Showing posts with label اردو. Show all posts
Showing posts with label اردو. Show all posts

Wednesday, July 18, 2012

سوشل میڈیا: چیلوں کا میلہ

تصور کریں کہ ایک شخص جو کہ اس ملک کے کسی مضافاتی علاقے میں رہا ہو جہاں زندگی کی اشد ضرورت کی اشیاء بھی نایاب ہوں۔ جس نے کبھی کسی فائیو اسٹار ہوٹل کی شکل نہ دیکھی ہو، کبھی سگریٹ پیتی عورت سے بہ نفس نفیس ملاقات نہ کی ہو، کبھی ایک عورت کو ایک مرد سے معانقہ کرتے نہ دیکھا ہو بلکہ کسی عورت کا گھر سے باہر نکلنا ہی شدت سے برا سمجھتا ہو۔ اسے آپ اچانک ایسی تقریب میں پہنچا دیں جہاں اسکی دنیا کی یہ ساری قباحتیں موجود ہوں، جن کا اس نے زندگی میں تصور تک نہ کیا ہو۔
  مزے کی بات یہ ہے کہ تقریب کا نام تو سوشل میڈیا میلہ ہو جو پاکستان کے حوالے سے ہو۔ لیکن اس میں صرف وہ لوگ چھائے ہوں۔  جو اس ملک کے عام آدمی کی زبان نہیں بولتے۔ اسکے مسائل سے صرف اتنی دلچسپی رکھتے ہیں کہ اسے کسی اور جگہ استعمال کر کے اپنی دولت اور شہرت میں اضافہ کیا جا سکے۔ کیا یہ بے حسی، سفاکی اور خود غرضی کا دوسرا نام نہیں۔
سوشل میڈیا میلہ کے نام سے یہ تقریب کراچی میں  منعقد ہوئ۔ جس میں ایک اطلاع کے مطابق شہر کے اشرافیہ اور امریکی سفارتخانے کے عہدے داروں نے شرکت کی۔ میں اس میں نہیں گئ مجھے اس طبقے کے رنگ ڈھنگ معلوم ہیں۔ میں یہ بھی جانتی ہوں کہ عام طور پہ یہ تقریبات اشرافیہ کے بیرون ملک  عہدے داروں سے تعلقات کو بڑھانے کے لئے منعقد ہوتی ہیں۔ اس میں تالیاں بجانے کا کام میں کیوں کروں؟ اس لئے اس ترغیب کے باوجود کہ اس میں اردو زبان کے حوالے سے بھی کوئ سیشن رکھاجائے گا میں نہیں گئ۔ 
مجھے اس چیز سے، اس منافقت سے بڑی تکلیف ہوتی ہے کہ جس سوشل میڈیا کو تبدیلی کا اہم ذریعہ سمجھا جا رہا ہے اسکے کرتا دھرتا انگریزی کے علاوہ کسی زبان کو اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ پاکستان میں سوشل میڈیا کیوں کوئ موئثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہے اس لئے کہ یہ سوشل نہیں ہے۔ ایک گیند مخصوص حلقوں میں گھومتی رہتی ہے۔ اللہ اللہ خیر صلا۔
حالانکہ ہمارے یہ کرتا دھرتا اتنے وسائل رکھتے ہیں کہ چاہتے تو گوگل کو اردو سپورٹ کے لئے مجبور کروالیتے آخیر گوگل فارسی، عربی حتی کہ تیلگو زبان تک کو سپورٹ کرتا ہے۔ 
یہی نہیں یہ سارے کرتا دھرتا در حقیقت دل سے یہ چاہتے ہی نہیں کہ ایک عام آدمی کو درپیش مسائل حل ہو جائیں یا وہ اسکے حل میں اپنا حصہ ڈال سکیں حالانکہ ان میں سے ہر ایک اتنی اہلیت اور وسائل رکھتا ہے کہ یہاں تبدیلی کا سیلاب آجائے۔ لیکن ایسی تبدیلی کا کیا فائدہ کہ ان میں اور عام آدمی میں برسوں کی محنت سے ٹہرایا ہوا فرق کم ہو جائے۔
 یہ اشرافیہ جن میں ہمارے دانشور بھی شامل ہیں، فکشن لکھنے والے بھی شامل ہیں اور اپنے لکھے پہ دنیا سے انعامات لینے والے بھی شامل ہیں، دستاویزی فلمیں بنانے والے بھی شامل ہیں، این جی اوز سے تعلق رکھنے والے بھی شامل ہیں۔
یہ سب لوگ، اسی عام آدمی کی وجہ سے اپنی زندگیوں میں رنگینی حاصل کرتے ہیں۔ اگر انہیں ہم اپنی زندگی کے دکھ نہ سنائیں تو یہ کون سا فکشن لکھیں گے۔ اگر ہم اپنے مسائل کو حل کرنے کی قوت حاصل کر پائیں تو یہ انہیں دور کرنے کے لئے کہاں سے غیر ملکی امداد حاصل کریں گے۔ ہم اور ہماری تکلیفیں انکے لئے خوش قسمتی کے دروازے کھول دیتی ہیں لیکن اس کے باوجود جب یہ ہمارے سامنے کبھی اتفاقاً آکر کھڑے ہوتے ہیں تو یہ کیوں اس بات کی علامت بنے رہتے ہیں کہ یہ ہم میں سے نہیں۔ البتہ یہ ہمارے مسائل کے حل کے لئے کوشاں ضرور ہیں۔ کتنے عظیم لوگ ہیں جو ہم بے چاروں کو شعور دینا چاہتے ہیں، ہمیں ایک آسان زندگی دینا چاہتے ہیں، ہمیں بنیادی انسانی حقوق دلوانا چاہتے ہیں لیکن ان کا ہم سے کوئ تعلق نہیں ہے۔ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں یہ ان کا ہم پہ اور اس معاشرے پہ احسان ہے۔
ایسی تقریبات میں جان بوجھ کر پیدا کیا جانے والا طبقاتی فرق مجھے انتہائ مکروہ لگتا ہے۔ مجھے ذاتی طور پہ نہ بغیر آستین کے کپڑوں سےخار ہے۔ اگر میرا رنگ خوب سفید ہوتا تو شاید میں بھی کبھی کبھار پہن لیتی۔ نہ ہی مجھے خواتین کا سگریٹ پینا عجیب لگتا ہے دیہاتی عورتیں بھی پیتی ہیں، حتی کہ میں ان عورتوں اور مردوں کو بھی نظر انداز کر دیتی ہوں جو ایکدوسرے کو خوش آمدید کہنے کے لئے معانقہ کرتے ہیں۔ یہاں دیہاتوں میں عورت اور مرد مصافحہ کرتے ہیں۔
لیکن مجھے اس چیز پہ حیرت ہوتی ہے کہ اسی معاشرے میں جہاں ایک انتہا یہ ہوتی ہے کہ عورت دس گز کے برقعے میں بھی باہر نہیں نکل سکتی وہاں دوسری انتہا یہ ہوتی ہے کہ خواتین سگریٹ ہاتھ میں دبائے، کھلے ڈلے کپڑے پہنے کسی مرد سے گلے مل رہی ہوتی ہیں۔ خواتین کے اس انداز پہ بھی مجھے اعتراض نہیں۔ ایک شخص اپنے لئے جو چاہے پسند کرے۔ اپنی ذاتی زندگی جیسے چاہے گذارے۔  لیکن طرہ یہ ہوتا ہے کہ یہ خواتین اس ملک کی پسی ہوئ خواتین کے حقوق کی بات کرتی ہیں۔ ایک عام آدمی لازماً یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ ہماری عورت جب دس گز کے برقعے سے باہر نکلے گی تو یہ عورت بن جائے گی۔ یہ عورت جو اسکے نزدیک بے حیاء عورت ہے۔ اس سے انکے کاز کو کوئ فائدہ نہیں پہنچتا۔ سوائے اسکے کہ انکا یہ لباس طبقاتی فرق کو قائم رکھنے میں معاون ہوتا ہے وہ کسی بھی مثبت مقصد کے لئے ایک رول ماڈل نہیں بنتیں۔ ایک ایسا رول ماڈل جسے دیکھ کر ایک کمزور عورت یہ سوچے کہ اگر میں کوشش کروں تو ایسی عورت بن سکتی ہوں، ایسی زبردست صلاحیتوں والی عورت۔ البتہ یہ کہ وہ اپنے سر کا اسکارف اور کس کے باندھ لیتی ہے۔
اس جگہ پہ آ کر ہمیں اپنی سرحد متعین کرنی پڑے گی۔ کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک کی عورتیں تعلیم حاصل کریں، معاشی استحکام حاصل کریں، اپنی زندگی پہ اپنا اختیار حاصل کریں، اپنے فیصلے خود کرنے کی قوت حاصل کریں۔ صحت حاصل کریں، بچے کتنے پیدا کریں گی یہ حق حاصل کریں، یا ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ سگریٹ۔ پیئیں، شراب پیئیں، کم کپڑے پہنیں، مردوں کے برابر اس طرح ہوں کہ انکے گال چومیں یا گلے لگیں۔
اسی طرح کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں معیاری اور بنیادی تعلیم سب کا حق ہو یا ہم یہ چاہتے ہیں کہ چونکہ ہم بہتر معاشی حالت رکھتے ہیں اس لئے ہمارے بچے تو معیاری تعلیم حاصل کر لیں لیکن جو نہیں کر سکتے ہیں ہم انکا مذاق اڑائیں۔ حالانکہ انکا نہ کر پانا اس فرسودہ نظام کی وجہ سے ہے جسکی وجہ سے ہم مضبوط اور وہ کمزور ہیں۔ ہم خود ہی اس ملک میں کئ طرح کے تعلیمی طبقات بنائیں۔ کسی کواردو میڈیئم گورنمنٹ کے ناکارہ اسکول دیں کسی کو انگلش میڈیئم اعلی اسکول عنایت کریں۔ اور پھر اردو میڈیئم کو حقارت سے دیکھیں اور ان سے دور خود صرف اس لئے اڑے اڑے پھریں کہ انگلش بول سکتے ہیں لکھ سکتے ہیں چاہے اسکے علاوہ ککھ نہ جانتے ہوں۔
اسی طرح بحیثیئت ایک لبرل پاکستانی کیا ہم اس ملک میں اس بات کی آزادی کے خواہشمند ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے مذہب پہ آزادی سے عمل کر سکے، بلا تفریق، مذہب، جنس، زبان، اور نسل کے ہم میں سے ہر ایک کو تعلیم کا اور صحت کا حق حاصل ہو، ہم میں سے ہر ایک کے  پاس با عزت روزگار ہو، ملک کا قانون ہر ایک شہری کو برابر کی نظر سے دیکھے اور اس کے فیصلوں پہ عمل در آمد ہو، ہر شہری کی جان ، مال اور عزت محفوظ ہو۔ ہم دنیا میں دہشت گرد ملک کے طور پہ نہ پہچانے جائیں، ہمارے لوگ خود کو بموں سے نہ اڑائیں ہم بات بے بات جان لینے اور جان دینے پہ نہ تیار رہیں۔ ہمارے یہاں درجنوں لوگ روزانہ بے گناہ تاریک راہوں میں نہ جان گنوائیں۔ ہماری عورتوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی نہ ہو۔ ایک عورت کو باہر نکلنے ، چلنے پھرنے زندگی برتنے کی آزادی ہو۔ یا ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں بس شراب پینے کی آزادی ہو۔
ہمارے اس طبقے کو جو انگریزی بولتا ہے سمجھتا ہے اور انگریزی میں اظہار کرنا پسند کرتا ہے اورمزید یہ کہ اپنے آپکو دانشور سمجھتا ہے، سمجھتا ہے کہ مسائل کی وجوہات اور صحیح حل اسے معلوم ہیں۔ اسے یہ بھی تو طے کرنا چاہئیے کہ آخر انکا کاز درحقیقت ہے کیا۔ 
اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے ملک میں تبدیلی کا ڈھول پیٹنے والے سوچیں کہ دراصل وہ  کیا چاہتے ہیں؟ 
بہرحال انکے چاہنے سے الگ، سوشل میڈیا کسی کے اشاروں پہ نہیں چل سکتا۔ یہ عام آدمی سے چلتا ہے اور اگر کوئ اسے اپنے اشاروں پہ چلانا چاہتا ہے تو اسے عوامی بننا پڑے گا۔ یہی دیوار کا لکھا ہے۔
 

Monday, May 14, 2012

ملغوبہ

نسیمہ کی عمر اسکی ماں کے بقول چودہ پندرہ سال ہے۔ دبلی پتلی، زرد رو نسیمہ پہلے کبھی کبھی اسکول کی چھٹی والے دن صفائ کے کاموں میں اپنی ماں کی مدد کے لئے ساتھ آیا کرتی تھی۔ لیکن جب اسکی تائ نے زور ڈالا کہ بس اب چھ مہینے میں وہ اسکی شادی کرا کے لے جائے گی تو ماں نے اسکا اسکول چھڑایا اور شادی کی تیاری کے لئے زیادہ گھروں میں زیادہ کام کر کے زیادہ پیسے جمع کرنے کے لئے روز ہی اسے اپنے ساتھ لانے لگی۔
نسیمہ کی چھوڑی ہوئ تعلیم کو جاری رکھنے کے لئے میری ساس نے اسے پڑھانا شروع کر دیا۔ اور اب بعض ناگذیر وجوہات کی بناء پہ آج کل نسیمہ مجھ سے پڑھ رہی ہے۔ یوں چھٹی کلاس کی اردو کی کتاب میرے ہاتھ لگی۔ اپنی والی تو میں چند ایک کے علاوہ بھول گئ کہ اس میں کیا کیا تھا لیکن چھٹی کلاس کی اردو کی اس کتاب کو دیکھ کر مجھے جھٹکا ضرور لگا۔
تینیتیس اسباق میں سے آٹھ مذہبی معلومات یا شخصیات کے بارے میں ہیں جنہیں بآسانی اسلامیات کی کتاب میں تاریخ اسلام کے ضمن میں ڈالا جا سکتا تھا۔
آٹھ اسباق ، وطن سے متعلق ہیں جنہیں بآسانی سوشل اسٹڈیز میں ڈالا جا سکتا تھا۔ دھیان میں رہے کہ چھٹی کلاس میں سوشل اسٹڈیز اور اسلامیات کے مضامین الگ سے موجود ہیں۔
 ایک سبق اخلاقیات پہ بھی ہے جو مہمان نوازی کے متعلق ہے اور یہ بھی دراصل عہد نبوی کا ایک واقعہ ہے۔ 
ایک سبق اقوال زریں پہ ہے جسکے سولہ میں سے، سب سے پہلا قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ ہے اور دس اقوال دراصل احادیث ہیں، تین صحابہ اکرام کے اقوال ہیں، ایک شیخ سعدی کا اور ایک یحیی برمکی کا۔ یعنی مذہب اور ملک  سے باہر نہ کوئ دنیا بستی ہے اور نہ کوئ شخصیات ہیں اور انکے اقوال۔
کیا دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں زبان اسی طرح سکھائ جاتی ہے؟
اردو کی کتاب جسے دراصل صرف اردو زبان اور ادب کے متعلق ہونا چاہئیے تھا وہ آدھی سے زیادہ مذہب اور حب الوطنی کے ملغوبے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ صرف ایک ادبی شخصیت کا تذکرہ ہے اور وہ ہیں ڈپٹی نذیر احمد، شاید انہیں یہ مقام توبۃ النصوح کی وجہ سے ملا ہو۔ نصاب بنانے والوں سے صرف یہ پوچھنا چاہونگی کہ اردو کے لئے ایک علیحدہ نصاب کی کیا واقعی ضرورت ہے؟
کیا زبان سکھانے کے یہی طرائق ہوتے ہیں؟ اور کچھ نہیں تو انگریزی زبان کے زبان سکھانے کے طریقوں کو ہی دیکھا جا سکتا ہے۔
اس میں ہماری کلاسک کہانیوں کے کچھ حصے ڈالے جا سکتے تھے۔ سعدی کی حکائیتیں ڈالی جا سکتی تھی۔ اردو میں ذخیرہ ء ادب اتنا محدود نہیں کہ اردو کی کتاب کا پیٹ بھرنے کے لئے اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کے موضوعات ڈالے جائیں۔ دنیا کی دیگر تہذیبوں کی کہانیوں کے ترجمے ڈالے جا سکتے تھے۔ مزید ڈرامے ڈالے جا سکتے تھے۔ سفر نامے ڈالے جا سکتے تھے، دنیا کی مشہور شخصیات کی سوانح عمری کے حصے ڈالے جا سکتے تھے۔ پاکستان سے باہر، مذہب سے باہر لوگوں کے بارے میں جاننا کچھ گناہ نہیں۔ بلکہ پاکستان بننے سے پہلے اس زمین پہ کئ عظیم شخصیات گذری ہیں انکے متعلق ڈالا جا سکتا ہے۔
یہ سب باتیں انہیں بھی پتہ ہونگیں، لیکن نیت یہ ہوگی کہ ثواب اور حب الوطنی زیادہ سے زیادہ کمایا جائے۔ 
یہی نہیں، یہ وہ سطح ہے جہاں پہ بچے محاوروں اور کہاوتوں کے استعمال سے آشنا ہوتے ہیں اس لئے اسباق کی زبان اس سے کہیں بہتر اور دلچسپ بنائ جا سکتی تھی۔
بہر حال، اس کتاب کو پڑھنے کے بعد میں سوچتی ہوں، کہ اگر اسلامیات، سوشل اسٹڈیز اور اردو کو ملا کر ایک مضمون بنا دیا جائے تو نہ صرف کم اساتذہ درکار ہونگے بلکہ اسکول ٹائم بھی کم ہوجائے گا۔ ایک گھنٹے کا فرق تو آئے گا ہی۔ اس طرح سے بجلی بچے گی ،لوگ چھوٹی موٹی صنعتیںچلانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اور کچھ نہیں تو بچے کسی درزی یا مکینک کے پاس چھوٹے بن کر اپنے فالتو وقت میں کچھ آمدنی حاصل کریں گے۔ بچیاں اپنی ماءووں کے ساتھ زیادہ گھروں میں جھاڑو پونچھا کریں گی۔ جو اس ملغوبہ نسل سے تو زیادہ عملی ثابت ہوگی۔  کیا یہ خیال غلط ہے؟

Tuesday, March 27, 2012

دلدار کا وفادار

بس میں نے دال بگھار کر اپنا کچن کا کام ختم ہی کیا تھا کہ فون بجا۔ اٹھایا تو ایک ادیبہ دوست تھیں۔ سلام دعا کے فوراً بعد ہی کہنے لگیں ، 'آفس سے فون کر رہی ہوں یہ پوچھنا تھا کہ شرمین عبید کو ایوارڈ ملا اس بارے میں آپکا کیا خیال ہے؟'۔  مستقل قارئین کو تو معلوم ہی ہے کہ میرا اس بارے میں کیا خیال ہے۔
میں نے ان سے دریافت کیا کراچی میں لٹریچر فیسٹول ہوا کیا آپ اس میں گئ تھیں۔ کہنے لگیں ، مجھے دعوت نامہ تو نہیں ملا تھا لیکن کسی اور ذریعے سے خبر ملی ، میں نے کوشش کی لیکن وہ اس قدر کونے میں ہے کہ جا نہیں سکی۔ البتہ کانفرنس میں آئے چند غیر ملکی ادیبوں سے میری کہیں اور ملاقات ہوئ۔  ان میں سے ایک نے مجھ سے کہا کہ آخر اردو لکھنے والے اس روئیے کے خلاف احتجاج کیوں نہیں کرتے۔ آخر یہ کیسے ہوتا ہے کہ اتنا بڑا مجمع اکٹھا ہو اور اس میں اردو کو اور اسکے لکھنے والوں کو نظر انداز کیا جائے۔
لیکن میں آپ سے شرمین عبید کے متعلق پوچھ رہی ہوں۔ وہ اپنے موضوع کی طرف واپس پلٹیں۔ 
میں ایک ایسی فلم کے بارے میں کیا رائے دوں۔ جسکی تخلیقی زبان وہ ہے جو ملک کے دو فیصد سے بھی کم لوگ بولتے اور سمجھتے ہیں۔ جو بولتے اور سمجھتے ہیں انکی اکثریت مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ  یہ سب دیکھ کر' کیا جاہلیت ہے' کہہ کر اپنی دنیا میں گم  ہو جاتے ہیں۔  یہ وہ فلم ہے جو کسی نے اب تک پاکستان میں نہیں دیکھی۔ البتہ یہ کہ اسکا موضوع پاکستان کے ماحول سے لیا گیا ہے اور بنانے والی خاتون کی جائے پیدائش پاکستان ہے۔
کیا آپ نے فلم دیکھی ہے؟ میں نے ان سے پلٹ کر سوال کیا۔ جواب نفی میں ملا۔ میں سمجھ رہی تھی کہ آپکو کسی ذریعے سے مل گئ ہوگی۔ انہوں نے فرمایا۔ جی نہیں اسکے حقوق کسی غیر ملکی چینل کے پاس محفوظ ہونگے ایسے نہیں ملے گی۔ اخبار سے اطلاع ملی کہ موصوفہ اب اسے اردو میں ڈھالنے کا کام کریں گی۔ حالانکہ فلم کی پہلی ریلیز کے وقت اس میں اردو سب ٹائٹل دالے جا سکتے تھے۔
کیا یہ ہمارا المیہ نہیں کہ ہمارے جو لوگ علم کے وسائل تک زیادہ پہنچ رکھتے ہیں دنیا سے انکی واقفیت زیادہ ہوتی ہے وہ محض اپنے نام و نمود کے لئے عوامی زبان کے بجائے اس زبان کو ترجیح دیتے ہیں جو اس ملک کے لوگ نہیں سمجھ سکتے۔ اس لئے کہ انکی ترجیح بین الاقوامی منڈی ہوتی ہے اور اس ملک کی زمین نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ محض ایک نظر ڈالنے سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اردو صحافت اور اردو ادب، انگریزی صحافت اور انگریزی ادب ایک دوسرے سے کس قدر چاند اور سورج کی دوری پہ موجود ہیں۔
آج ایک عام بیس سالہ نوجوان جب نسیم حجازی کے ناول پڑھ کر مذہبی جذبے سے سرشار ہو رہا ہوتا ہے تو عین اسی وقت ایک انگریزی جاننے والا اسی عمر کا نوجوان محمد حنیف کے اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز پڑھ کر ہماری سیاسی اور ثقافتی زبوں حالی کی وجوہات کو جان رہا ہوتا ہے۔ کم از کم اس میںمخالف بات کو سننے کا حوصلہ تو پیدا ہوتا ہے۔
 اردو اخبار جنگ کا اتوار کا میگزین پڑھ کر جب ایک عام پاکستانی عورت، روائیتی فرماں بردار بیوی، بیٹی، بہن  اور بہو بننے کے طریقے سیکھ رہی ہوتی ہے تو انگریزی اخبار کے اتوار کے میگزین کو پڑھنے والی عورت یہ جان رہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی مونٹیسوری کی تعلیم میں کیسے مدد کر سکتی ہے، کوئ خاتون اپنے معذور بچوں کی کیا مدد کر سکتی ہے،  اپنے آپ کو چھاتی کے کینسر سے کیسے بچا سکتی ہے، اپنی روزانہ کی زندگی میں کارآمد مشغلے کیسے اختیار کر سکتی ہے اگر وہ پیشہ ور خاتون ہے تو کیسے ملازمت کے دوران جنسی ہراسمنٹ سے بچ سکتی ہے، یہ جان سکتی ہے کہ اسکے ملک میں دیگر پڑھی لکھی خواتین کیا کر رہی ہیں وغیرہ وغیرہ۔
یہی نہیں اگر کسی بھی کتاب فروخت کرنے والی جگہہ کا جائزہ لیں تو وہاں اردو میں سب سے زیادہ مذہبی کتابیں ملیں گی۔ جب کہ انگریزی کتابوں میں دنیا کے ہر موضوع پہ ہر طرح کی کتابیں نظر آئیں گی۔
کیا یہ طبقہ یہ سوچتا ہے کہ کیوں عمیرہ احمد ایک اکثریت کو پسند ہے اور کیوں محمد حنیف کو پاکستان میں ایک محدود  طبقے کے علاوہ کوئ نہیں جانتا۔ جب محمد حنیف لکھتے وقت یہ سوچتے ہونگے کہ کس طرح انکے لکھے کو بین الاقوامی سطح پہ دیکھا جائے گا اس وقت عمیرہ احمد کیا یہ سوچتی ہوگی۔ عمیرہ احمد اس وقت اردو کی معروف لکھاری ہیں اور وطن میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد ان سے واقف ہے۔ عمیرہ احمد نے اپنا سفر خواتین اردو ڈائجسٹ سے شروع کیا اور محمد حنیف نے امریکہ کے پبلشنگ ادارے سے۔ عمیرہ احمد کو پاکستان میں توجہ ملی اور محمد حنیف عالمی سطح پہ مداح حاصل کرنا چاہتے ہونگے۔ ایک نے عوامی رجحان کو دیکھتے ہوئے لکھا دوسرے نے  تیسری دنیا سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے دلچسپ حقائق کو اس دنیا کے سامنے پیش کیا جہاں لوگ اس ملک کے بارے میں متجسس رہتے ہیں کہ یہاں پہ دہشت گردی کیسے پھل پھول رہی ہے۔ صرف تجسس، ایک جاہل معاشرے کو اسکی جاہلیت کا طعنہ دینے کا تجسس۔
ادھر پاکستانی بلاگنگ کی دنیا دیکھیں۔ اردو سے کہیں زیادہ بلاگز انگریزی میں ہیں۔ انگریزی بلاگنگ میں پیسے ملنے کے امکانات زیادہ ہیں، شہرت کے امکانات زیادہ ہیں۔ آپ ایک بین الاقوامی دنیا میں موجود ہوتے ہیں۔ زیادہ تبصرے، زیادہ ویوز۔ مگر اس سے پاکستان میں عوامی تبدیلی کیا پیدا ہو سکتی ہے؟ 
جیسی نیت ویسا پھل۔
 نتیجے میں ایک طبقے سے سلمان تاثیر پیدا ہوتے ہیں اور دوسرے سے جو اکثریت میں ہے ممتاز قادری اور اس پہ پھول برسانے والے پیدا ہوتے ہیں۔ جب سلمان تاثیر مارے جاتے ہیں تو انکا طبقہ حیران رہ جاتا ہے کہ یہ کیسے ہو گیا۔ وہ اس بات پہ دہشت زدہ ہوتا ہے کہ اس ملک میں عدم برداشت کس قدر بڑھ گئ ہے۔ لیکن وہ اس حقیقت کو جاننے سے دور رہتا ہے کہ اس معاشرتی روئیے میں انکا اپنا رویہ شامل ہے۔
میں اگر اس تلخ حقیقت کو اس طرح بیان کروں تو شاید کچھ لوگوں کو شدید لگے گا۔ لیکن یہ کہ ہمارے اس طبقے کی کیفیت اس شخص سے مختلف نہیں جو اپنے زخم کو کرید کرید کر ہرا رکھتا ہے کیونکہ اسے اس زخم کو سہلانے اور اسکی وجہ سے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں، مزہ آتا ہے۔ یہاں تو شہرت بھی ملتی ہے۔ لیکن دھیان رہنا چاہئے کہ ایک زخم کو کرید کر ہمیشہ ہرا رکھا جائے تو وہ ناسور بن جاتا ہے۔
اس ملک میں تبدیلی کا عمل اس وقت تک شروع نہیں ہو سکتا جب تک کہ تبدیلی کی خواہش کا اظہار کرنے والے اپنی زبان وہ نہیں کر لیتے جو عوام کی زبان ہے۔ یہ حقیقت تو اب برطانیہ جیسے ملک نے بھی سمجھ لی ہے اور اپنی پہلی اردو ویب سائیٹ بھی بنا لی۔ 
 یہ بات اتنی مضحکہ خیز لگتی ہے کہ آپ جنہیں تبدیلی سے روشناس کرانا چاہتے ہیں۔ انکے متعلق آپ ہر ایرے غیرے نتھو خیرے سے اسکی زبان میں بات کرتے ہیں لیکن ان سے انکی زبان میں بات نہیں کرتے۔ انکے مسائل کے حل کے لئے ہر ٹام اینڈ جیری سے مشورہ لیتے ہیں لیکن مسائل کے یہ حل کبھی انکے سامنے نہیں رکھتے اور نہ ہی اسکے لئے خود کوشش کرتے ہیں۔
خیر، میں آجکل ایک کتا پال رہی ہوں  وہ بھی بیلجیئن شیفرڈ جیسا۔ یہ کتا بے حد ذہین اور وفادار جانور ہوتا ہے۔ لیکن اگر اسے انسانوں کے ساتھ گھلنے ملنے کا موقع نہ ملے اور کوئ اس سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے روزانہ کچھ وقت اسکے ساتھ نہ گذارے تو یہ حد سے زیادہ خونخوار بن جاتا ہے۔ اور معمولی باتوں پہ حملہ کرنے کو تیار رہتا ہے۔  یہی نہیں اسے اندازہ ہو جائے کہ مالک مجھے قابو نہیں کر سکتا تو وہ مالک پہ قابو پا لیتا ہے۔ مجھے اسے اپنا مطیع بنانےاور اسکی صلاحیتوں کواپنے حق میں رکھنے کے لئے، اسے نہ صرف احساس تحفظ دینا ہو گا بلکہ اسے یقین دلانا ہوگا کہ میں اس سے محبت کرتی ہوں اور اسکی زبان سمجھتی ہوں۔ کہتے ہیں بیلجیئن شیفرڈ احسان فراموشی نہیں کرتا۔
اس لئے میں تو چلی اسکی زبان سمجھنے اور اسے اپنی سمجھانے۔

Monday, January 2, 2012

نیا سال

جس طرح ہر تہوار کے کچھ  رسوم اور آداب ہوتے ہیں اسے منانے کے لئے. اسی طرح نئے سال  کو خوش آمدید کہنے کے انداز ہوتے ہیں۔ مثلاً کچھ لوگ اسے محبوب دلنواز کے ساتھ منانا چاہتے ہیں۔ اسکے لئے مناسب مقام و طعام کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ کچھ دوستوں کے ساتھ منانا چاہتے ہیں انہیں  مقام اور مشروب چاہئیے ہوتا ہے۔ کچھ کو نہ دوست چاہئیے ہوتے ہیں نہ محبوب، وہ زمانے کو دکھانا اور ہلانا چاہتے ہیں۔ انہیں مقام اور کچھ گولہ بارود چاہئے ہوتا ہے۔ کچھ آگ سے کھیلنے کے شوقین ہوتے ہیں اور آتشبازی سے دل بہلاتے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے کم درجے پہ وہ نوجوان ہوتے ہیں جو موٹر سائیکل کے سائیلینسر ہٹا کر سڑکوں پہ دوڑتے پھرتے ہیں۔ صرف سڑکوں پہ دوڑنے کے ہم نہیں قائل، جو پھٹپھٹا کر سنائ نہ دے وہ سائیکل کیا ہے۔
ہم نئے سال کی پہلی رات کیا کرتے ہیں؟
شروع کےتین چار گھنٹے اندازہ لگاتے رہتے ہیں کہ یہ فائرنگ کی آواز تھی یا آتشبازی کا پٹاخہ۔  کراچی میں جنم لینے اور پیدائیش کے بعد سے اب تک اس شہر سے جڑے رہنے کی وجہ سے یہ ایک انتہائ دلچسپ مشغلہ لگتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے بعض مردوں کو یہ اندازہ لگانے میں لطف آتا ہے کہ سامنے سے گذرتی خاتون شادی شدہ ہے یا نہیں۔
باقی ساری دنیا میں جہاں نئے سال پہ فائرنگ اور آتشبازی کے پٹاخوں کا نادر نمونہ نہیں چلایا جاتا،ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ محض نشے میں دھت ہو کر اپنے ہی پیشاب اور قے میں لوٹیں لگانے سے کیا خاک مزہ آتا ہوگا۔ نئے سال کے آغاز کو مناتے ہوئے تین افراد کراچی میں مارے گئے۔ اس پہ ہمیں کوئ افسوس نہیں، خوشی کے اظہار کے لئے گولی اور آتشبازی میں  مرنے کا مقام، شراب کے نشے میں دھت ہو کرکسی نالے یا موری میں پڑے رہنے کے مقام سے کہیں اعلی معلوم ہوتا ہے۔ سلام ان پہ جنہوں نے اظہار اور اس دوران انتقال کے لئے معروف روائیتی  و مثالی پاکستانی طریقوں کو اپنایا۔
۔
۔
۔
نئے سال کا آغاز چونکہ ہماری روایت نہیں بلکہ نئے معاشرتی رکھ رکھاءو کی دیگر لا تعداد اداءووں کے ساتھ یہ بھی مغرب کی دین ہے۔ اس لئے اسے منانے کے طور طریقوں پہ اب تک اتفاق نہیں پیدا ہو پایا۔ جہاں سے یہ ہمارے یہاں آیا انہوں نے اسکے ساتھ ایک پخ یہ بھی لگا رکھی ہے کہ آنے والے سال کے لئے کوئ قرار داد بھی رکھی جائے۔ میں نے  کچھ قرار دادوں کا اندازہ لگایا ہے۔ تفصیل کچھ اس طرح ہے۔
حکومتی قرارداد، عوام کے لئے فوری بنیادوں پہ کم قیمت  چنوں کی فراہمی تاکہ وہ چنوں سے گیس پیدا کر سکیں۔ چنا گیس امید کی جاتی ہے کہ سی این جی کی نسبت زیادہ تسلسل کے ساتھ فراہم کی جا سکے گی۔ اس سلسلے میں مزید گیس پیدا کرنے والی روائیتی اشیاء پہ بھی غور کیا جائے گا، مثلاً گوبھی اور مولی۔ ادرک اور کالے نمک کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی۔
تحریک انصاف، تمام لوٹوں کو ایک جگہ جمع کرنے کی کوششوں میں کامیاب ہو گی۔ لوٹوں کے پائڈ پائیپر ، عمران خان کا یہ احسان قوم جلد ہی ووٹوں کی صورت میں اتارے گی۔ اگچہ اب تک یہ ایک سوال ہی ہے کہ جمع کئیے ہوئے لوٹوں کو کیسے ری سائیکل کیا جائے گا۔
خفیہ طاقتیں، میمو گیٹ نامی چوہے کو تین چار مہینے اور دوڑائیں گی جب تک انکے پیچھے دوڑنے والی بلیاں انکی پسند کے پنجروں میں نہ پہنچ جائیں۔
تمام سیاسی جماعتوں کا اب ایک موسیقی کا ونگ بھی ہوگا۔ اس طرح ملک میں فن اور فنکار کی اہمیت بڑھنے کا امکان ہے ۔



اسکے علاوہ چند پیشنگوئیاں جو بالکل درست ثابت ہونگیں۔
 اس سال  ملک کی زیر بحث مشہور زندہ شخصیات، زرداری،   مشرف، الطاف حسین، عمران خان، اور وینا ملک رہیں گی۔ مردہ شخصیات میں سید ابوالاعلی مودودی اور بھٹو کے درمیان مقابلہ جاری رہے گا۔
رواں سال بھی یہ طے نہیں ہو پائے گا کہ قائد اعظم سیکولر تھے یا مولانا۔
بے نظیر بھٹو کے قاتل کی تلاش جاری رہے گی۔
عوامی گفتگو میں مشہور الفاظ کچھ اس طرح ہونگے، چور، جھوٹے، بے غیرت، کرپشن، لوٹے، انصاف ، تحریک اور تحریک انصاف۔
اس سال بھی اس برہمن کا پتہ نہ چل پائے گا جو ہر سال کے آغاز پہ عشّاق کو تسلی دے کر روانہ ہوتا ہے کہ یہ سال اچھا ہے۔ اسکی وجہ سے عشاق کی تعداد میں روز افزوں اضافہ جاری رہے گا۔
پاکستان بلاگ ایوارڈز والے ایک دفعہ پھر فرحان دانش کو بہترین اردو بلاگر کا ایوارڈ دیں گے تاکہ اردو بلاگرز میں صحیح سے رن کا میدان چھڑے اور وہ بلاگنگ سے تائب ہو جائیں یا پھر انگریزی میں بلاگنگ کریں۔

میں کیا کرونگی؟
 میں سر سید جیسی عظیم ہستی پہ اپنی تحاریر کو مکمل کرونگی۔
:)
آپ سب کو نیا سال مبارک ہو۔ وائے افسوس کہ غالب نے نئے سال کے متعلق برہمن کے ارشاد کے سوا کچھ نہیں فرمایا لیکن امید کرتے ہیں عشاق کے علاوہ ہمیں بھی کچھ بہتر ملے گا۔


Wednesday, December 28, 2011

اچھی بلاگ پوسٹس

متھ کا سائینس اور شماریات سے کوئ تعلق نہیں۔  یہ خیالات کچھ مخصوص ماحول میں تقویت پا جاتے ہیں اور پھر انہیں پھاڑ کر ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے متھ بسٹر کی اصطلاح   گھڑنی پڑی۔
متھ کیا ہے؟ اسکی تعریف میں جائے بغیر ایک مثال دیتی ہوں۔ اگر کسی جوڑے کے یہاں لگاتار بیٹیاں ہوئے جا رہی ہیں اور انہیں یہ فکر ہے کہ بغیر وارث کے ہی اپنی سلطنت چھوڑنی پڑے گی تو آخری بچی کا نام بشری رکھ دیں۔ انشاءاللہ، اسکے بعد بیٹا ہوگا۔ ویسے یہ ایک متھ ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بشری ون، بشری ٹو قسم  کے سیکوئیلز کے بعد بھی آپکا کام نہ بنے۔
بلاگنگ میں بھی اسی طرح کی بہت ساری متھس ہیں۔ بالخصوص اردو بلاگنگ میں۔ مثلاً اچھی پوسٹ وہ ہے جس پہ بہت سارے تبصرے ہوں۔ یا اچھی پوسٹ وہ ہے جسے بہت سارے لوگ ویو کرتے ہوں۔
اب ہم دیکھیں تو اس معیار پہ وہ تحاریر زیادہ آئیں گی جن میں ہمارے یہاں مذہب کے ایک خاص ورژن سے ہٹ کر لکھی جانے والی تحاریر پہ مخالفین نے مناظرہ کیا ہو۔ انسانی زندگی میں دلچسپی کے مقامات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس لئے ان تمام تحاریر کو اچھی بلاگ پوسٹ کے زمرے میں کیا اس لئے رکھا جائے کہ ان پہ تبصرے زیادہ ہیں یا انکو ایک مدت میں بار بار لوگوں نے دیکھا ہے۔ اس لئے میری نظر میں یہ رائے ایک متھ ہے۔
پھر اچھی بلاگ پوسٹ کیا ہوگی؟
اچھی بلاگ پوسٹ وہ ہونی چاہئیے جسے آپ بھول جائیں مگر اس پہ ویوز آتے رہیں۔ محض سال بھر بعد وہ ایک بچکانہ بات نہ لگے۔
میں کچھ پھولوں کے بیج کینیڈا سے لیکر آئ۔ یہاں زمین کے حوالے کرنے سے پہلے میں نے انکے بارے میں سرچ کرنا ضروری سمجھا۔ ایک کے بعد ایک جب انکے نام سرچ پہ ڈالے تو درجنوں بلاگز سامنے آگئے۔ یہ بلاگز سالوں پہلے لکھے گئے تھے۔ مگر آج بھی میں نے انہیں کھولا اورانہیں مددگار پایا۔ 
میں انہیں اچھے بلاگز سمجھتی ہوں۔ ایک دفعہ ان بلاگز پہ جانے کے بعد میں نے انہیں یاد رکھا کہ تاکہ مزید مدد کے لئے دوبارہ انہیں دیکھ سکوں۔ ان میں سے کچھ معلومات بہترین ثابت ہوئ اور اس طرح میرا ان پہ اعتماد قائم ہوا۔
اسی طرح بلاگ لکھنے کے لئے موضوعات کا انتخاب۔ اس سلسلے میں بیرون ملک ویب سائیٹس سے آپ جتنی چاہیں مدد لیں لیکن اگر آپ اپنے معاشرے میں صحیح سے جذب نہیں ہوئے تو بلاگ کا موضوع ہمیشہ ایک مسئلہ رہے گا۔ باہر دیکھنے سے پہلے اپنے آپ کو یعنی اپنے ماحول کو خوب اچھی طرح سمجھ لیں۔
آپ باہر سے وہ خیال لا کر یہاں نہیں بو سکتے ہیں جس کے لئے یہاں کا موسم سازگار نہیں۔ مثلاًبیوی کو خوش رکھنے کے دس مغربی طریقے یہاں نہیں چل سکتے جو مغرب میں زیر استعمال ہیں۔ یہاں کا شوہر اس بارے میں فکر مند نہیں ہوتا کہ کپڑے دھوتے وقت ہلکے اور گہرے رنگ کے کپڑے الگ الگ دھونا چاہئیں۔ اور بیگم صاحبہ ، میاں صاحب کا یہ سگھڑاپہ دیکھ کر خوشی سے کھل اٹھیں گی۔  یہ اسکا درد سر نہیں۔ اسے اپنے کپڑے صحیح جگہ اور مقام پہ چاہئیے ہوتے ہیں۔ اس لئے صابن کے اشتہاروں میں وہ بیویاں خوش ہوتی ہیں جنکے شوہر انکے دھلے ہوئے کپڑوں کی تعریف کرتے ہیں۔
اچھی تحریر کے لئے لوگوں سے ملیں جلیں، عوامی جگہوں پہ جائیں، ٹی وی کو وقت دیں مگر اسی طرح جیسے کسی کتاب کو پڑھتے وقت آپ اندازہ لگاتے ہیں کہ اسکا ہر حرف پڑھنا ہے یا بس سرسری سا۔ اخبار پڑھیں اور کتابیں ضرور۔
اپنے آپ سے ملاقات کیجئیے اور جانئیے کہ خود آپکی دلچسپی کس رخ میں ہے۔ یہ بالکل ضروری نہیں کہ چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی۔ آپ اپنی دلچسپی کے میدان میں جادوئ صلاحیتیں رکھتے ہیں۔اور الگ سمت میں چل کر ہوا کو بھی اسی سمت میں چلنے پہ مجبور کر سکتے ہیں۔
چلیں پھر ہم کچھ بلاگنگ متھس کی فہرست بناتے ہیں۔
اچھی بلاگ پوسٹ، زیادہ تبصرے
اچھی بلاگ پوسٹ، زیادہ ویوز
اچھی بلاگ پوسٹ، جس سے زیادہ مبصرین متفق ہوں
اچھی بلاگ پوسٹ، جس میں کسی کی دل شکنی نہ ہو
اچھی بلاگ پوسٹ،  جو معاشرے کے رجحانات کے مطابق ہو
اور اگر کچھ آپکے ذہن میں ہو تو جمع کیجئیے۔

Saturday, December 17, 2011

حاصل، لا حاصل

تمام لکھنے والے انسان کے متعلق لکھتے ہیں اور لکھنا چاہتے ہیں۔ جب وہ ظاہری طور پہ ایسا نہیں کرتے جب بھی وہ ایسا ہی کر رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ انسان اس کائینات میں جس چیز کو سب سے زیادہ جاننے کی  خواہش رکھتا ہے وہ بھی حیرتناک طور پہ خدا نہیں انسان ہے۔
بانو قدسیہ کا ناول ہے 'راجہ گدھ'۔ ایک ناول جس میں انسان کی نفسیات کو شاید رزق کے حوالے سے دیکھنے کی کوشش کی گئ ہے۔ بانو قدسیہ ایک کہنہ مشق لکھاری اور ہمارے ملک کی ایک بڑی ادیبہ ہیں۔ خوش قسمتی سے اپنے پڑھنے والوں پہ اپنا اثر بھی رکھتی ہیں۔ کیونکہ غضب کے لکھنے والے تو ہوتے ہیں مگر پڑھنے والوں کو اپنے اثر میں لے آنا یہ ہر ایک کی قسمت نہیں ہوتی۔
انکے اس ناول سے میں نے ایک اصطلاح کا تعارف لیا، عشق لا حاصل۔ لا حاصل کا عشق انسان کو دیوانگی میں مبتلا کر دیتا ہے مجھے انکی تحریر سے یہ سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن یہ سمجھ نہیں آتا کہ عشق میں حاصل اور لا حاصل کی حد تمیز کہاں ہوتی ہے۔
عشق لا حاصل نہیں ہو سکتا۔ جو لا حاصل ہو وہ عشق نہیں ہو سکتا۔ اور ریاضی کے اس کلئیے سے تو ہم واقف ہیں کہ صفر سے جو چیز ضرب کھائے وہ صفر ہو جاتی ہے۔
ویسے عشق کا حاصل کیا ہوتا ہے؟ عرفان ذات، میرے خیال سے اگر عشق انسان کو عرفان ذات نہیں دیتا تو یہ عشق نہیں ہوتا۔
 انکے ناول میں رزق حلال اور حرام کے انسانی نفسیات پہ اثرات کا مطالعہ بھی آتا ہے۔ ہو سکتا ہے اسے پڑھنے والے بیشتر قاری اس سے متفق ہوں۔ مگر چند ایک اختلاف بھی رکھتے ہونگے۔ جیسے میں۔
کیونکہ عملی دنیا میں جو ہم دیکھتے ہیں وہ اس سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو کہ حلال زندگی نہیں گذارتے لیکن انکی اولاد یہ رجحان نہیں رکھتی۔ مثلا حضرت ابراہیم کے والد ایک بت تراش تھے جبکہ حضرت ابراہیم ایک بت شکن۔
 اس طرح رزق حلال انسان میں روحانی اطمینان تو پیدا کرتا ہے لیکن دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو حلال کماتے کھاتے ہیں پھر بھی سخت ترین دنیاوی آزمائیشوں میں گھرے رہتے ہیں اور یہ پے درپے آزمائیشیں ان سے دل کا سکون چھین لیتی ہیں۔ اور انسان یہ کہنے پہ مجبور ہو جاتا ہے کہ ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے ہیں۔
کیا انسانی اخلاق یا تقدیر کا تعلق رزق سے ہوتا ہے ؟
کیا حلال رزق کھانے والے اعلی اخلاقی کردار رکھتے ہیں اور حرام کھانے والے  رذیل کردار؟ کیا حلال کھانے والے آسان تقدیر رکھتے ہیں اور حرام کھانے والے مشکل؟
کیا حلال اور حرام رزق انسان کے ڈی این اے پہ اثر انداز ہوتا ہے؟ کیا مکافات عمل واقعی کوئ وجود رکھتا ہے؟

انسانی نفسیات یا مختلف رویوں کے ماءخذ، لکھنے والے کے لئے اسرار کی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک انسان یا انسانوں پہ مشتمل ایک معاشرہ کیوں ایک خاص رویہ یا رجحان رکھتا ہے؟ انسان نہ چاہتے ہوئے بھی کیوں ان چیزوں کا شکار ہو جاتا ہے جو اسے نا پسند ہوتی ہیں اور کیوں پسند کی چیزیں اس کی پہنچ میں نہیں آپاتیں؟ کیا یہ سب تقدیر ہے؟ لیکن کیا انسانوں کے لئے کوئ خاص قدرتی نہج موجود ہے؟ کیا سورج چاند ستاروں کی طرح انسان کے لئے بھی کوئ ایک مقررہ رستہ ہے یا اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے قدرت انہیں  الگ نظر سے دیکھتی ہے؟ قدرت اپنا یہ پیمانہ کس طرح مقرر کرتی ہے؟
 کل میں ایک اردو بلاگ سے گذری۔ یہاں  بلاگر نے اپنی اس تفصیلی پوسٹ میں جنس سے متعلق مختلف چیزوں پہ اپنے خیالات کو پیش کرتے ہوئے لکھا کہ جو بچے نفرت کے رشتے سے پیدا ہوتے ہیں وہ ذہنی طور پہ غیر متوازن شخصیت رکھتے ہیں اور صحت مند نہیں ہوتے۔
مصنف جنسی تعلق کو عبادت کے مقابل لاتا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ اگر عبادت میں خشوع و خضوع نہ ہو تو عبادت رائگاں ہوتی ہے۔ جنسی عمل میں بھی اگر صداقت نہ ہو تو یہ کمزور انسانوں کو وجود میں لاتا ہے اور کمزور انسان کمزور معاشرے کو جنم دیتا ہے۔ انکی اس تحریر سے میں نتیجہ نکالتی ہوں کہ ایک ایسے تعلق، جس میں جذباتی وابستگی نہ ہو، محبت نہ ہو، حاصل  لا حاصل کے برابر ہوتا ہے۔   
اگر عشق لا حاصل دیوانگی دیتا ہے اور اگر نفرت کا تعلق کمزور انسان  اور اگر یہ انسان کے ڈی این اے کو بھی متائثر کرتے ہیں تو یہ سلسلہ زنجیر کی مانند چلتے رہنا چاہئیے اور مستقبل ہمیں تاریک نظر آنا چاہئیے۔ لیکن ہمارے دلوں پہ امید کیوں دستک دیتی ہے۔ اور ہم مستقبل سے اپنے لئے کیوں خوشی چاہتے ہیں؟

Thursday, December 1, 2011

میرے مسائل اور انکا حل

جس طرح ماہر جدی پشتی حکیم یہ دعوی کرتے نظر آتے ہیں کہ ہر مرض کاعلاج موجود ہے اسی طرح میں بھی کہہ سکتی ہوں کہ ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔
حالانکہ کبھی کبھی گمان گذرتا ہے کہ اکثر ہمارے مسائل اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ انکے حل ہمارے پاس نہیں ہوتے۔ اس طرح سے انسان مکڑی کی طرح خلوت کی زندگی گذارنے کے بجائے چیونٹیوں کی طرح سماجی جانور بننے پہ مجبور ہو جاتا ہے۔
اگر آپ یہ جانتے ہیں کہ آپکے کسی مسئلے کا حل کہاں سے ملے گا تو یہ ایک خوش قسمتی ٹہرتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ ذریعہ آپکی پہنچ میں ہے یا نہیں۔
مجھے بھی آجکل کچھ مسائل کا سامنا ہے۔ مسئلہ نمبر ایک تو یہ کہ میرے بلاگ کی فیڈز مختلف ایگریگیٹر پہ آنا بند ہو گئیں۔ سب سے پہلے میں یہ بات اردو سیارہ پہ نوٹ کی۔ خیال گذرا کہ انہیں مجھ سے کچھ دبی دبی سی شکائیتیں رہتی ہیں۔ اس لئے شاید اب جان چھڑانی چاہی ہو۔ لیکن نہیں اس بد گمانی کے ساتھ یہ بھی تھا کہ انکی بلاگر لسٹ پہ میرا نام اور اسکی فیڈ اب بھی موجود ہے۔
فیس بک پہ یہ الجھن عرض کی تو جناب محمد بلال محمود صاحب نے خیال ظاہر کیا کہ ہو سکتا ہے فیڈ برنر کے ساتھ کچھ مسئلہ ہو۔ انکے دئیے ہوئے لنک پہ دیکھا تو معلوم ہوا کہ اگر آپکا بلاگ ۵۱۲ کلو بائیٹس سے زیادہ بڑھ جاتا ہے تو آپکی فیڈ بند ہو جائے گی اور یہ دوبارہ اسی صورت بحال ہو گی جب اس میں توسیع کی جائے۔ اسکے لئے طریقہء کار دیا ہوا تھا۔ اس پہ عمل کیا۔  توسیع تو مل گئ لیکن پتہ تبدیل ہو گیا۔ یہ نیا پتہ عثمان، کو دیا کہ سیارہ کی انتظامیہ کو دے دیں۔ کیونکہ ہم نے ان سے جس پتے پہ  رابطہ کیا اس پہ  جواب ندارد۔ عثمان نے اطلاع دی کہ وہ دے چکے ہیں۔ شاگرد عزیز کا شکریہ۔
اب اس بات کو بھی کافی دن گذر گئے ہیں۔ اس لئے اپنے قارئین سے گذارش ہے کہ اس بلاگ سے رابطے میں رہنے کے لئے چاہیں تو سبسکرائیب کر لیں ۔
ادھر ٹی بریک والوں سے بھی بات کی جس دن انہیں ای میل بھیجی اسی دن جواب آگیا کہ آپ اپنا بلاگ ایڈریس بھیجیں ہم چیک کرتے ہیں کیا مسئلہ ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ انکے اپنے گوگل کے ساتھ مسائل چل رہے ہیں اور وہ اسے نبٹا رہے ہیں۔ اسکے بعد وہ ہمارے مسئلے کو دیکھیں گے۔
خیر مستقل قارئین کا بے حد شکریہ کہ وہ اس بلاگ سے رشتہ استوار رکھے ہوئے ہیں۔

دوسرا مسئلہ ذرا دلچسپ ہے۔  بلاگ سے ہٹ کر ایک تحریر کے لئے کچھ تحقیق کرنی ہے۔ اسکے لئے ان لوگوں کا تعاون درکار ہے جنکے والدین یا بزرگ انیس سو سینتالیس میں تقسیم کے نتیجے میں پاکستان آئے اور جو مشرقی پنجاب یا راجستھان سے تعلق رکھتے ہوں۔ میں ان سے گفتگو کرنے میں دلچسپی رکھتی ہوں۔ اگر آپکے ارد گرد کوئ ایسا شخص موجود ہے تو میں اس سے اسکائپ کے ذریعے  یا کسی ایسے ذریعے سے بات کرنا پسند کرونگی جس تک وہ بآسانی پہنچ سکیں اور انکا کوئ خرچہ بھی نہ ہو۔ مجھ سے رابطے کے لئے یہ ای میل ایڈریس ہے۔
 aniqaamar@yahoo.com
آجکل ایک بلاگی ساتھی کے کینیڈا میں مقیم ایک بزرگ سے اسی طرح، اس موضوع پہ بات ہو رہی ہے
اس مسئلے کا ایک اور حل بھی سامنے آیا جب کسی نے مجھے یہ بتایا کہ کراچی میں اورل ہسٹری کے نام سے ایک پروجیکٹ پہ سٹیزن آرکائیو والے کام کر رہے ہیں اور انکے پاس ایسے لوگوں کے ریکارڈ کئے ہوئے انٹرویوز اور تصویریں موجود ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ انکے پاس ایسے لوگوں سے رابطہ کرنے کے لئے پتے بھی موجود ہوں۔ انکے ایک نمائیندے سے معلومات کیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ انہیں ای میل کر کے درخواست بھیجیں۔ وہ ضرور اسکا جواب دیں گے۔
بات تو صحیح ہے انہوں نے یہ ہسٹری جمع تو اسی لئے کی ہو گی کہ جو اس سے مستفید ہونا چاہے اسے آسانی سے مل جائے۔ چنانچہ انہیں ایک ای میل کر دی۔ اب دو دن سے منتظر ہوں کہ کیا وہ بھیجتے ہیں جواب میں۔
ہر مسئلے کا حل موجود ہے نہیں ہے تو نکل آئے گا۔ نہ نکلے تو ایک مسئلے کو کیا دل سے لگا کر بیٹھیں رہیں۔ اگلے والے کو پکڑ لیں۔ بعض اوقات اگلے والوں پہ کام کرنے سے پیچھے والے خود درست ہو جاتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟ 

Friday, November 25, 2011

تبدیلی کا ایوارڈ

بلاگرز کی اکثریت بلاگ ایوارڈز میں مصروف ہے۔ میں نے اسے پہلے نظر انداز کئے رکھا کہ میرے ذاتی خیال میں ایوارڈز میں لابنگ کا خاصہ حصہ ہوتا ہے اور جب بلاگ ایوارڈز والے خود ہی کہہ رہے ہیں کہ ووٹ کے لئے اندھا دھند لوگوں پہ چڑھ دوڑیں تو یہ تو ہمارے ایک دوست کے بقول جمہوری ایوارڈ ہو گئے۔ اور پاکستان کی  جمہوریت ہم سب کی دیکھی بھالی ہے۔  پھر ایک اور ساتھی کے اصرار پہ نومینیشن کی کوشش کی، ایجنٹ آف چینج کی کٹیگری میں اپنے بلاگ کو ڈالنے کی ہمت کی۔ یہ نومینیشن شاید ہماری کسی غلطی کی وجہ سے نہ ہو سکی۔ اب ہم آرام سے ہیں۔
سو آجکل فیس بک پہ لوگ ووٹ مانگتے نظر آتے ہیں۔ ان سے جان چھڑانے کے لئے لوگوں نے اپنی دیواروں پہ یہ نہیں لکھا کہ دیکھو یہاں کتا پیشاب کر رہا ہے۔ البتہ جعلی ووٹ ڈالنے کے طریقے بتا دئیے ہیں۔ ہائو سوئیٹ۔ میں نے نوٹ کیا کہ اسکے بعد ووٹ مانگنے کے اسٹیٹس کم نظر آئے۔
ایک بلاگ اسٹیٹس ایسا بھی نظر آیا جو اپنے لئے نہیں میڈیا کے ایک مشہور صاحب کے لئے ووٹ مانگ رہا تھا۔ یہ صاحب انگلش میں بلاگنگ کرتے ہیں۔  کیا آپکو نہیں لگتا کہ جب انسان دنیا میں بہت کچھ حاصل کر لیتا ہے تو اسے کم از کم چھوٹی موٹی چیزوں کو اس لئے چھوڑ دینا چاہئیے کہ خاص طور پہ نوجوان کم از کم اسی کی تگ و دو میں مصروف رہیں۔ آخر تبدیلی کا عمل کہاں سے شروع ہوگا؟ جن کی طرف سے یہ اسٹیٹس تھا وہ پاکستان میں انقلابی تبدیلی کے خواہاں ہیں۔
ویسےسوشل میڈیا پاکستان میں کافی سرگرم ہے۔ لیکن پاکستان میں اسکے وہ اثرات نظر نہیں آتے جو ہم باقی ممالک میں دیکھتے ہیں۔ کیونکہ سوشل میڈیا پہ جو لوگ تبدیلی کے متعلق بہت زیادہ بات کرتے ہیں یہ وہ ہیں جو اپنے رابطے کی زبان اردو کو اپنی سوچ کی ترسیل کے لئے استعمال نہیں کرتے۔
اس سے میں تو یہی اندازہ لگاتی ہوں انہیں عوامی پیمانے پہ تبدیلی کی خواہش نہیں۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ عوام کے دیوتاءووں میں تبدیلی آجائے،ایسی تبدیلی جس میں انکے طبقے کو کوئ نقصان نہ پہنچے۔
اس لئے جب شعیب صفدر صاحب نے یہ بتایا کہ پچھلے سال ان ایوارڈز کی انتظامیہ کی توجہ انہوں نے اس طرف دلائ کہ اردو بلاگنگ بھی اپنا ایک منحنا وجود رکھتی ہے اور اسکے لئے بھی کسی خاص ایوارڈ کا اعلان ہونا چاہئیے۔  انتظامیہ نے انکی اس التماس پہ اردو کے لئے بھی ایک حصہ مختص کیا ۔ تو اس سے مجھے برصغیر میں انگریزوں کا دور یاد آگیا۔ ان سے بھی بر صغیر کے عوام کے لئے ایسی ہی درخواستیں کرنی پڑتی تھیں۔ انکا بنیادی مسئلہ تو یہ تھا کہ وہ یہاں سے تعلق نہیں رکھتے نہ جسمانی نہ جذباتی۔
مزے کی بات یہ ہے کہ یہ وہی اردو زبان ہے جسے بچانے کا ایجنڈا تحریک پاکستان کا حصہ تھا۔ تحریک کی صرف ایک چیز یاد رہی پاکستان کا مطلب کیا اور باقی سب بھول گئے۔ اسی پہ آج تک سارے جھگڑے چل رہے ہیں۔
میں اپنے ایک اور دوست کو یہ بات بتا رہی تھی کہنے لگے یہ ایوارڈز کروا کون رہا ہے۔ میں نے بتایا کہ یہ گوگل والے مرکزی کردار ہیں۔ کہنے لگے جو کروا رہے ہیں یہ سب سی آئ اے کے ایجنڈے پہ کام کرتے ہیں۔ انہیں عوام سے کیا مطلب، انکا مقصد پاکستان میں خواص کو خوش اور مصروف رکھنا ہے۔ اس لئے وہ اردو کی طرف کیوں توجہ کریں گے؟ کیا آپ نے یہ نہیں نوٹس کیا کہ اردو کو اب تک گوگل پہ سپورٹ حاصل نہیں۔ اردو میں بلاگنگ کرنے کے لئے مقامی نوجوانوں کے تجربات کی بھٹی سے گذرنا پڑتا ہے۔ وہ تپے ہوئے تھے۔ حالانکہ وہ بلاگر بھی نہیں ہیں۔
ہاں لیکن وہ کہتے ہیں کہ اردو مواد اتنا موجود نہیں ہے۔ میں نے دفاع کیا۔ اچھا تو تیلگو مواد موجود ہے جو بھارت کی علاقائ زبان ہے۔ انہوں نے مجھ سے سوال کیا۔ جس خطے میں انہیں جیسی تبدیلی چاہئیے ہوتی ہے وہ ویسی ہی سپورٹ رکھتے ہیں۔ یہاں ابھی وہ عوامی سطح کی تبدیلی نہیں چاہتے، اس لئے سوشل میڈیا پہ انگریزی کا قبضہ ہے۔ انگریزی کا جو نہ صرف اشرافیہ کے رابطے کی زبان ہء بلکہ جو ان اشرافیہ کو بیرونی طاقتوں سے فنڈنگ حاصل کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ آپ کوشش کر لیں کہ اردو بلاگنگ کو آسان بنانے کے لئے کہیں سے فنڈنگ مل جائے۔ نہیں ملے گی۔ یہ انکا دعوی ہے۔ لیکن میں ایسی کوشش نہیں کرنے جا رہی۔ اسکی وجہ میرا ٹیکنیکلی زیرو ہونا ہے۔
یہ بیرونی طاقتوں کی بات تو ایک طرف خود اردو بلاگنگ انتہائ مخدوش حالت میں ہے۔ حالانکہ میرے اندازے کے مطابق اسے کوئ دس سال کا عرصہ ہو رہا ہے۔ لیکن اردو بلاگنگ نے جو مواد دیا ہے وہ قطعی ایسا نہیں کہ کوئ اس سے بار بار مستفید ہونے کے لئے آئے۔ قطعی غیر متائثر کن۔
اب اردو بلاگرز کو دیکھیئے، ان کی اکثریت ناپختہ ذہن کی مالک ہے یا یہ کہ وہ اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو پچھلے چالیس سالوں کی سیاسی اور مذہبی جدو جہد کے نتیجے میں آئ ہے یا یہ کہ انکی اکثریت بلاگنگ کو غیر سنجیدہ لیتے ہیں۔اور وہ انتہائ بے کار کی باتوں پہ بخوشی اپنا وقت لگاتے ہیں۔ اسکا فیصلہ میں آپ پہ چھوڑتی ہوں۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ چند ایک بلاگز کو چھوڑ کر انگریزی بلاگرز بھی کوئ تیر نہیں مار رہے ہیں۔ لیکن یہ کہ بہرحال انگریزی بلاگرز موضوعات کا تنوع رکھتے ہیں۔ کل ہی ایک خاتون بلاگرہ سے ملاقات ہوئ جنکے بلاگ کا موضوع ہے گملوں میں پودے کیسے اگائیں۔  
جبکہ اردو بلاگز صرف دو طرح کے رجحانات رکھتے ہیں ایک جگت بازی، یعنی آئیے مل کر مذاق اڑائیں اور اگر وہ کوئ اور اردو بلاگر ہو جو مشترکہ طور پہ برا لگتا  ہو تو رنگ چوکھا دوسرا، آئیے مذہب کی تبلیغ کریں۔
ایک اور سوچ یہ ہے کہ اردو بلاگرز لگتا ہے اردو سیارہ کے لئے لکھتے ہیں۔ہم خیال بلاگرز ایکدوسرے کی ہاں میں ہاں ملا کر داد و تحسین کے ڈونگرے برساتے ہیں اور اللہ اللہ خیر صلّا۔  یہی وجہ ہے کہ اردو بلاگرز کے درمیان چپقلش اتنی بڑھ جاتی ہے کہ سیارہ پہ بلاگرز کے گروپ بن جاتے ہیں۔ بلکہ گروپ والی میری یہ بات بھی غلط ہی ہوگی کہ سیارہ بظاہر ایک خاص طبقے کا مرکز لگتا ہے چاہے وہ ایسا شعوری طور پہ  نہ کرتے ہوں۔
نتیجتاً اکثریت کے مزاج کے خلاف بات کرنے والے کو سیارہ سے باہر ہونا پڑتا ہے بعض دفعہ انکی انتظامیہ ایسا کرنے پہ مجبور ہوتی ہے اور بعض اوقات وہ بلاگر ہی اس جنجال پورے سے نکلنے میں عافیت سمجھتا ہے۔ ہر دو صورت میں وہ بلاگر اردو بلاگنگ چھوڑ دیتا ہے۔ 
مجھے نہیں معلوم کہ انگریزی بلاگنگ کے کسی ایگریگیٹر پہ یہ صورت حال پیدا ہوئ ہو اور لوگ اس ایگریگیٹر پہ صرف لڑائ کا مزہ لینے جاتے ہوں۔ اس لئے میں اسے ناپختہ رجحان میں رکھتی ہوں۔ اپنے آپکو بین الاقوامی سطح پہ دیکھنے کے بجائے کسی کچی آبادی کے کسی متوقع ڈیڈ اینڈ پہ دیکھنا اور خوش ہونا کہ خدا کا شکر ہے یہ دنیا یہی تک ہے اور میں اس چھوٹی سی دنیا میں محفوظ و مامون ہوں۔

ہم واپس ایوارڈز کی طرف آتے ہیں، ویسے تو ایوارڈز بانٹنا کوئ آسان کام نہیں۔
اگر آپ پاکستان میں کسی تبدیلی کے خواہاں ہیں تو ان ایوارڈز میں ووٹ ڈالتے وقت بلاگ کی کارکردگی کو ضرور دیکھیں ، چاہے آپ بلاگر کے نانا یا بھانجے یا دوست یا قبیلے کے ہوں اگر آپ اپنا یہ ووٹ صرف دوستی کا خراج ادا کرنے کے لئے دیتے ہیں تو پھر یاد رکھیں کہ جب حکمرانوں کی باری آئے گی تب بھی آپ یہی کریں گے۔ 
کیا میں امید کروں کہ کسی ایسے بلاگ کو ایوارڈ نہیں ملے گا جسے اس فہرست میں دیکھ کر میں سوچوں کہ اسے کس وجہ سے ایوارڈ ملا؟ اور اسکا پہلا جواب ہو اقرباء پروری۔



Friday, October 28, 2011

زبان کی تان

میں نے اپنی بچی کی  مونٹیسوری کی ہیڈ سے کہا کہ آپ نے آجکل اردو حروف کو واءو کے ساتھ ملانے کی مشق شروع کرائ ہے۔ اسے میں نے دیکھا اور میرے خیال سے یہ بچوں کے لئے خاصہ الجھن کا باعث ہے۔ وہ کیسے؟ انہوں نے دریافت کیا۔ دراصل اردو میں واءو کے ساتھ تین مختلف طرح کی آوازیں نکلتی ہیں۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے انہوں نے میری بات پہ ایک مسکراہٹ دی۔ واءو کے ساتھ ایک ہی آواز نکلتی ہے۔ جی نہیں، میں نے انکی بات سے انکار کیا اور انکو مثال دی۔ ابھی آپ نے بچوں کو جن آٹھ الفاظ کی مشق کرائ ہے۔ ان میں اس طرح کے الفاظ ہیں، جانو، توڑو، روکو اور اسکے ساتھ ہی الفاظ ہیں جوتا ، آڑو اور چاقو۔ ان میں واءو کے ساتھ الگ آواز ہے۔ وہ حیران سی ہوئیں ، کہاں ایک جیسی آواز ہی تو ہے۔ 'ایک جیسی نہیں ہے، جب کسی بچے کو مشق کرائیں گے تو بچہ اگر ذرا بھی ذہین ہوگا  وہ اس پہ احتجاج کرے گا۔جیسے میری بچی نے کیا اور پھر میں نے پیش لگا کر اسے فرق بتایا'۔ 
دیکھیں میں اپنی بات کو آسان کرتی ہوں۔ میں نے انہیں قائل کرنے کے لئے کہا۔ رو، رَو اور رُو یہ تینوں الفاظ الگ ہیں الگ معنی رکھتے ہیں۔ اعراب لگا دینے سے معنی الگ ہو جاتے ہیں۔ اب وہ خاموش اور سنجیدہ تو ہوئیں  لیکن اب بھی انکی خواہش یہ تھی کہ کسی طرح میری بات غلط ثابت ہو جائے اور وہ اپنی لا علمی کی شرمندگی سے بچ جائیں۔ وہ اپنی ایک ٹیچر کی طرف دیکھ کر درپردہ کہنے لگیں کہ آءو اور مجھے اس مصیبت سے نجات دلاءو۔  ٹیچر نے فوراً اس ان کہی درخواست پہ لبیک کہا اور زبان پہ فتوی دیا۔ 'اردو میں تو اعراب ہوتے ہی نہیں، اعراب تو عربی میں ہوتے ہیں'۔ 
اگر میں آپکی اس بات کو صحیح مان لوں تو آپ نے بچوں کو جو اردو کا قاعدہ دیا ہے اس میں اعراب والی مشقیں کیوں ہیں۔ اس میں پیش اور بغیر پیش کی آوازیں الگ الگ موجود ہیں۔ آپکی اردو کی ورک بک میں آڑو کے اوپر پیش لگا ہوا ہے۔ غالباً آپ نے اسے دھیان سے نہیں دیکھا۔ اور یہ بچے جب پانچویں چھٹی تک پہنچیں گے تو انہیں اردو کے مشکل الفاظ کے اوپر اعراب لگانے کی مشق بھی کرائ جائے گی ۔ اتنی اردو مجھے آتی ہے۔ میں نے انکی بات رد کی۔
میں آپ سے صرف اتنی درخواست کرونگی کہ آپ واءو آواز کے  کم از کم دو حصے کر دیں ایک میں پیش کے ساتھ اور دوسرے میں پیش کے بغیر اس طرح بچوں کو پتہ چل جائے گا کہ چاقُو، چاقُو کیوں ہے اور چاقََو کیوں نہیں ہے۔ انہوں نے مجھے ٹالنے کے لئے کہہ دیا کہ ٹھیک ہے ہم اس پہ غور کریں گے۔
غور کرنے کے بعد غالباً انہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ سارا مسئلہ آڑو اور چاقو کی وجہ سے ہے۔ اگلی مشقوں میں سے ان الفاظ کو نکال باہر کر دیا۔
یہ وہ اسکول ہے کہ جب میں اپنی بچی کا وہاں ایڈمشن کرارہی تھی تو انہوں نے مجھے اپنے اسکول میں تدریس کی پیش کش کی تھی۔ اب انہیں احساس ہو چلا ہوگا کہ یہ انکے لئے کتنا خطرناک ہوتا۔ میں نے ان سے معذرت کی تھی کہ مجھے اتنی چھوٹی کلاسز کو پڑھانے کا تجربہ نہیں اگر وہ چاہیں تو میں انکے اسکول میں رضاکار کے طور پہ خدمت انجام دے سکتی ہوں۔ رضاکارانہ خدمات کا تصور پاکستان میں اتنا عام نہیں۔ اس لئے انہوں نے اس سے فائدہ اٹھانے کا سوچا بھی نہیں۔
بہر حال، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسکولوں میں اردو پڑھانے کا طریقہ کتنا  بے کار اور توجہ سے خالی ہے۔ غالباً بچوں کو الفاظ کی تصویری شکل یاد کرا دی جاتی ہے۔ اس لئے وہ اردو میں بے حد کمزور ہوتے ہیں۔  انگریزی جس کا ملک میں اتنا شہرہ ہے وہ بھی بحیثیت زبان نہیں سکھائ جاتی بلکہ  رٹائ جاتی ہے۔ نتیجتاً وہ بھی نہیں آتی ۔ ایک شخص جو بڑی روانی سے انگریزی بول رہا ہوتا ہے  اس نے بھی کسی انگریزی بول چال سکھانے والے ادارے سے مدد لی ہوتی ہے۔ اس طرح کی تدریس سے نہ ہی وصال صنم ہو پاتا ہے اور نہ ہی خدا مل پاتا ہے۔
حالانکہ اسی ملک میں ٹاٹ پہ بیٹھ کر پڑھنے والے بچوں کی انگریزی بھی اچھی ہوتی تھی اور اردو بھی۔ وجہ یہ ہوئ کہ  ناکارہ اور نااہل افراد کے حوالے قوم کا مستقبل کر دیا گیا۔ جتنی زیادہ دونوں زبانوں میں کمزوری بڑھ رہی ہے اتنا ہی زیادہ واویلہ ہو رہا ہے کہ انگریزی زبان میں تعلیم کیوں؟
خیر، اردو زبان کی اپنی گرامر ہے ، انگریزی کی طرح حروف کی آوازیں بھی ہیں، اعراب ہیں اور انکی مدد سے بچوں کو ہجّے لگانے کی تیکنیک سکھائ جائے جیسا کہ ایک زمانے میں رواج تھا اور جیسا کہ اب بھی انگریزی کے لئے اختیار کیا جاتا ہے تو اردو بھی بچوں کے لئے آسان ہو جائے۔ لیکن زبان کی سائینس کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔ سو حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح ایک اسکول کا پورا عملہ اس بات سے ناواقف نکلا کہ اردو میں اعراب ہوتے ہیں انکی وجہ سے آواز میں فرق آتا ہے۔ اسکے بجائے انہوں نے میری معلومات کو درست کرنا پسند کیا۔ آنکھ نہ دیدہ کاڑھے کشیدہ۔

Thursday, October 20, 2011

ضرب المثل اشعار

 گفتگو ہو کہ تحریر ، اسی وقت مزہ دیتی ہے جب اس میں تشبیہات، استعارات، روزمرہ، محاورے، کہاوتیں اور ضرب الامثال روانی سے اور مناسب مقامات پہ استعمال کئیے جائیں۔ ورنہ پھر اچھی بھلی بات بھی  واعظ کا وعظ لگنے لگتی ہے۔  دور حاضر کا ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ لوگ اپنی گفتگو میں الفاظ کامحدود علم رکھنے کی وجہ سے انہیں کئ طرح سے استعمال نہیں کر پاتے جبکہ باقی چیزیں تو جیسے ختم ہی ہو گئ ہیں۔ اس لئے  گفتگو سننے کا مزہ جاتا رہا اور اب ہر ایک اپنی لگی بندھی سناتا ہے۔
مجھے یاد ہے ایک تحریر میں، میں نے مولوی مدن کی مثال استعمال کی تو ایک طبقہ بڑا ناراض ہوا کہ مولوی صاحب کا مذاق اڑایا ہے آپ نے۔ حالانکہ یہ اردو کا ایک محاورہ ہے وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔ اور یہ جس شعر سے آیا ہے وہ آپکو نیچے ملے گا۔
آپ خود حساب لگا سکتے ہیں کہ سارا دن میں آپ کتنی طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، کتنے محاورے یا استعارے یا اشعار سے اسکی زینت کرتے ہیں۔
ایک کتاب ہاتھ لگی جس کا نام ہے اردو کے ضرب المثل اشعار اسکی تالیف کی ہے جناب محمد شمس الحق نے اور اسے چھاپا ہے ادارہ ء یادگار غالب نے کراچی سے۔
ضرب المثل اشعار یعنی ایسے اشعار جنکی شہرت ایسی بڑھی کہ مثال کے لئے استعمال ہونے لگے۔  اس کتاب میں ان اشعار کی تعداد تقریباً ہزار کے قریب ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ کتاب کے حصے کر دئیے گئے ہیں۔ پہلے حصے میں وہ سارے اشعار ہیں جنکے شعراء کے نام معلوم ہیں، دوسرے حصے میں وہ جو ایک سے زائد شعراء سے منسلک کئے جاتے ہیں، تیسرے میں جنکے خالق کا نام معلوم نہیں اور آخیر میں وہ جن کا ایک ہی مصرعہ معلوم ہے۔
اب یہاں اس کتاب سے میں نے چند شعر نکالے ہیں۔ بہت زیادہ مشہور اشعار کو شامل نہیں کیا۔ جب تک آپ اس کتاب کو نہیں خرید پاتے اس انتخاب سے محظوظ ہوں۔


در پے ہے عیب جُو ترے، حاتم تو غم نہ کر           دشمن ہے عیب جُو تو خدا عیب پوش ہے     شاہ حاتم

فکر معاش، عشق بتاں، یاد رفتگاں         اس زندگی میں اب کوئ کیا کیا کیا کرے       سودا

جو کہ ظالم ہو وہ ہرگز پھولتا پھلتا نہیں         سبز ہوتے کھیت دیکھا ہے کبھو  شمشیر کا     سودا

دن کٹا، جس طرح کٹا لیکن            رات کٹتی نظر نہیں آتی     سید محمد اثر

تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب          اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا        میر تقی میر

اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میر         پھر ملیں گے اگر خدا لایا      میر تقی میر

 میرے سنگ مزار پر فرہاد          رکھ کے تیشہ کہے ہے، یا استاد        میر تقی میر

شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں          عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئیے        میر تقی میر

بہت کچھ ہے کرو میر بس          کہ اللہ بس اور باقی ہوس          میر تقی میر

مر گیا کوہ کن اسی غم میں           آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل ہے         میر تقی میر

یا تنگ نہ کر ناصح ناداں، مجھے اتنا          یا چل کے دکھا دے ، دہن ایسا، کمر ایسی            مہتاب رائے تاباں

ٹوٹا  کعبہ کون سی جائے غم ہے شیخ           کچھ قصر دل نہیں کہ بنایا نہ جائے گا       قائم چاند پوری

کی فرشتوں کی راہ ابر نے بند         جو گنہ کیجئیے ثواب ہے آج     میر سوز

ہشیار یار جانی، یہ دشت ہے ٹھگوں کا           یہاں ٹک نگاہ چوکی اور مال دوستوں کا         نظیر اکبر آبادی

پڑے بھنکتے ہیں لاکھوں دانا، کروڑوں پنڈت، ہزاروں سیانے      
جو خوب دیکھا تو یار آخر، خدا کی باتیں خدا ہی جانے           نظیر اکبر آبادی

ٹک ساتھ ہو حسرت دل مرحوم سے نکلے         عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے       فدوی عظیم آبادی

رکھ نہ آنسو سے وصل کی امید      کھاری پانی سے دال گلتی نہیں      قدرت اللہ قدرت

بلبل نے آشیانہ چمن سے اٹھالیا      پھر اس چمن میں بوم بسے یا ہما رہے        مصحفی

ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائ سن کی سی           مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی        انشا

اے خال رخ یار تجھے ٹھیک بناتا      جا چھوڑ دیا حافظ قرآن سمجھ کر        شاہ نصیر

آئے بھی لوگ، بیٹھے بھی، اٹھ بھی کھڑے ہوئے
میں جا ہی ڈھونڈھتا تیری محفل میں رہ گیا        آتش

لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی، خبر لیجئیے دہن بگڑا          آتش

مشاق درد عشق جگر بھی ہے، دل بھی ہے     کھاءوں کدھر کی چوٹ، بچاءوں کدھر کی چوٹ    آتش

فصل بہار آئ، پیو صوفیو شراب    بس ہو چکی نماز، مصلّا اٹھائیے    آتش

زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں     کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا        ذوق

ان دنوں گرچہ دکن میں ہے بڑی قدر سخن          کون جائے ذوق پر دلی کی گلیاں چھوڑ کر     ذوق

اسی لئے تو قتل عاشقاں سے منع کرتے ہیں    اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کاررواں ہو کر     خواجہ وزیر

بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل        کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا        غالب

غالب برا نہ مان جو واعظ برا کہے     ایسا بھی کوئ ہے کہ سب اچھا کہیں جسے    غالب

دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگے     بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لئے      غالب

جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد         پر طبیعت ادھر نہیں آتی     غالب

گو واں نہیں ، پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں         کعبے سے ان بتوں کو نسبت ہے دور کی       غالب

دام و در اپنے پاس کہاں      چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں         غالب

کوچہ ء عشق کی راہیں کوئ ہم سے پوچھے       خضر کیا جانیں غریب، اگلے زمانے والے         وزیر علی صبا

اذاں دی کعبے میں، ناقوس دیر میں پھونکا        کہاں کہاں ترا عاشق تجھے پکار آیا              محمد رضا برق

الجھا ہے پاءوں یار کا زلف دراز میں    لو آپ  اپنے دام میں صیاد آ گیا         مومن

شب ہجر میں کیا ہجوم بلا ہے      زباں تھک گئ مرحبا کہتے کہتے      مومن

لگا رہا ہوں مضامین نو کے انبار      خبر کرو میرے خرمن کے خوشہ چینوں کو         میر انیس

نسیم دہلوی، ہم موجد باب فصاحت ہیں       کوئ اردو کو کیا سمجھے گا جیسا ہم سمجھتے ہیں         اصغر علی خاں فہیم

وہ شیفتہ کہ دھوم ہے حضرت کے زہد کی    میں کیا کہوں کہ رات مجھے کس کے گھر ملے         شیفتہ

ہر چند سیر کی ہے بہت تم نے شیفتہ        پر مے کدے میں بھی کبھی تشریف لائیے          شیفتہ

فسانے اپنی محبت کے سچ ہیں، پر کچھ کچھ        بڑھا بھی دیتے ہیں ہم زیب داستاں کے لئے        شیفتہ

کیا لطف، جو غیر پردہ کھولے     جادو وہ جو سر چڑھ کے بولے     دیا شنکر نسیم

دینا وہ اسکا ساغر مے یاد ہےنظام       منہ پھیر کر اُدھر کو، ادھر کو بڑھا کے ہاتھ        نظام رام پوری

گرہ سے کچھ نہیں جاتا، پی بھی لے زاہد    ملے جو مفت تو قاضی کو بھی حرام نہیں          امیر مینائ

وہ جب چلے تو قیامت بپا تھی چار طرف        ٹہر گئے تو زمانے کو انقلاب نہ تھا     داغ

دی موء ذن نے شب وصل اذاں پچھلی رات          ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا         داغ
               
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں     ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں           داغ

پان بن بن کے مری جان کہاں جاتے ہیں         یہ مرے قتل کے سامان کہاں جاتے ہیں    ظہیر الدین ظہیر

ہم نہ کہتے تھے کہ حالی چپ رہو          راست گوئ میں ہے رسوائ بہت          حالی

دیکھا کئے وہ مست نگاہوں سے بار بار    جب تک شراب آئے کئ دور ہو گئے     شاد عظیم آبادی

خلاف شرع شیخ تھوکتا بھی نہیں    مگر اندھیرے اجالے میں چوکتا بھی نہیں  اکبر الہ آبادی

دیکھ آءو مریض فرقت کو  رسم دنیا بھی ہے، ثواب بھی ہے           حسن بریلوی

تمہیں چاہوں، تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں   
   مرا دل پھیر دو، مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا   مضطر خیر آبادی

افسوس، بے شمار سخن ہائے گفتنی         خوف فساد خلق سے نا گفتہ رہ گئے        آزاد انصاری

توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیے      بندہ پرور جائیے، اچھا ، خفا ہو جائیے         حسرت موہانی

یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں     یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری        اقبال

اقبال بڑا اپدیشک ہے ، من باتوں میں موہ لیتا ہے    گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا      اقبال

کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موج دریا کا حریف      ورنہ میں بھی جانتا ہوں کہ عافیت ساحل میں ہے     وحشت کلکتوی

اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز تھا حسن         بھولتا ہی نہیں عالم تیری انگڑائ کا       عزیز لکھنوی

بڑی احتیاط طلب ہے وہ ۔ جو شراب ساغر دل میں ہے
 جو چھلک گئ تو چھلک گئ، جو بھری رہی تو بھری رہی    بینظیر شاہ

دیکھ کر ہر درو دیوار کو حیراں ہونا       وہ میرا پہلے پہل داخل زنداں ہونا        عزیز لکھنوی

چتونوں سے ملتا ہے کچھ سراغ باطن کا       چال سے تو کافر پہ سادگی برستی ہے       یگانہ چنگیزی

وہ آئے بزم میں اتنا تو برق نے دیکھا     پھر اسکے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی       مہاراج بہادر برق

ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئ      اب تو آجا اب تو خلوت ہو گئ      عزیز الحسن مجذوب

اب یاد رفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہی   یاروں نے کتنی دور بسائ ہیں بستیاں    فراق گو رکھپوری

داور حشر میرا نامہ ء اعمال نہ دیکھ   اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں     محمد دین تاثیر

امید وصل نے دھوکے دئیے ہیں اس قدر حسرت
کہ اس کافر کی 'ہاں' بھی اب 'نہیں' معلوم ہوتی ہے   چراغ حسن حسرت

اعتراف اپنی خطاءووں کا میں کرتا ہی چلوں        جانے کس کس کو ملے میری سزا میرے بعد      کرار نوری

وہ لوگ جن سے تری بزم میں تھے ہنگامے    گئے تو کیاتری بزم خیال سے بھی گئے       عزیز حامد مدنی

ایک محبت کافی ہے      باقی عمر اضافی ہے     محبوب خزاں

مری نمازہ جنازہ پڑھی ہے غیروں نے      مرے تھےجن کے لئے، وہ رہے وضو کرتے    آتش

ایسی ضد کا کیا ٹھکانا، اپنا مذہب چھوڑ کر       میں ہوا کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

محبت میں لٹتے ہیں دین اور ایماں         بڑا تیر مارا جوانی لٹا دی

پاپوش میں لگائ کرن آفتاب کی      جو بات کی،  خدا کی قسم لاجواب کی

Friday, September 16, 2011

دھتکارا ہوا شاعر

وارننگ؛ یہ تحریر خاصی حد تک ناشائستہ مواد پہ مشتمل ہے۔ صرف شائستہ تحاریر پڑھنے والے اگر اسے پڑھتے ہیں تو مزاج میں پیدا ہونے والی کراہت کے ذمہ دار وہ خود ہونگے۔  حساس طبیعت رکھنے والے اس سے گریز کریں۔

اس وارننگ کے بعد میں خود کو اخلاقی طور پہ آزاد سمجھتی ہوں اور موضوع کی طرف آتی ہوں ۔ یہ ایک ایسے شاعر کے متعلق ہے جس نے اپنی شاعری کے لئے ایک نہایت دھتکارا ہوا موضوع چنا، جس پہ شاعر تو کجا عام افراد بھی اشاروں کنایوں میں ہی بات کرنا چاہتے ہیں۔ دنیا کے معیاری ادب میں اسکے لئے کوئ جگہ نہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اردو کے اس شاعر کو شاعرانہ خوبیاں رکھنے کے باوجود آج شاید ہی کوئ جانتا ہو۔ انکے اشعار زیادہ تر سینہ بہ سینہ چلے آنے والے اشعار ہیں۔
  جب ، میں نے جاننا چاہا کہ انکا کوئ  دیوان موجود ہے تو معلوم ہوا کہ امریکہ کی واشنگٹن ڈی سی کی لائبریری میں اسکا ایک نسخہ موجود ہے۔ یہ جان کر کہ امریکہ کی ایک لائبریری میں انکے دیوان کا ایک  نسخہ موجود ہے آتش شوق بھڑک اٹھی۔ میں نے کوشش کی کہ کوئ اس نسخے کی نقل کروا کر وہاں سے لے آئے۔ لیکن ہوا یوں کہ مجھے کراچی میں ہی انکے دو مختلف دیوان مل گئے۔ جو کہ بھارت میں شائع ہوئے۔
برازیات کا یہ شاعر شیخ باقر علی یا جعفر علی قصبہ رودلی کا رہنے والا چرکین تخلص کرتا تھا اور اسی نام سے مشہور ہوا۔ چرکین کا کیا مطلب ہے اسکے لئے اردو کی کوئ بہتر لغت دیکھئیے۔
 اس سے آپکی وسعت الفاظ بہتر ہوگی۔
:)
مرزا قادر بخش صابر انکے بارے میں لکھتے ہیں کہ 
چرکین تخلص ایک شخص ظریف، شوخ مزاج، ساکن لکھنوء کا۔ وہ ہمیشہ سخن پاکیزہ کا دامن نجاست معنوی سے آلودہ رکھتا ۔ یعنی مضامین بول و بزار  اس طرح شعر میں باندھتا کہ زمین سخن کو گُوہ گڑھیا بنا دیتا۔ اسکی قوت شامہ یک قلم باطل ہو گئ تھی کہ اس غلاظت سے بے دماغ نہ ہوتا تھا۔ انصاف تو یہ ہے کہ ابیات میں ہر چند گوہ اچھالتا اور کاغذ کے ہر گوشے میں پیشاب کی نالی بہاتا تھا لیکن کوئ لطیف مزاج اس سے دماغ بند نہ کرتا تھا اور کوئ پاکیزہ طبع اس سے گھن نہ کھاتا تھا۔ گویا بحر شعر نے اس نجاست کو بہا دیا تھا۔
شرط سلیقہ ہے ہراک امر میں
عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئیے

انکے بارے میں خاصی کہانیاں مشہورہیں۔ کہا جاتا ہے کہ میاں چرکین بہت بلند پایہ شاعر تھے۔ کلام بہت عمدہ اور پاکیزہ ہوتا تھا۔ مگر لوگ آپکا کلام چرا کر اپنے نام سے پڑھا کرتے تھے۔ جسکی وجہ سے میاں چرکین نے عاجز آ کر اپنی شاعری کا رنگ بدل دیا اور ایسے اشعار کہنے لگے جس میں گندگی کا ذکر ضرور ہوتا۔ لیکن اس کلام میں بھی تمام شاعرانہ صفات بدرجہ ء اتم موجود ہوتی تھیں۔ یہ بہرحال ایک کہانی ہی ہے مکمل صداقت نہیں۔ شاعرانہ خوبیوں کے لئے کچھ نمونہ ء کلام حاضر ہے۔

سلسل البول کی مانند رہے ڈاک رواں
اتنے خط لکھوں زمانے سے ہو کاغذ عنقا

رو زو شب ہگنے سے تم اسکے خفا رہتے تھے
مہترو خوش رہو، چرکیں نے وطن چھوڑا ہے

روک کر گھوڑے کو اس نے مری تربت پہ کہا
لید کرنی ہو تو کرلے تُو یہی تھوڑی سی

قبر پہ آکے بھی اس بت نے نہ مُوتا افسوس
کام کچھ اپنے  نہ مرگ شب ہجراں آئ

اپنے ہی سڑے ٹکڑوں پہ کی ہم نے قناعت
چکھا نہ متنجن کسی نواب کے خواں کا

مقصود عالم مقصود جو کہ ایک طرح سے غالب کے شاگرد تھے انہیں چرکین کی نادر ترکیبوں ، الفاظ، فقرے اور محاوروں نے کھینچا ہوگا جو اب نہیں بولی جاتی اور انہوں نے چرکین کے مرنے کے پچیس سال بعد انکا کلام ایک جگہ اکٹھا کر کے اسے دیوان کی شکل دی۔ یوں یہ محفوظ ہوا مگر لوگوں کی لائبریریوں میں نمایاں جگہ نہ پا سکا۔
انکی بولی دیوان خانے یا شائستہ آنگن کی نہیں نالی، کوڑا گھر، سنڈاس، بول و بزار وغیرہ کی ہے۔ بول و بزار کے علاقے کے الفاظ جنکے سلسلے میں لوگ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ انکو چرکین نے اپنے کلام میں محفوظ کیا اور بیت الخلاء کے آداب کی ایک اہم دستاویز چھوڑی۔
چرکین نے بول و بزار کے مضامین کے لئے سوقیانہ یا کوئ خراب زبان نہیں لکھی۔انکا کلام معیاری اردو میں ہے۔ یہ وہی زبان ہے جو اس زمانے میں آتش، ناسخ اور مصحفی وغیرہ کی تھی۔ایک ایک مصرعہ تراشا ہوا، شعر میں چستی اور زائد یا بھرتی کے الفاظ سے پاک مضامین آلودہ لیکن کلام میں غضب کی روانی ہے۔ چرکین کے کلام کو بلا تعصب، صبر اور برداشت سے پڑھے بغیر انکے فن کی قدر نہیں جانی سکتی۔ 
بقول اردو کے مایہ ناز ادیب شمس الرحمن فاروقی، اگر کلام کے ذریعے جنسی لذت پیدا کرنے یا حاصل کرنے کی شرط کو اہم قرار دیں تو چرکین کا کوئ شعر مشکل سے فحش کہلائے گا۔خلاف تہذیب ہونا اور بات لیکن کوئ شعر ایسا نہیں کہ اسے بچوں یا بہو بیٹیوں کے سامنے پڑھایا نہ جا سکے یا انکے سامنے پڑھا نہ جا سکے۔
لیکن ہمیں پھر بھی کلام کی اس نوعیت پہ حیرت یا تعجب ہوتا ہے۔ کچھ اور لوگوں کو کچھ اور باتوں پہ ہوتا ہے مثلاً بائرن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ نوالہ منہ میں ڈالنے، چبانے اور حلق سے اتارنے کو اس قدر غیر نفیس فعل سمجھتا تھا کہ کسی عورت کو کچھ کھاتے پیتے نہ دیکھ سکتا تھا۔ جبکہ جرمن ناول نگار پیٹرک سسکنڈ لکھتے ہیں کہ 
میں اپنے بچپن میں یہ سوچ سوچ کر حیران رہ جاتا تھا کہ ناولوں کے کرداروں کو کبھی بیت الخلاء جاتے کیوں نہیں دکھایا جاتا۔ اسی طرح پریوں کے قصے ہوں یا اوپرا، ڈراما ہو یا فلمیں یا پھر بصری آرٹ کی مختلف شکلیں ان میں کسی کو بھی رفع حاجت کی ضرورت کیوں نہیں پیش آتی۔ انسان کی زندگی میں پیشاب یا پاخانے کا عمل جو زندگی کا سب اہم اور انتہائ ضروری معمول ہے وہ آخر آرٹ کی دنیا میں اپنی جگہ کیوں نہیں بنا سکا۔
قادر بخش صابر مزید لکھتے ہیں کہ
اوائل حال میں تو اس نے یہ وضع ہزل سمجھ کر اختیار کی یعنی مذاق میں۔ لیکن رفتہ رفتہ اس قال کو حال بنا لیامدام لباس چرک پہنتا اور ایسی میلی کچیلی وضع رکھتا کہ اجنبی اس کو سچ مچ کا حلال خور سمجھتے۔حق یہ ہے کہ جو ابتداء میں کہتا تھا وہ آخر میں کر دکھایا۔ آخر الامر لال بیگ کی صحبت اور گوگا پیر کی ہم نشینی کے شوق میں شہر کے پاکیزہ مقامات سے بھاگ کر صد ہا آرزو کا ٹوکرا سر پر رکھے ہوئے بہ طریق پا تراب کے جنگل کے کسی کوڑے پر اول منزل کی۔

مزید شعر حاضر ہیں
خیال زلف بتاں میں جو پیچ کھاتے ہیں
مروڑے ہو ہو کے پیچش کے دست آتے ہیں

کسی کے پاد سے اڑتے نہ کنکری دیکھی
اڑائے دیتا ہے چرکیں پہاڑ پھسکی سے

وہ جنتی ہے مرے جو مرض سے دستوں کے
ہے یہ ثواب تو باز آئے اس صواب سے ہم

عبث بدنامیوں کا ٹوکرہ سر پر اٹھانا ہے 
لگانا دل کا بس جھک مارنا اور گُو کا کھانا ہے

چرکین سے کسی نے ایک دفعہ کہا کہ دنیا کے ہر موضوع کوبول و بزار کی زبان میں بیان کر سکتے ہو تو ذرا حضرت علی کی بہادری کو بیان کر دکھاءو۔ شعر ملا۔
رن میں جس دم تیغ کھینچی حیدر کرّار نے 
ہگ دیا دہشت کے مارے لشکر کفار نے
یہ مصرعہ اس طرح بھی ملتا ہے،  ہڑبڑا کر ہگ دیا ، لشکر کفار نے۔

نوٹ اس تحریر کا ماخذ ابرار الحق شاطر گورکھپوری کا مرتب کردہ دیوان چرکین ہے جس میں انہوں نےچرکین کا ادبی پس منظر اور تاریخ بھی دی ہے اور جس کا مقدمہ شمس الرحمن فاروقی نے لکھا ۔

Wednesday, August 24, 2011

تکلف بر طرف

کراچی میں حالات اتنے خراب ہیں۔ میں اپنے شوہر صاحب سے  بات کرنا چاہ رہی تھی مگر رابطہ نہ ہو سکا۔ انہیں ای میلز بھیجیں ، جواب ندارد۔ دو دن بعد تنگ آکر  دوبارہ انہیں فون کیا۔
یہاں کینیڈا کی وسعت اتنی ہے کہ ایک ملک میں کئ ٹائم زون ہیں۔ پہلے ہم ٹورنٹو میں تھے تو ٹائم زون الگ تھا۔ جب ہم سسکاچوین پہنچے تو ٹائم زون تبدیل ہو گیا۔ یہ ٹورنٹو سے دو گھنٹے پیچھے ہے۔ جب میں نے فون کیا تو اس وقت یہاں اگرچہ عین دو پہر کا وقت تھا مگر کراچی میں رات کا ایک بج رہا تھا۔
موصوف نے فون اٹھایا تو آواز سے لگ رہا تھا کہ سوتے ہوئے اٹھے ہیں۔ خیریت کے چند جملوں کے بعد میں نے فون بند کر دیا۔  میزبان پاکستانی خاتون وہیں موجود تھیں۔ کہنے لگیں بڑی جلدی بند کر دیا آپ نے۔ میں نے کہا ہاں، جب میں نے ان سے کہا کہ آپ نے تین دن سے پریشان کیا ہوا ہے۔ ادھر شہر کے حالات اتنے خراب ہیں۔ کم از کم انٹر نیٹ تو جاری حالت میں رکھیں۔ فرمانے لگے، انٹر نیٹ کی لائن خراب ہے۔  آپ نے مجھے رات کو ایک بجے نیند سے جگا کر پریشان کر دیا۔ بس میں نے انکی نیند کا خیال کرتے ہوئے خدا حافظ کر دیا۔
میری میزبان خاتون کہنے لگیں۔ یہ آپ دونوں ایکدوسرے سے کچھ زیادہ ریزروڈ نہیں رہتے۔ میں نے حیران ہو کر انکی طرف دیکھا۔ آپکو یہ شبہ کیوں ہوا؟  جواب ملا، کیونکہ آپ دونوں ایکدوسرے سے آپ کر کے بات کرتے ہیں۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ کیسے نکل سکتا ہے؟ میں نے حیرانی سے دریافت کیا۔
دیکھیں ناں، میں اپنے شوہر کو آپ کہتی ہوں اور وہ مجھے تم کہتے ہیں۔ لیکن آپ دونوں ایکدوسرے کو آپ کہتے ہیں۔ اوہ، مجھے ہنسی آئ۔ ہم نے اپنی شادی کی ابتداء میں کچھ چیزیں طے کی تھیں۔ مثلاً یہ کہ ایکدوسرے کو بہتر ین  اور برابر کے طریقے پہ مخاطب کریں گے اور یہ کہ ایکدوسرے کو ایکدوسرے کے خاندان کے طعنے نہیں دیں گے اور نہ اپنے رشتے داروں کی وجہ سے ایک دوسرے سے لڑائیاں کریں گے۔ ہمیں جب بھی لڑنے کی خواہش ہوئ تو اپنے زور بازو پہ لڑیں گے۔  بس اس وجہ سے لڑنے کی نوبت نہیں آ سکی۔
اب انہیں لازماً ایک اور سوال کرنا چاہئیے تھا کہ پھر آپ دونوں ایکدوسرے سے کیا باتیں کرتے ہیں۔ اور اس طرح تو ثابت ہوتا ہے کہ آپ لوگ ایک دوسرے سے کافی ریزروڈ ہونگے۔ کیونکہ ایک  مشاہدہ یہ ہے کہ ان لوگوں کے درمیان زیادہ گہرا رشتہ اور تعلق ہوتا ہے جنکے درمیان کی جانے والی غیبت کسی مشترکہ شخص کے بارے میں ہو۔ اپنے اس مشاہدے سے میں دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔
اگر بات سمجھ نہیں آ رہی ہو تو آزما لیجئیے۔ کوئ شخص، جس سے آپکے تعلقات بس یونہی سے چل رہے ہوں۔ اسکے ساتھ کسی دن گپ شپ کریں اور جان بوجھ کر کسی ایسے شخص کی برائیاں شروع کر دیں جو اسے نا پسند ہو۔ بس چند دنوں میں ہی اسکے اور آپکے درمیان تکلفات کی بڑی دیواریں گر جائِں گی۔
 یہ بھی ایک عام سا مشاہدہ ہے کہ پاکستان میں اکثر شوہر حضرات اپنی بیویوں کو تم کہہ کر مخاطب کرتے ہیں جبکہ بیویاں اپنے شوہروں کو آپ کہتی ہیں یا کسی احترام کے نام سے مخاطب کرتی ہیں مثلاً شوہر اگر پی ایچ ڈی ہے یا طب سے تعلق رکھتا ہے تو ڈاکٹر صاحب، انجینیئر ہے تو انجینیئر صاحب جیلر ہے تو جیلر صاحب۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یہ شوہر کی طرف سے زیادہ قربت اور محبت کی وجہ سے ہے یا بیوی کی طرف سے جھجھک ہے  یا  روایت اور رواج یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف نئ نسل کے بیشتر شادی شدہ جوڑے ایسے بھی ہیں۔ جو ایکدوسرے کو تم سے مخاطب کرتے ہوئے بھی ملتے ہیں۔ کیا یہ انکے درمیاں زیادہ قربت کی نشانی ہے۔ ہمم شاید نہیں، کیونکہ لڑتے ہوئے بھی وہ ایکدوسرے کو تم ہی کہتے ہیں بلکہ بعض دفعہ حقارت کے لئے تو سے بھی مخاطب کرتے ہیں۔
میاں بیوی سے ہٹ کر آجکل میں دیکھتی ہوں کہ ہم عمر ٹین ایجر دوست چاہے لڑکے ہوں یا لڑکیاں جب اپنی قربت کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں تو ایکدوسرے کو تُو سے مخاطب کر کے بڑا خوش ہوتے ہیں۔ اکثر اوقات تو بے تکلفی میں گالیاں بھی استعمال ہوتی ہیں کہ جیسے گالیاں چاٹ مصالحہ ہیں۔ اور یوں وہ زمانے گئے جب شاعر اپنے محبوب سے شکوہ کرتا نظر اتا تھا کہ یوں ہر بات پہ کہتے ہو کہ تو کیا ہے، تمہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے۔ آج کا شاعر مسکراتا ہے اور بتاتا ہے کہ پہلے آپ پھر تم ہوئے پھر تُو کا عنواں ہو گئے۔ 
سو، کیا انداز تخاطب سے لوگوں کے درمیان تعلقات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یا یہ طرز معاشرت اور انسان کے ماحولیاتی رکھ رکھاءو کو ظاہر کرتا ہے۔ ایکدوسرے کو اچھے الفاظ سے مخاطب کرتے ہوئے کیا ہم ایکدوسرے کے قریب نہیں ہو سکتے؟
قومیں آپس میں جب ملتی ہیں تو زبان میں نئے انداز آتے ہیں۔ لیکن زبان کی تہذیب سے ایک قوم کی ذہنی سطح بھی سامنے آتی ہے۔ حضرت علی نے کہا تھا کہ ہر شخص اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوتا ہے بولو تاکہ پہچانے جاءو۔ جس لمحے ہم بولنا شروع کرتے ہیں چاہے وہ دنیا کا کوئ اعلی ترین موضوع ہو یا گھٹیا ترین۔ ہماری زبان ہمارے پس منظر کو کھول دیتی ہے۔
لیکن اتنی سنجیدہ اور بھاری  بات سے الگ یہاں اصل بات تو یہ پوچھنی تھی کہ کیا ایکدوسرے کو احترام کے الفاظ سے مخاطب کرنے سے اجنبیت پیدا ہوتی ہے، برقرار ہتی ہے  یا بے تکلف الفاظ استعمال کرنے سے قربت جنم لیتی ہے دل کھل جاتے ہیں۔

Wednesday, August 10, 2011

چوہے کا سوال

چوہوں کے ساتھ ریس میں ایک نقصان ہے اور وہ یہ کہ اگر آپ فاتح ہوں تو بھی ایک چوہے ہی ہوتے ہیں۔
یہ جملہ کہنے والا لگتا ہے کہ چوہوں کے ساتھ ریس لگانے سے منع کرنا چاہتا ہے۔ سو اب چوہوں کے ساتھ ریس لگانا ضروری ٹہرا۔ سوال یہاں اس منادی کی وجہ معلوم کرنا نہیں۔ اگر ہم یہ کریں گے تو نتیجتاً ایک دفعہ پھر معتوب ٹہریں گے کہ مخلوقات میں سے کچھ کو اعلی اور کچھ کو کمتر جانتے ہیں۔  اس لئے ہم ایک براہ راست سوال رکھتے ہیں آخر چوہا اتنا حقیر کیوں جانا جاتا ہے؟
  کچھ لوگ سادہ سا جواب دیں گے اس لئے کہ اسکا دل اتنا سا ہوتا ہے ذرا سا ہش کرو اور بھاگ جاتا ہے, ہونہہ چوہے کا سا دل۔ لیکن یہ کہتے وقت لوگ اسکی پھرتی کو مد نظر نہیں رکھتے۔  داد دینے سے مت چوکیں۔ اتنی پھرتی تو بس آپکی حرکات منعکسہ میں ہی ہو سکتی ہے آپ میں نہیں۔ 
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ چوہا بھاگتا نہیں ہے بلکہ چھپ جاتا ہے اور جیسے ہی آپکی توجہ ہٹتی دیکھتا ہے فورا آموجود ہوتا ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ چوہے کے اندر ایک دفاعی ذہانت پائ جاتی ہے۔ وہ گوریلا جنگ لڑنے کے فن سے واقف ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ انسان نے گوریلا جنگ کا فن چوہے سے سیکھا ہو مگر چوہوں کو ادنی مخلوق سمجھتے ہوئے اس کا کریڈٹ اسے دینے کے بجائے گوریلے کو دے دیا۔ اس سے انسانی ذہن کی چلتر بازی سامنے آتی ہے کہ اس نے اپنی ہم شکل مخلوق کو ترجیح دی۔ اس انسانی ادا پہ ہم واہ واہ کریں گے مگر اس سے چوہوں کی جو حق تلفی ہوئ ہے اس پہ ہم نالاں بھی ہیں۔

کیا ایسا معاشرہ ممکن ہے جہاں انسان چوہے کے حق میں آواز بلند کر سکے اس کے ساتھ جو نا انصافی ہوئ ہے اسے سامنے لا سکیں۔ شاید نہیں، کیونکہ خود چوہوں کو اس سے کوئ دلچسپی نہیں۔ انسان اگر انکے لئے لڑ لڑ کر مر جائے تو بھی چوہے اسے در خور اعتناء نہیں سمجھیں گے۔ آیا یہ انکا طرز تغافل ہے یا ادائے بے نیازی۔ یہ جاننے کے لئے دو قسم کے شاعر چاہئیے ہونگے ایک انقلابی اور دوسرے رومانی۔
کیا چوہوں کو شاعری سے دلچسپی ہوتی ہے۔ یہ مجھے نہیں معلوم لیکن چوہوں کو موسیقی سے بڑی دلچسپی ہوتی ہے۔ اس کا ثبوت وہ کہانی ہے جس میں جادوگر اپنی بانسری بجاتا چلا جاتا ہے اور چوہے اسکے پیچھے ناچتے، کودتے، اچھلتے اتنے مست جاتے ہیں کہ انہیں اپنا انجام تک نظر نہیں آتا۔ موسیقی کے لئے چوہوں کی ان خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ 
یہاں پہ کچھ ذہن یہ کہنا چاہیں گے کہ وہ بانسری دراصل جادگر کی بانسری تھی۔ تو کیا ہوا، ہوا کرے۔ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ چوہوں نے اس پہ ایک شاندار رقص درویشاں کا مظاہرہ کیا۔ جو جادوگر خود نہیں کر سکتا تھا۔ جس سے متائثر ہو کر ایک شہر کے لوگوں نے اپنے بچے بھی اسی جادوگر کے حوالے کر دئیے۔ جادو گر نے کبھی ایک لفظ شکرئیے کا بھی نہیں پھُوٹا، انسان ایسا ہی بلا کا احسان فراموش ہوتا ہے اور پھر دوسروں پہ نام دھرتا ہے۔
سو چوہے پپو سالے سے بہتر ہیں وہ ڈانس کر سکتے ہیں۔ پھر بھی انسان انہیں حقیر کیوں سمجھتا ہے۔ شاید اس لئے کہ چوہے خوبصورت نہیں ہوتے۔  کسی انسان نے اس بد صورت بات سے بچنے کے لئے ایک خوبصورت بات کہی کہ خوبصورتی دیکھنے والے کی نظر میں ہوتی ہے۔
کیا چوہوں کو اس بات کی فکر ہے کہ وہ خوبصورت نہیں ہیں۔ بادی النظر میں لگتا ہے کہ ایسا نہیں ہیں۔ چوہوں کو کبھی بھی فیئر اینڈ لولی قسم کی کریموں کو استعمال کرتے نہیں دیکھا وہ تو اسے سونگھتے تک نہیں۔ اپنا ایک شریک حیات ڈھونڈھنے کے لئے ہزاروں کو نہیں دیکھتے پھرتے۔ پھر دیکھیں کہ چوہے ایک ایک جھول میں آٹھ آٹھ بچے دیتے ہیں چند مہینوں میں وہ اپنے بچوں کے پر دادا بن جاتے ہیں اور اگر وہ حکمرانی کی طرف توجہ دیں تو چند سال میں انسان کونکال باہر کریں۔  یہ ان کا فقیری انداز ہے جس کی بناء پہ انسان اپنی بھونڈی حکمرانی کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ کیا اب بھی کسی کو شک ہے کہ وہ خوبصورت نہیں۔
چوہے احسان فراموش ہوتے ہیں اور جس چھلنی میں کھاتے ہیں اسی میں سوراخ کرتے ہیں۔ یہ ان پہ ایک سنگین الزام ہے۔ در اصل چوہے کترنے کے معاملے میں ذرا جزباتی واقع ہوئے ہیں۔ کترنے کے عمل کو وہ چیلینج سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔ ہر چھلنی انہیں یہ کہتی نظر آتی ہے کہ ہزار دانت سے نکلا ہوں اپنی سختی سے، جسے ہو زعم آئے کتر لے مجھے۔ 
انکی نفسیات کا یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ جنگل کے بادشاہ شیر کو بھی اسکا جال کتر کر آزاد کروالیتے ہیں مگر اس پہ احسان نہیں دھرتے۔ کبھی آپ نے سنا کہ چوہوں نے شیر کے اوپر بموں سے حملہ کیا ہو کہ ابے سالے تجھے آزاد کرایا تھا اور آج ہم پہ دھاڑ رہا ہے۔ چوہے سالے کی حقیقت سے واقف ہیں۔
دنیا کی کسی مذہبی کتاب میں شاید ہی چوہوں کے بارے میں کوئ تذکرہ موجود ہو۔ دنیا کا کوئ مذہب چوہوں کے بارے میں فکر مند نہیں اسی لئے چوہے بھی اپنے بارے میں زیادہ فکرمند نہیں انہیں مل جائے تو ریشم کے کپڑوں میں اور بیکریوں کے من و سلوی میں بھی رہ لیتے ہیں نہیں تو غلاظت کے گٹر بھی کوئ بری جگہ نہیں۔ دما دم مست قلندر۔
لیکن انسانی زبانی اور سینہ بہ سینہ چلی آنے والی تاریخ میں چوہوں کے متعلق کچھ واقعات موجود ہیں جن میں سے زیادہ تر میں انکی توہین کی گئ ہے۔ یہ بڑی زیادتی ہے کہ کسی کے دانتوں کا بدلہ اسکی عزت سے لیا جائے۔ چوہوں نے اس توہین کا بدلہ لیا  اور ہیضے کے جراثیمی ہتھیار کے ساتھ انسانوں پہ حملہ آور ہوئے۔ پوری پوری آبادیوں کو نگل لیا۔ اور انسان کچھ نہ کر سکا۔ بقاء کی جنگ میں چوہا انسان پہ بھاری رہا مگر پھر بھی چوہا کہلایا۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ اس کا نام ہی چوہا ہے۔
تاریخ کے اس مرحلے پہ انسان نے چوہوں سے کثیر الہلاکتی ہتھیاروں کا تصور لیا لیکن چوہوں کی نفسیاتی برتری دیکھئیے کہ انسان یہ ہتھیار انسان کے خلاف تو استعمال کر سکا مگر کبھی چوہوں کے خلاف نہیں کر سکا، انہیں مارنے کے لئے اسے وہی روٹی کا لالچ دینا پڑتا ہے۔ روٹی چوہوں کی سب سے بڑی کمزوری ہے اور اگر روٹی نہ ہو تو وہ کیک بھی شوق سے کھالیتے ہیں لیکن کبھی کیک دینے والے ہاتھوں کو چاٹتے نہیں ہمیشہ کترتے ہیں۔
بعض خواتین چوہوں سے بڑا ڈرتی ہیں۔ چوہے بھی ایسی خواتین سے بہت ڈرتے ہیں۔ سو جب وہ ڈر کر ایک نعرہ ء خوف ہائے اللہ لگا کر ریس لگاتی ہیں  تو چوہے استغفراللہ کہہ کر ریس لگا دیتے ہیں۔ یہ ریس عام طور پہ مخالف سمتوں میں ہوتی ہے اس لئے اسکا صحیح فیصلہ کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ کبھی کبھی چوہے اس آسمانی مصیبت سے اتنا گھبرا جاتے ہیں کہ بجائے مخالف سمت بھاگنے کے خاتون پہ ہی چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ اس اقدام قتل میں اگر وہ بچ بھی جائیں تو گھر کی کچھ چیزیں دو چوہوں کے درمیان کچومر بن جاتی ہیں۔ محلے والے الگ سمجھتے ہیں کہ میاں صاحب ، بیگم صاحبہ کی کُٹ لگا رہے ہیں۔ یوں میاں صاحب کو ہتک عزت اور مختلف این جی اوز سے بچنے کے لئے میدان میں کودنا پڑتا ہے۔ کچھ شوہر حضرات اس موقع کو محلے والوں پہ اپنی دھاک جمانے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور شام کے وقت ہجوم دوستاں میں بیگم کی حد سے پرے پرے  چپکے چپکے کہتے ہیں باتوں کے بھوت چوہوں سے مانتے ہیں۔ 
خیر، ایک خاتون نے چار چوہے مارے اور خاندان بھر نے انکی پیٹھ ٹھونکی۔ جب چوہے سمجھتے ہیں کہ وہ  کسی انسان کا قلع قمع کرچکے تو وہ اپنی خوشی کا اظہار کیسے کرتے ہیں؟  سوچیں، لیکن یہ سوچنے سے پہلے آپکو روحانی طور پہ چوہا بننا پڑے گا اسکے بغیر آپ سمجھ نہیں سکتے کہ چوہا آخر کیا کرے گا۔ کیا کہا، لعنت ہو چوہے کے بارے میں ہم کیوں سوچیں۔ چوہے نے بھی یہی کہا تھا  کہ میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں۔ ششش،  ہشیار باش، چوہا آپکے سیدھے ہاتھ پر موجود ہے اور چوہے نہ صرف ڈھیٹ ہوتے ہیں بلکہ بڑے متجسس بھی۔


نوٹ؛
یہ انٹ شنٹ تحریر ایک چوہے نےای میل کی ہے۔ معمولی ردو بدل کے ساتھ ہم اسے اپنے بلاگ پہ ڈال رہے ہیں یہ دیکھنے کے لئے ہم میں سے کتنے لوگ  چوہوں کی پرواہ کرتے ہیں۔


Reflexive actions
Weapons of mass destruction
Biological weapons
Mouse and rats

Monday, May 16, 2011

ایک ادیب کے مشورے

لکھنا ایک فطری صلاحیت ہے؟
ہو سکتا ہے۔ در حقیقت میں بھی اس چیز پہ یقین رکھتی ہوں کہ انسان کرنے پہ آئے تو کیا نہیں کر سکتا۔ بس یہ کہ اگر آپ فطری رجحان نہیں رکھتے تو آپکو محنت زیادہ کرنی پڑے گی فطرت پہ حاوی ہونے کے لئے۔
لکھنے کی کوشش کریں تو لکھاری بن ہی جاتے ہیں لیکن کیا آپ اچھے لکھاری بن سکتے ہیں۔ 
اگر آپ لکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ آپ میں یہ فطری رجحان موجود ہے۔  اکثر لکھنے والے اس بلاک کا تذکرہ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں انکے اندر لکھنے کا محرک نہیں رہتا۔ اگر اسکی وجہ یہ ہے کہ آپ جذباتی طور پہ اپنی توجہ مرکوز نہیں کر پا رہے تو امید ہے کہ اس جذباتی دباءو کے ہٹتے ہی آپ دوبارہ رواں ہونگے بلکہ پہلے سے زیادہ رواں ہونگے۔  اسکی ایک اور وجہ ہے اور وہ یہ کہ ٹوپی میں سے خرگوش نکالنے کے لئے ٹوپی میں خرگوش کا موجود ہونا ضروری ہے۔ یعنی جس طرح شہد کی مکھی پھولوں کا رس جمع کر کے شہد بناتی ہے۔ اب وقت ہے کہ کچھ جمع کیا جائے۔
 لکھنا صرف انگلیوں کا کمال نہیں کہ انگلیاں کرائے پہ بھی لی جا سکتی ہیں۔ اس کا تعلق بصیرت سے ہے بلکہ بصیرت سے زیادہ شہادت سے۔ اس شہادت سے جسکے نتیجے میں آپ یا تو شاہد ہوں یا مشہود، شہید نہیں۔ شہید ہونے کے بعد اگر آپ کچھ لکھیں تو اسکی جہت اتنی الگ ہوگی کہ عام انسان اسے سمجھنے سے قاصر ہوگا۔ اس لئے ہم عزت اور احترام سے شہید کو دفناتے ہیں خود شاہد یا مشہود بنتے ہیں پھر  رمز بھرے بھید لکھتے ہیں  جو حکائیتیں، داستانیں یا شاعری وغیرہ کہلاتے ہیں۔
ہوا یوں کہ آج ایک کتاب تلاش کرتے کرتے ایک اور کتاب ہاتھ آگئ۔ تلاش کا عمل بس اسی وجہ سے آسان نہیں رہتا بلکہ اس میں ایک عجیب اسرار اور رنگینی پیدا ہو جاتی ہے۔ کیونکہ کچھ اور چیزیں بھی اپنے آپکو تلاش کروالیتی ہیں۔ 
اسے یونہی کھولا تو سامنے  مصری ادیب نجیب المحفوظ کی تحریر موجود تھی۔ ایک اچھا لکھاری کیسے بنا جائے۔ نوجوان ادیبوں کے نام یہ کام کے مشورے ہیں۔  اسے اٹھا کر ایک طرف رکھ دیا کہ فرصت ملتے ہی اسکین کیا جاوے اور اپنے بلاگ پہ چپکایا جاوے۔
نجیب محفوظ ایک نوبیل انعام یافتہ ادیب ہیں۔ مصر سے تعلق ہے۔ یوں ایک خیال اور آیا کہ ہمارے یہاں اچھے ادیبوں کا کتنا قحط ہے۔ لیکن پھر رّدِ خیال آیا کہ جب محدود زمین اور آسمان کا تعارف ہو تو پرندوں کو اونچی اور وسیع اڑانوں کی عادت بھی تو نہیں رہتی۔
یہ کتاب دراصل ایک ادبی مجموعہ ہے جو ڈاکٹر آصف فرخی ہر سہ ماہی پہ نکالتے ہیں۔ انکے ان ادبی مجموعوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ہمیشہ کسی موضوع کا احاطہ کرتے ہیں۔ نام ہے انکے اس سلسلے کا 'دنیا زاد' اور چھاپتے ہیں اسے شہر زاد والے ۔ اس مخصوص مجموعے کا عنوان ہے 'قدیم حسن'۔



Friday, May 13, 2011

لُک آنجن

مکی صاحب کی ایک پوسٹ پڑھی جسکے اخیر میں وہ لکھتے ہیں کہ
ایک بات یقینی ہے کہ میں کسی ” ہستی ” کو تلاش کر کے اس کا شکریہ ضرور ادا کروں گا کہ مچھلی، بندر یا کسی کیڑے کی 
 بجائے میرا ارتقاء انسان کی صورت ہوا
یاد آیا کہ ایک شکریے سے وابستہ  خیال کہیں اور بھی تو کچھ سال پہلے پڑھا تھا۔ آپ کے مطالعے کے لئے حاضر ہے۔ بھولے قارئین یہ نہ سمجھیں کہ یہ مصنف کی آپ  بیتی ہے۔ یقین دلادوں کے جس وقت لکھاری نے یہ لکھا وہ صاحب اولاد نہیں تھا۔ کراچی کے ایک ادبی پرچے میں شائع ہونے والا  فکاہیہ یہ رہا۔
بہتر دیکھنے کے لئے تصویر پہ کلک کیجئے۔



 

Friday, April 1, 2011

شکریہ

دیکھیں لکھنے تو جا رہی تھی سلسلہ، ساحل کے ساتھ، کی اگلی قسط۔ لیکن جتنی دیر میں نئی پوسٹ کے لئے صفحہ کھلتا میں نے سوچا اردو سیارہ دیکھ لوں۔ بس وہاں سے ایک بلاگ پہ گئ۔ اور جب اسکی آخری سطروں تک پہنچی تو لگا کہ میری انگلیوں میں دوران خون اتنا تیز ہو چکا ہے کہ اب میں آج کچھ اور نہیں لکھ سکتی۔ لیجئیے یہ چند لائنیں آپ کے لئے بھی حاضر ہیں۔

جب کسی معاشرے سے عورت کو غائب کردیا جاتا ہے تو زندگی بھی اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ آہستہ آہستہ تحلیل ہونا شروع ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں اس معاشرے کا تمدن بھی زندگی کے ساتھ ساتھ تحلیل ہوتا رہتا ہے اور آخر کار ایسی قوم دوسری قوموں کے لیے ” آفت ” بن جاتی ہے، عورت ہر معاشرے کی زندگی کی نبض ہے، جہاں عورت نہیں، وہاں معاشرہ  نہیں۔
یہ لائینز آپ نے پڑھیں۔ اسکے لکھنے والے مصنف مکی صاحب ہمارے مایہ ناز اردو بلاگر ہیں۔ انہوں نے اپنے بلاگ پہ تبصرے کا آپشن بند کر دیا ہے۔  اس لئے مجھے اپنے بلاگ پہ لکھنا پڑ رہا ہے۔ 
تو جناب مکی، آپ اس  کمزور اور خوفزدہ پاکستانی معاشرے  میں زندگی کی بچی کھچی علامتوں میں سے ایک ہیں۔ آپ کا بہت شکریہ۔ 

Sunday, March 27, 2011

آگے سے ہٹ جا


جس شدت سے پاکستانی تیس مارچ کے منتظر ہیں۔ میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ پاکستان کم از کم تیس مارچ تک اپنی سالمیت کی جنگ پہ کوئ سودا نہیں کرے گا۔ اوراس دوران آپکو شاید ہی یہ جملہ سننے کو ملے کہ پاکستان بس اب ٹوٹنے ہی والا ہے۔
مختلف کاروبار حیات ماند پڑ گئے ہیں۔ اور شاعر کہتا ہے
عشق کچھ پڑ گیا ہے ٹھنڈا سا
آج کل امتحان ہے پیارے
سن رہے ہیں کہ سیمی فائنل والے دن آدھی چھٹی ہوگی۔ اور یہ بھی کہ اس دن لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔ اتنی خوش خبریوں کے بعد ہماری ایک بزرگ خاتون کا کہنا ہے کہ پاکستان کو سیمی فائنل جیت جانا چاہئیے۔ کیوں؟ کیونکہ، انہوں نے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا،  پھر فائنل والے دن بھی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔
اسکی وجہ تیس مارچ کو دو ازلی دشمنوں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والا میچ ہے جو کانٹے کا ہو یا نہ ہو کانٹوں پہ ضرور ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے میچ کی دو اہم خصوصیات ہیں۔
اول ہارجانے کے بعد  افسوس ہوتا ہے کہ ہمارا ہاتھ ایٹم بم چلانے والے بٹن پہ کیوں نہیں۔ جیت جانے کے بعد بھی یہی افسوس ہوتا ہے۔ دوم میچ سے پہلے، دوران اور ہار جیت کے بعد، جہادی روح  جوانوں میں بیدار رہتی ہے۔ بغیر کسی زائد خرچے کے۔
اب کھیل میں دو ہی چیزیں ہو سکتی ہیں یا تو ہم جیتیں گے۔ اور ہر پاکستانی فتح کے نشے میں چور گانا گائے گا ہم ہیں پاکستانی ہم تو جیتیں گے۔ آگے سے ہٹ جا۔ یا پھر میرے منہ میں خاک ہم ہار جائیں گے تو اسکے بعد میں تو را کا ایجنٹ قرار ہی پاءونگی لیکن شاہد آفریدی تیرا کیا ہوگا میرے پٹھان۔  گو طالبان نے ابھی تک کرکٹ کو غیر اسلامی نہیں قرار دیا۔ لیکن اسلامی یا غیر اسلامی ہر دو صورت میں وہ سینے پہ بم باندھ کر پھرنے والے ہیں۔
جنوبی ایشیا میں اور بالخصوص پاکستان میں ورلڈ کپ  کا مقابلہ ایک مرض کی صورت پھیل جاتا ہے سو جو اس کھیل میں دلچسپی نہیں لینے کا دعوی کرتے وہ بھی اسکور پوچھتے نظر آتے ہیں۔ اس حالت میں مریض خود سے، رشتے داروں سے، دوستوں سے حتی کہ محبوب سے بھی شرط لگانے کو تیار رہتا ہے۔
یہ ایک وائرل مرض ہے اپنا سائیکل ختم ہونے پہ ختم ہو جاتا ہے لیکن اختتام کے بعد صورت زیادہ سنگین ہو جاتی ہے اور اکثر مریض واہی تباہی بکنے لگتے ہیں۔

کچھ بیانات کی پیشن گوئ ہم بھی کر رہے ہیں۔
غیرت مند پاکستانیوں نے ہندوءوں کو انکی سر زمین پہ شکست دے دی۔
اللہ نے مسلمانوں کو ہندءووں کی سر زمین پہ سرخ رو کیا۔
سترہ کروڑ عوام کی دعائیں رنگ لائیں۔ 
دودھ پینے والے گوشت کھانے والوں سے کیسے جیت سکتے ہیں۔
جیت کی صورت میں انڈینز کو اسلامی انتہا پسندوں  کے  حملوں کا ڈر تھا۔
سٹے باز کھلاڑیوں کو نکالنے کے بعد ٹیم اپنی فارم میں واپس۔
سینے پُھلا دئیے ہمارے شیروں نے۔
ریمنڈ ڈیوس کی رہائ کی ڈیل میں پاکستان کو جتانا شامل تھا۔
بمبئ کے مسلمان انڈر ورلڈ ڈان داءود ابرہیم نے میچ کو مسلمانوں کے حق میں فکس کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
زرداری نے میچ پہ پیسے لگائے تھےکیسے ہار سکتے تھے ۔
 اس تاریخی فتح کے موقع پہ ہمیں عافیہ صدیقی اور انکے بچوں کو نہیں بھولنا چاہئیے۔ عافیہ تیری عظمت کو سلام۔
بلوچستان اور وزیرستان میں امن کے لئے کرکٹ کے میدان قائم کئیے جائیں۔
انقلاب آوے ہی آوے، عمران خان تم جیو ہزاروں سال۔

ہارنے کی صورت میں زیادہ مزے کے ڈائیلاگ ہونگے۔
یہ کھلاڑی ہیں ہی ,**********۔ ان ستاروں کی جگہ پہ مناسب الفاظ کے لئے ہمارے کچھ بلاگرز یا مبصرین مدد کر سکتے ہیں۔
پیسے کھائے ہیں۔ کس نے؟ پچاس فی صد لوگ، کھلاڑیوں نے۔ پچاس فی صد لوگ زرداری نے یا حکومت نے۔
بال ٹھاکرے کی دہشت ہو گئ تھی ہمارے کھلاڑیوں پہ،  یہ سٹے باز چوہے ہیں۔
جب تک اسلامی شریعت نافذ نہیں ہوگی، سترہ کروڑ دعاءووں میں کوئ اثر نہیں ہوگا۔ ہم اسی طرح ہندءووں سے ، عیسائیوں سے یہودیوں سے شکست کھاتے رہیں گے۔
اس میں سی آئ اے والوں کا ہاتھ ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کو سینتالیس دن تک جیل میں رکھا اس کا انتقام لیا ہے۔
اس میں را اور موساد کے ایجنٹ شامل ہیں۔
وینا ملک کا انتقام ہے، اس نے انڈیئینز بُکیز سے ملی بھگت کر کے قوم سے انتقام لیا ہے۔ اسکے خلاف کارروائ کی جائے۔
ہارپ ٹیکنالوجی کی مدد سے پچ کا موڈ تبدیل کر دیا گیا، جب پاکستان کھیلا اس وقت ہوا میں نمی  بڑھا دی گئ یا گھٹا دی گئ۔
کھلاڑیوں کو ہپنا ٹائز کر دیا گیا۔
کھلاڑیوں پہ یا کھیل کے میدان پہ جادو کیا گیا تھا۔ میں نے خود دیکھا کہ ہندو کھلاڑی کچھ بد بدا رہے تھے۔ ہندو تو ویسے بھی جادو ٹونے میں کمال رکھتے ہیں۔ جادو برحق ہے۔
طالبان کو چاہئیے کہ اب کرکٹ کے میدانوں کو اڑانا شروع کر دیں۔
موہالی کے میدان میں رکھا ہی اس لئے گیا تھا کہ پاکستانیوں کا جیتنا محال ہو جائے۔
امریکہ کا ہاتھ ہے، امریکہ اگلا ورلڈ کپ اپنے یہاں رکھنا چاہتا ہے۔
بے غیرت پاکستانیوں، تمہیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بد دعا لگی ہے۔ تم کیا ورلڈ کپ جیتوگے۔
انقلاب، آوے ہی آوے۔
ایسی منحوس قوم کیا انقلاب لائے گی پہلے اپنی کرکٹ میں توانقلاب لے آئے۔ انکی تو یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انکی تو وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹوئٹر پہ کچھ اس طرح کی ٹوئٹس ہونگیں۔
ہندوءوں پہ لعنت ہو
مسلمانوں پہ لعنت ہو
حکومت پہ لعنت ہو
زرداری پہ لعنت ہو
لعنت سے رسول اللہ نے منع فرمایا۔
جماعتیوں پہ لعنت ہو
لبرلز پہ لعنت ہو
آج دو قومی نظریہ ثابت ہو گیا۔
آج دو قومی نظریہ موہالی کے میدان میں دفن ہو گیا۔

سو قارئین، پاکستانیوں کی خوبی یہ ہے کہ خدا پرست ہی نہیں خدائ خصوصیات بھی رکھتے ہیں یعنی
ہو گئے خوش تو فرشتوں سے کرائے سجدے
آگئے طیش میں تو فردوس میں رہنے نہ دیا

میرے مبصرین کہیں گے۔
مسلمانوں کی اس عظیم فتح پہ تو آپ جیسے لبرلز کو بڑا صدمہ ہوا ہوگا۔
امن کی آشا والے دیکھ لیں ہندءووں نے ہمیں ہرا کر دم لیا۔ کیا جذبہ ء خیر سگالی کے لئے ہار نہیں سکتے تھے۔
کیمسٹری کے چار فارمولے یاد کرنے والوں کو کیا پتہ، کہ ہارپ ٹیکنالوجی موسم تو موسم، انسانی ذہن کو بھی تبدیل کر سکتی ہیں۔ ان لنکس کو اور پڑھو، ہا ہا ہا۔
پاکستان کے بال ٹھاکرے کا تذکرہ نہیں کیا میڈم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابے بولتا کیوں نہیں، پاکستان کا بال ٹھاکرے کون ہے
اپنے شہر کے غنڈوں سے پوچھو۔ 
کس کے پی پی پی، ایم کیو ایم یا اے این پی۔
وہ جو بھتہ لیتے ہیں
اور وہ جو اغواء برائے تاوان کرتے ہیں
تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو۔
بکتے ہو، اپنے صوبے کے دہشت گردوں کو دیکھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تعصب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اردو بلاگستان کی دنیا میں
یہ ڈفر صاحب کے بلاگ پہ ایک نظم ملی ہے یہ ایک سچے انقلابی شاعر سلیم فاروقی نے لکھی ہے۔ انکی وصیت ہے کہ جو اسے پڑھے وہ اسے اپنے بلاگ کی زینت ضرور بنائے ورنہ اس پہ عذاب ہوگا۔ وما علینا الاالبلاغ۔
جب بیانات اس نوعیت پہ پہنچ جائیں تو سمجھ لیجئیے کہ  مریض کو افاقہ ہے۔ اب آپ اپنے روزمرہ کے کام بلا جھجھک جاری رکھ سکتے ہیں۔

ادھر اطلاعات ہیں کہ شہر میں گولیوں کے دام بڑھ گئے ہیں اور لوگ انہیں ذخیرہ کرنے میں مصروف ہیں۔ اب اگر پاکستان جیت جاتا ہے تو نقار خانے میں طوطیوں کا کیا کام۔ طوطیوں کو ٹوئٹر، فیس بک اور بلاگز استعمال کرنا پڑیں گے۔ اور اگر نہیں جیتا تو اگلے چند دن ٹارگٹ کلنگ میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ  متوقع ہے۔  کچھ لوگوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔ خوف کی وجہ سے گھر میں رہنا ہوگا۔ ٹوئٹر، فیس بک اور بلاگز استعمال کرنا پڑے گا۔ یوں ثابت ہوگا کہ یہ سب ایجادات امت  مسلمہ یعنی پاکستانیوں کے خلاف سازش ہیں۔
۔
۔
۔
۔
اچھا اس ساری واہی تباہی کو ایک طرف رکھیں میں سوچ رہی تھی ورلڈ کپ کون جیتے گا۔ میرے خیال سے سری لنکا یا نیوزی لینڈ۔ کیا کہا پاکستان کیوں نہیں؟ تو پھر لگا لیں ایک شرط۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔