اگلے دن دوپہر کو نائب الشریف، دس بہت بد شکل، بد ہیئت آدمی جنکی صورت پر بدمعاشی ٹپکتی تھی میرے پاس لائے۔ یہ آدمی پرانے کمبل یا پرانے قالین کے ٹکروں کے ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنے تھا۔ انکے پاس توڑے دار بندوقیں اور خنجر تھے۔ اس اس ہیئت میں خطرناک غنڈے معلوم ہوتے تھے۔ مجھے انکے لٹیرے ہونے میں ذرا شک نہ تھا۔ میں سمجھا کہ نائب الشریف نے انہیں واردات کرتے ہوئے پکڑا ہے اور ہمیں دکھانے کے لئے لائے ہیں۔ میں نے ان سے اپنے شبہے کی تصدیق چاہی، انہوں نے خدا کی قسم کھا کر کہا کہ میرا شبہ غلط ہے یہ لٹیرے نہیں اسکے بر عکس اونچی حیثیت کے آدمی ہیں۔
میں نے ان سے پھر پوچھا کہ کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ ان میں کے سب لٹیرے اور خونی نہیں ہیں؟ تو انہوں نے خدا اور رسول کی قسم کھا کر کہا کہ میرا شبہ غلط ہے، یہ وہ حفاظتی دستہ ہے جسے محترم شریف مکہ نے بھیجا ہے۔ انکو حکم ہے کہ آپ کی ہر طرح کی خدمت انجام دیں۔ یہ ابھی مکہ سے آئے ہیں اور اونتوں کے چارے کے لئے دام مانگتے ہیں
مجھے اپنی غلطی پہ تعجب ہوا ، انکی ڈاکوءوں ایسی ہیئت پر۔ حقیقت یہ ہے کہ میرے بہت سے ساتھی انہیں ڈاکو سمجھ کر گھبرا گئے۔
مکے سے مدینہ جاتے ہوئے؛
کبھی کبھی ریگستان کے نیم وحشی، ننگی پہاڑیوں پہ کھڑے یا گھومتے نظر آجاتے۔ مجھے تعجب ہوتا تھا کہ ایسے ملک میں جہاں پتھروں اور ریت کے ٹیلوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہ لوگ اپنے نیم سیر اونٹوں اور بھیڑوں کے لئے چارہ کہاں سے حاصل کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ ریگستان کے یہ سپوت ان سر سبز مقامات کو جانتے ہیں جہاں انکے جانوروں کے لئے تازہ پانی اور ہریالی مل سکتی ہے۔ کبھی یہ بد نصیب پڑاءو اٹھ جانے کے بعد آتے اور جو بچی کھچی چیزیں ہم پھینک دیتے انہیں بین لیتے، خواہ حلال کئے ہوئے جانوروں کے فضلات ہوتے یا ہڈیاں اور چھیچھڑے یا روٹی اور سبزی کے ٹکڑے۔ میں نے دیکھا کہ جو کچھ ملتا اسے اٹھا لیتے اور ایسے شوق سے کھاتے کہ معلوم ہوتا کہ مہینوں سے انکے منہ میں کوئ چیز نہیں گئ۔ حقیقت میں یہ ریگستان کے مہتر تھے اور وہی کام کرتے جو گدھ مردہ جانوروں کو کھا کر کرتے ہیں۔
کبھی کبھی ریگستان کے نیم وحشی، ننگی پہاڑیوں پہ کھڑے یا گھومتے نظر آجاتے۔ مجھے تعجب ہوتا تھا کہ ایسے ملک میں جہاں پتھروں اور ریت کے ٹیلوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہ لوگ اپنے نیم سیر اونٹوں اور بھیڑوں کے لئے چارہ کہاں سے حاصل کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ ریگستان کے یہ سپوت ان سر سبز مقامات کو جانتے ہیں جہاں انکے جانوروں کے لئے تازہ پانی اور ہریالی مل سکتی ہے۔ کبھی یہ بد نصیب پڑاءو اٹھ جانے کے بعد آتے اور جو بچی کھچی چیزیں ہم پھینک دیتے انہیں بین لیتے، خواہ حلال کئے ہوئے جانوروں کے فضلات ہوتے یا ہڈیاں اور چھیچھڑے یا روٹی اور سبزی کے ٹکڑے۔ میں نے دیکھا کہ جو کچھ ملتا اسے اٹھا لیتے اور ایسے شوق سے کھاتے کہ معلوم ہوتا کہ مہینوں سے انکے منہ میں کوئ چیز نہیں گئ۔ حقیقت میں یہ ریگستان کے مہتر تھے اور وہی کام کرتے جو گدھ مردہ جانوروں کو کھا کر کرتے ہیں۔
گھٹنوں تک لنگوٹی کے سوا انکے جسم پہ کوئ کپڑا نہ ہوتا، عورتیں بھی یہی پہنتی تھیں البتہ اسکے علاوہ سینے کو سہارا دینے کے لئےایک دوسرا چیتھڑا سینہ پر بھی باندھ لیتیں۔ یہ دھجّی اسی کام کے لئے باندھی جاتی تھی۔ انکے لباس کا جُز نہ تھی۔ انکے سر کے بال گرد میں اٹے اور الجھے ہوئے ہونگے۔ ایسے بال بجائے آرائیش اور سنگھار کے انکے لئے وبال ہوتے ہونگے۔ انکو سر پر جمائے رکھنے کے لئے کیچڑ تھوپ لیتیں یا کپڑے کی دھجّی سے باندھ لیتیں۔ یہ دھجّی کہاں اور کس طرح حاصل کرتیں یہ نہیں بتایا جا سکتا۔
یہ نیم وحشی جو اس خوفناک ملک کے ریگستانی علاقے میں آباد ہیں،حبشی نسل کے معلوم ہوتے ہیں۔ جو کسی طرح عرب میں آ کر آباد ہو گئے ہیں۔ انکی زبان بدءووں سے مختلف ہے۔ بدو خالص عربی بولتے ہیں اور نسبتاً ان سے زیادہ شریف ، خوش رو اور صاف رنگ کے ہیں۔

![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)
