائم تھیں  جن کو بیت المدارس کہتے تھے۔ قلعہ خیبر کی تمام آبادی یہودی تھی۔
اہل کتاب کی روائیتیں مکہ میں رواج پا چکی تھیں۔ اس لئے قرآن کے وہ واقعات جن میں بنی اسرائیل کا تذکرہ ہوتا کفار انکے متعلق کہتے کہ کوئ یہودی محمد کو یہ سب سکھاتا ہے۔
ان سب کے علاوہ دین ابرہیمی بھی موجود تھا یعنی وہ دین جوتوحید خالص پہ مبنی تھا۔ ایسے صاحب عقل لوگ موجود تھے جو بت پرستی کو ایک برائ سمجھتے تھے اور حق کی تلاش میں تھے۔
ابن اسحق نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ کسی بت کے سالانہ میلتے میں ورقہ بن نوفل، عبداللہ بن حجش، عثمان بن ایحویرث اور زید بن عمرو شریک تھے دفعتاً ان لوگوں کے دل میں خیال آیا کہ یہ کیا بیہودہ پن ہےکہ ہم ایک پتھر کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔ جو نہ سنتا ہے نہ دیکھتا ہے نہ کسی کا نقصان کر سکتا ہے نہ فائدہ پہنچا سکتا ہے۔  اگرچہ اس مرحلے پہ فوٹون ایک لا دین ہونے کے ناطے یہ  سوچتا ہے کہ ایک ان دیکھا واحد خدا بھی تو یہ سب نہیں کرتا پھر وہ لوگ کس خدا کو تلاش کرنا چاہتے تھے؟
یہ چاروں قریش کے خاندان سے تھے۔ ورقہحضرت خدیجہ کے پھوپھی زاد بھائ، زید حضرت عمر کے چچا، عبداللہ حضرت حمزہ کے بھانجے، عثمان عبدالعزی کے پڑ پوتے تھے۔
زید بنعمرو دین ابراہیمی کی تلاش میں شام گئے وہاں یہودیوں اور عیسائ پادریوں سے ملے مگر تسلی نہیں ہوئ۔ دل میں کہا کہ میں دین ابراہیم کا مذہب قبول کرتا ہوں۔
صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ نے نبوت سے پہلے حضرت زید کو دیکھا تھا۔ اور ان سے دوستی بھی تھی۔ یہ وہ صاحب تھے کہ جب کوئ اپنی بیٹی کو زندہ دفن کرنے کا ارادہ کرتا تو اس سے بچی کو مانگ لیتے اور خود اسکی پرورش کرتے۔
انکے علاوہ باقی تینوں لوگ عیسائ ہو گئے۔
بعثت رسول کے قریب امیہ بن ابی الصلت نامی طائف کا ایک مشہور رئیس اور شاعر تھا۔ وہ بھی بت پرستی کا شدید مخالف تھا۔ کتابوں میں مذکور ہے کہ امیہ نے آسمانی کتابیں پڑھی ہوئ تھیں اور دین ابراہیمی  اختیار کر لیا تھا۔
امیہ کا دیوان اب بھی موجود ہے۔ وہ غزوہ ء بدر تک زندہ رہا۔ عتبہ جو رئیس مکہ اور امیر معاویہ کا نانا تھا  جب مسلمانوں کے خلاف جنگ میںمارا گیا تو امیہ نے ایک پر درد مرثیہ لکھا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی وجہ سے امیہ نے اسلام قبول نہیں کیا۔
رسول اللہ کو امیہ کی شاعری پسند تھی اور اسے سنتے ہوئے انہوں نے کہا کہ، 'امیہ مسلمان ہوتے ہوتے رہ گیا'۔ یہ شاید امیہ کی شاعری میں موجودان نظریات کی وجہ سے تھا جس کی جھلک اسلام کے بنیادی نظریات میں نظر آتی ہے۔ فوٹون نے خیال کیا۔ رسول اللہ پہ تنقید کرنے والے ایک طبقے کا خیال ہے کہ محمد نے اپنے بنیادی نظریات ایسے ہی مقامات سے لئے۔
دین ابراہیمی کو ہی دین حنیفی بھی کہا جاتا ہے۔ کیوں کہا جاتا ہے اسکے بارے میں قطعیت سے نہیں کہا جا سکتا۔  ایک رائے یہ ہے کہ حنیف، حنف سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے انحراف۔ مفسرین کے نزدیک چونکہ بت پرستی سے انحراف ہے اس لئے حنیفی کہلایا۔ ایک اور رائے میں عبرانی اور سریانی زبان میں حنیف کے معنی منافق یا کافر کے ہیں۔  ممکن ہے کہ یہ لقب بت پرستوں نے دیا ہو اور توحید پرستوں نے فخریہ قبول کیا۔
ان کے علاوہ چند لوگ اور تھے جو اس وقت بت پرستی سے منکر ہو چکے تھے۔ اس بناء پہ اہل یوروپ کا کہنا ہے کہ توحید خالص کا تصور اسلام سے پہلے عرب میں موجود تھا۔ شبلی صاحب ایک حیرانی میں پوچھتے ہیں کہ پھر اسلام کے ظہور پہ اتنا ہنگامہ کیوں ہوا؟
فوٹون اس مرحلے پہ سمجھتا ہے کہ توحید خالص کے لئے تحریک چلانے والی سوچ بعثت نبوی سے پہلے پیدا ہو چکی تھی سوال یہ تھا کہ پہلا پتھر کون مارے؟ لیکن فوٹون کے لئیے اہم بات یہ ہے کہ آخر اس تصور کے حق میں تحریک چلانے کی ایسی کیا ضرورت آ پڑی تھی؟ 


نوٹ؛ اس تحریر کی تیاری میں جن کتب سے مدد لی گئ ہے وہ یہ ہیں۔ مولانا شبلی نعمانی کی کتاب سیرت النبی، اسکے پبلشر ہیں الفیصل ناشران و تاجران کتب اور مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کی الرحیق المختوم جسکے پبلشر ہیں المکتبہ السلفیہ لاہور۔

Tuesday, January 31, 2012

تقدس سے باہر-۱

تغیر کو پسند کرنا انسانی مزاج ہے۔ اسکے باوجود کہ دنیا کی تمام تہذیبیں اپنے زوال تک تغیر کے خلاف جد و جہد کرتی رہیں۔ اس لئے کہ تغیر کے ساتھ ایک ان دیکھا خوف موجود ہوتا ہے جبکہ جمود سے مانوسیت پیدا ہوجاتی ہے۔ جمود کچھ انسانوں کو اتنا چالاک کر دیتا ہے کہ وہ معاشرے پہ قابو پا لیتے ہیں اور اسے جمود سے باہر نہیں نکلنے دیتے۔
معاشرتی جمود کے خلاف انسان ہی آواز اٹھاتے ہیں۔ کبھی یہ انبیاء ہوتے ہیں، کبھی اولیاء ، کبھی مصلح اور کبھی انقلابی۔ ایک لا دین شخص کی نظر سے دیکھیں تو ان سب میں کوئ فرق نہیں ہوتا۔ لیکن پھر بھی وہ انکی ذہنی قوتوں، مشاہدات اور انکی حکمت عملی کا قائل ہوتا ہے اور ایک دیندار شخص سے زیادہ ہوتا ہے۔ کیونکہ خدا پہ یقین رکھنے والا جس حکمت عملی اور ذہانت کو خدا کی عطا کردہ صفت سمجھتا ہے اوراللہ کے کام اللہ ہی جانے کہہ کر فارغ ہوتا ہے وہاں ایک لادین شخص، اسے اس شخص کے ذاتی وصف میں شمار کرتا ہے اور تجسس میں مبتلا ہوتا ہے کہ ایک اتنا بڑا انقلاب لانا اس کے لئے کیسے ممکن ہوا۔
اگر ہم رسول اللہ کو ایک لادین شخص کی نظر سے دیکھیں تو ہمیں انکی حکمت اور حکمت عملی دونوں سے متائثر ہونا پڑتا ہے۔ رسول اللہ کے اعلان نبوت سے پہلے اس معاشرے کی حالت دیکھیں جہاں وہ موجود تھے۔
اب ہم اس شخص کے ساتھ چلتے ہیں جو انہیں نبی تسلیم نہیں کرتا اور نہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئ غیبی طاقت انکی مدد کر رہی تھی کیونکہ وہ کسی غیبی طاقت کے وجود پہ یقین ہی نہیں رکھتا۔  پہلے ہمیں اس معاشرتی پس منظر کو دیکھنا پڑے گا جس میں رسول اللہ نے آنکھ کھولی۔
اگرچہ کہ مورخین عرب کا دعوی ہے کہ عرب کے کچھ حصے ایک زمانے میں خاصی ترقی کر گئے تھے اور اسکے آثار بعض آثار قدیمہ سے بھی ملتے ہیں۔ لیکن عرب کے اصلی تمدن و تہذیب میں یہ حالت نہ تھی۔ اسکا ثبوت اسکی زبان سے مل سکتا ہے۔ عربی خاصی وسیع زبان ہے لیکن جن چیزوں کا تعلق تمدن اور اسباب معاشرت سے ہوتا ہے ان کے لئے خالص عربی الفاظ نہیں ہیں۔بلکہ ایران یا روم سے مستعار لئے گئے ہیں۔ مثلاً درہم وہ دینار غیر زبان کے الفاظ ہیں درہم یونانی لفظ ہے جو کہ انگریزی میں ڈرام ہو گیا۔ چراغ جیسی معمول شے کے لئے لفظ چراغ کو سراج بنایا گیا۔ کوزہ کے لئے کوئ لفظ نہیں کوزہ کو کوز کر لیا گیا۔ لوٹے کو ابریق کہتے ہیں جو آب ریز سے بنایا گیا۔ تشت بھی ایک فارسی لفظ تھا جسے عربی میں طست کر لیا گیا۔ پیالہ کو کاسہ کہتے ہیں یہ فارسی سے لیا گیا۔ پائجامہ کو سروال کہتے ہیں جو شلوار کی بگڑی ہوئ شکل ہے۔
جب ایسی ایسی چھوٹی باتوں کے لئے الفاظ نہ تھے تو تمدن کے بڑے سامان کے لئے کہاں سے لفظ آتے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عرب نے کسی زمانے میں جو ترقی کی تھی وہ ارد گرد کے ممالک سے متائثر ہو کر کی تھی سو جو علاقے دور تھے وہ اپنی اصل حالت پہ رہ گئے۔
احادیث صحیححہ سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ کے زمانے تک عیش و عشرت کے سامان بہت کم تھے۔ اس زمانے میں گھروں میں رفع حاجت کے لئے جائے ضرور تک نہ ہوا کرتی تھی اور خواتین بھِ رفع حاجت کے لئے گھروں سے باہر جایا کرتی تھیں۔ ترمذی باب الفقر میں ہے کہ اس وقت تک چھلنیاں نہ ہوا کرتی تھِ اور بھوسے کو اناج سے الگ کرنے کے لئے پھونکوں سے اڑایا جاتا تھا۔۔ جو بچ جاتا وہی آٹا کہلاتا تھا۔ احادیث سے ہی پتہ چلتا تھا کہ اس وقت رات کو گھروں میں چراغ نہیں جلاتے تھے۔ ابو داءود میں ایک صحابی سے روایت ہے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں تھا لیکن میں نے کبھی آپ سے حشرات الارض کے حرام ہونے کا نہیں سنا۔ اگرچہ محدثین کہتے ہیں کہ ایک راوی کے نہ سننے سے یہ لازم نہیں ہوتا کہ واقعی میں اسکی حرمت نہیں تھی۔ لیکن اس سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ اسلام سے پہلے عرب حشرات الارض کھاتے تھے۔ عرب تاریخ اور ادب میں یہ واضح طور پہ موجود ہے کہ عرب کھنکھجورا، گوئے، گرگٹ اور جانوروں کا چمڑا بھی کھاتے تھے۔

جاری ہے۔
نوٹ؛ اس تحریر کی تیاری میں مولانا شبلی نعمانی کی کتاب سیرت النبی سے مدد لی گئ ہے۔ اسکے پبلشر ہیں الفیصل ناشران و تاجران کتب۔

Wednesday, February 16, 2011

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

فصل قضایا، اقامت عدل، بسط امن، رفع نزاع کے لئیے متعدد ولاۃ حکام کی ضرورت تھی۔ اسکے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد صحابہ کو مختلف مقامات کا حاکم و والی مقرر فرما دیا۔ ان ولاۃ یا گورنروں کا تقرر ملک کی وسعت اور ضروریات کے لحاظ سے ہوتا تھا۔ رسول اللہ کے زمانے میں عرب کے جو حصے اسلام کے زیر سایہ تھے اسکے پانچ حصے تھے اور ان میں سے ہر ایک حصہ کے لئیے علیحدہ گورنر تھے 
عموماً جب کسی مہاجر کو کہیں کا عامل مقرر کرتے تو اسکی کے ساتھ ایک انصاری کا بھی تقرر فرماتے۔
ان فرائض کو ادا کرنے کے لئے سب سے زیادہ تبحر علمی، وسعت نظر اور اجتہاد کی تھی۔ اس بناء پر آپ ان لوگوں کے تبحر علمی  اور طرز عمل کا امتحان لیتے تھے۔ چنانچہ جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ   کو روانہ فرمایا تو پہلے انکی اجتہادی قابلیت کے متعلق اطمینان فرمایا ترمذی میں ہے کہ
رسول اللہ نے جب معاذ بن حبل کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا کس چیز سے مقدمات کا فیصلہ کروگے۔ انہوں نے کہا قرآن مجید سے۔ آپ نے فرمایا اگر اس میں وہ فیصلہ تم کو نہ ملے ۔ انہوں نے کہا کہ احادیث سے پھر آپ نے فرمایا کہ احادیث میں بھی اس کے متعلق ہدایت نہ ملے تو انہوں نے کہا میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا ۔ اس پہ آپ فرمایا اس خدا کا شکر ہے جس رسول کے رسول کو اس چیز کی توفیق دی جس  کو خود اس کا رسول محبوب رکھتا ہے۔
 لیکن اہل عرب کے دلوں کو مسخر کرنے کے لِئے ان تمام چیزوں سے زیادہ رفق و ملاطفت نرمی اور خوش خوئ کی ضرورت تھی۔ جنکی آمیزش سیاست اور حکومت کے اقتدار کے ساتھ تقریباً نا ممکن ہو جاتی ہے۔اس لئے رسول اللہ گورنروں کو بار بار اس طرف متوجہ فرماتے۔ چنانچہ جب معاذ بن جبل کو ایک صحابی کے ساتھ یمن کی گورنری پرروانہ فرمایا تو پہلے دونوں کو عام طور سے وصیت فرمائ
آسانی پیدا کرنا، دشواری نہ پیدا کرنا، لوگوں کو بشارت دینا ان کو وحشت زدہ نہ کرنا،باہم اتفاق رکھنا اور اختلاف نہ کرنا۔ 
اس پہ بھی تسکین نہ ہوئ تو معاذ بن جبل جب رکاب میں پیر ڈال چکے تو ان سے خاص طور پہ یہ الفاظ فرمائے۔
لوگوں کے ساتھ خوش خلقی کے ساتھ برتاءو کرنا۔
 یہ رسول اللہ کی تعلیم کا نتیجہ تھا کہ اخیر زمانے میں جب صحابہ عمال حکومت کے مظالم دیکھتے تو ان کو سخت تعجب ہوتا اور وہ رسول اللہ کی تلقینات کے ذریعے انکو روکتے تھے چنانچہ ایک بار ہشام بن حکیم بن حزام نے دیکھا کہ شام کے کچھ نبطی دھوپ میں کھڑے ہیں انہوں نے اسکی وجہ پوچھی۔ لوگوں نے کہا جزیہ وصول کرنے کے لئے ان پہ یہ سختی کی جا رہی ہے انہون نے یہ سن کر کہا 
میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا کہ خدا ان لوگوں کو سزا دے گا جو لوگوں کو دنیا میں عذاب دیتے تھے۔

 کشف الدجی بجمالہ
 بدر الدجی بکمالہ
حسنت جمیع خصالہ
صلو الیہ وآلہ

حوالہ
یہ تحریر مندرجہ ذیل حوالے کی مدد سے تیار کی گئ ہے۔
سیرۃ النبی، مصنف؛ علامہ شبلی نعمانی، جلد دوم، صفحہ ۴۵۔