Showing posts with label کراچی ٹریفک پولیس. Show all posts
Showing posts with label کراچی ٹریفک پولیس. Show all posts

Friday, February 19, 2010

ڈونٹ ٹیل می

میں گھر میں داخل ہوئ تو صرف فرد حاضر ہی میسر تھے کہ انہیں آجکی پیش آنیوالی داستاں سنائ جائے۔ چنانچہ میں نے سامان اٹھا کر کچن میں رکھا اور فرد حاضر کو  سنانا شروع کیا۔
میں؛ آج جب میں گھر سے نکل کر نکڑ والے راءونڈ اباءوٹ پہ پہنچی تو وہاں تو ٹریفک پولیس والوں کا پوار جلوس موجود تھا۔ ایک ٹریفک کار کھڑی تھی ، چار پانچ ٹریفک پولیس والوں کی موٹر سائیکلز اور آٹھ دس ٹریفک پولیس والے۔
فرد حاضر جو اپنے کام میں مصروف تھے میری بات میں ایک مصنوعی دلچسپی لیتے ہوئے بولے، کیوں کوئ وی آئ پی گذرنے والا تھا۔
میں؛ ہاں، پہلا خیال تو مجھے یہی آیا پھر میں نے دیکھا کہ وہ اکثر گاڑیوں کو روکے کھڑے تھے۔ اور تب مجھے اندازہ ہوا کہ وہ دیہاڑی بنانے سے لگے ہوئے ہیں۔
فرد حاضر؛ آپکو تو کچھ نہیں کہا ہوگا۔ خواتین کی تو ایسے موقعوں پہ بچت ہوجاتی ہے۔
میں؛جی میرا بھی یہی خیال تھا۔ لیکن ان میں سے ایک نے انتہائ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھے سائیڈ میں لگنے کا اشارہ کیا۔
فرد حاضر؛ ڈونٹ ٹیل می، پھر کیا ہوا۔ آپ نے کسی ٹریفک رول کی خلاف ورزی کی ہوگی۔
میں؛ جی نہیں، یہی میں نے اس سے پوچھا تو اس نے اسی سنجیدگی سے ونڈ اسکرین کے اوپر والے حصے پہ لگی ایک تین انچ چوڑی پٹی کی طرف اپنی انگلی سے اشارہ کیا کہ آپکا اسکی وجہ سے چالان ہوگا۔
مجھے تو یہ سن کر غصہ آ گیا۔  اتنے عرصے میں پہلی دفعہ مجھے پتہ چلاکہ ونڈ اسکرین پہ ایک ایسی پٹی لگی ہے جو قانوناً جرم ہے۔
فرد حاضر؛ اسے معلوم نہیں ہوگا کہ پی ایچ ڈی کی کیا نشانیاں ہوتی ہیں۔ حالانکہ اسے آپکو رعایت دینی چاہئیے تھی۔
میں انکی اس بات کو نہیں سنتی اور قصہ جاری رکھتی ہوں۔ وہ کہنے لگا مجھے گاڑی کے کاغذات اور اپنا لائسنس دکھائیں۔
میں نے تو صاف کہہ دیا۔ یہ پیسہ بنانے کا دھندہ ہے۔ نہ میں اپنے کاغذات دکھا رہی ہوں اور نہ آپ میرا چالان کر سکتے ہیں۔ کہنے لگا ایسا کیسا ہو سکتا ہے۔ اگر چالان کا ڈر ہے تو چالان تو ہوگا۔
فرد حاضر؛  آپکے پاس لائسنس نہیں ہوگا اس لئیے اتنا طیش دکھا رہی تھیں۔ اکثر آپکا موبائل فون اور لائسنس گھر میں ہی پڑے ملتے ہیں۔
میں انکی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے۔ پھر وہ اپنے افسر بالا کو بلا لایا۔
فرد حاضر؛ اچھا پھر۔ اب آپکو مزہ آنا شروع ہوا ہوگا۔
میں ایک دفعہ پھر انکی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے۔ افسر بالا نے آکر یہی کہا کہ چالان ہوگا۔ میں نے کہا کس بات کا ۔ اس پٹی کے لگے ہونے کا۔  اسے اتار لیں۔
افسر بالا نے کہا کہ نہیں یہ تو اب آپ گھر جا کر اتارئیے گا۔ اب تو مجھے اور غصہ آنا ہی تھا۔ میں نے کہا دہشت گرد اپنے زخمی لیڈر کو وزیرستان سے لیکر کراچی تک پہنچ جاتے ہیں آپ لوگوں کو نظر نہیں آتے۔ میری گاڑی کے اندر کا منظر دیکھنے میں اس پٹی کی وجہ سے کوئ رکاوٹ ہے کیا؟ یہی قانون ہے ناں کہ میری گاڑی کے اندر کا منظر صاف نظر آنا چاہئیے۔ اس سے آپکو کوئ مشکل ہے۔ میری گاڑی میں کوئ بم یا اسلحہ ہے۔ میں نے ٹریفک کا کوئ اصول توڑا ہے۔اس پہ وہ چڑ گیا اور کہنے لگا اچھا جی آپکا چالان نہیں کرتے۔ صرف اپنا لائسنس دکھا دیں۔ اپنے طور پہ انہوں نے اب میری دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھا۔
فرد حاضر نے  بھی اپنا کام چھوڑ کرمسکراتے ہوئے ہاتھ اپنے سینے پہ باندھے۔ اور اس منظر کو سننے کی تیاری کرنے لگے جس میں میرے پرزے اڑنا متوقع تھے۔ 
میں نے انکے تجسس کو دیکھتے ہوئے ایک ادائے بے نیازی دکھائ اور بیان جاری رکھا۔ 'میں نے اپنا والٹ کھولا اور لائسنس نکال کر اسے دکھا دیا۔ بس اسکا چہرہ اتر گیا۔  کھسیانی مسکراہٹ کیساتھ کہنے لگا۔ ٹھیک ہے بس آپ جائیں۔ اتنی سی بات تھی'۔
فرد حاضر؛ ڈونٹ ٹیل می۔ قسمت سے پڑا رہ گیا ہوگا۔
میں؛ جی نہیں،آپ جانتے نہیں خواتین کی چھٹی حس تیز ہوتی ہے۔ میں نے جاتے وقت سوچا کہ پرس لینے کی کیا ضرورت ہے صرف والٹ سے کام چل جائے گا۔ اور میرے والٹ میں اکثر لائسنس ہوتا ہے البتہ موبائل فون کی اس میں جگہ نہیں۔
فرد حاضر؛ اچھا چلیں، آپکے لئیے ایک مزے کی خبر ہے۔
میں؛ وہ کیا؟
فرد حاضر؛ پشاور میں ویلنٹائن ڈے ایکدن پہلے یعنی اتوار کے بجائے ہفتے کو منایا گیا۔
میں انتہائ حیرانی سے انکا چہرہ دیکھتی ہوں۔ لیکن کیوں؟
فرد حاضر؛ کیونکہ سعودی عرب میں ہفتے کو ویلنٹائن ڈے تھا۔
میں: ڈونٹ ٹیل می۔


حوالہ؛
پشاور میں ویلنٹائن ڈے