Showing posts with label پولیو کے خلاف مہم. Show all posts
Showing posts with label پولیو کے خلاف مہم. Show all posts

Friday, April 16, 2010

پولیو کے خلاف مہم

ڈنگ ڈونگ۔ بیل بجی، میں نے پوچھا کون ہے۔ بچہ ہے جی کوئ، پولیو کے قطرے پلانے ہیں۔ اب اگرچہ میں پاکستان کے ان بہت کم خوش نصیب لوگوں میں سے ہوں جنہیں بچے کی پیدائش کے وقت یہ ٹائم ٹیبل مل جاتا ہے کہ پانچ سال کی عمر تک بچے کو کونسے حفاظتی ٹیکے لگیں گے اور کب۔ لیکن پھر بھی میں نے فیصلہ کیا کہ گورنمنٹ کی طرف سے جو گشتی ٹیمیں آتی ہیں ۔ ان سے دوبارہ یا سہہ بارہ پلوا لینے میں کوئ حرج نہیں۔ میں صاحبزادی کو لیکر گیٹ پہ پہنچی۔ ایک خاتون ایک لمبا سا عبا پہنے اور چہرے کو سختی سے حجاب سے ڈھانکے وہاں ایک نو دس سالہ بچے کے ساتھ موجود تھیں۔ انہوں نے اپنے پاس موجود ایک کاغذ پہ ساری تفصیلات معلوم کر کے لکھیں اور پھر اپنے پاس کھڑے بچے سے کہا چلو اب تم ڈراپس ڈالدو اسکے منہ میں۔ میں ہکا بکا رہ گئ۔ بچے نے اپنے ہاتھ میں موجود تھرماس کھولنا شروع کی ا اور------۔ یہ بچہ یہ کام کر رہا ہے۔ ' ڈراپس ہی تو پلانا ہیں،  جی'۔
اسکے تقریباً دو ہفتے  بعد دوبارہ بیل بجی۔ آج پھر پولیو کے قطرے پلانے کا دن تھا۔ میں نے انہیں انٹرکام پہ اطلاع دی کہ بچی ابھی اسکول سے واپس آنے ہی والی ہے۔ آپ ایک دو گھر دیکھ لیں پھر آجائیے گا۔ اچھا تو ہمیں بچی کا نام بتادیں۔ ہم دس منٹ بعد آکر قطرے پلا جائیں گے۔ مجھے معلوم تھا کہ جو وہ کہہ رہی ہیں،  ایسا نہیں ہوگا۔ لیکن یہ پوسٹ لکھنے کے لئے میں نے اسے نام بتا دیا۔ اج شاید دو ہفتے ہو گئے مگر وہ خاتون پلٹ کر نہیں آئیں۔
جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا کہ مجھے اپنی بیٹی کو یہ مزید قطرے پلانے یا نہ پلانے سے فرق نہیں پڑتا۔ اسکے حفاظتی ٹیکوں کا کورس نجی طور پہ اپنے ٹائم ٹیبل کے حساب سے چل رہا ہے۔ لیکن جہاں میں خوش نصیب ہوں وہاں میری بد نصیبی یہ بھی ہے کہ میں ایسے ملک میں رہتی ہوں جہاں کچھ لوگ حفاظتی ٹیکوں کے جائز اور ناجائز کا سوال اٹھائے کھڑے ہیں اور کچھ اپنے بچوں کو اس لئے نہیں پینے دیتے کہ وہ انہیں بانجھ کر دیں گے۔ وہاں کچھ لوگ جو چاہتے ہیں کہ انکے بچوں کو یہ حفاظت حاصل ہو جائے انکے حصے میں یہ بے ایمان، بے حس اور ناکارہ ورکرز آتے ہیں۔
پاکستان دنیا کے ان چار ممالک میں شامل ہے جو پولیو سے شدید متائثر ہیں۔ باقی تین ممالک میں شامل ہیں انڈیا، افغانستان اور نائیجیریا۔ پولیو کے خلاف چلنے والی مہم میں حکومت پاکستان کو یونیسف کے ادارے کی مدد حاصل ہے جسکا نام ہے۔
UNICEF’s Programme Communications Specialist for Polio and the Expanded Programme for Immunization
حکومت جاپان نے سن دو ہزار نو کے دسمبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ حکومت پاکستان کو چار اعشاریہ چار ملین ڈالر کی گرانٹ دے گی تاکہ وہ سن دو ہزار دس میں پولیو کے خلاف مہم بہتر طور پہ چلا سکے اور یہاں سے پولیو کا خاتمہ کیا جا سکے۔  لیکن بات وہی کہ مدعی، مدعا علیہ ناءو میں اور شاہد تیرتے جائیں۔ کیا اس سے فرق پڑتا ہے کہ جاپان یا کوئ اور ملک ہمارے مسائل کے حل کے لئے ہمارے ساتھ کیا تعاون کر رہے ہیں۔
پولیو، جیسا کہ ہم جانتے ہیں معصوم ہنستے کھیلتے بچوں کو ہمیشہ کے لئے معذور کر دینے والی بیماری ہے اور اسکا کوئ علاج نہیں ہے سوائے اسکے کہ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں  اس لئے متعلقہ حکام اور ورکرز کو اس ضمن میں پوری سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئیے۔ بچے ہمارا مستقبل ہیں اور اہنے مستقبل کو معذور ہونے سے بچانا ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہئیے۔